Ayah 88:12:۔ ” ھل اتاک “ ھل بمعنی قد ہے یا استفہام تقریر ہے۔ دونوں کا حاصل یہ ہے کہ آپ کو الغاشیہ کا حال اس سے پہلے معلوم ہوچکا ہے۔ یا استفہام اپنے اصل پر ہے اور اس سے پہلے آپ کو غاشیہ کا علم نہیں تھا اور استفہام سے مقصود تعجیب و تشویق ہے۔ گویا اس سوال کے جواب میں عرض کیا گیا الغاشیہ کی خبر مجھے معلوم نہیں، وہ کیا ہے تو کہا گیا وجوہ الخ۔ ” الغاشیہ “ سے قیامت مراد ہے جو اپنے شدائد و اہوال کی وجہ سے سب پر حاوی ہوگی۔
Ayahs 88:2–33:۔ ” وجوہ یومئذ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ یہاں سے لے کر ” زرابی مبثوثۃ “ تک ” الغاشیہ “ کا بیان ہے۔ والجملۃ الی قولہ تعالیٰ مبثوثۃ استیناف وقع جوابا عن سؤال نشا من الاستفہام التشویقی کانہ قیل من جہتہ (علیہ الصلوۃ والسلام) وما اتی فی حدیثھا، ما ھو ؟ فقیل وجوہ الخ، قال ابن عباس ؓ لم یکن اتاہ ﷺ حدیثہا فاخبرہ سبحانہ عنہا فقال جل وعلا : وجوہ یومئذ (روح ج 30 ص 112) ۔ ” خاشعۃ “ ذلیلۃ من الحزن والھوان (مظہری) ۔ ” عاملۃ ناصبۃ “ ای تعمل اعمالا شاقۃ تتعب فیہا وھی جر السلاسل والاغلال والخوض فی النار الخ۔ (ابو السعود) ۔ اور ” وجوہ “ سے اصحاب الوجوہ یعنی کفار مراد ہیں (کبیر) ۔ کفار و مشرکین دنیا میں نہ تو خدا کے سامنے عاجزی کرتے تھے، نہ ایمان کی خاطر شدائد و مصائب برداشت کرتے تھے لیکن قیامت کے دن ذلت اور رسوائی سے نہایت عاجز ہوں گے اور جہنم کے انواع عذاب کئے ہولناک شدائد اور سخت ترین تکلیفوں اور سزاؤں کو برداشت کریں گے۔
Ayahs 88:4–54:۔ ” تصلی “ ، ” حامیۃ “ نہایت تند و تیز آگ جو اللہ کے دشمنوں پر بھڑک اٹھے گی۔ ” قال ابن عباس قد حمیت فھی تتلظی علی اعداء اللہ۔ (مظہری، کبیر) ۔ ” تسقی من عین انیۃ “ جب ان کو جہنم کی شدید ترین گرمی میں پیاس لگے گی تو ان کو ایک ایسے چشمے سے پانی پلایا جائے گا جس سے نہایت گرم اور کھولتا ہوا پانی ابل رہا ہوگا۔ ” انیۃ “ نہایت گرم۔ بلغت نتہاہا فی الرچ (بیضاوی) ۔
Ayahs 88:6–75:۔ ” لیس لہم “ دوزخیوں کے مشروب کا ذکر کر کے ان کے طعام کا ذکر فرمایا۔ ” ضریع “ ایک خاردار پودا ہے زمین پر مفروش، نہایت زہریلا کوئی جانور یا چوپایہ اس کے قریب بھی نہیں جاتا۔ سرسبز ہو تو شبرق اور خشک ہونے پر ضریع کہلاتا ہے۔ قال عکرمۃ و مجاھد الضریع نبت ذو شوک لاصق بالارض تسمیہ قیش الشبرق اذا کان رطبا، فاذا یبس فھو الضریع، لاتقربہ دابۃ ولا بھیمۃ ولا ترعاہ، وھو سم قاتل، وھو اخبث الطعام واشنعہ، علی ھذا عامۃ المفسرین (قرطبی ج 20 ص 29) ۔ دوزخیوں کو کھانے کے لیے ضریع کی قسم کا خاردار اور بدبودار نہایت زہریلا پودا دیا جائے گا جو کھانے والے کو موٹا کرے گا۔
Ayahs 88:8–126:۔ ” جوہ یومئذ “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ قرآن مجید کا یہ قانون ہے کہ جہاں تخویف کا ذکر آئیگا اس کے ساتھ بشارت کا ذکر بھی ہوگا یہاں بھی ” وجوہ “ سے اصحاب الوجوہ یعنی مومنین مراد ہیں۔ مومنین قیامت کے دن خوش وخرم ہوں گے۔ دنیا میں انہوں نے جو کام کیے ہوں گے ان کا اجر وثواب اور ان کی احسن جزاء دیکھ کر بہت خوش ہوں گے۔ عالیشان باغوں میں رہیں گے اور وہاں کوئی لغو اور بیہودہ بات نہیں سنیں گے ان باغوں میں ہر قسم کے اعلی مشروبات کے چشمے جاری ہوں گے۔
