89. Surah Al-Fajr

الفجرThe Dawn · 30 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 89:1

وَ الْفَجْرِۙ Open ayah 89:1 in the Quran reader

(ہم کو) قسم ہے فجر کی۔

Ayah 89:2

وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ Open ayah 89:2 in the Quran reader

اور دس راتوں کی۔

[1] مراد چاند کے عروج وزوال کی دس دس راتیں ہیں جن میں چاند کا تغیر نہایت نمایاں ہوتا ہے۔ مہینے کی پہلی دس راتوں میں چاند باریک ناخن کی شکل سے بڑھ کر آدھے سے زیادہ ہوجاتا ہے۔ دوسری دس راتوں میں بتدریج بڑھ کر پورا ہوجاتا ہے اور رات کا بڑا حصہ اس سے روشن رہتا ہے، آخری دس راتوں میں بتدریج چھوٹا ہوتا چلا جاتا ہے اور رات کا بیشتر حصہ تاریک سے تاریک تر ہوتا جاتا ہے۔
Ayahs 89:3–4

وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ Open ayah 89:3 in the Quran reader

اور جفت کی اور طاق کی۔

وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِۚ Open ayah 89:4 in the Quran reader

اور رات کی جب وہ گزرنے لگے۔

[2] جو عدد دو پر تقسیم ہو سکے وہ جفت اور جو نہ ہو سکے وہ طاق کہلاتا ہے۔ یہاں سلسلہ کلام کی مناسبت سے جفت اور طاق کا مطلب تغیر ایام ہے۔ یعنی مہینے کی تاریخیں ایک سے دو ، دو سے تین اور تین سے چار ہوتی جاتی ہیں اور ہر تبدیلی ایک نئی کیفیت لے کر آتی ہے۔
Ayahs 89:5–6

هَلْ فِیْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍؕ Open ayah 89:5 in the Quran reader

یقینا ان (چیزوں) میں قسم ہے کسی صاحب فہم کے لئے ؟

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ۙ Open ayah 89:6 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کیا تم نے (اس بات پر) نظر نہیں کی کہ تمہارے رب نے کیا (برتاؤ) کِیا قوم عاد کے ساتھ۔

[3] یعنی جو قسمیں مذکور ہوئیں ان میں سے ہر قسم صاحب فہم کے لئے تاکید کلام ہی کا پہلو رکھتی ہے۔ [4] جس بات پر یہ قسمیں کھائی گئی ہیں اس کا ذکر نہیں کیا گیا لیکن بعد کی آیات سے واضح ہوجاتا ہے کہ کفار آخرت اور جزاسزا کا انکار کر رہے تھے۔ اس پر یہ قسمیں کھائی گئیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قائم کئے ہوئے حکیمانہ نظام کے مشاہدے کے بعد بھی اس امر کی شہادت دینے کے لئے کسی اور قسم کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟ لہذا جس اللہ نے یہ نظام قائم کیا ہے اس کی قدرت سے یہ بعید نہیں ہے کہ وہ آخرت برپا کرے اور انسان سے اس کے اعمال کی باز پرس کرے اور نیکی کی جزا اور بدی کی سزا دے۔
Ayahs 89:7–9

اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۪ۙ Open ayah 89:7 in the Quran reader

جو اِرَم (کے نام سے مشہور تھی) اور اونچے ستونوں والی تھی۔

الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:8 in the Quran reader

جس کی مانند (کوئی قوم دنیا کے) ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی تھی ؟۔

وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ۪ۙ Open ayah 89:9 in the Quran reader

اور ثمود (کے ساتھ کیا کیا) جو وادیوں میں چٹانیں تراشتے تھے ؟

[5] عاد کا ذکر پچھلی سورتوں میں گزر چکا ہے۔ یہاں ان کا ذکر ارم کی نسبت کے ساتھ ہوا ہے جو ان کے اجداد میں سے کسی بڑے شخص کا نام تھا۔ ان کو ستونوں والے اس لئے کہا گیا کہ وہ ستونوں پر اونچی اونچی عمارتیں بناتے تھے۔
Ayahs 89:10–13

وَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ۪ۙ Open ayah 89:10 in the Quran reader

اور میخوں والے فرعون کے ساتھ (کیا کیا) ؟

الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:11 in the Quran reader

(یہ وہ لوگ تھے) جنہوں نے (دنیا کے) ملکوں میں سر اٹھا رکھا تھا

فَاَكْثَرُوْا فِیْهَا الْفَسَادَ۪ۙ Open ayah 89:12 in the Quran reader

اور ان میں بہت فساد پھیلا رکھا تھا۔

فَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍۚۙ Open ayah 89:13 in the Quran reader

آخرکار تمہارے رب نے (ان سب پر) عذاب کا کوڑا برسا دیا

[6] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة ص حاشیہ 7 صفحہ 1094۔
Ayahs 89:14–15

اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ Open ayah 89:14 in the Quran reader

بیشک تمہارا رب گھات میں (لگا ہوا) ہے۔

فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِؕ Open ayah 89:15 in the Quran reader

لیکن انسان (کا حال یہ ہے کہ) جب اس کا رب اس (کے ایمان) کو آزماتا ہے اور اسے عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ (خوش ہو کر) کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنادیا

