Al-Fajr 89:6

Al-Fajr · from ayah 6

89:6

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ۟اَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے عاد کے ساتھ کیا کیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Have you not considered how your Lord dealt with 'Aad -

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fajr

All translations of 89:6

تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے کیا برتاؤ کیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے عاد کے ساتھ کیا کیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے عادیوں کے ساتھ کیا کیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے پروردگار نے عاد کے ساتھ کیا سلوک کیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا تم نے نہ دیکھا تمہارے رب نے عاد کے ساتھ کیسا کیا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے (قومِ) عاد کے ساتھ کیسا (سلوک) کیا؟،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کس طرح کیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ آپ کے پروردگار نے عاد کے ساتھ کیسا سلوک کیا تھا ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

دیکھا نہیں، کیا کیا تیرے خداوند نے عاد کے ساتھ !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا تم نے دیکھا نہیں کہ کیسا معاملہ کیا تمہارے رب نے عاد کی (باغی و سرکش) قوم کے ساتھ ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کیا آپ کو خبر نہیں کہ آپ کا پروردگار نے کیا معاملہ قوم عاد کے ساتھ کیا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تم نے دیکھا نہیں کیا کیا تھا آپ کے رب نے عاد کے ساتھ ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ عاد والوں کے ساتھ تمہارے رب نے کیا کیا

— محترمہ رفعت اعجاز

Have you not seen how your Lord dealt with Ad

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Have you not seen how your Lord dealt with (the people) of 'Aad

— Muhammad Taqi Usmani

Have you not seen how your Lord dealt with (the people) of Aad

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Saw you not how your Lord dealt with `Ad

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Dost thou not consider how thy Lord dealt with (the tribe of) A'ad,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Have you not considered how your Lord dealt with 'Aad -

— Saheeh International

(Muhammad), consider how your Lord dealt with the tribe of Ad,

— Muhammad Sarwar

Have you not considered how your Lord dealt with Ad,

— Muhammad Habib Shakir

Bethinkest thou not in what wise thy Lord did with the 'A'ad:

— Abdul Majid Daryabadi

Seest thou not how thy Lord dealt with the 'Ad (people),-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 89:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–14

شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ فجر تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چناچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں لوگوں نے پوچھا اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں ؟ فرمایا یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفَجْر 2 جزا و سزا پر شب و روز کے نظام سے استدلال کرنے کے بعد اس کے ایک یقینی حقیقت ہونے پر انسانی تاریخ سے استدلال کیا جا رہا ہے۔ تاریخ کی چند معروف قوموں کے طرز عمل اور ان کے انجام کے ذکر سے مقصود یہ بتانا ہے کہ یہ کائنات کسی اندھے بہرے قانون فطرت پر نہیں چل رہی ہے بلکہ ایک خدائے حکیم اس کو چلا رہا ہے اور اس خدا کی خدائی میں صرف ایک وہی قانون کار فرما نہیں ہے جسے تم قانون فطرت سمجھتے ہو، بلکہ ایک قانون اخلاق بھی کار فرما ہے جس کا لازمی تقاضا مکافات عمل اور جزا اور سزا ہے۔ اس قانون کی کار فرمائی کے آثار خود اس دنیا میں بھی بار بار ظاہر ہوتے رہے ہیں جو عقل رکھنے والوں کو یہ بتاتے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–6

والشفع والوتر، شفع کے لغوی معنے جوڑ کے ہیں جس کو اردو میں جفت کہتے ہیں اور وتر کے معنے طاق اور فرد کے ہیں۔ قرآن کریم کے الفاظ میں یہ متعین نہیں کہ اس جفت اور طاق سے کیا مراد ہے اسلئے ائمہ تفسیر کے اقوال اس میں بیشمار ہیں مگر خود حدیث مرفوع جو ابوالزبیر نے حضرت جابر سے روایت کی ہے اسکے الفاظ یہ ہیں۔ (والفجر ولیال عشر) ھو الصبح وعشر النحر والو تریوم عرفہ والشفع یوم النحر رسول اللہ ﷺ نے والفجر ولیال عشر کے متعلق فرمایا کہ فجر سے مراد صبح اور عشر سے مراد عشرہ نحر ہے (اور یہ عشرہ ذی الحجہ کا پہلا ہی عشرہ ہوسکتا ہے جس میں یوم نحر شامل ہے) اور فرمایا کہ وتر سے مراد روز عرفہ اور شفع سے مراد یوم النحر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

