43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 43:41

فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَۙ Open ayah 43:41 in the Quran reader

اب تو ہمیں اِن کو سزا دینی ہے خواہ تمہیں دنیا سے اٹھا لیں

فَاِمَّا [ پھر یا تو ] نَذْهَبَنَّ بِكَ [ ہم لے ہی جائیں آپ کو ] [فَاِنَّا مِنْهُمْ : پھر بیشک ہم ان سے ] مُّنْتَقِمُوْنَ [انتقام لینے والے ہیں ] نوٹ۔ 1: ان آیات میں بالاجمال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سرگزشت بیان ہوئی ہے، جس سے مقصود اس انتقام الہی کی تاریخی شہادت پیش کرنا ہے جس کا ذکر آیات 41 ۔ 42 میں ہوا ہے کہ رسول کی تکذیب کے بعد اس کی قوم کا فیصلہ لازما ہوجاتا ہے ، خواہ رسول کی زندگی میں ہو یا اس کی ہجرت یا موت کے بعد ۔ اللہ کا یہ انتقام اس کی ایک مقررہ سنت ہے جس کی گرفت سے کوئی قوم بھی نہیں بچی اس کے علاوہ ان آیات میں اس حقیقت کی عملی مثال بھی ہے جو آیت ۔ 40 ۔ میں بیان ہوئی کہ جو لوگ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں برباد کرکے اور جان بوجھ کر گمراہی کی راہ اختیار کرلیتے ہیں ان کو کسی نشانی سے بھی ہدایت حاصل نہیں ہوتی ۔ وہ بڑے سے بڑے معجزات دیکھنے کے بعد بھی اندھے ہی بنے رہتے ہیں ۔ (تدبر قرآن)
Ayah 43:42

اَوْ نُرِیَنَّكَ الَّذِیْ وَعَدْنٰهُمْ فَاِنَّا عَلَیْهِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ Open ayah 43:42 in the Quran reader

یا تم کو آنکھوں سے اِن کا وہ انجام دکھا دیں جس کا ہم نے اِن سے وعدہ کیا ہے، ہمیں اِن پر پوری قدرت حاصل ہے

اَوْ نُرِيَنَّكَ [ یا ہم دکھا ہی دیں آپ کو ] الَّذِيْ [ وہ جو ] وَعَدْنٰهُمْ [ ہم نے وعدہ کیا ان سے ] فَاِنَّا عَلَيْهِمْ [ تو بیشک ہم ان پر ] مُقْتَدِرُوْنَ [ پوری طرح قابو یافتہ ہیں ]
Ayah 43:43

فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِیْۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 43:43 in the Quran reader

تم بہر حال اُس کتاب کو مضبوطی سے تھامے رہو جو وحی کے ذریعہ سے تمہارے پاس بھیجی گئی ہے، یقیناً تم سیدھے راستے پر ہو

فَاسْتَمْسِكْ [ تو آپ چمٹے رہیں ] بِالَّذِيْٓ [ اس سے جو ] اُوْحِيَ اِلَيْكَ ۚ [ وحی کیا گیا آپ کی طرف ] اِنَّكَ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ [ یقینا آپ ایک سیدھی راہ پر ہیں ]
Ayah 43:44

وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ١ۚ وَ سَوْفَ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:44 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے ایک بہت بڑا شرف ہے اور عنقریب تم لوگوں کو اس کی جواب دہی کرنی ہو گی

وَاِنَّهٗ [ اور بیشک یہ (قرآن ) ] لَذِكْرٌ [ یقینا ایک یاد دہانی ہے ] لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۚ [ آپ کے لئے اور آپ کی قوم کے لئے ] وَسَوْفَ [اور عن قریب ] تُسْـَٔــلُوْنَ [ تم سب سے پوچھ گچھ کی جائے گی ]
Ayah 43:45

وَ سْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ۠ Open ayah 43:45 in the Quran reader

تم سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے تھے اُن سب سے پوچھ دیکھو، کیا ہم نے خدائے رحمان کے سوا کچھ دوسرے معبود بھی مقرر کیے تھے کہ اُن کی بندگی کی جائے؟

وَسْـَٔــلْ [ اور آپ پوچھ لیں ] مَنْ اَرْسَلْنَا [ ان سے جن کو ہم نے بھیجا ] مِنْ قَبْلِكَ [ آپ سے پہلے ] مِنْ رُّسُلِنَآ [ ہمارے رسولوں میں سے ] اَجَعَلْنَا [ کیا ہم نے (کبھی) بنائے ] مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ [ رحمان کے علاوہ ] اٰلِهَةً [ کچھ ایسے الہ جن کی ] يُّعْبَدُوْنَ [ بندگی کی جائے ]
Ayah 43:46

