89. Surah Al-Fajr

الفجرThe Dawn · 30 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔۔۔۔ ا۔ سورة کا عمود اور سابق سورة سے تعلق سابق سورة آسمان و زمین کی بعض نمایاں نشانیوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اس مضمون پر ختم ہوئی کہ جس خالق نے ان چیزوں کو وجود بخشا اس کی عظیم قدرت و حکمت اور اس کی غیر محدود ربوبیت سے کسی عاقل کے لیے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ مقصود اس سے اس حقیقت کو سامنے لانا ہے کہ جب وہ عظیم قدرت و حکمت رکھنے والا بھی ہے اور اس وسعت کے ساتھ اس نے اپن خوان کرم بھی بچھا رکھا ہے تو اس کی ان صفات کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے جس میں ان لوگوں سے باز پرس کرے جنہوں نے اس کی نعمتیں پا کر اس کی دنیا میں دندھالی مچائی اور ان لوگوں کو انعام دے جنہوں نے شکر گزاری اور اطاعت شعاری کی زندگی بسر کی۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو یہ اس کی رحمت و ربوبیت کے بھی منافی ہے اور اس کی قدرت و حکمت کے بھی۔ اس کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی ہے کہ تم جس چیز سے لوگوں کو آگاہ کر رہے ہو اس کے دلائل و شواہد آسمان و زمین کے چپہ چپہ پر موجود ہیں۔ اگر ان لوگوں کو نظر نہیں آ رہے ہیں تو تم اپنا فرض انداز ادا کر دو ۔ اندھوں کو راہ دکھانا تمہارا کام نہیں ہے۔ اس سورة میں آفاق اور تاریخ کے بعض نہایت نمایاں آثار و واقعات کے طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ ثابت فرمایا ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز کی باگ اس کے خالق ومالک کے ہاتھ میں ہے۔ وہی جس کی جس حد تک چاہتا ہے ڈھیل دیتا ہے اور جہاں چاہتا ہے روک دیتا ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی شے اس کی مقرر کی ہوئی حد سے آگے بڑھ سکے۔ قوموں کے ساتھ بھی اس کا یہی معاملہ ہے۔ ان کو جو ڈھیل ملتی ہے اس کے اذن سے ملتی ہے اور جب ان پر گرفت ہوتی ہے تو اس کے حکم سے ہوتی ہے۔ اس کے ہاتھ ہر وقت قوموں کی نبض پر رہتے ہیں۔ اس دنیا میں ہر ایک امتحان ہو رہا ہے کہ وہ نعمت پا کر شکر کی روش اختیار کرتا ہے یا فخر و اشکبار کی۔ اسی طرح مشکل حالات و صبر و ثابت قدمی کا ثبوت دیتا ہے یا مایوسی و دل شکستگی کا۔ پہلی روش ابدی فتح و فیروز مندی کی ضامن ہے اور دوسری دائمی خسران و نامرادی کی۔ اللہ کا مبارک بندہ وہ ہے جو نفس مطمئنہ کے ساتھ اپنے رب کی طرف لوٹا، نہ نعمت پا کر مغرور ہوا اور نہ فقر کی آزمائش سے دل شکستہ۔ انہی کو (راضیۃ موضیۃ) کی بادشاہی حاصل ہوگی۔ ب۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ سورة کے مطالب کی تقسیم اس طرح ہے۔ (١۔ ٥) آفاق کی بعض نشانیوں کی طرف اشارہ جو اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ اس کائنات کی ہر چیز کی باگ اس کے خالق کے ہاتھ میں ہے۔ وہی جس حد تک چاہتا ہے اس کو ڈھیل دیتا ہے اور جہاں چاہتا ہے روک لیتا ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی شے اس کی مقرر کی ہوئی حد سے آگے بڑھ سکے یا پیچھے ہٹ سکے۔ (٦۔ ١٤) تاریخ کی بعض عظیم قوموں کا حوالہ اس حقیقت کے ثبوت میں کہ خالق کی یہی نگرانی دنیا کی قوموں پر بھی قائم ہے۔ جب وہ اپنے اختیار سے غلط فائدہ اٹھا کر خدا کے حدود کو لانگنے کی جسارت کرتی ہیں تو ان کو بس ایک خاص حد ہی تک ڈھیل ملتی ہے۔ اس کے بعد لازماً ان کی پکڑ ہوتی ہے اور ایسی سخت پکڑ ہوتی ہے کہ وہ اپنی تمام عظمت و شوکت کے باوجود اس کے آگے سپر انداز ہوجاتی ہیں۔ (١٥، ٢٠) انسان کی اس گمراہی کی طرف اشارہ کہ جب اس کو نعمت ملتی ہے تو وہ اس کو اپنا حق سمجھتا اور اس مغالطہ میں پڑجاتا ہے کہ وہ خدا کی نظروں میں عزت و شرف دیکھنے والا ہے اس وجہ سے اس کی عزت افزائی ہوئی ہے۔ اسی طرح اگر وہ نعمت سے محروم ہوجاتا ہے تو سمجھتا ہے کہ خدا نے اس کی ناقدری کی ہے، حالانکہ نعمت ملے یا تنگی رزق سے سابقہ پیش آئے، دونوں ہی حالتیں بطور امتحان پیش آتی ہیں۔ پہلی حالت میں اللہ تعالیٰ یہ دیکھتا ہے کہ انسان نعمت پا کر شکر کرنے والا اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے والا بنتا ہے یا اکڑنے والا اور دوسروں کے حقوق غضب کرنے والا بن کے رہ جاتا ہے۔ دوسری صورت میں یہ دیکھتا ہے کہ وہ اپنے رب کی اس تقسیم پر قانع و صابر، راضی و مطمئن رہتا ہے یا خدا سے مایوس، شاکی اور پست ہمت بن جاتا ہے۔ دوسری صورت میں یہ دیکھتا ہے کہ وہ اپنے رب کی اس تقسیم پر قانع و صابر، راضی و مطمئن رہتا ہے یا خدا سے مایوس، شاکی اور پست ہمت بن جاتا ہے۔ حالانکہ خدا سے شاکی اور مایوس ہونے کی بجائے اسے اپنے اعمال پر نظر ڈالنی چاہیے کہ خدا کی نعمت پا کر یتیموں اور غریبوں کے ساتھ اس کا سلوک کیا ہونا چاہیے تھا اور اس نے مال کی اندھی بہری محبت میں مبتلا ہو کر ان کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا ! (٢١، ٢٦) قیامت کے دن ان لوگوں کی حسرت و مایوسی کی تصویر جو خدا کے بخشے ہوئے مال کو پا کر اس کے پجاری بن کر یبٹھ رہے، اس کو اپنی آخرت سنوارنے کا ذریعہ بن بنایا۔ (٢٧، ٣٠) ان لوگوں کی خوش حالی و فیروز مندی کا بیان جو یسر و عسر اور تنگی و فراخی دونوں میں اپنے رب سے راضی و مطمئن رہے۔ نعمت ملی تو اس پر مغرور ہونے کے بجائے اپنے رب کے شکر گزار اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے والے رہے اور اگر تنگی رزق سے آزمائے گئے تو مایوس و دل شکستہ ہونے کی جگہ اپنی حالت پر صابر و قانع اور اپنے رب کے فیصلہ پر راضی رہے۔

