90. Surah Al-Balad

البلدThe City · 20 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 90:1

لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:1 in the Quran reader

نہیں، میں قسم کھاتا ہوں اِس شہر کی

[لَآ اُقْسِمُ : نہیں میں قسم کھاتا ہوں ][ بِهٰذَا الْبَلَدِ : اس شہر کی ] نوٹ۔ 1: اس سورة میں ایک بہت بڑے مضمون کی چند مختصر جملوں میں سمیٹ دیا گیا ہے۔ اور یہ قرآن کا کمال اعجاز ہے کہ ایک پورا نظریۂ حیات، جسے مشکل سے ایک ضخیم کتاب میں بیان کیا جاسکتا تھا، اسے اس چھوٹی سی سورة کے چھوٹے چھوٹے فقروں میں نہایت مؤثر طریقہ سے بیان کردیا گیا ہے۔ اس کا موضوع دنیا میں انسان کی، اور انسان کے لیے دنیا کی صحیح حیثیت سمجھانا اور یہ بتانا ہے کہ خدا نے انسان کے لیے سعادت اور شقاوت (نیک بختی اور بدبختی) کے دونوں راستے کھول کر رکھ دئیے ہیں، ان کے دیکھنے اور ان پر چلنے کے وسائل بھی اسے فراہم کر دئیے ہیں۔ اب یہ انسان کی اپنی کوشش اور محنت پر موقوف ہے کہ وہ سعادت کی راہ پر چل کر اچھے انجام کو پہنچتا ہے یا شقاوت کی راہ اختیار کر کے برے انجام سے دوچار ہوتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 90:2

وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:2 in the Quran reader

اور حال یہ ہے کہ (اے نبیؐ) اِس شہر میں تم کو حلال کر لیا گیا ہے

[وَانتَ حِـۢلٌّ: اور آپ ﷺ کو حلال (سمجھا) ہے (کفارم کہ نے)][ بِهٰذَا الْبَلَدِ : اس شہر میں ] آیت۔ 2 ۔ میں لفظ حِلٌّ میں دو احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ یہ حلول سے مشتق ہو، جس کے معنے کسی شئے کے اندر سمانے اور رہنے اور اترنے کے آتے ہیں۔ اس اعتبار سے حِلٌّ کے معنے اترنے اور رہنے کے ہوں گے اور مراد آیت کی یہ ہوگی کہ شہر مکہ خود بھی محترم ہے اور آپ 1 بھی اس شہر میں رہتے ہیں۔ اس لیے شہر کی عظمت و حرمت دوہری ہوگئی۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ لفظ حِلٌّ مصدر حِلَّت سے مشتق ہو جس کے معنے کسی چیز کے حلال ہونے کے ہیں۔ اس اعتبار سے اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ 1 کو کفار مکہ نے حلال سمجھ رکھا ہے۔ جس مقدس مقام پر کسی جانور کا قتل بھی جائز نہیں ہے، اور ان لوگوں کا بھی یہی عقیدہ ہے، وہاں ان لوگوں نے اللہ کے رسول 1 کا قتل حلال سمجھ لیا ہے۔ دوسرے معنے یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ آپ 1 کے لیے حرم مکہ میں قتال کفار حلال ہونے والا ہے، جیسا کہ فتح مکہ میں ایک روز کے لیے کفار کا قتل حلال کردیا گیا تھا۔ مظہری میں تینوں احتمال مذکور ہیں۔ آیت۔ 3 ۔ میں والد سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور مَاوَلدَ سے ان کی اولاد مراد ہے جو ابتدائے دنیا سے قیامت تک ہوگی۔ آگے جواب قسم مذکور ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت سے ایسا پیدا کیا گیا ہے کہ اوّل عمر سے آخر تک محنتوں اور مشقتوں میں رہتا ہے۔ اس قسم اور جواب قسم میں انسان کو اس پر متنبہ کیا گیا ہے کہ تمہاری یہ خواہش کہ دنیا میں ہمیشہ راحت ہی راحت ملے اور کسی تکلیف سے سابقہ نہ پڑے، ایک خیال خام سے جو کبھی حاصل نہیں ہوگا۔ ہر شخص کو دنیا میں محنت و مشقت اور رنج و مصیبت ضرور ہی پیش آنی ہیں۔ اور جب ان کو پیش آنا ہی ہے تو عقلمند کا کام یہ ہے کہ اس چیز کے لیے مشقت جھیلے جو ہمیشہ اس کے کام آئے اور دائمی راحمت کا سامان ہے۔ اور یہ صرف ایمان اور طاعت حق میں منحصر ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 90:3

وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَۙ Open ayah 90:3 in the Quran reader

اور قسم کھاتا ہوں باپ کی اور اس اولاد کی جو اس سے پیدا ہوئی

[وَوَالِدٍ : اور قسم ہے جننے والے کی ][ وَمَا وَلَدَ : اور اس کی جو اس نے جنا ]
Ayah 90:4

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍؕ Open ayah 90:4 in the Quran reader

درحقیقت ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے

[لَقَدْ خَلَقْنَا الْانسَان : بیشک ہم نے پیدا کیا ہے انسان کو ][ فِيْ كَبَدٍ : ایک مشقت میں ] ک ب د [ کَبْدًا : (س) درد جگر میں مبتلا ہونا۔ تکلیف برداشت کرنا۔][ کَبَدٌ اسم ذت ہے۔ سختی، مشقت، زیر مطالعہ آیت۔ 4 ۔] ترکیب : (آیت۔ 5) یَحْسَبُ میں شامل ھُوْ کی ضمیر فاعلی اَلْاِنْسَانَ کے لیے ہے۔
Ayah 90:5

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌۘ Open ayah 90:5 in the Quran reader

کیا اُس نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اُس پر کوئی قابو نہ پا سکے گا؟

[اَيَحْسَبُ : کیا وہ (انسان) سمجھتا ہے ][ ان لَّنْ يَّقْدِرَ عَلَيْه : کہ ہرگز قابو نہیں پائے گا اس پر ][ِ اَحَدٌ: کوئی ایک بھی ]
Ayah 90:6

یَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًاؕ Open ayah 90:6 in the Quran reader

کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال اڑا دیا

[يَقُوْلُ اَهْلَكْتُ : وہ کہتا ہے میں نے ہلاک کیا (خرچ کیا)][ مَالًا لُّبَدًا : ڈھیروں ڈھیر مال ] نوٹ۔ 3: آیت۔ 6 ۔ میں یہ نہیں کہا کہ میں نے ڈھیر سا مال خرچ کردیا، بلکہ اَھْلَکْتَ کہا ہے جس کے معنی ہیں کہ میں نے ڈھیر سا مال ہلاک کردیا یعنی لٹا دیا یا اڑا دیا۔ اور یہ مال اڑا دینا کس مد میں تھا۔ کسی حقیقی نیکی کے کام میں نہیں، جیسا کہ آگے کی آیات سے خودبخود ظاہر ہو رہا ہے بلکہ اپنی دولت مندی کی نمائش اور فخر کے اظہار میں تھا۔ شادی اور غمی کی رسموں میں سینکڑوں آدمیوں کی دعوت کرنا، جوئے میں دولت ہار دینا، جوا جیت جانے پر اونٹ پر اونٹ کاٹنا اور یار دوستوں کو خراب کھلانا، میلوں میں بڑے لائو لشکر کے ساتھ جانا اور دوسرے سرداروں سے بڑھ کر شان و شوکت کا مظاہرہ کرنا۔ یہ اور ایسے ہی دوسرے نمائشی اخراجات تھے جنھیں جاہلیت میں آدمی کی فیاضی کی علامت اور اس کی بڑائی کا نشان سمجھا جاتا تھا۔ انہی پر اس کی تعریفوں کے ڈنکے بجتے تھے اور وہ خود بھی ان پر اپنا فخر جتاتے تھے۔ لیکن یہ فخر جتانے والا یہ نہیں سمجھتا کہ اوپر کوئی خدا بھی ہے جو دیکھ رہا ہے کہ اس نے کن ذرائع سے یہ دولت حاصل کی، کن کاموں میں اسے کھپایا اور کن اغراض و مقاصد کے لیے اس نے یہ سارے کام کیے۔ کیا وہ سمجھتا ہے کہ خدا کے ہاں اس فضول خرچی، اس شہرت طلبی اور اس تفاخر کی کوئی قدر ہوگی۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 90:7

