اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۟اِرَمَ ذَاتِ الۡعِمَادِ
(جو) ارم (کہلاتے تھے اتنے) دراز قد
— Fateh Muhammad Jalandhari
[With] Iram - who had lofty pillars,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۟اِرَمَ ذَاتِ الۡعِمَادِ
(جو) ارم (کہلاتے تھے اتنے) دراز قد
— Fateh Muhammad Jalandhari
[With] Iram - who had lofty pillars,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Fajr
اونچے ستونوں والے عاد ارم کے ساتھ
(جو) ارم (کہلاتے تھے اتنے) دراز قد
ستونوں والے ارم کے ساتھ
اس اونچے ستونوں والی قوم ارم کے ساتھ
وہ اِرم حد سے زیادہ طول والے
(جو اہلِ) اِرم تھے (اور) بڑے بڑے ستونوں (کی طرح دراز قد اور اونچے محلات) والے تھے،
(وہ عاد) جو ارم (قبیلہ کے لوگ) تھے، ستونوں والے۔
اونچے ستونوں والے (عاد) ارم کے ساتھ
ستونوں والے ارم کے ساتھ
یعنی ستونوں والے ان عاد ارم کے ساتھ ؟
یعنی قوم ارم ستون جیسے قد والی
وہ ارم جو ستونوں والے تھے۔
جو ارم کہلاتے تھے اتنے دراز قد
of Iram, known for their lofty columns,
of Iram , the men of tall pillars,
of Iram , the men of tall pillars,
Iram of the pillars,
With many-columned Iram,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
[With] Iram - who had lofty pillars,
the people of the huge columned city of Eram
(The people of) Aram, possessors of lofty buildings,
The people of many-columned lram.
Of the (city of) Iram, with lofty pillars,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–14
شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ فجر تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چناچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں لوگوں نے پوچھا اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں ؟ فرمایا یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس…
Read the full tafseer →سورة الْفَجْر 3 عاد ارم سے مراد وہ قدیم قوم عاد ہے جسے قرآن مجید اور تاریخ عرب میں عاد اولی کا نام دیا گیا ہے۔ سورة نجم میں فرمایا گیا ہے کہ وانہ اھلک عاد الاولی۔ (آیت 50) " اور یہ کہ اس نے قدیم قوم عاد کو ہلاک کیا "، یعنی اس قوم عاد کو جس کی طرف حضرت ہود بھیجے گئے تھے اور جس پر عذاب نازل ہوا تھا۔ اس کے مقابلہ میں تاریخ عرب اس قوم کے ان لوگوں کو جو عذاب سے بچ کر بعد میں پھلے پھولے تھے عاد اخری کے نام سے یاد کرتی ہے۔ قدیم قوم عاد کو عاد ارم اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ سامی نسل کی اس شاخ سے تعلق رکھتے تھے جو ارم بن سام بن نوح ؑ سے چلی تھی۔ اسی شاخ کی کئی دوسری ضمنی شاخیں تاریخ میں مشہور ہیں جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ارم ذات العماد، لفظ ارم عاد کا عطف بیان یا بدل ہے اور مقصود اس سے قبیلہ عاد کی دو قسموں میں سے ایک کی تعین ہے یعنی عاد اولیٰ جو انکے متقدمین ہیں ان کو عاد ارم کے لفظ سے اسلئے تعبیر کیا کہ یہ لوگ اپنے جدا علی ارم سے بہ نسبت عاد اخری کے قریب تر ہیں۔ ان کو اس جگہ قرآن کریم عاد ارم کے لفظ سے اور سورة نجم میں اھلک عاد الاولی کے عنوان سے تعبیر فرماتا ہے۔ ان کی صفت میں قرآن کریم نے ذات العماد فرمایا۔ عماد اور عمود ستون کو کہتے ہیں۔ قوم عاد کو ذات العماد اسلئے کہا گیا کہ انکے قدر وقامت بڑے طویل تھے اور یہ قوم اپنے ڈیل ڈول اور قوت و طاقت میں سب دوسری قوموں سے ممتاز تھی ان کے اس امتیاز کو خود قرآن کریم…
