وَالَّیْلِ اِذَا یَسْرِ ۟ۚوَالَّيۡلِ اِذَا يَسۡرِۚ
اور رات کی جب جانے لگے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] the night when it passes,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
وَالَّیْلِ اِذَا یَسْرِ ۟ۚوَالَّيۡلِ اِذَا يَسۡرِۚ
اور رات کی جب جانے لگے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] the night when it passes,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Fajr
اور رات کی جبکہ وہ رخصت ہو رہی ہو
اور رات کی جب جانے لگے
اور رات کی جب وه چلنے لگے
اور رات کی جب وہ چل کھڑی ہو۔ (کہ آخرت میں جزاء و سزا ضرور ہوگی)
اور رات کی جب چل دے
اور رات کی قسم جب گزر چلے (مراد ہر شب ہے یا بطورِ خاص شبِ مزدلفہ یا شبِ قدر)،
اور رات کی جب وہ چلتی ہے !
اور رات کی جب وہ گزر جائے
اور رات جب وہ چل کھڑی ہو۔
اور رات کی جب کہ وہ رخصت ہونے لگے
اور رات کی جب وہ چلنے لگے۔
اور قسم ہے رات کی جب وہ گزرنے لگے۔
اور رات کی جب جانے لگے
and by the night when it departs.
and by the night when it moves away,
and by the night when it moves away,
And by the night when it departs.
And the night when it departeth,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And [by] the night when it passes,
and by the night when it moves on towards daybreak (reward and retribution in the next life is an absolute reality).
And the night when it departs.
And by the night when it departeth,
And by the Night when it passeth away;-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–14
شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ فجر تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چناچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں لوگوں نے پوچھا اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں ؟ فرمایا یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
والشفع والوتر، شفع کے لغوی معنے جوڑ کے ہیں جس کو اردو میں جفت کہتے ہیں اور وتر کے معنے طاق اور فرد کے ہیں۔ قرآن کریم کے الفاظ میں یہ متعین نہیں کہ اس جفت اور طاق سے کیا مراد ہے اسلئے ائمہ تفسیر کے اقوال اس میں بیشمار ہیں مگر خود حدیث مرفوع جو ابوالزبیر نے حضرت جابر سے روایت کی ہے اسکے الفاظ یہ ہیں۔ (والفجر ولیال عشر) ھو الصبح وعشر النحر والو تریوم عرفہ والشفع یوم النحر رسول اللہ ﷺ نے والفجر ولیال عشر کے متعلق فرمایا کہ فجر سے مراد صبح اور عشر سے مراد عشرہ نحر ہے (اور یہ عشرہ ذی الحجہ کا پہلا ہی عشرہ ہوسکتا ہے جس میں یوم نحر شامل ہے) اور فرمایا کہ وتر سے مراد روز عرفہ اور شفع سے مراد یوم النحر…
Read the full tafseer →رات کی شہادت: یہ آخر میں رات کی شہادت پیش کی ہے اور اس کے ساتھ ’اِذَا یَسْرِ‘ کی قید ہے۔ یعنی خاص طور پر اس کے اس وقت کی طرف توجہ دلائی ہے جب وہ رخصت ہونے کے لیے چل کھڑی ہوتی ہے اور افق میں فجر کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ اس پر قرآن کے نظائر کی روشنی میں غور کیجیے، تو یہ نہایت اہم حقائق کی یاددہانی کرتی ہے۔ ایک تو اس حقیقت کی یاددہانی کہ اس کائنات کے تمام عناصر مختلفہ خالق کائنات کے ہاتھ میں مسخر ہیں۔ رات آتی ہے تو بظاہر اس کا تسلط ایسا ہمہ گیر ہوتا ہے کہ کسی طرف سے دن کے نمودار ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا لیکن بالآخر اس تاریکی کے اندر سے ایک سفید دھاری مشرق سے نمایاں ہونی شروع ہوتی ہے…
