Explained with ayahs 1–14
شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ
فجر تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چناچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں لوگوں نے پوچھا اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں ؟ فرمایا یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس…
Read the full tafseer →سورة الْفَجْر 1
ان آیات کی تفسرین میں مفسرین کے درمیان بہت اختلافات ہوا ہے حتی کہ " جفت اور طاق " کے بارے میں تو 36 اقوال ملتے ہیں۔ بعض روایات میں ان کی تفسیر رسول اللہ ﷺ کی طرف بھی منسوب کی گئی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی تفسیر حضور سے ثابت نہیں ہے، ورنہ ممکن نہ تھا کہ صحابہ اور تابعین اور بعد کے مفسرین میں سے کوئی بھی آپ کی تفسیر کے بعد خود ان آیات کے معنی متعین کرنے کی جرات کرتا۔
انداز بیان پر غور کرنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ پہلے سے کوئی بحث چل رہی تھی جس میں رسول اللہ ﷺ ایک بات پیش فرما رہے تھے اور منکرین اس کا انکار کر رہے تھے۔ اس پر حضور کے قول کا اثبات کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ قسم ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
والشفع والوتر، شفع کے لغوی معنے جوڑ کے ہیں جس کو اردو میں جفت کہتے ہیں اور وتر کے معنے طاق اور فرد کے ہیں۔ قرآن کریم کے الفاظ میں یہ متعین نہیں کہ اس جفت اور طاق سے کیا مراد ہے اسلئے ائمہ تفسیر کے اقوال اس میں بیشمار ہیں مگر خود حدیث مرفوع جو ابوالزبیر نے حضرت جابر سے روایت کی ہے اسکے الفاظ یہ ہیں۔
(والفجر ولیال عشر) ھو الصبح وعشر النحر والو تریوم عرفہ والشفع یوم النحر
رسول اللہ ﷺ نے والفجر ولیال عشر کے متعلق فرمایا کہ فجر سے مراد صبح اور عشر سے مراد عشرہ نحر ہے (اور یہ عشرہ ذی الحجہ کا پہلا ہی عشرہ ہوسکتا ہے جس میں یوم نحر شامل ہے) اور فرمایا کہ وتر سے مراد روز عرفہ اور شفع سے مراد یوم النحر…
Read the full tafseer →انسان کے ذی عقل ہونے کا فطری تقاضا:
’حِجْرٌ‘ کے معنی عقل کے ہیں۔ لفظ ’حجر‘ اور ’عقل‘ دونوں کا لغوی مفہوم قریب قریب ایک ہی ہے۔ ان دونوں ہی کے اندر روکنے اور باندھنے کے معنی پائے جاتے ہیں۔ عقل انسان کو ان چیزوں سے باز رکھنے کے لیے ایک باطنی لگام ہے جو اس کے شایان شان نہیں ہیں اس وجہ سے اس کو ’حجر‘ سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔
اس آیت کا استفہامیہ اسلوب اپنے اندر زجر و ملامت کا مفہوم بھی رکھتا ہے اور اتمام حجت کا بھی۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو جب اللہ تعالیٰ نے عقل جیسی نعمت عطا فرمائی ہے تو اس کے شایان شان بات یہ ہے کہ وہ ان نشانیوں سے سبق حاصل کرے جو اس کے گرد و پیش پھیلی ہوئی زبان حال سے اصلی راہ اور…
Read the full tafseer →5۔ 1 ذٰلِکَ سے مذکورہ قسمیں بہ اشیا کی طرف اشارہ ہے یعنی کیا ان کی قسم اہل عقل و دانش کے واسطے کافی نہیں۔ حجر کے معنی ہیں روکنا، منع کرنا، انسانی عقل بھی انسان کو غلط کاموں سے روکتی ہے اس لیے عقل کو بھی حجر کہا جاتا ہے۔ آگے بہ طریق استشہاد اللہ تعالیٰ بعض ان قوموں کا ذکر فرما رہے ہیں جو تکذیب وعناد کی بناء پر ہلاک کی گئی تھیں، مقصد اہل مکہ کو تنبیہ ہے کہ اگر تم ہمارے رسول کی تکذیب سے باز نہ آئے تو تمہارا بھی اسی طرح مواخذہ ہوسکتا ہے جیسے گزشتہ قوموں کا اللہ نے کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
