56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 56:41

وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ Open ayah 56:41 in the Quran reader

اور بائیں بازو والے، بائیں بازو والوں کی بد نصیبی کا کیا پوچھنا

[وَاَصْحٰبُ الشِّمَالِ ڏ : اور بائیں جانب والے ] [مَآ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ : کیا (ہوں گے) بائیں جانب والے ]
Ayah 56:42

فِیْ سَمُوْمٍ وَّ حَمِیْمٍۙ Open ayah 56:42 in the Quran reader

وہ لو کی لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی

[فِيْ سَمُوْمٍ : (وہ) لُو میں ] [وَّحَمِيْمٍ : اور ہمیشہ گرم رہنے والے پانی میں ہوں گے ]
Ayah 56:43

وَّ ظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍۙ Open ayah 56:43 in the Quran reader

اور کالے دھوئیں کے سائے میں ہوں گے

[وَّظِلٍّ : اور ایک ایسے سائے میں ہوں گے جو ] [مِّنْ يَّحْمُوْمٍ : دھونویں سے ہوگا ]
Ayah 56:44

لَّا بَارِدٍ وَّ لَا كَرِیْمٍ Open ayah 56:44 in the Quran reader

جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ آرام دہ

[لَّا بَارِدٍ : جو نہ ٹھنڈا ہوگا ] [وَّلَا كَرِيْمٍ : اور نہ عزت والا ہوگا ]
Ayah 56:45

اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِیْنَۚۖ Open ayah 56:45 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہوں گے جو اِس انجام کو پہنچنے سے پہلے خوشحال تھے

[اِنَّهُمْ كَانُوْا : بیشک یہ لوگ تھے ] [قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِيْنَ : اس سے پہلے خوشحالی دیئے ہوئے ]
Ayah 56:46

وَ كَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 56:46 in the Quran reader

اور گناہ عظیم پر اصرار کرتے تھے

[وَكَانُوْا يُصِرُّوْنَ : اور وہ جمے رہتے تھے ] [عَلَي الْحِنْثِ الْعَظِيْمِ : تمام بڑے گناہوں پر ] نوٹ۔ 1: الحنث العظیم پر جو الف لام ہے اسے لام جنس بھی مانا جاسکتا ہے اور لام تعریف بھی ۔ اگر لام جنس مانا جائے تو اس سے مراد ہوں گے تمام بڑے گناہ ۔ تفہیم القرآن میں اسی مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے ” گناہ عظیم کا لفظ جامع ہے۔ اس سے مراد کفر وشرک اور دہریت بھی ہے اور اخلاق و اعمال کا ہر بڑا گناہ بھی ۔ “ ترجمہ میں ہم نے اسی مفہوم کو ترجیح دی ہے ۔ اور اگر لام تعریف مانا جائے پھر اس سے مراد شرک ہے ]
Ayah 56:47

وَ كَانُوْا یَقُوْلُوْنَ١ۙ۬ اَئِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 56:47 in the Quran reader

کہتے تھے "کیا جب ہم مر کر خاک ہو جائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں گے تو پھر اٹھا کھڑے کیے جائیں گے؟

[وَكَانُوْا يَقُوْلُوْنَ ڏ : اور وہ کہا کرتے تھے ] [اَىِٕذَا مِتْنَا : کیا جب ہم مرجائیں گے ] [وَكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا : اور ہم ہوجائیں گے مٹی اور ہڈیاں ] [ءَاِنَّا : تو کیا ہم [لَمَبْعُوْثُوْنَ : ضرور (دوبارہ) اٹھائے جانے والے ہوں گے ]
Ayah 56:48

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 56:48 in the Quran reader

اور کیا ہمارے وہ باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے جو پہلے گزر چکے ہیں؟"

[اَوَاٰبَاۗؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ : اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی ]
Ayah 56:49

قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَ الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 56:49 in the Quran reader

اے نبیؐ، اِن لوگوں سے کہو، یقیناً اگلے اور پچھلے سب

[قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِيْنَ وَالْاٰخِرِيْنَ : آپ کہیے بیشک سارے اگلے اور سارے آخری ]
Ayah 56:50

لَمَجْمُوْعُوْنَ١ۙ۬ اِلٰى مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 56:50 in the Quran reader

ایک دن ضرور جمع کیے جانے والے ہیں جس کا وقت مقرر کیا جا چکا ہے

[لَمَجْمُوْعُوْنَ ڏ : یقینا جمع کیے جانے والے ہیں ] [اِلٰى مِيْقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ : ایک معلوم دن کی طے شدہ جگہ کی طرف ]
Ayah 56:51

ثُمَّ اِنَّكُمْ اَیُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَۙ Open ayah 56:51 in the Quran reader

پھر اے گمراہو اور جھٹلانے والو!

