Ayah 89:1والفجر . قسم ہے فجر کی۔ الفجر سے مراد ہے ہر روز کی فجر۔ ابو صالح کی روایت میں حضرت ابن عباس کا یہی
قول ہے۔ عکرمہ کا بھی یہی قول ہے۔ عطیہ کے نزدیک نماز فجر مراد ہے۔ قتادہ ؓ نے کہا : ماہ محرم کے پہلے دن کی فجر مراد ہے۔ اسی سے (نیا) سال پھوٹتا ہے۔ ضحاک (رح) نے کہا : ماہ ذی الحجہ کی پہلی تاریخ کی فجر مراد ہے کیونکہ اس سے ذی الحجہ کی دس راتیں (ابتدائی عشرہ) متصل ہیں۔
Ayah 89:2ولیال عشر . تنوین اظہار عظمت کے لیے ہے اور عظیم الشان دس راتوں کی قسم۔ ابن عباس ؓ کے نزدیک ذی الحجہ
کی دس ابتدائی راتیں مراد ہیں۔ یہی قول قتادہ ‘ مجاہد ‘ ضحاک ‘ سدی اور کلبی کا بھی ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ذی الحجہ کی دس دنوں کی عبادت سے زیادہ اللہ کو اور کسی دن کی عبادت محبوب نہیں ‘ اس کا ہر دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے اور اس کی ہر رات کی عبادت شب قدر کی عبادت کے برابر ہے۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجہ بسند ضعیف)
ضحاک کا قول بروایت ابو ورق آیا ہے کہ ماہ رمضان کی ابتدائی دس راتیں مراد ہیں اور ابو ظبیان کی روایت میں ہے کہ رمضان کی آخری دس راتیں مراد ہیں۔ سورة بقر میں فضائل رمضان کے ذیل میں ہم اس کا ذکر کرچکے ہیں اور رمضان کے آخری عشرہ میں شب قدر بھی ہے۔ سورة قدر میں ہم اس کا تذکرہ کریں گے۔ ایمان بن رباب کا قول ہے کہ محرم کا عشرۂ اوّل مراد ہے جس کا دسواں دن عاشورہ ہوتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : رمضان کے بعد افضل روزے ماہ محرم کے ہیں اور فرض نماز کے بعد افضل نماز رات کی نماز (تہجد) ہے۔ (رواہ مسلم)
Ayah 89:3والشع والوتر . شفع سے مراد ہے مخلوق۔ اللہ نے فرمایا ہے : و خلقنٰکم ازواجًا : ہم نے تم کو جوڑے
جوڑے پیدا کی اور وتر سے مراد ہے خالق ‘ یکتا۔
یہ قول حضرت ابوسعید خدری اور عطیہ اور عوفی کا ہے۔ مجاہد اور مسروق نے اسی طرح تفسیر کی اور فرمایا : تمام مخلوق شفع ہے یعنی ہر مخلوق کا مقابل موجود ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : ومن کل شی ءٍ خلقنا زوجین۔ کفر و ایمان ‘ ہدایت اور گمراہی۔ نیک بختی اور بدبختی ‘ رات اور دن ‘ آسمان اور زمین ‘ بر و بحر ‘ سورج اور چاند ‘ جن و انس ‘ نر اور مادہ لیکن وتر اکیلا اللہ ہے۔ ابوبکر ؓ سے شفع اور وتر کی تشریح پوچھی گئی تو فرمایا : مخلوق کے احوال کا باہمی تضاد شفع ہے زندگی اور موت ‘ عزت او ذلّت ‘ عاجزی اور قدرت ‘ کمزوری اور قوت ‘ علم اور جہالت ‘ بینائی اور نابینائی ‘ شنوائی اور بہرا پن ‘ بولنا اور خاموشی ‘ غنا اور فقر اور صفات خداوندی کا انفراد وتر ہے۔ حیات ہے بغیر موت کے ‘ عزت ہے بغیر ذلّت کے ‘ قدرت ہے بغیر عاجزی کے ‘ قوّت ہے بغیر کمزوری کے ‘ علم ہے بغیر جہالت کے ‘ کلام ہے بغیر سکوت کے اور غنا ہے بغیر فقر کے۔
حسن بصری اور ابن زید کا قول ہے کہ شفع اور وتر دونوں مخلوق ہی ہیں ‘ کوئی مخلوق شفع ہے کوئی وتر۔ قتادہ کی روایت سے حسن بصری کا قول منقول ہے کہ شفع اور وتر دونوں عدد ہیں ‘ کوئی عدد جفت ہے کوئی طاق۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ نماز مراد ہے ‘ کوئی نماز جفت ہے کوئی طاق۔ مالک نے مرفوعاً ابن حصین کا قول اور احمد و ترمذی نے عبداللہ بن زبیر کا قول نقل کیا ہے کہ شفع سے مراد ہے حج سے پہلی واپسی اور وتر سے مراد ہے دوسری واپسی۔ اللہ نے فرمایا ہے : فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ ..... مقاتل اور ابن حبان نے کہا کہ (دنیا کے) دن و رات شفع ہیں اور قیامت کا دن وتر ہے ‘ جس کے بعد رات نہ ہوگی۔ حسن کا ایک قول یہ بھی ہے کہ جنت کے آٹھ درجات شفع ہیں اور دوزخ کے ساتھ طبقات وتر ہیں گویا جنت اور دوزخ کی قسم کھائی گئی ہے۔
Ayah 89:4واللیل اذا یسر . اور جاتی ہوئی رات کی قسم۔ اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لیے دوسری آیت میں فرمایا ہے :
وَاللَّیْلِ اِذَا اَدْبَرَ : پشت پھیرتی ہوئی رات کی قسم۔ قتادہ نے اذا یسر کا ترجمہ کیا ہے : اذا جاء واقبلَ : یعنی آتی ہوئی رات کی قسم۔ تعاقب شب ‘ اللہ کی قدرت کاملہ اور کثرت انعام پر دلالت کرتا ہے ‘ اسلئے (رات کی قسم کھانے میں) یہ قید ذکر کردی۔ رات خود نہیں آتی جاتی بلکہ دوسری جاندار مخلوق رات میں آتی جاتی ہے ‘ اسی لیے رات کی طرف سیر کی نسبت مجازی ہے جیسے صلّی المقام بولا جاتا ہے۔ مقام نماز نہیں پڑھتا بلکہ مقام میں نماز پڑھی جاتی ہے۔ رات سے مراد جنس رات ہے۔ کوئی ہو مگر مجاہد و عکرمہ کے نزدیک مزدلفہ کی رات مراد ہے۔
Ayah 89:5ھل فی ذلک قسم . استفہام تقریری ہے (بیشک) اور قسمٌ میں تنوین تعظیم ہے یعنی بلاشبہ اشیاء مذکورہ کی قسم
