33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 33:41

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ Open ayah 33:41 in the Quran reader

اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ کو کثرت سے یاد کرو

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا [اے لوگو جو ایمان لائے ] اذْكُرُوا اللّٰهَ [تم لوگ یاد کرو اللہ کو ] ذِكْرًا كَثِيْرًا [جیسے کثرت سے یاد کرنے کا حق ہے ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت۔ 41 ۔ 42 ۔ میں مسلمانوں کو مخالفین کی محاذ آرائی کے مقابل میں ثابت قدم رہنے کی تدبیر بتائی ہے کہ ان کے غوغا سے بےپرواہ ہوکر تم زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کرو۔ یہ مر واضح رہے کہ شیطان اور اس کی ذریات کے مقابل میں مومن کی اصلی سپر اللہ تعالیٰ کی یاد ہی ہے۔ اس لئے ذکر تو سانس کی طرح ہر وقت مطلوب ہے۔ (تدبر القرآن) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر ذکر اللہ کے سوا کوئی ایسا فرض عائد نہیں کیا جس کی کوئی حد مقرر نہ ہو۔ نماز پانچ وقت کی اور ہر نماز کی رکعات متعین ہیں۔ روزے ماہ رمضان کے مقرر ہیں۔ حج بھی خاص مقام پر اعمال مقررہ کرنے کا نام ہے۔ زکوٰۃ بھی سال میں ایک ہی مرتبہ فرض ہوتی ہے۔ مگر ذکر اللہ ایسی عبادت ہے کہ نہ اس کی کوئی حد یا تعداد متعین ہے، نہ کوئی خاص وقت یا زمانہ مقرر ہے، نہ اس کے لئے قیام یا نشست کی کوئی خاص ہئیت مقرر ہے، نہ اس کے لئے طاہر اور باوضو ہونا شرط ہے۔ ہر وقت اور ہر حال میں بکثرت ذکر اللہ کرنے کا حکم ہے۔ اس کے علاوہ دوسری عبادات میں بیماری اور مجبوری کے حالات میں عبادت میں کمی یا معافی کی رخصتیں بھی ہیں مگر ذکر اللہ کے لئے اللہ نے کوئی شرط نہیں رکھی اس لئے اس کو ترک کرنے کے لئے کوئی عذر نہیں سنا جائے گا۔ (معارف القرآن)
Ayah 33:42

وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 33:42 in the Quran reader

اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو

وَّسَبِّحُــوْهُ [اور تسبیح کرو اس کی ] بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا [صبح و شام ] ۔
Ayah 33:43

هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا Open ayah 33:43 in the Quran reader

وہی ہے جو تم پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے ملائکہ تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں تاکہ وہ تمہیں تاریکیوں سے روشنی میں نکال لائے، وہ مومنوں پر بہت مہربان ہے

هُوَ الَّذِيْ [وہ، وہ ہے جو ] يُصَلِّيْ [شفقت کرتا ہے ] عَلَيْكُمْ [تم لوگوں پر ] وَمَلٰۗىِٕكَتُهٗ [اور اس کے فرشتے (دعا کرتے ہیں)] لِيُخْرِجَكُمْ [تاکہ وہ نکالے تم لوگوں کو ] مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ۭ [اندھیروں سے نور کی طرف ] وَكَانَ [اور وہ ہے ] بِالْمُؤْمِنِيْنَ [مومنوں پر ] رَحِيْمًا [رحم کرنے والا ] ۔
Ayah 33:44

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا Open ayah 33:44 in the Quran reader

جس روز وہ اس سے ملیں گے اُن کا استقبال سلام سے ہو گا اور اُن کے لیے اللہ نے بڑا با عزت اجر فراہم کر رکھا ہے

تَحِيَّتُهُمْ [ان کی دعا ] يَوْمَ يَلْقَوْنَهٗ [جس دن وہ ملیں گے اس سے ] سَلٰمٌ ڻ [سلام ہوگی ] وَاَعَدَّ لَهُمْ [اور اس نے تیار کیا ان کے لئے ] اَجْرًا كَرِيْمًا [ایک باعزت اجر ] ۔
Ayah 33:45

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 33:45 in the Quran reader

اے نبیؐ، ہم نے تمہیں بھیجا ہے گواہ بنا کر، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر

يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ [اے نبی ] اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ [بیشک ہم نے بھیجا آپ ﷺ کو ] شَاهِدًا [گواہ ہوتے ہوئے ] وَّمُبَشِّرًا [اور بشارت دینے والا ہوتے ہوئے ] وَّنَذِيْرًا [اور خبردار کرنے والا ہوتے ہوئے ] ۔ نوٹ۔ 2: آیت۔ 45 ۔ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو گواہ بنا کر بھیجا گیا ہے۔ بعض لوگ اس کو یہ معنی پہناتے ہیں کہ آپ ﷺ آخرت میں لوگوں کے اعمال پر گواہی دیں گے۔ اور اس سے وہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ آپ ﷺ تمام لوگوں کے اعمال کو دیکھ رہے ہیں۔ ورنہ بےدیکھے شہادت کیسے دیں گے۔ لیکن قرآن کی رو سے یہ تاویل بالکل غلط ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اعمال پر شہادت قائم کرنے کے لئے اللہ نے ایک دوسرا انتظام فرمایا ہے۔ اس کے فرشتے ہر شخص کا نامہ اعمال تیار کر رہے ہیں۔ (سورہ ق آیات۔ 17 ۔ 18 ۔ اور الکہف آیت۔ 149) اور وہ لوگوں کے اعضاء سے بھی گواہی لے لے گا۔ یٰسین۔ 65 ۔ حم السجدہ۔ 20 ۔ 21) رہے انبیاء (علیہم السلام) تو ان کا کام بندوں کے اعمال پر گواہی دینا نہیں بلکہ اس بات پر گواہی دینا ہے کہ بندوں تک حق پہنچا دیا گیا تھا۔ (المائدہ۔ 109 ۔ 117 ۔ سورة البقرہ۔ 143) ۔ اس کے علاوہ النحل کی آیت۔ 89 ۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے روز، نبی ﷺ کی شہادت اس شہادت سے مختلف نہ ہوگی جسے ادا کرنے کے لئے ہر امت پر گواہی دینے والے گواہوں کو بلایا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ شہادت اعمال کی ہو تو ان سب کا حاضر و ناظر ہونا لازم آتا ہے۔ اس کی تائید وہ احادیث بھی کرتی ہیں جن کو بخاری، مسلم، ترمذی، ابن ماجہ اور امام احمد نے بہت سے صحابہ ؓ سے نقل کیا ہے جن کا مشترک مضمون یہ ہے کہ آپ ﷺ قیامت کے روز اپنے بعض اصحاب (یعنی امتی) کو دیکھیں گے کہ وہ لائے جا رہے ہیں مگر وہ آپ ﷺ کی طرف آنے کے بجائے دوسرے رخ پر جا رہے ہوں گے یا دھکیلے جا رہے ہوں گے۔ آپ ﷺ ان کو دیکھ کر عرض کریں گے خدایا یہ تو میرے صحابی (امتی) ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم نہیں جانتے کہ تمہارے بعد انھوں نے کیا کرتوت کیے ہیں۔ یہ مضمون اتنے صحابہ سے اتنی کثیر سندوں کے ساتھ نقل ہوا ہے کہ اس کی صحت میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 33:46

وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا Open ayah 33:46 in the Quran reader

اللہ کی اجازت سے اُس کی طرف دعوت دینے والا بنا کر اور روشن چراغ بنا کر

[وَّدَاعِيًا : اور بلانے والا ہوتے ہوئے ] اِلَى اللّٰهِ [اللہ کی طرف ] بِاِذْنِهٖ [اس کی اجازت سے ] وَسِرَاجًا مُّنِيْرًا [اور روشن چراغ ہوتے ہوئے ] ۔
Ayah 33:47

وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا Open ayah 33:47 in the Quran reader

بشارت دے دو اُن لوگوں کو جو (تم پر) ایمان لائے ہیں کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہے

وَبَشِّرِ [اور آپ ﷺ بشارت دیں ] الْمُؤْمِنِيْنَ [مومنوں کو ] بِاَنَّ لَهُمْ [کہ ان کے لئے ] مِّنَ اللّٰهِ [اللہ (کی طرف) سے ] فَضْلًا كَبِيْرًا [بڑا فضل ہے ] ۔
Ayah 33:48

وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:48 in the Quran reader

اور ہرگز نہ دبو کفار و منافقین سے، کوئی پرواہ نہ کرو ان کی اذیت رسانی کی اور بھروسہ کر لو اللہ پر، اللہ ہی اس کے لیے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اُس کے سپرد کر دے

وَلَا تُطِعِ [اور آپ ﷺ کہنا مت مانیں ] الْكٰفِرِيْنَ [کافروں کا ] وَالْمُنٰفِقِيْنَ [اور منافقوں کا ] وَدَعْ [اور آپ ﷺ چھوڑ دیں ] اَذٰىهُمْ [ان کے ستانے کو ] وَتَوَكَّلْ [اور آپ ﷺ بھروسہ کریں ] عَلَي اللّٰهِ ۭ [اللہ پر ] وَكَفٰى بِاللّٰهِ [اور اللہ کافی ہے ] وَكِيْلًا [بطور کار ساز کے ] ۔
Ayah 33:49

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:49 in the Quran reader

اَے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو تو تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کے پورے ہونے کا تم مطالبہ کر سکو لہٰذا انہیں کچھ مال دو اور بھلے طریقے سے رخصت کر دو

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا [اے لوگو ! جو ایمان لائے ] اِذَا نَكَحْتُمُ [جب تم لوگ نکاح کرتے ہو ] الْمُؤْمِنٰتِ [مومن عورتوں سے ] ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ [پھر تم لوگ طلاق دیتے ہو ان کو ] مِنْ قَبْلِ اَنْ [اس سے پہلے کہ ] تَمَسُّوْهُنَّ [تم لوگ چھوؤ ان کو ] فَمَا لَكُمْ [تو نہیں ہے تمہارے لئے ] عَلَيْهِنَّ [ان عورتوں پر ] مِنْ عِدَّةٍ [کوئی بھی گنتی کرنا ] تَعْتَدُّوْنَهَا ۚ [تم لوگ اہتمام سے گنتے ہو جس کو (یعنی عدت)] فَمَتِّعُوْهُنَّ [تو سامان (تحفہ) دو ان کو ] وَسَرِّحُوْهُنَّ [اور آزاد کرو ان کو ] سَرَاحًا جَمِيْلًا [خوبصورتی سے آزاد کرنا ] ۔ نوٹ۔ 1: نکاح کے بعد اور رخصتی سے پہلے طلاق دینے کا سوال خاص طور پر اس زمانے میں اس لئے پیدا ہوا ہوگا جب سورة نساء میں چار سے زیادہ شادیوں پر پابندی لگادی گئی۔ اس حکم کی تعمیل میں طلاق کے واقعات بکثرت پیش آئے ہوں گے۔ اور طلاق دینے والوں نے زیادہ بہتر یہی سمجھا ہوگا کہ اپنی ان منکوحات کو طلاق دیں جن کی رخصتی ابھی نہیں ہوئی ہے۔ آیت 49 نے ان کے لئے مبنی بر عدل سہولت مہیا کردی کہ ایسی عورتوں کے معاملہ میں عدت کے لحاظ کی ضرورت نہیں ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 33:50

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ١٘ وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا١ۗ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:50 in the Quran reader

اے نبیؐ، ہم نے تمہارے لیے حلال کر دیں تمہاری وہ بیویاں جن کے مہر تم نے ادا کیے ہیں، اور وہ عورتیں جو اللہ کی عطا کردہ لونڈیوں میں سے تمہاری ملکیت میں آئیں، اور تمہاری وہ چچا زاد اور پھوپھی زاد اور ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے، اور وہ مومن عورت جس نے اپنے آپ کو نبیؐ کے لیے ہبہ کیا ہو اگر نبیؐ اسے نکاح میں لینا چاہے یہ رعایت خالصۃً تمہارے لیے ہے، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں ہے ہم کو معلوم ہے کہ عام مومنوں پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں ہم نے کیا حدود عائد کیے ہیں (تمہیں ان حدود سے ہم نے اس لیے مستثنیٰ کیا ہے) تاکہ تمہارے اوپر کوئی تنگی نہ رہے، اور اللہ غفور و رحیم ہے

يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ [اے نبی ﷺ ] اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَكَ [بیشک ہم نے حلال کیں آپ ﷺ کے لئے ] اَزْوَاجَكَ الّٰتِيْٓ [آپ ﷺ کی ان بیویوں کو جن کو ] اٰتَيْتَ [آپ ﷺ نے دیا ] اُجُوْرَهُنَّ [ان کا اجر (مہر)] وَمَا [اور ان کو جن کا ] مَلَكَتْ يَمِيْنُكَ [مالک ہوا آپ ﷺ کا داہنا ہاتھ (کنیز)] مِمَّآ [ان میں سے جن کو ] اَفَاۗءَ اللّٰهُ عَلَيْكَ [لوٹایا اللہ نے آپ ﷺ پر (مال غنیمت میں)] وَبَنٰتِ عَمِّكَ [اور آپ ﷺ کے چچا کی بیٹیاں ] وَبَنٰتِ عَمّٰتِكَ [اور آپ ﷺ کے پھوپھیوں کی بیٹیاں ] وَبَنٰتِ خَالِكَ [اور آپ ﷺ کے ماموں کی بیٹیاں ] وَبَنٰتِ خٰلٰتِكَ [اور آپ ﷺ کے خالاؤں کی بیٹیاں ] الّٰتِيْ [جنہوں نے ] هَاجَرْنَ مَعَكَ ۡ [ہجرت کی آپ ﷺ کے ساتھ ] وَامْرَاَةً مُّؤْمِنَةً [اور ایسی مومن عورت کو (حلال کیا) جو ] اِنْ وَّهَبَتْ [اگر معاوضہ کے بغیر بخش دے ] نَفْسَهَا [اپنی جان کو ] لِلنَّبِيِّ [ان نبی ﷺ کے لئے ] اِنْ اَرَادَ النَّبِيُّ [اگر ارادہ کریں یہ نبی ﷺ ] اَنْ يَّسْتَنْكِحَهَا ۤ [کہ وہ نکاح کریں اس سے ] خَالِصَةً لَّكَ [خالص ہوتے ہوئے آپ ﷺ کے لئے ] مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۭ [تمام مومنوں کے علاوہ ] قَدْ عَلِمْنَا [ہم جانتے ہیں ] مَا فَرَضْنَا [اس کو جو ہم نے فرض کیا ] عَلَيْهِمْ [ان لوگوں (مومنوں) پر ] فِيْٓ اَزْوَاجِهِمْ [ان کی بیویوں (کے بارے) میں ] وَمَا [اور ان (کے بارے) میں جن کے ] مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ [مالک ہوئے ان کے داہنے ہاتھ ] لِكَيْلَا يَكُوْنَ [تاکہ نہ ہو ] عَلَيْكَ حَرَجٌ ۭ [آپ ﷺ پر کوئی الزام ] وَكَانَ اللّٰهُ [اور اللہ ہے ] غَفُوْرًا [بے انتہا بخشنے والا ] رَّحِيْمًا [ہمیشہ رحم کرنے والا ] ۔ نوٹ۔ 2: سورة کی مذکورہ آیت کے نزول کے بعدنجن مسلمانوں کے نکاح میں چار سے زیادہ بیویوں تھیں انہوں نے زائد بیویوں کو طلاق دے ی۔ لیکن نبی ﷺ سے کسی بیوی کو طلاق دینا ثابت نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت آپ ﷺ کے نکاح میں چار ہی بیویاں تھیں۔ بعد میں جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ ﷺ نے بی بی زینب سے نکاح کیا تو مخالفین نے اعتراض کیا کہ آپ ﷺ نے اپنے لئے الگ دوسروں کے لئے الگ شریعت بنا رکھی ہے۔ آیات 50 تا 52 میں اللہ تعالیٰ نے اس خاص اجازت کی وضاحت فرمائی جو ازواج کے معاملہ میں آپ ﷺ کو اللہ نے دی تھی۔ اس خاص اجازت کے نمایاں پہلو یہ ہیں : (1) وہ ازواج جن کے مہر آپ ﷺ ادا کرچکے وہ جائز کی گئیں۔ (2) غنیمت میں جو کنیزیزں حاصل ہوں اگر آپ ﷺ ان میں سے کسی کو آزاد کرکے ان سے نکاح کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں۔ (3) آپ ﷺ کے قریبی رشتہ کی جن خواتین نے دین کی خاطر ہجرت کی ہے، ان میں سے کسی سے بھی آپ ﷺ نکاح کرسکتے ہیں۔ (4) اگر کوئی مومنہ خود کو ہبہ کردے اور آپ ﷺ اس سے نکاح کرنا چاہیں تو اس کی بھی اجازت ہے۔ (5) یہ خصوصی اجازت تمام تر مصلحتِ دین کی خاطر ہیں، اس لئے حقوق زوجیت کے معاملہ میں آپ ﷺ پر سے وہ پابندیاں اٹھالی گئیں جو دوسروں پر تھیں۔ (6) اس دائرے کے باہر آپ ﷺ کوئی نکاح نہیں کرسکتے۔ (7) ان ازواج سے دوسری ازواج بدل نہیں سکتے۔ (تدب قرآن ج 6 ۔ ص 248 أ 249) یہ بات ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ مذکورہ بالا وضاحت سے مقصود کفار و منافقین کو مطمئن کرنا نہیں تھا بلکہ ان مسلمانوں کو مطمئن کرنا تھا جن کے دلوں میں مخالفین اسلام وسوسے ڈالنے کی کوشش کررہے تھے۔ انہین چونکہ یقیقن تھا کہ قرآن اللہ کا کلام سے اس لئے ایک آیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا کہ چار بیویوں کے عام قانون سے نبی ﷺ کو ہم نے مستثنی کیا ہے۔ انا احللنا لک کا دوسرے الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ عام مسلمانوں کے لئے چار کی قید لگانے والے بھی ہم ہی ہیں اور اپنے نبی ﷺ کو اس قید سے مستثنیٰ کرنے والے بھی ہم خود ہیں۔ اگر وہ قید لگانے کے ہم مجاز تھے تو آخر اس استثنا کے مجاز ہم کیوں نہیں ہیں۔ (تفہیم القرآن) بی بی زینب بنت جحش سے نکاح کے وقت آپ ﷺ کی جو چار بیویاں تھیں وہ یہ ہیں : بی بی سودہ جن سے 3 قبل ہجرت میں نکاح ہوا۔ بی بی عائشہ جن سے نکاح 3 قبل ہجرت میں ہوا اور رخصتی 1 ھ میں ہوئی۔ بی بی حفصہ سے نکاح 3 ھ میں ہوا۔ بی بی ام ریحانہ غزوئہ بنی مصطلق سے بی بی جویریہ اور غزوئہ خیبر سے بی بی صفیہ آپ ﷺ کی ملکیت میں آئیں۔ ان تینوں کو آزاد کرکے آپ ﷺ نے ان سے نکاح کیا۔ حکمران مصر کی طرف سے تحفہ میں آئی ہوئی بی بی ماریہ قبطیہ کو آزاد کرکے نکاح کرنا ثابت نہیں ہے۔ دین کی خاطر ہجرت کرنے والی کزن بہنوں میں سے بی بی اُم حبیبہ سے آپ ﷺ نے 7 ھ میں نکاح فرمایا۔ خود کو ہبہ کرنے والی خواتین میں سے آپ ﷺ نے بی بی میمونہ سے 7 ھ میں نکاح لیکن ان کی خواہش اور مطالبہ کے بغیر آپ ﷺ نے ان کو مہر عطا فرمایا۔ (تفہیم القرآن اور تدبر قرآن سے ماخوذ)
Ayah 33:51

تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُئْوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا Open ayah 33:51 in the Quran reader

تم کو اختیار دیا جاتا ہے کہ اپنی بیویوں میں سے جس کو چاہو اپنے سے الگ رکھو، جسے چاہو اپنے ساتھ رکھو اور جسے چاہو الگ رکھنے کے بعد اپنے پاس بلا لو اس معاملہ میں تم پر کوئی مضائقہ نہیں ہے اِس طرح زیادہ متوقع ہے کہ اُن کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ رنجیدہ نہ ہوں گی، اور جو کچھ بھی تم اُن کو دو گے اس پر وہ سب راضی رہیں گی اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگوں کے دلوں میں ہے، اور اللہ علیم و حلیم ہے

