28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 28:41

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 28:41 in the Quran reader

ہم نے انہیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے پیش رو بنا دیا اور قیامت کے روز وہ کہیں سے کوئی مدد نہ پا سکیں گے

وَجَعَلْنٰهُمْ [اور ہم نے بنایا ان کو ] اَىِٕمَّةً [ایسے پیشوا ] يَّدْعُوْنَ [جو بلاتے ہیں ] اِلَى النَّارِ ۚ [آگ کی طرف ] وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ [اور قیامت کے دن ] لَا يُنْصَرُوْنَ [ان کی مدد نہیں کی جائے گی ]
Ayah 28:42

وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ Open ayah 28:42 in the Quran reader

ہم نے اِس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے روز وہ بڑی قباحت میں مبتلا ہوں گے

وَاَتْبَعْنٰهُمْ [اور ہم نے ان کے پیچھے لگا دیا ] فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا [اس دنیا میں ] [لَعْنَةً ۚ : ایک لعنت ] [وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ : اور قیامت کے دن ] هُمْ [وہ لوگ ] مِّنَ الْمَقْبُوْحِيْنَ [خیر سے دور کئے ہوؤں میں سے ہیں ] ق ب ح (ک) قباحۃ بدنما ہونا۔ بدصورت ہونا۔ اس باب سے کوئی لفظ قرآن میں استعمال نہیں ہوا۔ (ف) قبحا کسی خیر اور بھلائی سے دور کرنا۔ مقبوح اسم المفعول ہے۔ خیر سے دور کیا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 42 ۔
Ayah 28:43

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:43 in the Quran reader

پچھلی نسلوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰؑ کو کتاب عطا کی، لوگوں کے لیے بصیرتوں کا سامان بنا کر، تاکہ شاید لوگ سبق حاصل کریں

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا [اور بیشک ہم دے چکے ہیں ] مُوْسَى [موسیٰ (علیہ السلام) کو ] الْكِتٰبَ [کتاب (یعنی تورات ] مِنْۢ بَعْدِ مَآ [اس کے بعد کہ جو ] اَهْلَكْنَا [ہم نے ہلاک کیا ] الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى [پہلی قوموں کو ] بَصَاۗىِٕرَ [سمجھ میں آنے والی دلیلیں ہوتے ہوئے ] لِلنَّاسِ [لوگوں کے لئے ] وَهُدًى [اور ہدایت ہوتے ہوئے ] وَّرَحْمَةً [اور رحمت ہوتے ہوئے ] لَّعَلَّهُمْ [شاید وہ لوگ ] يَتَذَكَّرُوْنَ [یاد دہانی حاصل کریں۔ ترکیب : (آیت۔ 43) ۔ بصائر۔ ھدی۔ رحمۃ۔ یہ سب حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں لیکن یہ القرون الاولی کی ہلاکت کا حال نہیں ہیں بلکہ الکتب یعنی تورات کا حال ہیں۔ (آیت۔ 44) ۔ بجانب میں ب دراصل ما نافیہ کی خبر پر آنے والا حرف جار ہے۔ اس لئے اس کے کوئی معنی نہیں لئے جائیں گے۔ (آیت۔ 46) ۔ رحمۃ کو قرآن کا حال ماننا بہتر ہے۔ یہاں قرآن لفظا مذکور نہیں ہے لیکن آیت ۔ 43 ۔ سے یہاں تک استدلال یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ رسول اللہ ﷺ موجود نہیں تھے اور نہ مکہ میں کوئی جید عالم موجود تھا۔ پھر قرآن موسیٰ (علیہ السلام) کے ٹھیک ٹھیک حالات کیسے بیان کر رہا ہے۔ اس طرح یہاں قرآن کا ذکر معنی موجود ہے۔ اس لئے بہتر ہے کہ رحمۃ کو کسی فعل محذوف کا مفعول لہ ماننے کے بجائے قرآن کا حال مانا جائے۔ نوٹ۔ ا : آیت ۔ 43 ۔ میں ایک لطیف بات یہ ہے کہ فرعونیوں کی ہلاکت کے بعد والی امتیں اس طرح آسمانی عذاب سے ہلاک نہیں ہوئیں ۔ چناچہ تورات کے نازل ہونے کے بعد کسی قوم کو آسمان یا زمین کے عام عذاب سے ہلاک نہیں کیا گیا سوائے اس بستی کے چند مجرموں کے جنھوں نے ہفتے کے دن شکار کھیلا تھا ۔ اور اللہ تعالیٰ نے انھیں بندر بنادیا تھا ۔ یہ واقعہ بیشک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کا ہے جیسے کے حضرت ابو سعید خدری ؓ نے فرمایا اور اپنے قول کی شہادت میں یہی آیت تلاوت فرمائی ۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کسی قوم کو آسمانی یا زمینی عذاب سے ہلاک نہیں کیا۔ ایسے عذاب جتنے آئے ان (علیہ السلام) سے پہلے ہی پہلے آئے ۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی ۔ (ابن کثیر (رح) )
Ayah 28:44

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ Open ayah 28:44 in the Quran reader

(اے محمدؐ) تم اُس وقت مغربی گوشے میں موجود نہ تھے جب ہم نے موسیٰؑ کو یہ فرمان شریعت عطا کیا، اور نہ تم شاہدین میں شامل تھے

[وَمَا كُنْتَ [اور آپ ﷺ نہیں تھے ] بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ [مغربی (حصے) کی جانب ] اِذْ قَضَيْنَآ [جب ہم نے فیصلہ کیا ] اِلٰى مُوْسَى [موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف ] الْاَمْرَ [اس حکم کا ] وَمَا كُنْتَ [اور آپ ﷺ نہیں تھے ] مِنَ الشّٰهِدِيْنَ [موقعہ پر موجود ہونے والوں میں سے ] نوٹ۔ 2: آیات 44 تا 46 ۔ میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کی نبوت کی دلیل دیتا ہے کہ ایک وہ شخص جس نے ایک حرف بھی نہ پڑھا ہو ، جو اگلی کتابوں سے نہ آشنا ہو ، جس کی قوم علمی مشاغل سے اور گذشتہ تاریخ سے بالکل بیخبر ہو ، وہ تفصیل اور وضاحت کے ساتھ بالکل ٹھیک گذشتہ واقعات کو اس طرح بیان کرے جیسے کہ اس کے اپنے چشم دید ہوں ، کیا یہ اس امر کی دلیل نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی وحی کے ذریعہ سے انھیں وہ تمام باتیں بتاتا ہے ۔ (ابن کثیر (رح) ) یہ امر ملحوظ رہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی سر گذشت جس تفصیل اور صحت کے ساتھ قرآن میں بیان ہوئی ہے اس تفصیل و صحت کے ساتھ تورات میں بیان نہیں ہوئی ۔ اگر آپ سر گذشت کے اتنے ہی حصہ کو لے کر ، جتنی اس سورة بیان ہوئی ہے ، تورات کے بیان سے اس کا موازنہ کریں تو آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ قرآن کے بیان کے مقابلہ میں تورات کا بیان بےربط ہے اور ان تمام ضروری اجزاء سے خالی ہے جو اس سرگزشت کی اصل روح ہیں ۔ اگر طوالت کا اند یشہ نہ ہوتا تو میں قرآن اور تورات دونوں کے بیانات کا مقابلہ کر کے دکھاتا کہ تورات میں سرگزشت کے اصل اجزاء یا تو غائب ہیں یا مسخ شدہ ہیں ۔ بر عکس اس کے قرآن نے واقعہ کے تمام فطری اجزاء ایسے منطقی ربط و تسلسل کے ساتھ پیش کیے ہیں کہ ان کی موعظت و حکمت دل میں اترتی چلی جاتی ہے ۔ (تدبر قرآن )
Ayah 28:45

وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ Open ayah 28:45 in the Quran reader

بلکہ اس کے بعد (تمہارے زمانے تک) ہم بہت سی نسلیں اٹھا چکے ہیں اور ان پر بہت زمانہ گزر چکا ہے تم اہلِ مَدیَن کے درمیان بھی موجود نہ تھے کہ اُن کو ہماری آیات سُنا رہے ہوتے، مگر (اُس وقت کی یہ خبریں) بھیجنے والے ہم ہیں

وَلٰكِنَّآ اَنْشَاْنَا [اور لیکن ہم نے اٹھائیں ] قُرُوْنًا [کچھ قومیں ] فَتَطَاوَلَ [پھر لمبائی ظاہر کی ] عَلَيْهِمُ [ان پر ] الْعُمُرُ ۚ [عمر نے ] وَمَا كُنْتَ [اور آپ ﷺ نہیں تھے ] ثَاوِيًا [قیام کرنے والے ] فِيْٓ اَهْلِ مَدْيَنَ [مدین والوں میں ] تَتْلُوْا [تلاوت کرتے ہوئے ] عَلَيْهِمْ [ان پر ] اٰيٰتِنَا ۙ [ہماری آیتوں کو ] وَلٰكِنَّا كُنَّا [اور لیکن ہم ہی ہیں ] مُرْسِلِيْنَ [بھیجنے والے ]
Ayah 28:46

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:46 in the Quran reader

اور تم طور کے دامن میں بھی اُس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے (موسیٰؑ کو پہلی مرتبہ) پکارا تھا، مگر یہ تمہارے رب کی رحمت ہے (کہ تم کو یہ معلومات دی جار ہی ہیں) تاکہ تم اُن لوگوں کو متنبّہ کر دو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی متنبّہ کرنے والا نہیں آیا، شاید کہ وہ ہوش میں آئیں

وَمَا كُنْتَ [اور آپ ﷺ نہیں تھے ] بِجَانِبِ الطُّوْرِ [طور کی جانب ] اِذْ نَادَيْنَا [جب ہم نے ندا دی ] وَلٰكِنْ [اور لیکن ] رَّحْمَةً [یہ کتاب ہے) رحمت ہوتے ہوئے ] مِّنْ رَّبِّكَ [آپ ﷺ کے رب (کی طرف) سے ] لِتُنْذِرَ [تاکہ آپ ﷺ خبردار کریں ] قَوْمًا [ایک ایسی قوم کو ] مَّآ اَتٰىهُمْ [نہیں آیا جن کے پاس ] مِّنْ نَّذِيْرٍ [کوئی خبردار کرنے والا ] مِّنْ قَبْلِكَ [آپ ﷺ سے پہلے ] لَعَلَّهُمْ [شاید یہ لوگ ] يَتَذَكَّرُوْنَ [یاد دہانی حاصل کریں ]
Ayah 28:47

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:47 in the Quran reader

(اور یہ ہم نے اس لیے کیا کہ) کہیں ایسا نہ ہو کہ اُن کے اپنے کیے کرتوتوں کی بدولت کوئی مصیبت جب اُن پر آئے تو وہ کہیں "اے پروردگار، تُو نے کیوں نہ ہماری طرف کوئی رسول بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہلِ ایمان میں سے ہوتے"

وَلَوْلَآ اَنْ [اور اگر نہ ہوتا کہ (ہم نذیر نہ بھیجتے) پھر ] تُصِيْبَهُمْ [آن لگتی ان کو ] مُّصِيْبَةٌۢ [کوئی آلگنے والی (آفت)] بِمَا [بسبب اس کے جو ] قَدَّمَتْ [آگے بھیجا ] اَيْدِيْهِمْ [ان کے ہاتھوں نے ] فَيَقُوْلُوْا [تو وہ لوگ کہتے ] رَبَّنَا [اے ہمارے رب ] لَوْلَآ [کیوں نہیں ] اَرْسَلْتَ [تو نے بھیجا ] اِلَيْنَا [ہماری طرف ] رَسُوْلًا [کوئی رسول ] فَنَتَّبِعَ [نتیجۃً ہم پیروی کرتے ] اٰيٰتِكَ [تیری آیتوں کی ] وَنَكُوْنَ [اور ہم ہوجاتے ] مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [ایمان لانے والوں میں سے ]
Ayah 28:48

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ Open ayah 28:48 in the Quran reader

مگر جب ہمارے ہاں سے حق ان کے پاس آ گیا تو وہ کہنے لگے "کیوں نہ دیا گیا اِس کو وہی کچھ جو موسیٰؑ کو دیا گیا تھا؟" کیا یہ لوگ اُس کا انکار نہیں کر چکے ہیں جو اس سے پہلے موسیٰؑ کو دیا گیا تھا؟ انہوں نے کہا "دونوں جادوگر ہیں جو ایک دُوسرے کی مدد کرتے ہیں" اور کہا "ہم کسی کو نہیں مانتے"

فَلَمَّا [تو جب ] جَاۗءَهُمُ [آیا ان کے پاس ] الْحَقُّ [حق (قرآن)] مِنْ عِنْدِنَا [ہمارے پاس سے ] قَالُوْا [تو انھوں نے کہا ] لَوْلَآ [کیوں نہیں ] اُوْتِيَ [ان (رسول) کو دیا گیا ] مِثْلَ مَآ [اس کے جیسا جو ] اُوْتِيَ [دیا گیا ] مُوْسٰي ۭ [موسیٰ (علیہ السلام) کو ] اَوَ [اور کیا ] لَمْ يَكْفُرُوْا [انہوں نے انکار نہیں کیا ] بِمَآ [اس کا جو ] اُوْتِيَ [دیا گیا ] مُوْسٰي [موسیٰ (علیہ السلام) کو ] مِنْ قَبْلُ ۚ [اس سے پہلے ] قَالُوْا [انہوں نے کہا ] سِحْرٰنِ [(یہ کتابیں) دو جادو ہیں ] تَظٰهَرَ ڠ [دونوں باہم مددگار ہوئیں ] وَقَالُوْٓا [اور انہوں نے کہا ] اِنَّا [کہ ہم ] بِكُلٍّ [سب کا ] كٰفِرُوْنَ [انکار کرنے والے ہیں ] نوٹ۔ 1: اَوَلَمْ يَكْفُرُوْا بِمَآ اُوْتِيَ مُوْسٰي مِنْ قَبْلُ کا مطلب یہ ہے کہ ان معجزوں کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) پر ہی تم (یعنی قریش مکہ ) کب ایمان لائے تھے کہ اب محمد ﷺ سے ان کا مطالبہ کر رہے ہو ۔ تم خود یہ کہتے ہو کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ معجزے دیئے گے تھے ، مگر پھر بھی ان کو نبی مان کر ان کی پیروی تم نے کبھی قبول نہیں کی ۔ سورة سبا کی آیت ۔ 31 ۔ میں بھی کفار مکہ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ ” نہ ہم اس قرآن کو مانیں گے نہ ان کتابوں کو جو اس سے پہلے آئی ہوئی ہیں ۔ (تفہیم القرآن ) نوٹ۔ 2: سحرن تظاہرا میں سحران خبر ہے۔ اس سے پہلے اس کا مبتدا محذوف ہے۔ کچھ مفسرین نے اس سے پہلے ھذان الرجلان (یہ دو مرد یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون علیہ السلام) کو محذوف مانا ہے اور سحران (دو جادو) کو ساحران (دو جادوگر) کے معنی میں لیا ہے۔ اس طرح یہ فرعونیوں کا قول قرار پاتا ہے۔ جبکہ کچھ مفسرین نے سحران سے پہلے ھذان الکتابان (یہ دو کتابیں یعنی تورات اور قرآن) کو محذوف مانا ہے۔ ایسی صورت میں سحران (دو جادو) کے معنی میں تاویل کی ضرورت نہیں رہتی اور یہ قریش مکہ کا قول قرار پاتا ہے۔ ہم نے دوسری رائے کو ترجیح دی ہے کیونکہ اگلی آیت میں فاتوا بکتب سے اس رائے کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔
Ayah 28:49

