Ayahs 89:1–22:۔ ” والفجر “ بعض مفسرین کے نزدیک فجر سے جنس مراد ہے بلا تخصیص یوم اور عبداللہ بن عباس ؓ اور مجاہد (رح) کے نزدیک یوم نحر (10 ذی الحجہ) کی فجر مراد ہے (روح) ۔ یوم نحر کی فجر خود شاہد ہے کہ وہ کتنا مبارک دن ہے، اس لیے اس دن میں بیت اللہ کے پاس جا کر اس مخصوص وقت میں اللہ کے سامنے عاجزی کرو اور اس سے دعاء مانگو، کیونکہ وہاں گناہ معاف ہوتے ہیں۔ ” ولیال عشر “ دس راتوں سے رمضان کی دس آخری راتیں مراد ہیں جن میں لیلۃ القدر پوشیدہ ہے۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور ابو ظبیان (رح) سے منقول ہے۔ یہ قسم ماقبل سے بطور ترقی ہے۔ یوم نحس کی فجر نہ سہی وہاں جانے میں مال خرچ ہوتا ہے۔ اور سفر کی صعوبتیں اٹھانا پڑتی ہیں۔ تمہارے گھر بیٹھے رمضان کی آخری دس راتیں میسر ہوسکتی ہیں ان میں لیلۃ القدر بھی ہے جو نہایت رحمت و برکت والی رات ہے اس کی طرف آؤ دنیا کی طرف نہ دوڑو۔
Ayah 89:33:۔ ” والشفع والوتر “ جفت اور طاق سے مراد نماز ہے کیونکہ بعض نمازوں کی رکعتیں جفت ہیں۔ اور بعض کی طاق یہ تفسیر خود رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے۔ روی مرفوعا عن عمران بن الحصین عن النبی ﷺ انہ قال الشفع والوتر الصلاۃ منہا شفع و منہا وتر (قرطبی ج 20 ص 39) ۔ یہ قسم ما قبل سے بطور ترقی ہے اچھا لیلۃ القدر تو سال میں ایک دفعہ آتی ہے اور بالتعیین معلوم بھی نہیں، پانچوں نمازیں تو رات دن میں ضرور آتی ہیں ان کی پابندی کر کے آخرت کے لیے کچھ زاد راہ بنا لو اور دنیا کے پیچھے نہ بھاگو پانچوں نمازوں کی پابندی سے انسان گناہوں سے اس طرح پاک ہوجاتا ہے جس طرح ایک کپڑے کو روزانہ پانچ دفعہ دھو کر صاف کرلیا جائے یا جس طرح روزانہ پانچ دفعہ نہانے والے کا بدن میل کچیل سے پاک ہوجاتا ہے۔ کما فی الحدیث۔
Ayahs 89:4–54:۔ ” الیل اذا یسر “ یسری ای یذھب۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ” والیل اذا ادبر، اور قسم ہے رات کی جب وہ جاتی ہے مراد رات کا آخری حصہ ہے یعنی طلوع صبح سے پہلے یہ وقت بھی نہایت مبارک ہے اس وقت میں پہلے آسمان پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی تجلیات کا نزول ہوتا ہے اور اعلان ہوتا ہے کیا کوئی گناہ بخشوانے والا ہے ؟ تاکہ وہ معافی مانگے اور میں اس کے گناہ بخش دوں اس وقت اللہ تعالیٰ سے آخرت طلب کرو اور دنیا کے پیچھے نہ بھاگو۔ ” ھل فی ذلک قسم لذی حجر “ عقلمند آدمی کے لیے یہ عظیم الشان قسمیں اور شواہد ہیں اور عقلاء کے لیے ان میں کافی عبرت و نصیحت ہے۔ ہر قسم کے بعد جواب قسم محذوف ہے کما مر۔
Ayahs 89:6–85:۔ ” الم تر “ یہ تخوید دنیوی کا پہلا نمونہ ہے برائے تزہید فی الدنیا۔ حاصل یہ ہے کہ دنیا کی کوئی چیز نہیں دنیا کے پیچھے نہ بھاگو بلکہ آخرت کی فکر کرو۔ اور اللہ تعالیٰ سے مبارک وقتوں میں اپنے گناہوں کی معافی مانگو قوم عاد کو دیکھو یہ کس قدر طاقتور قوم تھی دنیا میں کوئی ان کا ہمسر نہ تھا۔ مگر انہوں نے سرکشی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تہس نہس کردیا اور ان کا دنیوی ساز و سامان اور کرو فر ان کے کسی کام نہ۔ ” عاد “ ارم یا ارم۔ عاد کے باب ادا کا نام ہے۔ اس صورت میں بدل مبدل منہ کی ترکیب درست نہ ہوگی بلکہ مضاف مقدر ہوگا۔ اصل میں عاد بن ارم تھا۔ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ ۔ ” ذات العماد “ لمبے قد والے یا خیموں والے۔ یعنی کان طولہم مثل العمال وقیل سمیت تلک الامۃ بذلک لانہم کانوا اھل اعمدۃ و خیال و ما شیۃ سیارۃ فی الربیع (مظہری ج 10 ص 255 (۔