تاریخ کی شہادت: اوپر کی آفاقی نشانیوں کی شہادت کے بعد یہ قوموں کی تاریخ کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس کی شہادت بھی یہی ہے کہ اس دنیا کا خالق اس میں ابھرنے والی قوموں کے رویہ سے بے تعلق نہیں رہتا بلکہ وہ برابر گھات لگائے ان کی نگرانی کرتا رہتا ہے۔ جب وہ بے راہ ہوتی ہیں تو وہ اپنی حکمت کے تحت ایک خاص مدت تک ان کو مہلت تو ضرور دیتا ہے تاکہ وہ اپنی اصلاح کر لیں، اگر اصلاح کرنی چاہیں ورنہ اپنا پیمانہ بھر لیں۔ پھر وہ ان کو پکڑتا ہے اور اس طرح پکڑتا ہے کہ ان کی ہستی ہی مٹا کر رکھ دیتا ہے۔ قوموں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ اس بات کی صاف شہادت ہے کہ اس مجموعی دنیا کے لیے بھی ایک روز حساب آئے گا جس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

6۔ 1 ان کی طرف حضرت ہود ؑ کو نبی بنا کر بھیجے گئے تھے انہوں نے جھٹلایا، بالآخر اللہ تعالیٰ نے سخت ہوا کا عذاب بھیجا۔ جو متواتر سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی اور انہیں نہس تہس کر کے رکھ دیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–6

3: یعنی جب رات رخصت ہونے لگے، ان تمام دنوں اور راتوں کا حوالہ شاید اس لئے دیا گیا ہے کہ عرب کے کافر لوگ بھی ان کو مقدس سمجھتے تھے، ظاہر ہے کہ یہ تقدس ان دنوں اور راتوں میں خود سے نہیں آگیا ؛ بلکہ اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے اس لئے یہ سارے دن رات اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت پر دلالت کرتے ہیں، اور اس قدرت اور حکمت کا ایک مظاہرہ یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک اور بد کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہ فرمائے، بلکہ نیک لوگوں کو انعام دے اور برے لوگوں کو سزا ؛ چنانچہ اس سورت میں انہی دونوں باتوں کو نہایت بلیغ انداز میں بیان فرمایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 6–8

الم ترکیف .................................... المرصاد اس قسم کے مطابق سیاق کلام میں استفہام کا صیغہ پرکشش ہوتا ہے اور وہ سامعین کو زیادہ متوجہ کرنے کا باعث ہوتا ہے۔ ابتداً یہ خطاب تو نبی ﷺ کو ہے لیکن بعدہ ہر اس شخص کو خطاب ہے جو ان اقوام کے عبرت آموز واقعات سے سبق لینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جس زمانے میں یہ آیات اتریں ، مخاطبین کے درمیان ان اقوام کے قصے معروف ومشہور تھے۔ اس علاقے میں جو آثار قدیمہ ابھی تک باقی ہیں اور جو قصے ابھی تک زبان زدعام ہیں ، ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان اقوام کے بارے میں عرب اچھی طرح جانتے تھے۔ یہاں فعل کا فاعل ” ربک “ کو لایا گیا ہے۔ اس میں حضور اکرم ﷺ اور اس وقت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 6–7

2 " عاد " ایک شخص کا نام ہے جس کی طرف یہ قوم منسوب ہوئی، اس کے اجداد میں سے ایک شخص " ارم " نامی تھا۔ اس کی طرف نسبت کرنے سے شاید اس طرف اشارہ ہو کہ یہاں " عاد " سے عاد اولیٰ " مراد ہے۔ " عاد ثانیہ " نہیں، اور بعض نے کہا " قوم عاد " میں جو شاہی خاندان تھا اسے " ارم " کہتے تھے۔ واللہ اعلم۔ 3 یعنی ستون کھڑے کر کے بڑی بڑی اونچی عمارتیں بناتے۔ یا مطلب ہے کہ اکثر سیرو سیاحت میں رہتے اور اونچے ستونوں پر خیمے تانتے تھے۔ اور بعض کے نزدیک " ذات العماد " کہہ کر ان کے اونچے قدوقامت اور ڈیل ڈول کو ستونوں سے تشبیہ دی ہے۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 5–6