3: یعنی جب رات رخصت ہونے لگے، ان تمام دنوں اور راتوں کا حوالہ شاید اس لئے دیا گیا ہے کہ عرب کے کافر لوگ بھی ان کو مقدس سمجھتے تھے، ظاہر ہے کہ یہ تقدس ان دنوں اور راتوں میں خود سے نہیں آگیا ؛ بلکہ اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے اس لئے یہ سارے دن رات اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت پر دلالت کرتے ہیں، اور اس قدرت اور حکمت کا ایک مظاہرہ یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک اور بد کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہ فرمائے، بلکہ نیک لوگوں کو انعام دے اور برے لوگوں کو سزا ؛ چنانچہ اس سورت میں انہی دونوں باتوں کو نہایت بلیغ انداز میں بیان فرمایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →ھل فی .................... حجر (5:89) ” کیا اس میں صاحب عقل کے لئے کوئی قسم ہے ؟ “ یہ ایک تقریری سوال ہے جس کا جواب ہے “۔ بیشک اس میں قسم ہے ایک عقلمند آدمی کے لئے ” ہاں “ اس میں ہر صاحب عقل وخرد کے لئے تسلی وتشفی ہے “۔ اس اثبات کے لئے استفہام کا انداز اس لئے اختیار کیا گیا ہے کہ یہ انداز نرم اور سرگوشی کے انداز کے ساتھ زیادہ مناسب ہے ، جو ان قسموں میں پایا جاتا ہے۔
یہاں اس بات کو سیاق کلام میں لپیٹ کر رکھ دیا گیا ہے جس پر قسم اٹھائی گئی تاکہ تجسس قائم رہے اور بعد کا مضمون اس کی تشریح کردے۔ بعد کا موضوع ہے سرکشی ، فساد اور ظلم اور حد سے تجاوز کا۔ اور ایسے لگوں کے ساتھ دست قدرت کے رویے کا۔ یہ…
Read the full tafseer →1 یعنی یہ قسمیں معمولی نہیں نہایت معتبر اور مہتم بالشان ہیں اور عقلمند لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ تاکید کلام کے لئے ان میں ایک خاص عظمت و وقعت پائی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
آیت 5{ ہَلْ فِیْ ذٰلِکَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍ۔ } ”کیا اس میں کوئی قسم دلیل ہے ان لوگوں کے لیے جو عقل مند ہیں ؟“
یعنی ان تمام چیزوں کو اگلی آیات کے مضمون پر گواہ ٹھہرایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5 حِجر بمعنی پتھر اور ہر ٹھوس اور سخت چیز جو آڑ کا کام دے سکے۔ اور عقل کو بھی حجر کہتے ہیں وہ اس لحاظ سے کہ وہ بھی ہر اس چیز کو جو نقصان دہ ہو روک دیتی ہے۔ اور ذی حجر یعنی صاحب عقل یا عقلمند۔ اور اس آیت کا دوسرا ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے : کیا یہ (مذکور چار چیزیں) عقلمندوں کے نزدیک قسم کھانے کے لائق نہیں ؟ مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی نکلتا ہے یعنی مذکورہ اشیاء اس نظام کائنات کے نہایت اہم اجزا اور اپنے اپنے مقام پر بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ پھر کیا وہ ہستی جو ایسا نظام کائنات چلا رہی ہے عالم آخرت کو وجود میں نہ لاسکے گی۔
Read the full tafseer →2۔ یعنی اوپر جو قسمیں مذکور ہوئیں انمیں سے ہر قسم اہل فہم کے لئے تاکید کلام ہی کا پہلو رکھتی ہے۔ (آیت) ” ھل “۔ یہاں استفہامی نہیں، تاکید مفہوم کیلئے ہے۔ (آیت) ” ذلک “۔ یعنی جو ابھی مذکور ہوچکا۔ اے فی ما ذکرت (معالم) (آیت) ” ذی حجر “۔ صیغہ کی تنکیر سے مفہوم یہ نکلا کہ ہر شخص جس میں کچھ بھی فہم ہے وہ ایسی قسموں کو معظم سمجھے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے…
