89. Surah Al-Fajr

الفجرThe Dawn · 30 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف : اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں فجر یونی صبح کے وقت کی، دس راتوں کی، جفت اور طاق کی اور اس رات کی جب وہ جانے لگتی ہے قسم کھا کر فرمایا ہے کہ کیا عقل و فہم اور علم و دانس رکھنے والوں کو ان قسموں کے بعد بھی کسی اور قسم کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارم کی اولاد میں عاد اور ثمود اور میخوں والے فرعون کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگو ! تمنے کبھی ان کی قوموں کے برے انجام پر بھی غور کیا ہے ؟ قوم عاد جو تندرست، صحت مند اور ستونوں کی طرح لمبے چوڑے اور خوش حال لوگ تھے۔ قوم ثمود جو وادی القریٰ میں پہاڑوں کی چٹانیں کاٹ کات کر گھر بنایا کرتی تھی۔ فرعون میخوں والا جو زبردست طاقت و قوت اور عظیم سلطنت کا مالک تھا جب انہوں نے نافرمانی کی انتہا کردی اور کوئی شہر یا بستی ان کی شرارتوں سے محفوط نہ رہی تو ان پر اللہ کے عذاب کا کوڑا اس طرح برسایا گیا کہ وہ قومیں دنیا سے مٹ گئیں۔ فرمایا کہ اللہ ایسے ظالموں اور نافرمانوں کی گھات میں رہتا ہے اور جب وہ گرفت کرتا ہے تو کوئی اس سے بچ نہیں سکتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مال و دولت کی کثرت نہ تو انعام ہے اور اگر کسی شخص پر روزی تنگ کردی جائے تو اس کی غربت اس کی سزا نہیں ہے بلکہ یہ سب کچھ اس کے نظام کا ایک حصہ ہے وہ ہر زیک کو بہت کچھ دے کر اور کبھی سب کچھ لے کر اسے آزماتا ہے تاکہ زندگی کی ہر کیفیت سے اس کے گزز عمل کا امتحان لیا جائے۔ فرمایا آدمی کا یہ حال ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو عزت، دولت اور نعمتوں سے نوازتا ہے تو وہ اپنی دولت مندی کا اظہار کرتے ہوئے فخریہ کہتا ہے کہ مجھے تو مالک نے بڑا عزت دار معزز بنایا ہے۔ لیکن اگر اس کے رزق کو وہ تنگ اور محدود کردیتا ہے تو دن رات شکوے کرتا ہوا کہتا ہے کہ مجھے تو میرے رب نے ہر جگہ ذلیل و رسوا کرکے رکھ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ تو اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے وہ کسی کو ہرگز ذلیل و رسوا نہیں کرتا بلکہ آدمی خود ہی تنگ دلی، بےرحمی، بےایمانی اور مال کی محبت کی وجہ سے اپنے آپ کو ذلت کی گندگی میں ملوث کرلیتا ہے۔ بےباپ کے بچوں یعنی یتیموں کے ساتھ عزت اور قدر کا معاملہ نہیں کرتا۔ کسی ضرورت مند کو خود تو کیا کھانے کھلائے گا دوسروں کو بھی اس طرف متوجہ نہیں کرتا۔ مرنے والے کی وراثت ہاتھ لگ جائے تو سارا سال سمیٹ کر ہضم کرجاتا ہے اور مال و دولت کی محبت نے اس کو دیوانہ بنا رکھا ہے۔ اسے بھی عقل نہیں آرہی ہے لیکن جب زمین کو مسلسل کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ کردیا جائے گا، رب العالمین اپنی شان کے مطابق جلوہ گر ہوں گے، فرشتے صفیں باندھے اس کے سامنے حاضر ہوں گے، کافروں کے لئے جہنم ان کے سامنے لائی جائے گی اس وقت ساری بات اس کی سمجھ میں آجائے گی۔ مگر اب سمجھنے سے اس کو کیا فائدہ ؟ اس وقت تو حسرت سے کہے گا کاش میں اس جہان کے لئے اپنے آگے کچھ بھلائیاں بھیج دیتا۔ فرمایا پھر اس دن ان لوگوں کو ایسا عذاب دیا جائے گا جس کا وہ تصور نہیں کرسکتے۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ اپنے فرماں برداروں سے فرمائیں گے اے نفسہ مطمئنہ تو آج اس شان سے اپنے پروردگار کی طرف چل کر آ کہ جس طرح تو زندگی بھر اپنے اللہ کی ہر رضا پر راضی رہا آج وہ تجھ سے پوری طرح راضی ہے۔ اسے نفس مطمئنہ میرے نیک بندوں میں شامل ہو کر میری جنت میں داخل ہوجا یعنی جنت کی ہر راحت کے ساتھ عیش و آرام کی زندگی گزار تجھے یہاں ہر طرح کی نعمتیں عطا کی جائیں گی۔