Ayah 89:1

وَ الْفَجْرِۙ Open ayah 89:1 in the Quran reader

شاہد ہے فجر

ہم تمہید میں اشارہ کر چکے ہیں کہ یہاں جو قسمیں کھائی گئی ہیں وہ اس دعوے پر شہادت کے لیے کھائی گئی ہیں کہ اس کائنات کا مدبر حقیقی اللہ وحدہٗ لاشریک ہے۔ اسی کے ہاتھ میں ہر چیز کی باگ ہے۔ وہی جب چاہتا ہے ایک چیز کو نمودار کرتا ہے اور جب چاہتا ہے اس کو اوجھل کر دیتا ہے۔ وہی جس کو جس حد تک چاہتا ہے ڈھیل دیتا ہے اور جہاں چاہتا ہے روک دیتا ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی شے اس کی مقرر کی ہوئی حد سے آگے بڑھ سکے یا اس کے اختیار میں مداخلت کر سکے۔ فجر کی شہادت سے مقصود: ’وَالْفَجْرِ‘۔ ’فَجْرٌ‘ سے مراد وہ وقت ہے جب رات کی تاریکی کا پردہ چاک ہوتا اور دن کو روشنی مشرقی افق سے نمودار ہوتی ہے۔ روزے کے احکام کے ضمن میں سورۂ بقرہ میں فرمایا ہے: ’کُلُوۡا وَاشْرَبُوۡا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ‘ (البقرہ ۲: ۱۸۷) (اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ فجر کی سفید دھاری شب کی سیاہ دھاری سے نمایاں ہو جائے)۔ لفظ ’فَجْرٌ‘ کے مقابل میں لفظ ’صبح‘ سے مراد جو وقت ہے وہ نہ صرف فجر پر بلکہ طلوع آفتاب کے بعد کے وقت پر بھی محیط ہے۔ اس لیے ’وَالْفَجْرِ‘ کے ہم معنی صبح کے لفظ سے جہاں قسم کھائی گئی ہے وہاں وضاحت کے لیے الفاظ بڑھائے گئے ہیں، مثلاً ’وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ‘ (التکویر ۸۱: ۱۸) (شاہد ہے صبح جب وہ سانس لیتی ہے) یا ’وَالصُّبْحِ إِذَا اَسْفَرَ‘ (المدثر ۷۴: ۳۴) (شاہد ہے صبح جب وہ ہویدا ہو جائے)۔ یہ معین ہونے کے بعد کہ فجرسے مراد آغاز صبح کا وہ وقت ہے جب شب کی تاریکی کا پردہ چاک ہو جاتا ہے اس آیت میں قسم کا موقع ٹھیک وہی قرار پاتا ہے جو سورۂ مدثر میں بدیں الفاظ وارد ہوا ہے: ’وَاللَّیْلِ إِذْ أَدْبَرَ ۵ وَالصُّبْحِ إِذَا أَسْفَرَ ۵ إِنَّہَا لَإِحْدَی الْکُبَرِ‘ (المدثر ۷۴: ۳۳-۳۵) (شاہد ہے رات جب وہ منہ موڑ چکے اور صبح جب وہ نمودار ہو جائے کہ یہ (قیامت) عظیم حوادث میں سے ہے)۔ ہم نے سورۂ مدثر کی تفسیر میں مذکورہ آیت کے ذیل میں واضح کیا ہے کہ رات کی تاریکی جب اپنے ڈیرے ڈالے ہوتی ہے تو اس میں صبح کا نام و نشان نہیں ہوتا۔ فجر کا وقت ایک بڑے تغیر کا پیغام لاتا ہے جس میں تاریکی کی بساط لپیٹ دی جاتی اور عالم ایک نیا روپ اختیار کر لیتا ہے۔ ٹھیک یہی حال قیامت کے ظہور کا بھی ہو گا۔ یہ دنیا رات کے مانند ہے جس کی تاریکی صبح قیامت کو ڈھانکے ہوئے ہے۔ جس طرح رات کے بعد فجر ایک متعین نظام الاوقات کے تحت نمودار ہوتی ہے اسی طرح ایک وقت آئے گا جب قیامت اچانک وارد ہو جائے گی۔ اس وقت سب دیکھ لیں گے کہ جس چیز کو وہ ناممکن سمجھتے تھے وہ سامنے آ گئی۔ یہاں ’وَالْفَجْرِ‘ کی قسم سے قرآن نے متنبہ کیا ہے کہ فجر کا وقت ہر روز ظہور قیامت کا مشاہدہ ایک تمثیلی رنگ میں کراتا ہے، جس طرح تم رات میں سوتے اور صبح کو آنکھیں ملتے ہوئے اٹھ بیٹھتے ہو اسی طرح مر جانے کے بعد تمہارے اوپر وہ وقت بھی آئے گا جب صور پھونکا جائے گا اور تم صبح قیامت کو اٹھ بیٹھو گے اور ایسا فخر محسوس کرو گے کہ ابھی سوئے تھے ابھی جاگ پڑے ہو۔ لہٰذا قیامت کے ظہور کو بعید از امکان نہ سمجھو۔ احادیث میں صبح کو اٹھنے کی جو دعا سکھائی گئی ہے اس میں بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 89:2

وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ Open ayah 89:2 in the Quran reader