آیت 5{ ہَلْ فِیْ ذٰلِکَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍ۔ } ”کیا اس میں کوئی قسم دلیل ہے ان لوگوں کے لیے جو عقل مند ہیں ؟“ یعنی ان تمام چیزوں کو اگلی آیات کے مضمون پر گواہ ٹھہرایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 5–6

5 حِجر بمعنی پتھر اور ہر ٹھوس اور سخت چیز جو آڑ کا کام دے سکے۔ اور عقل کو بھی حجر کہتے ہیں وہ اس لحاظ سے کہ وہ بھی ہر اس چیز کو جو نقصان دہ ہو روک دیتی ہے۔ اور ذی حجر یعنی صاحب عقل یا عقلمند۔ اور اس آیت کا دوسرا ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے : کیا یہ (مذکور چار چیزیں) عقلمندوں کے نزدیک قسم کھانے کے لائق نہیں ؟ مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی نکلتا ہے یعنی مذکورہ اشیاء اس نظام کائنات کے نہایت اہم اجزا اور اپنے اپنے مقام پر بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ پھر کیا وہ ہستی جو ایسا نظام کائنات چلا رہی ہے عالم آخرت کو وجود میں نہ لاسکے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 6–8

3۔ (زور قوت، قدوقامت کے لحاظ سے) (آیت) ” بعاد “۔ قوم عاد پر حاشیہ سورة الاعراف (پ 8) میں گزر چکا، (آیت) ” ارم ذات العماد “۔ قوم عاد سے مراد عاد اولی ہے اور ارم اسی کے شجرہ نسب میں کوئی بڑا شخص ہوا ہے، جس کی جانب وہ قوم منسوب تھی، وھم ولد عادبن ارم بن عوص بن سام بن نوح (ابن کثیر) تسمیۃ لھم باسم جدھم (کشاف) ھو اسم لجد عاد (کبیر) ارم نسبۃ لھم باسم جدھم (بحر) (آیت) ” التی “۔ یعنی وہ قوم یا قبیلہ۔ اے تلک القبیلۃ (معالم) المراد من السیاق انما ھو الاخبار عن القبیلۃ (ابن کثیر) (آیت) ” ارم ..... البلاد “۔ بعض اہل تفسیر نے (اللہ انہیں معاف فرمائے) ارم کے معنی بہشت کے لے کر اور اسے کوئی شہر قرار دے کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–30

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الم تر . استفہام ‘ نفی کے انکار کے لیے ہے اور نفی کا انکار ‘ اثبات (کو لازم) ہے۔ اس لیے استفہام تقریری تعجب کے لیے ہوگا۔ رویت کا معنی اس جگہ یقین کرنا ہے (کیا تم یقین نہیں رکھتے ‘ یعنی تم کو اس بات کا ضرور یقین ہے) ۔ کیف فعل ربک بعاد . کہ تمہارے رب نے عاد کی کیا حالت کردی۔ ان کافروں سے ان کی عمریں لمبی تھیں ‘ ان کی جسمانی طاقتیں بھی زیادہ تھیں لیکن اللہ نے ان کا ستیاناس کردیا۔ طوفان بھیج کر ان کو تباہ کردیا تو یہ اس کے عذاب سے کیسے بچ سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے محمد ﷺ کیا آپ کو بذریعہ قرآن معلوم بھی ہے کہ آپ کے رب نے قوم عاد یعنی ارم بن ارم کے ساتھ کیا معاملہ کیا، کہ ان کو جھٹلانے کی وجہ سے ہلاک کردیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 6–8