عظیم الشان ‘ کافی قسم ہے کیونکہ جن چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے وہ بہت بڑی ہیں۔ اللہ کی قدرت کی عجوبہ کاری اور حکمت کی ندرت کا ان سے پتہ چلتا ہے۔
لذی حجر . عقل مند کے لیے (حجرٌ روکنا) عقل بھی عقلمند کو بری چیزوں سے روکتی ہے ‘ اس لیے اس کو حجر کہا جاتا
ہے۔ جواب قسم یا ان ربک لبا المرصاد ہے یا محذوف ہے۔ یعنی اشیاء مذکورہ کی قسم بلاشبہ اللہ ان کی تاک میں ہے یا ہم ان کافروں کو ضرور تباہ کردیں گے جیسے عاد وثمود کو تباہ کردیا۔
Ayah 89:6الم تر . استفہام ‘ نفی کے انکار کے لیے ہے اور نفی کا انکار ‘ اثبات (کو لازم) ہے۔ اس لیے استفہام تقریری
تعجب کے لیے ہوگا۔ رویت کا معنی اس جگہ یقین کرنا ہے (کیا تم یقین نہیں رکھتے ‘ یعنی تم کو اس بات کا ضرور یقین ہے) ۔
کیف فعل ربک بعاد . کہ تمہارے رب نے عاد کی کیا حالت کردی۔ ان کافروں سے ان کی عمریں
لمبی تھیں ‘ ان کی جسمانی طاقتیں بھی زیادہ تھیں لیکن اللہ نے ان کا ستیاناس کردیا۔ طوفان بھیج کر ان کو تباہ کردیا تو یہ اس کے عذاب سے کیسے بچ سکیں گے۔
Ayah 89:7ارم . یہ عاد سے بدل ہے یا عطف بیان ہے۔ ارم ‘ عاد کے ایک قبیلہ کا نام تھا جس کے ہاتھ میں اقتدار ہوتا تھا۔ اصل
میں عاد بن سام بن نوح کے بیٹے کا نام ارم تھا۔ اسی کے نام پر قبیلہ کا نام ارم ہوگیا۔ محمد بن اسحاق نے کہا : قوم عاد کے دادا کا نام تھا۔ اس صورت میں قوم عاد ارم کی ایک شاخ ہوگی۔ کلبی نے کہا : عاد اور ثمود اور سکان سواد اعراق اور اہل جزیرہ کا نسب اوپر پہنچ کر ارم سے مل جاتا ہے۔ اسی وجہ سے عاد ارم اور ثمود ارم کہا جاتا ہے۔ اللہ نے عاد اور ثمود کو تو بالکل تباہ کردیا۔ اہل سواد اور اہل جزیرہ باقی رہ گئے۔ ان تمام اقوال پر ارم ایک قوم کا نام ہوگا۔ مجاہد نے کہا : اس قوم کی صفت اللہ نے
ذات العماد . بیان فرمائی یعنی دراز قامت۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ان کا طول قامت ستون کی طرح تھا۔
مقاتل (رح) نے کہا : رسول اللہ ﷺ کے ذراع سے بارہ ذراع ان کے قدموں کا طول تھا۔ بعض نے اس سے بھی زیادہ کہا ہے۔ قوم ارم کو ذات العماد کہنے کی بعض نے یہ وجہ بیان کی ہے کہ ڈیرے ‘ خیمے ‘ خیموں کے ستون اور مویشی لے کر وہ موسم بہار میں نکل کھڑے ہوتے تھے۔ جب سبزی ختم ہوجاتی تو پھر گھروں کو لوٹ آتے تھے۔ ان کے پاس باغات اور کھیتیاں تھیں۔ وادئ قریٰ میں ان کی بستیاں تھیں۔ بعض نے وجہ تسمیہ یہ بیان کی ہے کہ وہ اونچی عمارتیں اور مضبوط ستون بناتے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شداد بن عاد نے ایک ایسی عمارت بنائی تھی کہ ویسی عمارت دنیا میں کسی نے نہیں بنائی اور قوم کو ساتھ لے کر اس عمارت کو دیکھنے گیا۔ ابھی ایک شبانہ روز کی مسافت پر ہی تھا کہ بحکم خدا آسمان کی طرف سے ایک چیخ پیدا ہوئی جس سے شداد اور سب قوم والے ہلاک ہوگئے۔
سعید بن مسیب (رح) نے کہا : . ارم ذات العماد ایک شہر کا نام ہے جس کو دمشق کہا جاتا ہے۔ قرطبی نے اسکندریہ کو ارم ذات العماد کہا ہے۔ اس صورت میں یہ معنی ہوگا کہ اللہ نے عاد کو ہلاک کیا جو ارم ذات العماد کی رہنے والی تھی (گویا ارم ایک شہر کا نام ہوا اور ذات العماد اس شہر کی صفت ہوئی) مراد یہ ہے کہ اس شہر میں بلند عمارتیں اور ستون تھے۔
Ayah 89:8التی لم یخلق مثلھا فی البلاد . یہ ارم کی صفت ہے ‘ خواہ ارم کو قبیلہ کا نام کہا جائے یا شہر کا۔ اگر قوم (یا قبیلہ)
مراد ہو تو مثلھا کا معنی یہ ہوگا کہ اس قوم کی طرح قد و قامت اور قوت میں کوئی دوسری قوم نہیں پیدا کی گئی اور اگر بستی مراد ہو تو یہ مطلب ہوگا کہ عمارات کی بلندی ‘ پائیداری اور حسن میں اس جیسی کوئی بستی پیدا نہیں ہوئی۔
Ayah 89:9وثمود الذین جابوا الصخر بالواد . ثمود کا عطف عاد پر ہے۔ جابوا کا معنی ہے انہوں نے تراشا۔ صخر
جمع ہے صخرۃٌ کی۔ الواد سے مراد وادئ قریٰ ہے۔ ثمود وادئ قریٰ میں پتھر تراش کر (پہاڑوں میں) رہنے کے لیے مکان بناتے تھے۔
Ayah 89:10و فرعون ذی الاوتاد . الاوتاد : مضبوط عمارتیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور محمد بن کعب قرظی کا یہی قول ہے۔
بعض لوگوں نے کہا : اوتاد سے مراد ہے مضبوط ‘ طاقتور ‘ پائیدار حکومت۔ عرب کہتے ہیں : ھم فی العز ثابت الاوتاد ‘ انہوں نے عزت کی میخیں گاڑ دیں۔ یعنی مستحکم اور دوامی عزت کے مالک ہیں۔ عطیہ کا قول ہے کہ الاوتاد سے فوجیں مراد ہیں۔ فوج اپنے ساتھ بکثرت ڈیرے ‘ خیمے رکھتی تھی اور سفر میں جہاں جاتی تھی میخوں کے ذریعہ ڈیرے قائم کرتی تھی۔ بروایت عطیہ حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول ہے۔ مقاتل اور کلبی نے کہا : اوتاد ‘ وتد کی جمع ہے۔ فرعون لوگوں کو چومیخا کرتا تھا ‘ سزا دینے کے لیے کسی ستون میں چومیخا کرا دیتا تھا یا ہوا میں لٹکا دیتا تھا۔ مجاہد اور مقاتل بن حبان نے کہا : آدمی کو زمین پر چٹ لٹا کر ہاتھ ‘ پاؤں سیدھے کر کے ان میں میخیں ٹھونک دیتا تھا۔ سدی نے کہا : آدمی کو لمبا ‘ لمبا لٹا کر میخیں ٹھونکتا پھر سانپ ‘ بچھو اس پر چھوڑ دیتا تھا۔
