28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 28:1
طٰسۗمّۗ
Ayah 28:2

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 28:2 in the Quran reader

یہ کتاب مبین کی آیات ہیں

تِلْكَ [ یہ ] اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ [ واضح کتاب کی آیات ہیں
Ayah 28:3

نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:3 in the Quran reader

ہم موسیٰؑ اور فرعون کا کچھ حال ٹھیک ٹھیک تمہیں سُناتے ہیں ایسے لوگوں کے فائدے کے لیے جو ایمان لائیں

نَتْلُوْا عَلَيْكَ [ ہم سناتے ہیں آپ ﷺ کو ] مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَفِرْعَوْنَ [ فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر میں سے ] بِالْحَقِّ [ حق کے ساتھ ] لِقَوْمٍ [ ایسی قوم کے لئے جو ] يُّؤْمِنُوْنَ [ ایمان لاتے ہیں ]
Ayah 28:4

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:4 in the Quran reader

واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیا ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا، اس کے لڑکوں کو قتل کرتا اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا تھا فی الواقع وہ مفسد لوگوں میں سے تھا

اِنَّ فِرْعَوْنَ [ بیشک فرعون نے ] عَلَا [ سرکشی کی ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَجَعَلَ [ اور اس نے بنایا ] اَهْلَهَا [ اس کے لوگوں کو ] شِيَعًا [ فرقہ (میں) يَّسْتَضْعِفُ [ وہ کمزور سمجھتا تھا ] طَاۗىِٕفَةً [ ایک گروہ کو ] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] يُذَ بِّحُ [ اس حال میں کہ وہ ذبح کرتا تھا ] اَبْنَاۗءَهُمْ [ ان کے بیٹوں کو ] وَيَسْتَحْيٖ [ اور زندہ رکھتا تھا ] نِسَاۗءَهُمْ ۭ [ ان کی عورتوں کو ] اِنَّهٗ كَانَ [ بیشک وہ تھا ] مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ [ نظم بگاڑنے والوں میں سے ] نوٹ۔ ا : بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرنے اور بیٹیوں کو زندہ رکھنے کے متعلق بائبل میں جو تشرح ملتی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دور گزرجانے کے بعد مصر میں ایک قوم پر ستانہ انقلاب آیا تھا اور قبطیوں کے ہاتھ میں جب دوبارہ اقتدار آیا تو نئی قوم پرست حکومت نے بنی اسرائیل کا زور توڑنے کی پوری کوشش کی ۔ ان کو ان کی زرخیز زمینوں ، مکانات اور جائیدادوں سے محروم کیا۔ پھر انہیں حکومت کے تمام مناصب سے بےدخل کیا ۔ اس سے آگے بڑھ کر یہ پالیسی اختیار کی گئی کہ بنی اسرائیل کی تعداد گھٹائی جائے ۔ اس کے لئے ان کے لڑکوں کو قتل کر کے صرف لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جائے تاکہ رفتہ رفتہ ان کی عورتیں قبطیوں کے تصرف میں آتی جائیں اور ان اسرائیل کے بجائے قبطی نسل پیدا ہو ۔ یہ تفسیر ہے قرآن کے اس بیان کی کہ مصر کی آبادی کے ایک گروہ کو وہ کمزور کرتا تھا ۔ مگر بائبل اور قرآن دونوں اس ذکر سے خالی ہیں کہ فرعون سے کسی نجومی نے یہ کہا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جس کے ہاتھوں فرعونی اقتدار کا تختہ الٹ جائے گا ۔ یا فرعون نے کوئی خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر میں یہ بات کہی گئی تھی اور اسی خطرے کو روکنے کے لئے فرعون نے بناسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنے کا حکم دے دیا تھا ۔ یہ افسانہ تلمود اور دوسری اسرائیلی روایات سے ہمارے مفسرین نے نقل کیا ہے ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 28:5

وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ Open ayah 28:5 in the Quran reader

اور ہم یہ ارادہ رکھتے تھے کہ مہربانی کریں ان لوگوں پر جو زمین میں ذلیل کر کے رکھے گئے تھے اور انہیں پیشوا بنا دیں اور انہی کو وارث بنائیں

وَ [ حالانکہ ] نُرِيْدُ [ ہم ارادہ رکھتے تھے ] اَنْ [ کہ ] نَّمُنَّ [ ہم احسان کریں ] عَلَي الَّذِيْنَ [ ان لوگوں پر جن کو ] اسْتُضْعِفُوْا [ کمزور سمجھا گیا ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَنَجْعَلَهُمْ [ اور ہم بنائیں ان کو ] اَىِٕمَّةً [ پیشوا ] وَّنَجْعَلَهُمُ [ اور ہم بنائیں ان کو ائمۃ ][ الْوٰرِثِيْنَ [ وارث ]
Ayah 28:6

وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ Open ayah 28:6 in the Quran reader

اور زمین میں ان کو اقتدار بخشیں اور ان سے فرعون و ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی کچھ دکھلا دیں جس کا انہیں ڈر تھا

وَنُمَكِّنَ [ اور ہم اختیار دیں ] لَهُمْ [ ان (کمزور) لوگوں کو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَنُرِيَ [ اور ہم دکھائیں ] فِرْعَوْنَ [ فرعون کو ] وَهَامٰنَ [ اور ہامان کو ] وَجُنُوْدَهُمَا [ اور ان دونوں کے لشکروں کو ] مِنْهُمْ [ ان (کمزوروں ) سے ] مَّا [ وہ جس سے ] كَانُوْا يَحْذَرُوْنَ [ وہ ڈرتے تھے ] نوٹ۔ 2: یہاں پہلی مرتبہ فرعون کے ساتھ ہامان کا ذکر آیا ہے اور اس طرح آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی حیثیت فرعون کے وزیر کی تھی ۔ آگے بھی اس کا ذکر فرعون کے وزیر اعظم کی حیثیت سے آرہا ہے ۔ تورات میں اس کا نام نہیں آیا ہے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ کتنی باتیں ہیں جن میں قرآن نے تورات کے بیانات کی تصحیح کی ہے یا ان پر اضافہ کیا ہے ۔ یہ بھی حضرت مو سیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سر گذشت میں ایک قیمتی اضافہ ہے ۔ (تدبر قرآن ) بعض مستشر قین نے اس بات پر بڑی لے دے کی ہے کہ ہامان تو ایران کے ایک بادشاہ کے دربار کا ایک امیر تھا اور اس بادشاہ کا زمانہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سینکڑوں برس بعد 486 اور 465 قبل مسیح میں گزرا ہے ، مگر قرآن نے اسے مصر لے جا کر فرعون کا وزیر بنادیا۔ یہ لوگ خود غور کریں کہ آخر ان کے پاس اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ ایرانی بادشاہ کے درباری ہامان سے پہلے دنیا میں کوئی شخص اس نام کا نہیں گزرا ہے ۔ جس فرعون کا ذکر یہاں ہو رہا ہے اگر اس کے تمام وزراء کی کوئی مکمل فہرست مستند ذریعہ سے کسی مستشرق صاحب کو مل گئی ہے جس میں ہا مان کا نام نہیں ہے ، تو وہ اسے چھپا کر کیوں بیٹھے ہیں ؟ انھیں اسے شائع کردینا چاہے کیو ن کہ قرآن کی تکذیب کے لئے اس سے زیادہ مؤثر ہتھیار انہیں کوئی اور نہیں ملے گا ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 28:7

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:7 in the Quran reader

ہم نے موسیٰؑ کی ماں کو اشارہ کیا کہ "اِس کو دودھ پلا، پھر جب تجھے اُس کی جان کا خطرہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور کچھ خوف اور غم نہ کر، ہم اسے تیرے ہی پاس واپس لے آئیں گے اور اس کو پیغمبروں میں شامل کریں گے"

