Explained with ayahs 1–14
شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ
فجر تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چناچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں لوگوں نے پوچھا اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں ؟ فرمایا یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس…
Read the full tafseer →سورة الْفَجْر 4
یعنی وہ اپنے زمانے کی ایک بےنظیر قوم تھے، اپنی قوت اور شان و شوکت کے اعتبار سے کوئی قوم اس وقت دنیا میں ان کی ٹکر کی نہ تھی۔ قرآن میں دوسرے مقامات پر ان کے متعلق فرمایا گیا ہے
وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً
، " تم کو جسمانی ساخت میں خوب تنو مند کیا " (الاعراف، آیت 69)۔
فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً
، " رہے عاد تو انہوں نے زمین میں کسی حق کے بغیر اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور کہنے لگے کون ہے ہم سے زیادہ زورآور ؟ " (حم السجدہ، آیت 15)۔
وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ
، " اور تم نے جب کسی پر ہاتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ارم ذات العماد، لفظ ارم عاد کا عطف بیان یا بدل ہے اور مقصود اس سے قبیلہ عاد کی دو قسموں میں سے ایک کی تعین ہے یعنی عاد اولیٰ جو انکے متقدمین ہیں ان کو عاد ارم کے لفظ سے اسلئے تعبیر کیا کہ یہ لوگ اپنے جدا علی ارم سے بہ نسبت عاد اخری کے قریب تر ہیں۔ ان کو اس جگہ قرآن کریم عاد ارم کے لفظ سے اور سورة نجم میں اھلک عاد الاولی کے عنوان سے تعبیر فرماتا ہے۔ ان کی صفت میں قرآن کریم نے ذات العماد فرمایا۔ عماد اور عمود ستون کو کہتے ہیں۔ قوم عاد کو ذات العماد اسلئے کہا گیا کہ انکے قدر وقامت بڑے طویل تھے اور یہ قوم اپنے ڈیل ڈول اور قوت و طاقت میں سب دوسری قوموں سے ممتاز تھی ان کے اس امتیاز کو خود قرآن کریم…
Read the full tafseer →’اَلَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُہَا فِی الْبِلَادِ‘۔ تعمیری ترقیوں کے ساتھ ساتھ یہ لوگ اپنے قد و قامت اور زور و قوت کے لحاظ سے بھی نہایت نمایاں تھے۔ ان سے پہلے یا ان کی معاصر قوموں میں سے کوئی قوم ان کی برابری نہ کر سکی۔
Read the full tafseer →8۔ 1 یعنی ان جیسی دراز قامت اور قوت وطاقت والی قوم کوئی اور پیدا نہیں ہوئی، یہ قوم کہا کرتی تھی (من اشد منا قوۃ) ہم سے زیادہ کوئی طاقتور ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
4:”ارم“ قوم عاد کے جد اعلیٰ کا نام ہے، اس لیے قوم عاد کی جس شاخ کا یہاں ذکر ہے، اس کو عاد ارم کہا جاتا ہے۔ اور ان کو ستونوں والا کہنے کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ان کے قد و قامت اور ڈیل ڈول بہت زیادہ تھے اسی لیے آگے فرمایا گیا ہے کہ ان جیسے لوگ کہیں اور پیدا نہیں کیے گئے۔ اور بعض حضرات نے اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ انہوں نے اپنی تعمیرات میں بڑے بڑے ستون بنائے ہوئے تھے۔ ان کے پاس حضرت ہود ؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا جن کا مفصل واقعہ سورة اعراف : 65 اور سورة ہود : 50 میں گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
الم ترکیف .................................... المرصاد
