Ayah 87:12:۔ ” سبح اسم “ یہ دعوائے توحید کے دونوں حصوں کا نتیجہ اور ثمرہ ہے۔ جب آئندہ بیان سے ثابت ہوگیا کہ کارساز، متصرف و مختار اور عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں تو اس کو شریکوں سے پاک سمجھو اور اس کی دعاء و پکار میں کسی کو شریک نہ بناؤ۔ اقتدار اعلی کے مالک اپنے پروردگار کی ہر عیب اور شرک سے قولا و عملا تنزیہ و تقدیس کرو۔
Ayahs 87:2–53:۔ ” الذی خلق “۔ دعوی توحید کے پہلے جزو کا بیان یعنی اللہ تعالیٰ ہی کارساز اور متصرف و مختار ہے۔ اسی نے سب کو پیدا کیا اور درست اندام بنایا، اعضاء بدن کو متناسب اور خوبصورت بنایا۔ خلق کل شیء فسی خلقہ تسیۃ ولم یات بہ متفاوتا غیر ملتئم ولکن علی احکام ؟ ؟ (مدارک) ۔ ” والذی قدر فہدی “ پیدا کرنے کے بعد سب کی روزی کا اندازہ بھی اسی نے مقرر کیا اور پھر ہر ایک کو روزی حاصل کرنے کی راہ بھی دکھائی۔ ” والذی اخرج المرعی “ اسی نے مویشیوں کے لیے چارہ پیدا کیا۔ پھر اسے خشک اور چورا چورا کردیا۔ چارہ خشک ہونے کے بعد چورہ بن جاتا ہے یہ تمام صفاتِ کمال اس کی دلیل ہیں کہ کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
Ayah 87:64:۔ ” سنقرئک “ یہ پہلے دعوے پر انعام ہے جب آپ پہلا دعوی توحید بیان کریں گے کہ کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں، تو ہم آپ کو قرآن انعام میں دیں گے آپ کو قرآن پڑھا دیں گے اور آپ کو اس طرح یاد کرادیں گے کہ پھر آپ اس کو بھولیں گے نہیں۔ ” الا ماشاء اللہ “ البتہ جن آیتوں کی تلاوت کو منسوخ کرنا منظور ہوگا وہ ہم آپ کو بھلا دیں گے۔
Ayahs 87:7–85:۔ ” انہ یعلم “ یہ دعوی توحید کا دوسرا حصہ ہے یعنی عالم الغیب اور سب کچھ جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ ” ونیسرک للیسری “ یہ دوسرے دعوے پر انعام ہے یعنی جب دوسرا دعوی بیان کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے لیے جنت کی راہ آسان فرما دے گا۔ جس طرح پہلا دعوے دوسرے دعوے کے لیے بمنزلہ سبب ہے یعنی جو سب کچھ کرنے والا اور متصرف و کارساز ہو وہی عالم الغیب ہوتا ہے اسی کو پکارنا چاہئے۔ اسی طرح پہلا انعام بھی دوسرے انعام کے لیے بمنزلہ سبب ہے۔ کیونکہ قرآن کی ہدایت دخول جنت کا موجب ہے۔
Ayah 87:96:۔ ” فذکر “ دعوائے توحید کے دونوں حصوں کے بعد آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے آپ کو مسئلہ توحید کی بدولت مذکورہ بالا دونوں انعام عطاء کیے گئے لہذا جہاں پند و نصیحت اور وعظ و تبلیغ کے سود مند ہونے کی توقع ہو وہاں دعوی توحید کی تبلیغ کریں۔ ” ان نفعت الذکری “ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ تبلیغ کے نافع ہونے کا پہلے علم ہو تب تبلیغ کرنی چاہئے ونہ نہیں حالانکہ یہ ضروری نہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ نصیحت کے نافع ہونے کا علم ضروری نہیں، بلکہ جہاں نفع کی توقع یا وہم بھی ہو وہاں بھی تبلیغ کرنی چاہئے البتہ جہاں بالکل مایوسی ہو اور نصیحت کے سود مند ہونے کا وہم بھی نہ ہو یعنی جن لوگوں میں ذرہ بھر انابت نہ پائی جائے۔ وہاں نصیحت نہ کی جائے۔ جیسا کہ ارشاد ہے۔ فاعرض عن من تولی عن ذکرنا (النجم رکوع 2) ۔ ” التذکیر والامر بالمعروف والنھی عن المنکر انما یجب اذا ظن نفعہ ولذلک امر بالاعراض عمن تولی (مظہری ج 10 ص 245) اس کے بعد ان دونوں فریقوں کا ذکر ہے جن کے لیے نصیحت و تبلیغ مفید ہوگی اور جن کے لیے مفید نہ ہوگی۔