Ayahs 89:9–136:۔ ” وثمود “ تخوید دنیوی کا دوسرا نمونہ۔ قوم ثمود کو دیکھو وہ کس قدر طاقتور اور کیسے کاریگر تھے کہ پتھروں کو تراش ڈالا اور پہاڑوں کو کاٹ کر ان کے اندر رہائشی مکانات بنا لیے۔ ” و فرعون ذی الاوتاد “ تخویف دنیوی کا تیسرا نمونہ۔ دیکھو ! فرعون کتنا بڑا بادشاہ تھا، اس کی سلطنت کس قدر مضبوط تھی۔ ” ذی الاوتاد “ (میخوں والا) یا تو سلطنت کے استحکام سے کنایہ ہے یا یہ مطلب ہے کہ وہ توحید والوں کو میخوں سے گاڑ کر عذاب دیتا ہے۔ ” الذین طغوا فی البلاد “۔ ان سب قوموں نے سرکشی کی اور حد سے گذر گئے، شہروں اور بستیوں میں ظلم و تشدد اور بےانصافی سے شر و فساد برپا کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر مختلف قسم کے عذاب نازل کر کے ان کو تباہ کردیا۔ دنیا کی دولت و سلطنت ان کے کام نہ آئی۔ ” صب “ انزل، ” سوط عذاب “ اضافت صفت بموصوف۔ سوطا مختلطا بعضہا بعض فھی اضافۃ صفۃ الی موصوفہا کا خلاق ثیاب (مظہری کذا فی الروح) ۔
Ayah 89:147:۔ ” ان ربک “ بیشک تیرا پروردگار گھات میں ہے۔ یہ احاطہ علم الٰہی سے کنایہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تمام اعمال کو دیکھ رہا ہے اور سب کچھ اس کے حیطہ علم میں ہے۔ دنیا کے پیچھے نہ دوڑو، دیکھو دنیا کی خاطر دین چھوڑنے والی قوموں کا حشر کس قدر ہولناک ہوا ہے۔
Ayahs 89:15–168:۔ ” فاما الانسان “ یہ شکوی ہے۔ انسان اپنی عزت و ذلت کا مدار دنیوی دولت کی کثرت و قلت کو قرار دیتا ہے حالانکہ دولت کی کمی بیشی انسانوں کے لیے ابتلاء و امتحان ہے وہ کسی کو وافر دولت دے کر اس کا امتحان لیتا ہے کہ وہ دولت اللہ کی مرضی کے مطابق خرچ کرتا ہے یا نہیں اور کسی کا تندستی سے امتحان لیتا ہے کہ وہ اس حال میں صبر و شکر سے کام لیتا ہے یا شکوہ شکایت کرتا ہے لیکن انسان کا یہ حال ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ بطور ابتلا اس کو دنیا میں عزت و دولت عطا کردے تو وہ سمجھتا ہے کہ اللہ نے میری عزت کی ہے اور اگر اپنی حکمت بالغہ کے تحت اس کی روزی تنگ کردے تو وہ کہنے لگتا ہے خدا نے مجھے رسوا کردیا ہے حالانکہ عزت و ذلت کا معیار دولت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طاعت و معصیت ہے۔ سب سے زیادہ قابل عزت وہی ہے جو سب سے زیادہ خدا کا فرمانبردار ہو۔ ” ان اکرمکم عند اللہ اتقکم “ (حجرات رکوع 2) ۔
Ayahs 89:17–209:۔ ” کلا بل لا تکرمون “۔ کلا ردعیہ ہے۔ یہ انسان کے مذکورہ بالا رویہ پر شکوی ہے علی سبیل الترقی۔ دنیا دار لوگو ! تم ہر وقت دنیا میں اپنی ہی عزت و ذلت کی فکر میں مست رہتے ہو۔ مگر یتیموں کا خیال نہیں کرتے ہو اور نہ ان کا اکرام کرتے ہو مراد یہ ہے کہ ان کا حق نہیں ادا کرتے ہو۔ ” ولا تحاضون علی طعام المسکین “ یہ ماقبل سے بطور ترقی ہے۔ یتیموں کا اکرام تو ایک طرف رہا تم تو مسکینوں کو کھانا بھی نہیں کھلاتے ہو۔ اور نہ ایک دوسرے کو مسکینوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب ہی دیتے ہو۔ لا تحاضون اصل میں لا تتحاضون تھا۔ ایک تاء بغرض تخفیف حذف کردی گئی ہے۔ ” وتاکلون التراث اکلا لما “ یہ ماقبل سے بطور ترقی ہے۔ یتیموں اور مسکینوں کو کھانا کھلانے ترغیب دینا تو رہا ایک طرف، ان غریبوں کا میراث میں جو جائش حق ہے تو تم اس کو بھی ڈکار لیے بغیر ہی ہضم کر جاتے ہو اور مال جمع کرتے وقت حلال و حرام کی بھی کوئی تمیز نہیں کرتے ہو۔ ” وتحبون المال حبا جما “ یہ بھی ماقبل سے بطور ترقی ہے۔ تم لوگوں کے دلوں میں مال کی محبت اس قدر زیادہ ہے کہ تم نہ صرف یتیموں اور مسکینوں کی میراث پر ناجائز قبضہ کرتے ہو، بلکہ ڈاکہ اور چوری ہر ناجائز طریقہ سے مال جمع کرنے کی کوشش کرتے ہو ” اکلا لما “ حلال حرام کے درمیان امتیاز کے بغیر مال کھانا ہے۔ ” حبا جما “ بہت زیادہ محبت۔ ذالم وھو الجمع بین الحلال والحرام وکانوا لا یورثون النساء ولا الصبیان ویاکلون تراثھم مع تراثھم (حبا جما) کثیر شدیدا مع الحرص و منع الحقوق (مدارک ) ۔