اور دس راتیں

دس راتوں سے مراد: ’وَلَیَالٍ عَشْرٍ‘۔ دس راتوں سے کون سی راتیں مراد ہیں؟ اس سوال کے مختلف جواب ہمارے مفسرین سے منقول ہیں لیکن ان میں سے کسی قول کی کوئی قابل قبول دلیل ان سے منقول نہیں ہے۔ ان کی بنیاد محض اس مفروضہ پر ہے کہ یہاں ان کی قسم کھائی گئی ہے اور جس چیز کی قسم کھائی جائے ضروری ہے کہ وہ کوئی مقدس چیز ہو حالانکہ یہ خیال بالکل بے بنیاد ہے۔ قرآن میں جو قسمیں وارد ہوئی ہیں ان میں سے بیشتر کسی دعوے پر دلیل کے طور پر کھائی گئی ہیں۔ ان کے اندر تقدس تلاش کرنے کے بجائے ہمیشہ ان کے استدلالی پہلو پر نظر جمانی اور دیکھنا یہ چاہیے کہ زیربحث دعویٰ کیا ہے اور قسم کس پہلو سے اس پر شہادت ہے۔ نیز قرآن مجید کے ان دوسرے مواقع کو نگاہ میں رکھنا چاہیے جن میں اسی قسم کا مضمون انہی الفاظ یا ان کے ملتے جلتے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ اس سورہ کے عمود کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر غور کیا جائے تو عمود سے مطابقت رکھنے والی بات ہو سکتی ہے تو یہ ہو سکتی ہے کہ ’لَیَالٍ عَشْرٍ‘ سے چاند کے عروج و محاق کی دس راتیں مراد لی جائیں۔ چونکہ یہاں یہ لفظ نکرہ کی صورت میں ہے اس وجہ سے ایک ہی ساتھ دس راتیں عروج کی بھی مراد لی جا سکتی ہیں اور دس راتیں زوال کی بھی۔ گویا اس قسم میں چاند کے تدریجی عروج و زوال کی پوری تصویر سامنے رکھ دی گئی ہے۔ سادہ اسلوب میں یہ مضمون سورۂ یٰس میں یوں بیان ہوا ہے: وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰہُ مَنَازِلَ حَتّٰی عَادَ کَالْعُرْجُوۡنِ الْقَدِیْمِ (یٰسٓ ۳۶: ۳۹) ’’اور چاند کے لیے ہم نے منزلیں ٹھہرا رکھی ہیں یہاں تک کہ (ان منازل کے طے کرنے میں) وہ کھجور کی سوکھی ٹہنی کے مانند ہو کر رہ جاتا ہے۔‘‘ اس آیت میں چاند کی تصویر چشم تخیل کے سامنے اس طرح آتی ہے گویا وہ ایک فرماں بردار ناقہ ہے جس کی نکیل ایک غیبی ساربان کے ہاتھ میں ہے جو اس کو منزل بہ منزل ایک معین بلندی تک چڑھاتا اور پھر وہاں سے اس کو درجہ بدرجہ اسی طرح اتارتا ہے یہاں تک کہ قطع منازل کے اس پر مشقت سفر میں وہ سوکھ کر کانٹا بن کے رہ جاتا ہے۔ قسم کے اسلوب میں یہی حقیقت یوں بھی وارد ہوئی ہے: وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ ۵ لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ (الانشقاق ۸۴: ۱۶-۱۸) ’’شاہد ہے چاند جب وہ کامل ہو جائے کہ تم بھی درجہ بدرجہ چڑھو گے۔‘‘ یہاں قیامت کے لیے جلدی مچانے والوں کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر نشانی کے ظہور کے لیے ایک معین پروگرام اور تدریجی ارتقاء ہوتا ہے۔ قیامت اللہ تعالیٰ کے عدل کا بدیہی مقتضیٰ ہے۔ اس کا ظہور تو لازماً ہو گا لیکن ہو گا اپنے مقررہ وقت پر۔ ان نظائر کی روشنی میں اگر آیت کی توجیہ کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں قرآن نے چاند کے عروج و زوال کی ان دس دس راتوں کا حوالہ دیا ہے جن میں چاند کا تغیر نہایت نمایاں ہوتا ہے اور وہ دن پر دن سابقہ حالت سے مختلف نظر آتا ہے۔ یہ تغیر اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے شئون و حوادث کے ظہور کے لیے ایک تدریج رکھی ہے۔ حاملہ کی بارآوری اور وضع حمل میں ایک متعین مدت صرف ہوتی ہے۔ کفار و مکذبین کے جرائم پر اللہ تعالیٰ فوری گرفت نہیں کرتا بلکہ ان کی رسی دراز کرتا جاتا ہے اور جب یہ مہلت ختم ہوتی ہے جبھی ان پر عذاب آتا ہے۔ اسی طرح بحیثیت مجموعی دنیا بھی قیامت کی منزل کی طرف رواں دواں ہے اور بالتدریج اس کی طرف پہنچے گی اور یہ ٹھیک اس نظام الاوقات کے مطابق ہو گا جو خدا نے اس کے لیے مقرر کر دیا ہے۔
Ayah 89:3

وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ Open ayah 89:3 in the Quran reader