Ayahs 88:13–167:۔ ” فیھا سرر “ ، سرر، سریر کی جمع ہے یعنی تخت۔ ان کے بیٹھنے کے لیے جو تخت ہوں گے وہ نہایت اونچے ہوں گے لیکن جب وہ ان پر بیٹھنا یا ان سے اترنا چاہیں گے تو تخت خود بخود نیچے ہو کر زمین کے قریب ہوجائیں گے۔ ” واکواب موضوعۃ “ کو ب وہ پیالہ جس کو پکڑنے کے لیے حلقہ نہ ہو۔ پیالیاں ان کے سامنے تیار رکھی ہوں گی جب چاہیں گے ان کو استعمال کرلیں گے۔ ” و نمارق مصفوفۃ “ گدے اور تکیے سلیقہ کے ساتھ قطار میں رکھے ہوں گے۔ ” وزرابی مبثوثۃ “ زرابی، زربیۃ کی جمع ہے یعنی دریا اور بچھونے۔ ” مبثوثۃ “ مبسوطۃ، جنت میں ہر طرف دریاں بچھی ہوں گی تاکہ جہاں چاہیں بیٹھ جائیں۔
Ayah 88:178:۔ ” افلا ینظرون “ یہاں مذکورہ بالا چاروں امور کے لیے چار نمونے اور شواہد مذکور ہیں بطور لف و نشر مرتب۔ مذکورہ بالا بیان پر مشرکین نے حیرت و تعجب کا اظہار کیا بلکہ ان چیزوں کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کے ایسے نمونے بیان فرمائے جن کے انکار کی کوئی بھی گنجائش نہیں۔ استیناف مسوق لتقریر ما فصل من حدیث الغاشیۃ وما ھو مبنی علیہ من البعث الذی ھم فیہ مختلفون بالاستشہاد علیہ بما لا یستطیعون انکارہ (ابو السعود ج 8 ص 552) ۔ عن قتادۃ لما نعت اللہ تعالیٰ ما فی الجنۃ عجب من ذلک اھل انصلالۃ فانزل اللہ سبحانہ وتعالیٰ افلا ینظرون الخ (روح ج 30 ص 115) ۔ ” افلا ینظرون الی الابل کیف خلقت “ کیا وہ اونٹ کی طرف نہیں دیکھتے ہم نے اس کو کس طرح عجیب و غریب پیدا کیا ہے۔ وہ تمام سواریوں سے بلند ہے جب اس پر سوار ہونا چاہیں تو اسے بٹھا کر سوار ہوجاتے ہیں اور پھر وہ ان کو اپنی پیٹھ پر لے کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ یہ ” سرر مرفوعۃ “ کا نمونہ ہے اہل جنت کے تخت بھی اسی طرح کے ہوں گے (مدارک) تفسیر عباسی میں ہے ” مرتفعۃ لاھلہا “ یعنی وہ تخت بلند ہوں گے۔ لیکن مدارک والا مفہوم زیادہ مناسب ہے۔
Ayahs 88:18–209:۔ ” والی السماء “ یہ ” اکواب موضوعۃ “ کا نمونہ ہے جس طرح آسمان اونچا ہے اور اس پر تارے اونچے رکھے ہیں اسی طرح پیالیاں اونچی رکھی ہوں گی۔ ” والی الجبال کیف نصبت “ یہ ” نمارق مصفوفۃ “ کا نمونہ ہے جس طرح دنیا میں زمین پر پہاڑوں کا سلسلہ قائم ہے اسی طرح جنت میں سلیقہ کے ساتھ تکیے قطار میں لگے ہوں گے۔ ” والی الارض کیف سطحت “ یہ ” زرابی مبثوثۃ “ کا نمونہ ہے جس طرح زمین بچھونے کی طرح بچھی ہوئی ہے اسی طرح جنت میں ہر طرف دریاں اور فروش بچھے ہوں گے۔
Ayahs 88:21–2410:۔ ” فذکر “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے اور یہ آیت سورة الاعلی کی آیت ” فذکر ان نفعت الذکری “ سے متعلق ہے۔ کیونکہ یہ سورت اس سورت کا تتمہ ہے۔ اگر مشرکین قرآن میں غور و تدبر نہیں کرتے اور آپ کے بطریق احسن بیان و ارشاد کے باوجود نہیں مانتے تو اس سے آپ غمگین نہ ہوں کیونکہ آپ بشیر و نذیر اور ناصح و معلم ہیں۔ اس لیے آپ اپنا کام کرتے رہیں آپ کو ان پر داروغہ اور نگران بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ ان کو ماننے اور ایمان لانے پر مجبور کریں۔ ” الا من تولی وکفر “ استثناء منقطع ہے اور ” الا “ بمعنی ” لکن “ ہے موصول مع صلہ مبتداء اور ” فیعذبہ اللہ الخ “ جملہ اس کی خبر ہے (روح) ۔ یہ تخویف اخروی ہے لیکن جو ایمان سے اعراض کرے گا اور حق کا انکار کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو سب سے بڑی سزا دے گا۔ مراد آخرت میں دوزخ کا عذاب ہے۔
Ayahs 88:25–2611:۔ ” ان الینا “ یہ ماقبل کا تتمہ ہے وہ عذاب سے ہرگز نہیں بچ سکتے۔ موت اور پھر بعث بعد الموت کے بعد وہ ہمارے پاس ہی واپس آجائیں گے اور پھر ہم ہی ان کا حساب لیں گے اور ان کو جہنم میں دھکیل دیں گے۔
سورة الغاشیہ ختم ہوئی