Read the full tafseer →ھل فی ذلک قسم . استفہام تقریری ہے (بیشک) اور قسمٌ میں تنوین تعظیم ہے یعنی بلاشبہ اشیاء مذکورہ کی قسم
عظیم الشان ‘ کافی قسم ہے کیونکہ جن چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے وہ بہت بڑی ہیں۔ اللہ کی قدرت کی عجوبہ کاری اور حکمت کی ندرت کا ان سے پتہ چلتا ہے۔
لذی حجر . عقل مند کے لیے (حجرٌ روکنا) عقل بھی عقلمند کو بری چیزوں سے روکتی ہے ‘ اس لیے اس کو حجر کہا جاتا
ہے۔ جواب قسم یا ان ربک لبا المرصاد ہے یا محذوف ہے۔ یعنی اشیاء مذکورہ کی قسم بلاشبہ اللہ ان کی تاک میں ہے یا ہم ان کافروں کو ضرور تباہ کردیں گے جیسے عاد وثمود کو تباہ کردیا۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں کی قسمیں کھا کر فرماتے ہیں کہ اے محمد ﷺ آپ کا رب راستہ کی اور راستہ پر چلنے والوں کی بڑی گھات میں ہے کیا ان باتوں میں عقل مند کے لیے کافی قسم بھی ہے
Read the full tafseer →(1) ھل فی ذلک قسم لذی حجر :”ھل“ کے معنی کے لئے دیکھیے سورة دہر کی پہلی آیت۔”حجر یحجر“ (ن) منع کرنا، روکنا۔ عقل کو ”حجر“ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ آدمی کو ہر غلط کام سے روکتی اور منع کرتی ہے۔
(2) قرآن مجید میں مذکور قسمیں عام طور پر کسی نہ کسی بات کی شہادت اور دلیل کے لئے آتی ہیں، سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ قسمیں کھا کر عقل والوں کو کیا باور کروایا جا رہا ہے ؟ جواب اگرچہ لفظوں میں موجود نہیں مگر آئندہ آیات سے صاف واضح ہے۔ یعنی ان سب چیزوں پر غور کرو تو تمہیں یقین ہوجائے گا کہ اتنے زبردست تغیرات لانے والے پروردگار اس بات پر قادر ہے کہ تمہیں دوبارہ زندہ کر کے تمہیں تمہارے اعمال کی جزا و سزا دے اور اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
واللیل اذا یسر۔ ھل فی ذالک قسم الذی حجر۔
واللیل اذا یسر۔ یہ پانچویں قسم ہے پہلے دس خاص راتوں کی قسم اٹھائی اب عام رات کی قسم اٹھائی، یسر کا معنی ہے جس میں چلا جاتا ہے جسطرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، لیل نائم، نھارصائم، شاعر نے کہا : لقد لمتنا یا ام غیلان فی السری، ونمت ومالیل المطی بنائ۔ اے ام غیلان، تو نے رات کے چلنے میں ہماری ملامت کی تو خود سو گئی اور سواری کی رات نہ سوئی۔ اس معنی میں ہے بل مکراللیل والنھار۔ السبا 34) یہ اکثر علماء معانی کا نقطہ نظر ہے یہی قتبی اور اخفش کا قول ہے اکثر مفسرین کی رائے ہے کہ یسر کا معنی ہے وہ چلا اور گیا، قتادہ اور ابوالعالیہ نے کہا، معنی ہے آیا اور متوجہ ہوا،…
Read the full tafseer →81۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے شعب الایمان میں کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت قسم لذی حجر۔ قسم ہے عقلمندوں کے لیے۔ سے مراد ہے صاحب عقل دانا اور ذی فہم یعنی قسم ہے صاحب عقل کے لیے۔
82۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے عکرمہ اور ضحاک رحمہما اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔
83۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت لذی حجر یعنی حلم ولاے۔
84۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ آیت لذی حجر سے مراد جہنم کی آگ سے چھپانا اور ڈھانکنا ہے۔
85۔ ابن الانباری نے الوقف والابتداء میں سدی (رح)…