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 43:46 in the Quran reader

ہم نے موسیٰؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اُس کے اعیان سلطنت کے پاس بھیجا، اور اس نے جا کر کہا کہ میں رب العالمین کا رسول ہوں

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى [ اور یقینا ہم بھیج چکے موسیٰ کو ] بِاٰيٰتِنَآ [اپنی نشانیوں کے ساتھ ] اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕهٖ [ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف ] فَقَالَ اِنِّىْ [ تو انہوں نے کہا کہ میں ] رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں کے پروردگار کا رسول ہوں ]
Ayah 43:47

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَضْحَكُوْنَ Open ayah 43:47 in the Quran reader

پھر جب اُس نے ہماری نشانیاں ان کے سامنے پیش کیں تو وہ ٹھٹھے مارنے لگے

فَلَمَّا جَاۗءَهُمْ بِاٰيٰتِنَآ [ پھر جب وہ آئے ان کے پاس ہماری نشانیوں کے ساتھ ] اِذَا هُمْ [ جب ہی وہ سب ] مِّنْهَا يَضْحَكُوْنَ [ ان پر ہنستے تھے ]
Ayah 43:48

وَ مَا نُرِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا١٘ وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:48 in the Quran reader

ہم ایک پر ایک ایسی نشانی اُن کو دکھاتے چلے گئے جو پہلی سے بڑھ چڑھ کر تھی، اور ہم نے اُن کو عذاب میں دھر لیا تاکہ وہ اپنی روش سے باز آئیں

وَمَا نُرِيْهِمْ [ اور ہم نہیں دکھا تے تھے ان لوگوں کو ] مِّنْ اٰيَةٍ [ کوئی بھی نشانی ] اِلَّا [ سوائے اس کے کہ ] هِىَ اَكْبَرُ [ وہ زیادہ بڑی ہوتی تھی ] مِنْ اُخْتِهَا ۡ [اپنی بہن سے ] وَاَخَذْنٰهُمْ [ اور ہم نے پکڑا ان سب کو ] بِالْعَذَابِ [ عذاب سے ] لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ [شاید کہ وہ لوگ رجوع کریں ]
Ayah 43:49

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 43:49 in the Quran reader

ہر عذاب کے موقع پر وہ کہتے، اے ساحر، اپنے رب کی طرف سے جو منصب تجھے حاصل ہے اُس کی بنا پر ہمارے لیے اُس سے دعا کر، ہم ضرور راہ راست پر آ جائیں گے

وَقَالُوْا يٰٓاَيُّهَ السّٰحِرُ [ اور ان لوگوں نے کہا اے جادوگر ] ادْعُ لَنَا [تو پکار (دعا کر) ہمارے لیے ] رَبَّكَ [ اپنے رب کو ] بِمَا [ اس کے ساتھ جو ] عَهِدَ عِنْدَكَ ۚ [ اس نے عہد لیا تجھ سے ] اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ [ بیشک ہم یقینا ہدایت پانے والے ہیں ]
Ayah 43:50

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 43:50 in the Quran reader

مگر جوں ہی کہ ہم ان پر سے عذاب ہٹا دیتے وہ اپنی بات سے پھر جاتے تھے

فَلَمَّا كَشَفْنَا [ پھر جب ہم کھول دیتے ] عَنْهُمُ الْعَذَابَ [ ان سے عذاب کو ] اِذَا هُمْ [ جب ہی وہ لوگ ] يَنْكُثُوْنَ [ عہد شکنی کرتے ]
Ayah 43:51

وَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِهٖ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْكُ مِصْرَ وَ هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ١ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَؕ Open ayah 43:51 in the Quran reader

ایک روز فرعون نے اپنی قوم کے درمیان پکار کر کہا، "لوگو، کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے، اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں؟ کیا تم لوگوں کو نظر نہیں آتا؟

