Ayahs 89:1–414 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " عید قربان کی فجر بڑا حج ادا ہوتا ہے اور دس رات اس سے پہلے۔ اور جفت اور طاق رمضان کی آخری (عشرہ) دہائی میں ہے۔ اور جب رات کو چلے یعنی پیغمبر معراج کو "۔ یہ سب اوقات متبرک تھے اس لئے ان کی قسم کھائی (تنبیہ) " والیـــــل اذا یـــسر " کے معنی عموماً مفسرین نے رات کے گزرنے یا اس کی تاریکی پھیلنے کے لئے ہیں۔ گویا صبح کی قسم کے مقابلہ میں رات کے جانے یا آنے کی قسم کھائی۔ جیسا کہ جفت کے مقابل طاق کی قسم کھائی گئی۔ اور " ولیال عشر " سے بھی ممکن ہے مطلق دس راتیں مراد ہوں کیونکہ اس کے افراد و مصادیق میں بھی تقابل پایا جاتا ہے مہینہ کے شروع کی دس راتیں اول روشن ہوتی ہیں پھر تاریک اور اخیر کی دس راتیں ابتداء میں تاریک رہتی ہیں پھر روشن ہوتی ہیں اور درمیانی دس راتوں کا حال ان دونوں سے جداگانہ ہے گویا اس اختلاف و تقابل سے اشارہ فرما دیا کہ آدمی کو عیش وآرام یا مصیبت اور تنگی یا فراخی کی جو حالت پیش آئے مطمئن نہ ہوجائے اور یوں نہ سمجھے کہ اب اس کے خلاف دوسری حالت پیش نہ آئے گی اسے یاد رکھنا چاہیے کہ حق تعالیٰ خالق اضداد ہے جس طرح وہ آفاق میں ایک ضد کے مقابل دوسری ضد کو لاتا ہے۔ ایسے ہی تمہارے حالات و کوائف کو بھی اپنی حکمت و مصلحت کے موافق ادل بدل کرتا رہتا ہے۔ چناچہ آگے جو واقعات و مضامین مذکور ہیں ان میں اسی اصول پر متنبہ فرمایا ہے۔ (تنبیہ دوم) اس آیت کی تفسیر میں دو حدیثیں مرفوع آئی ہیں جابر کی اور عمران بن حصین کی، حافظ ابن کثیر پہلی کی نسبت لکھتے ہیں " وھذا اسناد رجالہ لا باس بھم وعندی ان المتن فی رفعہ نکارۃ۔ " اور دوسری کی نسبت فرماتے ہیں۔ وعندی ان وقفہ علی عمران بن حصین اشبہ واللہ اعلم۔ "
Ayah 89:51 یعنی یہ قسمیں معمولی نہیں نہایت معتبر اور مہتم بالشان ہیں اور عقلمند لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ تاکید کلام کے لئے ان میں ایک خاص عظمت و وقعت پائی جاتی ہے۔
Ayahs 89:6–72 " عاد " ایک شخص کا نام ہے جس کی طرف یہ قوم منسوب ہوئی، اس کے اجداد میں سے ایک شخص " ارم " نامی تھا۔ اس کی طرف نسبت کرنے سے شاید اس طرف اشارہ ہو کہ یہاں " عاد " سے عاد اولیٰ " مراد ہے۔ " عاد ثانیہ " نہیں، اور بعض نے کہا " قوم عاد " میں جو شاہی خاندان تھا اسے " ارم " کہتے تھے۔ واللہ اعلم۔
3 یعنی ستون کھڑے کر کے بڑی بڑی اونچی عمارتیں بناتے۔ یا مطلب ہے کہ اکثر سیرو سیاحت میں رہتے اور اونچے ستونوں پر خیمے تانتے تھے۔ اور بعض کے نزدیک " ذات العماد " کہہ کر ان کے اونچے قدوقامت اور ڈیل ڈول کو ستونوں سے تشبیہ دی ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 89:84 یعنی اس وقت دنیا میں اس قوم جیسی کوئی قوم مضبوط و طاقتور نہ تھی، یا ان کی عمارتیں اپنا جواب نہیں رکھتی تھیں۔
Ayah 89:95 " وادی القریٰ " ان کے مقام کا نام ہے جہاں پہاڑ کے پتھروں کو تراش کر نہایت محفوظ و مضبوط مکان بناتے تھے۔
Ayah 89:106 یعنی بڑے لاؤ لشکر والا جس کو فوجی ضروریات کے لئے بہت کثیر مقدار میں میخیں رکھنا پڑتی تھیں یا یہ مطلب ہے کہ لوگوں کو چومیخا کر کے سزا دیتا تھا۔