قتادہ اور عطاء نے کہا : فرعون نے اپنے سامنے اپنے خزانچی حزقیل کی بیوی کو چومیخا کرایا تھا۔ بغوی نے اپنی سند سے حضرت ابن عباس کی طرف اس بیان کی نسبت کی ہے کہ فرعون کو ذوالاوتاد کہنے کی وجہ یہ ہوئی کہ اس کا خزانچی حزقیل مؤمن ہوگیا تھا اور سو برس تک اپنے ایمان کو چھپاتا رہا تھا۔ حزقیل کی بیوی فرعون کی بیٹی کی مشاطہ تھی۔ ایک روز مشاطہ فرعون کے سر میں کنگھی کر رہی تھی کہ کنگھی اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گرگئی۔ اس کے منہ سے فوراً یہ الفاظ نکلے کہ اللہ کو نہ ماننے والے ہلاک ہوں۔ فرعون کی لڑکی نے نے کہا : کیا میرے باپ کے علاوہ تیرا کوئی اور معبود ہے ؟ مشاطہ نے کہا : میرے اور تیرے باپ کا اور زمین و آسمان کا اِلٰہ ایک ہے ‘ اس کا کوئی شریک نہیں۔ لڑکی فوراً کھڑی ہوگئی اور باپ کے پاس جا کر رونے لگی۔ فرعون نے رونے کی وجہ پوچھی تو لڑکی نے کہا : آپ کے خزانچی کی بیوی میری مشاطہ ہے۔ اس کا خیال ہے کہ آپ کا اور اس کا اور زمین و آسمان کا اِلٰہ ایک ہے جس کا کوئی ساجھی نہیں۔ فرعون نے مشاطہ کو بلوا کر جواب طلب کیا۔ اس نے کہا : اگر تو ستّر مہینے تک مجھے عذاب دیتا رہے گا ‘ تب بھی میں اللہ کا انکار نہیں کرو گی۔ مشاطہ کی دو لڑکیاں تھیں۔ بڑی لڑکی کو پکڑوا کر مشاطہ کے روبرو فرعون نے ذبح کروا دیا اور اس سے کہا : اب بھی انکار کر دے ‘ ورنہ تیرے سامنے ہی میں تیری چھوٹی لڑکی کو بھی ذبح کر دوں گا۔ چھوٹی لڑکی شیر خوار تھی۔ مشاطہ بولی اگر تو تمام رُوئے زمین والوں کو بھی میرے روبر ذبح کر دے گا تب بھی اللہ کا انکار نہیں کروں گی۔ غرض بچی کو لے کر جب اوندھا لٹایا گیا اور قاتلوں نے اس کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو ماں بےصبر ہوگئی لیکن فوراً بچی کی زبان کو اللہ نے کھول دیا۔
دُنیا میں چار بچے بچپن میں بولے ہیں ‘ ان میں سے یہ بھی ایک بچی تھی۔ بچی نے کہا : ماں بےصبر نہ ہو۔ اللہ نے تیرے لیے جنت میں ٹھکانہ کردیا ہے ‘ صبر کر۔ تو بلاشبہ اللہ کی رحمت اور عزت افزائی تک پہنچے گی۔ غرض بچی کو ذبح کردیا گیا ‘ وہ مرگئی اور اللہ نے اس کو جنت میں جگہ عطا فرما دی۔
اس کے بعد اس عورت کے شوہر حزقیل کی طلب میں آدمی بھیجے گئے لیکن وہ لوگ گرفتار نہ کرسکے۔ کسی نے فرعون کو اطلاع دی کہ حزقیل فلاں پہاڑ میں فلاں مقام پر ہے۔ فرعون نے دو آدمی تلاش کے لیے بھیجے۔ یہ دونوں پہنچے تو حزقیل نماز پڑھ رہا تھا اور وحشی جانوروں کی تین صفیں نماز میں شریک تھیں۔ دونوں آدمیوں کو حزقیل نے دیکھ کر کہا : واپس چلے جاؤ۔ پھر اللہ سے دعا کی کہ بار الٰہا میں نے اپنا ایمان سو برس چھپایا کسی کو میرے ایمان کا علم نہ ہوا ان دونوں میں سے جو بھی میرے ایمان کو ظاہر کر دے تو فوراً دنیا میں اس کو سزا دے دے اور آخرت میں اس کو دوزخ میں بھیج دے۔ دونوں آدمی واپس چلے گئے۔ ایک مؤمن ہوگیا اور اس کو بڑی عبرت ہوئی ‘ دوسرے نے اسٹاف کے سامنے فرعون کو اطلاع دے دی۔ فرعون نے کہا : کیا کوئی دوسرا بھی تیرے ساتھ تھا ؟ مخبر نے کہا : ہاں ! فلاں شخص تھا۔ فرعون نے اس شخص کو بلوایا اور پوچھا : کیا یہ سچ کہہ رہا ہے۔ اس شخص نے کہا : نہیں ! اس نے جو بات کہی میں نے تو نہیں دیکھی۔ فرعون نے اس کو کثیر انعام دیا اور مخبر کو مروا ڈالا اور صلیب پر چڑھا دیا۔
خاندان میں ایک بڑی حسین عورت تھی۔ وہ فرعون کی بیوی تھی ‘ اس کا نام تھا آسیہ بنت مزاحم۔ مشاطہ کے ساتھ فرعون نے جو حرکت کی تھی اس نے اس حرکت پر غور کیا اور کہنے لگی : میں مؤمن ہوں۔ فرعون کافر ہے ‘ فرعون کی حرکتوں پر صبر کرنا اب میرے لیے ممکن نہیں ‘ دل میں یہ کہہ ہی رہی تھی کہ فرعون آگیا بیوی کے پاس بیٹھ گیا۔ بیوی نے کہا : تو ساری مخلوق سے برا اور سب سے زیادہ خبیث ہے۔ تو نے مشاطہ کو قصداً مار ڈالا۔ فرعون نے کہا : کیا تجھے بھی اسی کی طرح جنون ہوگیا۔ آسیہ نے کہا : مجھے جنون نہیں بلکہ میرا ‘ تیرا ‘ اس کا اور آسمان و زمین کا خدا ایک ہے۔ جس کا کوئی شریک نہیں۔ فرعون نے اس کو مارا اور اس کے کپڑے پھاڑ ڈالے اور اس کے ماں ‘ باپ کے پاس آدمی بھیج کر ان کو بلوایا وہ آگے تو بولا : مشاطہ کو جو جنون تھا وہی اس کو بھی ہوگیا۔ آسیہ کہنے لگی : اللہ کی پناہ مجھے جنون نہیں ‘ میں شہادت دیتی ہوں کہ میرا مالک اور تیرا مالک اور زمین و آسمان کا مالک ایک ہے ‘ اس کا کوئی شریک نہیں۔ باپ نے کہا : آسیہ کیا (آج) تو خاندان عمالقہ کی سب سے اعلیٰ عورت نہیں اور تیرا شوہر عمالقہ کا خدا ہے۔ آسیہ نے کہا : اعوذ باللہ من ذٰلک تم جو کچھ کہہ رہے ہو اگر سچ ہے تو اس سے کہو مجھے ایسا تاج پہنا دے جس کے سامنے سورج ‘ پیچھے چاند اور گر داگرد ستارے ہوں۔
