89. Surah Al-Fajr

الفجرThe Dawn · 30 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 89:1–4

وَ الْفَجْرِۙ Open ayah 89:1 in the Quran reader

قسم ہے فجر کی ،

وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ Open ayah 89:2 in the Quran reader

اور دس (متبرک) راتوں کی ،

وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ Open ayah 89:3 in the Quran reader

اور جفت کی اور طاق کی ،

وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِۚ Open ayah 89:4 in the Quran reader

اور رات کی جب وہ چلنے لگے،1۔

1۔ یعنی گزرتی ہوئی رات کی، گویا یہ لفظ ٹھیک فجر کے مقابلہ میں ہے۔ (آیت) ” ولیال عشر “۔ ذی الحجہ کی پہلی دس تاریخیں مراد ہیں، جن کی بڑی فضلیتیں احادیث میں وارد ہوئی ہیں، (آیت) ” والشفع والوتر۔ اپنے عموم اطلاق کے لحاظ سے یہ (2) دو لفظ حاوی ہیں دنیا کے ہر زوج اور ہر فرد پر۔ اور اس طرح کائنات کی ساری ہی اشیاء ان کے تحت میں آجاتی ہیں۔ (آیت) ” الشفع “۔ ذی الحجہ کی متبرک دسویں تاریخ مراد لی گئی ہے۔ جسے یوم منی بھی کہتے ہیں، معا بعد حج منی میں قیام اور باقی شعائر حج کی ادائی کی تاریخ ہوتی ہے۔ (آیت) ” الوتر “۔ ذی الحجہ کی متبرک ترین نویں تاریخ مراد لی گئی ہے۔ جو عین یوم الحج اور عرفات میں حاضری کی تاریخ ہوتی ہے۔
Ayah 89:5

هَلْ فِیْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍؕ Open ayah 89:5 in the Quran reader

یقیناً اس میں قسم ہے صاحب فہم کے لئے،2۔

2۔ یعنی اوپر جو قسمیں مذکور ہوئیں انمیں سے ہر قسم اہل فہم کے لئے تاکید کلام ہی کا پہلو رکھتی ہے۔ (آیت) ” ھل “۔ یہاں استفہامی نہیں، تاکید مفہوم کیلئے ہے۔ (آیت) ” ذلک “۔ یعنی جو ابھی مذکور ہوچکا۔ اے فی ما ذکرت (معالم) (آیت) ” ذی حجر “۔ صیغہ کی تنکیر سے مفہوم یہ نکلا کہ ہر شخص جس میں کچھ بھی فہم ہے وہ ایسی قسموں کو معظم سمجھے گا۔
Ayahs 89:6–8

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ۙ Open ayah 89:6 in the Quran reader

کیا آپ کو خبر نہیں کہ آپ کا پروردگار نے کیا معاملہ قوم عاد کے ساتھ کیا ،

اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۪ۙ Open ayah 89:7 in the Quran reader

یعنی قوم ارم ستون جیسے قد والی ،

الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:8 in the Quran reader

جس کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا،3۔

3۔ (زور قوت، قدوقامت کے لحاظ سے) (آیت) ” بعاد “۔ قوم عاد پر حاشیہ سورة الاعراف (پ 8) میں گزر چکا، (آیت) ” ارم ذات العماد “۔ قوم عاد سے مراد عاد اولی ہے اور ارم اسی کے شجرہ نسب میں کوئی بڑا شخص ہوا ہے، جس کی جانب وہ قوم منسوب تھی، وھم ولد عادبن ارم بن عوص بن سام بن نوح (ابن کثیر) تسمیۃ لھم باسم جدھم (کشاف) ھو اسم لجد عاد (کبیر) ارم نسبۃ لھم باسم جدھم (بحر) (آیت) ” التی “۔ یعنی وہ قوم یا قبیلہ۔ اے تلک القبیلۃ (معالم) المراد من السیاق انما ھو الاخبار عن القبیلۃ (ابن کثیر) (آیت) ” ارم ..... البلاد “۔ بعض اہل تفسیر نے (اللہ انہیں معاف فرمائے) ارم کے معنی بہشت کے لے کر اور اسے کوئی شہر قرار دے کر بہشت شداد کے قصے عجائب کی تفصیلات کے ساتھ نقل کردیئے ہیں، محققین کا فیصلہ ہے کہ یہ ساری حکایتیں سرتاسرلغو وموضوع ہیں۔ فان ھذا کلہ من خرافات الاسرائیلیین من وضع بعض زنادقھم لیختبروا بذالک القول الجھلۃ من الناس ان تصدقھم فی جمیع ذلک (ابن کثیر) وخبر شداد المذکور افوہ فی الضعف بل لم تصح روایتہ کماذکرہ الحافظ بن حجر فھو موضوع کخبرابن قلابۃ (روح)
Ayah 89:9

وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ۪ۙ Open ayah 89:9 in the Quran reader

اور قوم ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادیوں میں پتھروں کو تراشتے تھے،4۔

4۔ قوم ثمود جو اپنے زمانہ میں سنگ تراشی، تعمیر عمارات اور انجینئری میں ممتاز تھی، اس پر حاشیے سورة الاعراف (پ 8) میں گزر چکے۔
Ayah 89:10

وَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ۪ۙ Open ayah 89:10 in the Quran reader

اور فرعون میخوں والے کے ساتھ (کیا کیا) ،5۔

5۔ فرعون پر حاشیے باربار گزرچکے۔ (آیت) ” ذی الاوتاد “۔ محاورۂ عرب میں اس سے مراد صاحب شوکت و حشمت ہونے سے ہوتی ہے۔ اے ذی الملک والرجال (کبیر) پھر بعض روایتوں میں یہ بھی آیا ہے کہ سزا و عذاب کا ایک طریقہ فرعون کے ہاں یہ بھی رائج تھا، کہ مجرم کو زمین پر لٹا کر اس کے ہاتھوں پیروں میں میخیں ٹھونک دی جاتی تھیں، (آیت) ” ذی الاوتاد “۔ کے لفظ سے اس طرف بھی اشارہ ہوگیا۔ علت، کفر سب میں مشترک تھا، اسی طرح معلول، عذاب بھی سب میں مشترک رہا۔
Ayahs 89:11–13

الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:11 in the Quran reader

جن (سب) نے شہروں میں سر اٹھا رکھا تھا ،

فَاَكْثَرُوْا فِیْهَا الْفَسَادَ۪ۙ Open ayah 89:12 in the Quran reader

اور ان میں بہت ابتری پھیلا دی تھی ،

فَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍۚۙ Open ayah 89:13 in the Quran reader

سو آپ کے پروردگار نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا،6۔

6۔ ان تینوں قوموں کا تعلق مختلف ملکوں اور سرزمینوں سے تھا، تاریخی زمانے بھی ان کے الگ الگ ہوئے ہیں، جو شے ان سب میں مشترک تھی، وہ ان کی توحید بیزاری اور آخرت فراموشی تھی، لازما عذاب میں بھی تینوں شریک رہے۔ (آیت) ” الفساد “۔ فساد عربی میں صلاح کی ضد ہے، اور فسق ومعصیت کی ہر قسم کو شامل۔ الفساد ضد الصلاح فکما ان الصلاح یتناول جمیع اقسام البر فالفساد یتناول جمیع اقسام الاثم (کبیر) الفساد خروج الشیء عن الاعتدال قلیلا کان الخروج عنہ اوکثیرا ویضادہ الصلاح (راغب) صب، سوط عذاب، عذاب کو ’ تازیانہ سے تعبیر فرمایا گیا ہے، اور اس کے نازل کرنے کو برسانے سے، ان استعاروں سے شدت عذاب کا اظہار ہے۔ قال اھل المعانی ھذا علی الاستعارۃ لان السوط استعارۃ عن ھم غایۃ العذاب یجری ذلک لکل نوع من العذاب (معالم)
Ayah 89:14

اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ Open ayah 89:14 in the Quran reader

بیشک آپ کا پروردگار تاک میں ہے،7۔

7۔ (چنانچہ اگلے سرکشوں کو تو وہ ہلاک ہی کرچکا ہے، اور موجودین کی طرف سے بھی غافل نہیں ہے)
Ayah 89:15

فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِؕ Open ayah 89:15 in the Quran reader

لیکن انسان ! اسے اس کا پروردگار جب آزماتا ہے، یعنی اسے انعام اکرام دیتا ہے، تو کہتا ہے میرے پروردگار نے میری قدر بڑھا دی،8۔

8۔ ناشکرے انسان کا بھی عجب حال ہوتا ہے، جب حق تعالیٰ کی طرف سے اسے جاہ، مال وغیرہ کسی قسم کا بھی اکرام و اعزاز عطا ہوتا ہے، تو مقصود اس سے اس کی شکر گزاری کا امتحان ہوتا ہے، لیکن وہ اپنی حماقت سے یہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ جو کچھ مجھے حاصل ہوا ہے، میری ذاتی قابلیت کا قدرتی ثمرہ ہے، اور میں تو مستحق ہی اسی اکرام و اعزاز کا تھا۔ گویا مقصود بالذات اسی دنیا کی کو سمجھتا، اور اس کی فراخی کو دلیل اپنی کامیابی کی قرار دیتا ہے، (آیت) ” الانسان “۔ انسان سے مراد کافر، منکر ومکذب انسان ہے۔ المراد کل من کان موصوفا بھذا الوصف وھو الکافر الجاھد لیوم الجزآء (کبیر)
Ayah 89:16

وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِۚ Open ayah 89:16 in the Quran reader

اور جب وہ اسے (اس طرح) آزماتا ہے کہ اس کی روزی اس پر تنگ کردیتا ہے، تو کہتا ہے میرے پروردگار نے مجھے بےقدر کردیا،9۔

9۔ ناشکرے انسان پر جب مال کی تنگی کردی جاتی ہے تو مقصود اس سے اس کے صبر و تسلیم کا امتحان ہوتا ہے، لیکن وہ ہر طرف شکایت وحکایت کا دفتر کھولے پھرتا ہے، اور دنیا کی کمی کو اپنی محرومی اور بدنصیبی پر محمول کرتا ہے۔
Ayah 89:17

كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 89:17 in the Quran reader

یہ بات نہیں،10۔ اصل یہ ہے کہ تم لوگ یتیم کی قدر نہیں کرتے ہو ،

10۔ کافر انسان کے یہ سارے خیالات موہوم اور مزعومات باطل ہیں، نہ دنیا مقصود بالذات ہے، نہ خوشحالی اترانے کی چیز اور نہ بدحالی دلیل بدنصیبی ہے۔ مقصود تو ہر حال میں انسان کے ظرف کا امتحان ہی رہتا ہے۔
Ayahs 89:18–20

وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِۙ Open ayah 89:18 in the Quran reader

اور دوسروں کو بھی مسکین کے کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتے ہو،

وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ Open ayah 89:19 in the Quran reader

اور میراث کا سارا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو،

وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ Open ayah 89:20 in the Quran reader