تُرْجِيْ [آپ ﷺ مؤخر کریں ] مَنْ تَشَاۗءُ [اس کو جس کو آپ ﷺ چاہیں ] مِنْهُنَّ [ان میں سے ] وَ تُـــــْٔوِيْٓ [اور آپ ﷺ ٹھہرائیں ] اِلَيْكَ [اپنے پاس ] مَنْ تَشَاۗءُ ۭ [جس کو آپ ﷺ چاہیں ] [وَمَنِ ابْتَغَيْتَ : اور جس کو آپ ﷺ چاہیں ] مِمَّنْ [ان میں سے جن کو ] عَزَلْتَ [آپ ﷺ نے کنارے کیا ] فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ۭ [تو کوئی بھی الزام نہیں ہے آپ ﷺ پر ] ذٰلِكَ اَدْنٰٓى [یہ زیادہ قریب ہے ] اَنْ تَقَرَّ [کہ ٹھنڈی ہوں ] اَعْيُنُهُنَّ [ان (ازواج) کی آنکھیں ] وَلَا يَحْزَنَّ [اور وہ غمگین نہ ہوں ] وَيَرْضَيْنَ [اور وہ راضی ہوں ] بِمَآ [اس سے جو ] اٰتَيْتَهُنَّ [آپ ﷺ دیں ان کو ] كُلُّهُنَّ ۭ [وہ سب کی سب ] وَاللّٰهُ يَعْلَمُ [اور اللہ جانتا ہے ] مَا [اس کو جو ] فِيْ قُلُوْبِكُمْ ۭ [تم سب کے دلوں میں ] وَكَانَ اللّٰهُ [اور ہے اللہ ] عَلِــيْمًا [جاننے والا ] حَلِــيْمًا [تحمل والا ] ۔
Ayah 33:52

لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠ Open ayah 33:52 in the Quran reader

اس کے بعد تمہارے لیے دوسری عورتیں حلال نہیں ہیں، اور نہ اس کی اجازت ہے کہ ان کی جگہ اور بیویاں لے آؤ خواہ اُن کا حسن تمہیں کتنا ہی پسند ہو، البتہ لونڈیوں کی تمہیں اجازت ہے اللہ ہر چیز پر نگران ہے

لَا يَحِلُّ لَكَ [حلال نہیں ہوں گی آپ ﷺ کے لئے ] النِّسَاۗءُ [عورتیں ] مِنْۢ بَعْدُ [اس کے بعد سے ] وَلَآ اَنْ تَــبَدَّلَ بِهِنَّ [اور نہ یہ کہ آپ ﷺ تبدیل کریں ان کے بدلے ] مِنْ اَزْوَاجٍ [بیویوں سے ] وَّلَوْ اَعْجَـبَكَ [اور اگرچہ بھلا لگے آپ ﷺ کو ] حُسْنُهُنَّ [ان کا حسن ] اِلَّا مَا [سوائے اس کے جس کا ] مَلَكَتْ يَمِيْنُكَ ۭ [مالک ہوا آپ ﷺ کا داہنا ہاتھ ] وَكَانَ اللّٰهُ [اور ہے اللہ ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ہر چیز پر ] رَّقِيْبًا [نگہبانی کرنے والا ] ۔
Ayah 33:53