آخر فرعون نے آسیہ کے ماں ‘ باپ سے کہا : تم دونوں یہاں سے نکل جاؤ۔ پھر آسیہ کو لٹا کر چومیخا کردیا اور اللہ نے اس عذاب (کی برداشت) کو اس پر سہل بنانے کے لیے اس کے سامنے جنت کا دروازہ کھول دیا۔ اس وقت آسیہ نے دعا کی : الٰہی ! جنت کے اندر اپنے قرب میں میرے لیے مکان بنا دے اور فرعون اور فرعون کی بداعمالیوں سے مجھے نجات عطا فرما دے (دعا قبول ہوئی) اللہ نے اس کی روح قبض کرلی اور جنت میں اس کو سکونت عطا فرما دی۔ انتہیٰ
فرعون کی یہ بیوی وہی تھی کہ حضرت موسیٰ کی ماں نے فرعون کے حکم سے بحکم خدا جب موسیٰ کو دریا میں پھینک دیا اور فرعون کے آدمیوں نے ان کو پا کر نکال لیا تو اسی بیوی نے فرعون کو حضرت موسیٰ کے قتل سے روکا تھا اور کہا تھا یہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ امید ہے کہ ہم کو اس سے فائدہ پہنچے۔ چناچہ آسیہ کو اس بچہ سے فائدہ پہنچا ‘ وہ مؤمن ہوگئی۔ پورا قصہ سورة قصص میں گزر چکا ہے۔
Ayah 89:11الذین طغوا فی البلاد . جنہوں نے بستیوں میں حد سے زیادہ نافرمانیاں کی تھیں۔
Ayah 89:12فاکثروا فیھا الفساد . اور کفر وظلم کی بہت تباہ کاریاں مچائی تھیں۔
Ayah 89:13فصب علیھم ربک سوط عذاب . نتیجہ میں اللہ نے ان پر عذاب کے کوڑے برسائے یعنی ہر قسم کا ملا
جلا عذاب ان پر نازل کیا۔
سَوْطَ عَذَابٍ : میں صفت کی اضافت موصوف کی جانب ہے۔ اصل میں عَذَابَ سَوْطٍ تھا۔ یعنی مخلوط عذاب جیسے : اَخْلاَقُ
ثِیَابٍ : پرانے کپڑے۔ سَوط کا اصل لغوی معنی ہے مخلوط کردینا۔ کوڑے میں مختلف بل مخلوط ہوتے ہیں ‘ اسی لیے اس کو سوط کہتے ہیں۔ آخرت کے عذاب کے مقابلہ میں دنیا کا عذاب ایسا ہے جیسے تلوار کے مقابلہ میں کوڑا اسی لیے دنیوی عذاب کو کوڑے سے تشبیہ دی۔ قتادہ نے کہا (اضافت بتقدیر مِن ہے) یعنی عذاب سے بنے ہوئے کوڑے اللہ نے ان پر برسائے۔ اہل معانی کہتے ہیں کہ یہ استعارہ ہے عذاب تازیانہ سخت ترین عذاب ہے اور لفظ
صَبّ یکدم (پانی کے ریلے کی طرح) نزول عذاب کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے یکدم ان پر سخت عذاب نازل کیا۔
Ayah 89:14ان ربک لبا لمرصاد . یہ قسم کا جواب ہے یا محذوف جواب (ہم ان کو ضرور ہلاک کردیں گے) کی
تاکید ہے۔ مرصاد ‘ گھات کا مقام۔ اللہ کے مرصاد میں ہونے کا یہ معنی ہے کہ اللہ بندوں سے اطاعت اور فرمانبرداری چاہتا ہے اور ان کے اعمال کو نگاہ میں رکھتا ہے۔ اس کو تمام اعمال کا علم ہے ‘ کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ‘ جس طرح کمین گاہ میں بیٹھنے والے سے سامنے گزرنے والا مخفی نہیں ہوتا مگر انسان اس سے غافل ہے اس کے پیش نظر صرف دنیا اور اس کی لذتیں ہیں۔ اسی لیے آگے فرمایا :
Ayah 89:15فاما الانسان اذا ما ابتلاہ ربہ . پس جب اللہ دولت اور فراخ دستی دے کر انسان کی آزمائش کرتا ہے کہ شکر کرتا
ہے یا ناشکری۔
فاکرمہ و نعمہ . پس دنیا میں اسکو عزت دیتا اور بیوی ‘ بچے اور مال عطا فرماتا ہے۔ یہ آزمائش کی تفصیل ہے۔
فیقول ربی اکرمین . فیقول کا ما قبل ‘ ما بعد کی علّت ہے یعنی اللہ نے چونکہ انسان کو عزت دی ‘ دولت اور اولاد
دی۔ اس لیے وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے فضیلت دی۔
Ayah 89:16واما اذا ما ابتلہ . لیکن جب افلاس میں مبتلا کر کے اللہ بندہ کی جانچ کرتا ہے تاکہ (افلاس کے بعد)
انکشاف ہوجائے کہ بندہ صبر کرتا اور اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے یا بےصبر ہو کر کفر کرنے لگتا ہے اور اللہ کی طرف نہیں لوٹتا۔
فقدر علیہ رزقہ . ابن عامر اور ابو جعفر کی قراءت میں فَقَدَّرَ تشدید کے ساتھ آیا ہے اور عام طور پر مشہور
قراءت فَقَدَرَ بغیر تشدید کے ہے۔ بعض کا قول ہے کہ بر صورت تشدید ترجمہ ہوگا : مفلس کردیا اور بغیر تشدید کے ترجمہ ہوگا : بقدر کفایت دیا۔ بعض علماء نے کہا : دونوں ہم معنی ہیں ‘ یعنی رزق تنگ کردیا۔ سابق آیت میں : اَکْرَمَہٗ وَ نَعَّمَہٗ فرمایا تھا ‘ یہاں نعمہ کی جگہ قدر علیہ رزقہ تو فرمایا مگر اکرمہ کی جگہ اھانہ نہیں فرمایا۔ وجہ یہ ہے کہ رزق کی تنگی ہمیشہ بےعزتی ہی نہیں ہوتی کبھی آخرت میں عزت کا سبب بھی ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (بروایت ابن عباس) کہ حسد صرف دو شخصوں پر جائز ہے ایک وہ شخص جس کو اللہ نے قرآن عطا فرمایا اور وہ تمام اوقات روز و شب میں اس کو پڑھتا ہے۔ دوسرا وہ شخص کہ اس کو اللہ نے مال عطا کیا اور وہ تمام اوقات روز و شب میں اس کو (راہ خدا میں) خرچ کرتا ہے۔ (بخاری و مسلم)
اس سے معلوم ہوا کہ مال کی وسعت دنیا میں اللہ کی مہربانی ہے جو موجب شکر ہے اور آخرت میں بھی کبھی موجب عزت ہوتی ہے۔
فیقول ربی اھانن . تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے میری بےعزتی کی کیونکہ اس کی نظر کوتاہ ہے صرف دنیا پر