Read the full tafseer →’عِمَادٌ‘ اونچنے ستونوں کو کہتے ہیں۔ یہ ان کی تعمیری ترقیوں کی تعبیر کے لیے اسی طرح کا کنایہ ہے جس طرح سورۂ سبا میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے جود و کرم کی تعبیر ’جِفَانٍ کَالْجَوَابِ وَقُدُوۡرٍ رَّاسِیَاتٍ‘۱ (سبا ۳۴: ۱۳) کے الفاظ سے کی گئی ہے۔ قوم عاد نے سنگ تراشی کے آرٹ میں بہت ترقی کی۔ پہاڑوں کو ترشوا کر ان کے اندر انھوں نے نہایت خوبصورت ایوان و محل بنوائے۔ ان کے امراء کا خاص ذوق یہ تھا کہ ہر اونچی جگہ پر ان کی کوئی یادگار تعمیر ہو جائے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پیغمبر، حضرت ہود علیہ السلام نے ان کے اس مسرفانہ اور نمائش پسندانہ شوق تعمیر پر ان کو ملامت بھی فرمائی۔ ۱ حضرت سلیمان…
Read the full tafseer →7۔ 1 ارم یہ قوم عاد کے دادا کا نام ہے، ان کا سلسلہ نسب ہے عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح (فتح القدیر) ذات العماد سے اشارہ ہے ان کی قوت وطاقت اور دراز قامتی کی طرف، علاوہ ازیں وہ فن تعمیر میں بھی بری مہارت رکھتے تھے اور نہایت مضبوط بنا دوں پر عظیم الشان عمارتیں تعمیر کرتے تھے۔ ذات العماد میں دونوں ہی مفہوم شامل ہوسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
4:”ارم“ قوم عاد کے جد اعلیٰ کا نام ہے، اس لیے قوم عاد کی جس شاخ کا یہاں ذکر ہے، اس کو عاد ارم کہا جاتا ہے۔ اور ان کو ستونوں والا کہنے کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ان کے قد و قامت اور ڈیل ڈول بہت زیادہ تھے اسی لیے آگے فرمایا گیا ہے کہ ان جیسے لوگ کہیں اور پیدا نہیں کیے گئے۔ اور بعض حضرات نے اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ انہوں نے اپنی تعمیرات میں بڑے بڑے ستون بنائے ہوئے تھے۔ ان کے پاس حضرت ہود ؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا جن کا مفصل واقعہ سورة اعراف : 65 اور سورة ہود : 50 میں گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
الم ترکیف .................................... المرصاد اس قسم کے مطابق سیاق کلام میں استفہام کا صیغہ پرکشش ہوتا ہے اور وہ سامعین کو زیادہ متوجہ کرنے کا باعث ہوتا ہے۔ ابتداً یہ خطاب تو نبی ﷺ کو ہے لیکن بعدہ ہر اس شخص کو خطاب ہے جو ان اقوام کے عبرت آموز واقعات سے سبق لینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جس زمانے میں یہ آیات اتریں ، مخاطبین کے درمیان ان اقوام کے قصے معروف ومشہور تھے۔ اس علاقے میں جو آثار قدیمہ ابھی تک باقی ہیں اور جو قصے ابھی تک زبان زدعام ہیں ، ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان اقوام کے بارے میں عرب اچھی طرح جانتے تھے۔ یہاں فعل کا فاعل ” ربک “ کو لایا گیا ہے۔ اس میں حضور اکرم ﷺ اور اس وقت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
2 " عاد " ایک شخص کا نام ہے جس کی طرف یہ قوم منسوب ہوئی، اس کے اجداد میں سے ایک شخص " ارم " نامی تھا۔ اس کی طرف نسبت کرنے سے شاید اس طرف اشارہ ہو کہ یہاں " عاد " سے عاد اولیٰ " مراد ہے۔ " عاد ثانیہ " نہیں، اور بعض نے کہا " قوم عاد " میں جو شاہی خاندان تھا اسے " ارم " کہتے تھے۔ واللہ اعلم۔ 3 یعنی ستون کھڑے کر کے بڑی بڑی اونچی عمارتیں بناتے۔ یا مطلب ہے کہ اکثر سیرو سیاحت میں رہتے اور اونچے ستونوں پر خیمے تانتے تھے۔ اور بعض کے نزدیک " ذات العماد " کہہ کر ان کے اونچے قدوقامت اور ڈیل ڈول کو ستونوں سے تشبیہ دی ہے۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 7{ اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۔ } ”وہ ارم جو ستونوں والے تھے۔“ ”ارم“ کے بارے میں عام مورخین کا خیال ہے کہ یہ قوم عاد کے شاہی خاندان کا لقب تھا۔ یعنی جس طرح مصر میں فراعنہ ‘ عراق میں نماردہ اور یمن میں تبایعہ خاندانوں کی حکومتیں تھیں ‘ اسی طرح قوم عاد کے علاقے میں ارم خاندان برسراقتدار تھا۔ یہاں ان کے حوالے سے ستونوں کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ وہ لوگ اپنی تعمیرات میں ستونوں کو خصوصی اہمیت دیتے تھے اور دنیا میں ستونوں پر بڑی بڑی عمارتیں کھڑی کرنے کا طریقہ سب سے پہلے انہی نے شروع کیا تھا۔ جیسے اس قوم کے ایک شہر کے جو زیرزمین آثار دریافت ہوئے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ اس شہر کی فصیل پر تیس ستون یا…