Read the full tafseer →[هَلْ فِيْ ذٰلِكَ قَسَمٌ: کیا اس میں کوئی قسم ہے ][ لِذِيْ حِجْرٍ : کسی عقل والے کیے لیے ]
Read the full tafseer →چاروں قسموں کے بعد فرمایا ﴿ هَلْ فِيْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِيْ حِجْرٍؕ005﴾ کیا اس میں قسم ہے عقل والے کے لیے۔
یہ استفہام تقریری ہے جس سے تاکید کلام مقصود ہے اور مطلب یہ ہے کہ یہ قسمیں سمجھدار آدمی کے لیے کافی ہیں۔
قال صاحب الروح تحقیق وتقریر لفخامة الاشیاء المذکورة المقسم بھا وکونھا مستحقة لان تعظم بالاقسام بھا فیدل علٰی تعظیم المقسم علیہ و تاکیدہ من طریقہ الکنایة۔
قسموں کے بعد جواب قسم محذوف ہے مطلب یہ ہے کہ آپ مخاطبین میں جو لوگ منکر ہیں ان کا انکار پر اصرار کرنا عذاب لانے کا سبب ہے جیسا کہ ان سے پہلے مکذب اور منکر امتیں اور جماعتیں ہلاک ہوئیں اسی طرح یہ منکرین بھی ہلاک ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت :
قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4:۔ ” الیل اذا یسر “ یسری ای یذھب۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ” والیل اذا ادبر، اور قسم ہے رات کی جب وہ جاتی ہے مراد رات کا آخری حصہ ہے یعنی طلوع صبح سے پہلے یہ وقت بھی نہایت مبارک ہے اس وقت میں پہلے آسمان پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی تجلیات کا نزول ہوتا ہے اور اعلان ہوتا ہے کیا کوئی گناہ بخشوانے والا ہے ؟ تاکہ وہ معافی مانگے اور میں اس کے گناہ بخش دوں اس وقت اللہ تعالیٰ سے آخرت طلب کرو اور دنیا کے پیچھے نہ بھاگو۔ ” ھل فی ذلک قسم لذی حجر “ عقلمند آدمی کے لیے یہ عظیم الشان قسمیں اور شواہد ہیں اور عقلاء کے لیے ان میں کافی عبرت و نصیحت ہے۔ ہر قسم کے بعد جواب قسم محذوف ہے کما مر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
(فجر اور دس راتیں )
ارشاد ہوتا ہے والفجر قسم ہے فجر کی ولیال عشر اور قسم ہے دس 10 راتوں کی ۔ فجر اور دس راتوں سے کون سی فجر اور کون سی دس راتیں مراد ہیں اس میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض فرماتے ہیں کہ فجر سے مطلق مراد ہے ۔ جو ہر روز طلوع ہوتی ہے۔ اور دس راتوں سے مراد رمضان المبارک کی آخری دس راتیں ہیں ۔ جن میں لیلۃ القدر جسیی عظیم اور بابرکت رات آتی ہے۔ اور جس میں عبادت کا اجر ثواب ایک ہزار مہینے سے زیادہ ہوتا ہے ۔ ان راتوں میں اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی شامل حال ہوتی ہے۔ دنیا میں عظیم انقلاب برپا کرنے والی کتاب قرآن پاک کے نزول کی ابتداء بھی اسی رات میں ہوئی ۔
بعض فرماتے ہیں کہ فجر…
Read the full tafseer →ہَلْ فِيْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِيْ حِجْرٍ 5 ۭ
هَلْ
: حرف استخبار، إما علی سبیل الاستفهام، وذلک لا يكون من اللہ عزّ وجلّ : قال تعالی: قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنا[ الأنعام/ 148] وإمّا علی التّقریر تنبيها، أو تبكيتا، أو نفیا . نحو : هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزاً [ مریم/ 98] . وقوله :
هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا[ مریم/ 65] ، فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرى مِنْ فُطُورٍ [ الملک/ 3] كلّ ذلک تنبيه علی النّفي . وقوله تعالی: هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمامِ وَالْمَلائِكَةُ