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 28:49 in the Quran reader

(اے نبیؐ،) ان سے کہو، "اچھا تو لاؤ اللہ کی طرف سے کوئی کتاب جو اِن دونوں سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہو اگر تم سچے ہو، میں اسی کی پیروی اختیار کروں گا"

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] فَاْتُوْا [تو تم لوگ لاؤ] بِكِتٰبٍ [کوئی ایسی کتاب ] مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ [اللہ کے پاس سے ] هُوَ [جو ] اَهْدٰى [زیادہ ہدایت والی ہے ] مِنْهُمَآ [ان دونوں (کتابوں) سے ] اَتَّبِعْهُ [تو میں پیروی کروں گا اس کی ] اِنْ كُنْتُمْ [اگر تم لوگ ] صٰدِقِيْنَ [سچ کہنے والے ہو ]
Ayah 28:50

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:50 in the Quran reader

اب اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پورا نہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں، اور اُس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو گا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا

فَاِنْ [پھر اگر ] لَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا [وہ لوگ جواب نہ دیں ] لَكَ [آپ ﷺ کو ] فَاعْلَمْ [تو آپ ﷺ جان لیں ] اَنَّمَا [کہ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يَتَّبِعُوْنَ [وہ لوگ پیروی کرتے ہیں ] اَهْوَاۗءَهُمْ ۭ [اپنی خواہشات کی ] وَمَنْ [اور کون ] اَضَلُّ [زیادہ گمراہ ہونے والا ہے ] مِمَّنِ [اس سے جس نے ] اتَّبَعَ [پیروی کی ] هَوٰىهُ [اپنی خواہش کی ] بِغَيْرِ هُدًى [کسی ہدایت کے بغیر ] مِّنَ اللّٰهِ ۭ [اللہ (کی طرف) سے ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] لَا يَهْدِي [ہدایت نہیں دیتا ] الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ [ظلم کرنے والی قوم کو ]
Ayah 28:51

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 28:51 in the Quran reader

اور (نصیحت کی) بات پے در پے ہم انہیں پہنچا چکے ہیں تاکہ وہ غفلت سے بیدار ہوں

وَلَقَدْ وَصَّلْنَا [اور بیشک ہم بتدریج پہنچاتے رہے ہیں ] لَـهُمُ [ان لوگوں کے لئے ] الْقَوْلَ [اس بات (وحی الٰہی) کو ] لَعَلَّهُمْ [شاید وہ ] يَتَذَكَّرُوْنَ [نصیحت پکڑیں ]
Ayah 28:52

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:52 in the Quran reader

جن لوگوں کو اس سے پہلے ہم نے کتاب دی تھی وہ اِس (قرآن) پر ایمان لاتے ہیں

اَلَّذِيْنَ [وہ لوگ ] اٰتَيْنٰهُمُ [ہم نے دی جن کو ] الْكِتٰبَ [کتاب ] مِنْ قَبْلِهٖ [اس (قرآن) سے پہلے ] هُمْ [وہ ] بِهٖ [اس پر ] يُؤْمِنُوْنَ [ایمان لاتے ہیں ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 52 ۔ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تمام اہل کتاب (یہودی اور عیسائی) اس پر ایمان لاتے ہیں۔ بلکہ یہ اشارہ دراصل اس واقعہ کی طرف ہے جو اس سورة کے نزول کے زمانے میں پیش آیا تھا اور اس سے اہل مکہ کو شرم دلانی مقصود ہے کہ تم اپنے گھر آئی ہوئی نعمت کو ٹھکرا رہے ہو حالانکہ دور دور کے لوگ اس کی خبر سن کر آرہے ہیں اور اس کی قدر پہچان کر اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ حجرت حبشہ کے بعد جب وہاں پر نبی ﷺ کی دعوت کی خبر پھیلی تو وہاں سے تقریبا بیس عیسائیوں کا ایک وفد تحقیق حال کے لئے مکہ آیا اور خانہ کعبہ میں نبی ﷺ سے ملاقات کی۔ قریش کے بہت سے لوگ بھی یہ ماجرا دیکھ کر گردوپیش کھڑے ہوگئے۔ وفد کے لوگوں نے حضور ﷺ سے کچھ سوالات کیے جن کا آپ ﷺ نے جواب دیا۔ پھر آپ ﷺ نے ان کو اسلام کی دعوت دی اور قرآن مجید کی آیات اس کے سامنے پڑھیں قرآن سن کر ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور انہوں نے اس کے کلام اللہ ہونے کی تصدیق کی اور ایمان لے آئے۔ جب مجلس برخاست ہوئی تو ابوجہل اور اس کے چند ساتھیوں نے انہیں سخت ملامت کی اور برا بھلا کہا۔ وفد نے انہیں جو جواب دیا وہ آیت۔ 55 ۔ میں درج ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 28:53

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 28:53 in the Quran reader

اور جب یہ اُن کو سُنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ "ہم اِس پر ایمان لائے، یہ واقعی حق ہے ہمارے رب کی طرف سے، ہم تو پہلے ہی سے مسلم ہیں"

وَاِذَا [اور جب ] يُتْلٰى [اس (قرآن) کو پڑھا جاتا ہے ] عَلَيْهِمْ [ان پر ] قَالُوْٓا [تو وہ کہتے ہیں ] اٰمَنَّا [ہم ایمان لائے ] بِهٖٓ [اس پر ] اِنَّهُ الْحَقُّ [یقینا یہی حق ہے ] مِنْ رَّبِّنَآ [ہمارے رب (کی طرف) سے ] اِنَّا كُنَّا [بیشک ہم تھے ] مِنْ قَبْلِهٖ [اس (قرآن) سے پہلے (ہی)] مُسْلِمِيْنَ [فرمانبرداری کرنے والے ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 53 ۔ میں وفد کے لوگوں کا قول ہے کہ ہم تو پہلے ہی سے مسلم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے پہلے بھی ہم انبیاء اور کتب آسمانی کے ماننے والے تھے اس لئے اسلام کے سوا ہمارا کوئی اور دین نہ تھا۔ اور اب جو نبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب لے کر آئے ہیں انھیں بھی ہم نے مان لیا لہٰذا درحقیقت ہمارے دین میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے بلکہ جیسے ہم پہلے مسلمان تھے ویسے ہی اب بھی مسلمان ہیں۔ یہ قول اس بات کی صراحت کردیتا ہے کہ اسلام صرف اس دین کا نام نہیں ہے جسے محمد ﷺ لے کر آئے ہیں اور مسلم کی اصلاح کا اطلاق محض آپ ﷺ کی امت تک محدود نہیں ہے ۔ بلکہ ہمیشہ سے تمام انبیاء کا دین یہی اسلام تھا اور ہر زمانہ میں ان سب کے پیرو مسلمان ہی تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ قرآن صرف اسی ایک مقام پر نہیں بلکہ بیسیوں مقامات پر اس اصولی حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ اصل دین صرف اسلام (اللہ کی فرمانبرداری) ہے اور خدا کی مخلوق کے لئے اس کے سوا کئی دوسرا دین ہو نہیں سکتا۔ انبیاء (علیہم السلام) ہمیشہ خود بھی مسلم رہے اور وہ سب متبعین جنہوں نے نبوت کے ذریعہ سے آئے ہوئے فرمان خداوندی کے آگے سر تسلیم خإ کیا ہر زمانے میں مسلم ہی تھے ۔ (تفہیم القرآن) تفہیم القرآن میں اس مسئلہ پر خاصی تفصیل سے بحث کی گئی ہے اور سند کے طور پر متعدد آیات نقل کی گئی ہیں۔ اسے یا تو تفہیم میں دیکھ لیں یا مندرجہ ذیل آیات کا ترجمہ قرآن مجید میں دیکھ لیں۔ البقرہ۔ 128 ۔ 131 تا 133 ۔ آل عمران۔ 19 ۔ 67 ۔ 85، المائدہ۔ 44 ۔ 111، یونس ۔ 72 ۔ 84 ۔ 90 ، یوسف۔ 101، النمل۔ 44 ، الذاریات۔ 36 ۔
Ayah 28:54

اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 28:54 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دو بار دیا جائے گا اُس ثابت قدمی کے بدلے جو انہوں نے دکھائی وہ بُرائی کو بھَلائی سے دفع کرتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

اُولٰۗىِٕكَ [یہ لوگ ہیں ] يُؤْتَوْنَ [جن کو دیا جائے گا ] اَجْرَهُمْ [ان کا اجر ] مَّرَّتَيْنِ [دو مرتبہ ] بِمَا [بسبب اس کے جو ] صَبَرُوْا [وہ ثابت قدم رہے ] وَيَدْرَءُوْنَ [اور وہ لوگ ہٹاتے ہیں ] بِالْحَسَنَةِ [بھلائی سے ] السَّيِّئَةَ [برائی کو ] وَمِمَّا [اور اس سے جو ] رَزَقْنٰهُمْ [ہم نے دیا ان کو ] يُنْفِقُوْنَ [وہ لوگ خرچ کرتے ہیں ]
Ayah 28:55

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 28:55 in the Quran reader

اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو یہ کہہ کر اس سے کنارہ کش ہو گئے کہ "ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہتے"

وَاِذَا سَمِعُوا [اور جب وہ سنتے ہیں ] اللَّغْوَ [بے سود بات ] اَعْرَضُوْا [تو وہ اعراض کرتے ہیں ] عَنْهُ [اس سے ] وَقَالُوْا [اور کہتے ہیں ] لَنَآ [ہمارے لئے ہیں ] اَعْمَالُنَا [ہمارے اعمال ] وَلَكُمْ [اور تمہارے لئے ہیں ] اَعْمَالُكُمْ ۡ [تمہارے اعمال ] سَلٰمٌ [سلامتی ہو ] عَلَيْكُمْ ۡ [تم لوگوں پر ] لَا نَبْتَغِي [نہیں چاہتے ] الْجٰهِلِيْنَ [جاہلوں کو ]
Ayah 28:56

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 28:56 in the Quran reader

اے نبیؐ، تم جسے چاہو اسے ہدایت نہیں دے سکتے، مگر اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں

اِنَّكَ [بیشک آپ ﷺ ] لَا تَهْدِيْ [ہدایت نہیں دیتے ] مَنْ [اسے جس کو ] اَحْبَبْتَ [آپ ﷺ چاہیں ] وَلٰكِنَّ اللّٰهَ [اور لیکن اللہ ] يَهْدِيْ [ہدایت دیتا ہے ] مَنْ [اسے جس کو ] يَّشَاۗءُ ۚ[وہ چاہتا ہے ] وَهُوَ [اور وہ ] اَعْلَمُ [سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] بِالْمُهْتَدِيْنَ [ہدایت پانے والوں کو ]
Ayah 28:57

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 28:57 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں "اگر ہم تمہارے ساتھ اِس ہدایت کی پیروی اختیار کر لیں تو اپنی زمین سے اُچک لیے جائیں گے" کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے ایک پرامن حرم کو ان کے لیے جائے قیام بنا دیا جس کی طرف ہر طرح کے ثمرات کھچے چلے آتے ہیں، ہماری طرف سے رزق کے طور پر؟ مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

وَقَالُوْٓا [اور انہوں نے کہا ] اِنْ نَّتَّبِعِ [اگر ہم پیروی کریں گے ] الْهُدٰى [اس ہدایت کی ] مَعَكَ [آپ ﷺ کے ساتھ ] نُتَخَطَّفْ [تو ہم کو گھسیٹ کرلے جایا جائے گا ] مِنْ اَرْضِنَا ۭ [ہماری سرزمین سے ] اَوَلَمْ نُمَكِّنْ [اور کیا ہم نے نہیں جمایا ] لَّهُمْ [ان کو ] حَرَمًا اٰمِنًا [امن میں ہونے والے ایسے حرم میں ] يُّجْــبٰٓى [اکٹھا کئے جاتے ہیں ] اِلَيْهِ [جس کی طرف ] ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيْءٍ [ہر چیز کے پھل ] رِّزْقًا [رزق ہوتے ہوئے ] مِّنْ لَّدُنَّا [ہماری طرف سے ] وَلٰكِنَّ [اور لیکن ] اَكْثَرَهُمْ [ان کے اکثر ] لَا يَعْلَمُوْنَ [جانتے نہیں ہیں ] ترکیب : (آیت۔ 57) ۔ الھدی پر لام تعریف ہے۔ نتخطف جواب شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے۔
Ayah 28:58

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ Open ayah 28:58 in the Quran reader

اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہم تباہ کر چکے ہیں جن کے لوگ اپنی معیشت پر اترا گئے تھے سو دیکھ لو، وہ ان کے مسکن پڑے ہوئے ہیں جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی بسا ہے، آ خرکار ہم ہی وارث ہو کر رہے

وَكَمْ اَهْلَكْنَا [اور ہم نے ہلاک کیں کتنی ہی ] مِنْ قَرْيَةٍۢ [ایسی بستیوں میں سے ] بَطِرَتْ [جنہوں نے ناقدری کی ] مَعِيْشَتَهَا ۚ [اپنی معیشت کی ] فَتِلْكَ [تو یہ ] مَسٰكِنُهُمْ [ان کے مکانات ہیں ] لَمْ تُسْكَنْ [ان کو آباد نہیں کیا گیا ] مِّنْۢ بَعْدِهِمْ [ان کے بعد ] اِلَّا قَلِيْلًا ۭ [مگر تھوڑے سے ] وَكُنَّا نَحْنُ [اور ہم ہی ہیں ] الْوٰرِثِيْنَ [وارث بننے والے ] (آیت۔ 58) ۔ بطر کے ایک معنی ہیں نعمت پا کر بہک جانا۔ اترانا۔ اسی معنی میں یہ لازم ہے جس کا مفعول نہیں آتا۔ آگے معیشتھا میں معیشۃ کی نصب بتارہی ہے کہ یہاں بطرت اس معنی میں نہیں آیا ہے۔ جن مترجمین نے اسے اترانے ہی کے معنی میں لیا ہے انھوں نے معیشۃ سے پہلے حرف جار علی یا فی کو محذوف مانا ہے اور ترجمہ کیا ہے جو بستیاں اترائیں اپنی معیشت پر یا میں۔ لیکن اس پر نصب کی موجودگی میں اس سے پہلے کسی حرف جر کو محذوف ماننے کی گنجائش نہیں بنتی۔ ایسے تراجم کو اردو محاورے میں مفہوم سمجھانے کی غرض سے اختیار کیا جاسکتا ہے لیکن گرامر کے لحاظ سے اس کو درست ماننا مشکل ہے۔ امام راغب اصفہانی (رح) کی رائے ہے کہ یہ اصل میں بطرت معیشتھا ہے۔ فعل کی نسبت اس سے قطع کرکے بطور تمیز اسے منصوب کردیا گیا ہے۔ لیکن ہمارے جیسے قرآن کے مبتدی طلباء کے لئے امام صاحب کی بات کو سمجھنا مشکل ہے۔ بطر کے دوسرے معنی ہیں نعمت کی ناشکری کرنا۔ اس معنی میں یہ متعدی ہے اور اب معیشۃ کی نصب کی کوئی تاویل کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ استاد محترم حافظ احمد یار صاحب مرحوم اور مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے اسی بنیاد پر کہا ہے کہ یہاں بطرت کا استعمال کفرت کے معنی میں ہوا ہے اور ہم نے بھی اسی رائے کو اختیار کیا ہے۔
Ayah 28:59