Ayahs 89:21–2210:۔ ” کلا اذا “ یہ تخویف اخروی ہے۔ کلا ردعیہ ہے۔ یعنی یوں تو نہیں کرنا چاہیے ورنہ ان کو ان کاموں پر قیامت کے دن سخت حسرت ہوگی مگر اس دن تحیر و تاسف کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ ” دکت الارض دکا دکا “ زمین کو بار بار ہلایا اور توڑا جائے گا یہاں کہ زمین بالکل ہموار ہوجائے گی، نہ پہاڑ نظر آئیں گے نہ دریا اور سمندر۔ پھر اللہ تعالیٰ فصل قضاء کے لیے اپنی خاص شان کے ساتھ نزول اجلال فرمائیگا۔ فیجیئ الرب تبارک وتعالیٰ لفصل القضاء کما یشاء والملائکۃ یحیثون بین یدیہ صفوفا صفوفا (ابن کثیر ج 4 ص 510) ۔ فرشتے صفوں میں دست بستہ کھڑے ہوں گے اور قید خانہ (جہنم) سامنے موجود ہوگا جس میں کفار و مشرکین کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قید کردیا جائے گا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے چونکہ فجیئ (آنا) حرکت و انتقال کو مقتضی ہے اور یہ حادث کی صفت ہے اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے اس لیے یہاں مضاف محذوف ہے ای جاء جلائل آیات ربک (کبیر) تمثیل لظھور ایات اقتدارہ وتبیین اثار قہرہ و سلطانہ الخ (مدارک) ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت و جبروت اور اس کی ہیبت و جلال کا ظہور ہوگا مگر پہلی تاویل پر بھی وہ مجیئ (آنا) مراد نہیں جو حادث کی صفت ہے بلکہ وہی مجیئ مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کی شان عالی کے لائق ہو۔
Ayah 89:2311:۔ ” یومئذ “ قیامت کے دن عبرت و نصیحت حاصل کرنے پر آمادہ ہوگا یا مطلب یہ ہے کہ اس دن انسان اپنی تمام کوتاہیوں اور غلطیوں کو یاد کرے گا اور ان پر حسرت و ندامت کا اظہار کرے گا مگر اس وقت اس کا اسے کوئی فائدہ نہ ہوگا یہ حسرت وندامت بےوقت ہوگی۔ ومن این الہ الذکری وقد فات او انہا (روح ج 30 ص 129) ۔
Ayahs 89:24–2612:۔ ” یقول “ اس دن انسان انتہائی حسرت و ندامت سے تمنا کرے گا ہائے کاش ! میں نے دنیا میں آخرت کی زندگی کے لیے کچھ کما لیا ہوتا۔ مگر یہ سب کچھ بےسود ہوگا۔ ” فیومئذ ولا یعذب عذابہ احد “ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مجرموں کو ایسا سخت عذاب دے گا کہ کوئی ایسا عذاب نہیں دے سکتا اور وہ مجرموں کو ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں اس طرح جکڑ دے گا کہ اس طرح کوئی بھی نہ جکڑ سکے۔ ای لایعذب کعذاب اللہ احد ولا یوثق کو ثاقہ احد (قرطبی ج 20 ص 56) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن مجرموں کی تعذیب و ایثاق کا متولی خود اللہ تعالیٰ ہوگا۔
Ayahs 89:27–3013:۔ ” یا ایتہا النفس “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ کافروں کا حال بیان کرنے کے بعد مومنوں کا حال بیان فرمایا کہ مومن سے کہا جائیگا اے نفس مطمئنہ ! جو رذایل اخلاق سے پاک ہوچکا ہے اپنے پروردگار کی طرف واپس آ اس حال میں کہ تو اپنے رب کی ربوبیت پر راضی ہے اور تیرا رب تجھ پر راضی ہے اس لیے تو میرے بندوں میں شامل ہوجا اور میرے جنت میں داخل ہوجا۔
فائدہ : اس سورت کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ اس میں تین چیزوں کا بیان ہے۔ اول مرض، دوم سب مرض، اور سوم علاج مرض۔
” فاما الانسان اذا ما ابتلہ “ تا ” فیقول ربی اھانن “ بیان مرض ہے۔ ” کلا بل لا تکرمون الیتیم “ تا ” وتحبون المال حبا جما “ سبب مرض کا بیان ہے۔ باقی سب علاج مرض کا بیان ہے۔
سورة الفجر ختم ہوئی