[ البقرة/ 210] ، لْ يَنْظُرُونَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب ¦ والفجر الواواو للقسم والباقی معطوف علی الفجر و جواب القسم محذوف ای لتبعثن اونحوہ وقیل جو ابہ ان ربک لبا لمرصاد۔ و الشفع والوتر بفتح الواو وکسرھاھما لغتاں ومعناھما الزوج والفرد اذا یسر اذا ظرف والعامل فیہ محذوف ای اقسم بہ یسرقرء الجمہوری بحذف الیاء وصلاً ووقفًا اتباعًا لرسم المصحف وقرء نافع و ابو عمر وبحذفھا فی الوقف واثبا تھا فی الوصل وقرء ابن کثیر ویعقوب وابن محیص باثبا تھا فیھما قال الخلیل تسقط الیاء منھا موافقۃً لرئوس الآی وھو ماخوذ من السری وھو السیر لیلاً یقال سریت اللیل وسریت بہ واسناد السری الی اللیل قیل حقیقی ان معناہ جاء او ادبر وقیل مجازی ھل فی ذلک القسم قسم لذی حجر ای عقل و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
وَالْفَجْرِ ۔ وَلَیَالٍ عَشْرٍ ۔ وَّالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ ۔ وَالَّیْلِ اِذَا یَسْرِ ۔ ھَلْ فِیْ ذٰلِکَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍ ۔ (الفجر : 1 تا 5)
(قسم ہے فجر کی۔ اور دس راتوں کی۔ اور جفت اور طاق کی۔ اور رات کی جب وہ چل کھڑی ہو۔ کیا اس میں کوئی قسم ہے کسی عقل والے کے لیے۔ )
ان پانچ قسموں کا مفہوم اور جوابِ قسم کا تعین اور مفہوم
ہم اس سے پہلے پڑھ چکے ہیں کہ قسم عموماً قرآن کریم میں کسی دعویٰ کی گواہی یا دلیل کے طور پر آتی ہے جس سے اس دعویٰ کو ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اور دعویٰ جسے مقسم علیہ کہا جاتا ہے قسم کے بعد آتا ہے تاکہ قسم کے ذریعے پہلے دل و دماغ کی زمین ہموار کی جائے اور اس کے بعد دعویٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن
ربط سورت : سورة الغاشیہ کے آخر میں ارشاد ہوا کہ سب کو ہمارے پاس آنا ہے اور ہمارے ذمہ ان کا حساب لینا ہے۔ الفجر کے آغاز میں چار قسمیں اٹھا کر بتلایا ہے کہ جس رب نے عاد، ثمود اور فرعون جیسے ظالموں کو دنیا میں عبرت ناک سزا دی۔ کیا وہ آخرت میں ظالموں کی پکڑ نہیں کرے گا ؟ کیوں نہیں وہ ظالموں کی ضرور پکڑ کرے گا کیونکہ وہ بڑا طاقتور ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدا بھی پانچ قسموں سے فرمائی ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ قسم ہے صبح صادق کی ! قسم ہے دس راتوں کی ! قسم ہے جفت اور طاق کی اور قسم ہے رات کی جب وہ ختم ہونے پر آتی ہے۔ بلاشبہ عقل مندوں کے نزدیک ان چیزوں کی قسم اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ اللہ…
Read the full tafseer →5 : ھَلْ فِیْ ذٰلِکَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍ (کیوں اس میں عقلمند کے واسطے کافی قسم بھی ہے) یعنی ان چیزیں میں جن کی تو نے قسم اٹھائی ہے۔ قسم ہے عقل مند کیلئے۔ عقل کو حجرکہنے کی وجہ یہ ہے کہ نامناسب امور میں پلٹ پڑنے سے روکتی ہے۔ جیسا کہ عقل اور نہیۃ اس لئے کہتے ہیں کیونکہ یہ سمجھتی اور روکتی ہے۔
حاصلِ کلام :
( علیہ السلام) مراد یہ ہے کیا وہ اس کے ہاں حقدار ہیں کہ ان کی قسم اٹھا کر ان کو معظم مانا جائے۔ نمبر 2۔ کیا میری ان چیزوں کی قسم اٹھانے میں عقل والے کیلئے قسم ہے۔ یعنی کیا وہ بڑی قسم ہے جس کے ساتھ مقسم علیہ مؤکد ہوجاتا ہے ؟ نمبر 3۔ کیا ان اشیاء کی قسم میں عقل و فہم والے کیلئے کافی قسم…