وَاَوْحَيْنَآ [ اور ہم نے وحی کی ] اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى [ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کی طرف ] اَنْ اَرْضِعِيْهِ ۚ [ کہ آپ دودھ پلائیں ان (علیہ السلام) کو ] فَاِذَا [ پھر جب ] خِفْتِ [ آپ خوف کریں ] عَلَيْهِ [ ان (علیہ السلام) کے بارے میں ] فَاَلْقِيْهِ [ تو آپ ڈال دیں ان (علیہ السلام) کو ] فِي الْيَمِّ [ پانی میں ] وَلَا تَخَافِيْ [ اور آپ مت ڈریں ] وَلَا تَحْـزَنِيْ ۚ [ اور غمگین مت ہوں ] اِنَّا [ بیشک ہم ] رَاۗدُّوْهُ [ لوٹانے والے ہیں ان (علیہ السلام) کو ] اِلَيْكِ [ آپ کی طرف ] وَجَاعِلُوْهُ [ اور بنانے والے ہیں ان (علیہ السلام) کو ] مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ [ بھیجے ہوؤں (رسولوں) میں سے ]
Ayah 28:8

فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ Open ayah 28:8 in the Quran reader

آ خرکار فرعون کے گھر والوں نے اسے (دریا سے) نکال لیا تاکہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے سببِ رنج بنے، واقعی فرعون اور ہامان اور اس کے لشکر (اپنی تدبیر میں) بڑے غلط کار تھے

فَالْتَقَطَهٗٓ [ پھر اٹھا لیا ] اٰلُ فِرْعَوْنَ [ فرعون والوں نے ] لِيَكُوْنَ [ تاکہ وہ ہوجائیں ] لَهُمْ [ ان کیلئے ] عَدُوًّا [ دشمن ] وَّحَزَنًا ۭ[ اور غم ] اِنَّ [ بیشک ] فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ [ فرعون اور ہامان ] وَجُنُوْدَهُمَا [ اور ان دونوں کے لشکر ] كَانُوْا [ وہ سب تھے ] خٰطِـــــِٕيْنَ [ چوک جانے والے
Ayah 28:9

وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 28:9 in the Quran reader

فرعون کی بیوی نے (اس سے) کہا "یہ میرے اور تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، کیا عجب کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو، یا ہم اسے بیٹا ہی بنا لیں" اور وہ (انجام سے) بے خبر تھے

وَقَالَتِ [ اور کہا ] امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ [ فرعون کی دعوت نے ] قُرَّةُ عَيْنٍ [ آنکھ کی ٹھنڈک ہے ] لِّيْ [ میرے لئے ] وَلَكَ ۭ [ اور تیرے لئے ] لَا تَقْتُلُوْهُ ڰ [ تم لوگ قتل مت کرو اس کو ] عَسٰٓى اَنْ [ ہوسکتا ہے ] يَّنْفَعَنَآ [ یہ نفع دے ہم کو ] اَوْ [ یا ] نَتَّخِذَهٗ [ ہم بنالیں اس کو ] وَلَدًا [ بیٹا ] وَّهُمْ [ اور وہ لوگ ] لَا يَشْعُرُوْنَ [ شعور نہیں رکھتے تھے ]
Ayah 28:10

وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:10 in the Quran reader

اُدھر موسیٰؑ کی ماں کا دل اڑا جا رہا تھا وہ اس راز کو فاش کر بیٹھتی اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھا دیتے تاکہ وہ (ہمارے وعدے پر) ایمان لانے والوں میں سے ہو

وَاَصْبَحَ [ اور ہوگیا ] فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى [ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا دل ] فٰرِغًا ۭ [ بےچین ہونے والا ] اِنْ [ بیشک ] كَادَتْ [ قریب تھا کہ ] لَتُبْدِيْ [ وہ یقینا ظاہر کردیں ] بِهٖ [ اس کو ] لَوْلَآ اَنْ [ اگر نہ ہوتا کہ ] رَّبَطْنَا [ ہم نے مضبوط کیا ] عَلٰي قَلْبِهَا [ ان کے دل کو ] لِتَكُوْنَ [ تاکہ وہ ہوجائیں ] مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [ بات ماننے والوں میں سے ]
Ayah 28:11

وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ١٘ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 28:11 in the Quran reader

اُس نے بچے کی بہن سے کہا اس کے پیچھے پیچھے جا چنانچہ وہ الگ سے اس کو اس طرح دیکھتی رہی کہ (دشمنوں کو) اس کا پتہ نہ چلا

وَقَالَتْ [ اور (والدہ نے) کہا ] لِاُخْتِهٖ [ ان (علیہ السلام) کی بہن سے ] قُصِّيْهِ ۡ [ تو پیچھا کر اس (علیہ السلام) کا ] فَبَصُرَتْ [ تو اس نے دیکھا (دیکھتی رہی)] بِهٖ [ اس (علیہ السلام) کو ] عَنْ جُنُبٍ [ دور سے ] وَّ [ اس حال میں کہ ] هُمْ [ وہ لوگ ] لَا يَشْعُرُوْنَ [ شعور نہیں رکھتے تھے
Ayah 28:12

وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ Open ayah 28:12 in the Quran reader

اور ہم نے بچّے پر پہلے ہی دُودھ پِلانے والیوں کی چھاتیاں حرام کر رکھی تھیں (یہ حالت دیکھ کر) اُس لڑکی نے اُن سے کہا "میں تمہیں ایسے گھر کا پتہ بتاؤں جس کے لوگ اس کی پرورش کا ذمّہ لیں اور خیر خواہی کے ساتھ اسے رکھیں؟"

وَحَرَّمْنَا [ اور ہم نے حرام کیں ] عَلَيْهِ [ ان (علیہ السلام) پر ] الْمَرَاضِعَ [ دودھ پلانے والیاں ] مِنْ قَبْلُ [ پہلے سے ] فَقَالَتْ [ تو (بہن نے) کہا ] هَلْ اَدُلُّكُمْ [ کیا میں رہنمائی کروں تم لوگوں کی ] عَلٰٓي اَهْلِ بَيْتٍ [ ایک ایسے گھر والوں کی جو ] يَّكْفُلُوْنَهٗ [ پال پوس دیں گے اس کو ] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] وَهُمْ [ اور وہ ] لَهٗ [ اس کی ] نٰصِحُوْنَ [ خیر خواہی کرنے والے ہوں ]
Ayah 28:13

فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 28:13 in the Quran reader

اس طرح ہم موسیٰؑ کو اس کی ماں کے پاس پلٹا لائے تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غمگین نہ ہو اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا تھا، مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے

فَرَدَدْنٰهُ [ تو ہم نے واپس کیا ان (علیہ السلام) کو ] اِلٰٓى اُمِّهٖ [ ان کی والدہ کی طرف ] كَيْ [ تاکہ ] تَــقَرَّ [ ٹھنڈی ہو ] عَيْنُهَا [ ان کی آنکھ ] وَلَا تَحْزَنَ [ اور وہ غمگین نہ ہوں ] وَلِتَعْلَمَ [ اور تاکہ وہ جان لیں ] اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ [ کہ اللہ کا وعدہ ] حَقٌّ [ حق ہے ] وَّلٰكِنَّ [ اور لیکن ] اَكْثَرَهُمْ [ ان کے اکثر ] لَا يَعْلَمُوْنَ [ جانتے نہیں ہیں ] نوٹ۔ ا : وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ۔ یہ اصل نکتہ کی بات ارشاد ہوئی ہے کہ اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے اور اس کی تد بیر کبھی نا کام نہیں ہوتی ۔ اکثر لوگ خدا کے وعدوں کو محض ہوائی باتیں خیال کرتے ہیں اور ان پر اعتماد کر کے کوئی بازی کھیلنے میں ان کو خسارہ اور خطرہ نظر آتا ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے پورے ہوتے دیکھ لیں تب مانیں گے حالانکہ اصل امتحان تو یہی ہے کہ لوگ اپنے رب کے ان وعدوں کے لئے جئیں اور مریں جن کی حقیقت ابھی سامنے آنی ہے ۔ (تدبر قرآن )
Ayah 28:14