(الم ترکیف فعل ربک بعاد)…:”العماد“ اسم جنس ہے جو واحد و جمع سب پر آتا ہے، ستون۔”ارم“ نوح ؑ کی اولاد میں سے ایک آدمی کا نام ہے جس کی نسل سے عاد ارم تھے۔ عاد ارم سے مراد عاد اولیٰ ہیں جن کی طرف ہود ؑ بھیجے گئے تھے اور عاد ثانیہ یا عاد اخریٰ ثمود کو کہتے ہیں ڈ۔ بعض کا خیال ہے کہ ارم خاص اس جگہ کا نام تھا جہاں عاد رہتے تھے۔ (واللہ الع) البتہ حفاظ ابن کثیر ؒ نے ان لوگوں کی باتوں کو خرافات قرار دیا ہے جن ہوں نے ارم ایک ایسا شہر بیان کیا ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی اور ایک چاندی کی تھی۔ ”ذات العماد“ کا لفظی معنی ہے ”ستونوں والے۔“ ان کا یہ لقب اس لئے ہے کہ وہ بڑے قد آور تھے (جس طرح کھجوروں کے تنے۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–7

الم ترکیف فعل ربک بعاد۔ ارم ذات العماد۔ الم ترکیف فعل ربک بعاد۔ ارم، ربک سے مراد تیرا مالک اور تیرا خالق ہے، عام قرات عاد ہے، حضرت حسن بصری اور ابوالعالیہ نے بعاد ارم کی صورت میں پڑھا ہے، جس نے مضاف، مضاف الیہ نہیں بنایا اس نے ارم کو اس کا نام بتایا ہے اور غیر منصرف قرار دیا ہے کیونکہ اس نے عاد کو ان کے رب کا نام اور ارم کو قبیلہ کا نام قرار دیا ہے اور ارم کو اس کا بدل یا عطف بیان بنایا ہے جس نے اسے اضافت کے ساتھ پڑھا ہے اس نے اسے ان کی ماں کا لفظ یا ان کے شہر کا نام قرارد یا ہے تقدیر کلام یوں ہوگی بعاد اھل ارم۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وسئل القریۃ۔ یوسف 82) یہ منصرف نہیں ہوگا خواہ وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

86 ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الم تر کیف فعل ربک بعا۔ ارم۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے عاد کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یعنی ارم سے مراد ہلاک ہوے والے کیا آپ نہیں جانتے کہ آپ کہتے ہیں ارم بنو فلاں کہ بنوفلاں ہلاک ہوگئے آتی ذات العماد ستونوں والے یعنی وہ ستونوں کی طرح لمبے تھے۔ 87۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا آیت بعاد ارم سے مراد قدیم عاد ہیں۔ آیت ذات العماد کے بارے میں فرمایا اہل عمود قائم نہیں رہیں گے۔ یعنی باق نہیں رہیں گے۔ 88۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ارم کا معنی امت ہے۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَلَمْ تَرَ : کیا آپ ﷺ نے دیکھا نہیں ][ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ : (کہ) کیسا کیا آپ ﷺ کے رب نے ][ بِعَادٍ : عاد کے ساتھ ] نوٹ۔ 3: جزا وسزا پر شب وروز کے نظام سے استدلال کرنے کے بعد آیات۔ 6 تا 14 ۔ میں انسانی تاریخ سے استدلال کیا گیا ہے۔ تاریخ کی چند معروف قوموں کے طرز عمل اور ان کے انجام کے ذکر سے یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ کائنات کسی اندھے بہرے قانون فطرت (Law of Nature) پر نہیں چل رہی ہے بلکہ ایک خدائے حکیم اس کو چلا رہا ہے۔ اس خدا کی خدائی میں صرف ایک وہی قانون کار فرما نہیں ہے جسے تم قانون فطرت کہتے ہو۔ بلکہ ایک قانون اخلاق بھی کارفرما ہے جس کا لازمی تقاضا مکافاتِ عمل اور جزاء وسزا ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 6–7

اس کے بعد بعض گزشتہ اقوام کی بربادی کا تذکرہ فرمایا خطاب بظاہر رسول اللہ ﷺ کو ہے اور آپ کے واسطہ سے تمام انسانوں کو ہے تاکہ ان واقعات سے عبرت حاصل کریں یہاں ان اقوام کی ہلاکت کا اجمالی تذکرہ فرمایا ہے۔ قرآن مجید میں دیگر مواقع میں ان کے تفصیلی حالات جگہ جگہ مذکور ہیں، فرمایا ﴿اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ۙ006﴾ (کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے قوم عاد کے ساتھ کیا کیا جو ارم نام کے ایک شخص کی نسل میں سے تھے اور ذات العماد تھے) ان کے بڑے بڑے قد تھے، مشہور ہے کہ ان کے قدر بارہ ہاتھ کے تھے (كما ذکرہ فی الروح) یہ ذات العماد کا ایک معنی ہے اور بعض حضرات نے اس کا لغوی یہ معنی لیا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت : قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–8