[ثُمَّ اِنَّكُمْ : پھر بیشک تم لوگ ] [اَيُّهَا الضَّاۗلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَ : اے گمراہ ہونے والو، جھٹلانے والو،]
Ayah 56:52

لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍۙ Open ayah 56:52 in the Quran reader

تم شجر زقوم کی غذا کھانے والے ہو

[لَاٰكِلُوْنَ : یقینا کھانے والے ہو ] [مِنْ شَجَرٍ : ایک ایسے درخت سے ] [مِّنْ زَقُّوْمٍ : جو تھوہر سے ہوگا ]
Ayah 56:53

فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَۚ Open ayah 56:53 in the Quran reader

اُسی سے تم پیٹ بھرو گے

[فَمَالِــــُٔـوْنَ : پھر بھرنے والے ہو ] [مِنْهَا الْبُطُوْنَ : اس سے پیٹوں کو ]
Ayah 56:54

فَشٰرِبُوْنَ عَلَیْهِ مِنَ الْحَمِیْمِۚ Open ayah 56:54 in the Quran reader

اور اوپر سے کھولتا ہوا پانی

[فَشٰرِبُوْنَ عَلَيْهِ : پھر پینے والے ہو اس پر ] [مِنَ الْحَمِيْمِ : ہمیشہ گرم رہنے والے پانی میں سے ]
Ayah 56:55

فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِیْمِؕ Open ayah 56:55 in the Quran reader

تونس لگے ہوئے اونٹ کی طرح پیو گے

[فَشٰرِبُوْنَ : پھر پینے والے ہو ] [شُرْبَ الْهِيْمِ : پیاساے اونٹوں کا (سا) پینا ]
Ayah 56:56

هٰذَا نُزُلُهُمْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 56:56 in the Quran reader

یہ ہے بائیں والوں کی ضیافت کا سامان روز جزا میں

[ھٰذَا نُزُلُهُمْ : یہ ان کی مہمان نوازی ہوگی ] [يَوْمَ الدِّيْنِ : بدلے کے دن ] نوٹ ۔ 2: نزل اس سامان ضیافت کو کہتے ہیں جو مہمان کے سواری سے اترنے کے بعد سب سے پہلے اس کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ۔ (جیسے آج کل بھی کھانے کی دعوت پر آنے والے مہمانوں کو آتے ہی کوک کی بوتل یا کوئی اور مشروب پیش کیا جاتا ہے ۔ یہ نزل ہے۔ اصل دعوت بعد میں ہوتی ہے۔ مرتب) مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کی اولین ضیافت تھوہر اور گرم پانی سے ہوگی ، کون اندازہ کرسکتا ہے کہ بعد میں ان کے سامنے کیا کچھ آئے گا ۔ (تدبر قرآن )
Ayah 56:57

نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ فَلَوْ لَا تُصَدِّقُوْنَ Open ayah 56:57 in the Quran reader

ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے پھر کیوں تصدیق نہیں کرتے؟

[نَحْنُ : ہم نے ہی ] [خَلَقْنٰكُمْ : پیدا کیا ہے تم لوگوں کو ] [فَلَوْلَا تُصَدِّقُوْنَ : پھر تم لوگ کیوں نہیں تصدیق کرتے (اس کی) ] نوٹ۔ 1: آیت ۔ 57 سے 74 تک جو دلائل پیش کیے گئے ہیں ان میں بیک وقت آخرت اور توحید دونوں پر استدلال کیا گیا ہے ۔ انسان اگر صرف اسی ایک بات پر غور کرے کہ وہ خود کس طرح پیدا ہوا ہے تو اسے نہ قرآن کی تعلیم توحید میں کوئی شک رہ سکتا ہے اور نہ اس کی تعلیم آخرت میں۔ استقرار حمل سے وضع حمل تک ماں کے پیٹ میں بچہ کی درجہ بدرجہ تخلیق و پرورش ، ہر بچے کی الگ صورت گری اور ہر بچے کے اندر مختلف ذہنی و جسمانی قوتوں کو ایک خاص تناسب سے رکھنا ، کیا یہ سب کچھ خدائے واحد کے سوا کسی اور کا کام ہے ؟ اگر کوئی شخص ضد اور ہٹ دھرمی میں مبتلا نہ ہو تو وہ خود محسوس کرے گا کہ انسان پورا کا پورا خدا کا ہی ساختہ وپردافتہ ہے ۔ توحید کی طرح یہ حقیقت آخرت کے معاملہ میں بھی فیصلہ کن ہے ، تمام انسان اسی طرح دنیا میں آئے ہیں اور وہ شب وروز اپنے ہی جیسے انسانوں کی پیدائش کا منظر دیکھ رہے ہیں ۔ اس کے بعد صرف عقل کا اندھا ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ جو خدا انسانوں کو آج پیدا کررہا ہے وہ کل کسی وقت اپنے ہی پیدا کیے ہوئے ان انسانوں کو کسی اور طرح سے دوبارہ پیدا نہ کرسکے گا ۔
Ayah 56:58

اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَؕ Open ayah 56:58 in the Quran reader

کبھی تم نے غور کیا، یہ نطفہ جو تم ڈالتے ہو

[اَفَرَءَيْتُمْ مَّا : کیا تم لوگوں نے غور کیا اس (نطفہ) پر جو ] [تُمْـنُوْنَ : تم لوگ ٹپکاتے ہو ]
Ayah 56:59

ءَاَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ Open ayah 56:59 in the Quran reader

اس سے بچہ تم بناتے ہو یا اس کے بنانے والے ہم ہیں؟

[ءَاَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَهٗٓ: کیا تم لوگ پیدا کرتے ہو اس (نطفہ) کو ] [اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ : یا ہم پیدا کرنے والے ہیں (اس کو) ] ترکیب : (آیت ۔ 59) تخلقونہ کی ضمیر مفعولی کو رء یتم کے مفعول ما یعنی نطفہ کے لیے بھی مانا جاسکتا ہے اور اس کے لیے بھی جو نطفہ سے پیدا ہوتا ہے یعنی انسان ۔ ترجمہ میں ہم پہلی صورت کو ترجیح دیں گے ۔
Ayah 56:60

نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَكُمُ الْمَوْتَ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَۙ Open ayah 56:60 in the Quran reader

ہم نے تمہارے درمیان موت کو تقسیم کیا ہے، اور ہم اِس سے عاجز نہیں ہیں

[نَحْنُ قَدَّرْنَا : ہم نے (وقت) طے کیا ہے ] [بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ : تمہارے مابین موت کا ] [وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِيْنَ : اور ہم عاجز کیے ہوئے نہیں ہیں ]
Ayah 56:61

عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَكُمْ وَ نُنْشِئَكُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 56:61 in the Quran reader

کہ تمہاری شکلیں بدل دیں اور کسی ایسی شکل میں تمہیں پیدا کر دیں جس کو تم نہیں جانتے