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 28:14 in the Quran reader

پھر جب موسیٰؑ اپنی پوری جوانی کو پہنچ گیا اور اس کا نشوونما مکمل ہو گیا تو ہم نے اسے حکم اور علم عطا کیا، ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

وَلَمَّا [ اور جب ] بَلَغَ [ وہ (موسیٰ (علیہ السلام) ) پہنچے ] اَشُدَّهٗ [ اپنی پختگی کو ] وَاسْتَوٰٓى [ اور (عمر میں) برابر ہوئے ] اٰتَيْنٰهُ [ تو ہم نے دی ان (علیہ السلام) کو ] حُكْمًا وَّعِلْمًا ۭ [ حکمت اور علم ] وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] نَجْزِي [ ہم بدلہ دیتے ہیں ] الْمُحْسِنِيْنَ [ خوب کاروں کو نوٹ۔ ا : اشدکا مطلب قوت کی انتہا پر پہنچنا ہے ۔ انسان بچپن کے ضعف سے تدریجاً قوت کی طرف بڑھتا ہے ۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اس کے وجود میں جتنی قوت آسکتی تھی ، وہ پوری ہوجائے اس وقت کو اشد کہا جاتا ہے ۔ اور یہ زمین کے مختلف خطوں اور قوموں کے مزاج کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے ۔ کسی کا اشد کا زمانہ جلد آجاتا ہے کسی کا دیر میں ، حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد (رح) کا قول ہے کہ یہ۔ 33 ۔ سال کی عمر میں ہوتا ہے ، اس کو سن وقوف یا سن کمال کہتے ہیں جس میں بدن کا نشونما ایک حد پر پہنچ کر رک جاتا ہے ۔ اس کے بعد چالیس سال کی عمر تک وقوف کا زمانہ ہے ۔ اسی کو استوی کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ چالیس سال کے بعد انحطاطا اور کمزوری شروع ہوجاتی ہے ۔ (معارف القرآن )
Ayah 28:15

وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:15 in the Quran reader

(ایک روز) وہ شہر میں ایسے وقت میں داخل ہوا جبکہ اہلِ شہر غفلت میں تھے وہاں اس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں ایک اس کی اپنی قوم کا تھا اور دُوسرا اس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا اس کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم والے کے خلاف اسے مدد کے لیے پکارا موسیٰؑ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا (یہ حرکت سرزد ہوتے ہی) موسیٰؑ نے کہا "یہ شیطان کی کارفرمائی ہے، وہ سخت دشمن اور کھلا گمراہ کن ہے"

وَدَخَلَ [ اور وہ داخل ہوئے ] الْمَدِيْنَةَ [ شہر میں ] عَلٰي حِيْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا [ اس (شہر) کے لوگوں کی غفلت کے وقت پر ] فَوَجَدَ [ تو انھوں نے پایا ] فِيْهَا [ اس میں ] رَجُلَيْنِ [ دو مردوں کو ] يَـقْتَتِلٰنِ ڭ [ باہم لڑتے ہوئے ] هٰذَا [ یہ ] مِنْ شِيْعَتِهٖ [ ان (علیہ السلام) کے فرقے سے تھا ] وَهٰذَا [ اور یہ (دوسرا) مِنْ عَدُوِّه ٖ ۚ [ ان کے دشمن میں سے تھا ] فَاسْتَغَاثَهُ [ تو مدد کے لئے پکار ان (علیہ السلام) کو ] الَّذِيْ [ اس نے جو ] مِنْ شِيْعَتِهٖ [ ان کے فرقے سے تھا ] عَلَي الَّذِيْ [ اس کے خلاف جو ] مِنْ عَدُوِّهٖ ۙ [ ان کے دشمن میں سے تھا ] فَوَكَزَهٗ [ تو مکا مارا اس کو ] مُوْسٰى [ موسیٰ (علیہ السلام) نے ] فَقَضٰى [ تو انھوں (علیہ السلام) نے کام تمام کیا ] عَلَيْهِ ڭ [ اسکا ] قَالَ [ انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] هٰذَا [ یہ ] مِنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ ۭ [ شیطان کے کام میں سے ہے ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيْنٌ [ واضح گمراہ کرنے والا دشمن ہے ] و ک ز (ض) وکزا دھکا دینا۔ مکا مارنا ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 15
Ayah 28:16

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 28:16 in the Quran reader

پھر وہ کہنے لگا "اے میرے رب، مَیں نے اپنے نفس پر بڑا ظلم کر ڈالا، میری مغفرت فرما دے" چنانچہ اللہ نے اس کی مغفرت فرما دی، وہ غفور رحیم ہے

قَالَ [ انھوں علیہ السام نے کہا ] رَبِّ [ اے میرے رب ] اِنِّىْ ظَلَمْتُ [ بیشک میں نے ظلم کیا ] نَفْسِيْ [ اپنے آپ پر ] فَاغْفِرْ لِيْ [ پس تو بخش دے مجھ کو ] فَغَفَرَ لَهٗ ۭ [ تو اس نے بخش دیا ان (علیہ السلام) کو ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] هُوَ الْغَفُوْرُ [ ہی بےانتہا بخشنے والا ہے ] الرَّحِيْمُ [ ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ] نوٹ۔ 2: حکم اور علم کے مختلف مدراج ہیں ۔ اس کا اعلیٰ درجہ وہ ہے جو انبیاء کو حاصل ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں بالکل یہی الفاظ انبیاء کے علم کے لئے استعمال ہوئے ہیں ۔ لیکن یہاں ظاہر ہے کہ وہ علم و حکمت مراد نہیں ہے کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت اس کے بہت بعد میں ملی ہے (تدبر قرآن ) ۔ یہاں حکم سے مراد حکمت و دانائی ہے اور علم سے مراد دینی اور دنیوی دونوں علوم ہیں ۔ کیونکہ والدین کے ساتھ ربط و ضبط قائم رہنے کی وجہ سے ان کو اپنے باپ دادا کی تعلیمات سے بھی واقفیت حا صل ہوگئی ، اور فرعون کے ہاں شہزادے کی حیثیت سے پرورش پانے کے باعث ان کو وہ تمام دنیوی علوم بھی حاصل ہوئے جو اس زمانے میں مصر میں رائج تھے ۔ بائبل کی کتاب الاعمال میں ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے مصریوں کے تمام علوم کی تعلیم پائی اور وہ کام اور کلام میں قوت والے تھے ۔ تلمود کا بیان ہے کہ وہ اکثر اس علا قے میں جاتے تھے جہاں اسرائیلیوں کی بستیاں تھیں اور ان تمام سختیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے جو قبطی حکومت کے کارندے ان کی قوم پر کرتے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی ہی کوشش سے فرعون نے اسرائیلیوں کے لئے ہفتہ میں ایک دن کی چھٹی مقرر کی ۔ انھوں نے فرعون سے کہا کہ مسلسل کام کرنے کی وجہ سے یہ لوگ کمزور ہوجائیں گے اور حکومت کے کام کا نقصان ہوگا ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 28:17

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 28:17 in the Quran reader

موسیٰؑ نے عہد کیا کہ "“اے میرے رب، یہ احسان جو تو نے مجھ پر کیا ہے اِس کے بعد اب میں کبھی مجرموں کا مدد گار نہ بنوں گا"