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 90:7 in the Quran reader

کیا وہ سمجھتا ہے کہ کسی نے اُس کو نہیں دیکھا؟

[اَيَحْسَبُ ان لَمْ يَرَهٗٓ: کیا وہ سمجھتا ہے کہ دیکھا ہی نہیں اس کو (کماتے خرچ کرتے)][ اَحَد : کسی ایک نے بھی ]
Ayah 90:8

اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَیْنَیْنِۙ Open ayah 90:8 in the Quran reader

کیا ہم نے اُسے دو آنکھیں

[اَلَمْ نَجْعَلْ لَهٗ : کیا ہم نے نہیں بنائیں اس کے لیے ][ عَيْنَيْنِ : دو آنکھیں ] نوٹ۔ 4: آیات۔ 8 ۔ 9 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ کیا ہم نے اسے علم وعقل کے ذرائع نہیں دئیے۔ دو آنکھوں سے مراد گائے اور بھینس کی آنکھیں نہیں بلکہ وہ انسانی آنکھیں ہیں جنھیں کھول کر آدمی دیکھے تو اسے ہر طرف وہ نشانات نظر آئیں جو حقیقت کا پتہ دیتے ہیں۔ اور صحیح وغلط کا فرق سمجھاتے ہیں۔ زبان اور ہونٹوں سے مراد محض بولنے کے آلات نہیں ہیں بلکہ نفس ناطقہ جو ان آلات کی پشت پر سوچنے سمجھنے کا کام کرتا ہے۔ پھر انسان ان سے اظہارِ مافی الضمیر کا کام لیتا ہے۔
Ayah 90:9

وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیْنِۙ Open ayah 90:9 in the Quran reader

اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟

[وَلِسَانا وَّشَفَتَيْنِ : اور ایک زبان اور دو ہونٹ ] شھـ [شَفْھًا : (ف) شَفْھًا ہونٹ پر مارنا۔][ شَفَۃٌ: اسم ذات ہے۔ ہونٹ۔ تثنیہ شَفَتَانِ ۔ شَفَتَیْنِ ۔ جمع شِفَاہٌ اور شَفَھَاتٌ۔ (یہ دراصل شَفَھَۃٌ ہے۔ اہل زبان اس کی ھا گرا کر شَفَۃٌ بولتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جمع میں اس کی ھا واپس آجاتی ہے) ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 9 ۔]
Ayah 90:10

وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ Open ayah 90:10 in the Quran reader

اور دونوں نمایاں راستے اُسے (نہیں) دکھا دیے؟

[وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ : اور ہم نے سمجھا دیئے اس کو دونوں راستے ] ن ج د [نُجُوْد : (ن) نُجُوْدً ظاہر ہونا واضح ہونا۔][ نَجْد :ٌ اسم ذات ہے۔ بلند راستہ۔ واضح راستہ۔ زیر مطالعہ ] پھر آیت۔ 10 ۔ میں فرمایا کہ ہم نے محض عقل وفکر کی طاقتیں عطا کر کے انسان کو چھوڑ نہیں دیا کہ وہ اپنا راستہ خود تلاش کرے۔ بلکہ اس کی رہنمائی بھی کی۔ اس کے سامنے بھلائی اور برائی، نیکی اور بدی، دونوں کے راستے نمایاں کر کے رکھ دئیے تاکہ وہ سوچ سمجھ کر ان میں سے جس کو چاہے اختیار کرلے۔ یہ وہی بات ہے جو سورة دھر میں فرمائی گئی ہے کہ ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تاکہ اس کا امتحان لیں اور اس غرض کے لیے ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا۔ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا۔ خواہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 90:11

