Ayah 91:1[وَالشَّمْسِ وَضُحٰىهَا : قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی ]
نوٹ۔ 1: مضمون کے لحاظ سے یہ سورة دو حصوں میں مشتمل ہے۔ پہلا حصہ سورة کے آغاز سے آیت۔ 10 ۔ پر ختم ہوتا ہے۔ اور دوسرا حصہ آیت۔ 11 ۔ سے آخر تک چلتا ہے۔ پہلے حصے میں تین باتیں سمجھائی گئی ہیں۔ ایک یہ جس طرح چاند، سورج، رات ، دن اور زمین و آسمان ایک دوسرے سے مختلف اور نتائج میں متضاد ہیں اسی طرح سے نیکی اور بدی بھی ایک دوسرے سے مختلف اور نتائج میں متضاد ہیں۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے نفس انسانی کو جسم، حواس اور ذہن کی قوتیں دے کر ایک فطری الہام کے ذریعے اس کے لاشعور میں نیکی اور بدی کا فرق، ان کے مابین امتیاز اور ایک کے خیر اور دوسرے کے شر ہونے کا احساس اتار دیا ہے۔ تیسرے یہ کہ انسان کے مستقبل کا انحصار اس پر ہے کہ وہ اپنے نفس کے اچھے اور برے رجحانات میں سے کس کو ابھارتا اور کس کو دباتا ہے۔ دوسرے حصے میں قوم ثمود کی تاریخی مثال پیش کرتے ہوئے رسالت کی اہمیت سمجھائی گئی ہے۔ رسول دنیا میں اس لیے بھیجا جاتا ہے کہ بھلائی اور برائی کا جو الہامی علم اللہ نے انسان کی فطرت میں رکھ دیا ہے، وہ بجائے خود انسان کی ہدایت کے لیے کافی نہیں ہے۔ کیونکہ اس الہامی علم کو پوری طرح نہ سمجھنے کی وجہ سے ہی انسان خیر و شر کے غلط فلسفے اور معیار تجویز کر کے گمراہ ہوتا رہا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام (علیہم السلام) پر واضح اور صاف صاف وحی نازل فرمائی تاکہ وہ لوگوں کو کھول کر بتائیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نیکی کیا ہے اور بدی کیا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 91:2[وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا : اور قسم ہے چاند کی جب وہ پیچھے پیچھے آتا ہے اس (سورج) کے ]
Ayah 91:3وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا : اور قسم ہے دن کی جب وہ خوب روشن کردیتا ہے اس (سورج) کو ]
Ayah 91:4وَاللَّيْلِ اِذَا يَغْشٰـىهَا : اور قسم ہے رات کی جب وہ ڈھانپ لیتی ہے اس (سورج) کو ]
Ayah 91:5وَالسَّمَاۗءِ : اور قسم ہے آسمان کی ][ وَمَا : اور اس کی جیسا ][ بَنٰىهَا : اس نے بنایا اس (آسمان) کو ]
ترکیب : آیات۔ 5 تا 7 میں مَا کا لفظ آیا ہے۔ اس کو مصدر یہ بھی مانا گیا ہے اور موصولہ بھی۔ عام قاعدہ یہ ہے کہ ذوی عقول کے لیے مَنْ موصولہ آتا ہے اور غیر ذوی عقول کے لیے مَا آتا ہے۔ لیکن عربی میں کبھی کبھی مَا بھی ذوی عقول کے لیے آجاتا ہے۔ یعنی کبھی مَا بھی مَنْ کے معنی میں آجاتا ہے۔ اس لحاظ سے دونوں ترجمے درست مانے جائیں گے۔ ہم مَا مصدر یہ مان کر ترجمہ کریں گے۔
Ayah 91:6وَالْاَرْضِ : اور قسم ہے زمین کی ][ وَمَا : اور اس کی جیسا ][ طَحٰىهَا : اس نے پھیلایا اس کو ]
ط ح ی
[طَحْیًا : (ض) کسی چیز کو پھیلانا۔ زیر مطالعہ ]
(آیت۔ 6) طَحَا کا مادہ ” ط ح و “ بھی ہے اور ” ط ح ی “ بھی۔ ناقص واوی میں یہ دوسرے معانی کے ساتھ پھیلنا (لازم) اور پھیلانا (متعدی) دونوں معانی میں آتا ہے۔ جبکہ یایی میں یہ صرف پھیلانا (متعدی) کے معنی دیتا ہے۔ اس طرح اس آیت میں طَحَا کو واوی بھی مان سکتے تھے۔ اور یایی بھی۔ لیکن قرآن مجید کی کتابت پر جب غور کرتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ ھَا سے پہلے ایک دندانہ بنا ہوا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ کاتبانِ وحی نے اس کو یایی مان کر لکھا تھا۔ کیونکہ اگر واوی مان کر لکھتے تو یہ طَحٰھَا (دندانے کے بغیر) لکھا ہوتا۔ طَحٰچھَا لکھنے کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے ھا کی ضمیر طَحَا (واوی) پر نہیں بلکہ طَحٰی (یایی) پر لگائی ہے۔