Read the full tafseer →6 ذکر قوم عاد :۔ ان شہادتوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قوم عاد کا ذکر کیا۔ قوم عاد کو عاد اولیٰ بھی کہا جاتا ہے اور عاد ارم بھی۔ عاد ارم وہ اس لحاظ سے ہیں کہ ارم بن سام بن نوح کی اولاد تھے اور ذات العماد کی کئی توجیہیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ خود بہت بلند وبالا قد و قامت رکھتے تھے۔ دوسری یہ کہ بلند وبالا عمارتیں بنانے کا آغاز انہوں نے ہی کیا تھا۔ تیسری یہ کہ جب وہ سفر کرتے تھے تو اپنے خیمے نصب کرنے کے لیے بہت اونچی اور مضبوط لکڑیاں استعمال کرتے تھے جیسے وہ ستون ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
3۔ (زور قوت، قدوقامت کے لحاظ سے) (آیت) ” بعاد “۔ قوم عاد پر حاشیہ سورة الاعراف (پ 8) میں گزر چکا، (آیت) ” ارم ذات العماد “۔ قوم عاد سے مراد عاد اولی ہے اور ارم اسی کے شجرہ نسب میں کوئی بڑا شخص ہوا ہے، جس کی جانب وہ قوم منسوب تھی، وھم ولد عادبن ارم بن عوص بن سام بن نوح (ابن کثیر) تسمیۃ لھم باسم جدھم (کشاف) ھو اسم لجد عاد (کبیر) ارم نسبۃ لھم باسم جدھم (بحر) (آیت) ” التی “۔ یعنی وہ قوم یا قبیلہ۔ اے تلک القبیلۃ (معالم) المراد من السیاق انما ھو الاخبار عن القبیلۃ (ابن کثیر) (آیت) ” ارم ..... البلاد “۔ بعض اہل تفسیر نے (اللہ انہیں معاف فرمائے) ارم کے معنی بہشت کے لے کر اور اسے کوئی شہر قرار دے کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے…
Read the full tafseer →ارم . یہ عاد سے بدل ہے یا عطف بیان ہے۔ ارم ‘ عاد کے ایک قبیلہ کا نام تھا جس کے ہاتھ میں اقتدار ہوتا تھا۔ اصل میں عاد بن سام بن نوح کے بیٹے کا نام ارم تھا۔ اسی کے نام پر قبیلہ کا نام ارم ہوگیا۔ محمد بن اسحاق نے کہا : قوم عاد کے دادا کا نام تھا۔ اس صورت میں قوم عاد ارم کی ایک شاخ ہوگی۔ کلبی نے کہا : عاد اور ثمود اور سکان سواد اعراق اور اہل جزیرہ کا نسب اوپر پہنچ کر ارم سے مل جاتا ہے۔ اسی وجہ سے عاد ارم اور ثمود ارم کہا جاتا ہے۔ اللہ نے عاد اور ثمود کو تو بالکل تباہ کردیا۔ اہل سواد اور اہل جزیرہ باقی رہ گئے۔ ان تمام اقوال پر ارم ایک قوم کا نام ہوگا۔ مجاہد نے کہا : اس قوم کی صفت اللہ نے ذات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(87) جن کے قد و قامت ستون جیسے لانبے تھے جن کے برابر زور و قوت میں کوئی نہیں پیدا کیا گیا، یا یہ کہ ارم اس شہر کا نام ہے جو انہوں نے بہت مضبوط بنایا تھا جس میں سونے اور چاندی کے ستون تھے۔ اس کی خوبصورتی میں کوئی شہر اس کے برابر نہیں تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
(الم ترکیف فعل ربک بعاد)…:”العماد“ اسم جنس ہے جو واحد و جمع سب پر آتا ہے، ستون۔”ارم“ نوح ؑ کی اولاد میں سے ایک آدمی کا نام ہے جس کی نسل سے عاد ارم تھے۔ عاد ارم سے مراد عاد اولیٰ ہیں جن کی طرف ہود ؑ بھیجے گئے تھے اور عاد ثانیہ یا عاد اخریٰ ثمود کو کہتے ہیں ڈ۔ بعض کا خیال ہے کہ ارم خاص اس جگہ کا نام تھا جہاں عاد رہتے تھے۔ (واللہ الع) البتہ حفاظ ابن کثیر ؒ نے ان لوگوں کی باتوں کو خرافات قرار دیا ہے جن ہوں نے ارم ایک ایسا شہر بیان کیا ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی اور ایک چاندی کی تھی۔ ”ذات العماد“ کا لفظی معنی ہے ”ستونوں والے۔“ ان کا یہ لقب اس لئے ہے کہ وہ بڑے قد آور تھے (جس طرح کھجوروں کے تنے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