اور جفت و طاق

’جفت‘ اور ’طاق‘ سے مراد: ’وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ‘۔ ’شَفْعٌ‘ کے معنی جفت اور ’وَتْرٌ‘ کے معنی طاق کے ہیں۔ جفت اور طاق سے کیا مراد ہے؟ اس کے جواب میں مفسرین سے اتنے اقوال منقول ہیں کہ ان کا استقصاء مشکل ہے۔ اقوال کی اس کثرت کی وجہ ہمارے نزدیک وہی ہے کہ لوگوں نے نظم کلام اور سیاق و سباق کو پیش نظر رکھنے کے بجائے ساری توجہ صرف اس امر پر مرکوز رکھی کہ کسی مقدس چیز کو ان الفاظ کا مصداق بنائیں۔ حالانکہ اگر نظر شہادت کے پہلو پر ہوتی تو غور کرنے اور صحیح نتیجہ تک پہنچنے کی آسان راہ یہ تھی کہ ان مقامات پر نظر ڈالی جاتی جہاں قرآن نے ہر شے کے جوڑے جوڑے پیدا کیے جانے کا ذکر کیا ہے اور اس سے حکمت کے نہایت اہم حقائق کی طرف توجہ دلائی ہے، مثلاً فرمایا ہے: ’وَمِنْ کُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ‘ (الذاریات ۵۱: ۴۹) (اور ہم نے ہر چیز کے اندر سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم یاددہانی حاصل کرو)۔ ہر جوڑا دو طاقوں سے مل کر تشکیل پاتا ہے جس کے معنی دوسرے لفظوں میں یہ ہوئے کہ ہر چیز ایک پہلو سے طاق ہے اور دوسرے پہلو سے جفت۔ اس امر واقعی کا حوالہ دیتے ہوئے قرآن نے اس کائنات کے متعدد جوڑوں۔۔۔ زمین و آسمان، ظلمت و نور، دھوپ اور چھاؤں، نر اور مادہ۔۔۔ کی طرف توجہ دلائی ہے اور اس سے نہایت اہم نتائج کی، جیسا کہ ’لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ‘ سے اشارہ نکلتا ہے یاددہانی فرمائی ہے، مثلاً اس حقیقت کی یاددہانی کہ جب ہر چیز اپنے وجود کے اندر ایک ایسا خلا رکھتی ہے جو اس جوڑے سے مل کر ہی بھرتا ہے، اس کے بغیر وہ اپنی غایت کو نہیں پہنچتی تو لازماً ایک ایسی کامل الوجود اور ہر نقص سے پاک ہستی ان اجزائے مختلفہ سے بالاتر موجود ہے جس کی حکمت و قدرت ان کے اندر ربط و اتصال اور سازگاری و بہم آمیزی پیدا کرتی اور ان کو باغایت و بامقصد بناتی ہے۔ اس ہستی کا اپنے وجود میں کامل اور ہر نقص سے پاک ہونا لازمی ہے۔ اگر اس میں کوئی کمی ہو گی تو وہ اپنے سے بالاتر کی محتاج بن جائے گی اور یہ سلسلہ کہیں منقطع نہیں ہو گا۔ دوسرے اس حقیقت کی یاددہانی کہ ہماری یہ دنیا بھی بحیثیت مجموعی اپنے وجود کے اندر اسی طرح ایک خلا رکھتی ہے جس طرح اس کے تمام اجزائے مختلفہ اپنے اندر رکھتے ہیں اور یہ خلا اس وقت تک نہیں بھرتا جب تک اس کے ساتھ آخرت کو نہ مانیے۔ اس کو نہ مانیے تو یہ دنیا ایک حکیم کا بنایا ہوا کارخانہ نہیں بلکہ ایک کھلنڈرے کا کھیل اور نہایت ظالمانہ کھیل بن کے رہ جاتی ہے۔ جفت و طاق کا ذکر دس راتوں کے ذکر کے بعد آیا ہے اور دس راتیں ہمارے نزدیک چاند کے عروج و محاق کی ہیں جو اس حقیقت کی شہادت دیتی ہیں کہ ہر چیز کی باگ اللہ وحدہٗ لاشریک کے ہاتھ میں ہے اس لیے کہ بعض مہینوں میں یہ راتیں جفت ہوتی ہیں بعض میں طاق لیکن کسی کے امکان میں نہیں کہ وہ جفت کو طاق یا طاق کو جفت بنا دے خواہ اس کی کتنی ہی تمنا رکھتا ہو۔ عید کے چاند کے لیے لوگ نہ جانے کیا کیا جتن کرتے ہیں کہ انتیس کو نظر آ جائے لیکن وہ تعمیل اپنے رب ہی کے حکم کی کرتا ہے، لوگوں کے جذبۂ شوق اور جوش استقبال کی اسے ذرا پروا نہیں ہوتی۔
Ayah 89:4

وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِۚ Open ayah 89:4 in the Quran reader

