36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 36:41

وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 36:41 in the Quran reader

اِن کے لیے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ ہم نے اِن کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کر دیا

وَاٰيَةٌ لَّهُمْ [اور ایک نشانی ہے ان کے لئے ] اَنَّا حَمَلْنَا [کہ ہم نے سوار کیا ] ذُرِّيَّــتَهُمْ [ان کی اولاد (اولاد آدم) کو ] فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ [بھری کوئی کشتی میں ] نوٹ۔ 1: بھری ہوئی کشتی سے مراد حضرت نوح کی کشتی ہے۔ اس کشتی میں بظاہر تو حضرت نوح (علیہ السلام) کے چند ساتھی ہی بیٹھے تھے، مگر در حقیقت قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسان اس پر سوار تھے۔ کیونکہ طوفان نوح میں ان کے سوا باقی پوری اولاد آدم کو غرق کردیا گیا تھا اور بعد کی انسانی نسل ان ہی کشتی والوں سے چلی ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 36:42

وَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا یَرْكَبُوْنَ Open ayah 36:42 in the Quran reader

اور پھر اِن کے لیے ویسی ہی کشتیاں اور پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوتے ہیں

وَخَلَقْنَا لَهُمْ [اور ہم نے پیدا کیا ان کے لئے ] مِّنْ مِّثْلِهٖ [اس (کشتی) جیسی ] مَا [وہ (سواریاں) جس پر ] يَرْكَبُوْنَ [یہ لوگ سواری کرتے ہیں ] آیت 42 سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ تاریخ میں پہلی کشتی جو بنی وہ حضرت نوح (علیہ السلام) والی کشتی تھی۔ اس سے پہلے انسان کو دریاؤں سمندروں کو عبور کرنے کا طریقہ معلوم نہ تھا۔ اس طریقے کی تعلیم سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کو دی پھر آئندہ ان کی نسل نے بحری سفر کے لئے کشتیاں بنانے کا سلسلہ شروع کردیا۔ (تفہیم القرآن) ایک رائے یہ کہ من مثلہ کے معنی یہ ہیں کہ انسان کی سواری اور باربرداری کے لئے صرف کشتی ہی نہیں بلکہ اور بھی سواری بنائی ہے۔ اس سے اہل عرب نے اپنی عادت کے مطابق اونٹ کی سواری مراد لی ہے، مگر یہ ظاہر ہے کہ قرآن اس جگہ کسی خاص سواری کا نام نہیں لیا ہے بلکہ مبہم چھوڑا ہے تاکہ قیامت تک ایجاد ہونے والی سب سواریاں اس میں شامل ہوجائیں۔ (معارف القرآن)
Ayah 36:43

وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْقَذُوْنَۙ Open ayah 36:43 in the Quran reader

ہم چاہیں تو اِن کو غرق کر دیں، کوئی اِن کی فریاد سننے والا نہ ہو اور کسی طرح یہ نہ بچائے جا سکیں

وَاِنْ نَّشَاْ [اور اگر ہم چاہیں ] نُغْرِقْهُمْ [تو ہم غرق کردیں ان کو ] فَلَا صَرِيْخَ لَهُمْ [پھر کوئی بھی فریاد رس نہ ہوگا ان کے لئے ] وَلَا هُمْ يُنْقَذُوْنَ [اور نہ وہ بچائے جائیں گے ] ۔
Ayah 36:44

اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 36:44 in the Quran reader

بس ہماری رحمت ہی ہے جو انہیں پار لگاتی اور ایک وقت خاص تک زندگی سے متمتع ہونے کا موقع دیتی ہے

اِلَّا رَحْمَةً [سوائے رحمت ہوتے ہوئے ] مِّنَّا [ہمارے پاس سے ] وَمَتَاعًا [اور سامان ہوتے ہوئے ] اِلٰى حِيْنٍ [ایک وقت تک ] ۔ آیت 44 میں واضح کردیا گیا کہ انسان کو یہ جو کچھ بھی حاصل ہے، نہ اس کے باپ دادا کی میراث ہے اور نہ اس کی اپنی قابلیت کا کرشمہ بلکہ یہ محض خدا کا فضل اور اس کی رحمت ہے جس سے یک خاص وقت تک کے لئے اس نے انسان کو بہر مند کیا ہے۔ بالآخر وہ وقت آنے والا ہے جب اللہ تعالیٰ ن تمام نعمتوں کے متعلق پرسش کرے گا کہ ان کا شکر اور حق ادا کیا تھا یا نہیں ۔ (تدبر قرآن)
Ayah 36:45