وَنَادٰى فِرْعَوْنُ [ اور ندا دی فرعون نے ] فِيْ قَوْمِهٖ [ اپنی قوم میں ] قَالَ يٰقَوْمِ [ اس نے کہا اے میری قوم ] اَلَيْسَ لِيْ [ کیا نہیں ہے میرے لئے ] مُلْكُ مِصْرَ [ مصر کی حکومت ] وَهٰذِهِ الْاَنْهٰرُ [ اور یہ نہریں ] تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِيْ ۚ [ جو بہتی ہیں میرے (محل کے ) نیچے سے ] اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ [ تو کیا تم لوگوں کو سجھائی نہیں دیتا ]
Ayah 43:52

اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ١ۙ۬ وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ Open ayah 43:52 in the Quran reader

میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ذلیل و حقیر ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کر سکتا؟

اَمْ اَنَا خَيْرٌ [ (کیا وہ بہتر ہے ) یا میں بہتر ہوں ] مِّنْ ھٰذَا الَّذِيْ [ اس سے جو (کہ ) هُوَ مَهِيْنٌ ڏ [ وہی بےوقعت ہے ] وَّلَا يَكَادُ يُبِيْنُ [ اور لگتا نہیں کہ وہ واضح کرے ]
Ayah 43:53

فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓئِكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ Open ayah 43:53 in the Quran reader

کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے؟ یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی اردلی میں نہ آیا؟"

فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ [ تو کیوں نہیں ڈالے (اتارے ) گئے اس پر ] اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ [ کچھ کنگن سونے میں سے ] اَوْ جَاۗءَ مَعَهُ [ یا (کیوں نہیں ) آئے اس کے ساتھ ] الْمَلٰۗىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ [فرشتے حاضر رہنے والے ہوتے ہوئے ] نوٹ ۔ 2 قدیم زمانے میں جب کسی شخص کو کسی علاقہ کا گورنر یا کسی غیر ملک کا سفیر مقرر کیا جاتا تھا تو بادشاہ کی طرف سے اسے خلعت عطا ہوتی تھی جس میں سونے کے کڑے یا کنگن بھی شامل ہوتے تھے ۔ اور اس کے ساتھ سپاہیوں ، چوبداروں اور خادموں کا ایک دستہ بھی ہوتا تھا تاکہ اس کا دبدبہ قائم ہو اور اس بادشاہ کی شان و شوکت کا اظہار ہو جس کی طرف سے وہ مامور ہوکر آیا ہے ۔ فرعون کا مطلب یہ تھا کہ اگر واقعی موسیٰ کو آسمان کے بادشاہ نے اپنی جانب سے اپنا سفیر بنا کر بھیجا تھا تو اسے خلعت شاہی ملا ہوتا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اس کے ساتھ آئے ہوتے ۔ یہ کیا بات ہوئی کہ ایک ملنگ ہاتھ میں لاٹھی لئے آکھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میں رب العالمین کا رسول ہوں ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 43:54

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 43:54 in the Quran reader

اُس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انہوں نے اس کی اطاعت کی، در حقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ

فَاسْتَخَفَّ [ تو اس نے مت مار دی ] قَوْمَهٗ [ اپنی قوم کی ] فَاَطَاعُوْهُ ۭ [ پھر انھوں نے اطاعت کی اس کی ] اِنَّهُمْ كَانُوْا [ بیشک وہ لوگ تھے ہی ] قَوْمًا فٰسِقِيْنَ [ایک نافرمانی کرنے والی قوم ]
Ayah 43:55

فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 43:55 in the Quran reader

آخر کار جب انہوں نے ہمیں غضب ناک کر دیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کو اکٹھا غرق کر دیا

فَلَمَّآ اٰسَفُوْنَا [ پھر جب انہوں نے غصہ دلایا ہم کو ] انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ [ تو ہم نے انتقام لیا ان سے ] فَاَغْرَقْنٰهُمْ [ پھر ہم نے غرق کردیا ان کو ] اَجْمَعِيْنَ [ سب کے سب کو ]
Ayah 43:56

فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 43:56 in the Quran reader

اور بعد والوں کے لیے پیش رو اور نمونہ عبرت بنا کر رکھ دیا

فَجَعَلْنٰهُمْ [پھر ہم نے بنایا ان کو ] سَلَفًا [ ایک گزری ہوئی چیز ] وَّمَثَلًا [اور ایک مثال ] لِّلْاٰخِرِيْنَ [ آخری لوگوں کے لئے ]
Ayah 43:57

وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ یَصِدُّوْنَ Open ayah 43:57 in the Quran reader