محدود ہے اور دنیا ہی میں اس کا انہماک ہے۔ کلبی اور مقاتل نے کہا : یہ آیت امیّہ بن خلف جمحی کے حق میں نازل ہوئی۔
Ayah 89:17کلا . ہرگز نہیں۔ یعنی جیسا وہ کہتا ہے واقعہ ایسا ہرگز نہیں۔ دنیوی نعمت و دولت تو اللہ کی طرف سے ایک ڈھیل ہوتی ہے۔
بشرطیکہ مالدار نعمت کا استقبال شکر سے نہ کرے اور شکر کے ہاتھوں سے نہ لے۔ نعمت کی شکر گزاری کے بعد بھی فقیر صابر پر غنی شاکر کو برتری حاصل نہیں۔
حضرت مصعب بن سعد کی روایت ہے کہ حضرت سعد دوسروں سے اپنے کو بڑھا چڑھا کر خیال کرتے تھے اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم لوگوں کو صرف ضعفاء (اہل افلاس) کے سبب سے ہی رزق دیا جاتا ہے۔ (بخاری) حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : فقراء مہاجرین قیامت کے دن دولت مندوں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ (مسلم) حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : فقراء جنت میں دولت مندوں سے پانچ سو سال اور آدھے دن پیشتر جائیں گے۔ (ترمذی)
اگر فقراء اور کمزوری کے ساتھ صبر اور رضا بھی ہو تو ایسا فقر نعمت ہے ‘ بےعزتی نہیں۔ حضرت قتادہ بن نعمان کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب اللہ بندہ سے محبت کرتا ہے تو دنیا کو اس سے الگ رکھتا ہے جیسے تم لوگ اپنے بیمار کے پانی سے پرہیز رکھتے ہو۔
(احمد وترمذی)
اس مبحث کی احادیث بکثرت آئی ہیں (ہم نے چند نقل کردیں) ۔
بل لا تکرمون الیتیم . یعنی یہ بات نہیں کہ فقیر رکھ کر اللہ تمہاری بےعزتی کرتا ہے بلکہ اس نے تو مال عطا
فرما کر تم کو نوازا مگر تم یتیم کو نہیں نوازتے ‘ اس کی پاسداری نہیں کرتے ‘ نہ اس سے محبت کرتے ہو ‘ نہ اس پر خرچ کرتے ہو۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ بَل کا عطف یقول پر ہے۔ مراد یہ ہے کہ ان کا یہ قول خود بتارہا ہے کہ وہ یتیم کی عزت نہیں کرتے اور دنیا میں انہماک رکھتے ہیں۔ مقاتل نے کہا کہ قدامہ بن مظعون۔ امیہ بن خلف کے زیر پرورش تھا مگر امیہ قدامہ کا حق ادا نہیں کرتا تھا۔ ابو عمرو کی قراءت میں لا یکرمون اور لا یحاضون اور یاکلون اور یحبون جمع غائب کے صیغے آئے ہیں اور ضمیریں انسان کی طرف راجع ہیں کیونکہ جنس انسان مراد ہے۔ ایک انسان مراد نہیں لیکن لفظ انسان مفرد ہے۔ اس لیے ابتلاہ اور اکرمہ اور نعمہ اور یقول کی مفرد ضمیریں بھی اس کی طرف راجع کی گئی ہیں۔
Ayah 89:18ولا تحاضون . اور آپس میں ایک دوسرے کو آمادہ نہیں کرتے۔ یہ قراءت اہل کوفہ کی ہے۔ باقی اہل قراءت کے
نزدیک ولا تَحُضُّوْنَ ہے یعنی تم دوسروں کو آمادہ نہیں کرتے۔
علی طعام المسکین . مسکین کو کھانا دینے پر دوسروں کو ترغیب بھی نہیں دیتے۔ چہ جائیکہ خود اپنے مال سے کھلاؤ۔
Ayah 89:19و تاکلون التراث اکلا لما . اور میراث کو سب سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔ حلال ہو یا حرام۔ وہ لوگ اپنے
میراثی حصے کے ساتھ کمزور عورتوں اور بچوں کے بھی میراثی حصے کھا جاتے تھے۔ ابن زید نے کہا : اکل لم کا یہ معنی ہے کہ جو کچھ ہاتھ لگے کھاجائے ‘ حلال و حرام کا امتیاز نہ کرے۔ یہ بھی کلاً لَّمًّا کی تشریح آئی ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ مورث نے حلال اور حرام ہر طریقے سے مال جمع کیا تھا۔ جب وہی مال ان کی میراث میں آتا ہے تو سب کھا جاتے ہیں
Ayah 89:20و تحبون المال حبا جما . اور بڑی حرص و خواہش کے ساتھ مال سے بہت محبت کرتے ہیں۔
Ayah 89:21کلا . ہرگز نہیں۔ یہ مذکورہ حرکتوں سے بازداشت ہے۔ مقاتل نے کہا (یہ نفی ہے یعنی) جو حکم ان کو دیا گیا ہے ‘ اس کی تعمیل نہیں کریں گے۔ یا بعد والے کلام کی تحقیق کے لیے ہے یعنی جس وعید عذاب اور ان کے حسرت و افسوس کا بیان بعد والی آیات میں کیا گیا ہے اس سے شک کو دور کرنے کے لیے لفظ کلاَّ کا استعمال کیا گیا۔
اذا دکت الارض دکا دکا . یعنی زمین کو پیہم جھنجھوڑا جائیگا۔ یہاں تک کہ پہاڑ درخت ‘ عمارتیں جو کچھ رُوئے زمین پر ہوگا ‘ ٹوٹ پھوٹ کر خاک پراں بن جائے گا۔
Ayah 89:22وجاء ربک . اس کا عطف دکّت پر ہے۔ اللہ کا آنا متشابہات میں سے ہے۔ متشابہات کے متعلق سلف و خلف اور اہل تصوّف کے اقوال ہم آیت : ان یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام کی تشریح میں ذکر کرچکے ہیں۔
والملک . الف لام جنسی ہے یعنی ملائکہ۔
صفا صفا . یہ الملک سے حال ہے۔ یعنی ملائکہ قطار در قطار بنائے ہوں گے۔