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْكُمْ وَ مَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 36:45 in the Quran reader

اِن لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ بچو اُس انجام سے جو تمہارے آگے آ رہا ہے اور تمہارے پیچھے گزر چکا ہے، شاید کہ تم پر رحم کیا جائے (تو یہ سنی اَن سنی کر جاتے ہیں)

وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ [اور جب کہا جاتا ہے ان سے ] اتَّقُوْا [تم لوگ بچو ] مَا بَيْنَ اَيْدِيْكُمْ [اس سے جو تمہارے آگے ہے ] وَمَا خَلْفَكُمْ [اور جو تمہارے پیچھے ہے ] لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ [شاید تم لوگوں پر رحم کیا جائے ] ۔
Ayah 36:46

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 36:46 in the Quran reader

اِن کے سامنے اِن کے رب کی آیات میں سے جو آیت بھی آتی ہے یہ اس کی طرف التفات نہیں کرتے

وَمَا تَاْتِيْهِمْ [اور نہیں پہنچتی ان کے پاس ] مِّنْ اٰيَةٍ [کوئی بھی نشانی ] مِّنْ اٰيٰتِ رَبِّهِمْ [ان کے رب کی نشانیوں میں سے ] اِلَّا كَانُوْا [مگر وہ لوگ ہیں ] عَنْهَا [ان سے ] مُعْرِضِيْنَ [اعراض کرنے والے ] ۔
Ayah 36:47

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:47 in the Quran reader

اور جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے اُس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرو تو یہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے ایمان لانے والوں کو جواب دیتے ہیں "کیا ہم اُن کو کھلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا؟ تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو"

وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ [اور جب کہا جاتا ہے ان سے ] اَنْفِقُوْا [تم لوگ خرچ کرو ] مِمَّا رَزَقَكُمُ [اس میں سے جو روزی دی تم کو ] اللّٰهُ ۙ [اللہ نے ] قَالَ الَّذِيْنَ [تو کہتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے ] كَفَرُوْا [انکار کیا ] لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا [ان لوگوں سے جو ایمان لائے ] اَنُطْعِمُ [کیا ہم کھلائیں ] مَنْ [انھیں ] لَّوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ [اگر چاہے گا اللہ ] اَطْعَمَهٗٓ ڰ [تو وہ کھلائے گا ان کو ] اِنْ اَنْتُمْ [نہیں ہو تم لوگ ] اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ [مگر ایک کھلی گمراہی میں ]
Ayah 36:48

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 36:48 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں کہ "یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پوری ہو گی؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو"

وَيَقُوْلُوْنَ [اور وہ لوگ کہتے ہیں ] مَتٰى [کب ہے ] ھٰذَا الْوَعْدُ [یہ وعدہ ] اِنْ كُنْتُمْ [اگر تم لوگ ہو ] صٰدِقِيْنَ [سچ کہنے والے ]
Ayah 36:49

مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ یَخِصِّمُوْنَ Open ayah 36:49 in the Quran reader

دراصل یہ جس چیز کی راہ تک رہے ہیں وہ بس ایک دھماکا ہے جو یکایک اِنہیں عین اُس حالت میں دھر لے گا جب یہ (اپنے دنیوی معاملات میں) جھگڑ رہے ہوں گے

مَا يَنْظُرُوْنَ [وہ انتظار نہیں کرتے ] اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً [مگر ایک ایسی چنگھاڑ کا ] تَاْخُذُهُمْ [جو پکڑے گی ان کو ] وَهُمْ [اس حال میں کہ وہ ] يَخِصِّمُوْنَ [جھگڑ رہے ہوں گے ] ۔
Ayah 36:50

فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:50 in the Quran reader

اور اُس وقت یہ وصیت تک نہ کر سکیں گے، نہ اپنے گھروں کو پلٹ سکیں گے

فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ [تو انھیں استطاعت نہ ہوگی ] تَوْصِيَةً [کوئی وصیت کرنے کی ] وَّلَآ اِلٰٓى اَهْلِهِمْ [اور نہ اپنے گھر والوں کی طرف ] يَرْجِعُوْنَ [وہ لوٹیں گے ] ۔
Ayah 36:51

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ Open ayah 36:51 in the Quran reader