اور جونہی کہ ابن مریم کی مثال دی گئی، تمہاری قوم کے لوگوں نے اس پر غل مچا دیا

وَلَمَّا ضُرِبَ [ اور جب بیان کیا جاتا ہے ] ابْنُ مَرْيَمَ [ بی بی مریم کے بیٹے کا ] مَثَلًا [بطور مثال کے ] اِذَا قَوْمُكَ [ تب ہی آپ کی قوم ] مِنْهُ يَصِدُّوْنَ [ اس سے شور مچاتی ہے ] نوٹ۔ 1 : ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے قریش کے لوگو ! اللہ کے سوا جس کسی کی عبادت کی جاتی ہے اس میں کوئی خبر نہیں ۔ اس پر مشرکین نے کہا کہ نصاری حضرت عیسیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور آپ خود مانتے ہیں کہ وہ اللہ کے نیک بندے اور اس کے نبی تھے ۔ اسی طرح جب آیت ۔ 21 :98 نازل ہوئی کہ بلاشبہ اے مشرکو ! تم اور جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ جن ہم کا ایندھن بنیں گے ، تو ایک کافر نے کہا کہ نصاری حضرت مسیح کی عبادت کرتے ہیں اور یہود حضرت عزیر کی تو کیا یہ دونوں بھی جہنم کا ایندھن بنیں گے ۔ اس پر مشرکین بہت خوش ہوئے ۔ (اسی طرح مشرکین کا کہنا یہ بھی تھا کہ حضرت عیسیٰ تو بہرحال ابن مریم ہیں جبکہ ہمارے معبود تو فرشتے ہیں ۔ (تدبر قرآن) مشرکین کے اس طرح کے اعتراضات کا جواب ان آیات میں دیا گیا ہے ۔ ان سے بات واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا تھا کہ اللہ کے سواجن کو لوگوں نے معبود بنارکھا ہے وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے یا حضور نے جو فرمایا تھا کہ ان میں خیر نہیں تو اس سے مراد وہ معبود تھے جو یا تو بےجان ہوں جیسے پتھر کے بت ، یا جاندار ہوں مگر خود اپنی عبادت کا حکم دیتے ہوں یا اسے پسند کرتے ہوں جیسے شیاطین ، اور نمرود وغیر ہ ۔ حضرت عیسیٰ ان میں کیسے داخل ہوسکتے ہیں جبکہ انھوں نے ہمیشہ توحید کی تعلیم دی تھی ۔ (معارف القرآن) نوٹ۔ 2 : حضرت عیسیٰ کا قیامت کے لئے ایک علم ہونے کی دو تفسیریں کی گئی ہیں ۔ ایک یہ کہ ان کا بغیر باپ کے پیدا ہونا اور مردوں کو زندہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ مردوں کو زندہ کرنا اللہ تعالیٰ کیلئے کچھ مشکل نہیں ہے لیکن اکثر مفسرین نے اس آیت کا یہ مطلب بتایا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا دوبارہ آسمان سے نازل ہونا قیامت کی علامت ہے ۔ چناچہ آپ کا آخری زمانے میں دوبارہ تشریف لانا احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 43:58

وَ قَالُوْۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَیْرٌ اَمْ هُوَ١ؕ مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ Open ayah 43:58 in the Quran reader

اور لگے کہنے کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ؟ یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لیے لائے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ

وَقَالُوْٓا [اور وہ لوگ کہتے ہیں ] ءَاٰلِهَتُنَا خَيْرٌ [کیا ہمارے الہ بہتر ہیں ] اَمْ هُوَ ۭ [ یا وہ ( عیسیٰ ) ] مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ [وہ لوگ نہیں بیان کرتے اس (سوال ) کو آپ سے ] اِلَّا جَدَلًا ۭ [ مگر مناظرہ کرنے کے لئے ] بَلْ هُمْ قَوْمٌ [ بلکہ یہ لوگ ایک ایسی قوم ہیں ] خَصِمُوْنَ [جو جھگڑالو ہے ]
Ayah 43:59

اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْهِ وَ جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 43:59 in the Quran reader

ابن مریمؑ اِس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا اور بنی اسرائیل کے لیے اپنی قدرت کا ایک نمونہ بنا دیا

اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ [ نہیں ہے وہ مگر ایک بندہ ] اَنْعَمْنَا عَلَيْهِ [ ہم نے انعام کیا جس پر ] وَجَعَلْنٰهُ [ اور ہم نے بنایا اس کو ] مَثَلًا [ ایک مثال (نمونہ اپنی قدرت کا ) ] لِّبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ بنی اسرائیل کے لئے ]
Ayah 43:60

وَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰٓئِكَةً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ Open ayah 43:60 in the Quran reader

ہم چاہیں تو تم سے فرشتے پیدا کر دیں جو زمین میں تمہارے جانشین ہوں

وَلَوْ نَشَاۗءُ [ اور اگر ہم چاہتے ] لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ [ تو ہم ضرور بناتے تم میں سے ] مَّلٰۗىِٕكَةً [ کچھ ایسے فرشتے جو ] فِي الْاَرْضِ يَخْلُفُوْنَ [ زمین میں جانشین ہوتے ]
Ayah 43:61

وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:61 in the Quran reader

اور وہ دراصل قیامت کی ایک نشانی ہے، پس تم اُس میں شک نہ کرو اور میری بات مان لو، یہی سیدھا راستہ ہے

وَاِنَّهٗ [ اور (آپ کہیے ) بیشک وہ ( عیسیٰ )] لَعِلْمٌ [ یقینا ایک علم (خبر ) ہیں ] لِّلسَّاعَةِ [ اس گھڑی (قیامت ) کے لئے ] فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا [ تو تم لوگ ہرگز شک مت کرو اس میں ] وَاتَّبِعُوْنِ ۭ [ اور تم لوگ پیروی کرو میری ] ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ [ یہ ایک سیدھا راستہ ہے ]
Ayah 43:62

وَ لَا یَصُدَّنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:62 in the Quran reader

ایسا نہ ہو شیطان تم کو اُس سے روک دے کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

وَلَا يَصُدَّنَّكُمُ [ اور ہرگز نہ روکے تم لوگوں کو ] الشَّيْطٰنُ ۚ [ شیطان ] اِنَّهٗ لَكُمْ [ بیشک وہ تمہارے لئے ] عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ [ ایک کھلا دشمن ہے ]
Ayah 43:63

وَ لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 43:63 in the Quran reader

اور جب عیسیٰؑ صریح نشانیاں لیے ہوئے آیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ "میں تم لوگوں کے پاس حکمت لے کر آیا ہوں، اور اس لیے آیا ہوں کہ تم پر بعض اُن باتوں کی حقیقت کھول دوں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو، لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

وَلَمَّا جَاۗءَ عِيْسٰى [ اور جب آئے عیسیٰ ] بِالْبَيِّنٰتِ [ واضح (نشانیوں) کے ساتھ ] قَالَ [ تو انہوں نے کہا ] قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ [ میں لایا ہوں تم لوگوں کے پاس حکمت ] وَلِاُبَيِّنَ لَكُمْ [ اور تاکہ میں واضح کروں تمہارے لئے ] بَعْضَ الَّذِيْ [ اس کے بعض کو ] تَخْتَلِفُوْنَ فِيْهِ ۚ [ تم لوگ اختلاف کرتے ہو جس میں ] فَاتَّقُوا اللّٰهَ [ تو تقوی اختیار کرو اللہ کا ] وَاَطِيْعُوْنِ [ اور اطاعت کرو میری ]
Ayah 43:64

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:64 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی اُسی کی تم عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے"

اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] هُوَ رَبِّيْ وَرَبُّكُمْ [ وہی میرا رب ہے اور تم سب کا رب ہے ] فَاعْبُدُوْهُ ۭ [ تو تم لوگ بندگی کرو اس کی ] ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ [ یہ ایک سیدھا راستہ ہے ]
Ayah 43:65

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 43:65 in the Quran reader

مگر (اُس کی اِس صاف تعلیم کے باوجود) گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا، پس تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے ظلم کیا ایک دردناک دن کے عذاب سے

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ [ پھر اختلاف کیا گروہوں نے ] مِنْۢ بَيْنِهِمْ ۚ [ ان کے مابین سے ] فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ [ تو تباہی ہے ان کے لئے جنھوں نے ] ظَلَمُوْا [ظلم کیا ] مِنْ عَذَابِ يَوْمٍ اَلِيْمٍ [ ایک دردناک دن کے عذاب سے ]
Ayah 43:66

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 43:66 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اب بس اِسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک اِن پر قیامت آ جائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو؟