الم ترکیف فعل ربک بعاد۔ ارم ذات العماد۔ الم ترکیف فعل ربک بعاد۔ ارم، ربک سے مراد تیرا مالک اور تیرا خالق ہے، عام قرات عاد ہے، حضرت حسن بصری اور ابوالعالیہ نے بعاد ارم کی صورت میں پڑھا ہے، جس نے مضاف، مضاف الیہ نہیں بنایا اس نے ارم کو اس کا نام بتایا ہے اور غیر منصرف قرار دیا ہے کیونکہ اس نے عاد کو ان کے رب کا نام اور ارم کو قبیلہ کا نام قرار دیا ہے اور ارم کو اس کا بدل یا عطف بیان بنایا ہے جس نے اسے اضافت کے ساتھ پڑھا ہے اس نے اسے ان کی ماں کا لفظ یا ان کے شہر کا نام قرارد یا ہے تقدیر کلام یوں ہوگی بعاد اھل ارم۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وسئل القریۃ۔ یوسف 82) یہ منصرف نہیں ہوگا خواہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
91۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے مقدام بن معدیکرب ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارم ذات العماد کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان میں سے ایک آدمی تھا وہ ایک چٹان کے پاس آتا تو اسے اپنے کندھوں پر اٹھا لیتا اور اس کو جس قبیلہ پر چاہتا پھینک دیتا اور ان کو ہلاک کردیتا۔ 92۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ارم ہی دمشق ہے۔ 93۔ ابن جریر وعبد بن حمید وابن عساکر نے سعید المقبری (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 94۔ ابن عساکر نے سعید بن المسیب (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 95۔ عبد بن حمید نے خالد الرابعی (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 96۔ ابن جریر وابن المنذر نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے…
Read the full tafseer →[اِرَمَ : (یعنی عادِ ) ارم کے ساتھ ][ ذَاتِ الْعِمَادِ : جو ستونوں والے تھے ] (آیت۔ 7) قبیلہ عاد دو تھے۔ عادِ اولیٰ کا دوسرا نام اِرَمُ (غیر منصرف) ہے۔ یہاں یہ عَادٍ کے بدل کے طور پر آیا ہے اس لیے اِرَمَ حالت جَر میں ہے۔ ذَاتِ اِلْعِمَادِ اِرَمَ کی صفت ہے اس لیے ذَاتِ حالت جر میں آیا ہے۔ اور عَادٍ ایک قبیلہ ہے اس لیے ذَاتِ مونث کا صیغہ آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
اس کے بعد بعض گزشتہ اقوام کی بربادی کا تذکرہ فرمایا خطاب بظاہر رسول اللہ ﷺ کو ہے اور آپ کے واسطہ سے تمام انسانوں کو ہے تاکہ ان واقعات سے عبرت حاصل کریں یہاں ان اقوام کی ہلاکت کا اجمالی تذکرہ فرمایا ہے۔ قرآن مجید میں دیگر مواقع میں ان کے تفصیلی حالات جگہ جگہ مذکور ہیں، فرمایا ﴿اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ۙ006﴾ (کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے قوم عاد کے ساتھ کیا کیا جو ارم نام کے ایک شخص کی نسل میں سے تھے اور ذات العماد تھے) ان کے بڑے بڑے قد تھے، مشہور ہے کہ ان کے قدر بارہ ہاتھ کے تھے (كما ذکرہ فی الروح) یہ ذات العماد کا ایک معنی ہے اور بعض حضرات نے اس کا لغوی یہ معنی لیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت : قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
5:۔ ” الم تر “ یہ تخوید دنیوی کا پہلا نمونہ ہے برائے تزہید فی الدنیا۔ حاصل یہ ہے کہ دنیا کی کوئی چیز نہیں دنیا کے پیچھے نہ بھاگو بلکہ آخرت کی فکر کرو۔ اور اللہ تعالیٰ سے مبارک وقتوں میں اپنے گناہوں کی معافی مانگو قوم عاد کو دیکھو یہ کس قدر طاقتور قوم تھی دنیا میں کوئی ان کا ہمسر نہ تھا۔ مگر انہوں نے سرکشی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تہس نہس کردیا اور ان کا دنیوی ساز و سامان اور کرو فر ان کے کسی کام نہ۔ ” عاد “ ارم یا ارم۔ عاد کے باب ادا کا نام ہے۔ اس صورت میں بدل مبدل منہ کی ترکیب درست نہ ہوگی بلکہ مضاف مقدر ہوگا۔ اصل میں عاد بن ارم تھا۔ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ ۔ ” ذات العماد “ لمبے قد والے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