Ayahs 89:11–137 یعنی ان قوموں نے عیش و دولت اور زور و قوت کے نشہ میں مست ہو کر ملکوں میں خوب اودھم مچایا۔ بڑی بڑی شرارتیں کیں اور ایسا سر اٹھایا گویا ان کے سروں پر کوئی حاکم ہی نہیں ؟ ہمیشہ اسی حال میں رہنا ہے ! کبھی اس ظلم و شرارت کا خمیازہ بھگتنا نہیں پڑے گا ؟ آخر جب ان کے کفر وتکبر اور جورو ستم کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ اور مہلت و درگزر کا کوئی موقع باقی نہ رہا دفعتاً خداوند قہار نے ان پر اپنے عذاب کا کوڑا برسا دیا۔ ان کی سب قوت اور بڑائی خاک میں مل گئی اور وہ سازو سامان کچھ کام نہ آیا۔
Ayah 89:148 یعنی جیسے کوئی شخص گھات میں پوشیدہ رہ کر آنے جانے والوں کی خبر رکھتا ہے کہ فلاں کیونکر گزرا اور کیا کرتا ہوا گیا، اور فلاں کیا لایا اور کیا لے گیا، پھر وقت آنے پر اپنی ان معلومات کے موافق معاملہ کرتا ہے۔ اسی طرح سمجھ لو کہ حق تعالیٰ انسانوں کی آنکھوں سے پوشیدہ رہ کر سب بندوں کے ذرہ ذرہ احوال و اعمال دیکھتا ہے، کوئی حرکت و سکون اس سے مخفی نہیں۔ ہاں سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا، غافل بندے سمجھتے ہیں کہ بس کوئی دیکھنے اور پوچھنے والا نہیں جو چاہو بےدھڑک کئے جاؤ۔ حالانکہ وقت آنے پر ان کا سارا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیتا ہے اور ہر ایک سے انہی اعمال کے موافق معاملہ کرتا ہے جو شروع سے اس کے زیر نظر تھے۔ اس وقت پتہ لگتا ہے کہ وہ سب ڈھیل تھی اور بندوں کا امتحان تھا کہ دیکھیں کن حالات میں کیا کچھ کرتے ہیں اور ایک عارضی حالت پر نظر کر کے آخری انجام کو تو نہیں بھولتے۔
Ayah 89:159 یعنی میں اسی لائق تھا۔ اس لیے عزت دی۔
Ayah 89:1610 یعنی میری قدر نہ کی۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس کی نظر صرف دنیا کی زندگی اور حالت حاضرہ پر ہے پس دنیا کی موجودہ راحت و تکلیف ہی کو عزت و ذلت کا معیار سمجھتا ہے۔ نہیں جانتا کہ دونوں حالتوں میں اس کی آزمائش ہے۔ نعمت دے کر اس کی شکر گذاری اور سختی بھیج کر اس کے صبر و رضا کو جانچا جارہا ہے۔ نہ یہاں کا عارضی عیش وآرام اللہ کے ہاں مقبول و معزز ہونے کی دلیل ہے۔ نہ محض تنگی اور سختی مردود ہونے کی علامت ہے۔ مگر انسان اپنے افعال واعمال پر نظر نہیں کرتا۔ اپنی بےعقلی یا بےحیائی سے رب پر الزام رکھتا ہے۔
Ayah 89:1711 یعنی خدا کے ہاں تمہاری عزت کیوں ہو، جب تم بےکس یتیموں کی عزت اور خاطر مدارت نہیں کرتے۔
Ayah 89:1812 یعنی خود اپنے مال سے مسکینوں کی خبر گیری کرنا تو کجا دوسروں کو بھی اس طرف نہیں ابھارتے کہ بھوکے محتاجوں کی خبر لے لیا کریں۔
Ayah 89:1913 یعنی مردے کی میراث لینے میں حلال حرام اور حق ناحق کی کچھ تمیز نہیں، جو قابو چڑھا ہضم کیا، یتیموں اور مسکینوں کے حقوق تلف ہوں، ہونے دو ۔
Ayah 89:2014 یعنی جڑ کی بات یہ ہے کہ تمہارا دل مال کی حرص اور محبت سے بھرا ہوا ہے۔ بس کسی طرح مال ہاتھ آئے اور ایک پیسہ کسی نیک کام میں ہاتھ سے نہ نکلے خواہ آگے چل کر نتیجہ کچھ ہی کیوں نہ ہو۔ مال کی اس قدر محبت اور پرستش کہ آدمی اسی کو کعبہ مقصود ٹھہرا لے، صرف کافر کا شیوہ ہوسکتا ہے۔
Ayah 89:2115 یعنی سب ٹیلے اور پہاڑ کوٹ کر ریزہ ریزہ کردیے جائیں اور زمین صاف چٹیل میدان ہوجائے۔