Read the full tafseer →4۔ 1 یعنی جب آئے اور جب جائے، کیونکہ سیر (چلنا) آتے جاتے دونوں صورتوں میں ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
3: یعنی جب رات رخصت ہونے لگے، ان تمام دنوں اور راتوں کا حوالہ شاید اس لئے دیا گیا ہے کہ عرب کے کافر لوگ بھی ان کو مقدس سمجھتے تھے، ظاہر ہے کہ یہ تقدس ان دنوں اور راتوں میں خود سے نہیں آگیا ؛ بلکہ اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے اس لئے یہ سارے دن رات اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت پر دلالت کرتے ہیں، اور اس قدرت اور حکمت کا ایک مظاہرہ یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک اور بد کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہ فرمائے، بلکہ نیک لوگوں کو انعام دے اور برے لوگوں کو سزا ؛ چنانچہ اس سورت میں انہی دونوں باتوں کو نہایت بلیغ انداز میں بیان فرمایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →والیل اذا یسر (4:89) ” اور رات کی قسم جب رخصت ہورہی ہو “۔ یہ رات ہے یا کوئی زندہ مخلوق ہے جو اس کائنات میں چلتی پھرتی ہے ، گویا وہ عاشق زار ہے جو راتوں کو سرگرداں ہے ، یا مسافر ہے جو دور دراز منزل کی طرف رات کو رواں دواں ہے۔ کیا ہی خوبصورت انداز بیان ہے ! منظر کس قدر مانوس ہے ؟ الفاظ کا ترنم کس قدر خوشگوار ہے۔ فجر ، لیالی عشر اور الشفع والوتر میں الفاظ ، ترنم اور معانی کی ہم آہنگی قابل دید ہے۔ الفاظ وعبارات نہیں بلکہ نمود صبح کے خوشگوار اور گرم سانس ہیں ، خوشبودار آوازیں ، قلب حزیں پر محبت مکالمات ہیں یا روح کی لطیف سرگوشیاں ہیں یا انسانی ضمیر کی بیداری کے اشارات ولمحات ہیں۔ ذرا خوبصورتی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
14 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " عید قربان کی فجر بڑا حج ادا ہوتا ہے اور دس رات اس سے پہلے۔ اور جفت اور طاق رمضان کی آخری (عشرہ) دہائی میں ہے۔ اور جب رات کو چلے یعنی پیغمبر معراج کو "۔ یہ سب اوقات متبرک تھے اس لئے ان کی قسم کھائی (تنبیہ) " والیـــــل اذا یـــسر " کے معنی عموماً مفسرین نے رات کے گزرنے یا اس کی تاریکی پھیلنے کے لئے ہیں۔ گویا صبح کی قسم کے مقابلہ میں رات کے جانے یا آنے کی قسم کھائی۔ جیسا کہ جفت کے مقابل طاق کی قسم کھائی گئی۔ اور " ولیال عشر " سے بھی ممکن ہے مطلق دس راتیں مراد ہوں کیونکہ اس کے افراد و مصادیق میں بھی تقابل پایا جاتا ہے مہینہ کے شروع کی دس راتیں اول روشن ہوتی ہیں پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
آیت 3{ وَّالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ۔ } ”اور قسم ہے ُ جفت کی اور طاق کی۔“ اس سے عموماً رمضان کے آخری عشرہ کی جفت اور طاق راتیں مرادلی جاتی ہیں اور طاق راتوں میں لیلۃ القدر ہے۔ البتہ دنیا کے تمام علاقوں میں چاند چونکہ ایک ساتھ نظر نہیں آتا اس لیے مختلف علاقوں کی طاق اور جفت راتوں میں فرق ہوگا۔ مثلاً ہوسکتا ہے ہمارے ہاں پاکستان میں جو رات طاق ہو سعودی عرب میں وہ جفت ہو۔