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نبیؐ کے گھروں میں بلا اجازت نہ چلے آیا کرو نہ کھانے کا وقت تاکتے رہو ہاں اگر تمہیں کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آؤ مگر جب کھانا کھالو تو منتشر ہو جاؤ، باتیں کرنے میں نہ لگے رہو تمہاری یہ حرکتیں نبیؐ کو تکلیف دیتی ہیں، مگر وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے اور اللہ حق بات کہنے میں نہیں شرماتا نبیؐ کی بیویوں سے اگر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے تمہارے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ اللہ کے رسولؐ کو تکلیف دو، اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو، یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [اے لو گو ! جو ایمان لائے ] لَا تَدْخُلُوْا [تم لوگ داخل مت ہو ] بُيُوْتَ النَّبِيِّ [ان نبی ﷺ کے گھروں میں ] اِلَّآ اَنْ يُّؤْذَنَ [سوائے اس کے کہ اجازت دی جائے ] لَكُمْ [تمھیں ] اِلٰى طَعَامٍ [کھانے کی طرف ] غَيْرَ نٰظِرِيْنَ [بغیر دیکھنے والے ہوتے ہوئے ] اِنٰىهُ ۙ [اس کے تیارہونے کو ] وَلٰكِنْ اِذَا [اور لیکن جب ] دُعِيْتُمْ [بلا یا جائے تم لوگوں کو ] فَادْخُلُوْا [تو داخل ہو ] فَاِذَا طَعِمْتُمْ [پھر جب کھالو تم لوگ ] فَانْتَشِرُوْا [تو بکھر جائو ] وَلَا مُسْـتَاْنِسِيْنَ [اور نہ سننے کی خواہش کرنے والے ] لِحَدِيْثٍ ۭ [کسی بات کے لئے ] اِنَّ [بیشک ] ذٰلِكُمْ [یہ (رویہ)] كَانَ يُؤْذِي [تکلیف دیتا ہے ] النَّبِيَّ [ان نبی ﷺ کو ] فَيَسْتَحْيٖ [تو وہ حیاکر تے ہیں ] مِنْكُمْ ۡ [تم لوگوں سے ] وَاللّٰهُ لَا يَسْتَحْيٖ [اور اللہ حیا نہیں کرتا ] مِنَ الْحَقِّ ۭ [حق (کہنے) سے ] وَاِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ [اور جب کبھی تم لوگ ما نگو ان (ازواج ؓ سے ] مَتَاعًا [کوئی سامان ] فَسْـَٔــلُوْهُنَّ [تو لو مانگو ان سے ] مِنْ وَّرَاۗءِ حِجَابٍ ۭ [پر دہ کے پیچھے سے ] ذٰلِكُمْ [یہ ] اَطْهَرُ [زیادہ پاکیزہ ہے ] لِقُلُوْبِكُمْ [تمھارے دلوں کے لئے ] وَقُلُوْبِهِنَّ ۭ [اور ان کے دلوں کے لئے ] وَمَا كَانَ لَكُمْ [اور (جائز) نہیں ہے تمہارے لئے ] اَنْ تُــؤْذُوْا [کہ تم لوگ تکلیف دو ] رَسُوْلَ اللّٰهِ [اللہ کے رسول ﷺ کو ] وَلَآ اَنْ تَنْكِحُوْٓا [اور نہ (جائز ہے) کہ تم لوگ نکاح کرو ] اَزْوَاجَهٗ [ان ﷺ کی بیویوں سے ] مِنْۢ بَعْدِهٖٓ [ان کے بعد ] اَبَدًا ۭ [کبھی بھی ] اِنَّ [بیشک ] ذٰلِكُمْ [یہ (بات)] كَانَ [ہے ] عِنْدَ اللّٰهِ [اللہ کے یہاں ] عَظِيْمًا [بہت بری ] نوٹ۔ 1: نبی ﷺ کسی تقریب پر صحابہ کرام کو اپنے ہاں کھانے پر بلاتے رہتے۔ ایسے مواقع پر آپ ﷺ ایسے لوگوں کو بھی تالیفِ قلب کی کا طر بلاتے جو مبتلائے نفاق تھے اور نہ بھی بلاتے تو بھی ان میں سے بعض بن بلائے مہمان بک خود ہی پہنچ جاتے۔ آپ ﷺ مروت کے سبب سے نظر انداز فرماتے۔ تو اللہ تعالین اس باب میں واضح ہدایات دیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرحلہ پر بھی منافقین کا پردہ نہیں اٹھانا چاہا، اس لئے عام صیغے میں بات کی ہے۔ ہدایات یہ ہیں : (1) گھروں میں اجازت کے بغیر داخل مت ہو۔ 2 دعوت میں بن بلائے مت جاؤ۔ 3 ۔ وقت سے پہلے مت جاؤ۔ 4 ۔ جب کھا چکو تو وہاں سے منتشر ہوجاؤ(تدبر قرآن سے ماخوذ) یہ ہدایات اس عام حکم کی تمہید ہیں جو تقریبا ایک سال بعد سورة نور کی آیات 27 تا 29 میں دیا گیا۔ قدیم زمانے میں اہل عرب بےتکلف ایک دوسرے کے گھروں میں چلے جاتے تھے۔ یہ جاہلانہ طریقہ بہت سی خروبیوں کا موجب تھا۔ اس لئے پہلے نبی ﷺ کے گھروں میں یہ قاعدہ مقرر کیا گیا کہ کوئی شخص آپ ﷺ کے گھروں میں اجازت کے بغیر داخل نہ ہو پھر سورة نور میں اس قاعدے کو تمام مسلمانوں کے گھروں رائج کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ (تفہیم القرآن) نوٹ۔ 2: آیت 53 میں تھا کہ مومنوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ کو دکھ دیں۔ اب آیت 57 میں بتایا کہ جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ لعنت کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو دکھ دینے سے کیا مراد ہے ؟ اس پر اگر سوچا جائے تو ہر سنت کی خلاف ورزی بھی ایذاء رسول ﷺ بنتی ہے۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی کی فارسی میں سیرت پر ایک کتاب ’ مدارج النبوۃ ‘ ہے، اس میں ایک باب میں انہوں حضور ﷺ کی محبت سے بحث کی ہے اور لکھا ہے کہ محبت ایک مخفی حقیقت ہے، وہ دیکھی نہیں جاسکتی، البتہ اس کا اظہار اعمال سے ہوتا ہے۔ اگر یہ دیکھنا ہو کہ کس کے دل میں محبت رسول کتنی ہے تو اس کے اعمال دیکھو۔ پھر اس ضمن میں انہوں نے بیس نکات بیان کئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جو کسی مسلمان کو دکھ دیتا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے دل میں رسول ﷺ کی کوئی محبت نہیں ہے، کیونکہ اس کے دل میں رسول ﷺ کا لحاظ ہوتا یا حیا ہوتی تو وہ امت کے کسی آدمی کو دکھ نہ دیتا۔ (حافظ احمد یار صاحب کے کیسٹ سے ماخوذ)
Ayah 33:54

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

تم خواہ کوئی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ کو ہر بات کا علم ہے

اِنْ تُبْدُوْا [اگر تم لوگ ظاہر کرو ] شَـيْـــــًٔا [کوئی چیز ] اَوْ تُخْفُوْهُ [یا خفیہ رکھو اس کو ] فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ [تو بیشک اللہ ہے ] بِكُلِّ شَيْءٍ [ہر چیز کا ] عَلِــيْمًا [علم رکھنے والا ]
Ayah 33:55

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

ازواج نبیؐ کے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ ان کے باپ، ان کے بیٹے، ان کے بھائی، ان کے بھتیجے، ان کے بھانجے، ان کے میل جول کی عورتیں اور ان کے مملوک گھروں میں آئیں (اے عورتو) تمہیں اللہ کی نافرمانی سے پرہیز کرنا چاہیے اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے

لَا جُنَاحَ [کوئی گناہ نہیں ہے ] عَلَيْهِنَّ [ان خواتین پر ] فِيْٓ اٰبَاۗىِٕـهِنَّ [اپنے باپوں (کے سامنے ہونے) میں ] وَلَآ اَبْنَاۗىِٕهِنَّ [ اور نہ اپنے بیٹوں میں ] وَلَآ اِخْوَانِهِنَّ [اور نہ اپنے بھائیوں میں ] وَلَآ اَبْنَاۗءِ اِخْوَانِهِنَّ [اور نہ اپنے بھائیوں کے بیٹوں میں ] وَلَآ اَبْنَاۗءِ اَخَوٰتِهِنَّ [اور نہ اپنی بہنوں کے بیٹوں میں ] وَلَا نِسَاۗىِٕـهِنَّ [اور نہ خواتین میں ] وَلَا مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ ۚ [اور نہ ان میں جن کے مالک ہوئے ان کے داہنے ہا تھ ] وَاتَّـقِيْنَ اللّٰهَ ۭ [اور تم خواتین اللہ کا تقوٰی اختیار کرو ] اِنَّ اللّٰهَ كَانَ [یقینا اللہ ہے ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ہر چیز پر ] شَهِيْدًا [ ہمیشہ موجود رہنے والا ] ۔ نوٹ۔ 1: ازواج مطہرات کے گھروں دوسرے کے داخل ہونے پر جو پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس سے جو لوگ مستثنیٰ تھے آیت 55 میں ان کا ذکر ہے، پھر سورة کی آیت 31 میں اسے مسلمانوں کے لئے عام کیا گیا۔
Ayah 33:56

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو

اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰۗىِٕكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ [بیشک اللہ اور اس کے فر شتے دا ود بھجتے ہیں ] عَلَي النَّبِيِّ ۭ [ان نبی ﷺ پر ] يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [اے لوگو ! جو ایمان لائے ] صَلُّوْا [تم لوگ درود بھیجو ] عَلَيْهِ [ان ﷺ پر ] وَسَلِّمُوْا [ اور سلامتی کی دعاکرو ] تَسْلِــيْمًا [جیسا سلامتی کی دعا کرنے کا حق ہے ] ۔ آیت 56 سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جو لوگ نبی ﷺ پر درود وسلام بھیجتے ہیں وہ آپ ﷺ پر کوئی احسان نہیں کرتے بلکہ اللہ اور اس کے فرشتوں کی ہمنوائی کرکے وہ خود اپنے آپ کو سزاوار رحمت بناتے ہیں۔ جہاں تک نبی ﷺ کا تعلق ہے، جب آپ ﷺ کو اللہ کی رحمت اور فرشتوں کی دعائیں حاصل ہیں تو وہ دوسروں کی دعاؤں کے محتاج نہیں ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ نبی ﷺ پر درودوسلام بھیجنا مرض نفاق کا علاج ہے۔ یہاں جس محل میں درود وسلام کی ہدایت فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ منافقوں کی طرح نبی ﷺ کو ایذا پہنچانے کے بجائے اہل ایمان کو نبی ﷺ پر درود وسلام بھیجنا چاہیے۔ اس سے یہ بات واضح طور پر نکلتی ہے کہ جو لوگ درود کا اہتمام رکھتے ہیں ان کے اندر نفاق راہ نہیں پاسکتا۔ (تدبر قرآن)
Ayah 33:57