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 28:59 in the Quran reader

اور تیرا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسُول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیات سُناتا اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہو جاتے

وَمَا كَانَ [اور نہیں ہے ] رَبُّكَ [آپ ﷺ کا رب ] مُهْلِكَ الْقُرٰى [بستیوں کو ہلاک کرنے والا ] حَتّٰى [یہاں تک کہ ] يَبْعَثَ [وہ بھیج دے ] فِيْٓ اُمِّهَا [ان (بستیوں) کے مرکز میں ] رَسُوْلًا [ایک ایسا رسول ] يَّتْلُوْا عَلَيْهِمْ [جو پڑھ کر سنائے ان کو ] اٰيٰتِنَا ۚ [ہماری آیتیں ] وَمَا كُنَّا [اور ہم نہیں ہیں ] مُهْلِــكِي الْقُرٰٓى [بستیوں کو ہلاک کرنے والے ] اِلَّا [مگر ] وَ [اس حال میں کہ ] اَهْلُهَا [ان کے لوگ ] ظٰلِمُوْنَ [ظلم کرنے والے ہوں (آیت۔ 59) ۔ مہلک القری میں کان کی خبر ہونے کی وجہ سے مہلک حالت نصب میں ہے اور واحد آیا ہے۔ جبکہ آگے کنا (جمع) کی خبر حالت نصب میں مہلکین تھی۔ مضاف ہونے کی وجہ سے نون اعرابی گرا تو مہلکی القری استعمال ہوا ہے۔
Ayah 28:60

وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 28:60 in the Quran reader

تم لوگوں کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ محض دُنیا کی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس سے بہتر اور باقی تر ہے کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے؟

وَمَآ [اور جو ] اُوْتِيْتُمْ [تم لوگوں کو دی جاتی ہے ] مِّنْ شَيْءٍ [کوئی بھی چیز ] فَمَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [تو (وہ) دنیوی زندگی کا سامان ہے ] وَزِيْنَتُهَا ۚ [اور اس کی زینت ہے ] وَمَا [اور جو ] عِنْدَ اللّٰهِ [اللہ کے پاس ہے ] خَيْرٌ [(تو وہ) سب سے بہتر ہے ] وَّاَبْقٰى ۭ [اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے ] اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ [تو کیا تم لوگ عقل نہیں کرتے ] نوٹ۔ 1: قریش کو پورے ملک پر جو اقتدار حاصل تھا، وہ سمجھتے تھے کہ یہ ان کے دین شرک کی برکت سے ہوا ہے۔ مزید برآں انہوں نے پورے ملک پر اپنی مذہبی و سیاسی دھاک قائم رکھنے کے لئے یہ تدبیر اختیار کی تھی کہ تمام قبائل عرب کے اصنام خانہ کعبہ میں جمع کر دئیے تھے۔ اس طرح وہ سب کے امام و پیشوا بن گئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے جب دعوت توحید بلند کی تو اس کے خلاف انھوں نے یہ اعتراض کیا کہ اگر ہم اپنے دیوتاؤں کو چھوڑ کر صرف ایک خدا کے بن کر رہ جائیں تو تمام عرب ہمارا دشمن بن کر اٹھ کھڑا ہوگا اور اس ملک سے ہماری جڑ اکھڑ جائے گی۔ یہ بالکل وہی اعتراض ہے جو آج ہمارے لیڈر حضرات اسلامی نظام کے خلاف اٹھاتے ہیں کہ اگر ہم اسلامی نظام کو اختیار کرلیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اپنی معیشت و معاشرت کا تیاپانچہ کرکے دکھ دیں۔ یہی اعتراض فرعون اور اس کے اعیان نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کے خلاف بھی اٹھایا تھا کہ یہ شخص ہماری اعلیٰ تہذیب کو مٹانے کے درپے ہے۔ (20/63) خدائی نظام کی مخالفت میں شیاطین کا سب سے زیادہ کارگر حربہ ہمیشہ سے یہی رہا ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 28:61

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 28:61 in the Quran reader

بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو کبھی اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جسے ہم نے صرف حیات دنیا کا سروسامان دے دیا ہو اور پھر وہ قیامت کے روز سزا کے لیے پیش کیا جانے والا ہو؟

اَفَمَنْ [ تو کیا وہ ] وَّعَدْنٰهُ [ہم نے وعدہ کیا جس سے ] وَعْدًا حَسَـنًا [ایک اچھا وعدہ ] فَهُوَ لَاقِيْهِ [ملاقات کرنے والا ہے اس (وعدے) سے ] كَمَنْ [اس کے جیسا ہوگا ] مَّتَّعْنٰهُ [ہم نے برتنے کے لئے دیا جس کو ] مَتَاعَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [دنیوی زندگی کا سامان ] ثُمَّ هُوَ [پھر وہ ] يَوْمَ الْقِيٰمَةِ [قیامت کے دن ] مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ [پیش کئے ہوؤں میں سے ہوگا ] ۔ نوٹ۔ 1: ایک شخص کے لئے دائمی عیش کا وعدہ ہے جو یقینا پورا ہو کر رہے گا اور دوسرے کے لئے چند روز ہ عیش کے بعد گرفتاری کا وارنٹ اور دائمی جیل خانہ ہے ۔ کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ۔ ایک شخص خواب میں دیکھے کہ میرے سر پر تاج شاہی رکھا ہے ، خدام پرے باندھے کھڑے ہیں اور الوان نعمت دسترخوان پر چنے ہوئے ہیں جن سے لذت اندوز ہو رہا ہوں۔ آنکھ کھلی تو دیکھا انسپکٹر پولیس گرفتاری کا وارنٹ اور ہتھکڑی بیڑی لئے کھڑا ہے۔ پس وہ پکڑ کرلے گیا اور پیش ہوکر جس دوام کی سزا لی گئی۔ بتلاؤ اسے وہ خواب کی بادشاہت اور پلاؤ قورمے کی لذت یاد آئے گی۔ (ترجمہ شیخ الہند)
Ayah 28:62

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:62 in the Quran reader

اور (بھول نہ جائیں یہ لوگ) اُس دن کو جب کہ وہ اِن کو پکارے گا اور پوچھے گا "کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے؟"

وَيَوْمَ [اور جس دن ] يُنَادِيْهِمْ [وہ پکارے گا ان کو ] فَيَقُوْلُ [پھر وہ کہے گا ] اَيْنَ [کہاں ہیں ] شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ [میرے وہ شریک جن پر ] كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ [تم لوگ زعم کیا کرتے تھے ] ۔
Ayah 28:63