Read the full tafseer →5 ۔” ھل فی ذلک “ یعنی اس میں جو میں نے ذکر کیا۔ ” قسم “ یعنی قناعت اور کفایت ہے قسم میں ” لذی حجر “ عقل والے کے لئے اس کے ساتھ نام رکھا گیا ہے اس لئے کہ وہ اپنے صاحب کو اس سے روکتی ہے جو حلال نہیں ہے اور نامناسب ہے۔ جیسا کہ اس کا نام عقل رکھا جاتا ہے اس لئے کہ وہ اس کو قبائح سے باندھ دیتی ہے اور ” نھی “ نام رکھا جاتا ہے اس لئے کہ وہ نامناسب کاموں سے روکتی ہے اور حجر کی اصل روکنا ہے اور جواب قسم اللہ تعالیٰ کا قول ” ان ربک لبالمرصاد “ ہے اور قسم اور جواب قسم کے درمیان اللہ تعالیٰ کا قول عارضی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
1۔ 14۔ دس راتوں اور طاق اور جفت کی تفسیر اگرچہ سلف نے طرح طرح سے کی ہے لیکن امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور ابن زبیر ؓ اور مجاہد اور اکثر سلف کا قول یہی ہے کہ دس راتوں سے مراد ماہ ذی الحجہ کی اول کی دس راتیں ہیں یہی قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ مسند 3 ؎ امام احمد نسائی و مستدرک حاکم بیہقی وغیرہ میں حضرت جابر ؓ کی مرفوع روایت میں یہی تفسیر آچکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ان دس راتوں سے مراد شروع ذی الحجہ کی دس راتیں ہیں۔ حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اور طاق اور جفت کی تفسیر میں یہ قول صحیح معلوم ہوتا ہے کہ طاق اور جفت سے مراد طاق اور جفت نمازیں ہیں جیسے مغرب اور عشاء ‘…
Read the full tafseer →(هَلْ فِيْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِيْ حِجْرٍ ) ان مذکورہ چیزوں میں عقل مند کے لیے قسم ہے ؟ ہاں اس میں سے کچھ چیزیں ہی اس شخص کے لیے کافی ہیں جو دل بیدار رکھتا ہے اور متوجہ ہو کر کان لگا کر سنتا ہے۔
Read the full tafseer →( 5) انسان کے عقل و ضمیر پر دستک کا ذکرو بیان : سو انسان کے عقل و ضمیر پر ایک دستک کے طور پر استفہام وسوال کے انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ان چیزوں کے اندر ایک عظیم الشان قسم نہیں عقلمند کے لیے " ؟ استفہام تقریر و تاکید کے لیے ہے، یعنی ہاں واقعی اس طرح کی ان قسموں میں اور ان میں سے ہر ایک ارشاد میں عظیم الشان مضمون ہے قسم کا۔ اور بڑا سامان عبرت و بصیرت ہے ہر صاحب عقل و فکر کے لیے کہ جس قادر مطلق سبحانہ و تعالیٰ ، اور حکیم مطلق جل وعلا، کی قدرت بےپایاں اور حکمت بےنہایت کے یہ عظیم الشان مظاہر سب کے سامنے موجود ہیں، اس کے لیے نہ تو انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کچھ مشکل ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
نیک و بد کی تمیز اور میدان حشر
تشریح : اس سورت میں ان لوگوں کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو شیطان کے بہلاوے میں آ کر سرکشی ' نفرت ' نافرمانی ' تکبر اور ناشکر گزاری کی عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ بیشک یہ مال و دولت ' عزت شہرت اور آل و اولاد کی کثرت میں زیادہ سے زیادہ لالچی اور انسانیت کی حدود سے دور ہوتے ہوئے بس اپنے میں ہی مست ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں مال کی محبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مال دینے والے (اللہ) سے ہی دور ہوجاتے ہیں اور حرام و حلال کا فرق بھول جاتے ہیں۔ نہ ان کو یہ خیال رہتا ہے کہ یتیم کا مال ہے یا غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ بس وہ تو صرف مال کی محبت ہی میں کھو جاتے ہیں۔ اور جب کبھی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة الفجر۔