5:۔ ” الم تر “ یہ تخوید دنیوی کا پہلا نمونہ ہے برائے تزہید فی الدنیا۔ حاصل یہ ہے کہ دنیا کی کوئی چیز نہیں دنیا کے پیچھے نہ بھاگو بلکہ آخرت کی فکر کرو۔ اور اللہ تعالیٰ سے مبارک وقتوں میں اپنے گناہوں کی معافی مانگو قوم عاد کو دیکھو یہ کس قدر طاقتور قوم تھی دنیا میں کوئی ان کا ہمسر نہ تھا۔ مگر انہوں نے سرکشی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تہس نہس کردیا اور ان کا دنیوی ساز و سامان اور کرو فر ان کے کسی کام نہ۔ ” عاد “ ارم یا ارم۔ عاد کے باب ادا کا نام ہے۔ اس صورت میں بدل مبدل منہ کی ترکیب درست نہ ہوگی بلکہ مضاف مقدر ہوگا۔ اصل میں عاد بن ارم تھا۔ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ ۔ ” ذات العماد “ لمبے قد والے یا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–14

(فجر اور دس راتیں ) ارشاد ہوتا ہے والفجر قسم ہے فجر کی ولیال عشر اور قسم ہے دس 10 راتوں کی ۔ فجر اور دس راتوں سے کون سی فجر اور کون سی دس راتیں مراد ہیں اس میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض فرماتے ہیں کہ فجر سے مطلق مراد ہے ۔ جو ہر روز طلوع ہوتی ہے۔ اور دس راتوں سے مراد رمضان المبارک کی آخری دس راتیں ہیں ۔ جن میں لیلۃ القدر جسیی عظیم اور بابرکت رات آتی ہے۔ اور جس میں عبادت کا اجر ثواب ایک ہزار مہینے سے زیادہ ہوتا ہے ۔ ان راتوں میں اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی شامل حال ہوتی ہے۔ دنیا میں عظیم انقلاب برپا کرنے والی کتاب قرآن پاک کے نزول کی ابتداء بھی اسی رات میں ہوئی ۔ بعض فرماتے ہیں کہ فجر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۝ 6 الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–14

ترکیب ¦ ارم ذات العماد عطف بیان لعادا وبدل منہ وارم غیر منصرف للتعریف والتانیث وارم 1 ؎ جدعادلانہ عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح وقال قتادہھی قبیلۃ من عاد قال ابو عبیدہ ھما عادان فالاولیٰ ارم۔ ومعنی ذات العماد و ذات القوۃ والشدۃ وقیل ذات الطوال یقال رجل طویل العماد ای القامۃ وفی الصحاح العماد الابنیۃ الرفیعۃ تذکر و تؤنث۔ التی لم یخلق الخ صفۃ لعاد وقیل صفۃ ارم علی قول من قال ان ارم قریۃ وارض وثمود بالنصب عطفا علی عاد مجرور محلا علی انہ اسم للقبیلۃ ففیہ التانیث والتعریف فھو غیر منصرف الذین الخ صفۃ لثمود جابوا الجوب القطع ومنہ جاب البلاد واذا قطعھا ومنہ جیب القمیص لانہ قطع بالواد متعلق بجابوا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 6–8

اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ ۔ اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۔ الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبِلاَدِ ۔ (الفجر : 6 تا 8) (کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ آپ کے رب نے کیا برتائو کیا عاد کے ساتھ۔ ستونوں والے ارم کے ساتھ۔ ان جیسی کوئی قوم ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی۔ ) آفاق کی شہادت کے بعد تاریخ سے استدلال گزشتہ آیات میں قسموں کی صورت میں آفاق کی نشانیوں کی شہادت کے بعد قوموں کی تاریخ سے استدلال کیا جارہا ہے، کیونکہ انسانوں کی فکری کوتاہی یہ ہے کہ وہ آفاق وانفس کی نشانیوں کی طرف کم ہی توجہ دیتے ہیں۔ لیکن تاریخی شواہد اور وہ بھی اپنے جیسے انسانوں کے براہ راست انسانوں پر اثر کرتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–14