Read the full tafseer →4 یَسَرْ : سرٰی۔ یسری کا لفظ رات کو چلنے کے لیے مخصوص ہے، رات کو سفر کرنا اور ساریہ رات کو سفر کرنے والی چھوٹی سی جماعت کو کہتے ہیں۔ اور اسری کے معنی کسی دوسرے کو رات کے وقت سیر کرانا، لے چلنا، سفر کرانا (17: 1) اس لحاظ سے اس کا ایک معنی تو یہ ہوگا کہ اس رات کی قسم جب رسول اللہ ﷺ نے معراج کا سفر کیا اور دوسرا معنی یہ ہے کہ رات کی قسم جب وہ خود جانے لگے یا رخصت ہونے لگے۔ اس لحاظ سے ان آیات میں ایک ہی وقت دو طرح کے انداز بیان سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی رات کے رخصت ہونے کا وہی وقت ہوتا ہے جب پو پھوٹتی یا سپیدہ سحر نمودار ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ یعنی گزرتی ہوئی رات کی، گویا یہ لفظ ٹھیک فجر کے مقابلہ میں ہے۔ (آیت) ” ولیال عشر “۔ ذی الحجہ کی پہلی دس تاریخیں مراد ہیں، جن کی بڑی فضلیتیں احادیث میں وارد ہوئی ہیں، (آیت) ” والشفع والوتر۔ اپنے عموم اطلاق کے لحاظ سے یہ (2) دو لفظ حاوی ہیں دنیا کے ہر زوج اور ہر فرد پر۔ اور اس طرح کائنات کی ساری ہی اشیاء ان کے تحت میں آجاتی ہیں۔ (آیت) ” الشفع “۔ ذی الحجہ کی متبرک دسویں تاریخ مراد لی گئی ہے۔ جسے یوم منی بھی کہتے ہیں، معا بعد حج منی میں قیام اور باقی شعائر حج کی ادائی کی تاریخ ہوتی ہے۔ (آیت) ” الوتر “۔ ذی الحجہ کی متبرک ترین نویں تاریخ مراد لی گئی ہے۔ جو عین یوم الحج اور عرفات میں حاضری کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے…
Read the full tafseer →واللیل اذا یسر . اور جاتی ہوئی رات کی قسم۔ اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لیے دوسری آیت میں فرمایا ہے : وَاللَّیْلِ اِذَا اَدْبَرَ : پشت پھیرتی ہوئی رات کی قسم۔ قتادہ نے اذا یسر کا ترجمہ کیا ہے : اذا جاء واقبلَ : یعنی آتی ہوئی رات کی قسم۔ تعاقب شب ‘ اللہ کی قدرت کاملہ اور کثرت انعام پر دلالت کرتا ہے ‘ اسلئے (رات کی قسم کھانے میں) یہ قید ذکر کردی۔ رات خود نہیں آتی جاتی بلکہ دوسری جاندار مخلوق رات میں آتی جاتی ہے ‘ اسی لیے رات کی طرف سیر کی نسبت مجازی ہے جیسے صلّی المقام بولا جاتا ہے۔ مقام نماز نہیں پڑھتا بلکہ مقام میں نماز پڑھی جاتی ہے۔ رات سے مراد جنس رات ہے۔ کوئی ہو مگر مجاہد و عکرمہ کے نزدیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
(41) قسم ہے فجر کی، یا دن کی روشنی کی، یا پورے دن کی اور ذی الحجہ کی پہلی دس تاریخوں کی، اور یوم عرفہ اور یوم النحر کی، اور یوم النحر کے بعد والے تین دن کی، یا یہ کہ قسم ہے شفع نمازوں کیا جیسا کہ صبح، ظہر، عصر، عشاء اور وتر سے اللہ تعالیٰ کی ذات مراد ہے۔ ان مزدلفہ کی رات کی جب وہ چلنے لگے کہا گیا ہے کہ اس رات میں آدمی آتے جاتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →والیل اذا یسر :”یسر“ اصل میں ”یسری“ ہے۔ آیات کے فواصل کی مطابقت کے لئے یاء حذف کر کے راء پر کسرہ باقی رکھا گیا ہے۔”سری یسری سری“ (ض) رات کا چلنا۔ سورة مدثر میں فرمایا :(والیل اذا دبر) (المدثر : 33)”اور قسم ہے رتا کی، جب وہ جانے لگے۔“ یعنی رخصت ہوتی ہوئی رات قیامت قائم ہونے کی بہت بڑی دلیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
