90. Surah Al-Balad

البلدThe City · 20 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 90:1

لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:1 in the Quran reader

نہیں، ہم کو قسم ہے اس شہر (مکہ) کی

[1] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة قیامہ حاشیہ 1 صفحہ 1464۔
Ayah 90:2

وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:2 in the Quran reader

جس میں (اے پیغمبر، ) تمہارے لئے حلال کرلیا گیا ہے،

[2] یعنی جس شہر مکہ میں درختوں تک کو کاٹنا اور جانوروں تک کو مارنا حرام ہے اور جو امن کی جگہ ہے وہاں تم پر ظلم کرنا اور تمہارے قتل کی تدبیریں کرنا حلال کرلیا گیا ہے۔
Ayah 90:3

وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَۙ Open ayah 90:3 in the Quran reader

اور (ہم کو قسم ہے انسانی) باپ کی اور اس کی اولاد کی

[3] یعنی آدم اور اولاد آدم کی قسم۔
Ayah 90:4

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍؕ Open ayah 90:4 in the Quran reader

کہ ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔

[4] یہ ہے وہ بات جس پر شہر مکہ، آدم اور اولاد آدم کی قسمیں کھائی گئی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ انسان اول عمر سے آخر تک محنتوں اور مشقتوں میں مشغول رہتا ہے۔ کبھی مرض میں مبتلا ہے، کبھی رنج میں، کبھی فکر میں۔ شاید عمر بھر میں کوئی لمحہ ایسا آتا ہو جب کوئی شخص فکر، محنت اور تکلیف سے آزاد ہو کر بالکل بےفکری کی زندگی بسر کرے۔ آدم اور اولاد آدم کے احوال کا مشاہدہ اس کی واضح دلیل ہے۔ یہ شہر مکہ گواہ ہے کہ کسی اللہ کے بندے نے جان کھپائی تھی تب یہ بسا اور عرب کا مرکز بنا۔ اسی شہر مکہ میں محمد ﷺ کی حالت گواہ ہے کہ دین حق کے لئے طرح طرح کی مصیبتیں برداشت کر رہے ہیں حتیٰ کہ جنگل کے جانوروں کے لئے یہاں امان ہے مگر آپ کے لئے نہیں ہے۔
Ayahs 90:5–6

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌۘ Open ayah 90:5 in the Quran reader

کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کسی کا بس نہ چلے گا ؟

یَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًاؕ Open ayah 90:6 in the Quran reader

(شیخی میں آکر) کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال اڑا دیا۔

[5] یعنی انسان جن سختیوں اور مشقت کی راہوں سے گزرتا ہے اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس میں عجز و درماندگی پیدا ہوتی اور اپنے کو بستہ حکم و قضا سمجھ کر مطیع امر و تابع رضائے الٰہی ہوتا۔ لیکن اس کی حالت یہ ہے کہ اتنی بھول میں پڑگیا ہے کہ خود کو گویا اللہ تعالیٰ کے حدود وقدرت سے بھی خارج سمجھنے لگا ہے۔
Ayahs 90:7–8

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 90:7 in the Quran reader

کیا وہ سمجھتا ہے کہ اس کو (فضول دولت اڑاتے ہوئے) کسی نے نہیں دیکھا ؟

اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَیْنَیْنِۙ Open ayah 90:8 in the Quran reader

کیا ہم نے اس کو دو آنکھیں نہیں دیں

[6] یہ اس طرح کی شیخی بگھارنے والوں کو جواب ہے۔ یہ لوگ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ان کی حرکتوں کو کوئی نہیں دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھ رہا ہے کہ کن ذرائع سے انہوں نے یہ دولت حاصل کی اور کن کاموں میں خرچ کی۔
Ayahs 90:9–10

وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیْنِۙ Open ayah 90:9 in the Quran reader

اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دئیے

وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ Open ayah 90:10 in the Quran reader

اور (نیکی اور بدی کے) دونوں راستے (بھی) اس کو (نہیں) دکھا دئیے ؟

[7] دو آنکھوں سے مراد جانوروں کی آنکھیں نہیں ہیں بلکہ انسانی آنکھیں ہیں جنہیں آدمی کھول کر دیکھے تو اسے وہ نشانات نظر آئیں گے جو صحیح و غلط کا فرق سمجھاتے ہیں۔ زبان اور ہونٹوں سے مراد محض بولنے کے آلات نہیں ہیں بلکہ وہ مافی الضمیر کے اظہار کا ذریعہ ہیں۔ زبان کے ساتھ ہونٹوں کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ اگر ہونٹ نہ ہوں تو زبان اپنا کام انجام نہ دے سکے۔
Ayahs 90:11–14

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ٘ۖ Open ayah 90:11 in the Quran reader

مگر وہ نہ دھمک سکا (دین کی) گھاٹی پر۔

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُؕ Open ayah 90:12 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) تم کیا سمجھے کہ گھاٹی (سے ہماری) کیا (مراد) ہے ؟

فَكُّ رَقَبَةٍۙ Open ayah 90:13 in the Quran reader

(اس سے مراد ہے کسی کی) گردن کا (غلامی یا قرض کے پھندے سے) چھڑا دینا

اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍۙ Open ayah 90:14 in the Quran reader

یا فاقے کے دن کھانا کھلانا

[8] یعنی اس قدر انعامات کی بارش اور اسباب ہدایت کی موجودگی میں اسے توفیق نہ ہوئی کہ دین کی گھاٹی پر آ دھمکتا۔ دین کو گھاٹی اس لئے کہا کہ اس کے راستے پر چلنا نفس پر شاق گزرتا ہے۔
Ayahs 90:15–16

یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍۙ Open ayah 90:15 in the Quran reader

کسی قریبی یتیم کو ،

اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍؕ Open ayah 90:16 in the Quran reader

یا خاک نشین مسکین کو۔

[9] یعنی پڑوسی یا رشتہ دار یتیم۔
Ayahs 90:17–18

ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِؕ Open ayah 90:17 in the Quran reader

پھر (اس کے علاوہ یہ کہ) آدمی ان لوگوں (کے زمرے) میں ہو جو ایمان لائے اور ایک دوسرے کو صبر کی اور (اللہ کی مخلوق پر) رحم کرنے کی تلقین کرتے رہے۔

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 90:18 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں دائیں بازو والے۔

[10] یعنی ان اوصاف کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ آدمی مومن ہو کیونکہ ایمان کے بغیر نہ کوئی عمل عمل صالح ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول۔
Ayahs 90:19–20

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 90:19 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں (کو ماننے) سے انکار کیا وہ بائیں بازو والے ہیں۔

عَلَیْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ۠ Open ayah 90:20 in the Quran reader

ان پر (دوزخ کی) آگ (ڈھانک کر) بند کردی جائے گی۔

[11] دائیں اور بائیں بازو والوں کا بیان سورة واقعہ میں گزر چکا ہے۔ (ملاحظہ ہو آیت نمبر 72 تا 84 صفحہ 1310، 1312)