Ayah 91:7[وَنَفْسٍ : اور قسم ہے نفس کی ][ وَمَا : اور اس کی جیسا ][ سَوّٰىهَا : اس نے سنوارا اس کو ]
Ayah 91:8[فَاَلْهَمَهَا : پھر اس نے الہام کیا اس میں ][ فُجورَهَا : اس کی نافرمانی ][ وَتَقْوٰىهَا : اور اس کی پرہیزگاری (کا شعور)]
ل ھـ م
[ لَھْمًا (س) کسی چیز کو ایک ہی مرتبہ میں نگل جانا۔ ہڑپ کر جانا۔]
(افعال) اِلْھَاماً نگلوانا۔ کسی کے دل میں کوئی بات القا کردینا۔ (لیکن یہ لفظ ایسی بات کے القا کے ساتھ مخصوص ہوچکا ہے جو اللہ تعالیٰ یا ملائِ اعلیٰ کی جانب سے دل میں ڈالی جاتی ہے۔ مفردات)
(آیت۔ 8) یہ آیت جوابِ قسم نہیں ہے بلکہ یہ سابقہ آیت میں قسم وَنَفْسٍ کا جز ہے۔ ان قسموں کا جوابِ قسم آگے آیات۔ 9 ۔ 10 ۔ میں آیا ہے۔ دَسّٰچھَا۔ یہ اگر مادہ ” دسس “ کے ثلاثی مجرد سے ہوتا تو یہ دَسَّھَا ہوتا۔ نہ سین پر کھڑا زبر ہوتا اور نہ اس کے آگے یا کا دندانہ ہوتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ باب تفعیل سے ماضی کا صیغہ دَسَّسَ ہے۔ قاعدے کے مطابق تیسری سین یا میں تبدیل ہوئی تو یہ دَسَّیَ ہوا۔ پھر قاعدے کے مطابق دَسّٰی استعمال ہوتا ہے۔ (دیکھیں آیت۔ 2/259، نوٹ۔ 2)
نوٹ۔ 2: آیت۔ 8 ۔ کا جملہ ساتویں قسم وَنَفْسٍ کے ساتھ مربوط ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نفس انسانی کو بنایا پھر اس کے دل میں فجور اور تقویٰ ، دونوں کا الہام کردیا۔ مراد یہ ہے کہ نفس انسانی کی تخلیق میں حق تعالیٰ نے گناہ اور طاعت، دونوں کے مادے اور استعداد رکھ دی ہے۔ پھر انسان کو ایک اختیار اور قدرت دے دی کہ وہ اپنے ارادے اور اختیار سے گناہ کی راہ اختیار کرلے یا طاعت کی۔ جب وہ اپنے ارادے اور اختیار سے ان میں سے کوئی راہ اختیار کرتا ہے تو اسی ارادے اور اختیار پر اس کو ثواب یا عذاب ملتا ہے۔ (معارف القرآن)
اس جگہ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ فطری الہام اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق پر اس کی نوعیت کے لحاظ سے کیا ہے۔ مثلاً حیوانات کی ہر نوع کو اس کی ضرورت کے مطابق الہامی علم دیا ہے جس کی بنا پر مچھلی کو تیرنا، پرندے کو اڑنا، شہد کی مکھی کو چھتہ بنانا اور بئے (چھوٹی چڑیا) کو گھونسلا بنانا آجاتا ہے۔ انسان کو اس کی مختلف حیثیتوں کے لحاظ سے الگ الگ قسم کے الہامی علوم دئیے گئے ہیں۔ انسان کی ایک حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک حیوانی وجود ہے۔ اس حیثیت سے جو الہامی علم اس کو دیا گیا ہے اس کی ایک نمایاں ترین مثال بچے کا پیدا ہوتے ہی ماں کا دودھ چوسنا ہے۔ اس کی تعلیم اگر خدا نے فطری طور پر اس کو نہ دی ہوتی تو کوئی اسے یہ فن نہ سکھا سکتا تھا۔ اس کی دوسری حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک عقلی وجود ہے۔ اس حیثیت سے خدا نے انسان کے آغاز سے مسلسل اس کو الہامی رہنمائی دی ہے جس کی بدولت وہ پے در پے ایجادات کر کے تمدن میں ترقی کر رہا ہے ان ایجادات کی تاریخ کا جو شخص بھی مطالعہ کرے گا وہ محسوس کرے گا کہ ان میں شاید ہی کوئی ایسی ہو جو محض انسانی فکر و کاوش کا نتیجہ ہو، ورنہ ہر ایک کی ابتدا اسی طرح ہوئی ہے کہ کسی شخص کے ذہن میں ایک بات آگئی اور اس کی بدولت اس نے کوئی چیز ایجاد کرلی۔ ان دونوں حیثیتوں کے علاوہ انسان کی ایک اور حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک اخلاقی وجود ہے۔ اس حیثیت سے بھی اللہ تعالیٰ نے اسے خیر و شر کا امتیاز اور خیر کے خیر ہونے اور شر کے شر ہونے کا احساس الہامی طور پر عطا کیا ہے۔ یہ امتیاز اور احساس ایک عالمگیر حقیقت ہے۔ دنیا میں کبھی کوئی انسانی معاشرہ خیر و شر کے تصورات سے خالی نہیں رہا۔ اور کوئی ایسا معاشرہ نہ تاریخ میں کبھی پایا گیا ہے اور نہ اب پایا جاتا ہے جس کے نظام میں بھلائی اور برائی پر جزا اور سزا کی کوئی نہ کوئی صورت اختیار نہ کی گئی ہو۔ اس چیز کا ہر زمانے، ہر جگہ اور ہر مرحلۂ تہذیب و تمدن میں پایا جانا، اس کے فطری ہونے کا صریح ثبوت ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہ اس حقیقت کا بھی ثبوت ہے کہ ایک حکیم اور دانا خالق نے اسے انسان کی فطرت میں ودیعت کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جن مادی اجزا سے انسان کا جسمانی وجود مرکب ہے اور دنیا کا مادی نظام جن قوانین کے تحت چل رہا ہے، ان کے اندر کہیں بھی اخلاق کے ماخذ کی نشاندہی نہیں کی جاسکتی۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 91:9قَدْ اَفْلَحَ : مراد پا چکا ہے وہ جس نے ][ مَنْ زَكّٰىهَا : پاک رکھا اس (نفس) کو ]
نوٹ۔ 3: گزشتہ آیات میں جو قسمیں کھائی گئی ہیں، وہ جس بات پر کھائی گئی ہیں، اسے آیات۔ 9 ۔ 10 ۔ میں بیان کیا گیا ہے کہ جو اپنے نفس کو فجور سے پاک کرے اور اس کے اندر بھلائی کو نشو و نما دے وہ فلاح پائے گا۔ اور وہ شخص نامراد ہوگا جو نیکی کے رجحانات کو دبا دے اور فجور کو تقویٰ پر غالب کر دے۔ بعض مفسرین نے ان آیات کے یہ معنی بیان کیے ہیں کہ فلاح پا گیا وہ جس کے نفس کو اللہ نے پاک کردیا اور نامراد ہوا وہ جس کے نفس کو اللہ نے دبا دیا، لیکن یہ تفسیر زبان کے لحاظ سے قرآن کے طرز بیان کے خلاف ہے۔ اور یہ تفسیر اسی موضوع پر قرآن کے دوسرے بیانات سے ٹکراتی ہے۔ مثلاً سورة اعلیٰ کی آیت۔ 14 ۔ میں ہے کہ فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی۔ سورة عبس میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ آپ 1 پر کیا ذمہ داری ہے اگر وہ پاکیزگی نہ اختیار کرے۔ ان دونوں آیتوں میں پاکیزگی اختیار کرنا بندے کا فعل قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قرآن میں جگہ جگہ یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ اس دنیا میں انسان کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ امتحان سرے سے بےمعنی ہوجاتا ہے اگر امتحان لینے والا پہلے ہی ایک امیدوار کو ابھار دے اور دوسرے کو دبا دے۔ اس لیے صحیح تفسیر وہی ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ زَکّٰچھَا اور دَسّٰچھَا کا فاعل بندہ ہے نہ کہ خدا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 91:10[وَقَدْ خَابَ : اور نامراد ہوگیا وہ جو ][ مَنْ دَسّٰـىهَا : خاک آلود کرتا رہا اس (نفس) کو ]
Ayah 91:11[كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ : جھٹلایا ثمود نے (رسول کو)][ بِطَغْوٰىهَآ : اپنی سرکشی کے باعث ]
Ayah 91:12[اِذِ انۢبَعَثَ : جب اٹھ کھڑا ہوا ][ اَشْقٰىهَا : ان کا زیادہ شقی ]