واللیل اذا یسر۔ ھل فی ذالک قسم الذی حجر۔ واللیل اذا یسر۔ یہ پانچویں قسم ہے پہلے دس خاص راتوں کی قسم اٹھائی اب عام رات کی قسم اٹھائی، یسر کا معنی ہے جس میں چلا جاتا ہے جسطرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، لیل نائم، نھارصائم، شاعر نے کہا : لقد لمتنا یا ام غیلان فی السری، ونمت ومالیل المطی بنائ۔ اے ام غیلان، تو نے رات کے چلنے میں ہماری ملامت کی تو خود سو گئی اور سواری کی رات نہ سوئی۔ اس معنی میں ہے بل مکراللیل والنھار۔ السبا 34) یہ اکثر علماء معانی کا نقطہ نظر ہے یہی قتبی اور اخفش کا قول ہے اکثر مفسرین کی رائے ہے کہ یسر کا معنی ہے وہ چلا اور گیا، قتادہ اور ابوالعالیہ نے کہا، معنی ہے آیا اور متوجہ ہوا،…
Read the full tafseer →75۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واللیل اذا یسر اور رات کی قسم جب وہ گزر جائے یعنی جب وہ گذر جائے۔ 76۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ آیت واللیل اذا یسر یعنی قسم ہے رات کی جب وہ گذرنے لگے۔ 77۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واللیل اذا یسر یعنی جب وہ جانے لگے۔ 78۔ الفریابی عوبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واللیل اذا یسر سے مراد ہے مزدلفہ کی رات۔ 79۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا آیت واللیل اذا یسر سے مراد کون سی رات ہے تو…
Read the full tafseer →[وَالَّيْلِ : اور قسم ہے رات کی ][ اِذَا يَسْرِ : جب وہ چلتی (ڈھلتی) ہے ] (آیت۔ 4) یَسْرِ مادہ ” ی س ر “ سے نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر یہ اس کا ماضی ہوتا تو یَسَرَ یا یَسْرَ ہوتا اور اگر مضارع ہوتا یَیْسِرُ یا یَیْسُرْ ہوتا، کیونکہ یہ باب ضَرَبَ اور کَرمَ دونوں سے آتا ہے۔ یہاں یَسْرِ میں سین پر علامت سکون اور را کی کسرہ بتارہی ہے کہ یہ مادہ ” س ر ی “ کا مضارع یَسْرِیْ ہے، جس کی یا گری ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →رابعاً : ﴿ وَ الَّيْلِ اِذَا يَسْرِۚ004﴾ فرمایا اس میں رات کی قسم کھائی، لفظ یسر مضارع کا صیغہ ہے۔ امام حفص (رح) کی قرات میں ” ی “ حذف کردی گئی ہے سری یسری سرناً جانے کے معنی ہیں اسی لیے حصرت ابن عباس ؓ نے ﴿ اِذَا يَسْرِ﴾ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کما قال فی الدر المنثور کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رات کی قسم ہے جب وہ چلی جائے سورة التکویر میں بھی یہ قسم گزری ہے وہاں ﴿ وَ الَّيْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ0017﴾ فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت : قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4:۔ ” الیل اذا یسر “ یسری ای یذھب۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ” والیل اذا ادبر، اور قسم ہے رات کی جب وہ جاتی ہے مراد رات کا آخری حصہ ہے یعنی طلوع صبح سے پہلے یہ وقت بھی نہایت مبارک ہے اس وقت میں پہلے آسمان پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی تجلیات کا نزول ہوتا ہے اور اعلان ہوتا ہے کیا کوئی گناہ بخشوانے والا ہے ؟ تاکہ وہ معافی مانگے اور میں اس کے گناہ بخش دوں اس وقت اللہ تعالیٰ سے آخرت طلب کرو اور دنیا کے پیچھے نہ بھاگو۔ ” ھل فی ذلک قسم لذی حجر “ عقلمند آدمی کے لیے یہ عظیم الشان قسمیں اور شواہد ہیں اور عقلاء کے لیے ان میں کافی عبرت و نصیحت ہے۔ ہر قسم کے بعد جواب قسم محذوف ہے کما مر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