(فجر اور دس راتیں ) ارشاد ہوتا ہے والفجر قسم ہے فجر کی ولیال عشر اور قسم ہے دس 10 راتوں کی ۔ فجر اور دس راتوں سے کون سی فجر اور کون سی دس راتیں مراد ہیں اس میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض فرماتے ہیں کہ فجر سے مطلق مراد ہے ۔ جو ہر روز طلوع ہوتی ہے۔ اور دس راتوں سے مراد رمضان المبارک کی آخری دس راتیں ہیں ۔ جن میں لیلۃ القدر جسیی عظیم اور بابرکت رات آتی ہے۔ اور جس میں عبادت کا اجر ثواب ایک ہزار مہینے سے زیادہ ہوتا ہے ۔ ان راتوں میں اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی شامل حال ہوتی ہے۔ دنیا میں عظیم انقلاب برپا کرنے والی کتاب قرآن پاک کے نزول کی ابتداء بھی اسی رات میں ہوئی ۔ بعض فرماتے ہیں کہ فجر…
Read the full tafseer →اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ 7 أرم الإرم : علم يبنی من الحجارة، وجمعه : آرام، وقیل للحجارة : أُرَّم . ومنه قيل للمتغیظ : يحرق الأرم وقوله تعالی: إِرَمَ ذاتِ الْعِمادِ [ الفجر/ 7] إشارة إلى عمدٍ مرفوعة مزخرفة، وما بها أَرِمٌ وأَرِيمٌ ، أي : أحد . وأصله اللازم للأرم، وخص به النفي، کقولهم : ما بها ديّار، وأصله للمقیم في الدار . ا ر م ) الارم ۔ در اصل اس نشان کو کہتے ہیں جو پتھروں سے بنا دیا تا ہے اس کو جمع ارام ہے اور پتھروں کو ارم کہا جاتا ہے اور اسی سے غضب ناک آدمی کے متعلق کہا جاتا ہے ۔ فلان یحرق الارم یعنی فلاں مارے غصے کے دانت پیستا ہے اور آیت کریمہ :۔ { إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ } ( سورة الفجر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
ترکیب ¦ ارم ذات العماد عطف بیان لعادا وبدل منہ وارم غیر منصرف للتعریف والتانیث وارم 1 ؎ جدعادلانہ عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح وقال قتادہھی قبیلۃ من عاد قال ابو عبیدہ ھما عادان فالاولیٰ ارم۔ ومعنی ذات العماد و ذات القوۃ والشدۃ وقیل ذات الطوال یقال رجل طویل العماد ای القامۃ وفی الصحاح العماد الابنیۃ الرفیعۃ تذکر و تؤنث۔ التی لم یخلق الخ صفۃ لعاد وقیل صفۃ ارم علی قول من قال ان ارم قریۃ وارض وثمود بالنصب عطفا علی عاد مجرور محلا علی انہ اسم للقبیلۃ ففیہ التانیث والتعریف فھو غیر منصرف الذین الخ صفۃ لثمود جابوا الجوب القطع ومنہ جاب البلاد واذا قطعھا ومنہ جیب القمیص لانہ قطع بالواد متعلق بجابوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ ۔ اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۔ الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبِلاَدِ ۔ (الفجر : 6 تا 8) (کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ آپ کے رب نے کیا برتائو کیا عاد کے ساتھ۔ ستونوں والے ارم کے ساتھ۔ ان جیسی کوئی قوم ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی۔ ) آفاق کی شہادت کے بعد تاریخ سے استدلال گزشتہ آیات میں قسموں کی صورت میں آفاق کی نشانیوں کی شہادت کے بعد قوموں کی تاریخ سے استدلال کیا جارہا ہے، کیونکہ انسانوں کی فکری کوتاہی یہ ہے کہ وہ آفاق وانفس کی نشانیوں کی طرف کم ہی توجہ دیتے ہیں۔ لیکن تاریخی شواہد اور وہ بھی اپنے جیسے انسانوں کے براہ راست انسانوں پر اثر کرتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں جس طرح اس کی قدرت کی نشانیاں پائی جاتی ہیں اسی طرح یہ بات بھی اس کی قدرت اور قوت کا مظہر ہے کہ اس نے عاد اور ثمود جیسی قوموں کو نیست و نابود کیا جن کی تباہی سے لوگوں نے سکون پایا۔ موجودہ جغرافیے کے مطابق قوم عاد کی رہائش عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندوبالا پہاڑ تھے۔ اس کے باسی جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے دنیا میں ان کا ثانی کوئی نہیں پیدا کیا گیا۔ انھوں نے پہاڑتراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس…