قَالَ [ انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] رَبِّ [ اے میرے رب ] بِمَآ [ اس سبب سے جو ] اَنْعَمْتَ [ تو نے انعام کیا ] عَلَيَّ [ مجھ پر ] فَلَنْ اَكُوْنَ [ تو میں ہرگز نہیں ہوں گا ] ظَهِيْرًا [ مددگار ] لِّلْمُجْرِمِيْنَ [ مجرموں کے لئے ]
Ayah 28:18

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:18 in the Quran reader

دُوسرے روز وہ صبح سویرے ڈرتا اور ہر طرف سے خطرہ بھانپتا ہوا شہر میں جا رہا تھا کہ یکایک کیا دیکھتا ہے کہ وہی شخص جس نے کل اسے مدد کے لیے پکارا تھا آج پھر اسے پکار رہا ہے موسیٰؑ نے کہا "تُو تو بڑا ہی بہکا ہُوا آدمی ہے"

فَاَصْبَحَ [ پھر وہ (علیہ السلام) صبح کو ہوئے (یعنی گئے)] فِي الْمَدِيْنَةِ [ اس شہر میں ] خَاۗىِٕفًا [ ڈرنے والے ہوتے ہوئے ] يَّتَرَقَّبُ [ چوکنا ہوتے ہوئے ] فَاِذَا [ پھر جب ہی ] الَّذِي [ جس نے ] اسْتَـنْصَرَهٗ [ مدد مانگی تھی ان سے ][ بِالْاَمْسِ [ گزشتہ کل ] يَسْتَــصْرِخُهٗ ۭ [ وہ فریاد کرتا ہے ان (علیہ السلام) سے ] قَالَ [ کہا ] لَهٗ [ اس سے ] مُوْسٰٓى [ موسیٰ (علیہ السلام) نے ] اِنَّكَ [ بیشک تو ] لَغَوِيٌّ مُّبِيْنٌ [ یقینا ایک کھلا گمراہ ہے
Ayah 28:19

فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 28:19 in the Quran reader

پھر جب موسیٰؑ نے ارادہ کیا کہ دشمن قوم کے آدمی پر حملہ کرے تو وہ پکار اٹھا "اے موسیٰؑ، کیا آج تو مجھے اُسی طرح قتل کرنے لگا ہے جس طرح کل ایک شخص کو قتل کر چکا ہے، تو اس ملک میں جبّار بن کر رہنا چاہتا ہے، اصلاح نہیں کرنا چاہتا"

فَلَمَّآ اَنْ [ پھر جیسے ہی ] اَرَادَ [ انھوں (علیہ السلام) نے ارادا کیا ] اَنْ [ کہ ] يَّبْطِشَ [ وہ پکڑیں ] بِالَّذِيْ [ اس کو جو کہ ] هُوَ [ وہ ہی ] عَدُوٌّ [ دشمن ہے ] لَّهُمَا ۙ [ ان دونوں کا ] قَالَ [ اس نے کہا ] يٰمُوْسٰٓى [ اے موسیٰ (علیہ السلام) ] اَتُرِيْدُ [ کیا تو ارادہ کرتا ہے ] اَنْ تَــقْتُلَنِيْ [ کہ تو قتل کرے مجھ کو ] كَمَا [ جیسے کہ ] قَتَلْتَ [ تو نے قتل کیا ] نَفْسًۢا [ ایک جان کو ] بِالْاَمْسِ ڰ [ گزشتہ کل ] اِنْ تُرِيْدُ [ تو ارادہ نہیں کرتا ] اِلَّآ اَنْ [ مگر یہ کہ ] تَكُوْنَ [ تو ہوجائے ] جَبَّارًا [ جبر کرنے والا ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَمَا تُرِيْدُ [ اور تو ارادہ نہیں کرتا ] اَنْ تَكُوْنَ [ کہ تو ہوجائے ] مِنَ الْمُصْلِحِيْنَ [ اصلاح کرنے والوں میں سے ] ] نوٹ۔ ا : آیت۔ 19 ۔ میں فلما کے ساتھ جو ان ہے ، اس سے پہلے کوئی فعل محذوف ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے زبانی افہام و تفہیم سے فریقین کو ہموار کرنے کی کوشش کی لیکن جب اس سے کام نہ چلا تو آپ (علیہ السلام) نے قبطی کو پکڑ کر الگ کرنا چاہا ۔ اس قبطی کو یہاں موسیٰ (علیہ السلام) اور اسرائیلی ، دونوں کا دشمن کہا ہے ۔ اسرائیلی کا تو وہ بالفعل دشمن تھا ہی ۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اس کی دشمنی اس پہلو سے بھی تھی کہ وہ اپنی اصلاحی سرگرمیوں کے سبب سے تمام قبطیوں کی نظر میں کھٹکنے لگے تھے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پکڑنا تو چاہا تھا قطبی کو لیکن انھوں نے پہلے اسرائیلی کو جھڑکا تھا ، اس وجہ اس گمان کیا کہ آج ان کا گھونسا اس پر پڑنے والا ہے ۔ اس گھبراہٹ میں وہ چلا یا کہ کل تم نے ایک شخص کو قتل کیا تھا اسی طرح کیا آج مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو اس طرح اس نے اپنی حماقت سے کل کے قتل کا راز کھول دیا ۔ ایک اسرائیلی کی زبان سے راز افشا ہونے کے بعد فرعونی سردار موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کے منصوبے بنانے لگے۔ وہاں سے ایک شخص بھاگا ہوا آیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو مشورہ دیا کہ آپ یہاں سے فوراً نکل جائیں ۔ اس شخص کے متعلق یہاں کوئی تفصیل مذکور نہیں ہے ۔ لیکن سورة مومن میں اٰل فرعون میں سے ایک مومن شخص کا تفصیل سے ذکر آیا ہے ۔ ان کا تعلق شاہی خاندان سے تھا اور ابتداء سے ہی موسیٰ (علیہ السلام) کے خیر خواہ تھے ۔ اور بعد کے دور میں انھوں نے حکومت کے سامنے موسیٰ (علیہ السلام) کی حمایت کی تھی ۔ اس وجہ سے ظن غالب یہ ہے کہ یہ اشارہ ان ہی کی طرف ہے ۔ (تدبر قرآن )
Ayah 28:20

وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 28:20 in the Quran reader

اس کے بعد ایک آدمی شہر کے پرلے سِرے سے دَوڑتا ہوا آیا اور بولا "موسیٰؑ، سرداروں میں تیرے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں، یہاں سے نکل جا، میں تیرا خیر خواہ ہوں"

وَجَاۗءَ [ اور آیا ] رَجُلٌ [ ایک شخص ] مِّنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ [ شہر کے زیادہ دور سے ] يَسْعٰى ۡ [ دوڑتا ہوا ] قَالَ [ اس نے کہا ] يٰمُوْسٰٓى [ اے موسیٰ (علیہ السلام) ] اِنَّ الْمَلَاَ [ بیشک سردار لوگ ] يَاْتَمِرُوْنَ [ مشورہ کرتے ہیں ] بِكَ [ آپ (علیہ السلام) کے بارے میں ] لِيَقْتُلُوْكَ [ کہ وہ قتل کریں آپ (علیہ السلام) کو ] فَاخْرُجْ [ پس آپ (علیہ السلام) نکل جائیں ] اِنِّىْ [ بیشک میں ] لَكَ [ آپ (علیہ السلام) کے لئے ] مِنَ النّٰصِحِيْنَ [ خیر خواہی کرنے والوں میں سے ہوں ]
Ayah 28:21

فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:21 in the Quran reader

یہ خبر سنتے ہی موسیٰؑ ڈرتا اور سہمتا نکل کھڑا ہوا اور اس نے دعا کی کہ "اے میرے رب، مجھے ظالموں سے بچا"