اس قسم کے مطابق سیاق کلام میں استفہام کا صیغہ پرکشش ہوتا ہے اور وہ سامعین کو زیادہ متوجہ کرنے کا باعث ہوتا ہے۔ ابتداً یہ خطاب تو نبی ﷺ کو ہے لیکن بعدہ ہر اس شخص کو خطاب ہے جو ان اقوام کے عبرت آموز واقعات سے سبق لینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جس زمانے میں یہ آیات اتریں ، مخاطبین کے درمیان ان اقوام کے قصے معروف ومشہور تھے۔ اس علاقے میں جو آثار قدیمہ ابھی تک باقی ہیں اور جو قصے ابھی تک زبان زدعام ہیں ، ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان اقوام کے بارے میں عرب اچھی طرح جانتے تھے۔ یہاں فعل کا فاعل ” ربک “ کو لایا گیا ہے۔ اس میں حضور اکرم ﷺ اور اس وقت کے…
Read the full tafseer →4 یعنی اس وقت دنیا میں اس قوم جیسی کوئی قوم مضبوط و طاقتور نہ تھی، یا ان کی عمارتیں اپنا جواب نہیں رکھتی تھیں۔
Read the full tafseer →آیت 8{ الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُہَا فِی الْْبِلَادِ۔ } ”جن کے مانند نہیں پیدا کیے گئے دنیا کے ملکوں میں۔“
یعنی قد و قامت اور جسمانی قوت کے لحاظ سے دنیا میں ان کا کوئی ثانی پیدا نہ ہوا۔ ان الفاظ کا ایک مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس قوم نے جس معیار اور جس انداز کی تعمیرات کی تھیں ایسی تعمیرات ان سے پہلے دنیا میں کسی اور قوم نے نہیں کی تھیں۔ شاید اسی لیے تاریخ میں شداد کی ”جنت ارضی“ مشہور ہے۔
Read the full tafseer →7 یعنی اتنی بلند قامت، زور آور اور مضبوط قوم روئے زمین پر اور کہیں موجود نہ تھی۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس دور میں ساری دنیا میں انہیں کا ڈنکا بجتا تھا، کوئی دوسری قوم ان کی ٹکر کی موجود نہ تھی۔ یہ لوگ بھی آخرت کے منکر فلہٰذا بدکردار اور اللہ کے باغی تھے۔ ان پر سخت ٹھنڈی اور تیز آندھی کا عذاب آیا جس نے انہیں تہس نہس کرکے رکھ دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
3۔ (زور قوت، قدوقامت کے لحاظ سے) (آیت) ” بعاد “۔ قوم عاد پر حاشیہ سورة الاعراف (پ 8) میں گزر چکا، (آیت) ” ارم ذات العماد “۔ قوم عاد سے مراد عاد اولی ہے اور ارم اسی کے شجرہ نسب میں کوئی بڑا شخص ہوا ہے، جس کی جانب وہ قوم منسوب تھی، وھم ولد عادبن ارم بن عوص بن سام بن نوح (ابن کثیر) تسمیۃ لھم باسم جدھم (کشاف) ھو اسم لجد عاد (کبیر) ارم نسبۃ لھم باسم جدھم (بحر) (آیت) ” التی “۔ یعنی وہ قوم یا قبیلہ۔ اے تلک القبیلۃ (معالم) المراد من السیاق انما ھو الاخبار عن القبیلۃ (ابن کثیر) (آیت) ” ارم ..... البلاد “۔ بعض اہل تفسیر نے (اللہ انہیں معاف فرمائے) ارم کے معنی بہشت کے لے کر اور اسے کوئی شہر قرار دے کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے…
Read the full tafseer →التی لم یخلق مثلھا فی البلاد . یہ ارم کی صفت ہے ‘ خواہ ارم کو قبیلہ کا نام کہا جائے یا شہر کا۔ اگر قوم (یا قبیلہ)
مراد ہو تو مثلھا کا معنی یہ ہوگا کہ اس قوم کی طرح قد و قامت اور قوت میں کوئی دوسری قوم نہیں پیدا کی گئی اور اگر بستی مراد ہو تو یہ مطلب ہوگا کہ عمارات کی بلندی ‘ پائیداری اور حسن میں اس جیسی کوئی بستی پیدا نہیں ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(87) جن کے قد و قامت ستون جیسے لانبے تھے جن کے برابر زور و قوت میں کوئی نہیں پیدا کیا گیا، یا یہ کہ ارم اس شہر کا نام ہے جو انہوں نے بہت مضبوط بنایا تھا جس میں سونے اور چاندی کے ستون تھے۔ اس کی خوبصورتی میں کوئی شہر اس کے برابر نہیں تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