[عَلٰٓي اَنْ : اس پر کہ ] [نُّبَدِّلَ : ہم تبدیل کردیں (تم کو) ] [اَمْثَالَكُمْ : تمہارے جیسوں سے ] [وَنُنْشِـىَٔـكُمْ : اور ہم اٹھائیں تم کو ] [فِيْ مَا : اس میں جو ] [لَا تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ نہیں جانتے ] نوٹ۔ 2: آیت ۔ 61 ۔ میں ہے وَنُنْشِـىَٔـكُمْ فِيْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ اس سے مراد قیامت میں اٹھایا جانا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم اس سے عاجز نہیں ہیں کہ تم کو تمہاری موجودہ شکل وہئیت میں پیدا کریں ، اسی طرح ہم اس سے بھی عاجز نہیں ہیں کہ تمہاری تخلیق کا طریقہ بدل کر کسی اور شکل وہیئت میں، کچھ دوسری صفات کے ساتھ تم کو پیدا کریں ، قیامت کے روز ہم تمہیں اسی عمر کے انسان میں پیدا کرسکتے ہیں جس عمر میں تم مرے تھے۔ آج تمہاری بینائی ، سماعت اور دوسرے حواس کا پیمانہ ہم نے کچھ اور رکھا ہے ۔ قیامت کے روز ہم اسے بدل کر کچھ سے کچھ کردیں گے یہاں تک کہ تم وہ کچھ دیکھ اور سن سکو گے جو یہاں نہیں دیکھ سکتے اور نہیں سن سکتے ۔ آج تمہارے ہاتھ پاؤں اور تمہاری کھال میں کوئی گویائی نہیں ہے۔ قیامت کے روز تمہارا ہر عضو اور تمہارے جسم کی کھال کا ہر ٹکڑا ہمارے حکم سے بولنے لگے گا ۔ آج تم ایک خاص حد تک ہی عذاب برداشت کرسکتے ہو جس سے زائد عذاب ہو تو تم زندہ نہیں رہ سکتے ۔ کل تم ایسا عذاب ایسی طویل مدت تک بھگت سکوگے جس کا تم تصور نہیں کرسکتے اور کسی سخت سے سخت عذاب سے بھی تمہیں موت نہ آئے ۔ آج تم سوچ نہیں سکتے کہ کوئی بوڑھا جوان ہواجائے ، کبھی بیمار نہ ہو اور ہمیشہ ہمیشہ وہ ایک ہی عمر کا جوان رہے ۔ کل ہم تمہاری زندگی کے لیے کچھ دوسرے قوانین بنا سکتے ہیں جن کے مطابق جنت میں جاتے ہی ہر بوڑھا جوان ہوجائے اور اس کی جوانی و تندرستی لازوال ہو ۔ (تفہیم القرآن سے ماخوذ)
Ayah 56:62

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى فَلَوْ لَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 56:62 in the Quran reader

اپنی پہلی پیدائش کو تو تم جانتے ہو، پھر کیوں سبق نہیں لیتے؟

[وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ : اور یقینا تم لوگ جان چکے ہو ] [النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى : پہلی اٹھان کو ] [فَلَوْلَا تَذَكَّرُوْنَ : تو تم لوگ نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے ]
Ayah 56:63

اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَؕ Open ayah 56:63 in the Quran reader

کبھی تم نے سوچا، یہ بیج جو تم بوتے ہو

[اَفَرَءَيْتُمْ مَّا : کیا تم لوگوں نے غور کیا اس پر جو ][ تَحْرُثُوْنَ : تم لوگ بوتے ہو ]
Ayah 56:64

ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ Open ayah 56:64 in the Quran reader

اِن سے کھیتیاں تم اگاتے ہو یا اُن کے اگانے والے ہم ہیں؟

[ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗٓ: کیا تم لوگ اگاتے ہو اس کو ][ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ : یا ہم اگانے والے ہیں ] اسی طرح آیت ۔ 64 ۔ کا ظاہر استدلال تو توحید کے حق میں ہے مگر اس میں جو مضمون بیان کیا گیا ہے اس پر آدمی اگر تھوڑا سا غور کرے تو اسی کے اندر آخرت کی دلیل بھی مل جاتی ہے ۔ جو بیج زمین میں بویا جاتا ہے وہ مردہ ہوتا مگر زمین کی قبر میں جب کسان اسے دفن کردیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اندر وہ نباتی زندگی پیدا کردیتا ہے جس سے لہلہاتی کھیتیاں شان دکھاتی ہیں ۔ یہ بیشمار مردے آئے دن ہماری آنکھوں کے سامنے اپنی اپنی قبروں سے جی جی کر اٹھ رہے ہیں ۔ یہ کیا کچھ کم معجزہ ہے کہ کوئی شخص اس دوسرے معجزے کو ناممکن قرار دے جس کی خبر قرآن مجید ہمیں دے رہا ہے یعنی انسانوں کی موت کے بعد ان کی دوبارہ زندگی ۔ (تفہیم القرآن سے ماخوذ )
Ayah 56:65

لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنٰهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُوْنَ Open ayah 56:65 in the Quran reader

ہم چاہیں تو ان کھیتیوں کو بھس بنا کر رکھ دیں اور تم طرح طرح کی باتیں بناتے رہ جاؤ

[لَوْ نَشَاۗءُ : اگر ہم چاہتے ][ لَجَعَلْنٰهُ : تو ہم ضرور کردیتے اس کو ][ حُطَامًا : روندا ہوا ][ فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُوْنَ : تو تم رہ جاتے پیشمان ہوتے ہوئے ]
Ayah 56:66

اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَۙ Open ayah 56:66 in the Quran reader

کہ ہم پر تو الٹی چٹی پڑ گئی

[اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَ : کہ بیشک ہم تاوان ڈالے ہوئے ہیں ]
Ayah 56:67

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 56:67 in the Quran reader

بلکہ ہمارے تو نصیب ہی پھوٹے ہوئے ہیں

[بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ : بلکہ ہم محروم (ہوگئے) ہیں ]
Ayah 56:68

اَفَرَءَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَؕ Open ayah 56:68 in the Quran reader

کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا، یہ پانی جو تم پیتے ہو

[اَفَرَءَيْتُمُ الْمَاۗءَ الَّذِيْ : تو تم لوگوں نے غور کیا اس پانی پر جو ][ تَشْرَبُوْنَ : تم پیتے ہو ]
Ayah 56:69

ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ Open ayah 56:69 in the Quran reader

اِسے تم نے بادل سے برسایا ہے یا اِس کے برسانے والے ہم ہیں؟

ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ : کای تم اتارتے ہو اس کو ][ مِنَ الْمُزْنِ : بادل سے ][ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ : یا ہم اتارنے والے ہیں ] م ز ن : (ن) مزنا ۔ مشکیزہ بھرنا ۔ مزن ۔ بارش والا بادل ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 69 ۔
Ayah 56:70

لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْ لَا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 56:70 in the Quran reader

ہم چاہیں تو اسے سخت کھاری بنا کر رکھ دیں، پھر کیوں تم شکر گزار نہیں ہوتے؟

[لَوْ نَشَاۗءُ جَعَلْنٰهُ : اگر ہم چاہتے تو ہم بنا دیتے اس کو ][ اُجَاجًا : کڑوا ][ فَلَوْلَا تَشْكُرُوْنَ : تو تم لوگ شکر کیوں نہیں کرتے ] نوٹ ۔ 3: لونشاء جعلنہ اجاجا ، اس جملہ میں اللہ کی قدرت و حکمت کے ایک اہم کرشمے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پانی کے اندر اللہ تعالیٰ نے جو حیرت انگیز خواص رکھے ہیں ان میں ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ اس کے اندر خواہ کتنی بھی چیزیں تحلیل ہوجائیں ، جب وہ حرارت کے اثر سے بھاپ میں تبدیل ہوتا ہے تو ساری آمیزش نیچے چھوڑ دیتا ہے ۔ اور صرف اپنے اصل آبی اجزاء کو لے ہوا میں اڑتا ہے ۔ یہ خاصیت اگر اس میں نہ ہوتی تو بھاپ میں تبدیل ہوتے وقت بھی وہ سب چیزیں اس میں شامل رہتیں ۔ اس صورت میں سمندر سے جو بھاپ اٹھتی اس میں سمندر کا نمک بھی شامل ہوتا اور اس کی بارش تمام زمین کو شور (نمک ) والی زمین بنادیتی ، نہ انسان اس پانی کو پی کر ہی جی سکتا تھا اور نہ کسی قسم کی نباتات اس سے اگ سکتی تھی ، یہ خاصیت جس کی بدولت کھاری سمندروں سے میٹھا پانی کشید ہوکر بارش کی شکل میں برستا ہے پھر آب پاشی کی خدمت انجام دیتا ہے ، اس بات کی شہادت فراہم کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی میں یہ خاصیت بالارادہ ودیعت کی ہے تاکہ وہ اس کی مخلوقات کی پرورش کا ذریعہ بن سکے ۔ جو مخلوق کھاری پانی سے پرورش پاسکتی تھی وہ اس نے سمندر میں پیدا کی اور وہاں وہ خوب جی رہی ہے۔ مگر جس مخلوق کو اس نے خشکی اور ہوا میں پیدا کیا ہے اس کی پرورش کے لیے میٹھا پانی درکار تھا اور اس کی فراہمی کے لیے بارش کا انتظام کرنے سے پہلے اس نے پانی کے اندر یہ خصوصیت رکھ دی کہ بھاپ بنتے وقت وہ کوئی ایسی چیز لے کر نہ اڑے جو اس کے اندر تحلیل ہوگئی ہو ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 56:71

اَفَرَءَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَؕ Open ayah 56:71 in the Quran reader