فَخَـــرَجَ [ تو رہ نکلے ] مِنْهَا [ اس سے ] خَاۗىِٕفًا [ ڈرنے والا ہوتے ہوئے ] يَّتَرَقَّبُ ۡ [ چوکنا ہوتے ہوئے ] قَالَ [ انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] رَبِّ [ اے میرے رب ] نَجِّــنِيْ [ تو نجات دے مجھ کو ] مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والی قوم سے
Ayah 28:22

وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 28:22 in the Quran reader

(مصر سے نکل کر) جب موسیٰؑ نے مَدیَن کا رُخ کیا تو اُس نے کہا "اُمید ہے کہ میرا رب مجھے ٹھیک راستے پر ڈال دے گا"

[ وَلَمَّا : اور جب ] تَوَجَّهَ تِلْقَاۗءَ مَدْيَنَ : آپ نے مدین کا رخ کیا ] [ قَالَ : آپ نے کہا ] [ عَسٰى: امید ہے ] [ رَبِّيْٓ: میرا رب ] [ اَنْ يَّهْدِيَنِيْ سَوَاۗءَ السَّبِيْلِ : مجھے سیدھے راستے پر ڈال دے گا ]
Ayah 28:23

وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ Open ayah 28:23 in the Quran reader

اور جب وہ مَدیَن کے کنوئیں پر پہنچا تو اُس نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں اور ان سے الگ ایک طرف دو عورتیں اپنے جانوروں کو روک رہی ہیں موسیٰؑ نے اِن عورتوں سے پوچھا "تمہیں کیا پریشانی ہے؟" انہوں نے کہا "ہم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلا سکتیں جب تک یہ چرواہے اپنے جانور نکال کر نہ لے جائیں، اور ہمارے والد ایک بہت بوڑھے آدمی ہیں"

وَلَمَّا [ اور جب ] وَرَدَ [ وہ پہنچے ] مَاۗءَ مَدْيَنَ [ مدین کے پانی پر ] وَجَدَ [ تو انہوں (علیہ السلام) نے پایا ] عَلَيْهِ [ اس پر ] اُمَّةً [ ایک جماعت کو ] مِّنَ النَّاسِ [ لوگوں میں سے ] يَسْقُوْنَ ۋ [ جو پانی پلاتی ہے ] وَوَجَدَ [ اور انہوں (علیہ السلام) نے پایا ] مِنْ دُوْنِهِمُ [ ان لوگوں کے علاوہ ] امْرَاَتَيْنِ [ دو عورتوں کو ] تَذُوْدٰنِ ۚ [ روکتے ہوئے (اپنے مویشی کو)] قَالَ [ تو انہوں نے کہا ] مَا خَطْبُكُمَا ۭ [ تم دونوں کا کیا حال (یعنی مسئلہ) ہے ] قَالَتَا [ ان دونوں نے کہا ] لَا نَسْقِيْ [ ہم پانی نہیں پلاتے ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] يُصْدِرَ [ واپس لے جائیں ] الرِّعَاۗءُ ۫ [ چرواہے ] وَاَبُوْنَا [ اور ہمارے والد ] شَيْخٌ كَبِيْرٌ [ بڑے بوڑھے ہیں ] ذود (ن) ذودا دفع کرنا۔ روکنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 23 ۔ نوٹ۔ ا : اس زمانہ میں مدین فرعون کی سلطنت سے باہر تھا اور لوگ مصری اثر و اقتدار سے بالکل آزاد تھے ۔ اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مدین کا رخ کیا تھا کیو ن کہ قریب ترین آزاد علاقہ وہی تھا ۔ لیکن وہاں جانے کے لئے ان کو گزرنا بہر حال مصر کے مقبوضہ علاقوں ہی سے تھا اور مصر کی پولیس اور فوجی چوکیوں سے بچ کر نکلنا تھا ۔ اسی لئے انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے ایسے راستے میں ڈال دے جس سے میں صحیح و سلامت مدین پہنچ جائوں ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 28:24

فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ Open ayah 28:24 in the Quran reader

یہ سن کو موسیٰؑ نے ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا، پھر ایک سائے کی جگہ جا بیٹھا اور بولا "پروردگار، جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کر دے میں اس کا محتاج ہوں"

فَسَقٰى [ تو انہوں (علیہ السلام) نے پانی پلایا ] لَهُمَا [ ان دونوں کے لئے ] ثُمَّ تَوَلّيٰٓ [ پھر وہ پھرگئے ] اِلَى الظِّلِّ [ سائے کی طرف ] فَقَالَ [ تو انھوں نے کہا ] رَبِّ [ اے میرے رب ] اِنِّىْ [ بیشک میں ] لِمَآ [ اس کے لئے جو ] اَنْزَلْتَ [ تو اترے ] اِلَيَّ [ میری طرف ] مِنْ خَيْرٍ [ کوئی بھی بھلائی ] فَقِيْرٌ [ محتاج ہوں ]
Ayah 28:25

فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:25 in the Quran reader

(کچھ دیر نہ گزری تھی کہ) ان دونوں عورتوں میں سے ایک شرم و حیا سے چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور کہنے لگی "میرے والد آپ کو بُلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے اس کا اجر آپ کو دیں" موسیٰؑ جب اس کے پاس پہنچا اور اپنا سارا قصہ اسے سُنایا تو اس نے کہا "کچھ خوف نہ کرو، اب تم ظالموں سے بچ نکلے ہو"

فَجَاۗءَتْهُ [ پھر آئی ان کے پاس ] اِحْدٰىهُمَا [ ان دونوں کی ایک ] تَمْشِيْ [ چلتی ہوئی ] عَلَي اسْـتِحْيَاۗءٍ ۡ [ شرم سے ] قَالَتْ [ اس نے کہا ] اِنَّ اَبِيْ [ بیشک میرے والد ] يَدْعُوْكَ [ بلاتے ہیں آپ (علیہ السلام) کو ] لِيَجْزِيَكَ [ تاکہ وہ بدلے میں دیں آپ (علیہ السلام) کو ] اَجْرَ مَا [ اس کی اجرت جو ] سَقَيْتَ [ آپ نے پانی پلایا ] لَنَا ۭ [ ہمارے لئے ] فَلَمَّا [ پھر جب ] جَاۗءَهٗ [ وہ (موسیٰ علیہ السلام) آئے اس کے (والد) پاس ] وَقَصَّ عَلَيْهِ [ اور انہوں (علیہ السلام) نے بیان کیا اس سے ] الْقَصَصَ ۙ [ سارا قصہ ] قَالَ [ تو اس نے کہا ] لَا تَخَفْ ڣ [ آپ (علیہ السلام) خوف مت کریں ] نَجَوْتَ [ آپ نے نجات پائی ] مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ [ اس ظالم قوم سے ] نوٹ۔ ا : بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ بزرگ (لڑکیوں کے والد ) حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے ۔ ایک حدیث میں ہے کہ جب حضرت سلیم بن سعد غزی ؓ اپنی قوم کی طرف سے ایلچی بن کر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا شعیب (علیہ السلام) کے قومی آدمی کو اور موسیٰ (علیہ السلام) کی سسرال والے کو مرحبا ہو کہ تمہیں ہدایت کی گئی ۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ وہ بزرگ حضرت شعیب (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے ۔ کوئی کہتا ہے کہ وہ قوم شعیب (علیہ السلام) کے ایک مومن مرد تھے ۔ بعض کا قول ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا زمانہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے سے بہت پہلے کا ہے ۔ یہ بات بھی خیال میں رہے کہ اگر یہ بزرگ حضرت شعیب (علیہ السلام) ہی ہوتے تو قرآن میں اس موقعہ پر ان کا نام صاف لے دیا جاتا ۔ (ابن کثیررحمتہ اللہ علیہ ) اوپر جس حدیث کا حوالہ دیا گیا ہے اس سے یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ لڑکیوں کے والد شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے ایک فرد تھے ، خواہ رشتہ دار یا غیر رشتہ دار ، لیکن یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ شعیب (علیہ السلام) ہی تھے
Ayah 28:26

قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ Open ayah 28:26 in the Quran reader

ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے اپنے باپ سے کہا "ابّا جان، اس شخص کو نوکر رکھ لیجیے، بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں وہی ہو سکتا ہے جو مضبُوط اور امانت دار ہو"

قَالَتْ [ کہا ] اِحْدٰىهُمَا [ ان دونوں کی ایک نے ] يٰٓاَبَتِ [ اے میرے والد ] اسْتَاْجِرْهُ ۡ [ آپ مزدوری پر رکھیں ان کو ] اِنَّ [ بیشک ] خَيْرَ مَنِ اسْـتَاْجَرْتَ [ جس کو آپ مزدوری پر رکھیں اس کا بہتر وہ ہے جو ] الْقَوِيُّ [ قوی ہے ] الْاَمِيْنُ [ امین ہے ]
Ayah 28:27

قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ١ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 28:27 in the Quran reader

اس کے باپ نے (موسیٰؑ سے) کہا "میں چاہتا ہوں کہ اپنی اِن دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں بشرطیکہ تم آٹھ سال تک میرے ہاں ملازمت کرو، اور اگر دس سال پُورے کر دو تو یہ تمہاری مرضی ہے میں تم پر سختی نہیں کرنا چاہتا تم اِن شاءاللہ مجھے نیک آدمی پاؤ گے"

قَالَ [ اس نے (والد) کہا ] اِنِّىْٓ [ بیشک میں ] اُرِيْدُ [ ارادہ کرتا ہوں ] اَنْ اُنْكِحَكَ [ کہ میں آپ (علیہ السلام) کے نکاح میں دوں ] اِحْدَى ابْنَـتَيَّ هٰتَيْنِ [ اپنی ان دو بیٹیوں کی ایک کو ] عَلٰٓي اَنْ [ اس پر کہ ] تَاْجُرَنِيْ [ آپ (علیہ السلام) مزدوری کریں میری ] ثَمٰـنِيَ حِجَجٍ ۚ [ آٹھ سال ] فَاِنْ [ پھر اگر ] اَتْمَمْتَ [ آپ (علیہ السلام) پورا کریں ] عَشْرًا [ دس (سال) فَمِنْ عِنْدِكَ ۚ [ تو وہ آپ (علیہ السلام) کی طرف سے ہے ] وَمَآ اُرِيْدُ [ اور میں نہیں چاہتا ] اَنْ اَشُقَّ [ کہ میں سختی کروں ] عَلَيْكَ ۭ [ آپ (علیہ السلام) پر ] سَتَجِدُنِيْٓ [ آپ (علیہ السلام) پائیں گے مجھ کو ] اِنْ شَاۗءَ [ اگر چاہا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] مِنَ الصّٰلِحِيْنَ [ نیک لوگوں میں سے ] نوٹ۔ 2: آیت ۔ 27 ۔ 28 ۔ میں لڑکی کے والد اور موسیٰ (علیہ السلام) کی گفتگو کو نکاح کا ایجاب و قبول سمجھ لیا گیا ہے اور یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا باپ کی خدمت بیٹی کے نکاح کا مہر قرار پاسکتی ہے ۔ حالانکہ آیات کی عبارت سے یہ بات ظاہر ہے کہ یہ عقد نکاح نہ تھا بلکہ ابتدائی بات چیت تھی جو نکاح سے پہلے تجویز نکاح کے سلسلے میں عام طور پر ہوا کرتی ہے ۔ آخر یہ نکاح کا ایجاب و قبول کیسے ہوسکتا ہے جبکہ یہ تعین بھی اس میں نہ کیا گیا تھا کہ دونوں میں سے کون سی لڑکی نکاح میں دی جا رہی ہے ۔ یہ ایک تجویز تھی جو موسیٰ (علیہ السلام) نے قبول کرلی۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک معاہدے کی صورت تھی جو نکاح سے پہلے فریقین میں طے ہوئی تھی ۔ اس کے بعد اصل نکاح قاعدے کے مطابق ہوا ہوگا اور اس میں مہر بھی باندھا گیا ہوگا ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 28:28

قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ Open ayah 28:28 in the Quran reader

موسیٰ نے جواب دیا "یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہو گئی ان دونوں مدتوں میں سے جو بھی میں پُوری کر دوں اُس کے بعد پھر کوئی زیادتی مجھ پر نہ ہو، اور جو کچھ قول قرار ہم کر رہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے"

قَالَ [ (موسیٰ (علیہ السلام) نے ) کہا ] ذٰلِكَ [ یہ ] بَيْنِيْ [ میرے درمیان ] وَبَيْنَكَ ۭ [ اور تیرے درمیان (طے) ہے ] اَيَّمَا الْاَجَلَيْنِ [ دونوں مدتوں کی کوئی سی جو ] قَضَيْتُ [ میں نے پوری کی ] فَلَا عُدْوَانَ [ تو کسی قسم کی کوئی بھی زیادتی نہیں ہے ] عَلَيَّ ۭ [ مجھ پر ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَلٰي مَا [ اس پر جو ] نَقُوْلُ [ ہم کہتے ہیں ] وَكِيْلٌ [ نگران ہے ]
Ayah 28:29

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 28:29 in the Quran reader

جب موسیٰؑ نے مدت پوری کر دی اور وہ اپنے اہل و عیال کو لے کر چلا تو طُور کی جانب اس کو ایک آگ نظر آئی اُس نے اپنے گھر والوں سے کہا "ٹھیرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید میں وہاں سے کوئی خبر لے آؤں یا اس آگ سے کوئی انگارہ ہی اُٹھا لاؤں جس سے تم تاپ سکو"

فَلَمَّا [ پھر جب ] قَضٰى مُوْسَى [ پورا کیا موسیٰ (علیہ السلام) نے ] الْاَجَلَ [ اس مدت کو ] وَسَارَ [ اور وہ چلے ] بِاَهْلِهٖٓ [ اپنے گھر والوں کے ساتھ ] اٰنَسَ [ تو انہوں (علیہ السلام) نے دیکھا ] مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ [ کوہ طور کی طرف ] نَارًا ۚ [ ایک آگ ] قَالَ [ انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] لِاَهْلِهِ [ اپنے گھر والوں سے ] امْكُثُوْٓا [ تم لوگ ٹھہرو ] اِنِّىْٓ اٰنَسْتُ [ بیشک میں نے دیکھی ] نَارًا ] ایک آگ ] لَّعَلِّيْٓ اٰتِيْكُمْ [ شاید میں لاؤں تمہارے پاس ] مِّنْهَا [ اس سے ] بِخَبَرٍ [ کوئی خبر ] اَوْ جَذْوَةٍ [ یا ایک انگارہ ] مِّنَ النَّارِ [ آگ میں سے ] لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ [ شاید تم لوگ آگ تاپو ج ذ و (ن) جذوا سیدھا کھڑا رہنا۔ اپنی حالت پر قائم رہنا۔ جذوۃ دیکتا ہوا انگارہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 29 ۔ ش ط ء
Ayah 28:30

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 28:30 in the Quran reader

وہاں پہنچا تو وادی کے داہنے کنارے پر مبارک خطے میں ایک درخت سے پکارا گیا کہ "اے موسیٰؑ، میں ہی اللہ ہوں، سارے جہان والوں کا مالک"