نوٹ۔ 4: آیات۔ 12 ۔ اور 14 ۔ پر غور کرنے سے ایک خاص بات یہ سامنے آتی ہے کہ اگرچہ اونٹنی کے قتل کا ارتکاب قوم کے اندر سے ایک ہی شخص نے کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کا مجرم پوری قوم کو ٹھہرایا اور اس کی سزا بھی پوری قوم کو دی۔ اس سے قرآن کے فلسفۂ تاریخ کا یہ نکتہ سامنے آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک شخص کے جرم میں پوری قوم کو سزا دیتا ہے اگر قوم اس جرم پر راضی ہو۔ اس کے وبال سے صرف وہی لوگ بچتے ہیں جو اپنے مقدور بھر اس کی اصلاح کے لیے جو کرسکتے ہوں وہ کر گزریں اور اگر کچھ نہ کرسکتے ہوں تو ایمان کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ اس سے بیزار اور کنارہ کش رہیں۔ اس سے نیچے نہ ایمان کا کوئی درجہ ہے نہ خدا کی پکڑے بچنے کی کوئی سبیل ہے۔
بِذَنَبِھِمْ کے الفاظ سے وضاحت ہوگئی کہ عذاب ان کے اوپر اس جرم کے سبب سے آیا کہ اللہ کے رسول کی تنبیہہ کے باوجود انھوں نے اونٹنی کو گزندپہنچانے کی جسارت کی۔ ظاہر ہے کہ اس جرم کے بعد اگر ان کو ڈھیل ملتی تو وہ اللہ کے رسول پر بھی ہاتھ ڈالنے کی جسارت کر گزرتے اور یہ وہ جرم ہے جس کی مہلت اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کو نہیں دی بلکہ جب کسی قوم نے رسول کے قتل کا ارادہ کیا تو وہ تباہ کردی گئی۔ (یہ سنت الٰہی رسولوں سے متعلق ہے۔ جبکہ انبیاء قتل کیے گئے ہیں۔ مرتب)
معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورة اس دور میں نازل ہوئی ہے جب قریش کے لیڈروں نے رسول اللہ ﷺ کے قتل کے مشورے شروع کر دئیے تھے۔ یہ مشورے چونکہ خفیہ تھے۔ اس وجہ سے قرآن نے بھی اشارات کی زبان میں ان کو آگاہی دے دی کہ اگر وہ کوئی ارادہ بد اپنے دل میں پرورش کر رہے ہیں تو اس کے دور رس نتائج پر نگاہ ڈال لیں۔ (تدبیر قرآن)
Ayah 91:13[فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ : تو کہا ان لوگوں سے اللہ کے رسول (علیہ السلام) نے ][ نَاقَةَ اللّٰهِ : (محتاط رہو) اللہ کی اونٹنی سے ][ وَسُقْيٰهَا : اور اس کے پینے (کی باری ) سے ]
(آیت۔ 13) ۔ نَاقَۃَ اللّٰہِ میں نَاقَۃَ کی نصب بتارہی ہے کہ اس کا فعل محذوف ہے جو کہ اِحْذَرُوْا (تم لوگ محتاط رہو) ہوسکتا ہے۔
Ayah 91:14[فَكَذَّبُوْهُ : پھر انھوں نے جھٹلایا ان (رسول (علیہ السلام) ) کو ][ فَعَقَرُوْهَا : تو انھوں نے ٹانگیں کاٹیں اس (اونٹنی) کی ][ فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ : پس دھمادھم برسایا ان پر (عذاب)][ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ : ان کے رب نے ان کے گناہ کے باعث ][ فَسَوّٰىهَا : تو اس نے برابر کردیا اس (قوم) کو ]
Ayah 91:15[وَلَا يَخَافُ : اور وہ نہیں ڈرتا ] [عُقْبٰهَا : اس کے نتیجے سے ]
نوٹ۔ 5: آیت۔ 15 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو تباہ کرتا ہے، تو اپنی اس سنت کے مطابق کرتا ہے جو اس نے اس دنیا کی مصلحت اور بہبود کے لیے اپنے علم اور قدرت کے تحت ٹھہرا رکھی ہے اس وجہ سے نہ اس کو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ نتیجہ کے اعتبار سے اس کے اس فیصلے میں کوئی غلطی ہوسکتی ہے اور نہ یہ خوف ہوتا ہے کہ اس کو کوئی چیلنج کرسکتا ہے۔ اس سے ضمنی طور پر ان لغو بیانات کی بھی نفی ہوجاتی ہے جو تو رات کی کتاب پیدائش میں اس کے راویوں نے ملائے ہیں۔ مثلاً ” اور خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی اور اس کے تصور اور خیالات سدا (ہمیشہ) برے ہیں، تب خداوند زمین پر انسان کو پید ا کرنے سے ملول ہوا اور دل میں غم کیا۔ “
(پیدائش۔ باب۔ 6 ۔ آیت۔ 5 ۔ 6) (تدبر قرآن)
مورخہ 16 ۔ ذی الحجہ 1431 ھ بمطابق 23 ۔ نومبر 2010 ء