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 33:57 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور اُن کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا ہے

اِنَّ الَّذِيْنَ [بیشک جو لوگ ] يُؤْذُوْنَ [تکلیف دیتے ہیں ] اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ [اللہ کو اور اس کے رسول کو ] لَعَنَهُمُ اللّٰهُ [ لعنت کی ان پر اللہ نے ] فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ [ دنیا اور آخرت میں ] وَاَعَدَّ لَهُمْ [اور اس نے تیار کیا ان کے لئے ] عَذَابًا مُّهِيْنًا [ایک ذلیل کرنے والا عذاب ] ۔
Ayah 33:58

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 33:58 in the Quran reader

اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بے قصور اذیت دیتے ہیں اُنہوں نے ایک بڑے بہتان اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے

وَالَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ [اور جو لوگ تکلیف دیتے ہیں ] الْمُؤْمِنِيْنَ [مومن مردوں کو ] وَالْمُؤْمِنٰتِ [اور مومن عورتوں کو ] بِغَيْرِ مَا [اس کے بغیر جو ] اكْتَسَبُوْا [انہوں نے کمایا ] فَقَدِ احْتَمَلُوْا [تو انہوں نے بوجھ اٹھایا ہے ] بُهْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنًا [بہتان اور کھلے گناہ کا ] ۔
Ayah 33:59

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:59 in the Quran reader

اے نبیؐ، اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے

يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ [اے نبی آپ ﷺ کہہ دیجئے ] لِّاَزْوَاجِكَ [اپنی بیویوں سے ] وَبَنٰتِكَ [اور اپنی بیٹیوں سے ] وَنِسَاۗءِ الْمُؤْمِنِيْنَ [اور مومنوں کی عورتوں سے ] يُدْنِيْنَ [تو وہ قریب کرلیں گی ] عَلَيْهِنَّ [اپنے اوپر ] مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ ۭ [اپنی اڑھنیوں میں سے ] ذٰلِكَ [یہ ] اَدْنٰٓى [زیادہ بہتر ہے ] اَنْ يُّعْرَفْنَ [کہ وہ پہنچانی جائیں ] فَلَا يُؤْذَيْنَ ۭ [نتیجتاً وہ ستائی نہ جائیں گے ] وَكَانَ اللّٰهُ [اور ہے اللہ ] غَفُوْرًا [بے انتہا بخشنے والا ] رَّحِيْمًا [ہمیشہ رحم کرنے والا ] ۔ نوٹ۔ 1: پردے کا حکم دینے کے ساتھ اس کی علت بھی بیان کردی گئی ہے ان یعرفن فلا یؤذین۔ اس ٹکڑے سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ یہ ایک وقتی تدبیر تھی جو شریر لوگوں کی شرارت سے مسلمان خواتین کو محفوظ رکھنے کے لئے اختیار کی گئی تھی اور اب اس کی ضرورت باقی نہیں رہی۔۔ اول تو احکام جتنے بھی نازل ہوئے ہیں سب محرکات کے تحت ہی نازل ہوئے ہیں، لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ محرکات نہ ہوں تو وہ احکام کالعدم ہوجائیں گے۔ (تدبر قرآن) جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اب وہ حالات نہیں رہے، ان کی بات اس حد تک تو درست ہے کہ حالات واقعی بہت زیادہ تبدیل ہوچکے ہیں، لیکن وہ لوگ اس سے جو تاثر دیتے ہیں کہ وہ حالات نہیں رہے تو شرارت بھی نہیں رہی، یہ تاثر نہ صرف غلط ہے بلکہ در حقیقت فریب دہی کی ایک داشورانہ کوشش ہے۔ کسی پر اگر دانشوری کا بھوت نہیں سوار ہے تو وہ تعصب کی عینک اتار کر دیکھ لے کہ جب دنیا کے مہذب ممالک میں پردے کا رواج تھا، اس وقت ان ممالک میں جنسی جرائم کا کیا ریکارڈ تھا اور اب جبکہ دنیا کے انتہائی مہذب ممالک نے پردے کا رواج ختم کرکے سر پر رومال لینے کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا ہے تو ان ممالک میں جنسی جرائم کا کیا ریکارڈ ہے۔ اس طرح اس کی سمجھ میں آجائے گا کہ حالات کی تبدیلی نے کیا رخ اختیار کیا ہے اور وہ شرارت اب کتنی گھناؤنی ہوگئی ہے۔
Ayah 33:60

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

اگر منافقین، اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے، اور وہ جو مدینہ میں ہیجان انگیز افواہیں پھیلانے والے ہیں، اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے تمہیں اُٹھا کھڑا کریں گے، پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے

لَىِٕنْ [بیشک اگر ] لَّمْ يَنْتَهِ [باز نہ آئے ] الْمُنٰفِقُوْنَ [منافق لوگ ] وَالَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ [اور وہ لوگ جن کے دلوں میں ] مَّرَضٌ [کوئی روگ ہے ] وَّالْمُرْجِفُوْنَ [اور افواہ پھیلانے والے ] فِي الْمَدِيْنَةِ [مدینہ میں ] لَــنُغْرِيَنَّكَ [تو ہم لازما حاوی کردیں گے آپ ﷺ کو ] بِهِمْ [ان پر ] ثُمَّ لَا يُجَاوِرُوْنَكَ [پھر یہ لوگ پڑوسی نہیں رہیں گے آپ ﷺ کے ] فِيْهَآ [اس (مدینہ) میں ] اِلَّا قَلِيْلًا [مگر تھوڑا سا (عرصہ)] ۔
Ayah 33:61

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

ان پر ہر طرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہو گی، جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بُری طرح مارے جائیں گے

مَّلْعُوْنِيْنَ ڔ [لعنت کئے ہوئے ] اَيْنَـمَا [جہاں کہیں ] ثُــقِفُوْٓا [پائے جائیں ] اُخِذُوْا [تو پکڑے جائیں ] وَقُتِّلُوْا [اور قتل کئے جائیں ] تَــقْتِيْلًا [جیسا قتل کئے جانے کا حق ہے ] ۔
Ayah 33:62