(الم ترکیف فعل ربک بعاد)…:”العماد“ اسم جنس ہے جو واحد و جمع سب پر آتا ہے، ستون۔”ارم“ نوح ؑ کی اولاد میں سے ایک آدمی کا نام ہے جس کی نسل سے عاد ارم تھے۔ عاد ارم سے مراد عاد اولیٰ ہیں جن کی طرف ہود ؑ بھیجے گئے تھے اور عاد ثانیہ یا عاد اخریٰ ثمود کو کہتے ہیں ڈ۔ بعض کا خیال ہے کہ ارم خاص اس جگہ کا نام تھا جہاں عاد رہتے تھے۔ (واللہ الع) البتہ حفاظ ابن کثیر ؒ نے ان لوگوں کی باتوں کو خرافات قرار دیا ہے جن ہوں نے ارم ایک ایسا شہر بیان کیا ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی اور ایک چاندی کی تھی۔ ”ذات العماد“ کا لفظی معنی ہے ”ستونوں والے۔“ ان کا یہ لقب اس لئے ہے کہ وہ بڑے قد آور تھے (جس طرح کھجوروں کے تنے۔…
Read the full tafseer →التی لم یخلق مثلھا فی البلاد۔
مثلھاکی ضمیرقبیلہ کی طرف لوٹتی ہے یعنی اس قبیلہ جیسا شہروں میں کوئی پیدا نہیں کیا گیا، یعنی قوت، مضبوطی، بڑے جسم اور لمبے قد ہیں، حضرت حسن بصری اور دوسرے علماء سے یہی مروی ہے، حضرت عبداللہ کی قرات میں التی لم یخلق مثلھم فی البلاد۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ ضمیر مدینہ کی طرف لوٹتی ہے پہلازیادہ نمایاں اور اسی پر اکثر علماء کا اتفاق ہے جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے جس نے ارم کو شہر تسلیم کیا ہے اس نے حذف کو مقدر کیا ہے، پھر معنی یہ ہوگا تیرے رب نے عام ارم کے شہر کے ساتھ کیا کیا ؟ اس تعبیر کی صورت میں ارم مونث معرفہ ہوگا، ابن عربی نے یہ رائے اپنائی ہے کہ اس سے مراد مشتق ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
91۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے مقدام بن معدیکرب ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارم ذات العماد کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان میں سے ایک آدمی تھا وہ ایک چٹان کے پاس آتا تو اسے اپنے کندھوں پر اٹھا لیتا اور اس کو جس قبیلہ پر چاہتا پھینک دیتا اور ان کو ہلاک کردیتا۔
92۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ارم ہی دمشق ہے۔
93۔ ابن جریر وعبد بن حمید وابن عساکر نے سعید المقبری (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
94۔ ابن عساکر نے سعید بن المسیب (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
95۔ عبد بن حمید نے خالد الرابعی (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
96۔ ابن جریر وابن المنذر نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے…
Read the full tafseer →[الَّتِيْ لَمْ يُخْلَقْ : وہ، پیدا نہیں کیا گیا ][ مِثْلُهَا : جن کے جیسا ][ فِي الْبِلَادِ : سارے شہروں میں ]
(آیت۔ 8) لَمْ یُخْلَقْ کا نائب فاعل ہونے کی وجہ سے مِثْلُھَا میں مِثْلُ حالت رفع میں آیا ہے۔
Read the full tafseer →﴿ الَّتِيْ لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ۪ۙ008﴾ اس قبیلہ کے لوگ ایسے تگڑے اور قوت والے تھے کہ ان جیسے شہروں میں پیدا نہیں کیے گئے۔ اسی قوت کے زور پر انہوں نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ﴿مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً﴾ كون ہے جو قوت کے اعتبار سے ہم سے زیادہ سخت ہے، اللہ تعالیٰ نے ان پر ہوا کا عذاب بھیج دیا جو سات رات اور آٹھ دن ان پر مسلط رہی اور سب ہلاک ہو کر رہ گئے۔
روح المعانی میں لکھا ہے کہ ارم حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے سام بن نوح کا بیٹا تھا اور عاد اور بن عاصی اس کا پوتا تھا۔
وھو عطف بیان لعاد للایذان بانھم عاد الاولی وجوز ان یکون بدلا ومنع من الصرف للعلمیة والتانیث باعتبار القبیلة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت :
قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