اور مال سے بہت ہی زیادہ محبت رکھتے ہو،11۔

11۔ (اور حب مال کے اسی غلو سے مغلوب ہوکرخالق و مخلوق کے حقوق اور شریعت کے قائم کئے ہوئے حدود، سب بھول جاتے ہو) (آیت) ” لا تکرمون الیتیم “۔ یتیم بیچارہ تو اس کا مستحق ہوتا ہے کہ اس کا اعزاز واکرام کیا جائے، تم الٹا اسے حقیر و ذلیل سمجھتے ہو، اس کے حقوق غصب کرتے ہو، اس کا مال تک کھاجاتے ہو، (آیت) ” ولا ..... المسکین “۔ مفلسوں کے حقوق تو شریعت الہی نے یہ قائم کردیئے ہیں کہ انہیں خود کھلاو اور دوسروں کو ان کے کھلانے پلانے پر آمادہ کرتے رہو، تم خود تو کیا کھلاتے پلاتے، دوسروں کو بھی اس پر آمادہ نہیں کرتے (آیت) ” وتاکلون .... لما “۔ یعنی دوسروں کے حقوق تلف وغصب کرلینے میں کیسے دلیر وبیباک ہو۔ (آیت) ” وتحبون .... جما “۔ مال کی نفس محبت تو ایک امر طبعی ہے۔ البتہ اس محبت میں غلو، جس سے دوسروں کی حق تلفی کی نوبت آجائے، سرتاسر ممنوع ہے۔ اور قرآن مجید میں بار بار گرفت اسی پر آئی ہے۔
Ayahs 89:21–23

كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ Open ayah 89:21 in the Quran reader

یہ بات ہرگز نہیں (کہ عذاب نہ ہوگا) جس وقت زمین کو توڑ توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا جائے گا ،

وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ Open ayah 89:22 in the Quran reader

اور آپ کا پروردگار اور فرشتے آئیں گے ،

وَ جِایْٓءَ یَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ یَوْمَئِذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 89:23 in the Quran reader

اور جہنم کو اس روز لایا جائے گا اس روزانسان کو سمجھ آئے گی اور اب سمجھ آنے کا موقع کہاں رہا،12۔

12۔ یعنی اب شہود حقائق کے وقت سمجھ آئی بھی تو کیا، اس کا کچھ حاصل نہ ہوگا، کام کی بات تو جب تھی، جب اس دارالجزاء میں نہیں، اسی دار العمل میں سمجھ درست ہوگئی ہوتی ! (آیت) ” اذا ....... دکا “۔ یعنی زمین کی بلندیوں کو توڑپھوڑکرساری سطح ایک کردی جائے گی، (آیت) ” وجآء رکب “۔ حق تعالیٰ کے تشریف لے آنے سے مراد حشر میں کسی ایسی تجلی کا ظہور ہے، جو اس وقت ناقابل فہم ہے اور اسی لئے آیت کا شمار متشابہات میں ہے، بعض اکابر سے یہ بھی نقل ہوا ہے کہ یہاں مضاف محذوف ہے اور تقدیر ہے، کلام یوں ہے (آیت) ” وجآء امر ربک “۔ یعنی حق تعالیٰ کے احکام یا فیصلوں کا ظہور وہونے لگے گا۔ قال الحسن جاء امرہ وقضاء وقال الکلبی ینزل حکمہ (معالم) اے جاء امر ربک بالمحاسبۃ والمجازاۃ (کبیر) قیل الکلام علی حذف المضاف للتھویل اے وجاء امر ربک وقضاءہ سبحانہ (روح) (آیت) ” وجای ٓء یومئذ بجھنم “۔ یعنی دوزخ میدان حشر میں کھنچ کرلے آئی جائے گی۔ (آیت) ” الانسان “۔ یہاں بھی انسان سے مراد کافر انسان ہے۔
Ayah 89:24

یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ Open ayah 89:24 in the Quran reader

اور کہے گا کہ کاش ! میں اپنے زندگی کے لئے کوئی عمل پہلے بھیج چکا ہوتا،13۔

13۔ یہ الفاظ زبان پر کمال حسرت ویاس کے عالم میں آئیں گے، (آیت) ” لحیاتی “ خوب خیال کرلیاجائے، یہاں حیات اخروی کو مطلق حیات سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اور ہے بھی یہی واقعہ۔ حیات کا اطلاق تو بس اسی حیات پر صحیح ہوسکتا ہے، جس کے بعد موت کی کوئی صورت ہی نہ ہو۔
Ayahs 89:25–26

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ Open ayah 89:25 in the Quran reader