فَلَمَّآ [ پھر جب ] اَتٰىهَا [ وہ پہنچے اس کے پاس ] نُوْدِيَ [ تو ندا دی گئی ] مِنْ شَا 8 الْوَادِ الْاَيْمَنِ [ وادی کے داہنے کنارے سے ] فِي الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ [ برکت دئیے ہوئے اس قطعہ زمین میں ] مِنَ الشَّجَرَةِ [ اس درخت سے ] ااَنْ يّٰمُـوْسٰٓي [ کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ] اِنِّىْٓ [ بیشک میں ] اَنَا اللّٰهُ [ ہی اللہ ہوں ] رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں کا رب ہوں ] (ف) شطأ کنارے یا ساحل پر چلنا۔ کھیتی میں بالی آنا۔ خوشہ نکلنا۔ شطأ اسم ذات ہے۔ کنارہ ، بالی۔ خوشہ۔ کزرع اخرج شطاہ (کسی کھیتی کی مانند جس نے نکالا اپنا خوشہ) ۔ 48/29 ۔ شاطی سمندر کا ساحل ۔ دریا کا کنارہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 30 ۔ ب ق ع بقعا پرندے یا کسی چیز کا مختلف رنگ والا ہونا۔ بقعۃ قطعہ زمین۔ زیر مطالعہ آیت۔ 30
Ayah 28:31

وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ Open ayah 28:31 in the Quran reader

اور (حکم دیا گیا کہ) پھینک دے اپنی لاٹھی جونہی کہ موسیٰؑ نے دیکھا کہ وہ لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور اس نے مڑ کر بھی نہ دیکھا (ارشاد ہوا) "موسیٰؑ، پلٹ آ اور خوف نہ کر، تو بالکل محفوظ ہے

وَاَنْ [ اور یہ کہ ] اَلْقِ [ آپ (علیہ السلام) ڈال دیں ] عَصَاكَ ۭ [ اپنی لاٹھی کو ] فَلَمَّا [ پھر جب ] رَاٰهَا [ انھوں (علیہ السلام) نے دیکھا اس کو ] تَهْتَزُّ [ ہلتے ہوئے ] كَاَنَّهَا [ جیسے کہ وہ ] جَاۗنٌّ [ کوئی سانپ ہے ] وَّلّٰى [ تو وہ پلٹے ] مُدْبِرًا [ پیٹھ پھیرنے والا ہوتے ہوئے ] وَّلَمْ يُعَقِّبْ ۭ [ اور پیچھے ہوئے ہی نہیں ] يٰمُوْسٰٓي [ اے موسیٰ (علیہ السلام) ] اَقْبِلْ [ آپ (علیہ السلام) سامنے آئیں ] وَلَا تَخَفْ ۣ [ اور مت ڈریں ] اِنَّكَ [ بیشک آپ (علیہ السلام) ] مِنَ الْاٰمِنِيْنَ [ امن میں ہونے والوں میں سے ہیں ]
Ayah 28:32

اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١٘ وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 28:32 in the Quran reader

اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے اور خوف سے بچنے کے لیے اپنا بازو بھینچ لے یہ دو روشن نشانیاں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے، وہ بڑے ہی نافرمان لوگ ہیں"

اُسْلُكْ [ آپ (علیہ السلام) ڈال دیں ] يَدَكَ [ اپنا ہاتھ ] فِيْ جَيْبِكَ [ اپنے گریبان میں ] تَخْــرُجْ [ تو وہ نکلے گا ] بَيْضَاۗءَ [ سفید ہوتے ہوئے ] مِنْ غَيْرِ سُوْۗءٍ ۡ [ کسی برائی (بیماری) کے بغیر ] وَّاضْمُمْ [ اور آپ (علیہ السلام) ملائیں ] اِلَيْكَ [ اپنی طرف ] جَنَاحَكَ [ اپنے پہلو کو ] مِنَ الرَّهْبِ [ خوف سے (یعنی خوف کی صورت میں)] فَذٰنِكَ [ تو یہ ] بُرْهَانٰنِ [ دو روشن دلیلیں ہیں ] مِنْ رَّبِّكَ [آپ (علیہ السلام) کے رب (کی جانب) سے ] اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕهٖ ۭ [فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف ] اِنَّهُمْ كَانُوْا [بیشک وہ سب ہیں ] قَوْمًا فٰسِقِيْنَ [ایک نافرمانی کرنے والی قوم ] نوٹ۔ ا : آیت ۔ 32 ۔ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے یہ ہدایت ہے کہ جب کبھی کوئی خطرناک موقع ایسا آئے جس سے تمہارے دل میں خوف پیدا ہو تو اپنا بازو بھینچ لیا کرو اس سے تمہارا دل قوی ہوجائے گا اور رعب و دہشت کی کوئی کیفیت تمہارے اندر باقی نہ رہے گا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ تد بیر اس لئے بتائی گئی کہ وہ ایک ظالم حکومت کا مقابلہ کرنے کے لئے کسی لائو لشکر اور دنیوی سازوسامان کے بغیر بھیجے جا رہے تھے ۔ بار بار ایسے مواقع پیش آنے والے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب کوئی ایسی صورت پیش آئے تم بس یہ عمل کرلیا کرو ۔ فرعون اپنی پوری سلطنت کا زور لگا کر بھی تمہارے دل کی طاقت کو متزلزل نہ کرسکے گا ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 28:33

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ Open ayah 28:33 in the Quran reader

موسیٰؑ نے عرض کیا "میرے آقا، میں تو ان کا ایک آدمی قتل کر چکا ہوں، ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے

قَالَ [(موسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا ] رَبِّ [اے میرے رب ] اِنِّىْ قَتَلْتُ [بیشک میں نے قتل کیا ] مِنْهُمْ [ان میں سے ] نَفْسًا [ایک جان (شخص) کو ] فَاَخَافُ [تو میں ڈرتا ہوں ] اَنْ يَّقْتُلُوْنِ [کہ وہ قتل کریں گے مجھ کو ]
Ayah 28:34

وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ١٘ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ Open ayah 28:34 in the Quran reader

اور میرا بھائی ہارونؑ مجھے سے زیادہ زبان آور ہے، اسے میرے ساتھ مدد گار کے طور پر بھیج تاکہ وہ میری تائید کرے، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے"

وَاَخِيْ هٰرُوْنُ [اور میرا بھائی ہارون ] هُوَ اَفْصَحُ [وہ زیادہ فصیح ہے ] مِنِّيْ [مجھ سے ] لِسَانًا [بلحاظ زناب کے ] فَاَرْسِلْهُ [پس تو بھیج اس کو ] مَعِيَ [میرے ساتھ ] رِدْاً [بطور مدد کے ] يُّصَدِّقُنِيْٓ ۡ [وہ تصدیق کرے گا میری ] اِنِّىْٓ اَخَافُ [بیشک میں ڈرتا ہوں ] اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ [کہ وہ جھٹلائیں گے مجھ کو ] ص ح (ک) فصاحۃ مراد کو ظاہر کرنا۔ خوش بیان ہونا۔ فصیح ہونا۔ افصح افعل تفصیل ہے۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 34 ۔ ر د ء (ف) ردأ کسی کی مدد کرنا۔ ردء اسم ذات۔ مدد۔ زیر مطالعہ آیت۔ 34 ۔ نوٹ۔ 2: ہارون (علیہ السلام) کے بارے میں موسیٰ (علیہ السلام) کی درخواست اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالی اور ان کو یہ اطمینان بھی دلادیا کہ فرعونی تم پر دست درازی نہ کرسکیں گے ۔ چناچہ یہ واقعہ ہے کے فرعون اور اس کے اعیان تمام سطوت و طاقت کے باوجود ان پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ کرسکے ۔ اس کا بڑا سبب جو تورات کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ فرعون اور اس کے اعیان حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جھوٹا آدمی نہیں سمجھتے تھے بلکہ ان کو یقین تھا کہ وہ سچے ہیں ۔ لیکن ان کی دعوت چونکہ ان کے مفاد کے خلاف تھی اس لئے اس کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھے ۔ تا ہم وہ جانتے تھے کہ اگر ہم نے ان کو کوئی گزند پہنچایا تو ہماری خیر نہیں ہے ۔ اس وجہ سے انھوں نے ان کو قتل کرنے کی جرأت نہیں کی ۔ مصر پر جب کوئی آفت آتی تو وہ موسیٰ (علیہ السلام) سے ہی درخواست کرتے کہ وہ اپنے رب سے دعا کریں کہ یہ آفت ٹل جائے ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 28:35