Ayahs 89:1–30

وَ الْفَجْرِۙ Open ayah 89:1 in the Quran reader

فجر کی قسم

وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ Open ayah 89:2 in the Quran reader

اور (ذی الحجہ کی) دس راتوں کی قسم

وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ Open ayah 89:3 in the Quran reader

انکی قسم جو طاق اور جفت ہیں

وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِۚ Open ayah 89:4 in the Quran reader

رات کی قسم جب وہ رخصت ہونے لگے

هَلْ فِیْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍؕ Open ayah 89:5 in the Quran reader

کیا عقل رکھنے والے کے لئے یہ قسم کافی نہیں ہے

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ۙ Open ayah 89:6 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ کیا ا اپنے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے قوم عاد کے ساتھ کیا معاملہ کیا

اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۪ۙ Open ayah 89:7 in the Quran reader

جو ستونوں کی طرح بڑے لمبے چوڑے تھے

الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:8 in the Quran reader

ان کی طرح کوئی قوم دنیا میں پیدا نہیں کی گئی تھی

وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ۪ۙ Open ayah 89:9 in the Quran reader

اور قوم ثمود جو (وادی قری میں) پہاڑوں کے پتھرتراش کر (گھر بناتے ) تھے

وَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ۪ۙ Open ayah 89:10 in the Quran reader

اور میخوں والے فرعون کے ساتھ کیا معاملہ کیا

الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:11 in the Quran reader

جس نے ملکوں میں سراٹھا رکھا تھا

فَاَكْثَرُوْا فِیْهَا الْفَسَادَ۪ۙ Open ayah 89:12 in the Quran reader

پھر اس نے کثرت سے فساد بھی مچا رکھا تھا

فَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍۚۙ Open ayah 89:13 in the Quran reader

پھر آپ کے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا

اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ Open ayah 89:14 in the Quran reader

بیشک آپ کا پروردگار (ایسے نافرمانوں کی) گھات میں لگا ہوا ہے

فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِؕ Open ayah 89:15 in the Quran reader

پھر جب انسان کو اس کا رب عزت اور نعمت سے نوازا کر آزماتا ہے تب وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دی۔

وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِۚ Open ayah 89:16 in the Quran reader

اور جب (کسی آدمی کو) پروردگار آزماتا ہے اور اس پر اس کی روزی تنگ کردیتا ہے تب وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے تو مجھے ذلیل و رسوا کردیا

كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 89:17 in the Quran reader

ایسا ہرگز نہیں ہے ۔ بلکہ تم بھی تو یتیم (کی ضروریات) کا لحاظ نہیں کرتے ہو

وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِۙ Open ayah 89:18 in the Quran reader

اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو مسکین غریب اور محتاج آدمی کے کھانے پر آمادہ کرتے ہو

وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ Open ayah 89:19 in the Quran reader

اور تم میراث کا سارا مال خودسمیٹ کر کھا جاتے ہو

وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ Open ayah 89:20 in the Quran reader

