90. Surah Al-Balad

البلدThe City · 20 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 90:1–3

لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:1 in the Quran reader

قسم کھاتا ہوں2 میں اس شہر کی

وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:2 in the Quran reader

اور تجھ پر قید نہیں رہے گا اس شہر میں

وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَۙ Open ayah 90:3 in the Quran reader

اور قسم ہے جنتے کی اور جو اس نے جنا

2:۔ ” لا اقسم “ لا زائدہ ہے برائے تاکید قسم۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ” البلد “ سے مکہ مکرمہ مراد ہے۔ ” انت حل “ کے معنی ہیں کہ تو مکہ میں داخل ہونے والا ہوگا یا مطلب یہ ہے کہ تو صاحب حلت ہوگا یعنی آپ کیلئے مکہ مکرمہ میں قتل و قتال حلال ہوگا۔ وی ومن المکابدۃ ان مثلک عظیم حرمتک یستحل بھذا البلد یعنی مکۃ کما یستحل الصید فی غیر الحرم (مدارک) ۔ یہ مشقت اس پر شاہد ہے کہ مشقت میں ڈالنا ہمارے اختیار میں ہے۔ اس میں آنحضرت ﷺ کو مکہ مکرمہ پر غلبہ دینے کی طرف اشارہ ہے۔ ” ووالد و ما ولد “ ماں جب بچے کو جنم دیتی ہے تو اس کو جو تکلیف اور مشقت اٹھانا پڑتی ہے یہ بھی شاہد ہے کہ مشقت میں ڈالنا ہمارے ہاتھ میں ہے۔
Ayah 90:4

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍؕ Open ayah 90:4 in the Quran reader

تحقیق3 ہم نے بنایا آدمی کو محنت میں

3:۔ ” لقد خلقنا “ یہ جواب قسم ہے مذکورہ قسمیں شاہد ہیں کہ انسان کو ہم نے مشقت میں پیدا کیا ہے اور انسان کو مشقت اور شدت میں ڈالنا ہمارے اختیار میں ہے۔ ” کبد “ مشقت۔ فالمراد من کبد النصب والمشقۃ (مظہری) فی کبد مشقۃ یکابد مصائب الدنیا وشدائد الاخرۃ (مدارک) ۔
Ayahs 90:5–7

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌۘ Open ayah 90:5 in the Quran reader

کیا خیال4 رکھتا ہے وہ کہ اس پر بس نہ چلے گا کسی کا

یَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًاؕ Open ayah 90:6 in the Quran reader

کہتا ہے میں نے خرچ کر ڈالا مال ڈھیروں

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 90:7 in the Quran reader

کیا خیال رکھتا ہے کہ دیکھا نہیں اس کو کسی نے

4:۔ ” ایحسب “ یہ زجر ہے کیا کافر انسان گمان کرتا ہے کہ اس پر کوئی قادر اور غالب نہ ہوگا اور کوئی اس کو اس کے برے عملوں کی سزا نہیں دے گا۔ اس کا یہ خیال غلط ہے۔ اسے اس کے گناہوں کی اللہ تعالیٰ ضرور سزا دے گا۔ ” یقول اھلکت مالا لبدا “ لبدا، بہت زیادہ۔ وہ بڑے فخر سے کہتا ہے کہ اس نے اپنے مشرک اور شرک پھیلانے والے اور اسلام سے روکنے والے دوستوں پر اور رسول اللہ ﷺ کی عداوت میں بےدریغ دولت خرچ کی ہے کیا اس کا خیال ہے کہ باطل میں خرچ کرتے ہوئے اس کو کوئی نہیں دیکھتا اور اس سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی بلکہ ہم اس کو دیکھ رہے ہیں اور اس کا پورا محاسبہ کریں گے (ایحسب ان لم یرہ احد) حین کان ینفق او بعد ذلک فیسالہ عنہ یعنی ان اللہ سبحانہ وتعالیٰ یراہ فیجازیہ او یجدہ فیحاسبہ علیہ (بیضاوی) ۔
Ayahs 90:8–10

اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَیْنَیْنِۙ Open ayah 90:8 in the Quran reader

بھلا5 ہم نے نہیں دیں اس کو دو آنکھیں

وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیْنِۙ Open ayah 90:9 in the Quran reader

اور زبان اور دو ہونٹ

وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ Open ayah 90:10 in the Quran reader

اور دکھلادیں اس کو دو گھاٹیاں

5:۔ ” الم نجعل “ انعامات اور قدرت کاملہ کا بیان ہے۔ استفہام تقریر ہے۔ ہم نے انسان کو دیکھنے کے لیے دو آنکھیں دیں تاکہ وہ دلائل قدرت کا مشاہدہ کرے۔ بولنے کے لیے زبان دی اور دو ہونٹ دئیے جو بولنے میں معاون ہیں تاکہ وہ زبان سے حق بات پوچھے، حق کا اقرار کرے اور اس کی تبلیغ کرے اور ہم نے اس کو خیر و شر کے دونوں راستے دکھا دئیے اور دلائل سے دونوں کو واضح کردیا۔ اب انسان کو چاہئے کہ وہ خدادا قوتوں سے فائدہ اٹھائے اور حق کو قبول کرے۔
Ayahs 90:11–12