(فجر اور دس راتیں ) ارشاد ہوتا ہے والفجر قسم ہے فجر کی ولیال عشر اور قسم ہے دس 10 راتوں کی ۔ فجر اور دس راتوں سے کون سی فجر اور کون سی دس راتیں مراد ہیں اس میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض فرماتے ہیں کہ فجر سے مطلق مراد ہے ۔ جو ہر روز طلوع ہوتی ہے۔ اور دس راتوں سے مراد رمضان المبارک کی آخری دس راتیں ہیں ۔ جن میں لیلۃ القدر جسیی عظیم اور بابرکت رات آتی ہے۔ اور جس میں عبادت کا اجر ثواب ایک ہزار مہینے سے زیادہ ہوتا ہے ۔ ان راتوں میں اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی شامل حال ہوتی ہے۔ دنیا میں عظیم انقلاب برپا کرنے والی کتاب قرآن پاک کے نزول کی ابتداء بھی اسی رات میں ہوئی ۔ بعض فرماتے ہیں کہ فجر…
Read the full tafseer →وَالَّيْلِ اِذَا يَسْرِ 4 ۚ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب ¦ والفجر الواواو للقسم والباقی معطوف علی الفجر و جواب القسم محذوف ای لتبعثن اونحوہ وقیل جو ابہ ان ربک لبا لمرصاد۔ و الشفع والوتر بفتح الواو وکسرھاھما لغتاں ومعناھما الزوج والفرد اذا یسر اذا ظرف والعامل فیہ محذوف ای اقسم بہ یسرقرء الجمہوری بحذف الیاء وصلاً ووقفًا اتباعًا لرسم المصحف وقرء نافع و ابو عمر وبحذفھا فی الوقف واثبا تھا فی الوصل وقرء ابن کثیر ویعقوب وابن محیص باثبا تھا فیھما قال الخلیل تسقط الیاء منھا موافقۃً لرئوس الآی وھو ماخوذ من السری وھو السیر لیلاً یقال سریت اللیل وسریت بہ واسناد السری الی اللیل قیل حقیقی ان معناہ جاء او ادبر وقیل مجازی ھل فی ذلک القسم قسم لذی حجر ای عقل و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
وَالْفَجْرِ ۔ وَلَیَالٍ عَشْرٍ ۔ وَّالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ ۔ وَالَّیْلِ اِذَا یَسْرِ ۔ ھَلْ فِیْ ذٰلِکَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍ ۔ (الفجر : 1 تا 5) (قسم ہے فجر کی۔ اور دس راتوں کی۔ اور جفت اور طاق کی۔ اور رات کی جب وہ چل کھڑی ہو۔ کیا اس میں کوئی قسم ہے کسی عقل والے کے لیے۔ ) ان پانچ قسموں کا مفہوم اور جوابِ قسم کا تعین اور مفہوم ہم اس سے پہلے پڑھ چکے ہیں کہ قسم عموماً قرآن کریم میں کسی دعویٰ کی گواہی یا دلیل کے طور پر آتی ہے جس سے اس دعویٰ کو ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اور دعویٰ جسے مقسم علیہ کہا جاتا ہے قسم کے بعد آتا ہے تاکہ قسم کے ذریعے پہلے دل و دماغ کی زمین ہموار کی جائے اور اس کے بعد دعویٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن ربط سورت : سورة الغاشیہ کے آخر میں ارشاد ہوا کہ سب کو ہمارے پاس آنا ہے اور ہمارے ذمہ ان کا حساب لینا ہے۔ الفجر کے آغاز میں چار قسمیں اٹھا کر بتلایا ہے کہ جس رب نے عاد، ثمود اور فرعون جیسے ظالموں کو دنیا میں عبرت ناک سزا دی۔ کیا وہ آخرت میں ظالموں کی پکڑ نہیں کرے گا ؟ کیوں نہیں وہ ظالموں کی ضرور پکڑ کرے گا کیونکہ وہ بڑا طاقتور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدا بھی پانچ قسموں سے فرمائی ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ قسم ہے صبح صادق کی ! قسم ہے دس راتوں کی ! قسم ہے جفت اور طاق کی اور قسم ہے رات کی جب وہ ختم ہونے پر آتی ہے۔ بلاشبہ عقل مندوں کے نزدیک ان چیزوں کی قسم اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ اللہ…