آیات 1 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا…
Read the full tafseer →ف 10 کیونکہ یہ تمام چیزیں اپنی جگہ بڑی عظمت رکھتی ہیں۔
Read the full tafseer →(89:5) ہل فی ذلک قسم لذی حجر جملہ استفہام تقریری ہے۔ بمعنی بیشک اور قسم میں تنوین تعظیم کی ہے۔ یعنی بلاشبہ اشیاء مذکورہ کی قسم (عظیم الشان) کا فی ہے۔ کیونکہ جن چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے وہ بہت بڑی ہیں اللہ کی قدرت کی عجوبہ کاری اور حکمت کی ندرت کا ان سے پتہ چلتا ہے۔
ذی حجر۔ مضاف مضاف الیہ (بحالت جر) صاحب عقل، دانا ۔ یہ الحجر سے ہے۔ جس کے معنی سخت پتھر کے ہیں۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے :۔ فہی کا الحجارۃ او اشد قسوۃ۔ (2:74) گویا وہ پتھر ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت۔ الحجر والتحجیر کے معنی ہیں کسی جگہ پر پتھروں سے احاطہ کرنے کے۔ کہا جاتا ہے حجرتہ حجرا فہم محجور۔ اور جس جگہ کے اردگرد پتھروں سے احاطہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
لغات القرآن۔
لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔
تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء…
Read the full tafseer →(ف 5) یعنی یہ ارباب عقل کے نزدیک ایسی عظمت رکھتے ہیں کہ خبروں کو ان کے ساتھ موکد کرنا شایاں ہے کیونکہ یہ ایسے عجائب و دلائل پر مشتمل ہیں جو اللہ کی توحید اور اس کی ربوبیت پر دلالت کرتی ہے اور جواب قسم یہ ہے کہ کافر ضرور عذاب کیے جائیں گے اس جواب پر اگلی آیتیں دلالت کرتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
[3] یعنی جو قسمیں مذکور ہوئیں ان میں سے ہر قسم صاحب فہم کے لئے تاکید کلام ہی کا پہلو رکھتی ہے۔
[4] جس بات پر یہ قسمیں کھائی گئی ہیں اس کا ذکر نہیں کیا گیا لیکن بعد کی آیات سے واضح ہوجاتا ہے کہ کفار آخرت اور جزاسزا کا انکار کر رہے تھے۔ اس پر یہ قسمیں کھائی گئیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قائم کئے ہوئے حکیمانہ نظام کے مشاہدے کے بعد بھی اس امر کی شہادت دینے کے لئے کسی اور قسم کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟ لہذا جس اللہ نے یہ نظام قائم کیا ہے اس کی قدرت سے یہ بعید نہیں ہے کہ وہ آخرت برپا کرے اور انسان سے اس کے اعمال کی باز پرس کرے اور نیکی کی جزا اور بدی کی سزا دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سورة الفجر
1: اس سورت میں قسموں کے انداز میں شواہد کو پیش فرمایا ہے اور دلائل کا ذکر کیا ہے ۔ اسی واسطے فرمایا ہے ۔ ھل فی ذلک قسم لذی حجر ۔ کہ اس میں عقلمندوں اور غوروفکر کرنے والوں کے لئے ایک بین دلیل ہے ۔ اس لئے مقام اور موقع کے لحاظ سے زیادہ موزوں یہ ہے کہ یہاں الفجر سے مراد فجر قیامت ہو اور دس راتوں سے مراد وہ دس راتیں ہوں جن میں نافرمان قوموں پر عذاب بھیجا گیا اور الشفع والوتر حسوما اور الیل اذیسر ۔ غرض ہر وہ رات ہے جو معذب قوموں پر آتی ہے ۔ اس نہج سے یہ دعوی ان ربک لبا لمرصاد بالکل درست اور صحیح ثابت ہوگا ۔ یعنی ان معذب قوموں کی تاریخ پڑھو اور ان کے حالات کا مطالعہ کرو ۔ تمہیں معلوم…
