89. Surah Al-Fajr
الفجرThe Dawn · 30 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف : اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں فجر یونی صبح کے وقت کی، دس راتوں کی، جفت اور طاق کی اور اس رات کی جب وہ جانے لگتی ہے قسم کھا کر فرمایا ہے کہ کیا عقل و فہم اور علم و دانس رکھنے والوں کو ان قسموں کے بعد بھی کسی اور قسم کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارم کی اولاد میں عاد اور ثمود اور میخوں والے فرعون کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگو ! تمنے کبھی ان کی قوموں کے برے انجام پر بھی غور کیا ہے ؟ قوم عاد جو تندرست، صحت مند اور ستونوں کی طرح لمبے چوڑے اور خوش حال لوگ تھے۔ قوم ثمود جو وادی القریٰ میں پہاڑوں کی چٹانیں کاٹ کات کر گھر بنایا کرتی تھی۔ فرعون میخوں والا جو زبردست طاقت و قوت اور عظیم سلطنت کا مالک تھا جب انہوں نے نافرمانی کی انتہا کردی اور کوئی شہر یا بستی ان کی شرارتوں سے محفوط نہ رہی تو ان پر اللہ کے عذاب کا کوڑا اس طرح برسایا گیا کہ وہ قومیں دنیا سے مٹ گئیں۔ فرمایا کہ اللہ ایسے ظالموں اور نافرمانوں کی گھات میں رہتا ہے اور جب وہ گرفت کرتا ہے تو کوئی اس سے بچ نہیں سکتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مال و دولت کی کثرت نہ تو انعام ہے اور اگر کسی شخص پر روزی تنگ کردی جائے تو اس کی غربت اس کی سزا نہیں ہے بلکہ یہ سب کچھ اس کے نظام کا ایک حصہ ہے وہ ہر زیک کو بہت کچھ دے کر اور کبھی سب کچھ لے کر اسے آزماتا ہے تاکہ زندگی کی ہر کیفیت سے اس کے گزز عمل کا امتحان لیا جائے۔ فرمایا آدمی کا یہ حال ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو عزت، دولت اور نعمتوں سے نوازتا ہے تو وہ اپنی دولت مندی کا اظہار کرتے ہوئے فخریہ کہتا ہے کہ مجھے تو مالک نے بڑا عزت دار معزز بنایا ہے۔ لیکن اگر اس کے رزق کو وہ تنگ اور محدود کردیتا ہے تو دن رات شکوے کرتا ہوا کہتا ہے کہ مجھے تو میرے رب نے ہر جگہ ذلیل و رسوا کرکے رکھ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ تو اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے وہ کسی کو ہرگز ذلیل و رسوا نہیں کرتا بلکہ آدمی خود ہی تنگ دلی، بےرحمی، بےایمانی اور مال کی محبت کی وجہ سے اپنے آپ کو ذلت کی گندگی میں ملوث کرلیتا ہے۔ بےباپ کے بچوں یعنی یتیموں کے ساتھ عزت اور قدر کا معاملہ نہیں کرتا۔ کسی ضرورت مند کو خود تو کیا کھانے کھلائے گا دوسروں کو بھی اس طرف متوجہ نہیں کرتا۔ مرنے والے کی وراثت ہاتھ لگ جائے تو سارا سال سمیٹ کر ہضم کرجاتا ہے اور مال و دولت کی محبت نے اس کو دیوانہ بنا رکھا ہے۔ اسے بھی عقل نہیں آرہی ہے لیکن جب زمین کو مسلسل کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ کردیا جائے گا، رب العالمین اپنی شان کے مطابق جلوہ گر ہوں گے، فرشتے صفیں باندھے اس کے سامنے حاضر ہوں گے، کافروں کے لئے جہنم ان کے سامنے لائی جائے گی اس وقت ساری بات اس کی سمجھ میں آجائے گی۔ مگر اب سمجھنے سے اس کو کیا فائدہ ؟ اس وقت تو حسرت سے کہے گا کاش میں اس جہان کے لئے اپنے آگے کچھ بھلائیاں بھیج دیتا۔ فرمایا پھر اس دن ان لوگوں کو ایسا عذاب دیا جائے گا جس کا وہ تصور نہیں کرسکتے۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ اپنے فرماں برداروں سے فرمائیں گے اے نفسہ مطمئنہ تو آج اس شان سے اپنے پروردگار کی طرف چل کر آ کہ جس طرح تو زندگی بھر اپنے اللہ کی ہر رضا پر راضی رہا آج وہ تجھ سے پوری طرح راضی ہے۔ اسے نفس مطمئنہ میرے نیک بندوں میں شامل ہو کر میری جنت میں داخل ہوجا یعنی جنت کی ہر راحت کے ساتھ عیش و آرام کی زندگی گزار تجھے یہاں ہر طرح کی نعمتیں عطا کی جائیں گی۔
وَ الْفَجْرِۙ Open ayah 89:1 in the Quran reader
فجر کی قسم
وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ Open ayah 89:2 in the Quran reader
اور (ذی الحجہ کی) دس راتوں کی قسم
وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ Open ayah 89:3 in the Quran reader
انکی قسم جو طاق اور جفت ہیں
وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِۚ Open ayah 89:4 in the Quran reader
رات کی قسم جب وہ رخصت ہونے لگے
هَلْ فِیْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍؕ Open ayah 89:5 in the Quran reader
کیا عقل رکھنے والے کے لئے یہ قسم کافی نہیں ہے
اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ۙ Open ayah 89:6 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ کیا ا اپنے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے قوم عاد کے ساتھ کیا معاملہ کیا
اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۪ۙ Open ayah 89:7 in the Quran reader
جو ستونوں کی طرح بڑے لمبے چوڑے تھے
الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:8 in the Quran reader
ان کی طرح کوئی قوم دنیا میں پیدا نہیں کی گئی تھی
وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ۪ۙ Open ayah 89:9 in the Quran reader
اور قوم ثمود جو (وادی قری میں) پہاڑوں کے پتھرتراش کر (گھر بناتے ) تھے
وَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ۪ۙ Open ayah 89:10 in the Quran reader
اور میخوں والے فرعون کے ساتھ کیا معاملہ کیا
الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:11 in the Quran reader
جس نے ملکوں میں سراٹھا رکھا تھا
فَاَكْثَرُوْا فِیْهَا الْفَسَادَ۪ۙ Open ayah 89:12 in the Quran reader
پھر اس نے کثرت سے فساد بھی مچا رکھا تھا
فَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍۚۙ Open ayah 89:13 in the Quran reader
پھر آپ کے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا
اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ Open ayah 89:14 in the Quran reader
بیشک آپ کا پروردگار (ایسے نافرمانوں کی) گھات میں لگا ہوا ہے
فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِؕ Open ayah 89:15 in the Quran reader
پھر جب انسان کو اس کا رب عزت اور نعمت سے نوازا کر آزماتا ہے تب وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دی۔
وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِۚ Open ayah 89:16 in the Quran reader
اور جب (کسی آدمی کو) پروردگار آزماتا ہے اور اس پر اس کی روزی تنگ کردیتا ہے تب وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے تو مجھے ذلیل و رسوا کردیا
كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 89:17 in the Quran reader
ایسا ہرگز نہیں ہے ۔ بلکہ تم بھی تو یتیم (کی ضروریات) کا لحاظ نہیں کرتے ہو
وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِۙ Open ayah 89:18 in the Quran reader
اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو مسکین غریب اور محتاج آدمی کے کھانے پر آمادہ کرتے ہو
وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ Open ayah 89:19 in the Quran reader
اور تم میراث کا سارا مال خودسمیٹ کر کھا جاتے ہو
وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ Open ayah 89:20 in the Quran reader
اور تم مال و دولت سے بہت ہی پیار کرتے ہو
كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ Open ayah 89:21 in the Quran reader
ہرگز ایسا نہیں ہے۔ جب زمین خوب کوٹ کوٹ کر برابر کردی جائے گی
وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ Open ayah 89:22 in the Quran reader
آپ کا رب (اپنی شان کے ساتھ) آئے گا اور فرشتے صفیں باندھے کھڑے ہوں گے
وَ جِایْٓءَ یَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ یَوْمَئِذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 89:23 in the Quran reader
اس دن جہنم سامنے لائی جائے گی تو آدمی کو سمجھ آئے گی مگر اس وقت نصیحت پکڑنا اس کے کہاں کام آئے گا
یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ Open ayah 89:24 in the Quran reader
اور کہے گا کہ اے کاش میں اپنی زندگی کے لئے کچھ (نیک اعمال) آگے بھیج دیتا
فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ Open ayah 89:25 in the Quran reader
پھر اس دن نہ تو اللہ کے عذاب سے بڑھ کر کوئی عذاب دینے والا ہوگا
وَّ لَا یُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 89:26 in the Quran reader
اور نہ اس کے جیسے باندھنے اور پکڑنے والا کوئی اور ہوگا۔
یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُۗۖ Open ayah 89:27 in the Quran reader
(اللہ کے فرماں برداروں سے کہا جائے گا) اے نفس مطمنہ (اطمینان و سکون والے نفس)
ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ Open ayah 89:28 in the Quran reader
تو اس شان سے اپنے رب کی طرف چل کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی
فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ Open ayah 89:29 in the Quran reader
پھر تو میرے خاص بندوں میں شامل ہوجا
وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠ Open ayah 89:30 in the Quran reader
اور میری جنت میں داخل ہوجا۔