اور تم مال و دولت سے بہت ہی پیار کرتے ہو

كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ Open ayah 89:21 in the Quran reader

ہرگز ایسا نہیں ہے۔ جب زمین خوب کوٹ کوٹ کر برابر کردی جائے گی

وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ Open ayah 89:22 in the Quran reader

آپ کا رب (اپنی شان کے ساتھ) آئے گا اور فرشتے صفیں باندھے کھڑے ہوں گے

وَ جِایْٓءَ یَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ یَوْمَئِذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 89:23 in the Quran reader

اس دن جہنم سامنے لائی جائے گی تو آدمی کو سمجھ آئے گی مگر اس وقت نصیحت پکڑنا اس کے کہاں کام آئے گا

یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ Open ayah 89:24 in the Quran reader

اور کہے گا کہ اے کاش میں اپنی زندگی کے لئے کچھ (نیک اعمال) آگے بھیج دیتا

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ Open ayah 89:25 in the Quran reader

پھر اس دن نہ تو اللہ کے عذاب سے بڑھ کر کوئی عذاب دینے والا ہوگا

وَّ لَا یُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 89:26 in the Quran reader

اور نہ اس کے جیسے باندھنے اور پکڑنے والا کوئی اور ہوگا۔

یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُۗۖ Open ayah 89:27 in the Quran reader

(اللہ کے فرماں برداروں سے کہا جائے گا) اے نفس مطمنہ (اطمینان و سکون والے نفس)

ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ Open ayah 89:28 in the Quran reader

تو اس شان سے اپنے رب کی طرف چل کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی

فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ Open ayah 89:29 in the Quran reader

پھر تو میرے خاص بندوں میں شامل ہوجا

وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠ Open ayah 89:30 in the Quran reader