ابن جریر اور ابن مبارک نے ضحاک کا قول نقل کیا ہے کہ قیامت کا دن ہوگا تو اللہ کے حکم سے دنیوی آسمان پھٹ جائے گا اور ملائکہ اس کے کناروں پر رہ جائیں گے۔ پھر بحکم رب اتریں گے اور زمین کو اس کی موجودات سمیت گھیر لیں گے۔ پھر دوسرا ‘ پھر تیسرا ‘ چوتھا پھر پانچواں پھر چھٹا پھر ساتواں آسمان پھٹے گا اور ملائکہ (ترتیب وار) اتر کر صف بستہ ہوتے جائیں گے پھر سب سے اعلیٰ فرشتہ اترے گا جس کے بائیں طرف جہنم ہوگا جب زمین والے جہنم کو دیکھیں گے تو ادھر ادھر بھاگیں گے مگر زمین پر ہر طرف ان کو ملائکہ کی سات قطاریں دکھائی دیں گے مجبوراً جہاں سے چلے ہوں گے وہیں لوٹ آئیں گے۔ یہی مصداق ہے مندرجہ ذیل آیات کا۔ انی اخاف علیکم یوم التناد یوم تولون مدبرین ...... اور وجاء ربک والملک صفا صفا و جئَ یومئذ بجھنم اور یا معشر الجن والانس ان استطعتم ان تنفزوا من اقطار السمٰوٰت والارض اور وانشقت السماء فھی یومئذ واھیۃ و الملک علی ارجاءھا۔ اسی حالت میں ایک آواز سنا دی جائے گی اور لوگ حساب کی جانب چل دیں گے۔
Ayah 89:23و جای یومئذ بجھنم . اور اس روز جہنم کو لایا جائے گا۔ حضرت ابن مسعود کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے
ارشاد فرمایا : اس روز جہنم کو اس طرح لایا جائے گا کہ اس کی ستّر ہزار لگامیں ہونگی اور ہر لگام کو ستّر ہزار فرشتے کھینچتے ہونگے۔ (مسلم و ترمذی)
ابن وہب نے کتاب الاہوال میں زید بن اسلم کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حضرت جبرئیل آئے۔ حضرت علی ؓ نے جبرئیل کے آنے کی وجہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : جبرئیل نے آکر مجھ سے کہا : کلا اذا دکت الارض دکا دکا وجاء ربک والملک صفا صفا وجایْ ءَ یومئذ بجھنم۔ جہنم کو ستّر ہزار لگاموں سے کھینچ لایا جائے گا۔ ستّر ہزار فرشتے لگام کھینچتے ہوں گے۔ اچانک فرشتوں کے ہاتھوں سے لگامیں چھوٹ پڑیں گی (لیکن فرشتے پھر فوراً پکڑ لیں گے) اگر وہ پھر نہ پکڑ لیں تو سب جماعت کو جہنم جلا ڈالے ‘ مگر پکڑ لیں گے۔
قرطبی نے کہا : جہنم کو اس کے پیدائشی مقام سے قید کر کے سر زمین حشر میں لایا جائے گا اور سوائے پل صراط کے جنت کو جانے کا اور کوئی راستہ نہیں رہے گا۔
ابو نعیم نے کعب کا قول نقل کیا ہے کہ قیامت کا دن ہوگا اور ملائکہ اتر کر قطار در قطار ہوجائیں گے تو اللہ جبرئیل سے فرمائے گا : جہنم کو لاؤ۔ جبرئیل جہنم کو ستّر ہزار لگاموں سے جکڑے ہوئے لائیں گے۔ جب انسانوں سے جہنم کا فاصلہ سو سوال کی مسافت کے برابر رہ جائے گا تو جہنم ایک سانس لے گی جس سے مخلوق کے دل اڑنے لگیں گے۔ پھر دوبارہ سانس لے گی تو دل اچھل کر حلق تک آجائیں گے ‘ کسی کے حواس درست نہیں رہیں گے ‘ ہر شخص گھبرا جائے گا یہاں تک کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) عرض کریں گے اپنی خلّت کا واسطہ میں صرف اپنی جان کے بچاؤ کی تجھ سے درخواست کرتا ہوں۔ حضرت موسیٰ کہیں گے (تو نے اپنی مناجات سے سرفراز کیا) میں اس مناجات کا واسطہ دیتا ہوں اور صرف اپنے نفس کے بچاؤ کی تجھ سے درخواست کرتا ہوں۔ حضرت عیسیٰ عرض کریں گے (تو نے مجھے عزت عطا فرمائی) تیرے کرم کا واسطہ میں صرف اپنی ذات کے لیے تجھ سے درخو است کرتا ہوں اپنی ماں مریم کے لیے بھی عرض نہیں کرتا لیکن محمد ﷺ عرض کریں گے : میری امت کو بچا۔ میری امت کو محفوظ رکھ۔ میں اپنی جان کو بچانے کی بھی تجھ سے درخواست نہیں کرتا۔ اللہ فرمائے گا۔ تیری امت کے اولیاء کے لیے نہ خوف ہے ‘ نہ رنج۔ اپنی عزت کی قسم میں تیری امت کے معاملہ میں تیری آنکھیں ٹھنڈی رکھوں گا۔ (سجدہ سے) اٹھ کر کھڑا ہوجا اس وقت ملائکہ اللہ کے حضور میں حکم کے منتظر کھڑے ہوں گے۔
یومئذ یتذکر الانسان . وہ کافر آدمی جس نے دنیوی سکھ میں رَبِّیْٓ اَکْرَمَنِ اور دکھ میں رَبِّیْٓ اَھَانَنِ کہا تھا۔ اس رو ز
اپنے گناہوں کو یاد کر کے توبہ و استغفار کرے گا۔
وانی لہ الذکری . استفہام انکاری ہے یعنی اس یاد سے اس کو کوئی فائدہ نہ ہوگا ‘ قبول توبہ کی شرط تو ایمان
بالغیب ہے (قیامت کے ظہور کے بعد غیب نہ رہا ‘ سامنے دیکھ کر تو ہر ایک کو ماننا ہی پڑے گا) ۔
Ayah 89:24یقول یلیتنی قدمت لحیوتی . یہ ایک فرضی سوال کا جواب ہے۔ سوال کیا جاسکتا تھا کہ ایسی حالت میں کافر
کیا کرے گا ؟ اس کے جواب میں فرمایا : اس وقت کہے گا ‘ اے کاش ! میں دنیا میں اعمال صالحہ اپنی لازوال زندگی کے لیے پہلے سے بھیج دیتا ‘ یا لحیٰوتی میں لام بمعنی وقت ہے۔ اس وقت مطلب یہ ہوگا کہ کاش میں اپنی دنیوی زندگی کے زمانہ میں اعمال صالحہ پہلے ہی کرلیتا۔
Ayah 89:25فیومئذ لا یعذب عذابہ احد . عَذَابَہٗ (مفعول مطلق بیان نوع کے لیے ہے) یعنی کعذابہٖ اس کے عذاب
کی طرح کوئی (کسی کو) اس روز عذاب نہیں دے گا ‘ اسی طرح
Ayah 89:26ولا یوثق و ثاقہ احد . میں بھی مفعول مطلق بیان نوع کے لیے ہے اور) وثاقہٗ مراد ہے۔ یعنی اس کی جکڑ