غرض اس روز نہ تو اللہ کے عذاب کی طرح کوئی عذاب دینے والا نکلے گا ،

وَّ لَا یُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 89:26 in the Quran reader

اور نہ اس کے جکڑنے کے برابر کوئی جکڑنے والا نکلے گا،14۔

14۔ یعنی وہ سزا اور جزاء ایسی سخت ہوگی کہ اس کی کوئی نظیر و مثال نہیں، (آیت) کے الفاظ عرف انسان کے مطابق ہیں، ہم لوگ آپس میں یونہی بولتے ہیں کہ کوئی ایسا نہیں کرسکتا۔
Ayahs 89:27–30

یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُۗۖ Open ayah 89:27 in the Quran reader

اے اطمینان والی روح ،

ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ Open ayah 89:28 in the Quran reader

تو اپنے پروردگار کی طرف چل، خوش ہوتی ہوئی اور خوش کرتی ہوئی،

فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ Open ayah 89:29 in the Quran reader

پھر تو میرے (خاص) بندوں میں شامل ہوجا،

وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠ Open ayah 89:30 in the Quran reader

اور میری جنت میں جا داخل ہو،15۔

15۔ یہ بشارت ہر مومن کو عین اس وقت ملے گی، جو وقت اس مادی جسم سے انقطاع روح کا ہوگا۔ قال ابن زید وجماعۃ ان ذلک القول عند الموت (روح) اس وقت اس صدائے بشارت کی جو اہمیت اور معنویت اور ضرورت ہوگی، اسے کوئی اچھا بھلا چنگا انسان، الفاظ کے ذریعہ سے ناقابل اظہار قدر تو عین اسی وقت ہوگی، اب یہ کیا بتایا جائے کہ یہ صدائے جان نواز کس کی ہوگی ! (آیت) ” عبدی “۔ اور (آیت) ” جنتی “۔ دونوں میں یائے متکلم کے بعد کسی تصریح کی ضرورت ہی کب باقی رہ جاتی ہے ؟ (آیت) ” یایتھا النفس المطمئنۃ “۔ خطاب اس روح سے ہوگا، جسے حقانیت اسلام پر ایقان واذعان ہوگا ، ، اور کسی طرح کا شک ہوگا نہ انکار، اور انشاء اللہ اس کا مصداق ہر مومن کی روح ہوگی، اصطلاح صوفیہ میں نفوس مطمئنہ وہ نفوس مقدس ہیں، جو رضائے الہی اور احکام شرعیہ میں ایسے مطمئن ہوگئے ہیں کہ مخالفت کیا معنی، کراہت وگرانی کا بھی وہم باقی نہیں رہا ہے، اور ایسے نفوس حضرات انبیاء کے علاوہ، اولیاء کاملین کے بھی ہوتے ہیں، (آیت) ” ارجعی الی ربک “۔ یعنی اے روح مطمئن، واپنے پروردگار کے جوار رحمت کی طرف چل، اے الی محل عنایتہ تعالیٰ وموقف کرامتہ، (روح) اے الی جو ارہ وثوابہ (ابن کثیر) (آیت) ” راضیۃ مرضیۃ “۔ یعنی اس حالت میں چل کر اللہ تجھ سے خوش ہو اور تو اللہ سے خوش، (آیت) ” فی عبدی “۔ مرتبہ عبدیت کی افضلیت بالکل اس لفظ سے ظاہر ہے، عارفین محققین نے کہا ہے کہ مرتبہ عبودیت مراتب عالی کا آخری سہارا اور تن مردہ کے لئے حیات بخش ہیں، ان میں سورة الفجر کی یہ چار مختصر آیتیں بھی ہیں۔ ہر صاحب دل کے لئے وجد آفریں اے اللہ تو اس نامہ سیاہ راقم تفسیر کو بھی آخری وقت اسی صدائے دلنواز سے مشرف کر، اور اس کے ہر عزیز قریب، مخلص ومتوسل کو بھی، بلکہ ہر کلمہ گو کو !