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا١ۚ اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١٘ مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 28:63 in the Quran reader

یہ قول جن پر چسپاں ہو گا وہ کہیں گے "اے ہمارے رب، بے شک یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا، اِنہیں ہم نے اُسی طرح گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے ہم آپ کے سامنے براءت کا اظہار کرتے ہیں یہ ہماری تو بندگی نہیں کرتے تھے"

قَالَ الَّذِيْنَ [وہ لوگ کہیں گے ] حَقَّ [ثابت ہوئی ] عَلَيْهِمُ [جن پر ] الْقَوْلُ [وہ بات (الزام)] رَبَّنَا [اے ہمارے رب ] هٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ [یہ ہیں وہ لوگ جن کو ] اَغْوَيْنَا ۚ [ہم نے گمراہ کیا ] اَغْوَيْنٰهُمْ [ہم نے گمراہ کیا ان کو ] كَمَا [اس طرح جیسے ] غَوَيْنَا ۚ [ہم گمراہ ہوئے ] تَبَرَّاْنَآ [ہم نے اظہار بیزاری کیا (ان سے)] اِلَيْكَ ۡ [تیری طرف ] مَا كَانُوْٓا اِيَّانَا يَعْبُدُوْنَ [وہ لوگ صرف ہماری ہی بندگی نہیں کرتے تھے ] ۔ نوٹ۔ 2: آیت۔ 63 ۔ میں یہ لطیف نکتہ قابل توجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سوال تو کرے گا شریک ٹھہرانے والوں سے مگر ان کے بولنے سے پہلے ہی جواب دینے لگیں گے وہ جن کو شریک ٹھہرایا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب عام مشرکین سے یہ سوال کیا جائے گا تو ان کے لیڈر محسوس کریں گے کہ اب ہماری شامت آگئی یہ ہماری پیروی کرنے والے ضرور کہیں گے کہ ہماری گمراہی کے ذمہ دار یہ لوگ ہیں۔ اس لئے ان کے بولنے سے پہلے وہ خود اپنی صفائی پیش کریں گے کہ ہم نے زبردستی ان کو گمراہ نہیں کیا بلکہ جس طرح ہم خود اپنی مرضی سے گمراہ ہوئے تھے اسی طرح انھوں نے اپنی مرضی سے گمراہی کو قبول کیا تھا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 28:64

وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 28:64 in the Quran reader

پھر اِن سے کہا جائے گا کہ پکارو اب اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو یہ انہیں پکاریں گے مگر وہ اِن کو کوئی جواب نہ دیں گے اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے کاش یہ ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے

وَقِيْلَ [اور کہا جائے گا ] ادْعُوْا [تم لوگ پکارو ] شُرَكَاۗءَكُمْ [اپنے شریکوں کو ] فَدَعَوْهُمْ [پھر وہ پکاریں گے ان کو ] فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا [تو وہ جواب نہیں دیں گے ] لَهُمْ [ان کو ] وَرَاَوُا [اور وہ دیکھیں گے ] الْعَذَابَ ۚ [عذاب کو ] لَوْ اَنَّهُمْ [کاش کہ وہ لوگ ] كَانُوْا يَهْتَدُوْنَ [ہدایت پاتے ہوتے ] ۔
Ayah 28:65

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:65 in the Quran reader

اور (فراموش نہ کریں یہ لوگ) وہ دن جبکہ وہ اِن کو پکارے گا اور پوچھے گا کہ "جو رسول بھیجے گئے تھے انہیں تم نے کیا جواب دیا تھا؟"

وَيَوْمَ [اور جس دن ] يُنَادِيْهِمْ [وہ پکارے گا ان کو ] فَيَقُوْلُ [پھر وہ کہے گا ] مَاذَآ اَجَبْتُمُ [تم لوگوں نے کیا جواب دیا ] الْمُرْسَلِيْنَ [بھیجے ہوؤں (رسولوں) کو ] ۔
Ayah 28:66

فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 28:66 in the Quran reader

اُس وقت کوئی جواب اِن کو نہ سُوجھے گا اور نہ یہ آپس میں ایک دُوسرے سے پوچھ ہی سکیں گے

فَعَمِيَتْ [تو اندھی ہوجائیں گی ] عَلَيْهِمُ [ان پر ] الْاَنْۢبَاۗءُ [خبریں ] يَوْمَىِٕذٍ [اس دن ] فَهُمْ [تو وہ لوگ ] لَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ [ایک دوسرے سے (بھی) نہیں پوچھیں گے ] ۔
Ayah 28:67

فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ Open ayah 28:67 in the Quran reader

البتہ جس نے آج توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے وہی یہ توقع کر سکتا ہے کہ وہاں فلاح پانے والوں میں سے ہو گا

فَاَمَّا [تو وہ جو ہے ] مَنْ [جس نے ] تَابَ [توبہ کی ] وَاٰمَنَ [اور ایمان لایا ] وَعَمِلَ [اور اس نے عمل کیے ] صَالِحًا [نیک ] فَعَسٰٓي اَنْ [تو امید ہے کہ ] يَّكُوْنَ [وہ ہوگا ] مِنَ الْمُفْلِحِيْنَ [مراد پانے والوں میں سے ] ۔
Ayah 28:68

وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 28:68 in the Quran reader

تیرا رب پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے اور (وہ خود ہی اپنے کام کے لیے جسے چاہتا ہے) منتخب کر لیتا ہے، یہ انتخاب اِن لوگوں کے کرنے کا کام نہیں ہے، اللہ پاک ہے اور بہت بالاتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

وَرَبُّكَ [اور آپ ﷺ کا رب ] يَخْلُقُ [پیدا کرتا ہے ] مَا [اس کو جس کو ] يَشَاۗءُ [وہ چاہتا ہے ] وَيَخْتَارُ ۭ [اور وہ چن لینا ہے (جس کو چاہتا ہے)] مَا كَانَ [نہیں ہے ] لَهُمُ [ان لوگوں کے لئے ] الْخِيَرَةُ ۭ [پسند کرنے کا اختیار ] سُبْحٰنَ اللّٰهِ [پاکیزگی اللہ کی ہے ] وَتَعٰلٰى [اور وہ بلند ہوا ] عَمَّا [اس سے جو ] يُشْرِكُوْنَ [یہ لوگ شرک کرتے ہیں ] ۔
Ayah 28:69

وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 28:69 in the Quran reader

تیرا رب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں

وَرَبُّكَ [اور آپ ﷺ کا رب ] يَعْلَمُ [جانتا ہے ] مَا [اس کی جو ] تُكِنُّ [چھپاتے ہیں ] صُدُوْرُهُمْ [ان کے سینے ] وَمَا [اور اس کا جو ] يُعْلِنُوْنَ [وہ لوگ اعلان کرتے ہیں ] ۔
Ayah 28:70

وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:70 in the Quran reader

وہی ایک اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اسی کے لیے حمد ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، فرماں روائی اسی کی ہے اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو

وَهُوَ [اور وہی ] اللّٰهُ [اللہ نے ] لَآ اِلٰهَ [کوئی بھی الٰہ نہیں ہے ] اِلَّا هُوَ ۭ [مگر وہ ہی ] لَهُ [اس کے لئے ہیں ] الْحَمْدُ [تمام شکرو سپاس ] فِي الْاُوْلٰى [پہلی (زندگی) میں ] وَالْاٰخِرَةِ ۡ [اور آخری (زندگی) میں ] وَلَهُ [اور اس کے لئے ہی ] الْحُكْمُ [تمام حکم ہے ] وَاِلَيْهِ [اور اس کی طرف ہی ] تُرْجَعُوْنَ [تم لوگ لوٹائے جاؤ گے ] ۔
Ayah 28:71

