28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 28:81

فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ١۫ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۗ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ Open ayah 28:81 in the Quran reader

آخر کار ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دَھنسا دیا پھر کوئی اس کے حامیوں کا گروہ نہ تھا جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کو آتا اور نہ وہ خود اپنی مدد آپ کر سکا

فَخَسَفْنَا [تو دھنسا دیا ہم نے ] بِهٖ [اس کو ] وَبِدَارِهِ [اور اس کے گھر کو ] الْاَرْضَ ۣ [زمین میں ] فَمَا كَانَ لَهٗ [تو نہیں تھی اس کے لئے ] مِنْ فِئَةٍ [کوئی بھی ایسی جماعت جو ] يَّنْصُرُوْنَهٗ [مدد کرتی اس کی ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۤ [اللہ کے سوا ] وَمَا كَانَ [اور وہ نہیں تھا ] مِنَ الْمُنْتَصِرِيْنَ [بدلہ لینے والوں میں سے ] ۔ نوٹ۔ 1: قارون کی یہ حکایت محض ماضی کی ایک حکایت کی حیثیت سے نہیں بیان ہوئی ہے بلکہ اس کے پردے میں ابولہب اور اس کے ساتھیوں کا کردار اور انجام پیش کیا گیا ہے۔ جس قسم کا فتنہ رسول اللہ ﷺ کی قوم میں ابولہب تھا۔ متعدد پہلوؤں سے دونوں میں مماثلت تھی۔ جس طرح قارون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خاندان ، بنی لادی، کا سب سے بڑا دولت مند تھا اسی طرح ابولہب رسول اللہ ﷺ کے خاندان ، بنی ہاشم میں سب سے بڑا دولت مند تھا۔ ابو لہب آپ ﷺ کا چچا تھا اور قارون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سگا چچا زاد بھائی تھا۔ دونوں نہایت بخیل اور متکبر تھے۔ اپنے اپنے رسولوں کے ساتھ دونوں کے عناد کی نوعیت بھی یاک تھی۔ قارون یہ چاہتا تھا کہ خاندان کی پیشوائی اسے حاصل رہے تاکہ اس کی سرمایہ داری پر کوئی آنچ نہ آئے۔ ابو لہب بھی یہی چاہتا تھا کہ خانہ کعبہ کی کلید برداری اور افادہ کی دولت پر اس کا قبضہ رہے۔ انجام کے اوتبار سے بھی دونوں میں بڑی مماثلت ہے۔ دونوں خدا کے قہر و غضب کے ہدف ہوئے ۔ (تدبر قرآن )
Ayah 28:82

وَ اَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْكَاَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ١ۚ لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا١ؕ وَیْكَاَنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 28:82 in the Quran reader

اب وہی لوگ جو کل اس کی منزلت کی تمنا کر رہے تھے کہنے لگے "افسوس، ہم بھول گئے تھے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نَپا تلا دیتا ہے اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہمیں بھی زمین میں دَھنسا دیتا افسوس ہم کو یاد نہ رہا کہ کافر فلاح نہیں پایا کرتے"

وَاَصْبَحَ [اور ہوگئے ] الَّذِيْنَ [وہ لوگ جنہوں نے ] تَمَـــنَّوْا [تمنا کی تھی ] مَكَانَهٗ [اس کی جگہ کی ] بِالْاَمْسِ [کل تک ] يَقُوْلُوْنَ [(یہ) کہتے ہوئے ] وَيْكَاَنَّ [ارے ! گویا کہ ] اللّٰهَ [اللہ ہی ] يَبْسُطُ [کشادہ کرتا ہے ] الرِّزْقَ [رزق کو ] لِمَنْ [جس کے لئے ] يَّشَاۗءُ [اور چاہتا ہے ] مِنْ عِبَادِهٖ [اپنے بندوں میں سے ] وَيَقْدِرُ ۚ [اور وہ اندازے سے دیتا ہے (جیسے چاہتا ہے)] لَوْلَآ اَنْ [اگر نہ ہوتا کہ ] مَّنَّ [احسان کیا ] اللّٰهُ [اللہ نے ] عَلَيْنَا [ہم پر ] لَخَسَفَ [تو وہ ضرور دھنسا دیتا ] بِنَا ۭ[ہم کو (بھی)] وَيْكَاَنَّهٗ [ارے ! حقیقت یہ ہے کہ ] لَا يُفْلِحُ [فلاح نہیں پاتے ] الْكٰفِرُوْنَ [ناشکری کرنے والے ] ۔
Ayah 28:83