Read the full tafseer →7 : اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ (یعنی قوم ارم کے ساتھ جن کے قدوقامت ستون جیسے تھے) یعنی کیا آپ کو معلوم نہیں اے محمد ﷺ ایسا معلوم ہونا جو یقین میں آنکھوں دیکھے کی طرح ہے۔ نحو : الم ترؔ یہ استفہام تقریری ہے۔ قوم عاد : عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد کو عاد ارم کہا جاتا ہے۔ جیسا بنی ہاشم کو ہاشم کہا جاتا ہے۔ پھر ان میں سے پہلوں کو عاد اولی و عاد ارم کہتے ہیں۔ یہ نام دادے کی وجہ سے ہے۔ اور بعد والوں کو عاد اخیرہ کہتے ہیں پس ارمؔ یہ عاد کا عطف بیان ہے اور اس سے ظاہر کرنا مقصود ہے کہ یہ عاد اولی قدیمہ ہے۔ ایک قول یہ ہے : ارم اس شہر اور سر زمین کا نام ہے جہاں وہ مقیم تھے۔ اس پر ابن الزبیر کی…
Read the full tafseer →7 ۔” ارم “ اہل مکہ کو درا رہے ہیں۔ یعنی کیسے ان کو ہلا کیا حالانکہ وہ لمبی عمروں والے اور ان سے قوت میں بہت زیادہ تھے اور ارم میں اختلاف ہوا ہے۔ عاد کی تفسیر سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں ارم ” ذات العماد “ دمشق ہے اور اسی کے عکرمہ (رح) قائل ہیں اور قرظی (رح) فرماتے ہیں وہ اسکندریہ ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں وہ امت ہے اور کہا گیا ہے اس کا معنی پرانی اور قتادہ اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ عاد کا ایک قبیلہ ہیں۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں ان میں بادشاہ تھا اور وہ مہرۃ میں تھے اور عاد ان کا باپ تھا تو ان کی اس کی طرف نسبت کی گئی اور وہ رام بن عاد بن شیم بن سام بن نوح ہے اور محمد بن اسحاق (رح)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
1۔ 14۔ دس راتوں اور طاق اور جفت کی تفسیر اگرچہ سلف نے طرح طرح سے کی ہے لیکن امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور ابن زبیر ؓ اور مجاہد اور اکثر سلف کا قول یہی ہے کہ دس راتوں سے مراد ماہ ذی الحجہ کی اول کی دس راتیں ہیں یہی قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ مسند 3 ؎ امام احمد نسائی و مستدرک حاکم بیہقی وغیرہ میں حضرت جابر ؓ کی مرفوع روایت میں یہی تفسیر آچکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ان دس راتوں سے مراد شروع ذی الحجہ کی دس راتیں ہیں۔ حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اور طاق اور جفت کی تفسیر میں یہ قول صحیح معلوم ہوتا ہے کہ طاق اور جفت سے مراد طاق اور جفت نمازیں ہیں جیسے مغرب اور عشاء ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے (اَلَمْ تَرَ ) یعنی کیا آپ نے اپنے قلب اور اپنی بصیرت سے دیکھا نہیں کہ اس سرکش قوم کے ساتھ کیا کیا گیا اور وہ (ارمَ ) ، ، ارم۔ یمن کا ایک معروف قبیلہ تھا ( ذَاتِ الْعِمَادِ ) ستونوں والے۔ یعنی بہت زیادہ قوت سرکشی اور ظلم وجبر والے لوگ تھے۔
Read the full tafseer →(7) ذات العماد کا معنی و مفہوم اور اس سے مقصود و مراد ؟ سو " ذات العماد " ستونوں والوں سے ایک طرف تو ان لوگوں کے لمبے قدوں کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے قد بھی بہت اونچے اونچے تھے، جیسا کہ فرمایا گیا ( آیت، قمر 20 پ 27) یعنی وہ اس طرح گرے پڑے تھے گویا کہ وہ تنے ہیں اکھڑی ہوئی کھجوروں کے، اور دوسرے مقام پر فرمایا گیا ( آیت، الحاقہ 7 پ 29) سو یعنی گویا کہ وہ تنے ہوں بوسیدہ کھجوروں کے، ان کے جسم اور ڈیل ڈول کھجوروں کے تنوں کی طرح تھے، جس کی بنا پر وہ فخریہ طور پر کہا کرتے تھے ( آیت، حم السجدہ 15 پ 24) یعنی " ہم سے بڑھ کر طاقتور اور کون ہوسکتا ہے ؟ " نیز وہ لوگ اپنی عظمت و بڑائی اور شان و شوکت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