پھر ایک صور پھونکا جائے گا اور یکایک یہ اپنے رب کے حضور پیش ہونے کے لیے اپنی قبروں سے نکل پڑیں گے

وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ [اور پھونکا جائے گا صور میں ] فَاِذَا هُمْ [تو جب ہی وہ لوگ ] مِّنَ الْاَجْدَاثِ [قبروں سے ] اِلٰى رَبِّهِمْ [اپنے رب کی طرف ] يَنْسِلُوْنَ [دوڑتے ہوں گے ] ج د ث ثلاثی مجرد سے فعل نہیں آتا۔ جدث ج اجداث۔ قبر ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 51
Ayah 36:52

قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:52 in the Quran reader

گھبرا کر کہیں گے: "ارے، یہ کس نے ہمیں ہماری خواب گاہ سے اُٹھا کھڑا کیا؟" "یہ وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمان نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں کی بات سچی تھی"

قَالُوْا [وہ کہیں گے ] يٰوَيْلَنَا [ہائے ہماری شامت ] مَنْۢ بَعَثَنَا [کسی نے اٹھایا ہم کو ] مِنْ مَّرْقَدِنَا ۆ[ہماری آرام گاہ سے ] ھٰذَا مَا [یہ وہ ہے جو ] وَعَدَ الرَّحْمٰنُ [وعدہ کیا رحمان نے ] وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ [اور سچ کہا بھیجے ہوؤں (رسولوں) نے ]
Ayah 36:53

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ Open ayah 36:53 in the Quran reader

ایک ہی زور کی آواز ہو گی اور سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دیے جائیں گے

اِنْ كَانَتْ اِلَّا [نہیں ہوگی وہ مگر ] صَيْحَةً وَّاحِدَةً [ایک (ہی) چنگھاڑ ] فَاِذَا هُمْ [پھر جب ہی وہ لوگ ] جَمِيْعٌ [سب کے سب ] لَّدَيْنَا [ہمارے پاس ] مُحْضَرُوْنَ [حاضر کئے ہوئے ہوں گے ] ۔
Ayah 36:54

فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 36:54 in the Quran reader

آج کسی پر ذرہ برابر ظلم نہ کیا جائے گا اور تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے عمل تم کرتے رہے تھے

فَالْيَوْمَ [تو آج کے دن ] لَا تُــظْلَمُ نَفْسٌ [ظلم نہیں کیا جائے گا کسی جان پر ] شَـيْــــًٔا [ذرا بھی ] وَّلَا تُجْـزَوْنَ [اور تم لوگوں کو بدلہ نہیں دیا جائے گا ] اِلَّا مَا [سوائے اس کے جو ] [كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ : تم سب کرتے ہو ]
Ayah 36:55

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ Open ayah 36:55 in the Quran reader

آج جنتی لوگ مزے کرنے میں مشغول ہیں

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ [بیشک جنت والے ] الْيَوْمَ فِيْ شُغُلٍ [آج کے دن کسی مشغلہ میں ] [فٰكِــهُوْنَ : ہنسنے ہنسانے والے ہوں گے ] ش غ ل (ف) شغلا کام میں لگانا۔ مصروف رکھنا ۔ شَغَلَتْنَآ اَمْوَالُنَا وَاَهْلُوْنَا (ہمیں مصروف رکھا ہمارے اموال نے اور ہمارے گھر والوں نے) 48/11 شغل مصروفیت۔ شغل، زیر مطالعہ آیت۔ 55 نوٹ۔ 1: آیت 55 کو سمجھنے کے لئے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ صالح اہل ایمان میدان حشر میں روک کر نہیں رکھے جائیں گے بلکہ ابتدا ہی میں ان کو بلا حساب، یا ہلکی حساب فہمی کے بعد جنت میں بھیج دیا جائے گا کیونکہ ان کا ریکارڈ صاف ہوگا۔ انہیں دوران عدالت انتظار کی تکلیف دینے کی ضرورت نہ ہوگی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ میدان حشر میں جواب دہی کرنے والوں کو بتائے گا کہ جن لوگوں کو تم دنیا میں بیوقوف سمجھ کر ان کا مذاق اڑاتے تھے وہ اپنی عقلمندی کی بدولت آج جنت کے مزے لوٹ رہے ہیں اور تم یہاں کھڑے جوابدہی کر رہے ہو۔ (تفہیم القرآن) یہاں اصحاب جنت کا حال ذکر فرمایا ہے کہ وہ اپنی تفریحات میں مشغول ہوں گے۔ ممکن ہے اس جگہ فی شغل (کسی مصروفیت میں) کا لفظ اس خیال کو دفع کرنے کے لئے بڑھایا ہو کہ جنت میں جبکہ نہ کوئی عبادت ہوگی، نہ کوئی فرض وواجب اور نہ کسب معاش کا کوئی کام، تو کیا اس بیکاری میں آدمی کا جی نہ گھبرائے گا۔ اس لئے فرمایا کہ ان کو اپنی تفریحات کا ہی بڑا شغل ہوگا، جی گھبرانے کا کیا سوال ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 36:56

هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ Open ayah 36:56 in the Quran reader

وہ اور ان کی بیویاں گھنے سایوں میں ہیں مسندوں پر تکیے لگائے ہوئے

هُمْ وَاَزْوَاجُهُمْ [وہ اور ان کے جوڑے ] فِيْ ظِلٰلٍ [سایوں میں ] عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ [سجائے ہوئے تختوں پر ] مُتَّكِــــــُٔـوْنَ [ٹیک لگانے والے ہوں گے ] ۔ ۘلَكُمْ فِيْهَا فَوَاكِهُ كَثِيْرَةٌ (تمہارے لئے ان میں کثرت سے بھل ہیں) ۔ 23/19 (تفعل) تفکھا باتیں بنانا۔ پشیمان ہونا۔ لَوْ نَشَاۗءُ لَجَعَلْنٰهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُوْنَ (اگرچہ ہم چاہیں تو بنادیں اس کو روندا ہوا پھر تم لوگ رہ جاؤ باتیں بناتے) 56/65) ء ر ک (ن) اروکا اونٹ کا پیلو کے درخت کے ستے کھانا۔ اریکۃ ج ارائک۔ آراستہ و مزین تخت۔ (تخت کو سجانے کے لئے جو چھپر کھٹ لگایا جاتا ہے وہ پیلو کے درخت کی لکڑی کا ہوتا ہے) ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 56 ۔
Ayah 36:57

لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ Open ayah 36:57 in the Quran reader

ہر قسم کی لذیذ چیزیں کھانے پینے کو ان کے لیے وہاں موجود ہیں، جو کچھ وہ طلب کریں اُن کے لیے حاضر ہے

لَهُمْ فِيْهَا [ان کے لئے ہوگا اس میں ] فَاكِهَةٌ [پھل ] وَّلَهُمْ مَّا [اور ان کے لئے ہوگاوہ جو ] يَدَّعُوْنَ [وہ مانگیں گے ] ۔ ک ہـ (س) فکہا خوش طبع، ہنسنے ہنسانے والا ہونا۔ فکہ صفت ہے۔ خوش طبع۔ خود پسند۔ اکڑ باز۔ وَاِذَا انْقَلَبُوْٓا اِلٰٓى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِيْنَ (اور جب بھی وہ پلٹتے ہیں اپنے گھر والوں کی طرف پلٹتے ہوئے) 83/31 ۔ فاکہ اسم الفاعل ہے۔ ینسنے ہنسانے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 55 فاکہۃ ج فواکہ۔ یہ فاکہ کا مؤنث ہے۔ ہر قسم کا پھل جس کو کھا کر طبیعت خوش ہو۔ زیر مطالعہ آیت، 57 ۔
Ayah 36:58

سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ Open ayah 36:58 in the Quran reader

رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام کہا گیا ہے

سَلٰمٌ ۣ [سلامتی ہے ] قَوْلًا [قل ہوتے ہوئے ] مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ [ایک رحیم رب سے ] نوٹ۔ 2: آیت 58 میں اس سب سے بڑی سرفرازی کا ذکر ہے، جو اہل جنت کو جنت میں حاصل ہوگی کہ رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام کہلایا جائے گا۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے جنت کے تمام دروازوں سے داخل ہوں گے اور اہل جنت کو اللہ تعالیٰ کا سلام پہنچائیں گے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 36:59

وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 36:59 in the Quran reader

اور اے مجرمو، آج تم چھٹ کر الگ ہو جاؤ

وَامْتَازُوا الْيَوْمَ [اور تم لوگ الگ ہوجاؤ آج کے دن ] اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ [اے جرم کرنے والو ] ۔
Ayah 36:60