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں جس طرح اس کی قدرت کی نشانیاں پائی جاتی ہیں اسی طرح یہ بات بھی اس کی قدرت اور قوت کا مظہر ہے کہ اس نے عاد اور ثمود جیسی قوموں کو نیست و نابود کیا جن کی تباہی سے لوگوں نے سکون پایا۔ موجودہ جغرافیے کے مطابق قوم عاد کی رہائش عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندوبالا پہاڑ تھے۔ اس کے باسی جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے دنیا میں ان کا ثانی کوئی نہیں پیدا کیا گیا۔ انھوں نے پہاڑتراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قوم عاد کا حال : 6 : اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ (کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے رب نے قوم عاد کے ساتھ کیا کیا) یہاں سے ان اقوام کا تذکرہ فرمایا جن کو تکذیب ِرسل کے نتیجہ میں عذاب دیا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

6 ۔” الم تر “ فرائؒ فرماتے ہیں کیا آپ کو خبر نہیں اور زجاج (رح) فرماتے ہیں کیا آپ نہیں جانتے اور اس کا معنی تعجب ہے۔” کیف فعل ربک بعاد “…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–14

1۔ 14۔ دس راتوں اور طاق اور جفت کی تفسیر اگرچہ سلف نے طرح طرح سے کی ہے لیکن امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور ابن زبیر ؓ اور مجاہد اور اکثر سلف کا قول یہی ہے کہ دس راتوں سے مراد ماہ ذی الحجہ کی اول کی دس راتیں ہیں یہی قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ مسند 3 ؎ امام احمد نسائی و مستدرک حاکم بیہقی وغیرہ میں حضرت جابر ؓ کی مرفوع روایت میں یہی تفسیر آچکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ان دس راتوں سے مراد شروع ذی الحجہ کی دس راتیں ہیں۔ حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اور طاق اور جفت کی تفسیر میں یہ قول صحیح معلوم ہوتا ہے کہ طاق اور جفت سے مراد طاق اور جفت نمازیں ہیں جیسے مغرب اور عشاء ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 6–7

اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے (اَلَمْ تَرَ ) یعنی کیا آپ نے اپنے قلب اور اپنی بصیرت سے دیکھا نہیں کہ اس سرکش قوم کے ساتھ کیا کیا گیا اور وہ (ارمَ ) ، ، ارم۔ یمن کا ایک معروف قبیلہ تھا ( ذَاتِ الْعِمَادِ ) ستونوں والے۔ یعنی بہت زیادہ قوت سرکشی اور ظلم وجبر والے لوگ تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(6) تاریخ سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور بطور سوال و استفہام اور شاد فرمایا گیا کہ " کیا تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے کیسا معاملہ کیا عاد کی سرکش قوم کے ساتھ ؟ " یعنی جو آخر کار اس انجام کو پہنچ کر رہے جس کا حق دار انہوں نے اپنے کفر و انکار اور اعراض و استکبار کی بنا پر اپنے آپ کو خود بنا لیا تھا۔ سو یہ تاریخ سے حوالہ و ثبوت ہے اس بات کا کہ کفر و انکار اور اعراض و استکبار کا نتیجہ و انجام ہلاکت و تباہی اور ابدی خسارہ و نقصان ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اس کائنات کا خالق ومالک اپنے قانون امہال اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–30

نیک و بد کی تمیز اور میدان حشر تشریح : اس سورت میں ان لوگوں کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو شیطان کے بہلاوے میں آ کر سرکشی ' نفرت ' نافرمانی ' تکبر اور ناشکر گزاری کی عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ بیشک یہ مال و دولت ' عزت شہرت اور آل و اولاد کی کثرت میں زیادہ سے زیادہ لالچی اور انسانیت کی حدود سے دور ہوتے ہوئے بس اپنے میں ہی مست ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں مال کی محبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مال دینے والے (اللہ) سے ہی دور ہوجاتے ہیں اور حرام و حلال کا فرق بھول جاتے ہیں۔ نہ ان کو یہ خیال رہتا ہے کہ یتیم کا مال ہے یا غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ بس وہ تو صرف مال کی محبت ہی میں کھو جاتے ہیں۔ اور جب کبھی ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة الفجر۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 6–7