نیک و بد کی تمیز اور میدان حشر تشریح : اس سورت میں ان لوگوں کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو شیطان کے بہلاوے میں آ کر سرکشی ' نفرت ' نافرمانی ' تکبر اور ناشکر گزاری کی عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ بیشک یہ مال و دولت ' عزت شہرت اور آل و اولاد کی کثرت میں زیادہ سے زیادہ لالچی اور انسانیت کی حدود سے دور ہوتے ہوئے بس اپنے میں ہی مست ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں مال کی محبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مال دینے والے (اللہ) سے ہی دور ہوجاتے ہیں اور حرام و حلال کا فرق بھول جاتے ہیں۔ نہ ان کو یہ خیال رہتا ہے کہ یتیم کا مال ہے یا غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ بس وہ تو صرف مال کی محبت ہی میں کھو جاتے ہیں۔ اور جب کبھی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة الفجر۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ف 11 ” ارم “ قوم عاد کے اجداد میں ایک شخص کا نام تھا۔ عاد کی اس کی طرف نسبت کرنے سے شاید یہ بتانا مقصود ہے کہ یہاں ” عاد “ سے مراد عاد اولیٰ سے نہ کر عادثانیہ۔ بعض کا خیال ہے کہ ارم خاص اس جگہ کا نام تھا جہاں عاد رہتے تھے واللہ اعلم۔12 ” ذات العماد “ کے لفظی معنی ہیں ’ دستونوں والے۔ “ ان کا یہ لقب یا تو اس لئے ہے کہ وہ بڑے قد آور تھے اور یا اس لئے ہے کہ وہ بڑے بڑے ستونوں والی عمارتیں بناتے تھے واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →(89:7) ارم ذات العماد۔ یہ عاد کا عطف بیان ہے اور اس کی وضاحے کرتا ہے یعنی وہ عاد جو قبیلہ ارم ستونوں والوں سے تھا۔ ارم کے متعلق لغات القرآن میں ہے :۔ اس کی تفسیر میں مفسرین کا اختلاف ہے لیکن زیادہ قرین صحت یہی ہے کہ یہ ایک قبیلہ کا نام ہے جو جد قبیلہ ارم بن سام بن نوح (علیہ السلام) کے نام پر رکھا گیا ہے ۔ عرب بائدہ میں سے عاد اولی اسی قبیلہ میں سے شمار کیا جاتا ہے چناچہ قرآن عظیم میں بعاد ارم ذات العماد میں عاد سے مراد عاد اولیٰ اور ارم سے ان کا قبیلہ مراد ہے۔ ارم۔ یا تو تانیث اور علمیت کی بنا پر غیر منصرف ہے یا علمیت اور عجمیت کی وجہ سے لہٰذا منصوب ہے۔ ذات العماد مضاف مضاف الیہ ۔ ستونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
لغات القرآن۔ لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔ تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
صاحب قوت اقتدار لوگوں کا عذاب الٰہی سے ہلاک ہونا۔ (ف 1) فرمایا کہ کیا تم نے نہ دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے عاد یعنی ارم ستون جیسے دراز قد والوں کے ساتھ کیسامعاملہ کیا، زور وقوت اور طول قیامت میں عاد کے بیٹوں میں سے شداد بھی ہے جس نے دنیا پر بادشاہت کی اور تمام بادشاہ اس کے مطیع ہوگئے اور اس نے جنت کا ذکر سن کر براہ سرکشی دنیا میں جنت بنانی چاہی اور اس ارادہ سے ایک شہرعظیم بنایاجس کے محل سونے چاندی کی اینٹوں سے تعمیر کیے گئے اور زبرجد اور یاقوت کے ستون اس کی عمارتوں میں نصب ہوئے اور ایسے ہی فرش مکانوں اور ستونوں میں بنائے گئے سنگریزوں کی جگہ آبدار موتی بچھائے گئے ہر محل کے گرد جواہر پر نہریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