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ٘ۖ Open ayah 90:11 in the Quran reader

مگر اس نے دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی

[فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ : پس وہ نہیں گھسا اس گھاٹی میں ] نوٹ۔ 5: آیت۔ 11 ۔ میں اَلْعَقَبَۃَ آیا ہے۔ عقبہ پہاڑ کی بڑی چٹان کو بھی کہتے ہیں اور دو پہاڑوں کے درمیانی راستے یعنی گھاٹی کو بھی۔ دشمن سے نجات حاصل کرنے میں یہ عقبہ انسان کی مدد کرتا ہے کہ پہاڑ کے اوپر چڑھ کر دشمن سے اپنے آپ کو بچا لے یا پھر گھاٹی میں داخل ہو کر کہیں نکل جائے۔ اس جگہ طاعات و عبادات کو عقبہ سے تعبیر فرمایا ہے۔ جس طرح عقبہ دشمن سے نجات دلانے کا سبب ہوتا ہے اسی طرح اعمالِ صالحہ آخرت کے عذاب سے نجات کا ذریعہ بنتے ہیں۔ پھر ان اعمال صالحہ میں پہلے فرمایا کسی غلام (یا مقروض) کو آزاد کرنا۔ یہ بہت بڑی عبادت ہے اور ایک انسان کی زندگی کو سنوار دینا ہے۔ دوسری چیز بیان فرمائی بھوکے کو کھانا کھلانا۔ کسی کو بھی کھانا کھلایا جائے وہ ثواب سے خالی نہیں ہے، لیکن جب کسی ایسے یتیم کو کھلایا جائے جس کے ساتھ رشتہ داری بھی ہے تو اس میں دوہرا ثواب ہوگیا۔ ایک بھوکے کا پیٹ بھرنا دوسرے صلہ رحمی کا حق ادا کرنا۔ اگر یتیم رشتہ دار نہ ہو تو ایسا مسکین ہو جو محتاج ہو۔ (معارف القرآن)
Ayah 90:12

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُؕ Open ayah 90:12 in the Quran reader

اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دشوار گزار گھاٹی؟

[وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُ : اور تو کیا سمجھا کیا ہے وہ گھاٹی ]
Ayah 90:13

فَكُّ رَقَبَةٍۙ Open ayah 90:13 in the Quran reader

کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا

[فَكُّ رَقَبَةٍ : (وہ) کسی گردن کا چھڑانا ہے ] (آیت۔ 13) فَکُّ رَقَبَۃٍ مرکب اضافی ہے اور خبر ہے۔ اس کا مبتدا ھِیَ محذوف ہے (آیات۔ 14 تا 16) اِطْعَامٌ مصدر ہے۔ اس نے فعل کا کام کیا ہے اور یَتِیْمًا اور مِسْکیْنًا کو نصب دی ہے۔ (دیکھیں آیت۔ 3/ 54، نوٹ۔ 1) ۔ (آیت۔ 20) نَارٌ نکرہ مخصوصہ ہے اور مُؤْصَدَہٌ اس کی خصوصیت ہے۔
Ayah 90:14

اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍۙ Open ayah 90:14 in the Quran reader

یا فاقے کے دن

[اَوْ اِطْعٰمٌ فِيْ يَوْمٍ : یا کھلانا ہے کسی ایسے دن میں جو ][ ذِيْ مَسْغَبَةٍ : بھوک والا ہو ] س غ ب [سَغَبًا : (س) وَمَسْغَبَۃً بھوکا ہونا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 14 ۔]
Ayah 90:15

یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍۙ Open ayah 90:15 in the Quran reader

کسی قریبی یتیم

[يَّـتِيْمًـا ذَا مَقْرَبَةٍ : کسی ایسے یتیم کو جو قربت والا ہو ]
Ayah 90:16

اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍؕ Open ayah 90:16 in the Quran reader

یا خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا

[اَوْ مِسْكِيْنًا ذَا مَتْرَبَةٍ : یا کسی ایسے مسکین کو جو محتاجی والا ہو ]
Ayah 90:17

ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِؕ Open ayah 90:17 in the Quran reader

پھر (اس کے ساتھ یہ کہ) آدمی اُن لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر اور (خلق خدا پر) رحم کی تلقین کی

[ثُمَّ كَان : پھر وہ ہو (بھی)][ مِنَ الَّذِينَ اٰمَنُوْا : ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے ][ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْر : اور باہم تاکید کی ثابت قدم رہنے کی ][ِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ : اور باہم تاکید کی رحم دل ہونے کی ] نوٹ۔ 6: آیت۔ 17 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ اوصاف کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ آدمی مومن بھی ہو۔ کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی عمل نہ تو عمل صالح ہے اور نہ وہ اللہ کے ہاں مقبول ہوسکتا ہے۔ قرآن مجید میں بکثرت مقامات پر اس کی تصریح کی گئی ہے کہ نیکی وہی قابل قدر اور ذریعہ نجات ہے جو ایمان کے ساتھ ہو۔ مثلاً سورة نساء کی آیت۔ 124 ۔ میں فرمایا کہ جو نیک اعمال کرے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اور (اس حال میں کہ) ہو وہ مومن، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ سورة نحل کی آیت۔ 97 ۔ میں فرمایا کہ جو نیک عمل کرے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اور (اس حال میں کہ) ہو وہ مومن، تو ہم اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور ایسے لوگوں کو ان کا اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق عطا کریں گے۔ جو شخص بھی قرآن پاک کا مطالعہ کرے گا وہ یہ دیکھے گا کہ اس کتاب میں جہاں بھی عمل صالح کے اجر کا ذکر ہے وہاں لازماً اس کے ساتھ ایمان کی شرط لگی ہوئی ہے۔ ایمان کے بغیر عمل کو قرآن میں کہیں بھی اللہ کے ہاں مقبول نہیں قرار دیا گیا اور نہ اس پر کسی اجر کی امید دلائی گئی ہے۔ (تفہیم القرآن) مورخہ۔ 14 ذی الحجہ 1431 ھ بمطابق 21 ۔ نومبر 2010 ء
Ayah 90:18

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 90:18 in the Quran reader

یہ لوگ ہیں دائیں بازو والے

[اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ : وہ لوگ داہنی طرف والے ہیں ]
Ayah 90:19

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 90:19 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیا وہ بائیں بازو والے ہیں

[وَالَّذِينَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا : اور وہ لوگ جنھوں نے انکار کیا ہماری آیتوں کا ][ هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْــَٔــمَةِ : وہ بائیں طرف والے ہیں ]
Ayah 90:20

عَلَیْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ۠ Open ayah 90:20 in the Quran reader

ان پر آگ چھائی ہوئی ہوگی

[عَلَيْهِمْ نَارٌ: ان پر ایک ایسی آگ ہے جو ][ مُّؤْصَدَةٌ: اوپر سے بند کی ہوئی ہے ] ء ص د ثلاثی مجرد سے فعل نہیں آتا۔ [اِیْصَادَ : (افعال) دروازہ یا ڈھکن بند کرنا۔][ مُؤصَدٌ اسم المفعول ہے۔ بند کیا ہوا۔ سر بمہر کیا ہوا۔ زیر مطالعہ ]