5:۔ ” الم تر “ یہ تخوید دنیوی کا پہلا نمونہ ہے برائے تزہید فی الدنیا۔ حاصل یہ ہے کہ دنیا کی کوئی چیز نہیں دنیا کے پیچھے نہ بھاگو بلکہ آخرت کی فکر کرو۔ اور اللہ تعالیٰ سے مبارک وقتوں میں اپنے گناہوں کی معافی مانگو قوم عاد کو دیکھو یہ کس قدر طاقتور قوم تھی دنیا میں کوئی ان کا ہمسر نہ تھا۔ مگر انہوں نے سرکشی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تہس نہس کردیا اور ان کا دنیوی ساز و سامان اور کرو فر ان کے کسی کام نہ۔ ” عاد “ ارم یا ارم۔ عاد کے باب ادا کا نام ہے۔ اس صورت میں بدل مبدل منہ کی ترکیب درست نہ ہوگی بلکہ مضاف مقدر ہوگا۔ اصل میں عاد بن ارم تھا۔ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ ۔ ” ذات العماد “ لمبے قد والے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
(فجر اور دس راتیں )
ارشاد ہوتا ہے والفجر قسم ہے فجر کی ولیال عشر اور قسم ہے دس 10 راتوں کی ۔ فجر اور دس راتوں سے کون سی فجر اور کون سی دس راتیں مراد ہیں اس میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض فرماتے ہیں کہ فجر سے مطلق مراد ہے ۔ جو ہر روز طلوع ہوتی ہے۔ اور دس راتوں سے مراد رمضان المبارک کی آخری دس راتیں ہیں ۔ جن میں لیلۃ القدر جسیی عظیم اور بابرکت رات آتی ہے۔ اور جس میں عبادت کا اجر ثواب ایک ہزار مہینے سے زیادہ ہوتا ہے ۔ ان راتوں میں اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی شامل حال ہوتی ہے۔ دنیا میں عظیم انقلاب برپا کرنے والی کتاب قرآن پاک کے نزول کی ابتداء بھی اسی رات میں ہوئی ۔
بعض فرماتے ہیں کہ فجر…
Read the full tafseer →الَّتِيْ لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُہَا فِي الْبِلَادِ 8
«لَمْ»
وَ «لَمْ» نفي للماضي وإن کان يدخل علی الفعل المستقبل، ويدخل عليه ألف الاستفهام للتّقریر . نحو : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] ، أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوی [ الضحی/ 6]
( لم ( حرف ) لم ۔ کے بعد اگرچہ فعل مستقبل آتا ہے لیکن معنوی اعتبار سے وہ اسے ماضی منفی بنادیتا ہے ۔ اور اس پر ہمزہ استفہام تقریر کے لئے آنا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] کیا ہم نے لڑکپن میں تمہاری پرورش نہیں کی تھی ۔
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
ترکیب ¦ ارم ذات العماد عطف بیان لعادا وبدل منہ وارم غیر منصرف للتعریف والتانیث وارم 1 ؎ جدعادلانہ عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح وقال قتادہھی قبیلۃ من عاد قال ابو عبیدہ ھما عادان فالاولیٰ ارم۔ ومعنی ذات العماد و ذات القوۃ والشدۃ وقیل ذات الطوال یقال رجل طویل العماد ای القامۃ وفی الصحاح العماد الابنیۃ الرفیعۃ تذکر و تؤنث۔ التی لم یخلق الخ صفۃ لعاد وقیل صفۃ ارم علی قول من قال ان ارم قریۃ وارض وثمود بالنصب عطفا علی عاد مجرور محلا علی انہ اسم للقبیلۃ ففیہ التانیث والتعریف فھو غیر منصرف الذین الخ صفۃ لثمود جابوا الجوب القطع ومنہ جاب البلاد واذا قطعھا ومنہ جیب القمیص لانہ قطع بالواد متعلق بجابوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ ۔ اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۔ الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبِلاَدِ ۔ (الفجر : 6 تا 8)
(کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ آپ کے رب نے کیا برتائو کیا عاد کے ساتھ۔ ستونوں والے ارم کے ساتھ۔ ان جیسی کوئی قوم ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی۔ )
آفاق کی شہادت کے بعد تاریخ سے استدلال