[5] عاد کا ذکر پچھلی سورتوں میں گزر چکا ہے۔ یہاں ان کا ذکر ارم کی نسبت کے ساتھ ہوا ہے جو ان کے اجداد میں سے کسی بڑے شخص کا نام تھا۔ ان کو ستونوں والے اس لئے کہا گیا کہ وہ ستونوں پر اونچی اونچی عمارتیں بناتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سورة الفجر 1: اس سورت میں قسموں کے انداز میں شواہد کو پیش فرمایا ہے اور دلائل کا ذکر کیا ہے ۔ اسی واسطے فرمایا ہے ۔ ھل فی ذلک قسم لذی حجر ۔ کہ اس میں عقلمندوں اور غوروفکر کرنے والوں کے لئے ایک بین دلیل ہے ۔ اس لئے مقام اور موقع کے لحاظ سے زیادہ موزوں یہ ہے کہ یہاں الفجر سے مراد فجر قیامت ہو اور دس راتوں سے مراد وہ دس راتیں ہوں جن میں نافرمان قوموں پر عذاب بھیجا گیا اور الشفع والوتر حسوما اور الیل اذیسر ۔ غرض ہر وہ رات ہے جو معذب قوموں پر آتی ہے ۔ اس نہج سے یہ دعوی ان ربک لبا لمرصاد بالکل درست اور صحیح ثابت ہوگا ۔ یعنی ان معذب قوموں کی تاریخ پڑھو اور ان کے حالات کا مطالعہ کرو ۔ تمہیں معلوم…
Read the full tafseer →(7) جو ارم کہلاتے تھے بڑے ستونوں والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ف 5۔ استفہام تقریر و تاکید کے لئے ہے یعنی ان مذکورہ قسموں میں ہر ہر قسم تاکید کلام کے لئے کافی ہے اور گو سب قسمیں ایسی ہی ہیں۔ مگر اہتمام کے لئے اس کے کافی ہونے کی تصریح فرمادی کما مرفی قولہ تعالیٰ فی سورة الواقعہ وانہ لقسم لو تعلمون عظیم اور جواب قسم مقدر ہے کہ منکروں کو سزا ضرور ہوگی۔
Read the full tafseer →عاد ارم جو بہت بڑے بڑے ستونوں والے تھے 7 ؎ کہا گیا ہے کہ ارم عاد اول قوم کے دادا کا نام تھا اس لیے ان کو عاد ارم کہا جاتا ہے اور ان کے ایک خاص شہر کا نام بھی ارم تھا جو غالباً اس ارم نام کے آدمی نے بسایا تھا جو عاد اولیٰ کا دادا تھا۔ ( ذات العماد) ان کو کئی ایک معنوں کے لحاظ سے کہا گیا ہے۔ (1) وہ قدو قامت میں بہت لمبے تھے اور بہت قوی ہیکل لوگ تھے۔ (2) عماد ستون کو کہتے ہیں گویا قدو قامت میں وہ ستونوں کی طرح تھے۔ (3) اپنی حکومت اور فتوحات کی نشانیاں ستونوں کے رنگ میں بنایا کرتے تھے جیسے ہندوستان کے راجہ اور بادشاہ ” لات “ بنایا کرتے تھے ، جیسے اشوک کی لات ۔ فیروز شاہ کی لات (4) بہت بلند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
They are introduced here by the epithet: ذَاتِ الْعِمَادِ (the men of tall pillars) The word ` imad' and 'amud' means 'pillar'. The people of ` Ad are mentioned as the men of tall pillars because they were very tall in stature. They were a stronger and more powerful people than any other nations. The Qur'an describes them explicitly, thus: لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ (the like of whom were never created in the lands...89:8) The Qur'an made it clear that this nation was the tallest and the strongest in their physical stature, but the Qur'an did not state the exact measurement of…
Read the full tafseer →3 `Ad Iram implies the ancient tribe of `Ad, who have been called 'Ad Ula in the Qur'an and Arabian history. In Surah An-Najm, it has been said: "And that We destroyed the ancient people of `Ad" (v. 50) , i.e. the `Ad to whom the Prophet Hud had been sent, and who were punished with a scourge. As against thetas the people of `Ad who retrained safe and flourished afterwards are remembered as Ad Ukhra in Arabian history. The ancient `Ad are called Ad lram for the reason that they belonged to that branch of the Semetic race which descended from Iram son of Shem son of Noah (peace be upon him) .…
Read the full tafseer →