Read the full tafseer →4 : مخصوص راتوں کی قسم اٹھانے کے بعد علی العموم رات کی قسم اٹھائی۔ پس فرمایا۔ وَالَّیْلِ (اور قسم ہے رات کی) ایک قول میں اس سے لیلۃ القدر مراد ہے۔ اِذَا یَسْرِ (جب وہ چلنے لگے) جب گزر جائے۔ نحو : یسر کی یاء کو درمیان کلام میں کسرہ پر اکتفاء کرتے ہوئے حذف کردیا۔ قول اخفش : کسی نے اخفش (رح) سے یاء کے گرنے کے متعلق سوال کیا۔ تو آپ نے فرمایا تم ایک سال خدمت میں رہو پھر بتلائوں گا۔ اس نے ایک سال کے بعد سوال کیا تو فرمایا رات چلتی نہیں۔ رات میں چلا جاتا ہے،۔ جب اصل معنی سے عدول کیا تو اس کی موافقت میں لفظ سے بھی عدول کیا۔ ایک قول یہ ہے یسری کا معنی یُسرٰی فیہ ہے۔ جیسا کہتے ہیں لیل نائمٌ ای ینام…
Read the full tafseer →4 ۔” واللیل اذا یسر “ یعنی جب چلی جائے۔ جیسا کہ فرمایا ” واللیل اذا دبر “ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں جب آئے اور جائے اور مراد تمام رات ہے اور مجاہد، عکرمہ اور کلبی رحمہم اللہ فرماتے ہیں وہ مزدلفہ کی رات ہے۔ اہل حجاز اور اہل بصرہ نے ” یسری “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے وصل کی صورت میں اور ابن کثیر اور یعقوب یاء کے ساتھ وقف بھی کرتے ہیں اور باقی حضرات اس کو دونوں حالتوں میں عذف کرتے ہیں۔ پس جس نے حذف کیا تو آیتوں کے اختتام کے ساتھ موافقت کے لئے اور جس نے ثابت رکھا تو اس لئے کہ یہ فعل کالام کلمہ ہے اور فعل سے حالت وقف میں حذف نہیں کیا جاتا جیسے اس کا قول ” ھو یقضی “ اور ” اقضی “ اور اخفش (رح) سے یاء کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
1۔ 14۔ دس راتوں اور طاق اور جفت کی تفسیر اگرچہ سلف نے طرح طرح سے کی ہے لیکن امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور ابن زبیر ؓ اور مجاہد اور اکثر سلف کا قول یہی ہے کہ دس راتوں سے مراد ماہ ذی الحجہ کی اول کی دس راتیں ہیں یہی قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ مسند 3 ؎ امام احمد نسائی و مستدرک حاکم بیہقی وغیرہ میں حضرت جابر ؓ کی مرفوع روایت میں یہی تفسیر آچکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ان دس راتوں سے مراد شروع ذی الحجہ کی دس راتیں ہیں۔ حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اور طاق اور جفت کی تفسیر میں یہ قول صحیح معلوم ہوتا ہے کہ طاق اور جفت سے مراد طاق اور جفت نمازیں ہیں جیسے مغرب اور عشاء ‘…
Read the full tafseer →(وَالَّيْلِ اِذَا يَسْرِ ) اور رات کی 0 قسم) جب جانے لگے۔ یعنی اس کے گزرنے ور بندوں پر اپنی تاریکی کی چادر تان دینے کے وقت پس بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت کی بنا پر آرام اور ستراحت کرتے ہیں اور مطمئن ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →(4) گزرتی رات کی قسم اور اس سے مقصود مراد ؟ سو ارشاد فرمایا گیا " اور قسم ہے رات کی جبکہ وہ رخصت ہونے لگے "۔ کہ اس وقت اس وحدہ لاشریک کی قدرت ایک کرشمے کا ظہور و بروز ہوتا ہے کہ اس وقت رات کے اندھیرے اور سناٹے کا خاتمہ ہوتا ہے، اور دن کے اجالے میں حرکت و عمل کا آغاز، اور یہ ایک عظیم الشان انقلاب کا نمونہ و مظہر ہے۔ سو دیکھو کہ کس پر حکمت طریقے سے رات کا سناٹا رخصت ہوتا ہے اور دن کا ہنگامہ خیز اجالا اپنا منہ دکھاتا ہے، بس اسی طرح تم سمجھو کہ ایکو قت وہ بھی آئے گا جب دنیاوی ظلمتوں کی یہ رات رخصت ہوگی اور آخرت کے اس روز جزا کے طلوع کی سفیدی ظاہر ہوگی، سو کتنا بڑا سامان عبرت و بصیرت ہے جو شب و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
نیک و بد کی تمیز اور میدان حشر تشریح : اس سورت میں ان لوگوں کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو شیطان کے بہلاوے میں آ کر سرکشی ' نفرت ' نافرمانی ' تکبر اور ناشکر گزاری کی عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ بیشک یہ مال و دولت ' عزت شہرت اور آل و اولاد کی کثرت میں زیادہ سے زیادہ لالچی اور انسانیت کی حدود سے دور ہوتے ہوئے بس اپنے میں ہی مست ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں مال کی محبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مال دینے والے (اللہ) سے ہی دور ہوجاتے ہیں اور حرام و حلال کا فرق بھول جاتے ہیں۔ نہ ان کو یہ خیال رہتا ہے کہ یتیم کا مال ہے یا غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ بس وہ تو صرف مال کی محبت ہی میں کھو جاتے ہیں۔ اور جب کبھی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة الفجر۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا…
Read the full tafseer →ف 9 مراد ہر رات ہے۔ بعض نے مزدلفہ کی رات مراد لی ہے۔ (شوکانی) شاہ صاحب نے اس سے مراد وہ رات لی ہے جس میں آنحضرت معراج پر تشریف لے گئے۔
Read the full tafseer →(89:4) والیل اذا یسر۔ واؤ عاطفہ، واؤ قسمیہ مقدرہ۔ الیل سے مراد جنس شب ہے کوئی رات ہو۔ مجاہد اور عکرمہ کے نزدیک مزدلفہ کی رات مراد ہے۔ اذا : بمعنی اس وقت۔ جس وقت۔ جب۔ ظرف زمان ہے اور قسم کے بعد واقع ہو تو زمانہ حال کے لئے آتا ہے جیسے یہاں اس آیت زیر مطالعہ میں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے والنجم اذا ھوی (53:1) اور قسم ہے تارے کی جب وہ گرنے لگے۔ ڈھلنے لگے۔ یسر مضارع واحد مذکر غائب ۔ سری (باب ضرب) مصدر سے بمعنی رات کو چلنا۔ شب روی۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے۔ سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی (17:1) پاک ہے وہ ذات جو ایک رات اپنے بندے کو لے گیا مسجد حرام سے مسجد اقصی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
لغات القرآن۔ لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔ تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء…
Read the full tafseer →(ف 4) یہ پانچویں قسم ہے عام رات کی اس سے پہلے دس خاص راتوں کی قسم ذکر فرمائی گئی بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اس سے خاص شب مزدلفہ مراد ہے جس میں بندگان خدا اطاعت الٰہی کے لیے جمع ہوتے ہیں ایک قول یہ کہ اس سے شب قدر مراد ہے جس میں رحمت کا نزول ہوتا ہے اور جو کثرت ثواب کے لیے مخصوص ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
