Ayah 68:41[اَمْ لَهُمْ شُرَكَاۗءُ ڔ : یا ان کے لیے کچھ شریک ہیں ][فَلْيَاْتُوْا بِشُرَكَاۗىِٕهِمْ : تو چاہیے کہ وہ آئیں اپنے شریکوں کے ساتھ ][اِنْ كَانُوْا صٰدِقِيْنَ : اگر وہ لوگ سچے ہیں ]
Ayah 68:42[يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ : جس دن پردہ اٹھایا جائے گا پنڈلی سے ][ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ : اور ان کو بلایا جائے گا سجدہ کرنے کی طرف ][ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ : تو وہ استطاعت نہ رکھتے ہوں گے ]
نوٹ۔ 2: آیت۔ 42 ۔ میں یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ کے الفاظ کے متعلق صحابہ کرام اور تابعین کی ایک جماعت کہتی ہے کہ یہ الفاظ محاورے کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ عربی محاورے کے مطابق سخت وقت آ پڑنے کو کشفِ ساق سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ایک اور قول کے مطابق اس میں کشفِ ساق سے مراد حقائق پر سے پردہ اٹھا نا لیا گیا ہے۔ اس تاویل کی رو سے معنیٰ یہ ہوں گے کہ جس روز تمام حقیقتیں بےنقاب ہوجائیں گی اور لوگوں کے اعمال کھل کر سامنے آجائیں گے اور قیامت کے دن اس بات کا مظاہرہ کرایا جائے گا کہ دنیا میں کون اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا تھا اور کون اس سے منحرف تھا۔ اس غرض کے لیے لوگوں کو بلایا جائے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ بجا لائیں۔ جو لوگ دنیا میں عبادت گزار تھے وہ سجدہ ریز ہوجائیں گے اور جنہوں نے دنیا میں اللہ کے آگے سرنیاز جھکانے سے انکار کیا تھا ان کی کمر تختہ ہوجائے گی اور ان کے لیے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہاں عبادت گزار ہونے کا جھوٹا مظاہرہ کرسکیں۔ (تفہیم القرآن)
استادِ محترم پروفیسر حافظ احمد یار صاحب مرحوم نے کشفِ ساق کے محاورے کی وضاحت اس طرح کی ہے کہ عرب کے لوگوں کا لباس ٹخنوں تک ہوتا ہے۔ جب کوئی دشمن حملہ آورہوتا تھا یا ڈاکو آجاتے تھے تو یہ لوگ اپنے کپڑے گھٹنوں کے اوپر باندھ کر لڑنے کے لیے یا بھاگنے کے لیے تیار ہوجاتے تھے۔ اس طرح کشف ساق کے محاورے میں کسی کام کے لیے تیار ہوجانے کا مفہوم ہے۔ حافظ صاحب کی اس وضاحت سے ذہن اردو محاورے کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ اس مفہوم کی ادائیگی کے لیے اردو میں ہم کہتے ہیں، کسی کام کے لیے کمرکس لینا۔ بہترحال حافظ صاحب کی وضاحت کے مطابق اس آیت کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ جس دن دوبارہ زندہ کر کے اللہ کے حضور پیش کرنے کے لیے لوگوں کو تیار کیا جائے گا اور اس تیاری کا پہلا مرحلہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ حضور سجدہ کرنے کے لیے کہا جائے گا۔ اس وقت دو قومی نظریہ کھل کر سامنے آجائے گا۔
Ayah 68:43[خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ : جھکی پڑیں گی ان کی نظریں ][ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۭ: چھا جائے گی ان پر ذلت ][ وَقَدْ كَانُوْا يُدْعَوْنَ : حالانکہ وہ بلائے گئے تھے ][ اِلَى السُّجُوْدِ : سجدہ کرنے کی طرف ][ وَهُمْ سٰلِمُوْنَ : اس حال میں کہ وہ صحیح سالم تھے ]
(آیت۔ 43) اَبْصَارُھُمْ جمع مکسر سے اس لیے لیے خاشعۃ مؤنث کا صیغہ آیا ہے اور یہ حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔
Ayah 68:44[فَذَرْنِيْ : تو آپ چھوڑ دیں مجھ کو ][ وَمَنْ يُّكَذِّبُ : اور اس کو جو جھٹلاتا ہے ][ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ ۭ : اس بات (قرآن) کو ][سَنَسْتَدْرِجُهُمْ : ہم بتدریج لے جائیں گے ان کو (خسران میں)][ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ : جہاں سے یہ لوگ جانتے نہیں ہیں ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 44 ۔ میں ہے کہ آپ جھٹلانے والوں کو اور مجھے چھوڑ دیں۔ یہاں چھوڑنا ایک محاورہ کے طور پر فرمایا گیا ہے۔ مراد اس سے اللہ پر بھروسہ کرنا ہے۔ اور اس کا حاصل کلام یہ ہے کہ کفار کی طرف سے یہ مطالبہ بھی پیش ہوا کرتا تھا کہ اگر ہم واقعی اللہ کے مجرم ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب دینے پر قادر ہے تو پھر ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا۔ اس پر یہ فرمایا گیا کہ اپنی حکمت کو ہم خوب جانتے ہیں۔ ایک حد تک مہلت دیتے ہیں اور فوراً عذاب نہیں بھیج دیتے۔ پھر حضرت یونس کے واقعہ کا ذکر فرما کر آنحضرت ﷺ کو نصیحت فرمائی کہ آپ ان لوگوں کے ایسے مطالبہ سے مغلوب نہ ہوں اور ان پر جلدی عذاب نازل کرنے کے خواہشمند نہ ہوں۔ اپنی حکمتوں اور مصلحتوں کو ہم ہی جانتے ہیں۔ ہم پر توکل کریں۔ (معارف القرآن)
بیخبر ی میں بتدریج کسی کو تباہی کی طرف لے جانے کی صورت یہ ہے کہ ایک حق کے دشمن اور ظالم کو دنیا میں نعمتوں سے نوازا جائے، صحت، مال، اور دنیوی کامیابیاں عطا کی جائیں۔ جن سے دھوکا کھا کر وہ سمجھے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں خوب کر رہا ہوں۔ اس طرح وہ ظلم و طغیان میں زیادہ سے زیادہ غرق ہوتا چلا جاتا ہے اور یہ نہیں سمجھتا کہ جو نعمتیں اسے مل رہی ہیں وہ انعام نہیں ہیں بلکہ اس کی ہلاکت کا سامان ہے۔ (تفہیم القرآن)
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اہل ایمان میں سے کسی کو اگر اللہ تعالیٰ دنیوی کامیابیوں اور یہاں کی نعمتوں سے نوازتا ہے تو یہ اس کا انعام ہیں۔ قرآن مجید میں کم از کم دو مقامات، الانفال۔ 28 ۔ اور التغابن۔ 15، میں براہ راست اہل ایمان کو خطاب کر کے خبردار کیا گیا ہے کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد یعنی دنیا کی نعمتیں فتنہ یعنی آزمائش ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جو ان آزمائشوں میں پورا اترے گا تو یہ دنیوی نعمتیں اس کی آخرت کی کامیابیوں اور انعام کا ذریعہ بن جائیں گی، ناکامی کی صورت میں یہی نعمتیں آخرت میں ناکامی اور خسارے کا باعث ہونگی۔ (مرتب)
Ayah 68:45[وَاُمْلِيْ لَهُمْ ۭ: اور میں ڈھیل دیتا ہوں ان کو ][ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ: بیشک میری تدبیر بڑی پکی ہے ]
Ayah 68:46[اَمْ تَسْــَٔــلُهُمْ اَجْرًا : یا آپ مانگتے ہیں ان سے کوئی اجرت ][ فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ : تو وہ تاوان سے ][ مُّثْقَلُوْنَ : لائے ہوئے ہیں ]
Ayah 68:47[اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَيْبُ : یا ان کے پاس غیب (کی خبر) ہے ][ فَهُمْ يَكْتُبُوْنَ : تو وہ لوگ لکھتے ہیں ]
Ayah 68:48[فَاصْبِرْ : تو آپ ثابت قدم (منتظر) رہیں ][ لِحُكْمِ رَبِكَ : اپنے رب کے حکم کے ][ وَلَا تَكُنْ : اور آپ مت ہوں ][ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ ۘ : مچھلی والے (یونس) کی طرح ][ اِذْ نَادٰى: جب انھوں نے پکارا (رب کو)][ وَهُوَ مَكْظُوْمٌ: اس حال میں کہ وہ غم زدہ تھے ]
Ayah 68:49[لَوْلَآ اَنْ تَدٰرَكَهٗ : اگر نہ ہوتا کہ آلیا ان کو ][ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ : ایک نعمت نے ان کے رب (کے پاس) سے ][ لَنُبِذَ : تو ضرور وہ پھینکے گئے رہتے ][ بِالْعَرَاۗءِ : اس چٹیل میدان میں ][ وَهُوَ مَذْمُوْمٌ: اس حال میں کہ وہ مذمت کیے ہوئے ہوتے ]