هَلْ يَنْظُرُوْنَ [ وہ لوگ کیا انتظار کرتے ہیں ] اِلَّا السَّاعَةَ [ سوائے اس گھڑی (قیامت ) کے ] اَنْ تَاْتِيَهُمْ [ کہ وہ پہنچے ان کے پاس ] بَغْتَةً [ بےسان و گمان ] وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ [ اس حال میں کہ وہ لوگ شعور نہ رکھتے ہوں ] ک و ب : (ن) کو با ۔ بےدستہ کے کوزہ سے پینا ۔ کو ب ۔ ج : اکواب ، بےدستے کا پیالہ ۔ آبخورہ ۔ جام ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 71 ۔
Ayah 43:67

اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠ Open ayah 43:67 in the Quran reader

وہ دن جب آئے گا تو متقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے

اَلْاَخِلَّاۗءُ [ سارے جگری دوست ] يَوْمَىِٕذٍۢ [ اس دن ] بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ [ ان کا کوئی کسی کے لئے ] عَدُوٌّ [ دشمن ہواگا ] اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ [ سوائے پرہیزگاروں کے ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 67 ۔ میں یہ بات کھول کر بتادی کہ یہ دوستانہ تعلقات جن پر انسان دنیا میں ناز کرتا ہے اور جن کی خاطر حلال و حرام ایک کر ڈالتا ہے ، قیامت کے روز نہ صرف یہ کہ کچھ کام نہ آئیں گے بلکہ عداوت میں تبدیل ہوجائیں گے ۔ اسی لئے دنیا اور آخرت دونوں کے لحاظ سے بہترین دوستی وہ ہے جو اللہ کیلئے ہو ۔ جن دو مسلمانوں میں صرف اللہ کے لئے محبت ہوتی ہے ، احادیث میں ان کے بڑے فضائل وارد ہوئے ہیں جن میں سے ایک یہ کہ میدان حشر میں یہ لوگ عرش کے سائے تلے ہوں گے اور اللہ کے لئے محبت کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے سے اس بناء پر تعلق ہو کہ دین کا سچا پیرو ہے ۔ (معارف القرآن ) یہ مضمون قرآن مجید میں بار بار جگہ جگہ (مختلف پیرائے میں ) بیان کیا گیا ہے تاکہ ہر شخص اسی دنیا میں اچھی طرح سوچ لے کہ کن لوگوں کا ساتھ دینا اس کیلئے مفید ہے اور کن کا ساتھ تباہ کن ہے (تفہیم القرآن )
Ayah 43:68

یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 43:68 in the Quran reader

اُس روز اُن لوگوں سے جو ہماری آیات پر ایمان لائے تھے اور مطیع فرمان بن کر رہے تھے

يٰعِبَادِ [اے میرے بندو ] لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمُ [ کوئی خوف نہیں تم لوگوں پر ] الْيَوْمَ [ آج کے دن ] وَلَآ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ [ اور نہ تم لوگ غمگین ہوگے ]
Ayah 43:69

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 43:69 in the Quran reader

کہا جائے گا کہ "اے میرے بندو، آج تمہارے لیے کوئی خوف نہیں اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہوگا

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ جو لوگ ایمان لائے ] بِاٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں پر ] وَكَانُوْا مُسْلِمِيْنَ [اور وہ لوگ تھے فرمانبرداری کرنے والے ]
Ayah 43:70

اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ Open ayah 43:70 in the Quran reader

داخل ہو جاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں، تمہیں خوش کر دیا جائے گا"

اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ تم لوگ داخل ہو اس جنت میں ] اَنْتُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ [ تم اور (تمہارے ہم عقیدہ ) تمہاری بیویاں ] تُحْبَرُوْنَ [ تمہاری آو بھگت کی جائے گی ] نوٹ ۔ 2 آیت ۔ 70 ۔ میں ازواج کا لفظ استعمال ہوا ہے جو بیویوں کے لئے بھی استعمال ہوسکتا ہے اور ایسے لوگوں کے لیے بھی جو کسی کے ہم مشرب ، ہم جھولی اور ہم جماعت ہوں ، یہ وسیع المعنی لفظ اسی لیے استعمال کیا گیا ہے تاکہ اس کے مفہوم میں دونوں داخل ہوجائیں ۔ اہل ایمان کی مومن بیویاں بھی ان کے ساتھ ہوں گی اور ان کے مومن دوست بھی جنت میں ان کے رفیق ہوں گے ۔ (تفیہم القرآن ) اس آیت میں ازواج کے ترجمہ کے لیے ہم نے عقیدہ کا لفظ اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے اختیار کیا ہے کہ جن مومنوں کی بیویاں بھی اللہ کی نیک بندیاں ہوں گی ، وہ تو جنت میں جائیں گی ۔ لیکن جن مومنوں کی بیویوں کے لچھن اچھے نہیں ہوں گے وہ جنت میں نہیں جائیں گی بلکہ ان کو دوزخ میں داخل کیا جائے گا ۔ جیسے حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیویاں ، جن سے کیا جائے گا کہ تم دونوں داخل ہو آگ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ (التحریم ۔ 10)
Ayah 43:71