ف 11 ” ارم “ قوم عاد کے اجداد میں ایک شخص کا نام تھا۔ عاد کی اس کی طرف نسبت کرنے سے شاید یہ بتانا مقصود ہے کہ یہاں ” عاد “ سے مراد عاد اولیٰ سے نہ کر عادثانیہ۔ بعض کا خیال ہے کہ ارم خاص اس جگہ کا نام تھا جہاں عاد رہتے تھے واللہ اعلم۔12 ” ذات العماد “ کے لفظی معنی ہیں ’ دستونوں والے۔ “ ان کا یہ لقب یا تو اس لئے ہے کہ وہ بڑے قد آور تھے اور یا اس لئے ہے کہ وہ بڑے بڑے ستونوں والی عمارتیں بناتے تھے واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(89:6) الم تر : ہمزہ استفہامیہ انکاریہ ہے جب نفی پر داخل ہوتا ہے تو اسے اثبات میں بدل دیتا ہے ۔ کیونکہ جب نفی پرد اخل ہوا تو نفی ہوئی اور نفی کی نفی اثبات ہے۔ لم تر نفی جحد بلم کا صیغہ واحد مذکر حاضر (خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے) کیا تو نے (دل کی آنکھوں سے) نہیں دیکھا۔ ای الم تنظر بعینی قلبک کیف فعل ربک ۔۔ الخ (ایسر التفاسیر) کیا آپ نے اپنے دل کی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔ یعنی آپ نے ضرور دیکھا ہوگا۔ علامہ سیوطی (رح) اپنی تفسیر الاتقان حصہ اول میں رقمطراز ہیں :۔ جب ہمزہ استفہام ” رأیت “ پر داخل ہوتا ہے تو اس حالت میں رؤیت کا آنکھوں یا دل سے دیکھنے کے معنی میں آنا ممنوع ہوتا ہے اور اس کے معنی اخبرنی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–30

لغات القرآن۔ لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔ تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 6–14

صاحب قوت اقتدار لوگوں کا عذاب الٰہی سے ہلاک ہونا۔ (ف 1) فرمایا کہ کیا تم نے نہ دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے عاد یعنی ارم ستون جیسے دراز قد والوں کے ساتھ کیسامعاملہ کیا، زور وقوت اور طول قیامت میں عاد کے بیٹوں میں سے شداد بھی ہے جس نے دنیا پر بادشاہت کی اور تمام بادشاہ اس کے مطیع ہوگئے اور اس نے جنت کا ذکر سن کر براہ سرکشی دنیا میں جنت بنانی چاہی اور اس ارادہ سے ایک شہرعظیم بنایاجس کے محل سونے چاندی کی اینٹوں سے تعمیر کیے گئے اور زبرجد اور یاقوت کے ستون اس کی عمارتوں میں نصب ہوئے اور ایسے ہی فرش مکانوں اور ستونوں میں بنائے گئے سنگریزوں کی جگہ آبدار موتی بچھائے گئے ہر محل کے گرد جواہر پر نہریں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 5–6

[3] یعنی جو قسمیں مذکور ہوئیں ان میں سے ہر قسم صاحب فہم کے لئے تاکید کلام ہی کا پہلو رکھتی ہے۔ [4] جس بات پر یہ قسمیں کھائی گئی ہیں اس کا ذکر نہیں کیا گیا لیکن بعد کی آیات سے واضح ہوجاتا ہے کہ کفار آخرت اور جزاسزا کا انکار کر رہے تھے۔ اس پر یہ قسمیں کھائی گئیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قائم کئے ہوئے حکیمانہ نظام کے مشاہدے کے بعد بھی اس امر کی شہادت دینے کے لئے کسی اور قسم کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟ لہذا جس اللہ نے یہ نظام قائم کیا ہے اس کی قدرت سے یہ بعید نہیں ہے کہ وہ آخرت برپا کرے اور انسان سے اس کے اعمال کی باز پرس کرے اور نیکی کی جزا اور بدی کی سزا دے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–14