گزشتہ آیات میں قسموں کی صورت میں آفاق کی نشانیوں کی شہادت کے بعد قوموں کی تاریخ سے استدلال کیا جارہا ہے، کیونکہ انسانوں کی فکری کوتاہی یہ ہے کہ وہ آفاق وانفس کی نشانیوں کی طرف کم ہی توجہ دیتے ہیں۔ لیکن تاریخی شواہد اور وہ بھی اپنے جیسے انسانوں کے براہ راست انسانوں پر اثر کرتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں جس طرح اس کی قدرت کی نشانیاں پائی جاتی ہیں اسی طرح یہ بات بھی اس کی قدرت اور قوت کا مظہر ہے کہ اس نے عاد اور ثمود جیسی قوموں کو نیست و نابود کیا جن کی تباہی سے لوگوں نے سکون پایا۔
موجودہ جغرافیے کے مطابق قوم عاد کی رہائش عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندوبالا پہاڑ تھے۔ اس کے باسی جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے دنیا میں ان کا ثانی کوئی نہیں پیدا کیا گیا۔ انھوں نے پہاڑتراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس…
Read the full tafseer →8 : الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبِلَادِ (جن کے برابر شہروں میں کوئی شخص پیدا نہیں کیا گیا) یعنی عاد کی طرح ان کی طاقت اور ان کے لمبے قد میں۔ ایک آدمی کی لمبائی چار سو ہاتھ تھی۔ یا شداد کے شہروں جیسا شہر پیدا نہیں کیا گیا۔
Read the full tafseer →8 ۔” التی لم یخلق مثلھا فی البلاد “ اور ان کا نام ذات ابلاد اس لئے رکھا گیا ہے کہ وہ بڑی بلند عمارتوں والے تھے، چلنے والے تھے اور یہ قتادہ ، مجاہدہ اور کلبی رحمہم اللہ کا قول ہے اور عطاء کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ ان کا نام ذات العماد رکھا گیا ان کے لمبے قد کی وجہ سے ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یعنی ان کی لمبائی ستون کی طرح تھی اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ان میں سے ایک کی لمبائی بارہ گز تھی۔ ” لم یخلق مثلھا فی البلاد “ یعنی اس قبیلہ کی مثل لمبائی اور قوت میں نہیں پیدا کیا گیا اور یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کہا تھا ” من اشد منا قوۃ “
مثلھا فی البلاد کہنے کی کیا وجہ ہے
عماد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
1۔ 14۔ دس راتوں اور طاق اور جفت کی تفسیر اگرچہ سلف نے طرح طرح سے کی ہے لیکن امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور ابن زبیر ؓ اور مجاہد اور اکثر سلف کا قول یہی ہے کہ دس راتوں سے مراد ماہ ذی الحجہ کی اول کی دس راتیں ہیں یہی قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ مسند 3 ؎ امام احمد نسائی و مستدرک حاکم بیہقی وغیرہ میں حضرت جابر ؓ کی مرفوع روایت میں یہی تفسیر آچکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ان دس راتوں سے مراد شروع ذی الحجہ کی دس راتیں ہیں۔ حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اور طاق اور جفت کی تفسیر میں یہ قول صحیح معلوم ہوتا ہے کہ طاق اور جفت سے مراد طاق اور جفت نمازیں ہیں جیسے مغرب اور عشاء ‘…
Read the full tafseer →(الَّتِيْ لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ ) یعنی تمام شہروں میں طاقت اور سختی میں قوم عاد جیسا کوئی نہ تھا۔ جیسا کہ ان کے نبی حضرت ہود نے ان سے فرمایا (واذکروا اذ جعلکم۔۔۔ تا۔۔۔ تفلحون۔ الاعراف 69) اور یاد کرو جب اللہ نے تمہیں قوم نوح کے بعد خلیفہ بنایا اور ڈیل ڈول میں تمہیں خوب تنومند کیا۔ پس اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا یاد کرو شاید کہ تم فلاح پاؤ۔