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّ اَكْوَابٍ١ۚ وَ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْهِ الْاَنْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْیُنُ١ۚ وَ اَنْتُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 43:71 in the Quran reader

اُن کے آگے سونے کے تھال اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ہر من بھاتی اور نگاہوں کو لذت دینے والی چیز وہاں موجود ہو گی ان سے کہا جائے گا، "تم اب یہاں ہمیشہ رہو گے

يُطَافُ عَلَيْهِمْ [ گردش میں لائی جائیں گی ان پر ] بِصِحَافٍ [ رکابیاں ] مِّنْ ذَهَبٍ [ سونے میں سے ] وَّاَكْوَابٍ ۚ [اور جام ] وَفِيْهَا مَا [ اور اس میں وہ ہے ] تَشْتَهِيْهِ [ خواہش کریں گی جس کی ] الْاَنْفُسُ [ جانیں ] وَتَلَذُّ [اور مزے دار ہوجائیں گی (جس سے ) ] الْاَعْيُنُ ۚ [ آنکھیں ] وَاَنْتُمْ فِيْهَا [ اور تم لوگ اس میں ] خٰلِدُوْنَ [ ہمیشہ رہنے والے ہو ]
Ayah 43:72

وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 43:72 in the Quran reader

تم اِس جنت کے وارث اپنے اُن اعمال کی وجہ سے ہوئے ہو جو تم دنیا میں کرتے رہے

وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِيْٓ [ اور یہ وہ جنت ہے ] اُوْرِثْتُمُوْهَا [ تمہیں وارث بنایا گیا جس کا ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [ تم لوگ عمل کرتے تھے ]
Ayah 43:73

لَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 43:73 in the Quran reader

تمہارے لیے یہاں بکثرت فواکہ موجود ہیں جنہیں تم کھاؤ گے"

لَكُمْ فِيْهَا [ تمہارے لئے اس میں ] فَاكِهَةٌ كَثِيْرَةٌ [ بہت سارا پھل ہے ] مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ [ جس میں سے تم لوگ کھاؤگے ]
Ayah 43:74

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚۖ Open ayah 43:74 in the Quran reader

رہے مجرمین، تو وہ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے

اِنَّ الْمُجْرِمِيْنَ [ بیشک مجرم لوگ ] فِيْ عَذَابِ جَهَنَّمَ [ جہنم کے عذاب میں ] خٰلِدُوْنَ [ ہمیشہ رہنے والے ہیں ] نوٹ ۔ 1 مجرمین پر عذاب اس طرح مسلط ہوگا کہ اس سے نجات پانا تو درکنار ، کبھی عارضی اور وقتی طور پر بھی ، نہ تو وہ ٹالا جائے گا اور نہ ہی اس میں کوئی تخفیف ہوگی ۔ آخری درجے میں یہ موہوم امید بھی کبھی سہارا بن جاتی ہے کہ شاید اس عذاب سے کبھی رہائی مل جائے یا کبھی اس میں کوئی تخفیف ہی ہوجائے لیکن ان بدبختوں کے لئے اس طرح کا کوئی موہوم سہارا بھی نہ ہوگا اپنی ابدی مایوسی کی وجہ سے وہ دوزخ کے داروغہ سے کہیں گے کہ اے مالک ، اگر ہمارے لیے کسی رحم کی کوئی گنجائش نہیں رہی تو اپنے رب سے ہمارے لئے درخواست کرو کہ وہ ہمارا خاتمہ کردے ۔ وہ جواب دے گا کہ تمہارا خاتمہ نہیں کیا جائے گا بلکہ تم نے اسی حال میں پڑے رہنا ہے ۔ مایوس کے لئے آخری سہارا موت کا ہوتا ہے لیکن یہ لوگ اس سہارے سے بھی محروم ہوں گے اور یہ ان کی سب سے بڑی محرومی ہوگی ( تدبر قرآن)
Ayah 43:75