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 28:35 in the Quran reader

فرمایا "ہم تیرے بھائی کے ذریعہ سے تیرا ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی سطوت بخشیں گے کہ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے ہماری نشانیوں کے زور سے غلبہ تمہارا اور تمہارے پیروؤں کا ہی ہو گا"

قَالَ [(اللہ نے) کہا ] سَنَشُدُّ [میں مضبوط کروں گا ] عَضُدَكَ [آپ (علیہ السلام) کے دست و باز کو ] بِاَخِيْكَ [آپ (علیہ السلام) کے بھائی سے ] وَنَجْعَلُ [اور ہم بنائیں گے ] لَكُمَا [آپ دونوں کے لئے ] سُلْطٰنًا [ایک قوت ] فَلَا يَصِلُوْنَ [تو وہ لوگ نہیں پہنچ سکیں گے ] اِلَيْكُمَا ڔ[آپ (علیہ السلام) دونوں تک ] بِاٰيٰتِنَآ ڔ [ہماری نشانیوں کے سبب سے ] اَنْتُمَا [آپ (علیہ السلام) دونوں ] وَمَنِ [اور وہ جنہوں نے ] اتَّبَعَكُمَا [پیروی کی آپ (علیہ السلام) دونوں کی ] الْغٰلِبُوْنَ [غالب ہونے والے ہیں ]
Ayah 28:36

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 28:36 in the Quran reader

پھر جب موسیٰؑ اُن لوگوں کے پاس ہماری کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر پہنچا تو انہوں نے کہا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر بناوٹی جادوگر اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی سُنیں ہی نہیں

فَلَمَّا [پھر جب ] جَاۗءَهُمْ [آئے ان کے پاس ] مُّوْسٰي [موسیٰ (علیہ السلام) ] بِاٰيٰتِنَا [ہماری نشانیوں کے ساتھ ] بَيِّنٰتٍ [واضح ہوتے ہوئے ] قَالُوْا [تو ان لوگوں نے کہا ] مَا هٰذَآ [نہیں ہے یہ ] اِلَّا سِحْرٌ [مگر ایک جادو ] مُّفْتَرًى [گھڑا ہوا ] وَّمَا سَمِعْنَا [اور ہم نے نہیں سنا ] بِهٰذَا [اس کو ] فِيْٓ اٰبَاۗىِٕنَا الْاَوَّلِيْنَ [اپنے اگلے آباؤ اجداد (کے قصوں) میں ]
Ayah 28:37

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 28:37 in the Quran reader

موسیٰؑ نے جواب دیا "میرا رب اُس شخص کے حال سے خوب واقف ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخری انجام کس کا اچھا ہونا ہے، حق یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے"

وَقَالَ [اور کہا ] مُوْسٰي [موسیٰ (علیہ السلام) نے ] رَبِّيْٓ [میرا رب ] اَعْلَمُ [سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] [بِمَنْ : اس کو جو ] جَاۗءَ بِالْهُدٰى [ہدایت لایا ] مِنْ عِنْدِهٖ [اس کے پاس سے ] وَمَنْ [اور اس کو (بھی)] تَكُوْنُ [ہوگا ] لَهٗ [جس کے لئے ] عَاقِبَةُ الدَّارِ ۭ [اس (آخری) گھر کا انجام ] اِنَّهٗ [حقیقت یہ ہے کہ ] لَا يُفْلِحُ [فلاح نہیں پاتے ] الظّٰلِمُوْنَ [ظلم کرنے والے لوگ ]
Ayah 28:38

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْ١ۚ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 28:38 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا "اے اہل دربار میں تو اپنے سوا تمہارے کسی خدا کو نہیں جانتا ہامان، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا، شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسیٰؑ کے خدا کو دیکھ سکوں، میں تو اسے جھُوٹا سمجھتا ہوں"

وَقَالَ [اور کہا ] فِرْعَوْنُ [فرعون نے ] يٰٓاَيُّهَا الْمَلَاُ [اے سردارو ] مَا عَلِمْتُ [میں نے نہیں جانا ] لَكُمْ [تمہارے لئے ] مِّنْ اِلٰهٍ [کوئی بھی الٰہ ] غَيْرِيْ ۚ [میرے علاوہ ] فَاَوْقِدْ [پس تو آگ بھڑکا ] لِيْ [میرے لئے ] يٰهَامٰنُ [اے ہامان ] عَلَي الطِّيْنِ [گارے پر ] فَاجْعَلْ لِّيْ [پھر تو بنا میرے لئے ] صَرْحًا [ایک بلند عمارت ] لَّعَلِّيْٓ [شاید کہ میں ] اَطَّلِــعُ [جھانکوں ] اِلٰٓى اِلٰهِ مُوْسٰي ۙ [موسیٰ (علیہ السلام) کے الٰہ کی طرف ] وَاِنِّىْ [اور بیشک میں ] لَاَظُنُّهٗ [یقینا گمان کرتا ہوں اس کو ] مِنَ الْكٰذِبِيْنَ [جھوٹ کہنے والوں میں سے ] نوٹ۔ 1: فرعون نے بہت اونچا محل تیار کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے وزیر ہامان کو اس کی تیاری کے لئے پہلے یہ حکم دیا کہ مٹی کی اینٹوں کو پکا کر پختہ کیا جائے کیونکہ کچی اینٹوں پر کوئی انچی بنیاد قائم نہیں ہوسکتی ۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ فرعون کے اس واقعہ سے پہلے پختہ اینٹوں کی تعمیر کا رواج نہیں تھا ۔ سب سے پہلے فرعون نے یہ ایجاد کرائی ۔ (معارف القرآن
Ayah 28:39

وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:39 in the Quran reader

اُس نے اور اس کے لشکروں نے زمین میں بغیر کسی حق کے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور سمجھے کہ انہیں کبھی ہماری طرف پلٹنا نہیں ہے

وَاسْـتَكْبَرَ [اور بڑے بنے ] هُوَ [وہ ] وَجُنُوْدُهٗ [اور اس کے لشکر ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] بِغَيْرِ الْحَقِّ [حق کے بغیر ] وَظَنُّوْٓا [اور انہوں نے گمان کیا ] اَنَّهُمْ [کہ وہ لوگ ] اِلَيْنَا [ہماری طرف ] لَا يُرْجَعُوْنَ [لوٹائے نہیں جائیں گے ]
Ayah 28:40

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:40 in the Quran reader

آخر کار ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سمندر میں پھینک دیا اب دیکھ لو کہ ان ظالموں کا کیسا انجام ہوا

فَاَخَذْنٰهُ [پھر ہم نے پکڑا اس کو ] وَجُنُوْدَهٗ [اور اس کے لشکروں کو ] فَنَبَذْنٰهُمْ [پھر ہم نے پھینکا ان سب کو ] فِي الْيَمِّ ۚ [پانی میں ] فَانْــظُرْ [تو آپ ﷺ دیکھ لیں ] كَيْفَ كَانَ [کیسا تھا ] عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيْنَ [ظلم کرنے والوں کا انجام ]