اور میری جنت میں داخل ہوجا۔

لغات القرآن۔ لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔ تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء کی انتہاہر شخص اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور اس بات کا کسی حد تک اقرار بھی کرتا ہے کہ یہ پورا نظام کائنات کسی ہستی کے تابع ہے جو اسکو ایک تسلسل کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے۔ جب ہر شروع ہونے والی چیز آخر کار ختم ہوجاتی ہے تو یہ کائنات بھی ایک دن اپنے انجام کو پہنچ جائے گی اور ختم ہوجائے گی۔ لیکن اس کے ختم ہونے کے بعد کیا ہوگا ؟ یہ ایک حرف سوال ہے۔ اس سوال کا جواب تلاش کرتے کرتے بہت سی قومیں اپنا راستہ بھلا بیٹھیں اور انہوں نے اس کو ایک ایسا معمہ بنا دیا جو ” سمجھنے کا نہ سمجھانے کا “۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بار بار مختلف انداز سے اس بات کو سمجھایا اور یقینی بات ہونے کی وجہ سے قسمیں کھا کر بتایا ہے کہ اس کائنات کا یہ چلتا ہوا نظام ختم ہوجائے گا۔ کائنات کی ابتداء سے انتہا تک جتنے لوگ آئے ہیں ان سب کو زندہ کرکے ایک میدان میں جمع کیا جائے گا اور ان سے زندگی بھر کے کاموں کا حساب لیاجائے گا۔ جنہوں نے اس خالق کائنات کے احکامات کو ماننے سے انکار کرکے بدعملی اور گناہ کی زندگی اختیار کی ہوگی ان کا بدترین انجام ہوگا اور جنہوں نے اللہ کی رضا و خوشنودی، تقویٰ ، پرہیزگاری اور نیکیوں میں زندگی گزاری ہوگی ان کو ان کے اعمال کے حساب سے جنت کی راحتیں عطا کی جائیں گی۔ اس کا نام قیامت ہے جس کے آنے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قوموں کے عروج وزوال سے پہلے اس فجر کی قسم کھائی ہے جس کے آنے کے بعد پوری کائنات میں ایک ہلچل مچ جاتی ہے۔ فجر یعنی جب ایک اندھیری رات کے بعد صبح کو پو پھٹی ہے تو ہر ایک مخلوق اپنے رزو کی تلاش میں بھاگ دوڑ شروع کردیتی ہے۔ کوئی رزق کمانے کی فکر لے کر، کوئی عبادت و بندگی اور کوئی علم کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔ پرندے اور ہر طرح کے جان دار اپنے گھونسلوں اور بلوں سے نکل کر اپنے رزق کو حاصل کرنے کے لئے باہر آجاتے ہیں اور دن بھر محنت و مشقت اٹھانے کے بعد رات کو پھر اپنے اپنے ٹھکانوں کو لوٹ جاتے ہیں۔ فجر کی قسم کے بعد اللہ تعالیٰ نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے۔ احادیث میں ان دس راتوں سے مراد ذی الحجہ کی دس راتیں ہیں کیونکہ ان دس راتوں کی احادیث میں بہت سی فضیلتیں آئی ہیں۔ اس کے ایک ان کا روزہ ثواب کے اعتبار سے ایک سال کے روزوں کے برابر ہے جس کی ہر رات شب قدر کی طرح محترم ہے۔ (ترمذی) ۔ یہ دس دن حجاج کرام کے لئے خاص طور پر بڑے ہی انقلابی اور جذباتی ہوتے ہیں۔ ذی الحجہ کی پہلی تاریخ ہی سے ہر حاجی پر ایک خاص کیفیت طاری ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ اس کے ہر عمل میں ایک خاص جوش و کروش پیدا ہوجاتا ہے اور ہر طرف ایک عجیب سی چہل پہلی شروع ہوجاتی ہے۔ یہ کیفیات بڑھتی چلی جاتی ہیں یہاں تک کہ منیٰ کی پر نور راتوں کے بعد جب 9 ذی الحجہ یعنی عرفہ کا دن شروع ہوجاتا ہے تو ہر ایک آنکھ آنسوؤں سے تر ہوجاتی ہے۔ ہر شخص ساری دنیا سے بےپرواہ اپنے اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا نظر آتا ہے۔ لاکھوں حاجیوں پر جب نظر پڑتی ہے تو بادشاہ ہو یا ایک عام آدمی، سرمایہ دار ہو یا غریب سب ایک ہی لباس میں ہر طرف موتیوں کی طرح بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سب کا لباس ایک، جذبہ ایک اور نعرہ ایک لبیک اللھم لبیک۔ میدان عرفات سے جب تمام حاجی مزدلفہ میں کھلے آسمان کے نیچے اللہ کی یاد میں مشغول نظر آتے ہیں تو ایک قیامت کا منظر ہوتا ہے۔ دس ذی الحج کو جب یوم الخر شروع ہوتا ہے تو ہر ایک حاجی ایک نئے جذبے سے سرشار ہوتا ہے۔ اس دن کوئی شیطان سے نفرت کے اظہار کے لئے کنکریاں مارتا نظر آتا ہے، کوئی جانوروں کو ذبح کر رہا ہے، کوئی سر کے بال منڈوا رہا ہے ، کوئی طواف زیارت کی طرف سے بےتابانہ بڑھاچلا جا رہا ہے۔ چشم تصور سے دیکھا جائے تو چاروں طرف سروں کا ایک سمندر ہوتا ہے اور کسی کو کسی کا ہوش نہیں ہوتا۔ فرمایا کہ حاجیوں کی ان اداؤں کی قسم ایک دن وہ آنے والا ہے جب اسی طرح ساری کائنات کے اولین وآخرین اللہ کے سامنے ہوں گے اور ہر طرف ایک ہنگامہ بپا ہوگا۔ تین نافرمان قوموں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ قومیں وہ ہیں جنہوں نے اپنی نافرمانیوں کی وجہ سے اللہ کے غضب کو دعوت دی اور پھر ان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ قوم عاد، قوم ثمود اور قوم فرعون اپنے زمانہ میں قوت و طاقت، حکومت و سلطنت، مال و دولت، عیش آرام کے اسباب ، تن اور قد کی لمبائیاں وہ کون سی نعمت تھی جو اللہ نے ان کو اور دنیا کی تمام قوموں کو عطا نہیں کی تھی۔ لیکن جب کوئی قوم اللہ و رسول کی نافرمانیوں کی انتہا کردیت ہیں تو اس کو صفحہ ہستی سے مٹا کر نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) جیسے عظیم پیغمبر کی اولاد میں سے ارم تھا۔ اس کی اولاد میں عاد اور ثمود کے نام سے دو قومیں وجود میں آئیں۔ قوم عاد جو دنیا کی عظیم سلطنت اور قوت و طاقت اور خوشحالی کے مالک تھے جو نہایت تندرست، صحت مند اور ستونوں کی طرح لمبے چوڑے تھے۔ ان کی ترقی کا یہ عالم تھا کہ وہ چاروں طرف سے مال و دولت حاصل کر رہے تھے۔ انتہائی ترقی یافتہ لیکن ان کی دولت مندی اور ترقی نے ان کو غرور وتکبر کا پیکر بنا کر رکھ دیا تھا۔ بدکاری، عیاشی، کمزوروں پر ظلم وستم کرنا ان کا مزاج بن چکا تھا۔ وہ اپنے علاوہ دنیا کی ہر قوم کو حقیر و ذلیل سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ ہماری قوت و طاقت اتنی زبردست ہے کہ اس کا کوئی قوم مقابلہ نہیں کرسکتی۔ جب انکی نافرمانیاں اور غرور وتکبر انتہا کو پہنچ گیا تو اللہ نے ان کو آخری موقع دینے کیلئے حضرت ہود (علیہ السلام) کو اپنا پیغمبر بناکر بھیجا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے اس قوم کو ان کی نافرمانیوں پر ٹوکا اور اپنے اعمال کی اصلاح کی طرف بلایا تو پوری قوم حضرت ہود (علیہ السلام) کو نیچاے دکھانے پر تل گئی اور انکی ہر بات کا انکار کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے انکی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر اپنا شدید ترین عذاب نازل کرکے تہس نہس کردیا۔ قوم عاد کی تباہی سے جو لوگ بچ گئے تھے ان کی نسل بڑھنا شروع ہوئی تو انہوں نے بھی اتنی زبردست ترقی کی کہ مقام حجر سے وادی القریٰ (حجاز اور شام کے درمیان) تک پھیلنا شروع کیا اور ایک ہزار سات سو بستیوں پر کنٹرول حاصل کرلیا۔ یہ قوم ثمود تھی۔ انہوں نے بےانتہا محنت سے اپنے ملک و قوم کو ترقی دی۔ دنیا کی پہلی قوم تھی جس نے پہاڑوں کو کاٹ کر ان میں سے ایسی خوبصورت مکانات، محلات اور حویلیاں تعمیر کیں جن کے کھنڈرات آج بھی حیرت میں ڈال دینے والے ہیں۔ لیکن اس قوم کی ترقیات کو جو چیز گھن کی طرح کھا گئی وہ ان کا غرور وتکبر، اپنی دولت پر بےجا فخر، بت پرستی اور اخلاق و کردار کی گراوٹ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو بھی ایک موقع دیتے ہوئے حضرت صالح (علیہ السلام) کو اپنا پیگمبر بنا کر بھیجا۔ جب حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کو سمجھایا کہ اگر انہوں نے بت پرستی، غرور وتکبر اور اپنے بگڑے ہوئے اخلاق کی اصلاح نہ کی تو جو انجام قوم عاد کا ہوا ہے تمہارا انجام اس سے مختلف نہ ہوگا۔ پوری قوم نے انتہائی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کا مذاق اڑایا اور اپنی حکومت و سلطنت اور طاقت وقوت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس انجام دے دور چار نہیں ہوسکتے۔ ایک مرتبہ انہوں نے یہاں تک فرمائش کردی کہ اے صالح (علیہ السلام) ! تمہارے پاس کیا دلیل ہے کہ تم اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہو ؟ اگر تم سچے ہو تو یہ سامنے جو چٹان ہے اس میں سے اگر ایک گابھن اونٹنی نکل کر آئے اور ہمارے سامنے وہ بچہ پیدا کرے تو ہم سمجھیں گے کہ تم اللہ کی طرف سے بھیجئے گئے ہو۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی۔ چناچہ اس پہاڑی سے گابھن اونٹنی نکلی اس نے بچہ دیا ۔ اتنے بڑے معجزے کے باوجود کچھ لوگوں کے سوا اس قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) پر ایمان لانے کے ہزاروں بہانے ڈھونڈ نکالے اور وہ دولت ایمان سے محروم رہے۔ جب اس قوم نے نافرمانیوں کی انتہا کردی تو اللہ نے ان پر بھی اس طرح عذاب نازل کیا کہ اس قوم کا کوئی فرد بچ نہ سکا اور اس طرح اللہ کی نافرمان قوم اپنے بدترین انجام کو پہنچ گئی۔ قوم فرعون کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ میخوں والے فرعون کے ساتھ کیا معاملہ کیا جس نے ہر طرف تباہی مچا رکھی تھی۔ اس کا یہ حال تھا کہ جہاں اس کا لشکر جاتا وہ اتنا بڑا لشکر ہوتا تھا کہ بڑے سے بڑے میدان میں جیسے میخیں ہی میخیں گڑی ہوئی ہیں یا جب وہ کسی کو سزادیتا تو اس کے چاروں ہاتھ پاؤں میخوں سے جکڑ دیتا غرضیکہ ملک میں ہر طرف فرعون اور اس قوم کا ظلم و ستم اور اللہ کی نافرمانی انتہا کو پہنچ گئی تھی۔ تب اللہ نے اس کی اصلاح کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور انکے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو معجزات دے کر بھیجا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تبلیغ اور معجزات کے ذریعہ اس کو ہر طرح سمجھناے کی کوشش کی مگر وہ اپنے غرور وتکبر اور حکومت و سلطنت پر ناز کرنے کی وجہ سے حضرت موسیٰ کی ہر بات کو نیچا دکھانے کے لئے اپنی قوم کو یقین دلاتا تھا کہ موسیٰ ایک جادوگر ہیں جو اپنے جادو کے زور سے اس سلطنت پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ آخر کار اللہ کا فیصلہ آگیا۔ فرعون اور آل فرون کو سمندر میں غرق کرکے اس طرح مٹا دیا گیا کہ اس قوم اور سلطنت کو جود تک مٹ گیا اور اللہ نے فرعون کے جسم کو باقی رکھ کر عبرت کا نشان بنا دیا۔ وہی فرعون جو اپنے آپ کو رب اعلیٰ کہلاتا تھا اور عظیم سلطنت کے ذریعہ حکمرانی کرتا تھا آج اس کا لاشہ یعنی مردہ جسم ایک ڈبے میں بندنمائش کے لئے رکھا ہوا ہے اور اس کی بےبسی کا ماتم کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تین عظیم الشان سلطنوں اور انکی نافرمان قوموں کو تباہ کرکے دنیا کو بتا دیا کہ دنیا میں کسی ظالم و جابر کو فلاح نہیں مل سکتی۔ فرمایا کہ جب ظالم مظلوموں پر ظلم کرتا ہے تو اس وقت وہ اس بات کو بھول جاتا ہے کہ اس پر اللہ کا کوڑا بھی برس سکتا ہے۔ وہ تو اپنے مال و دولت اور سلطنت پر ناز کرتے ہوئے یہ کہتے نہیں تھکتا کہ اگر میں محنت نہ کرتا تو آج میں اس طرح عیش کے ساتھ زندگی نہ گزار سکتا۔ ذرا سی دولت پر وہ اترانے لگتا ہے اور اگر اس پر تنگ دستی یا مال و دولت میں کمی آجاتی ہے تو وہ شکرے کرتے ہوئے کہنے لگتا ہے کہ مجھے تو ساری دنیا میں اللہ نے ذلیل و خوار کر کے رکھ دیا ہے وہ سب کی سنتا ہے میری ہی نہیں سنتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ کسی کو ذلیل و رسوا نہیں کرتا بلکہ یہ تو خود انسان کے اپنے وہ اعمال ہوتے ہیں جو اس کو ذلت کے گڑھے میں پھینک دیتے ہیں۔ مثلاً بےباپ کے بچوں پر شفقت کرنے کے بجائے تم بھی تو ان کا خیال نہیں کرتے۔ محتاج اور ضروت مند ایڑیاں رگڑ کر مرجاتا ہے مگر تم اس کی فکر نہیں کرتے نہ اس کو کھانا کھلاتے ہو اور نہ کسی کو اس کے حال زار کی طرف متوجہ کرتے ہو۔ مرنے والا جو کچھ چھوڑ جاتا ہے تمہاری کوشش ہوتی ہے کہ عورتوں کو اور ان کے جائز وارثوں کو میراث سے محروم کرکے خود ہی سب کچھ سمیٹ لو یعنی مردوں کا مال کھا جانے میں بھی تم شرم نہیں کرتے اور پھر تم کہتے ہو کہ اللہ نے تمہیں ذلیل و خوار کردیا ہے۔ مال و دولت سے محبت کا یہ حال ہے کہ تمہیں دنیا کی دولت اور مال کی ہوس اور لالچ نے اندھا کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم آج بےانصافی کرسکتے ہو لیکن وہ وقت دور نہیں ہے جب زمین و آسمان کو کوٹ کوٹ کر اس طرح برابر کردیا جائے گا کہ اس میں میدان حشر قائم ہوگا اور ہر ایک کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ اس دن اللہ اپنی شان کے مطابق نزول فرمائیں گے فرشتے ہیبت سے صفیں باندھے کھڑے ہوں گے۔ جہنم کو سامنے لایا جائے گا اس دن ان جیسے لوگوں کی سمجھ میں یہ بات آجائے گی کہ ان سے دنیا کی زندگی میں کتنی بھیانک غلطیاں ہوئی ہیں۔ وہ شرمندگی اور ندامت کے ساتھ اس بات کا اقرار کریں گے کہ کاش ہم اللہ کے پیغمبروں کی ہر بات مان لیتے لیکن اس وقت شرمندگی اور ندامت کے آنسو بہانے سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ اس دن اللہ سے زیادہ کوئی عذاب دینے والا نہ ہوگا اور نہ اس جیسا کوئی سخت گرفت کرنے والا ہوگا۔ لیکن وہ آدمی جس نے پوری زندگی اس یقین اور قلبی اطمینان کے ساتھ گزاری ہوگی کہ اللہ کے نبی جو بھی دین لائے تھے وہ برحق ہے۔ انہیں جو حکم دیا گیا انہوں نے اس کی تعمیل کی جس چیز سے روک دیا وہ اس سے رک گئے۔ اللہ کے راستے میں جس قربانی کی ضرورت پڑی اس میں وہ بےخطر کود پڑے اور ہر تکلیف کو بڑے صبرو تحمل سے برداشت کیا ایسے نفس مطئمن سے کہا جائے گا کہ تم اس شان سے اپنے رب کی طرف چل کر آ کہ تو جس طرح پوری زندگی اپنے اللہ سے راضی رہا آج وہ تجھ سے پوری طرح راضی ہے۔ اس نفس سے کہا جائے گا کہ چلو اللہ کے خاص بندوں میں شامل ہو جائو اور میری جنت میں داخل ہوجائو۔