Ayah 89:2216 یعنی اپنی قہری تجلی کے ساتھ جیسا اس کی شان کے لائق ہے۔
17 یعنی میدان محشر میں آئیں گے وہاں انتظامات کے لئے۔
Ayah 89:231 یعنی لاکھوں فرشتے اس کی جگہ سے کھینچ کر محشر والوں کے سامنے لائیں گے۔
2 یعنی اس وقت سمجھے گا کہ میں سخت غلطی اور غفلت میں تھا۔ مگر اس وقت کا سمجھنا کس کام کا۔ سوچنے سمجھنے کا موقع ہاتھ سے نکل چکا۔ دارالعمل میں جو کام کرنا چاہیے تھا وہ دارالجزاء میں نہیں ہوسکتا۔
Ayah 89:243 یعنی افسوس دنیا کی زندگی میں کچھ نیکی کر کے آگے نہ بھیجی۔ جو آج اس زندگی میں کام آتی۔ یونہی خالی ہاتھ چلا آیا۔ کاش حسنات کا کوئی ذخیرہ آگے روانہ کردیتا جو یہاں کے لئے توشہ بنتا۔
Ayahs 89:25–264 یعنی اللہ تعالیٰ اس دن مجرموں کو ایسی سخت سزا دے گا اور ایسی سخت قید میں رکھے گا کہ کسی دوسرے کی طرف سے اس طرح کی سختی کسی مجرم کے حق میں متصور نہیں۔ اور حضرت شاہ عبدالعزیز (رح) لکھتے ہیں کہ " اس روز نہ مارے گا اس کا سا مارنا کوئی۔ نہ آگ نہ دوزخ کے موکل نہ سانپ بچھو، جو دوزخ میں ہوں گے، کیونکہ ان کا مارنا اور دکھ دینا عذاب جسمانی ہے، اور حق تعالیٰ کا عذاب اس طور سے ہوگا کہ مجرم کی روح کو حسرت اور ندامت میں گرفتار کر دے گا جو عذاب روحانی ہے اور ظاہر ہے عذاب روحانی کو عذاب جسمانی سے کیا نسبت، نیز نہ باندھے گا اس کا سا کوئی باندھنا کوئی۔ کیونکہ دوزخ کے پیادے ہرچند کہ دوزخیوں کے گلے میں طوق ڈالیں گے اور زنجیروں سے جکڑیں گے اور دوزخ کے دروازے بند کر کے اوپر سے سرپوش رکھ دیں گے، لیکن ان کی عقل اور خیال کو بند نہ کرسکیں گے اور عقل و خیال کی عادت ہے کہ بہت سی باتوں کی طرف التفات کرتا ہے اور ان میں سے بعض باتیں دوسری باتوں کے لئے حجاب ہوجاتی ہیں۔ اسی لئے عین قید کی تنگی میں انسان کو عقلی اور خیالی وسعت حاصل ہوتی ہے۔ برخلاف اسی شخص کے کہ اللہ تعالیٰ عقل و خیال کو ادھر ادھر جانے سے روک دے اور بالکل ہمہ تن دکھ درد ہی کی طرف متوجہ رکھے۔ تو ایسی قید بدنی قید سے ہزاروں درجے سخت ہے۔ اسی لئے مجنوں سو دائیوں کو عین باغوں اور جنگلوں کی سیر کے وقت تنگی اور گھبراہٹ و ہم و خیال کے سبب سے پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ باغ اور وسیع جنگل اس کی نظر میں تنگ معلوم ہوتے ہیں۔
Ayahs 89:27–305 پہلے مجرموں اور ظالموں کا حال بیان ہوا تھا۔ اب اس کے مقابل ان لوگوں کا انجام بتلاتے ہیں جن کے دلوں کو اللہ کے ذکر اور اس کی اطاعت سے چین اور آرام ملتا ہے ان سے محشر میں کہا جائے گا کہ اے نفس آرمیدہ بحق ! جس محبوب حقیقی سے تو لو لگائے ہوئے تھا، اب ہر قسم کے جھگڑوں اور خرخشوں سے یکسو ہو کر راضی خوشی اس کے مقام قرب کی طرف چل، اور اس کے مخصوص بندوں کے زمرہ میں شامل ہو اس کی عالیشان جنت میں قیام کر۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کو موت کے وقت بھی یہ بشارت سنائی جاتی ہے۔ بلکہ عارفین کا تجربہ بتلاتا ہے کہ اس دنیا کی زندگی میں بھی ایسے نفوس مطمئنہ اس طرح کی بشارات کافی الجملہ حظ اٹھاتے ہیں۔ " اللّٰھم انی اسالک نفسا بک مطمئنۃ تو من بلقائک وترضی بقضائک وتقنع بعطائک (تنبیہ) نفس مطمئنہ، نفس امارہ اور نفس لوامہ کی تحقیق سورة " قیامہ " کے شروع میں دیکھ لی جائے۔