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:60 in the Quran reader

آدمؑ کے بچو، کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ [کیا میں نے تاکید نہیں کی تھی تم لوگوں کو ] يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ [اے اولاد آدم (علیہ السلام) ] اَنْ لَّا تَعْبُدُوا [کہ تم لوگ بندگی مت کرنا ] الشَّيْطٰنَ ۚ [شیطان کی ] اِنَّهٗ لَكُمْ [بیشک وہ تمہارے لئے ] عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ [ایک کھلا دشمن ہے ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت 60 سے معلوم ہوا کہ تمام اولاد آدم کو مخاطب کرکے قیامت میں کہا جائے گا کہ کیا دنیا میں تم شیطان کی عبادت کرنے سے منع نہیں کیا تھا۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کفار عموما شیطان کی تو عبادت نہ کرتے، بلکہ بتوں یا دوسری چیزوں کو پوجتے تھے۔ اس لئے ان پر شیطان کی عبادت کا الزام کیسے عائد ہوا۔ جواب یہ ہے کہ کسی کی اطاعت مطلقہ کہ ہر کام میں ہر حال میں اس کا کہنا مانے، اسی کا نام عدت ہے، چونکہ ان لوگوں نے ہمیشہ شیطانی تعلیم ہی کی پیروی کی اس لئے ان کو شیطان کا عابد کہا گیا۔ جیسا کہ حدیث میں اس شخص کو جو مال یا بیوی کی محبت میں آکر ہر وہ کام کرنے لگے جس سے مال بڑھے یا بیوی راضی ہو، اگرچہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو، ایسے شخص کو حدیث میں عبد الدرہم اور عبد الزوجہ کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 36:61

وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 36:61 in the Quran reader

اور میری ہی بندگی کرو، یہ سیدھا راستہ ہے؟

وَّ اَنِ [اور یہ کہ ] اعْبُدُوْنِيْ ڼ [تم لوگ بندگی کرو میری ] ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَــقِيْمٌ [یہ سیدھا راستہ ہے ] ۔
Ayah 36:62

وَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:62 in the Quran reader

مگر اس کے باوجود اس نے تم میں سے ایک گروہ کثیر کو گمراہ کر دیا کیا تم عقل نہیں رکھتے تھے؟

وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ [اور بیشک اس نے گمراہ کیا ہے تم میں سے ] جِبِلًّا كَثِيْرًا ۭ [بہت سی خلقتوں کو ] اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا [تو کیا تم لوگ نہیں تھے ] تَـعْقِلُوْنَ [(کہ) عقل سے کام لیتے ]
Ayah 36:63

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 36:63 in the Quran reader

یہ وہی جہنم ہے جس سے تم کو ڈرایا جاتا رہا تھا

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ [یہ وہ جہنم ہے جس سے ] كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ [تم لوگ ڈرائے جاتے تھے ]
Ayah 36:64

اِصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 36:64 in the Quran reader

جو کفر تم دنیا میں کرتے رہے ہو اُس کی پاداش میں اب اِس کا ایندھن بنو

اِصْلَوْهَا الْيَوْمَ [تم لوگ گرو اس میں آج کے دن ] بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ [بسبب اس کے جو تم لوگ انکار کیا کرتے تھے۔
Ayah 36:65

اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 36:65 in the Quran reader

آج ہم اِن کے منہ بند کیے دیتے ہیں، اِن کے ہاتھ ہم سے بولیں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے کہ یہ دنیا میں کیا کمائی کرتے رہے ہیں

اَلْيَوْمَ نَخْتِمُ [آج کے دن ہم مہر لگا دیں گے ] عَلٰٓي اَفْوَاهِهِمْ [اس کے مونہوں پر ] وَتُكَلِّمُنَآ [اور کلام کریں گے ہم سے ] اَيْدِيْهِمْ [ان کے ہاتھ ] وَتَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ [اور گواہی دیں گے ان کے پاؤں ] بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ [اس کی جو وہ لوگ کمائی کرتے تھے ] نوٹ۔ 2: آیت 65 میں میدان حشر کا نقشہ ہے کہ حساب کتاب کے وقت مشرکین قسمیں کھا کر اپنے شرک وکفر سے مکر جائیں گے اور بعض یہ بھی کہیں گے کہ فرشتوں نے ہمارے نامہء اعامل میں جو کچھ لکھ دیا ہے ہم تو اس سے بری ہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے کہ بول نہ سکیں، اور خود ان ہی کے ہاتھ پاؤں کو بولنے کی صلاحیت دے دیں گے اور وہ ان کے تمام اعمال کی گوا ہیں دیں گے۔ اس آیت میں تو ہاتھ پاؤں کا بولنا مذکور ہے، جبکہ دوسری آیات میں انسان کے کان، آنکھ اور کھال کا بولنا بھی مذکور ہے۔ اور ایک جگہ ہے کہ خود ان کی زبانیں گواہی دیں گی۔ یہ اس کے منافی نہیں کہ ان کے مونہوں پر مہر لگادی جائے گی، کیونکہ مہر لگانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے اختیار سے کچھ نہ بول سکیں گے۔ البتہ ان کی زبان ان کی مرضی کے خلاف چلے گی اور شہادت دے گی۔ (معارف القرآن)
Ayah 36:66

وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:66 in the Quran reader

ہم چاہیں تو اِن کی آنکھیں موند دیں، پھر یہ راستے کی طرف لپک کر دیکھیں، کہاں سے اِنہیں راستہ سجھائی دے گا؟

وَلَوْ نَشَاۗءُ [اور اگر ہم چاہتے ] لَطَمَسْنَا [تو ہم مٹا دیتے ] عَلٰٓي اَعْيُـنِهِمْ [ان کی آنکھوں کو ] فَاسْتَــبَقُوا الصِّرَاطَ [پھر وہ دوڑ لگاتے راستے کے لئے ] فَاَنّٰى [تو کہاں سے ] يُبْصِرُوْنَ [انھیں سجھائی دیتا ]
Ayah 36:67

وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:67 in the Quran reader

ہم چاہیں تو اِنہیں اِن کی جگہ ہی پر اس طرح مسخ کر کے رکھ دیں کہ یہ نہ آگے چل سکیں نہ پیچھے پلٹ سکیں

وَلَوْ نَشَاۗءُ [اور اگر ہم چاہتے ] لَمَسَخْنٰهُمْ [تو ہم ان کے چہرے مہرے بگاڑ دیتے ] عَلٰي مَكَانَـتِهِمْ [ان کے ٹھکانے پر ] فَمَا اسْـتَــطَاعُوْا [تو وہ استطاعت نہ رکھتے ] مُضِيًّا [(آگے) گزرنے کی ] وَّلَا يَرْجِعُوْنَ [اور نہ وہ واپس لوٹتے ] ۔ م س خ (ف) مسخا شکل و صورت بگاڑ دینا۔ عادت و اطوار خراب کردینا ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 67 ۔
Ayah 36:68

وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ١ؕ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:68 in the Quran reader

جس شخص کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں اس کی ساخت کو ہم الٹ ہی دیتے ہیں، کیا (یہ حالات دیکھ کر) انہیں عقل نہیں آتی؟

وَمَنْ [اور وہ ] نُّعَمِّرْهُ [ہم (طویل ) عمر دیتے ہیں جس کو ] [نُنَكِّسْهُ : تو ہم الٹا پھیرتے ہیں اس کو ] [فِي الْخَلْقِ ۭ : پیدائش میں ] اَفَلَا يَعْقِلُوْنَ [تو کیا یہ لوگ عقل استعمال نہیں کرتے ]
Ayah 36:69

وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:69 in the Quran reader

ہم نے اِس (نبی) کو شعر نہیں سکھایا ہے اور نہ شاعری اس کو زیب ہی دیتی ہے یہ تو ایک نصیحت ہے اور صاف پڑھی جانے والی کتاب

وَمَا عَلَّمْنٰهُ [اور ہم نے نہیں سکھایا ان ﷺ کو ] الشِّعْرَ [شعر کہنا ] وَمَا يَنْۢبَغِيْ [اور یہ شایان شان نہیں ہے ] لَهٗ ۭ [ان ﷺ کے لئے ] اِنْ هُوَ اِلَّا [نہیں ہے یہ مگر ] ذِكْرٌ [ایک یاد دہانی ] وَّقُرْاٰنٌ مُّبِيْنٌ [اور ایک واضح قرآن ] ۔
Ayah 36:70

لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 36:70 in the Quran reader

تاکہ وہ ہر اُس شخص کو خبردار کر دے جو زندہ ہو اور انکار کرنے والوں پر حجت قائم ہو جائے

لِّيُنْذِرَ [تاکہ وہ (قرآن) خبردار کرے ] مَنْ كَانَ [اس کو جو ہو ] حَيًّا [زندہ ] وَّيَحِقَّ [اور تاکہ ثابت ہو ] الْقَوْلُ [بات ] عَلَي الْكٰفِرِيْنَ [کافروں پر ] ۔
Ayah 36:71