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ٘ۖ Open ayah 90:11 in the Quran reader

سو نہ6 دھمک سکا گھاٹی پر

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُؕ Open ayah 90:12 in the Quran reader

اور تو کیا سمجھا کیا ہے وہ گھاٹی

6:۔ ” فلا اقتحم “ لا بمعنی ھلا ہے، کیونکہ ” لا “ تکرار ماضی پر نہیں آسکتا (کبیر، مظہری) ” العقبۃ “ پہاڑی راستہ جو نہایت دشوار گذار ہو۔ اقتحام العقبۃ۔ دین حق کی خاطر تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کرنے سے کنایہ ہے۔ جب ہم نے اس کو ہر نعمت عطاء کی ہے تو اس نے دین کی خاطر تکلیفیں اور مشقتیں کیوں برداشت نہیں کیں ؟ وہ مشکل اور دشوار گذار گھاٹیوں پر کیوں نہیں چڑھاتا کہ اسے ہلاکت سے نجات مل جاتی کیونکہ پستی کی طرف پانی جاتا ہے وہ ہلاکت کی جگہ ہے اور نجات بلندی میں ہے۔ حاصل یہ کہ اس نے مال بےجا خرچ کیا ہے جائز مصاف میں خرچ نہیں کیا۔ ” وما ادراک ما العقبۃ “ رضی نے کہا ہے اس قسم کی عبارتوں کے دو معنی ہوتے ہیں تجھ کو کیا خبر ہے عقبہ کی یا یہ کہ مجھ سے سن تیری سمجھ میں نہیں آسکتا۔
Ayahs 90:13–16

فَكُّ رَقَبَةٍۙ Open ayah 90:13 in the Quran reader

چھڑانا7 گردن کا

اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍۙ Open ayah 90:14 in the Quran reader

یا کھلانا بھوک کے دن میں

یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍۙ Open ayah 90:15 in the Quran reader

یتیم کو جو قرابت والا ہے

اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍؕ Open ayah 90:16 in the Quran reader

یا محتاج کو جو خاک میں رل رہا ہے

7:۔ ” فک رقبۃ “ یہ العبقۃ کا بیان ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ان صحیح مصرفوں میں مال خرچ کرنے کی مشقت اٹھاؤ نجات پاؤ گے اور مسکینوں کو کھانا کھلانا یہ ہے وہ گھاٹی جس پر چڑھنے سے ان کو نجات ملے گی اور یہ ہیں خرچ کرنے کے صحیح مصارف جن پر خرچ کرنے سے ان کو ثواب ملے گا۔
Ayah 90:17

ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِؕ Open ayah 90:17 in the Quran reader

پھر8 ہو وے ایمان والوں میں جو تاکید کرتے ہیں آپس میں تحمل کی اور تاکید کرتے ہیں رحم کھانے کی

8:۔ ” ثم کان “ ثم تعقیب ذکری کے لیے ہے یعنی ان مصارف میں خرچ کرے لیکن اس کے ساتھ ایمان شرط ہے۔ مومن بھی ہوں اور دوسرے گناہوں سے بچنے اور مصائب پر صبر کرنے کی وصیت بھی کریں اور لوگوں پر مہربانی کرنے اور ان کا ترس کھانے کی تلقین کریں یا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو ایسے کاموں کی ترغیب دیں جو اللہ کی رحمت کا باعث اور موجب ہوں۔ ” وتواصوابالمرحمۃ عباد اللہ او بموجبات رحمۃ اللہ “ (مظہری) ۔
Ayahs 90:18–20

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 90:18 in the Quran reader

وہ9 لوگ ہیں بڑے نصیب والے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 90:19 in the Quran reader

اور جو منکر ہوئے ہماری آیتوں سے وہ ہیں کم بختی والے

عَلَیْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ۠ Open ayah 90:20 in the Quran reader

انہی کو آگ میں موند دیا ہے

9:۔ ” اولئک “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ یہ سعداء ہیں جن کو اعمالنامے دائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے۔ اور ان کا مقام جنت ہے۔ ” والذین کفروا “ یہ تخویف اخروی ہے جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا وہ اشقیاء ہیں ان کے اعمالنامے بائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے اور ان پر آگ کو بند کردیا جائیگا۔ لوہے کے ستونوں کے درمیان آگ ہوگی اس میں ان لوگوں کو ڈالا جائیگا اور اوپر سے اس کو بند کردیا جائیگا۔ مطلب یہ ہے کہ دوزخ کے دروازے اور منافذ بند کردئیے جائیں گے تاکہ آگ کی گرمی میں کمی نہ ہو۔ والمراد مغلقۃ ابوابہا وانما اغلقت لتشدید العذاب والعیاذ باللہ تعالیٰ علیہم (روح ج 30 ص 140) ۔ سورة البلد ختم ہوئی