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 28:83 in the Quran reader

وہ آخرت کا گھر تو ہم اُن لوگوں کے لیے مخصوص کر دیں گے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں اور انجام کی بھَلائی متقین ہی کے لیے ہے

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ [یہ آخری گھر !] نَجْعَلُهَا [ہم بناتے ہیں اس کو ] لِلَّذِيْنَ [ان لوگوں کے لئے جو ] لَا يُرِيْدُوْنَ [نہیں چاہتے ] عُلُوًّا [برائی ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] وَلَا فَسَادًا ۭ [اور نہ نظم بگاڑنا ] وَالْعَاقِبَةُ [اور (اچھا) انجام ] لِلْمُتَّقِيْنَ [تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لئے ہے ] ۔
Ayah 28:84

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزَى الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 28:84 in the Quran reader

جو کوئی بھَلائی لے کر آئے گا اس کے لیے اس سے بہتر بھَلائی ہے، اور جو بُرائی لے کر آئے تو بُرائیاں کرنے والوں کو ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسے عمل وہ کرتے تھے

مَنْ جَاۗءَ [جو آیا ] بِالْحَـسَـنَةِ [نیکی کے ساتھ ] فَلَهٗ [تو اس کے لئے ] خَيْرٌ مِّنْهَا ۚ [اس سے زیادہ بھلائی ہے ] وَمَنْ جَاۗءَ [اور جو آیا ] بِالسَّيِّئَةِ [برائی کے ساتھ ] فَلَا يُجْزَى [تو بدلہ نہیں دیا جاتا ] الَّذِيْنَ [ان کے جنہوں نے ] عَمِلُوا [عمل کئے ] السَّيِّاٰتِ [برائیوں کے ] اِلَّا مَا [سوائے اس کے جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [وہ لوگ عمل کیا کرتے تھے ] ۔
Ayah 28:85

اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى وَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 28:85 in the Quran reader

اے نبیؐ، یقین جانو کہ جس نے یہ قرآن تم پر فرض کیا ہے وہ تمہیں ایک بہترین انجام کو پہنچانے والا ہے اِن لوگوں سے کہہ دو کہ "میرا رب خُوب جانتا ہے کہ ہدایت لے کر کون آیا ہے اور کھُلی گمراہی میں کون مُبتلا ہے"

اِنَّ الَّذِيْ [بیشک وہ جس نے ] فَرَضَ عَلَيْكَ [فرض کیا آپ ﷺ پر ] الْقُرْاٰنَ [اس قرآن کو ] لَرَاۗدُّكَ [ضرور لوٹانے والا ہے آپ ﷺ کو ] اِلٰى مَعَادٍ ۭ [واپس ہونے کی جگہ کی طرف ] قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] رَّبِّيْٓ [میرا رب ] اَعْلَمُ [خوب جاننے والا ہے ] مَنْ [اس کو جو ] جَاۗءَ [آیا ] بِالْهُدٰى [ہدایت کے ساتھ ] وَمَنْ [اور اس کو جو ] هُوَ [(کہ) وہی ] فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ [کھلی گمراہی میں ہے ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت۔ 85 ۔ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو ایک معاد کی طرف پھیرنے والا ہے معاد کے لغوی معنی ہیں وہ مقام جس کی طرف آخر کار آدمی کو پلٹنا ہو۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد جنت لی ہے۔ لیکن اسے جنت کے ساتھ مخصوص کردینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ بہتر ہے کہ اسے ویسا ہی عام رکھا جائے جیسا خود اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے، تاکہ یہ وعدہ دنیا اور آخرت دونوں سے متعلق ہوجائے۔ سیاق عبارت کا تقاضہ بھی یہ ہے کہ اسے آخرت میں ہی نہیں بلکہ اس دنیا میں بھی نبی ﷺ کو آخرکار بڑی شان و عظمت عطا کرنے کا وعدہ سمجھا جائے۔ اور فی الواقع اللہ تعالیٰ نے چند ہی سال بعد حضور ﷺ کو اس دنیا میں پورے ملک عرب میں ایسا مکمل اقتدار عطا کر کے دکھا دیا کہ آپ ﷺ کی مزاحمت کرنے والی کوئی طاقت وہاں نہ ٹھہر سکی اور آپ ﷺ کے دین کے سوا کسی دین کے لئے وہاں گنجائش نہ رہی۔ عرب کی تاریخ میں اس سے پہلے کوئی نظیر اس کی موجود نہ تھی۔ بعض مفسرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ آیت مدینہ کی طرف ہجرت کرتے ہوئے راستہ میں نازل ہوئی تھی اور اس میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ وہ آپ ﷺ کو پھر مکہ واپس پہنچائے گا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 28:86

وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ٘ Open ayah 28:86 in the Quran reader

تم اس بات کے ہرگز امیدوار نہ تھے کہ تم پر کتاب نازل کی جائے گی، یہ تو محض تمہارے رب کی مہربانی سے (تم پر نازل ہوئی ہے)، پس تم کافروں کے مدد گار نہ بنو

وَمَا كُنْتَ تَرْجُوْٓا [اور آپ ﷺ امید نہیں کرتے تھے ] اَنْ يُّلْقٰٓى [کہ ڈالی جائے گی ] اِلَيْكَ [آپ ﷺ کی طرف ] الْكِتٰبُ [وہ کتاب ] اِلَّا رَحْمَةً [مگر رحمت ہوتے ہوئے ] مِّنْ رَّبِّكَ [آپ ﷺ کے رب (کی طرف) سے ] فَلَا تَكُوْنَنَّ [تو آپ ﷺ ہرگز مت ہوں ] ظَهِيْرًا [مدگار ] لِّـلْكٰفِرِيْنَ [کفر کرنے والوں کے لئے ] ۔
Ayah 28:87

وَ لَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْكَ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 28:87 in the Quran reader

اور ایسا کبھی نہ ہونے پائے کہ اللہ کی آیات جب تم پر نازل ہوں تو کفّار تمہیں اُن سے باز رکھیں اپنے رب کی طرف دعوت دو اور ہرگز مشرکوں میں شامل نہ ہو

وَلَا يَصُدُّنَّكَ [وہ لوگ ہرگز نہ روکیں آپ ﷺ کو ] عَنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ [اللہ کی آیات سے ] بَعْدَ اِذْ [اس کے بعد کہ جب ] اُنْزِلَتْ [وہ اتاری گئیں ] اِلَيْكَ [آپ ﷺ کی طرف ] وَادْعُ [اور آپ ﷺ دعوت دیں ] اِلٰى رَبِّكَ [اپنے رب کی طرف ] وَلَا تَكُوْنَنَّ [اور آپ ﷺ ہرگز مت ہوں ] مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ [شرک کرنے والوں میں سے ] ۔
Ayah 28:88

وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١۫ كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ١ؕ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 28:88 in the Quran reader

اور اللہ کے ساتھ کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکارو اُس کے سوا کوئی معبُود نہیں ہے ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اُس کی ذات کے فرماں روائی اُسی کی ہے اور اُسی کی طرف تم سب پلٹائے جاؤ گے

وَلَا تَدْعُ [اور آپ ﷺ مت پکاریں ] مَعَ اللّٰهِ [اللہ کے ساتھ ] اِلٰــهًا اٰخَرَ ۘ [کسی دوسرے الہ کو ] لَآ اِلٰهَ [کوئی الہ نہیں ہے ] اِلَّا هُوَ ۣ [مگر وہ ہی ] كُلُّ شَيْءٍ [ہر چیز ] هَالِكٌ [ہلاک ہونے والی ] اِلَّا وَجْهَهٗ ۭ [سوائے اس کے چہرے (یعنی ذات) کے ] لَهُ [اس کے لئے ہی ہے ] الْحُكْمُ [حکم دینا ] وَاِلَيْهِ [اور اس کی طرف ہی ] تُرْجَعُوْنَ [تم لوگ لوٹائے جاؤ گے ] ۔