کبھی تم نے خیال کیا، یہ آگ جو تم سلگاتے ہو

[اَفَرَءَيْتُمُ النَّارَ الَّتِيْ : کای تم لوگوں نے غور کیا اس آگ پر جو ][ تُوْرُوْنَ : تم لوگ جلاتے ہو ]
Ayah 56:72

ءَاَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَهَاۤ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُوْنَ Open ayah 56:72 in the Quran reader

اِس کا درخت تم نے پیدا کیا ہے، یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں؟

[ءَاَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ : کیا تم لوگ اگاتے ہو ][ شَجَرَتَهَآ : اس کے درخٹ کو ][ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِــُٔوْنَ : یا ہم اگانے والے ہیں ]
Ayah 56:73

نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً وَّ مَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَۚ Open ayah 56:73 in the Quran reader

ہم نے اُس کو یاد دہانی کا ذریعہ اور حاجت مندوں کے لیے سامان زیست بنایا ہے

[نَحْنُ جَعَلْنٰهَا : ہم نے بنایا ہے اس کو ][ تَذْكِرَةً : یاد دلانے کے لیے ][ وَّمَتَاعًا لِّلْمُقْوِيْنَ : اور ایک برتنے کا سامان ]
Ayah 56:74

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 56:74 in the Quran reader

پس اے نبیؐ، اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو

فَسَبِّحْ : پس تو تسبیح کر ][ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ : اپنے رب کے عظیم نام کی ]
Ayah 56:75

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِۙ Open ayah 56:75 in the Quran reader

پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں تاروں کے مواقع کی

[فَلَآ : پس نہیں ][ اُقْسِمُ : میں قسم کھاتا ہوں ][ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ : ستاروں کے گر پڑنے (ڈوبنے ) کے وقت کی ] نوٹ۔ 1: قسم کے شروع میں لفظ لا کو لانا ایک عام عربی محاورہ ہے ۔ جیسے لا واللہ (نہیں اللہ کی قسم ) اور جاہلیت کی قسموں میں لا وابیک (نہیں ، تیرے والد کی قسم ) اس کی توجیہہ یہ ہے کہ اس موقع میں صرف لا مخاطب کے گمان کی نفی کے لیے ہوتا ہے، یعنی جیسا تم کہتے اور سمجھتے ہو وہ بات نہیں ، بلکہ حقیقت وہ ہے جو آگے قسم کھا کر بتائی جارہی ہے ، (معارف القرآن )
Ayah 56:76

وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌۙ Open ayah 56:76 in the Quran reader

اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت بڑی قسم ہے

وَاِنَّهٗ لَقَسَمٌ: اور بیشک یہ یقینا ایک ایسی قسم ہے ][ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِيْمٌ : اگر تم لوگ جانو بڑی عظمت والی ہے ] (آیت ۔ 74) العظیم کو اسم کی صفت بھی مانا جاسکتا ہے اور رب کی بھی ۔ ترجمہ میں ہم پہلی صورت کو ترجیح دیں گے ۔
Ayah 56:77

اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 56:77 in the Quran reader

کہ یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے

اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ : بیشک یہ یقینا ایک ایسا دائمی عزت والا قرآن ہے جو ]
Ayah 56:78

فِیْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍۙ Open ayah 56:78 in the Quran reader

ایک محفوظ کتاب میں ثبت

[فِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ : ایک ڈھانپی ہوئی کتا میں ہے ]
Ayah 56:79

لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَؕ Open ayah 56:79 in the Quran reader

جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا

[لَّا يَمَسُّهٗٓ: نہیں چھوتے اس کو ][ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ : مگر پاک کیے ہوئے ] نوٹ۔ 2: آیت ۔ 79 ۔ میں کفار کے اس الزام کی تردید ہے جو وہ قرآن پر لگاتے تھے کہ یہ کلام رسول اللہ ﷺ پر جن اور شیاطین القا کرتے ہیں اس کا جواب قرآن مجید میں متعدد مقامات پر دیا گیا ہے یہاں یہ ان الفاظ میں ہے کہ ” اسے مطہرین کے سوا کوئی نہیں چھوسکتا ۔ “ یعنی جن اور شیاطین کا اسے لانا یا اس کے نزول کے وقت اس میں دخل انداز ہونا تو درکنار ، جس وقت یہ لوح محفوظ سے نبی کریم ﷺ پر نازل کیا جاتا ہے اس وقت مطہرین یعنی پاک فرشتوں کے سوا کوئی قریب بھی نہیں پھٹک سکتا ۔ بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ کوئی ایسا شخص اسے نہ چھوئے جو پاک نہ ہو لیکن یہ تفسیر آیت کے سیاق وسباق سے مطابقت نہیں رکھتی ۔ سیاق وسباق سے الگ کرکے تو اس کے الفاظ سے یہ مطلب نکالا جاسکتا ہے۔ مگر جس سلسلہ کلام میں یہ وارد ہوئی ہے اس میں رکھ کر اسے دیکھا جائے تو یہ بات کہنے کا کوئی موقع نظر نہیں آتا ۔ یہاں تو کفار مخاطب ہیں اور ان کو بتایا جارہا ہے کہ یہ رب العالمین کی نازل کردہ کتاب ہے اور تمہارا یہ گمان قطعی غلط ہے کہ اسے شیاطین نبی کریم ﷺ پر القا کرتے ہیں ۔ اس جگہ ایک شرعی حکم بیان کرنے کا کیا موقع ہوسکتا ہے ۔ زیادہ سے زیادہ جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ اگرچہ آیت یہ حکم دینے کے لیے نازل نہیں ہوئی ہے مگر فحوائے کلام اس بات کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کتاب کو صرف مطہرین ہی چھو سکتے ہیں اسی طرح دنیا میں بھی ، کم از کم وہ لوگ جو اس کے کلام الہی ہونے پر ایمان رکھتے ہیں ۔ اسے ناپاکی کی حالت میں چھونے سے اجتناب کریں ۔ (تفہیم القرآن ) بعض مفسرین نے فرمایا کہ قرآن سے مراد وہ مصحف ہے جو ہمارے ہاتھوں میں ہے اور مطہرون سے مراد وہ لوگ ہیں جو نجاست سے پاک ہوں ۔ اس طرح آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ مصحف قرآن کو طہارت کے بغیر چھونا جائز نہیں ہے ۔ اس تفسیر کی ترجیح کے لیے بعض حضرات نے ان احادیث کو پیش کیا ہے جن میں غیر طاہر کو قرآن چھونے سے منع کیا گیا ہے ، مگر چونکہ اس مسلہ میں دوسرے صحابہ کر اختلاف ہے اور کچھ صحابہ کرام کے نزدیک اس آیت میں قرآن سے مراد وہ صحیفے ہیں جو وحی لانے والے فرشتوں کے ہاتھ میں دئیے جاتے ہیں ۔ جبکہ کچھ کے نزدیک مطہرون سے مراد فرشتے ہیں ، اس لیے بہت سے حضرات نے اس آیت سے استدلال کو چھوڑ کر صرف متعلقہ احادیث سے استدلال کیا ہے ۔ اس آیت کی تفسیر میں اختلاف کے باوجود جمہور امت اور ائمہ اربعہ یعنی حنفی ، شافعی ، مالکی اور حنبلی مسالک کا اس پر اتفاق ہے کہ قرآن کریم کو ہاتھ لگانے کے لیے طہارت شرط ہے اور اس کے خلاف کرنا گناہ ہے ۔ اختلاف صرف اس بات میں ہے کہ یہ مسئلہ جو احادیث سے ثابت اور جمہور امت کے نزدیک مسلم ہے، کیا یہ بات قرآن کی اس آیت سے بھی ثابت ہے یا نہیں ۔ اس لیے اختلاف مسئلے میں نہیں ، بلکہ اس کی دلیل میں ہوا ہے۔ (معارف القرآن سے ماخذ ) حنفی اور شافعی مسلک میں تعلیم کے لیے قرآن مجید بچوں کے ہاتھ میں دیا جاسکتا ہے خواہ وہ وضو سے ہوں یا بےوضو ۔ جبکہ مالکی مسلک میں قرآن کی تعلیم کے لیے استاد اور شاگرد دونوں مستثنی ہیں ۔ بلکہ حائضہ عورت کے لیے بھی بغرض تعلیم مصحف کو ہاتھ لگانا جائز قرار دیا گیا ہے ۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 56:80

تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 56:80 in the Quran reader

یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے

[تَنْزِيْلٌ: یہ اتارا ہوا ہے ][ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ : تمام جہانوں کے رب (کی طرف سے ]