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

یہ اللہ کی سنت ہے جو ایسے لوگوں کے معاملے میں پہلے سے چلی آ رہی ہے، اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے

سُـنَّةَ اللّٰهِ [(آپ ﷺ پائیں گے) اللہ کی سنت ] فِي الَّذِيْنَ [ان لوگوں میں جو ] خَلَوْا [گزرے ] مِنْ قَبْلُ ۚ [اس سے پہلے ] وَلَنْ تَجِدَ [اور آپ ﷺ ہرگز نہیں پائیں گے ] لِسُنَّةِ اللّٰهِ [اللہ کی سنت میں ] تَبْدِيْلًا [کوئی تبدیلی ]
Ayah 33:63

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی کہو، اُس کا علم تو اللہ ہی کو ہے تمہیں کیا خبر، شاید کہ وہ قریب ہی آ لگی ہو

يَسْـَٔـــلُكَ [پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے ] النَّاسُ [لوگ ] عَنِ السَّاعَةِ ۭ [اس گھڑی (قیامت) کے بارے میں ] قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] اِنَّمَا [کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] عِلْمُهَا [اس کا علم ] عِنْدَ اللّٰهِ ۭ [اللہ کے پاس ہے ] وَمَا يُدْرِيْكَ [اور آپ ﷺ کیا جانیں ] لَعَلَّ [شاید ] السَّاعَةَ [وہ گھڑی ] تَكُوْنُ [ہو ] قَرِيْبًا [نزدیک ] ۔ نوٹ۔ 1: حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ فعل ادرٰ یُدری سے جن چیزون کے لیے فعل ماضی ادرٰ آیا ہے، رسول اللہ ﷺ ان چیزوں کے متعلق جانتے تھے۔ اور جن چیزوں کے لئے فعل مضارع یدری آیا ہے آپ ﷺ ان کے متعلق نہیں جانتے تھے۔ حضرت ابن عباس کے قول کی توجیہ یہ ہے کہ ما ادراک میں ادرٰ کو اگر فعل ماضی مانا جائے تو ترجمہ ہوگا آپ ﷺ کیا جانیں یعنی آپ ﷺ کو نہیں معلوم لیکن اس کو فعل تعجب مانا جائے تو ترجمہ ہوگا آپ ﷺ کتنا جاننے والے ہیں یعنی آپ ﷺ خوب جانتے ہیں۔ لیکن فعل مجارع یدری کو فعل تعجب نہیں مانا جاسکتا۔ اس لئے اس کا ایک ہی ترجمہ ممکن ہے کہ آپ ﷺ کیا جانئیں یعنی آجپ ﷺ نہیں جانتے (حافظ احمد یار مرحوم) حافظ صاحب کا کیسٹ سن کر میں پھر معجم سے چیک کیا تو معلوم ہوا کہ ماادرٰک قرآن مجید میں 13 جگہ آیا ہے اور جن چیزوں کے لئے آیا ہے وہ یہ ہیں : اَلْحَاۗقَّةُ (69-3) ۔ سَقَرَ (76-27) يَوْمُ الْفَصْلِ (77-14) يَوْمُ الدِّيْنِ (دو مرتبہ۔ 82 ۔ 17/18) سِجِّيْنٌ (83-8) عِلِّيُّوْنَ (83-19) الطَّارِقُ (86-2) الْعَقَبَةُ (90-12) لَيْلَةُ الْقَدْرِ (97-2) اَلْقَارِعَةُ (101-3) هَاوِيَةٌ (101 ۔ 9/10) الْحُطَمَةُ (104-5) ۔ ظاہر ہے کہ یہ وہ چیزیں ہیں جن کا نہ صرف رسول اللہ ﷺ کو علم دیا گیا بلکہ ان میں سے اکثر کا آپ ﷺ کو شب معراج میں مشاہدہ بھی کرایا گیا۔ فعل مضارع یدریْ قرآن مجید میں تین جگہ آیا ہے۔ زیر مطالعہ آیت 63 ۔ کے علاوہ 42:17 ۔ اور 80:3 میں۔ـ
Ayah 33:64

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

بہرحال یہ یقینی امر ہے کہ اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر دی ہے

اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ نے ] لَعَنَ الْكٰفِرِيْنَ [لعنت کی کافروں پر ] وَاَعَدَّ لَهُمْ [اور اس نے تیار کی ان کے لئے ] [سَعِيْرًا : شعلوں والی آگ ]
Ayah 33:65

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، کوئی حامی و مدد گار نہ پا سکیں گے

خٰلِدِيْنَ [ہمیشہ رہنے والے ] فِيْهَآ [اس میں ] اَبَدًا ۚ [دائمی طور پر ] لَا يَجِدُوْنَ [وہ لوگ نہیں پائیں گے ] وَلِيًّا [کوئی کارساز ] وَّلَا نَصِيْرًا [اور نہ کوئی مددگار ] ۔
Ayah 33:66

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

جس روز ان کے چہرے آگ پر الٹ پلٹ کیے جائیں گے اُس وقت وہ کہیں گے کہ "کاش ہم نے اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کی ہوتی"

يَوْمَ تُقَلَّبُ [جس دن الٹے پلٹے جائیں گے ] وُجُوْهُهُمْ [ان کے چہرے ] فِي النَّارِ [آگ میں ] يَقُوْلُوْنَ [(تب) وہ لوگ کہیں گے ] يٰلَيْتَنَآ [اے کاش ] اَطَعْنَا اللّٰهَ [ہم اطاعت کرتے اللہ کی ] وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلَا [اور اطاعت کرتے ان رسول ﷺ کی ] ۔
Ayah 33:67

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

اور کہیں گے "اے رب ہمارے، ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہِ راست سے بے راہ کر دیا

وَقَالُوْا [اور کہیں گے ] رَبَّنَآ [اے ہمارے رب ] اِنَّآ اَطَعْنَا [بیشک ہم نے اطاعت کی ] سَادَتَنَا [اپنے سرداروں کی ] وَكُبَرَاۗءَنَا [اور اپنے بڑوں کی ] فَاَضَلُّوْنَا [تو ان لوگوں نے بہکا دیا ہم کو ] السَّبِيْلَا [راستے سے ] ۔ نوٹ۔ 2: آیت 67 میں سادتنا اور کبراء نا کے دو لفظ آئے ہیں سادۃ سے مراد تو ظاہر ہے کہ لیڈر اور سردار ہیں اور کبراء سے مراد ان کے خاندانی اور مذہبی پیشوا ہیں۔ ان میں سے کسی کی بھی آنکھ بند کرکے اطاعت کرنا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی کو حق و باطل مین امتیاز کے لئے عقل عطا فرمائی ہے۔ اس وجہ سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اس کسوٹی سے کام لے، جو اس سے کام لے گا، اگر وہ کہیں ٹھوکر بھی کھاجائے گا تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کو سہارا دے اور معاف فرمائے لیکن جو آنکھیں بند کرکے اپنی باگ دوسرے کے ہاتھ میں پکڑا دے گا اس کا حشر وہی ہوگا جو یہاں بیان ہوا ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 33:68