Read the full tafseer →(9) قوم عاد کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن کی مانند کوئی دوسری قوم پیدا نہیں کی گئی تھی "۔ ان کی قوت و شوکت کے اعتبار سے، اور جن کا دعوی تھا کہ " من اشد منا قوۃ " کہ " ہم سے بڑھ کر طاقت اور کس کی ہوسکتی ہے ؟ " اور اس قوم کا مسکن احقاف کا وہ علاقہ تھا جو کل آج کل موجودہ مملکت سعودیہ کے جنوب مغرب میں واقع صحرائے عرب، الربع الخالی کے نام سے مشہور و معروف ہے، جو کہ عمان سے لے کر یمن تک کی حدود کے وسیع و عریض علاقے پر پھیلا ہوا ہے۔ اور جس کے بارے میں آج کوئی اس بات کا گمان بھی نہیں کرسکتا کہ اس لق و دق صحرا میں کبیھ کوئی اس طرح کی متمدن قوم آباد رہی ہوگی۔ والتفصیل فی المفصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
نیک و بد کی تمیز اور میدان حشر
تشریح : اس سورت میں ان لوگوں کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو شیطان کے بہلاوے میں آ کر سرکشی ' نفرت ' نافرمانی ' تکبر اور ناشکر گزاری کی عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ بیشک یہ مال و دولت ' عزت شہرت اور آل و اولاد کی کثرت میں زیادہ سے زیادہ لالچی اور انسانیت کی حدود سے دور ہوتے ہوئے بس اپنے میں ہی مست ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں مال کی محبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مال دینے والے (اللہ) سے ہی دور ہوجاتے ہیں اور حرام و حلال کا فرق بھول جاتے ہیں۔ نہ ان کو یہ خیال رہتا ہے کہ یتیم کا مال ہے یا غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ بس وہ تو صرف مال کی محبت ہی میں کھو جاتے ہیں۔ اور جب کبھی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة الفجر۔
آیات 1 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ف 13 مفسرین کہتے ہیں کہ ثمود پہلے لوگ ہیں جنہوں نے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے۔ (شوکانی) آج کل اس ” وادالقریٰ “ کا نام ” اعلاء “ ہے اور وہ مدائن صالح جو ثمود کا مرکزی شہر تھا) سے تقریباً بیس میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ (دیکھیے حجر :82)
Read the full tafseer →(89:8) التی لم یخلق مثلہا فی البلاد : یہ جملہ عاد کی صفت ہے یا ارم کی صفت ہے۔ چونکہ عاد سے قبیلہ عاد اور ارم سے قبیلہ ارم مراد ہے اس کی رعایت سے التی بصیغہ تانیث لایا گیا ہے۔
لم یخلق مضارع مجہول نفی جحد بلم۔ نہیں پیدا کیا گیا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب قبیلہ عاد اور ارم کے لئے ہے۔
البلاد : بلد کی جمع بمعنی شہر یا ملک۔ جس (قبیلہ) کی مثل (دنیا کے) ملکوں میں پیدا نہیں کیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
لغات القرآن۔
لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔
تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
صاحب قوت اقتدار لوگوں کا عذاب الٰہی سے ہلاک ہونا۔
(ف 1) فرمایا کہ کیا تم نے نہ دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے عاد یعنی ارم ستون جیسے دراز قد والوں کے ساتھ کیسامعاملہ کیا، زور وقوت اور طول قیامت میں عاد کے بیٹوں میں سے شداد بھی ہے جس نے دنیا پر بادشاہت کی اور تمام بادشاہ اس کے مطیع ہوگئے اور اس نے جنت کا ذکر سن کر براہ سرکشی دنیا میں جنت بنانی چاہی اور اس ارادہ سے ایک شہرعظیم بنایاجس کے محل سونے چاندی کی اینٹوں سے تعمیر کیے گئے اور زبرجد اور یاقوت کے ستون اس کی عمارتوں میں نصب ہوئے اور ایسے ہی فرش مکانوں اور ستونوں میں بنائے گئے سنگریزوں کی جگہ آبدار موتی بچھائے گئے ہر محل کے گرد جواہر پر نہریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
[5] عاد کا ذکر پچھلی سورتوں میں گزر چکا ہے۔ یہاں ان کا ذکر ارم کی نسبت کے ساتھ ہوا ہے جو ان کے اجداد میں سے کسی بڑے شخص کا نام تھا۔ ان کو ستونوں والے اس لئے کہا گیا کہ وہ ستونوں پر اونچی اونچی عمارتیں بناتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سورة الفجر