[2] جو عدد دو پر تقسیم ہو سکے وہ جفت اور جو نہ ہو سکے وہ طاق کہلاتا ہے۔ یہاں سلسلہ کلام کی مناسبت سے جفت اور طاق کا مطلب تغیر ایام ہے۔ یعنی مہینے کی تاریخیں ایک سے دو ، دو سے تین اور تین سے چار ہوتی جاتی ہیں اور ہر تبدیلی ایک نئی کیفیت لے کر آتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سورة الفجر 1: اس سورت میں قسموں کے انداز میں شواہد کو پیش فرمایا ہے اور دلائل کا ذکر کیا ہے ۔ اسی واسطے فرمایا ہے ۔ ھل فی ذلک قسم لذی حجر ۔ کہ اس میں عقلمندوں اور غوروفکر کرنے والوں کے لئے ایک بین دلیل ہے ۔ اس لئے مقام اور موقع کے لحاظ سے زیادہ موزوں یہ ہے کہ یہاں الفجر سے مراد فجر قیامت ہو اور دس راتوں سے مراد وہ دس راتیں ہوں جن میں نافرمان قوموں پر عذاب بھیجا گیا اور الشفع والوتر حسوما اور الیل اذیسر ۔ غرض ہر وہ رات ہے جو معذب قوموں پر آتی ہے ۔ اس نہج سے یہ دعوی ان ربک لبا لمرصاد بالکل درست اور صحیح ثابت ہوگا ۔ یعنی ان معذب قوموں کی تاریخ پڑھو اور ان کے حالات کا مطالعہ کرو ۔ تمہیں معلوم…
Read the full tafseer →(4) اور رات کی قسم جب وہ رخصت ہونے لگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 4۔ جفت سے مراد ذی الحجہ کی دسویں تاریخ اور طاق سے نویں تاریخ کذا فی الحدیث اور ایک حدیث میں ہے کہ اس سے نماز مراد ہے کہ کسی کی طاق رکعتیں ہیں، کسی کی جفت اور پہلی حدیث کو روایة بھی اصح کہا گیا ہے اور درایة بھی وہ ارجح ہے کیونکہ بقیہ منقسم بہ ازمنہ میں سے ہیں اور یہ تطبیق بھی ہوسکتی ہے کہ شفع و بر سے مراد شفع و وتر معظم ہو اور دونوں اس کے مصداق ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →رات کے رب کی قسم جب وہ گزرنے لگے 4 ؎ رات کا آنا بھی نشانات ِ الٰہی میں سے ہے اور رات کا جانا بھی نشانات میں سے ہے اور اس سے مراد بھی کوئی خاص رات نہیں ہے بلکمہ ہر رات مراد ہے کیونکہ ہر رات کا آنا اور ہر رات کا جانا نشانات میں سے ایک نشانی ہے اور وہ خاص قانون کی پابندی کے ساتھ آتی ہے اور خاص پابندی کے ساتھ جاتی ہے جب رات جانے لگتی ہے تو دن کے نمودار ہونے کا وقت آجاتا ہے اور یہ ساری چیزیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے جس نظم و نسق اور باقاعدگی کے ساتھ رونما ہوتی ہیں وہ اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ یہ اندھی ، بہری فطرت کی کارستانی نہیں ہے بلکہ ایک قادر ، حکیم اور علیم ذات کا ارادہ ان کو معرض وجود میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ (and by the even and the odd,...89:3). The Qur'an has not specified what the words 'the even' and 'the odd' refer to. Therefore, the commentators have assigned different interpretations to them. Nevertheless, it has been mentioned in a Prophetic Hadith narrated by Abu-z-Zubair from Sayyidna Jabir ؓ thus: (وَالْفَجْرِ ۔ وَلَيَالٍ عَشْرٍ ) ھو الصّبح وعشر النحر والوتر یوم عرفہ والشفع یوم النّحر 'Fajr' refers to the dawn, and 'the ten nights' refer to the first ten nights of Dhul Hijjah [ which include the Day of Sacrifice ], and that al-watr [ the odd ] refers to the day…
Read the full tafseer →