[7] مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ کائنات کی ایک ایک چیز کی نگرانی کر رہی ہے۔ مجال نہیں کہ کوئی چیز اس سے اوجھل ہو سکے۔ ہر چیز کی باگ اس کے ہاتھ میں ہے۔ اگر کوئی قوم سرکشی کی روش اختیار کرتی ہے تو وہ اس کو مہلت تو ضرور دیتا ہے لیکن ایک خاص حد تک جس سے تجاوز کرنے کی اجازت وہ نہیں دیتا۔ اگر وہ حد سے تجاوز کرتی ہے تو وہ فوراً اس کو دھر لیتا ہے۔ یہ صورت حال اس امر کی واضح دلیل ہے کہ یہ دنیا کسی کھلنڈرے کا کھیل نہیں ہے بلکہ ایک بامقصد کارخانہ ہے۔ اس کے اندر قوموں کی تغیری و بحالی کا جو ضابطہ اللہ تعالیٰ نے جاری کر رکھا ہے وہ اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ اس کے ساتھ ایک روز جزا اور سزا بھی ہے جس کا ظہور میں آنا یقینی ہے۔
Ayah 89:16

وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِۚ Open ayah 89:16 in the Quran reader

اور جب وہ اس (کے ایمان) کو (اس طرح) آزماتا ہے کہ اس کی روزی اس پر تنگ کردیتا ہے تو وہ (تنگ دل ہو کر) کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا۔

[8] مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا کی موجودہ راحت و تکلیف ہی کو عزت و ذلت کا معیار سمجھتا ہے حالانکہ دونوں حالتوں میں اس کی آزمائش ہے۔ نعمت دے کر اس کی شکرگزاری اور سختی دے کر اس کے صبر و رضا کو جانچا جا رہا ہے۔ نہ یہاں کا عیش و آرام اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول و معزز ہونے کی دلیل ہے، نہ محض تنگی اور سختی مردود ہونے کی علامت ہے۔
Ayahs 89:17–20

كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 89:17 in the Quran reader

ہرگز نہیں، بلکہ تم لوگ (ایسے بخیل ہو کہ) یتیم کی خاطر داری نہیں کرتے

وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِۙ Open ayah 89:18 in the Quran reader

اور ایک دوسرے کو مسکین کے کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتے۔

وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ Open ayah 89:19 in the Quran reader

اور (مال کے ایسے حریص ہو کہ) میراث (کا سارا مال) سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔

وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ Open ayah 89:20 in the Quran reader

اور مال کو بہت ہی عزیز رکھتے ہو۔

[9] یعنی یہ عزت و ذلت کا معیار ہرگز نہیں ہے۔
Ayahs 89:21–26

كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ Open ayah 89:21 in the Quran reader

ہرگز نہیں، جب زمین کوٹ کوٹ کر ہموار کردی جائے گی۔

وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ Open ayah 89:22 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) تمہارا رب رونق افروز ہوگا اور فرشتے صف بستہ (اس کے جلو میں) ہوں گے

وَ جِایْٓءَ یَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ یَوْمَئِذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 89:23 in the Quran reader

اور جہنم اس دن (سب کے سامنے) لائی جائے گی، اس دن انسان کو سمجھ آئے گی مگر اس وقت اس کے سمجھنے کا کیا فائدہ ؟

یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ Open ayah 89:24 in the Quran reader

وہ کہے گا کہ کاش ! میں اپنی (اس آخرت کی) زندگی کے لئے پہلے سے (کچھ نیک اعمال زاد راہ بنا کر) بھیج دیتا۔

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ Open ayah 89:25 in the Quran reader

تو اس دن (اللہ مجرموں کو ایسی سزا دے گا کہ) اس جیسی سزا کسی نے نہ دی ہوگی۔

وَّ لَا یُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 89:26 in the Quran reader

اور (ان کو اس طرح جکڑے گا کہ) اس جیسا کسی نے نہ جکڑا ہوگا۔

[10] یعنی تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ تم یہ سب کچھ کرتے رہو اور اس کی بازپرس تم سے نہ کی جائے۔
Ayah 89:27

یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُۗۖ Open ayah 89:27 in the Quran reader

(دوسری طرف تسلی پانے والی جان سے ارشاد ہوگا، ) اے نفس مطمئن،

[11] نفس مطمئن سے مراد وہ انسان ہے جس کو اللہ تعالیٰ کی عبادت و فرماں برداری سے خوشی حاصل ہوتی ہے اور وہ چین و سکون محسوس کرتا ہے، جس کے قدم تنگی اور فراخی دونوں طرح کے حالات میں جادہ حق پر استوار رہتے ہیں اور وہ ہر حال میں اپنے رب سے راضی اور مطمئن رہتا ہے۔
Ayahs 89:28–30

ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ Open ayah 89:28 in the Quran reader

چل اپنے رب کی طرف، تو اس سے راضی (اور) وہ تجھ سے راضی۔

فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ Open ayah 89:29 in the Quran reader

پس شامل ہوجا ہمارے ( نیک) بندوں میں

وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠ Open ayah 89:30 in the Quran reader

اور داخل ہوجا ہماری جنت میں۔

[12] یعنی جس طرح تو اپنے رب سے کسی مرحلے میں گلہ مند نہیں ہوا اسی طرح تیرے رب نے تجھ کو بھی کسی مرحلے میں اپنے معیار سے فروتر نہیں پایا۔