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ Open ayah 28:71 in the Quran reader

اے نبیؐ، اِن سے کہو کبھی تم لوگوں نے غور کیا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے رات طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کونسا معبود ہے جو تمہیں روشنی لا دے؟ کیا تم سُنتے نہیں ہو؟

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] اَرَءَيْتُمْ [کیا تم لوگوں نے غور کیا ] اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ [اگر بنا دے اللہ ] عَلَيْكُمُ [تم لوگوں پر ] الَّيْلَ [رات کو ] سَرْمَدًا [ہمیشہ کے لئے ] اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ [قیامت کے دن تک ] مَنْ اِلٰهٌ [کون الٰہ ہے ] غَيْرُ اللّٰهِ [اللہ کے علاوہ ] يَاْتِيْكُمْ [جو لائے گا تمہارے لئے ] بِضِيَاۗءٍ ۭ [ روشنیاں ] اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ [تو کیا تم لوگ سنتے نہیں ہو ] نوٹ۔ 1: آیت ۔ 71 ۔ میں رات کی ہمیشگی کا ذکر ہے اور اندھیرے میں انسان کو دکھائی نہیں دیتا ۔ اس لئے اس کی رعایت سے آیت کے آخر میں افلا تسمعون فرمایا کہ اگر تمہیں سجھائی نہیں دیتا تو کیا سنائی بھی نہیں دیتا۔ جبکہ اگلی آیت میں دن کا ذکر ہے جس میں انسان سب کچھ دیکھ سکتا ہے۔ اس لئے اس کے آخر میں افلا تبصرون فرمایا۔ (ترجمہ شیخ الہند (رح) سے ماخوذ)
Ayah 28:72

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 28:72 in the Quran reader

اِن سے پوچھو، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے دن طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کونسا معبُود ہے جو تمہیں رات لا دے تاکہ تم اس میں سکون حاصل کر سکو؟ کیا تم کو سُوجھتا نہیں؟

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] اَرَءَيْتُمْ [کیا تم لوگوں نے غور کیا ] اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ [اگر بنا دے اللہ ] عَلَيْكُمُ [تم لوگوں پر ] النَّهَارَ [دن کو ] سَرْمَدًا [ہمیشہ کے لئے ] اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ [قیامت کے دن تک ] مَنْ اِلٰهٌ [کون الٰہ ہے ] غَيْرُ اللّٰهِ [اللہ کے علاوہ ] يَاْتِيْكُمْ [جو لائے گا تمہارے لئے ] بِلَيْلٍ [رات ] تَسْكُنُوْنَ [تم لوگ آرام کرتے ہو ] فِيْهِ ۭ [جس میں ] اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ [تو کیا تم لوگ دیکھتے نہیں ہو ] ۔
Ayah 28:73

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 28:73 in the Quran reader

یہ اسی کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم (رات میں) سکون حاصل کرو اور (دن کو) اپنے رب کا فضل تلاش کرو، شاید کہ تم شکر گزار بنو

وَمِنْ رَّحْمَتِهٖ [اور (یہ) اس کی رحمت میں سے ہے (کہ)] جَعَلَ [اس نے بنایا ] لَكُمُ [تمہارے لئے ] الَّيْلَ [رات ] وَالنَّهَارَ [اور دن ] لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ [تاکہ تم لوگ آرام کرو اس میں ] وَلِتَبْتَغُوْا [اور تاکہ تم لوگ تلاش کرو ] مِنْ فَضْلِهٖ [اس کے فضل میں سے ] وَلَعَلَّكُمْ [اور شاید تم لوگ ] تَشْكُرُوْنَ [شکر کرو ] ۔
Ayah 28:74

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:74 in the Quran reader

(یاد رکھیں یہ لوگ) وہ دن جبکہ وہ انہیں پکارے گا پھر پوچھے گا "کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے؟"

وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ [اور جس دن وہ پکارے گا ان کو ] فَيَقُوْلُ [پھر وہ کہے گا ] اَيْنَ شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ [کہاں ہیں میرے وہ شریک جن پر ] كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ [تم لوگ زعم کیا کرتے تھے ] ۔
Ayah 28:75

وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 28:75 in the Quran reader

اور ہم ہر امّت میں سے ایک گواہ نکال لائیں گے پھر کہیں گے کہ "لاؤ اب اپنی دلیل" اس وقت انہیں معلوم ہو جائے گا کہ حق اللہ کی طرف سے ہے، اور گم ہو جائیں گے ان کے وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے

وَنَزَعْنَا [اور ہم نکالیں گے ] مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ [ہر امت میں سے ] شَهِيْدًا [ایک گواہ ] فَقُلْنَا [تو ہم کہیں گے ] هَاتُوْا [تم لوگ وہ ] بُرْهَانَكُمْ [اپنی روشن دلیل ] فَعَلِمُوْٓا [تب وہ لوگ جان لیں گے ] اَنَّ الْحَقَّ [کہ کل حق ] لِلّٰهِ [اللہ کے لئے ہے ] وَضَلَّ [اور گم ہوجائے گا ] عَنْهُمْ [ان سے ] مَّا [وہ جو ] كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ [وہ گھڑا کرتے تھے ] ۔
Ayah 28:76

اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ Open ayah 28:76 in the Quran reader

یہ ایک واقعہ ہے کہ قارون موسیٰؑ کی قوم کا ایک شخص تھا، پھر وہ اپنی قوم کے خلاف سرکش ہو گیا اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی کنجیاں طاقت ور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اُٹھا سکتی تھی ایک دفعہ جب اس کی قوم کے لوگوں نے اُس سے کہا "پھول نہ جا، اللہ پھولنے والوں کو پسند نہیں کرتا

اِنَّ قَارُوْنَ [بیشک قارون ] كَانَ [تھا ] مِنْ قَوْمِ مُوْسٰي [موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے ] فَبَغٰى عَلَيْهِمْ ۠ [تو اس نے بغاوت کی ان کے خلاف ] وَ [حالانکہ ] اٰتَيْنٰهُ [ہم نے دیا تھا اس کو ] مِنَ الْكُنُوْزِ [خزانوں میں سے ] مَآ [وہ ] اِنَّ [کہ ] مَفَاتِحَهٗ [جس کی کنجیاں ] لَتَنُوْۗاُ [یقینا مشکل سے اٹھتی تھیں ] بِالْعُصْبَةِ اُولِي الْقُوَّةِ ۤ [قوت والی جماعت سے ] اِذْ قَالَ لَهٗ [جب کہا اس سے ] قَوْمُهٗ [اس کی قوم نے ] لَا تَفْرَحْ [تو مت اترا ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] لَا يُحِبُّ [پسند نہیں کرتا ] الْفَرِحِيْنَ [اترانے والوں کو ] ۔ ن و ء (ن) نوءا مشقت و تکلیف سے اٹھنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 76 ۔ نوٹ۔ 1: بائبل کی کتاب خروج (باب ۔ 6 ۔ آیت۔ 18 ۔ 21) میں جو نسب نامہ درج ہے اس کی رو سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قارون کے والد باہم سگے بھائی تھے۔ بنی اسارئیل میں سے ہونے کے باوجود قارون ، فرعون کے ساتھ جا ملا تھا اور اس کا مقرب بن کر اس حد کو پہنچ گیا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کے مقابلہ میں فرعون کے بعد مخالفت کے جو دو بڑے سرغنے تھے۔ ان میں سے ایک فرعون کا وزیر ہامان تھا اور دوسرا یہی قارون تھا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 28:77