1: اس سورت میں قسموں کے انداز میں شواہد کو پیش فرمایا ہے اور دلائل کا ذکر کیا ہے ۔ اسی واسطے فرمایا ہے ۔ ھل فی ذلک قسم لذی حجر ۔ کہ اس میں عقلمندوں اور غوروفکر کرنے والوں کے لئے ایک بین دلیل ہے ۔ اس لئے مقام اور موقع کے لحاظ سے زیادہ موزوں یہ ہے کہ یہاں الفجر سے مراد فجر قیامت ہو اور دس راتوں سے مراد وہ دس راتیں ہوں جن میں نافرمان قوموں پر عذاب بھیجا گیا اور الشفع والوتر حسوما اور الیل اذیسر ۔ غرض ہر وہ رات ہے جو معذب قوموں پر آتی ہے ۔ اس نہج سے یہ دعوی ان ربک لبا لمرصاد بالکل درست اور صحیح ثابت ہوگا ۔ یعنی ان معذب قوموں کی تاریخ پڑھو اور ان کے حالات کا مطالعہ کرو ۔ تمہیں معلوم…
Read the full tafseer →(8) کہ اس جیسا کوئی شہر شہروں میں نہیں بنایا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ف 1۔ اس قوم کے دو لقب ہیں۔ عاد اور ارم، کیونکہ عاد بیٹا ہے عاص کا اور وہ ارم کا اور وہ ساسم بن نوح (علیہ السلام) کا، پس کبھی ان کو عاد کہتے ہیں، تسمیہ لہم باسم ابیہم۔ اور کبھی ارم کہتے ہیں، تسمیہ لہم باسم جدہم، اور اس ارم کا ایک بیٹا ارم ہے اور عابر کا بیٹا ثمود جس کے نام سے ایک قوم مشہور ہے۔ پس عاد اور ثمود دونوں ارم میں جاملے ہیں، عاد بواسطہ عاص کے اور ثمود بواسطہ عابر کے۔
Read the full tafseer →جن کی مثل اس وقت کوئی نہ پیدا کیا گیا تھا
8 ؎ جس زمانہ میں یہ قوم تھی اس زمانہ میں ان ہی کا طوطی بولتا تھا اور ان کے برابر کی کوئی دوسری قوم اس وقت موجود نہ تھی ۔ قوم کے زمانہ کی بات اور قوم عاد ہی کے برابر کی بات کی جا رہی ہے مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے جو ترقی اس زمانہ میں کی اور جس طرح ڈنکا ان لوگوں کا اس زمانہ میں بجا یہ حال کسی دوسری قوم کو اس وقت میسر نہ آیا ۔ عاد قوم بہت قوی ہیکل تھی اور ان کی جسمانی حالت بھی اس وقت کی قوموں میں مثالی تھی پھر ان کی عمارات کا معاملہ بھی بڑا عجیب تھا کہ بہت اونچی اونچی عمارات بناتے تھے بلکہ اس زمانہ میں اس فن نے اتنی ترقی کی کہ ان لوگوں کا تو امتیازی نشان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
They are introduced here by the epithet: ذَاتِ الْعِمَادِ (the men of tall pillars)
The word ` imad' and 'amud' means 'pillar'. The people of ` Ad are mentioned as the men of tall pillars because they were very tall in stature. They were a stronger and more powerful people than any other nations. The Qur'an describes them explicitly, thus:
لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ (the like of whom were never created in the lands...89:8) The Qur'an made it clear that this nation was the tallest and the strongest in their physical stature, but the Qur'an did not state the exact measurement of…
Read the full tafseer →4 That is, they were a matchless people of their time; no other nation in the world compare with them in strength, glory and grandeur. At other places in the Qur'an, it has been said about them: "Your Lord made you very robust." (Al-A`raf: 69) "As for the `Ad, they became arrogant with pride in the land, without any right, and said: `Who is stronger than us in might"? (Ha MIm As-Sajdah: 15) . "When you seized somebody, you seized him like a tyrant." (Ash-Shu`ara' 130)
Read the full tafseer →