بند کی طرح کوئی کسی کو قید نہیں کرے گا۔ عذابہ اور وفاقہ کی ضمیریں یا فاعلی ہیں یا مفعولی۔ اوّل صورت میں اللہ کی طرف راجع ہیں یعنی قیامت کے دن اللہ جس طرح عذاب دے گا اور جس طرح جکڑ بند کرے گا اس کے سوا کوئی ایسا نہیں کرے گا۔ اس روز سارا اختیار اسی کو حاصل ہوگا۔ دوسری صورت میں مفعول کی طرف اضافت ہے اور ضمیریں کافر کی طرف راجع ہیں یعنی دوزخ کا کوئی کارندہ جیسا عذاب اس کافر کو دے گا اور جیسے اس کو گرفتار کر کے باندھ دے گا ویسا نہ کسی کو عذاب دے گا نہ کسی کو باندھے گا۔ مذکورہ تشریحات اس صورت میں ہوں گی جب یومئذٍ کو لا یعذّب اور لا یوثق کا ظرف زمان قرار دیا جائے لیکن اگر عذابہ اور وثاقہ سے یومئذٍ کا تعلق مانا جائے تو مطلب اس طرح ہوگا کہ ازل سے ابد تک کسی نے کسی کو ایسا عذاب نہ دیا ہوگا اور نہ دے گا جیسا اس روز اللہ اس کافر کو دے گا۔ نہ کبھی کسی نے کسی کو ایسا باندھا ہوگا اور نہ باندھے گا جیسے اللہ اس کافر کو باندھے گا۔
یہ تمام مطالب مشہور قراءت کی بناء پر ہیں لیکن کسائی اور یعقوب کی قراءت میں لا یعذب اور لا یوثق بصیغۂ مجہول آئے ہیں۔ اس قراءت پر مطلب صاف ہے کہ کسی کو اس روز نہ ایسا عذاب دیا جائے گا جیسا عموماً کافروں کو یا مخصوص کافر یعنی امیّہ بن خلف کو دیا جائے گا نہ کسی کو ایسا باندھا جائے گا جیسا اس کو باندھا جائے گا۔
Ayah 89:27یا ایتھا النفس المطمئنۃ . اس جگہ یقال محذوف ہے۔ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ گویا ایک فرضی سوال کا جواب ہے ‘ سوال یہ پیدا ہوسکتا تھا کہ کافر کی حالت تو مندرجۂ بالا آیات سے واضح ہوگئی مگر مؤمن کی کیا حالت ہوگی۔
نفس مطمئنۃٌ : وہ نفس جس کو اللہ کی یاد اور طاعت سے ایسا سکون حاصل ہوتا ہے جیسا مچھلی کو پانی میں حاصل ہوتا ہے۔ ایسا سکون اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب نفس کو امارہ بنانے والی رذیل صفات سے بالکل پاک کرلیا جائے اور اوصاف قبیحہ زائل کردیئے جائیں مگر ان ناپاک اوصاف کا ازالہ اسی وقت ممکن ہے جب اللہ کے اوصاف حسنہ کا پرتو پڑجائے اور نفس ان جلوہ پاشیوں میں فناء ہو کر بقاء باللہ حاصل کرلے۔ اس مرتبہ پر پہنچ کر ہی حقیقی ایمان حاصل ہوتا ہے جس طرح کتا ناپاک ہے ‘ اس کو کھانا حرام ہے ‘ اس کی طہارت اور حلت کی صرف یہی صورت ہے کہ اس کو نمک میں ڈال دیا جائے اور نمک کے ساتھ وہ بھی نمک ہوجائے ‘ اوصاف کلبی فنا ہوجائیں اور نم کی اوصاف حاصل ہوجائیں۔
Ayah 89:28ارجعی الی ربک . یعنی اسماء اور صفات کے پردوں کو ہٹا کر رب کی ذات مخصوص کی طرف لوٹ آ۔
راضیۃ . یہ ارجعی کے فاعل سے حال سے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی ربوبیت ‘ محمد ﷺ کی رسالت ‘ اسلام کی ملت اور اللہ نے جو کچھ تیرے لیے مقدر کردیا ہے اس پر راضی رہتے ہوئے اپنے رب کی طرف لوٹ آ۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس شخص نے ایمان کی لذت پا لی جو اللہ کے رب ہونے پر ‘ محمد ﷺ کے رسول ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوگیا۔ (بخاری و مسلم) ایمان کی لذت پانے سے مراد ہے حقیقی ایمان کا حاصل ہونا۔
مرضیہ . اور اس حالت میں اللہ کی طرف آ کہ اللہ بھی تجھ سے راضی ہو کیونکہ بندہ جب اللہ کی الوہیت سے
راضی ہوتا ہے تو اللہ بھی اس سے راضی ہوجاتا ہے بلکہ اللہ سے بندہ کا راضی ہونا ہی رضا من جانب اللہ کی علامت ہے۔ حسن نے کہا جب اللہ نفس مطمئنہ کو قبض کرنا چاہتا ہے تو نفس کو اس سے سکون حاصل ہوتا ہے اور وہ اس پر راضی ہوتا ہے ‘ نتیجہ یہ کہ اللہ بھی اس سے راضی ہوجاتا ہے۔ حضرت عبادہ بن صامت کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے ‘ اللہ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے۔ یہ سن کر حضرت عائشہ ؓ یا کسی دوسری بی بی نے عرض کیا : ہم تو مرنے سے نفرت کرتے ہیں۔ فرمایا : یہ مطلب نہیں۔ مقصد یہ ہے کہ مؤمن کے سامنے جب موت آتی ہے اور اس کو اللہ کی طرف سے خوشنودی اور عزت بخشی کی بشارت دی جاتی ہے تو اس کو آئندہ ملنے والی (نعمتوں) سے زیادہ کوئی چیز مرغوب نہیں ہوتی۔ اس لیے اس کو اللہ سے ملنے کی قلبی رغبت ہوتی ہے ‘ نتیجہ میں اللہ بھی اس کو پسند فرماتا ہے لیکن کافر کے سامنے جب موت آتی ہے اور اس کو اللہ کی طرف سے عذاب اور سزا کی اطلاع ملتی ہے تو آئندہ پہنچنے والے (عذاب) سے زیادہ اس کی نظر میں کوئی چیز قابل نفرت نہیں ہوتی ‘ اس لیے وہ اللہ سے ملنا پسند نہیں کرتا اور اللہ کو بھی اس کی ملاقات پسند نہیں ہوتی۔ (بخاری و مسلم) حضرت عائشہ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ موت اللہ کی ملاقات سے پہلے ہوتی ہے۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مؤمن کے سامنے جب موت آتی ہے تو رحمت کے فرشتے سفید ریشمی کپڑا لے کر آتے اور کہتے ہیں (اے پاک روح) خوش ‘ خوش اللہ کی رحمت و راحت کی طرف نکل چل تو اللہ سے راضی اور اللہ تجھ سے راضی۔ رب ناراض نہیں ہے ‘ اس کی جانب چل۔ روح ‘ مشک کی پاکیزہ ترین خوشبو کی طرح (مہکتی ہوئی) نکلتی ہے۔ فرشتے اس کو دست بدست لے کر آسمان کے دروازوں تک پہنچتے ہیں۔ آسمان والے فرشتے کہتے ہیں ‘ یہ کیسی پاکیزہ خوشبو ہے جو زمین کی طرف سے تم کو پہنچی ہے ؟ روح لے جانے والے ملائکہ اس روح کو مؤمنوں کی روحوں تک پہنچا دیتے ہیں۔ ان کو اس کے پہنچنے سے اتنی خوشی ہوتی ہے کہ تم کو اپنے غائب مسافر کے آجانے سے بھی اتنی خوشی نہیں ہوتی۔ مؤمن اس سے پوچھتے ہیں : (دنیا میں) فلاں شخص کا کیا حال ہے ؟ دوسرے مؤمن کہتے ہیں اس کو آرام لینے دو یہ دنیا کے غم میں تھا۔ روح کہتی ہے وہ تو مرچکا کیا تمہارے پاس نہیں آیا ؟ مؤمن کہتے ہیں (معلوم ہوتا ہے کہ) اس کو اس کے اصلی ٹھکانے یعنی ہاویہ کی طرف پہنچا دیا گیا لیکن کافر کی موت کے وقت عذاب کے فرشتے ٹاٹ لے کر آتے ہیں اور کہتے ہیں (اے خبیث روح) اللہ کے عذاب کی طرف نکل (آنے والا عذاب) تجھے ناگوار اور اللہ تجھ سے ناخوش۔ روح فوراً سڑے ہوئے بدبودار مردار کی (پھیلتی ہوئی) بو کی طرح نکلتی ہے۔ فرشتے اس کو لے کر زمین کے دروازہ تک پہنچتے ہیں۔ زمین والے (ملائکہ) کہتے ہیں یہ کس قدر سڑی ہوئی بدبو ہے۔ فرشتے اس روح کو کافروں کی روحوں کے ساتھ شامل کردیتے ہیں۔ (احمد و نسائی)
ابن ماجہ ؓ کی حدیث بھی اسی طرح کی ہے اس میں اتنا زائد ہے کہ پھر مؤمن کی روح کو آسمان کی طرف چڑھایا جاتا ہے۔ آسمان کا دروازہ اس کے لیے کھول دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے ‘ پاکیزہ روح کے لیے مرحبا جو پاکیزہ جسم میں تھی اور کافر روح کے متعلق فرمایا کہ اس کو آسمان کی طرف چڑھا کرلے جایا جاتا ہے (لیکن آسمان کا دروازہ اس کے لیے نہیں کھولا جاتا اور) کہا جاتا ہے خبیث روح کے لیے جو خبیث جسم میں تھی ‘ مرحبا نہیں ہے۔ ذلیل حالت میں لوٹ جا ‘ تیرے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔ پھر اس کو آسمان سے (نیچے) چھوڑ دیا جاتا ہے ‘ یہاں تک کہ وہ قبروں کی طرف لوٹ جاتی ہے۔
اس مبحث کے متعلق بکثرت احادیث آئی ہیں۔ نزاعی مسئلہ یہ ہے کہ یہ قول ‘ روح سے کس وقت کہا جاتا ہے۔ بعض علماء قائل ہیں کہ مرنے کے وقت یہ بات کہی جاتی ہے۔ احادیث اسی پر دلالت کر رہی ہیں۔ ابو صالح نے کہا : دنیا سے نکلنے کے وقت روح سے کہا جاتا ہے۔ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ اور قیامت کے دن اس سے کہا جائے گا : فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی کچھ دوسرے علماء قائل ہیں کہ قبر سے اٹھائے جانے کے وقت روح سے کہا جائے گا۔ ارجعی الی ربک وادخلی فی اجساد عبادی۔ اپنے رب کی طرف لوٹ آ اور میرے بندوں کے اجسام میں یعنی اپنے جسم میں داخل ہوجا۔ پس ارجعی کا حکم اجسام میں لوٹ کر داخل ہونے کے لیے ہوگا۔
یہ قول عکرمہ ‘ عطاء اور ضحاک کا ہے اور بروایت عوفی حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول ہے۔ حسن نے آیات کا تفسیری مطلب اس طرح بیان کیا کہ اللہ کے عطا کردہ ثواب و عزت کی طرف لوٹ آ۔ اللہ نے جو کچھ تیرے لیے تیار کر رکھا ہے تو اس سے راضی اور خدا تجھ سے راضی اور میرے بندوں میں یعنی میرے بندوں کے ساتھ (جنت میں) داخل ہوجا۔
میں کہتا ہوں آیت کی رفتار اسی تشریح کی تائید کر رہی ہے یعنی دوبارہ اٹھائے جانے کے وقت روح سے یہ کہا جائے گا کیونکہ کافروں کے اٹھائے جانے کے وقت ان کی جو حالت ہوگی اس کے متعلق فرمایا تھا : فیومئذ لا یعذب عذابہ احد ولا یوثق وثاقہ احد۔ اسی طرح مؤمنوں سے بھی بعث کے وقت مذکورہ بالا قول کہا جائے گا لیکن احادیث مذکورہ سے اوّل قول (یعنی موت کے وقت کہنے) کی تائید ہوتی ہے۔ دونوں کے تضاد کو دور کرنے کے لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ دونوں (مرنے اور اٹھائے جانے کے) وقت مذکورہ بالا قول کہا جائے گا بلکہ تحقیق یہ ہے کہ اس خطاب کا روح کو استحقاق دنیا میں ہی ہوجاتا ہے اور اس کو اطمینان حاصل ہوتا ہے ‘ اس لیے اس سے کہا جاتا ہے : ارجعی الٰی ربک۔ یعنی اللہ کے مراتب قرب اور انوار ذاتیہ کی طرف لوٹ آ۔
Ayahs 89:29–30فادخی فی عبدی . یعنی آکر میرے نیک بندوں میں شامل ہوجا۔ یہ نیک بندے وہی ہیں جن میں داخل
ہونے کی دعا حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے کی تھی اور عرض کیا تھا وادخلنی برحمتک فی عبادک الصّٰلحین اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھی انہی کے ساتھ شامل ہونے کے لیے عرض کیا تھا : توفنی مسلمًا والحقنی بالصّٰلحین اور انہی نیک بندوں کے سلسلہ میں اللہ نے ابلیس سے فرمایا تھا۔
فادخلی میں فاء سببی ہے کیونکہ اطمینان نفس اور نفس کا راضی مرضی ہونا ہی خالص عبدیت کے حصول اور باطل الوہیت نفسانی کی رسّی سے گلو خلاصی اور شیطانی وسوسوں سے نجات مل جانے کا سبب ہے۔ اللہ نے (نفس پرست کی مذمت کرتے ہوئے) فرمایا : افرایت من اتخذ الھۃ ھواہ اور رسول اللہ ﷺ نے (دنیا پرست کی مذمت میں فرمایا : تعس عبد الدینار والدراھم و والقطیفۃ والخمیسۃ .....