Ayahs 87:10–137:۔ ” سیذکر “ اس میں پہلے فریق کا ذکر ہے۔ پند و نصیحت اور وعظ و ارشاد سے صرف وہی فائدہ اٹھائیں گے جن کے دلوں میں خدا کا خوف اور اللہ کی طرف انابت و رجوع کا جذبہ موجود ہو۔ ” ویتجنبہا الاشقی “ یہ دوسرے فریق کا بیان ہے اور ساتھ اس فریق کے لیے تخویف اخروی ہے۔ وہ بدبخت کفار و مشرکین جو انکار وعناد پر اصرار کرتے ہیں، پند و نصیحت کو قبول کرنے سے اجتنبا کریں گے۔ ان کی سزا یہ ہوگی کہ وہ سب سے بڑی آگ میں داخل ہوں گے۔ مراد دوزخ کا سب سے نچلا طبقہ ہے۔ ای الطبقۃ السفلی من اطباق النار کما قال الفراء (روح ج 30 ص 108) ۔ ایسے بدبخت جہنم کی آگ میں ہمیشہ کے لیے سزا پاتے رہیں گے ان کو وہاں نہ موت ہی آئے گی کہ عذاب سے راحت پالیں اور نہ وہاں ان کی کوئی زندگی ہی ہوگی کہ جس میں آرام و چین کا سانس لے سکیں۔ بس مسلسل اور لگاتار اس عذاب میں گرفتار رہیں گے۔
Ayahs 87:14–158:۔ ” قد افلح “ یہ پند و نصیحت قبول کرنے والوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے۔ آخرت میں کامیاب وہی ہوگا جو شرک سے پاک رہا اور جس نے مصائب و حاجات میں صرف اللہ ہی کو پکارا اور نماز کی پابندی کی۔ ” من تزکی “ ای تطھر من الشرک بتذکرہ واتعاظہ بالذکری (روح) ۔ ” وذکر اسم ربہ “ مصائب وحاجات میں صرف اللہ کو پکارا اور اسی کے نام کا ورد کیا (الشیخ (رح) تعالی) ۔
Ayahs 87:16–179:۔ ” بل تؤثرون “ توحید کے بعد مضمون تزہید فی الدنیا کا ذکر۔ تمہیں چاہئے تھا (اے اہل مکہ) کہ تم پند و نصیحت کو قبول کرلیتے اور توحید کو مان لیتے مگر تم نہیں مانتے بلکہ آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتے ہو اور ایمان و عمل سے آخرت کی تیاری کرنے کے بجائے داد عیش دینے اور مال و زر جمع کرنے میں منہمک ہو حالانکہ آخرت دنیا کے مقابلے میں ہر لحاظ سے بہتر اور باقی رہنے والی چیز ہے۔ دنیا اور دنیا کی ہر چیز مال و زر جمع کرنے میں منہمک ہو حالانکہ آخرت پر دنیا کے مقابلے میں ہر لحاظ سے بہتر اور باقی رہنے والی چیز ہے۔ دنیا اور دنیا کی ہر چیز زوال پذیر اور فانی ہے مگر آخرت کا دار ازلی اور وہاں کی ہر نعمت لازوال اور غیر فانی ہے۔
Ayahs 87:18–1910:۔ ” ان ھذا “ یہ دونوں دعو وں پر دلیل نقلی ہے۔ مسئلہ توحید جس طرح اس سورت میں مذکور ہے اور دنیا کی بےثباتی اور آخرت کے دوام وبقاء کا مضمون اسی طرح یہ دونوں مضمون پہلے آسمانی صحیفوں یعنی ابراہیم اور موسیٰ علیہما الصلوۃ والسلام کے صحیفوں میں بھی مذکور تھے۔ ” صحف ابراہیم وموسی “ الصحف، الاولی سے بدل ہے۔
سورة الاعلی میں آیات توحید
1 ۔ ” سبح اسم ربک الاعلی “ تا ” فجعلہ غثاء احوی “۔ نفی شرک فی التصرف
2 ۔ ” انہ یعلم الجھر وما یخفی “۔ نفی شرک فی العلم
سورة اعلی ختم ہوئی