لَا یُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَ هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَۚ Open ayah 43:75 in the Quran reader

کبھی اُن کے عذاب میں کمی نہ ہو گی، اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے

لَا يُفَتَّرُ عَنْهُمْ [ اس (عذاب ) کو ہلکا نہیں کیا جائے گا ان سے ] وَهُمْ فِيْهِ [ اور وہ لوگ اس میں ] مُبْلِسُوْنَ [ شدید مایوس و غمگین ہونے والے ہیں ]
Ayah 43:76

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْا هُمُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 43:76 in the Quran reader

ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے رہے

وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ [ اور ہم نے ظلم نہیں کیا ان لوگوں پر ] وَلٰكِنْ كَانُوْا هُمُ [ اور لیکن وہ لوگ ہی تھے ] [الظّٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والے ]
Ayah 43:77

وَ نَادَوْا یٰمٰلِكُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّكَ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ Open ayah 43:77 in the Quran reader

وہ پکاریں گے، "اے مالک، تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے تو اچھا ہے" وہ جواب دے گا، "تم یوں ہی پڑے رہو گے

وَنَادَوْا [ اور وہ لوگ پکاریں گے ] يٰمٰلِكُ [ اے مالک ] لِيَقْضِ عَلَيْنَا [ چاہیے کہ کام تمام کرے ہمارا ] رَبُّكَ ۭ [ تیرا رب ] قَالَ [ وہ (فرشتہ مالک ) کہے گا ] اِنَّكُمْ [ یقینا تم لوگ ] مّٰكِثُوْنَ [ ٹھہرنے والے ہو ]
Ayah 43:78

لَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 43:78 in the Quran reader

ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے مگر تم میں سے اکثر کو حق ہی ناگوار تھا"

لَقَدْ جِئْنٰكُمْ [ بیشک ہم لاچکے تمہارے پاس ] بِالْحَقِّ [ حق کو ] وَلٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ [ اور لیکن تم لوگوں کے اکثر ] لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ [ حق سے کراہیت کرنے والے ہو ]
Ayah 43:79

اَمْ اَبْرَمُوْۤا اَمْرًا فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَۚ Open ayah 43:79 in the Quran reader

کیا اِن لوگوں نے کوئی اقدام کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے؟ اچھا تو ہم بھی پھر ایک فیصلہ کیے لیتے ہیں

اَمْ اَبْرَمُوْٓا [ یا ان لوگوں نے عزم مصمم کیا ] اَمْرًا [ ایک معاملہ میں ] فَاِنَّا [ تو یقینا ہم (بھی) ] مُبْرِمُوْنَ [ مصمم عزم کرنے والے ہیں ] ب ر م : (ن) برما ، رسی کو مضبوط کرنا ، کام پختہ کرنا ۔ بات طے کرنا ۔ (افعال ) ابراما ۔ ثلاثی مجرد کا ہم معنی ہے۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 79 ۔ مبرم اسم الفاعل ہے۔ بات طے کرنے والا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 79 ۔ نوٹ۔ 2: آیت ۔ 79 ۔ میں قریش کو فیصلہ کن عذاب کی وارننگ دی ہے کہ اگر انہوں نے قرآن اور رسول کی تکذیب کا فیصلہ کرلیا ہے تو یاد رکھیں کہ اس کے بعد اپنی سنت کے مطابق ہم بھی ان کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کرلیں گے ۔ (تدبر قرآن )
Ayah 43:80

اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ١ؕ بَلٰى وَ رُسُلُنَا لَدَیْهِمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 43:80 in the Quran reader

کیا اِنہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم اِن کی راز کی باتیں اور اِن کی سرگوشیاں سنتے نہیں ہیں؟ ہم سب کچھ سن رہے ہیں اور ہمارے فرشتے اِن کے پاس ہی لکھ رہے ہیں

اَمْ يَحْسَبُوْنَ [ یا یہ لوگ گمان کرتے ہیں ] اَنَّا لَا نَسْمَعُ [ کہ ہم نہیں سنتے ] سِرَّهُمْ [ ان کی خفیہ (بات ) کو ] وَنَجْوٰىهُمْ ۭ [ اور ان کی کانا پھوسی کو ] بَلٰى [ کیوں نہیں ] وَرُسُلُنَا [ اور ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے ) ] لَدَيْهِمْ [ ان کے نزدیک ] يَكْتُبُوْنَ [ لکھتے ہیں ]