Read the full tafseer →(5) کیا ان قسموں میں جو میں نے کھائی ہیں ایک صاحب عقل کے لئے کافی قسم نہیں ہے۔ یعنی ضرور ہے…اس صورت میں ان معاندین اور منکرین قیامت کے شبہات کا جواب دیتا ہے جو یوں کہا کرتے تھے کہ اول تو خدا تعالیٰ ہماری نیکی اور بدی سے بےنیاز ہے اور اگر حقیقتاً اس کو نیکی پسند اور بدی سے ناراضگی ہے تو وہ ہم سے ابھی انتقام لے سکتا ہے اس کام کے لئے عالم کو دوبارہ قائم اور سزا اجزال کا اہتمام کرنا ایک عبث کام ہے اور محض ڈھکوسلا ہے قیامت تو جب قائم ہو جب اس کو ہمارے برے بھلے کا علم نہ ہو یا وہ سزا وجزا پر قدرت نہ رکھتا ہو اور جب یہ دونوں باتیں اس کو حاصل ہیں پھر قیامت کا انتظار کرنا بےسود ہے۔
غرض اس قسم کے شبہات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ف 5۔ استفہام تقریر و تاکید کے لئے ہے یعنی ان مذکورہ قسموں میں ہر ہر قسم تاکید کلام کے لئے کافی ہے اور گو سب قسمیں ایسی ہی ہیں۔ مگر اہتمام کے لئے اس کے کافی ہونے کی تصریح فرمادی کما مرفی قولہ تعالیٰ فی سورة الواقعہ وانہ لقسم لو تعلمون عظیم اور جواب قسم مقدر ہے کہ منکروں کو سزا ضرور ہوگی۔
Read the full tafseer →کیا عقل مندوں کے لیے ان چیزوں کے رب کی قسم ایک بڑی قسم ہے یا نہیں ؟
5 ؎ ( حجر) ممنوع ۔ عقل ۔ اصل میں جس مکان کا احاطہ پتھروں سے بنایا جائے وہ ( حجر ) کہلاتا ہے اس لیے ثمود کی آبادیاں چونکہ پتھروں کو تراش کر بنائی گئی تھیں ( حجر) کہلائیں ۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ ( کذب اصحب الحجر المرسلین) (15 : 80) ” حجر والوں نے رسولوں کو جھٹلایا “ 9ھ میں نبی کریم ﷺ تبوک جاتے ہوئے اس شہر سے گزرے تھے۔ دولت عثمانیہ کے زمانہ میں حجاز ریلوے سٹیشن تھا اور چونکہ پتھروں کے احاطہ سے مقصود حفاظت اور روک تھا ہوتی ہے اور عقل بھی انسان کی حفاظت کرتی ہے اور اس کو روکتی ہے اس لیے اس کو بھی (حجر) کہا جاتا ہے جیسا کہ زیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ (and by the even and the odd,...89:3). The Qur'an has not
specified what the words 'the even' and 'the odd' refer to. Therefore, the commentators have assigned different interpretations to them. Nevertheless, it has been mentioned in a Prophetic Hadith narrated by Abu-z-Zubair from Sayyidna Jabir ؓ thus:
(وَالْفَجْرِ ۔ وَلَيَالٍ عَشْرٍ ) ھو الصّبح وعشر النحر والوتر یوم عرفہ والشفع یوم النّحر
'Fajr' refers to the dawn, and 'the ten nights' refer to the first ten nights of Dhul Hijjah [ which include the Day of Sacrifice ], and that al-watr [ the odd ] refers to the day…
Read the full tafseer →1 Much difference of opinion has been expressed by the commentators in the commentary of these verses, so much so that in respect of "the even and the odd" there are as many as 36 different views. In some traditions the commentary of these verses has also been attributed to the Holy Prophet lupon whom be peace) , but the fact is that no commentary is confirmed from him, otherwise it was not possible that anyone from among the Companions, their immediate successors, and later conunentators would have dared to determine the meaning of these verses by himself after the conmentary by the Holy…
Read the full tafseer →