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَاۤ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ Open ayah 36:71 in the Quran reader

کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے اِن کے لیے مویشی پیدا کیے اور اب یہ ان کے مالک ہیں

اَوَلَمْ يَرَوْا [اور کیا انھوں نے دیکھا ہی نہیں ] اَنَّا خَلَقْنَا [کہ ہم نے پیدا کئے ] لَهُمْ [ان کے لئے ] مِّمَّا [اس میں سے جب پر ] عَمِلَتْ [عمل کیا ] اَيْدِيْنَآ [ہمارے ہاتھوں نے ] اَنْعَامًا [کچھ مویشی ] فَهُمْ لَهَا [تو وہ لوگ ان کے ] مٰلِكُوْنَ [مالک ہونے والے ہیں ] نوٹ۔ 1: الٹا پھیرنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑھاپے میں آدمی کی حالت بچوں کی سی کردیتا ہے۔ اسی طرح وہ چلنے پھرنے سے معذور ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اسے اٹھاتے بٹھاتے اور سہارا دے کر چلاتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے اسے کھلاتے پلاتے ہیں۔ اسی طرح وہ ناسمجھی کی باتیں کرتا ہے جس پر لوگ ہنستے ہیں۔ غرض جس کمزوری کی حالت سے اس نے اس دنیا میں اپنی زندگی کا آغاز کیا تھا اختتام زندگی پر وہ اسی ھالت کو پہنچ جاتا ہے۔ (تفہیم القرآن) نوٹ۔ 2: ہاتھوں کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے بطور استعارہ استعمال ہوا ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ معاذ اللہ وہ ذات پاک جسم رکھتی ہے اور انسانوں کی طرح ہاتھ سے کام کرتی ہے، بلکہ اس سے یہ احساس دلانا مقصود ہے کہ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے خود بنایا ہے، ان کی تخلیق میں کسی دوسرے کا ذرہ برابر دخل نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 36:72

وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:72 in the Quran reader

ہم نے اُنہیں اس طرح اِن کے بس میں کر دیا ہے کہ اُن میں سے کسی پر یہ سوار ہوتے ہیں، کسی کا یہ گوشت کھاتے ہیں

وَذَلَّــلْنٰهَا [اور ہم نے مطیع کیا ان (مویشیوں ) کو ] لَهُمْ [ان کے لئے ] فَمِنْهَا [تو ان میں سے (بعض پر)] رَكُوْبُهُمْ [ان کی سواریاں ہیں ] وَمِنْهَا يَاْكُلُوْنَ [اور ان میں سے وہ کھاتے ہیں ]
Ayah 36:73

وَ لَهُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:73 in the Quran reader

اور اُن کے اندر اِن کے لیے طرح طرح کے فوائد اور مشروبات ہیں پھر کیا یہ شکر گزار نہیں ہوتے؟

وَلَهُمْ فِيْهَا [اور ان کے لئے ان میں ] مَنَافِعُ [فائدے ہیں ] وَمَشَارِبُ ۭ [اور پینے کے مقامات ہیں ] اَفَلَا يَشْكُرُوْنَ [تو کیا یہ لوگ شکر نہیں کریں گے ] ۔
Ayah 36:74

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 36:74 in the Quran reader

یہ سب کچھ ہوتے ہوئے اِنہوں نے اللہ کے سوا دوسرے خدا بنا لیے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ اِن کی مدد کی جائے گی

وَاتَّخَذُوْا [اور انھوں نے بنائے ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [اللہ کے سوا ] اٰلِهَةً [کچھ الٰہ ] لَّعَلَّهُمْ [(کہ) شاید ان کی ] يُنْصَرُوْنَ [مدد کی جائے ] ۔
Ayah 36:75

لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَهُمْ١ۙ وَ هُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ Open ayah 36:75 in the Quran reader

وہ اِن کی کوئی مدد نہیں کر سکتے بلکہ یہ لوگ الٹے اُن کے لیے حاضر باش لشکر بنے ہوئے ہیں

لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ [وہ (الٰہ) استطاعت نہیں رکھتے ] نَصْرَهُمْ ۙ [ان کی مدد کرنے کی ] وَهُمْ لَهُمْ [اور وہ ان کے لئے ] جُنْدٌ [ایک ایسا لشکر ہیں جو ] مُّحْضَرُوْنَ [حاضر کئے گئے ہیں ] ۔
Ayah 36:76

فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 36:76 in the Quran reader

اچھا، جو باتیں یہ بنا رہے ہیں وہ تمہیں رنجیدہ نہ کریں، اِن کی چھپی اور کھلی سب باتوں کو ہم جانتے ہیں

فَلَا يَحْزُنْكَ [تو غمگین نہ کرے آپ ﷺ کو ] قَوْلُهُمْ ۘ [ان کی بات ] اِنَّا نَعْلَمُ [بیشک ہم جانتے ہیں ] مَا يُسِرُّوْنَ [اس کو جو یہ لوگ چھپاتے ہیں ] وَمَا يُعْلِنُوْنَ [اور اس کو جو یہ لوگ اعلان کرتے ہیں ] ۔
Ayah 36:77

اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 36:77 in the Quran reader

کیا انسان دیکھتا نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ صریح جھگڑالو بن کر کھڑا ہو گیا؟

اَوَلَمْ يَرَ الْاِنْسَانُ [اور کیا دیکھا ہی نہیں انسان نے ] اَنَّا خَلَقْنٰهُ [کہ ہم نے پیدا کیا اس کو ] مِنْ نُّطْفَةٍ [ایک بوند سے ] فَاِذَا هُوَ [پھر تب ہی رہ ] خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ: کھلم کھلا جھگڑا بن کر کھڑا ہوگیا ]
Ayah 36:78

وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ١ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ Open ayah 36:78 in the Quran reader

اب وہ ہم پر مثالیں چسپاں کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے کہتا ہے "کون ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا جبکہ یہ بوسیدہ ہو چکی ہوں؟"

وَضَرَبَ لَنَا [اور اس نے بیان کیا ہمارے لئے ] مَثَلًا [ایک مثال ] وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ ۭ [اور بھول کیا اپنی پیدائش کو ] قَالَ [اس نے کہا ] مَنْ يُّـحْيِ [کوئی زندہ کرے گا ] الْعِظَامَ [ہڈیوں کو ] وَهِىَ [اس حال میں کہ وہ ] رَمِيْمٌ [بوسیدہ ہیں ] ۔ ر م م (ض) رما کسی چیز کا بوسیدہ ہونا۔ رمیم صفت ہے ۔ بوسیدہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 78
Ayah 36:79

قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُۙ Open ayah 36:79 in the Quran reader

اس سے کہو، اِنہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا تھا، اور وہ تخلیق کا ہر کام جانتا ہے

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] يُحْيِيْهَا الَّذِيْٓ [وہ زندہ کرے گا ان کو جس نے ] اَنْشَاَهَآ [بنایا ان کو ] اَوَّلَ مَرَّةٍ ۭ [پہلی مرتبہ ] وَهُوَ [اور وہ ] بِكُلِّ خَلْقٍ [پیدا کرنے کے ہر ایک (طریقہ) کو ] عَلِـيْمُۨ [ہر حال میں جاننے والا ہے ]
Ayah 36:80

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنْتُمْ مِّنْهُ تُوْقِدُوْنَ Open ayah 36:80 in the Quran reader

وہی جس نے تمہارے لیے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کر دی اور تم اس سے اپنے چولہے روشن کرتے ہو

الَّذِيْ [وہ جس نے ] جَعَلَ لَكُمْ [بنایا تمہارے لئے ] مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ [ہرے (بھرے) درخت میں سے ] نَارًا [ایک آگ ] فَاِذَآ اَنْتُمْ [پھر تب ہی تم لوگ ] مِّنْهُ [اس سے ] تُوْقِدُوْنَ [آگ بھڑکاتے ہو ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت 80 کا یا تو یہ مطلب ہے کہ اس نے ہرے بھرے درختون میں وہ آتش گیر مادہ رکھا ہے جس کی بدولت تم آگ جلاتے ہو۔ یا پھر یہ اشارہ ہے مرخ اور عفار نامی ان دو درختوں کی طرف جن کی ہری بھری ٹہنیوں کو لے کر اہل عرب ایک دوسرے پر مارتے تھے تو ان سے آگ جھڑنے لگی تھی۔ قدیم زمانے میں عرب کے بدو آگ جلانے کے لئے یہی چقماق استعمال کرتے تھے اور ممکن ہے آج بھی کرتے ہوں۔