سورة الفجر 1: اس سورت میں قسموں کے انداز میں شواہد کو پیش فرمایا ہے اور دلائل کا ذکر کیا ہے ۔ اسی واسطے فرمایا ہے ۔ ھل فی ذلک قسم لذی حجر ۔ کہ اس میں عقلمندوں اور غوروفکر کرنے والوں کے لئے ایک بین دلیل ہے ۔ اس لئے مقام اور موقع کے لحاظ سے زیادہ موزوں یہ ہے کہ یہاں الفجر سے مراد فجر قیامت ہو اور دس راتوں سے مراد وہ دس راتیں ہوں جن میں نافرمان قوموں پر عذاب بھیجا گیا اور الشفع والوتر حسوما اور الیل اذیسر ۔ غرض ہر وہ رات ہے جو معذب قوموں پر آتی ہے ۔ اس نہج سے یہ دعوی ان ربک لبا لمرصاد بالکل درست اور صحیح ثابت ہوگا ۔ یعنی ان معذب قوموں کی تاریخ پڑھو اور ان کے حالات کا مطالعہ کرو ۔ تمہیں معلوم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(6) اے پیغمبر کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے پروردگار نے قوم عاد کے ساتھ کیا سلوک کیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–7

ف 5۔ استفہام تقریر و تاکید کے لئے ہے یعنی ان مذکورہ قسموں میں ہر ہر قسم تاکید کلام کے لئے کافی ہے اور گو سب قسمیں ایسی ہی ہیں۔ مگر اہتمام کے لئے اس کے کافی ہونے کی تصریح فرمادی کما مرفی قولہ تعالیٰ فی سورة الواقعہ وانہ لقسم لو تعلمون عظیم اور جواب قسم مقدر ہے کہ منکروں کو سزا ضرور ہوگی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا تو نے نہیں سنا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا 6 ؎ عاد ایک قوم تھی جس کا زمانہ تقریباً دو ہزار سال قبل از مسیح مانا جاتا ہے۔ قرآن کریم نے ان کی نشاندہی کرتے ہوئے ( من بعد قوم نوح) کہا ہے یعنی یہ قوم ہر حال میں نوح (علیہ السلام) سے بعد کی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شام کی دوبارہ آبادی کے بعد امم ساعیہ کی ترقی عاد ہی سے شروع ہوتی ہے ۔ عاد کا مرکزی مقام ارض احقاف ہے یہ حضرموت کے شمال میں اس طرح واقع ہے کہ اس کے مشرق میں عمان ہے اور شمال میں ربع الخال مگر اس وقت یہاں ریت کے ٹیلوں کے سوا کچھ بھی نہیں اور بعض کے نزدیک ان کی آبادی حضر موت میں تھی جو عراق تک پھیلی ہوئی تھی ۔ عاد کی طرف سیدنا ہود ؓ کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–6

وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ (and by the even and the odd,...89:3). The Qur'an has not specified what the words 'the even' and 'the odd' refer to. Therefore, the commentators have assigned different interpretations to them. Nevertheless, it has been mentioned in a Prophetic Hadith narrated by Abu-z-Zubair from Sayyidna Jabir ؓ thus: (وَالْفَجْرِ ۔ وَلَيَالٍ عَشْرٍ ) ھو الصّبح وعشر النحر والوتر یوم عرفہ والشفع یوم النّحر 'Fajr' refers to the dawn, and 'the ten nights' refer to the first ten nights of Dhul Hijjah [ which include the Day of Sacrifice ], and that al-watr [ the odd ] refers to the day…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

2 After reasoning out the judgement from the system of day and night, now an argument is berg given from man's own history for its being a certainty The mention of the conduct of a few well known tribes of history and their ultimate end is meant to point out that the universe is not working under some deaf and blind law of nature, but a Wise God is ruling over it, and in the Kingdom of that God only one law, which man describes as the law of nature is not working, but a moral law also is operative, which necessarily calls for retribution and rewards and punishments. The results of the working…

Read the full tafseer →