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:77 in the Quran reader

جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دُنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر، اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا"

وَابْتَغِ [اور تو تلاش کر ] فِيْمَآ [اس میں سے جو ] اٰتٰىكَ [دیا تجھ کو ] اللّٰهُ [اللہ نے ] الدَّارَ الْاٰخِرَةَ [آخری گھر کو ] وَلَا تَنْسَ [اور تو مت بھول ] نَصِيْبَكَ [اپنا حصہ ] مِنَ الدُّنْيَا [دنیا میں سے ] وَاَحْسِنْ [اور تو بھلائی کر ] كَمَآ [جیسے کہ ] اَحْسَنَ [بھلائی کی ] اللّٰهُ [اللہ نے ] اِلَيْكَ [تیری طرف ] وَلَا تَبْغِ [اور تو خواہش مت کر ] الْفَسَادَ [نظم بگاڑنے کی ] فِي الْاَرْضِ ۭ [زمین میں ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] لَا يُحِبُّ [پسند نہیں کرتا ] الْمُفْسِدِيْنَ [نظم بگاڑنے والوں کو ] ۔ نوٹ۔ 2: آیت۔ 77 ۔ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو مال و دولت تجھے عطا فرمایا ہے اس کے ذریعہ آخرت کا سامان فراہم کر اور دنیا میں جو تیرا حصہ ہے اس کو نہ بھول۔ دنیا کے حصے کے متعلق دو آراء ہیں۔ ایک یہ کہ مال و دولت سے آخرت کمانے کے ساتھ اپنی ضروریات زندگی پر بھی خرچ کر، اللہ کی نعمتوں سے مستفید ہوا اور اپنے نفس کا حق ادا کرنے میں بخل سے کام مت لے۔ دوسری رائے کو سمجھنے کے لئے پہلے تاکید کرنے کا ایک اسلوب سمجھ لیں۔ کبھی ہم ایک بات کہتے ہیں پھر تاکید کے لئے اس پر ایک اور جملہ کا اضافہ کرتے ہیں۔ جیسے دفتر میں ہم کسی سے کہیں کہ گھر جاتے ہوئے یہ چیزیں ساتھ لیتے جانا۔ ان کو یہیں مت چھوڑ جانا۔ اس میں ” مت چھوڑ جانا “۔ والا جملہ پہلے جملے کی تاکید کے لئے ہے۔ اسی طرح اس آیت میں اصل بات یہ ہے کہ مال و دولت سے آخرت کما۔ اس کی تاکید کے لئے فرمایا کہ دنیا میں سے اپنا حصہ لینا مت بھول۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر انسان کے پاس کم یا زیادہ جو کچھ بھی ہے وہ سارا کا سارا اس کا اپنا نہیں ہے۔ وہ اس سب کا امین تو ہے لیکن اس میں سے اس کا اپنا حصہ صرف وہ ہے جو اس کے ساتھ جائے گا اور آخرت میں اس کو ملے گا۔ اس کے علاوہ اس کے پاس جو ہے وہ یا تو فانی ہے یا وارثوں کا حصہ ہے۔ جو اس نے کھا پی لیا۔ اوڑھ پہن لیا وہ ختم ہوگیا۔ وہ فانی تھا۔ جو اس نے جمع کیا وہ اس کے بعد ورثاء میں تقسیم ہوگا۔ دو وارثوں کا حصہ ہے۔ اس کا اپنا حصہ صرف وہ ہے جو اس کے ساتھ جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سمندر کو کوزے میں بند کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔
Ayah 28:78

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ١ؕ اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 28:78 in the Quran reader

تو اُس نے کہا "یہ سب کچھ تو مجھے اُس علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے" کیا اس کو علم نہ تھا کہ اللہ اس سے پہلے بہت سے ایسے لوگوں کو ہلاک کر چکا ہے جو اس سے زیادہ قوت اور جمعیت رکھتے تھے؟ مجرموں سے تو ان کے گناہ نہیں پوچھے جاتے

قَالَ [(قارون نے) کہا ] اِنَّمَآ [کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] اُوْتِيْتُهٗ [مجھ کو دیا گیا یہ (خزانہ)] عَلٰي عِلْمٍ [ایک ایسے علم کی بنا پر جو ] عِنْدِيْ ۭ [میرے پاس ہے ] اَوَلَمْ يَعْلَمْ [اور کیا اس نے جانا ہی نہیں ] اَنَّ اللّٰهَ [کہ اللہ ] قَدْ اَهْلَكَ [ہلاک کرچکا ہے ] مِنْ قَبْلِهٖ [اس سے پہلے ] مِنَ الْقُرُوْنِ [قوموں میں سے ] مَنْ هُوَ [اسکو کہ وہ ] اَشَدُّ [زیادہ شدید تھا ] مِنْهُ [اس سے ] قُوَّةً [بلحاظ قوت کے ] وَّاَكْثَرُ [اور زیادہ کثرت والا تھا ] جَمْعًا ۭ [بلحاظ جمع کرنے کے ] وَلَا يُسْـَٔــلُ [اور پوچھا نہیں جاتا ] عَنْ ذُنُوْبِهِمُ [ان کے گناہوں کے بارے میں ] الْمُجْرِمُوْنَ [مجرموں سے ]
Ayah 28:79

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 28:79 in the Quran reader

ایک روز وہ اپنی قوم کے سامنے اپنے پُورے ٹھاٹھ میں نکلا جو لوگ حیات دنیا کے طالب تھے وہ اسے دیکھ کر کہنے لگے "کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے، یہ تو بڑا نصیبے والا ہے"

فَخَـــرَجَ [تو وہ نکلا ] عَلٰي قَوْمِهٖ [اپنی قوم پر ] فِيْ زِيْنَتِهٖ ۭ [اپنی زینت میں ] قَالَ الَّذِيْنَ [تو ان لوگوں نے کہا جو ] يُرِيْدُوْنَ [خواہش رکھتے تھے ] الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا [دنیوی زندگی کی ] يٰلَيْتَ [اے کاش ] لَنَا [ہمارے لئے ہوتا ] مِثْلَ مَآ [اس کے جیسا جو ] اُوْتِيَ [دیا گیا ] قَارُوْنُ ۙ [قارون کو ] اِنَّهٗ [بیشک وہ ] لَذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ [یقینا بڑے نصیب والا ہے ] ۔
Ayah 28:80

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ Open ayah 28:80 in the Quran reader

مگر جو لوگ علم رکھنے والے تھے وہ کہنے لگے "افسوس تمہارے حال پر، اللہ کا ثواب بہتر ہے اُس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو"

وَقَالَ الَّذِيْنَ [اور ان لوگوں نے کہا جن کو ] اُوْتُوا [دیا گیا تھا ] الْعِلْمَ [علم ] وَيْلَكُمْ [تمہارا ستیاناس ] ثَوَابُ اللّٰهِ [اللہ کا (دیا ہوا) ثواب ] خَيْرٌ [بہتر ہے ] لِّمَنْ [اس کے لئے جو ] اٰمَنَ [ایمان لایا ] وَعَمِلَ [اور جس نے عمل کیا ] صَالِحًا ۚ [نیک ] وَلَا يُلَقّٰىهَآ [اور نہیں دی جاتی یہ (توفیق)] اِلَّا [مگر ] الصّٰبِرُوْنَ [ثابت قدم رہنے والوں کو ] ۔