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

اے رب، ان کو دوہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر"

رَبَّنَآ [اے ہمارے رب ] اٰتِهِمْ [تو دے ان کو ] ضِعْفَيْنِ [دوگنا ] مِنَ الْعَذَابِ [عذاب میں سے ] وَالْعَنْهُمْ [اور تو لعنت بھیج ان پر ] لَعْنًا كَبِيْرًا [جیسے بڑی لعنت بھیجنے کا حق ہے ] ۔
Ayah 33:69

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اُن لوگوں کی طرح نہ بن جاؤ جنہوں نے موسیٰؑ کو اذیتیں دی تھیں، پھر اللہ نے اُن کی بنائی ہوئی باتوں سے اُس کی برأت فرمائی اور وہ اللہ کے نزدیک با عزت تھا

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [اے لوگو ! جو ایمان لائے ] لَا تَكُوْنُوْا [تم لوگ مت ہوجانا ] كَالَّذِيْنَ [ان کی مانند جنہوں نے ] اٰذَوْا [ستایا ] مُوْسٰى [موسیٰ (علیہ السلام) کو ] فَبَرَّاَهُ [تو بری قرار دیا ان (علیہ السلام) کو ] اللّٰهُ [اللہ نے ] مِمَّا [اس سے جو ] قَالُوْا ۭ [انہوں نے کہا ] وَكَانَ عِنْدَ اللّٰهِ [اور وہ تھے اللہ کے نزدیک ] وَجِيْهًا [بلند تربہ ]
Ayah 33:70

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ Open ayah 33:70 in the Quran reader

اے ایمان لانے والو، اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا [اے لوگو ! جو ایمان لائے ] اتَّقُوا اللّٰهَ [تم لوگ تقوی اختیار کرو اللہ کا ] وَقُوْلُوْا [اور کہو ] قَوْلًا سَدِيْدًا [ٹھیک بات ] ۔ نوٹ۔ 1: شاہ عبد القادر نے آیات 70 ۔ 71 کا جو ترجمہ کیا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدھی بات کا عادی ہونے پر اصلاح اعمال کا جو وعدہ ہے وہ صرف دینی اعمال ہی نہیں ہیں بلکہ دنیا کے سب کام بھی اس میں داخل ہیں۔ جو شخص قول سدید کا عادی ہوجائے یعنی جھوٹ نہ بولے، سوچ سمجھ کر بات کرے، کسی کو فریب نہ دے، دل خراش بات نہ کرے، اس کے اعمال آخرت بھی درست ہوجائے گے اور دنیا کے کام بھی بن جائیں گے۔ شاہ عبد القادر کا ترجمہ یہ ہے ” کہو بات سیدھی کہ سنواردے تم کو تمہارے کام۔ “ (منقول از معارف القرآن)
Ayah 33:71

یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 33:71 in the Quran reader

اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا جو شخص اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرے اُس نے بڑی کامیابی حاصل کی

يُّصْلِحْ [تو وہ اصلاح کرے گا ] لَكُمْ [تمہارے لئے ] اَعْمَالَكُمْ [تمھارے اعمال کی ] وَيَغْفِرْ لَكُمْ [اور وہ بخش دے گا تمہارے لئے ] ذُنُوْبَكُمْ ۭ [تمھارے گناہوں کو ] وَمَنْ يُّطِعِ [اور جو اطاعت کرتا ہے ] اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ [اللہ کی اور اس کے رسول کی ] فَقَدْ فَازَ [تو وہ کا میاب ہوگیا ہے ] فَوْزًا عَظِيْمًا [جیسے عظیم کامیابی کا حق ہے ] ۔
Ayah 33:72

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ Open ayah 33:72 in the Quran reader

ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اُسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا، بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے

اِنَّا عَرَضْنَا [بیشک ہم نے پیش کیا ] الْاَمَانَةَ [اس امانت کو ] عَلَي السَّمٰوٰتِ [آسمانوں پر ] وَالْاَرْضِ [اور زمین پر ] وَالْجِبَالِ [اور پہاڑوں پر ] فَاَبَيْنَ [تو سب نے انکار کیا ] اَنْ يَّحْمِلْنَهَا [کہ وہ اٹھائیں اس کو ] وَاَشْفَقْنَ [اور وہ سب ڈرگئے ] مِنْهَا [اس سے ] وَحَمَلَهَا [اور اٹھایا اس کو ] الْاِنْسَانُ ۭ [انسان نے ] اِنَّهٗ كَانَ [بیشک وہ ہے ] ظَلُوْمًا [بہت ظلم کرنے والا ] جَهُوْلًا [بڑا نادان ] ۔ نوٹ۔ 2: آیت 72 میں امانت سے مراد خلافت ہے جو قرآن مجید کی رو سے انسان کو زمین میں عطاکی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو طاعت و معصیت کی جو آزادی بخشی ہے، اور اس آزادی کو استمال کرنے کے لئے اسے اپنی بیشمار مخلوقات پر تصرف کے جو اختیارات عطا کئے ہیں، ان کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان اپنے اختیاری اعمال کا ذمہ دار قرار پائے اور اپنے صحیح طرز عمل پر اجر کا اور غلط طرز عمل پر سزا کا مستحق بنیے۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر اسے خلافت کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہاں اسی کے لئے امانت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ امانت کتنی اہم اور بار ِ گراں ہے اس کا تصور دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ آسمان اور زمین اپنی ساری عظمت کے باوجود اور پہاڑ اپنی زبردست جسامت کے باوجود اس کے اٹھانے کی ہمت نہ رکھتے تھے، مگر انسان نے اپنی ذراسی جان پر یہ بوجھ اٹھا لیا ہے۔ (تفہم القرآن)
Ayah 33:73

لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 33:73 in the Quran reader

اِس بار امانت کو اٹھانے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اللہ منافق مردوں اور عورتوں، اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے اور مومن مَردوں اور عورتوں کی توبہ قبول کرے، اللہ درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے

لِّيُعَذِّبَ اللّٰهُ [تاکہ عذاب دے اللہ ] [الْمُنٰفِقِيْنَ وَالْمُنٰفِقٰتِ : منافق مردوں اور منافق عورتوں کو ] وَالْمُشْرِكِيْنَ وَالْمُشْرِكٰتِ [اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو ] وَيَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَي [اور تاکہ توبہ قبول کرے اللہ ] الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ۭ [مومن مردوں اور مومن عورتوں کی ] وَكَانَ اللّٰهُ [اور ہے اللہ ] غَفُوْرًا رَّحِيْمًا [بے انتہا بخشنے والا رحم والا ] ۔ 3/ ربیع الاول 1429 ھ بمطابق 12/مارچ 2008 ء