نوٹ۔ 2: آیت۔ 49 ۔ کو سورة القافات کی آیت۔ 142 تا 146 کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت حضرت یونس مچھلی کے پیٹ میں ڈالے گئے تھے اس وقت تو وہ ملامت میں مبتلا تھے، لیکن جب انہوں نے اللہ کی تسبیح کی اور اپنے قصور کا اعتراف کرلیا تو اگرچہ وہ مچھلی کے پیٹ سے نکال کر بڑی سقیم حالت میں ایک چٹیل زمین پر پھینکے گئے تھے، مگر وہ اس وقت مذمت میں مبتلا نہ تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اس جگہ ایک بیلدار درخت اگا دیا، تاکہ اس کے پتے ان پر سایہ کریں اور وہ اس کے پھل سے اپنی بھوک پیاس بھی دور کرسکیں۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 68:50[فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ : پھر نوازا ان کو ان کے رب نے ][ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ : تو اس نے کردیا ان کو نیک لوگوں میں سے ]
Ayah 68:51[وَاِنْ يَّكَادُ الَّذِينَ كَفَرُوْا : اور بیشک ایسے لگتا ہے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ][ لَيُزْلِقُوْنَكَ : کہ وہ ضرور پھسلا دیں آپ کو ][ بِاَبْصَارِهِمْ : اپنی (غضبناک) نظروں سے ][ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ : جب وہ سنتے ہیں اس یاد دہانی (قرآن) کو ][ وَيَقُوْلُوْنَ : اور وہ لوگ کہتے ہیں ][ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌ: بیشک یہ ضرور مجنون ہے ]
نوٹ۔ 3: آیت۔ 15 ۔ کا تعلق بھی صبر و ثبات کی تلقین کے اس مضمون ہی سے ہے جو فاصبر لحکم ربک میں بیان ہوا ہے۔ یعنی اگرچہ حالات نہایت سخت ہیں کہ کفار جب قرآن سنتے ہیں تو تمہیں اس طرح گھورتے ہیں جیسے وہ اپنی نگاہوں کے زور سے تمہیں دھکیل کر تمہارے مقام سے تم کو پھسلا دیں گے اور جوش غضب میں تمہیں خبطی اور مجنون بتاتے ہیں لیکن ان کے اس رویہ کے باوجود تم اپنے موقف پر ڈتے رہو۔ یہاں ابتدائے سورة کی آیت ما انت بنعمۃ ربک بمجلون، ذہن میں تازہ کرلیجئے۔ سورة جس مضمون سے شروع ہوئی تھی اسی پر ختم ہو رہی ہے۔ (تدبر قرآن)
نوٹ۔ 4: آیات۔ 51 ۔ 52 ۔ کے ضمن میں کچھ مفسرین نے ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ انسان کی نظر بدلگ جانا اور اس سے کسی انسان کو نقصان اور بیماری بلکہ ہلاکت تک پہنچ جانا حقیقت ہے اور احادیث میں اس کا حق ہونا وارد ہے۔ یہ بات عرب میں بھی معروف و مشہور تھی اور مکہ میں ایک شخص نظر لگانے میں بڑا مشہو رتھا۔ اونٹوں یا جانوروں کو نظر لگا دیتا تو وہ ہلاک ہوجاتے۔ کفار مکہ کو رسول اللہ ﷺ سے عداوت تو تھی ہی اور وہ آپ کو ایذاء پہنچانے کی ہر طرح کی کوشش کیا کرتے تھے۔ ان کو یہ سوجھی کہ اس شخص سے رسول اللہ ﷺ کو نظر لگوائو۔ تو لوگ اس کو بلا لائے۔ اس نے نظر بد لگانے کی اپنی پوری کوشش کرلی مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی۔ یہ آیات اسی سلسلہ میں نازل ہوئیں اور لِیُزْلِقُوْنَکَ بِاَبْصَارِھِمْ میں اسی نگاہ بدلگانے کو بیان فرمایا گیا ہے۔
حضرت حسن بصری سے منقول ہے کہ جس شخص کو کسی انسان کی نظر بد لگ گئی ہو اس پر یہ آیات پڑھ کر دم کردینا اس کے اثر کو زائل کردیتا ہے۔ (معارف القرآن بحوالہ تفسیر مظہری)
مورخہ 6 ۔ صفر 1431 ء بمطابق 22 ۔ جنوری 2010 ء
Ayah 68:52[وَمَا هُوَ : حلان کہ نہیں ہے وہ ][ اِلَّا ذِكْرٌ: سوائے ایک ایسی یاددہانی ہے جو ][ لِّلْعٰلَمِيْنَ : تمام جہانوں کے لیے ہے ]