اور رات جب وہ چل کھڑی ہو۔

رات کی شہادت: یہ آخر میں رات کی شہادت پیش کی ہے اور اس کے ساتھ ’اِذَا یَسْرِ‘ کی قید ہے۔ یعنی خاص طور پر اس کے اس وقت کی طرف توجہ دلائی ہے جب وہ رخصت ہونے کے لیے چل کھڑی ہوتی ہے اور افق میں فجر کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ اس پر قرآن کے نظائر کی روشنی میں غور کیجیے، تو یہ نہایت اہم حقائق کی یاددہانی کرتی ہے۔ ایک تو اس حقیقت کی یاددہانی کہ اس کائنات کے تمام عناصر مختلفہ خالق کائنات کے ہاتھ میں مسخر ہیں۔ رات آتی ہے تو بظاہر اس کا تسلط ایسا ہمہ گیر ہوتا ہے کہ کسی طرف سے دن کے نمودار ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا لیکن بالآخر اس تاریکی کے اندر سے ایک سفید دھاری مشرق سے نمایاں ہونی شروع ہوتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ رات پر اس طرح چھا جاتی ہے کہ سورج نمودار ہو جاتا ہے اور ظلمت شب کو اپنا بوریا بستر سنبھالنا پڑتا ہے۔ رات کے بس میں یہ نہیں ہے کہ اس کی راہ روک کر کھڑی ہو جائے۔ دوسری یہ کہ رات کے رخصت ہونے اور دن کے جلوہ نما ہونے میں ان لوگوں کے لیے ظہور قیامت کی ایک تمثیل ہے جو قیامت کو بعید از امکان سمجھتے ہیں۔ اس کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے۔ تیسری ان لوگوں کو، جو قیامت کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہیں کہ اگر یہ آنے والی ہے بھی تو ابھی اتنی دور ہے کہ اس کا خوف ذہنوں پر مسلط کر لینا کوئی دانش مندی نہیں، اس حقیقت کی یاددہانی کہ خدا کے ہاں یہ دنیا اپنے انجام کے اسی طرح قریب آ لگی ہے جس طرح سحر کے وقت بس اتنی سی کسر رہ جاتی ہے کہ کب سپیدۂ صبح نمودار ہو اور رات کی گیرائی ختم ہو جائے۔ انسان اس معاملہ کو اپنی محدود نظر سے دیکھتا اور اپنے منٹ سیکنڈ کے پیمانے ناپتا ہے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس دنیا پر جو نہیں معلوم کب سے انسان و حیوان، چرند و پرند سب کو ایک گہوارہ مہیا کیے ہوئے ہے، کوئی ایسی آفت آ سکتی ہے جو اس کے نظام ہی کو تہ و بالا کر کے رکھ دے۔ لیکن خدا کے نظام میں صورت حال بالکل مختلف ہے، وہ قیامت کو دنیا کے پشت پا پر دیکھ رہا ہے۔ اس کے پیمانوں کے لحاظ سے قیامت بس آیا ہی چاہتی ہے۔ اسی حقیقت کو نبی ﷺ نے یوں فرمایا ہے کہ میں اور قیامت ساتھ ساتھ کی دو انگلیوں کی طرح ہیں۔ علاوہ ازیں ’اِذَا یَسْرِ‘ کے الفاظ کے اندر ایک لطیف شہادت بھی ہے کہ کسی آزمائش کو بھی ایسی بلا نہ سمجھو جو کبھی جان چھوڑے گی ہی نہیں، اس دنیا میں جس طرح فجر کا طلوع ہونا اور رات کا آنے کے بعد چلا جانا مشاہدہ کرتے ہو اور دیکھتے ہو کہ قدرت ان میں سے کسی کو بھی اس سے زیادہ ٹکنے کا موقع نہیں دیتی جتنا اس کی دنیا کی مصلحت کے لیے ضروری ہے اسی طرح یُسر اور عُسر، رنج اور راحت کی صورت میں جو آزمائشیں پیش آتی ہیں وہ بھی انسان کی ذہنی و اخلاقی تربیت کے لیے پیش آتی ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو بس اتنی ہی دیر کے لیے مہلت دیتا ہے جتنی بندے کی تربیت کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ انسان کو ان میں سے نہ کسی سے مایوس ہونا چاہیے نہ مفرور، بلکہ ان کا مواجہہ صبر اور شکر کے ساتھ کرنا چاہیے اور یہ امید رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر آزمائش میں اس کے لیے خبر مضمر ہے۔ آیات ۱ تا ۴ پر مزید غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ’وَالْفَجْرِ‘ اور ’وَاللَّیْلِ إِذَا یَسْرِ‘ کی دونوں قَسمیں دو متقابل چیزوں کی ہیں اور بیچ کی دو قَسموں۔۔۔ ’وَلَیَالٍ عَشْرٍ‘ اور ’وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ‘۔۔۔ کا تعلق ان دو متقابل چیزوں کے درمیان کی دو عظیم نشانیوں سے ہے جو اس دعوے پر دلیل ہیں جس کی طرف ہم نے آغاز فصل میں اشارہ کیا ہے۔ چونکہ ان آیات میں بنیادی حیثیت پہلی اور آخری دو قَسموں کو حاصل ہے، باقی دو قسموں کی حیثیت ان کے توابع کی ہے، اس لیے بحث کی تکمیل کے لیے ہم ان دعاوی کی یاددہانی بھی ضروری سمجھتے ہیں جن پر قرآن نے رات اور دن، صبح اور شام، تاریکی اور روشنی کے تضادات سے استدلال کیا ہے۔ اضداد کی شہادت:۔۔۔ ان اضداد سے پہلی دلیل تو قرآن نے توحید پر قائم کی ہے اور جگہ جگہ یہ دکھایا ہے کہ یوں بظاہر تو یہ دنیا اپنے ہر گوشے میں اضداد کی ایک رزم گاہ ہے جس کا فطری نتیجہ یہ نکلنا تھا کہ یہ وجود میں آ ہی نہیں سکتی اور آ بھی جاتی تو فوراً درہم برہم ہو جاتی لیکن تدبر و تفکر کی نظر سے دیکھیے تو یہ حقیقت بالکل روشن ہے کہ ان اضداد کے اندر باہم دگر نہایت گہری موافقت و سازگاری ہے۔ اسی کا یہ کرشمہ ہے کہ اس کے متضاد عناصر باہمی تفاعل و تعاون سے نہایت صالح نتائج پیدا کرتے ہیں جو اس کے قیام و بقا کا ذریعہ ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان اضداد میں یہ توافق کون پیدا کرتا ہے؟ اس کا واحد صحیح جواب یہی ہو سکتا ہے کہ ایک علیم و خبیر، حکیم و بصیر اور قوی و مقتدر ہستی ان اضداد سے بالاتر ہے جو ان کو باہم دگر جوڑتی، ایک حکیمانہ تناسب سے ان میں باہم تالیف و امتزاج پیدا کرتی اور پھر ان سے وہ صالح نتائج وجود میں لاتی ہے جو اس دنیا کے قیام و بقا کا ذریعہ ہیں۔ اور لازماً وہ ایک ہی ہے اس لیے کہ اگر دوسرے ارادے بھی اس کی مزاحمت کرنے والے موجود ہوتے تو یہ دنیا تباہ ہو جاتی۔ ’لَوْ کَانَ فِیْہِمَا آلِہَۃٌ إِلَّا اللہُ لَفَسَدَتَا‘ (الانبیآء ۲۱: ۲۲)۔ ۔۔۔ دوسری دلیل اس سے قرآن نے قیامت پر قائم فرمائی ہے۔ مختصر الفاظ میں وہ یوں ہے کہ اس دنیا میں اس کے خالق نے ہر چیز جوڑے جوڑے پیدا کی ہے اور ہر چیز اپنے جوڑے سے مل کر ہی اپنی غایت کو پہنچتی ہے۔ بغیر اس کے کہ نہ وہ اپنی غایت کو پہنچتی اور نہ اس کے بدون اس کے وجود کی کوئی معقول توجیہ ہو سکتی بلکہ اس کے اندر ایسا خلا محسوس ہوتا ہے کہ ایک عاقل مجبور ہو جاتا ہے کہ اس پر وہ ایک کارعبث ہونے کا حکم لگائے۔ غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ یہی حکم اس دنیا پر بھی لگ سکتا ہے اگر اس کے ساتھ آخرت کو نہ ملائیے کیونکہ اس کے اندر ایک ایسا خلا رہ جاتا ہے جو آخرت کو مانے بغیر کسی طرح بھی نہیں بھرتا۔ اس میں نیکی اور بدی، عدل اور ظلم میں ہر وقت جو کشمکش برپا ہے اس کا فطری مطالبہ یہ ہے کہ اس کے لیے ایک ایسا روز انصاف آئے جس میں اس کا خالق پورے اقتدار، کامل علم اور کامل عدل کے ساتھ لوگوں کا محاسبہ کرے، پھر اپنے اچھے بندوں کو صلہ دے اور وہ لوگ اپنے کیفر کردار کو پہنچیں جنھوں نے اس کی دنیا میں دھاندلی مچائی۔ اگر اس کے بغیر یہ دنیا یوں ہی چلتی رہے، ایک دن یوں ہی ختم ہو جائے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کے خالق کے نزدیک خیر اور شر، نیک اور بد دونوں یکساں ہیں اور اس کا پیدا کیا جانا کوئی حکیمانہ فعل نہیں بلکہ ایک کارعبث اور کسی کھلنڈرے کا کھیل ہے۔ چنانچہ اسی بنا پر قیامت کے جھٹلانے والوں کے سامنے یہ سوال رکھا گیا ہے کہ ’أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَ ۵ مَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُوۡنَ‘ (القلم ۶۸: ۳۵-۳۶) (کیا ہم اپنے اطاعت شعار بندوں اور مجرموں کو یکساں کر دیں گے، تم کو کیا ہو گیا ہے، کیسے بے عقلی کے فیصلے کرتے ہو!) اس مسئلہ پر سورہ مدثر کی آیات قسم کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ ۔۔۔ تیسری حقیقت اس سے اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمائی ہے کہ جس طرح انسان کے مادی وجود کی بقا کے لیے دن کی روشنی اور حرارت بھی ضروری ہے اور رات کی خنکی اور تاریکی بھی، اسی طرح اس کی اخلاقی و روحانی تربیت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ یُسر و عُسر، تنگی و فراخی، صحت اور مرض کی آزمائشوں سے گزارا جائے تاکہ اس کے صبر و شکر کی تربیت ہو اور وہ ’رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً‘ کا مقام حاصل کرنے کا اہل بنے۔ قرآن میں یہ حکمت جگہ جگہ بیان ہوئی ہے۔ آگے اس سورہ میں بھی اس کی وضاحت آ رہی ہے اور خدا نے چاہا تو ہم سورۂ ضحیٰ میں ’وَالضُّحٰی ۵ وَاللَّیْلِ إِذَا سَجٰی‘ (۲-۱) کے تحت بھی اس مسئلہ پر بحث کریں گے۔ ۔۔۔ چوتھی حقیقت ان سے یہ واضح فرمائی گئی ہے کہ ان اضداد میں سے کسی کو بھی خدا نے بگٹٹ نہیں چھوڑا ہے بلکہ ہر ایک کی باگ اس کے ہاتھ میں ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی اپنے حدود سے سرمو تجاوز کر سکے۔ وہ خود اپنے وجود سے شہادت دیتے ہیں کہ وہ آزاد نہیں بلکہ خلق کے ہاتھ میں مسخر ہیں۔ رات آتی ہے تو یہ نہیں ہوتا کہ وہ ہمیشہ کے لیے ڈیرے ڈال دے اور خلق کو دن کی روشنی اور آفتاب کی حرارت سے محروم رکھے بلکہ ایک مقررہ وقت کے اندر، منٹ اور سیکنڈ کی پابندی کے ساتھ لازماً اسے اپنے ڈیرے اٹھانے اور دن کی روشنی کے لیے جگہ خالی کرنی پڑتی ہے۔ اسی طرح سورج طلوع ہوتا ہے تو اسے بھی لازماً متعین گھنٹوں کے بعد افق سے غائب ہونا پڑتا ہے، وہ یہ نہیں کر سکتا کہ ہمیشہ کے لیے ہمارے سروں پر مسلط ہو جائے، شب کی خنکی اور اس کے سکون سے ہمیں محروم کر دے۔ یہ مشاہدہ ہر شخص کرتا ہے اور یہ بدیہی شہادت ہے اس بات کی کہ اس کائنات کی ہر چیز خدا کے کنٹرول میں ہے، وہی اس کو کھولتا بھی ہے اور وہی باندھتا بھی ہے۔ اس سے یہ بدیہی نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ کسی کو بھی، خواہ وہ کتنا ہی زور و اثر رکھنے والا ہو، خدا کی ڈھیل سے اس گھمنڈ میں نہیں پڑنا چاہیے کہ وہ اس کی گرفت سے باہر ہے۔ جب سورج اور چاند، رات اور دن اس کے کنٹرول سے باہر نہیں تو انسان کی کیا حقیقت ہے کہ وہ اپنے کو اس کے حیطۂ اقتدار سے باہر سمجھے۔ یہ مضمون قرآن مجید میں مختلف اسلوبوں سے بیان ہوا ہے۔ سورۂ قصص میں اس کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے: قُلْ أَرَءَ یْتُمْ اِنۡ جَعَلَ اللہُ عَلَیْْکُمُ اللَّیْلَ سَرْمَدًا إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ مَنْ إِلٰہٌ غَیْرُ اللہِ یَأْتِیْکُم بِضِیَآءٍ أَفَلَا تَسْمَعُوْنَ ۵ قُلْ أَرَءَ یْتُمْ اِنۡ جَعَلَ اللہُ عَلَیْکُمُ النَّہَارَ سَرْمَدًا إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ مَنْ إِلٰہٌ غَیْرُ اللہِ یَأْتِیْکُم بِلَیْْلٍ (القصص ۲۸: ۷۱-۷۲) ’’کہہ دو، بتاؤ اگر اللہ تم پر قیامت تک برابر رات ہی مسلط کیے رکھے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمہارے لیے ذرا سی روشنی لا سکے! تو کیا تم سنتے نہیں!! پوچھو، اگر اللہ تمہارے اوپر دن کو برابر قیامت تک کے لیے مسلط کر دے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمہارے لیے ایک ہی رات لا سکے۔‘‘ اس سورہ کی قَسموں میں، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، یہ پہلو زیادہ نمایاں ہے اس وجہ سے اس کو خاص طور پر نگاہ میں رکھیے۔
Ayah 89:5

هَلْ فِیْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍؕ Open ayah 89:5 in the Quran reader

کیوں ان میں تو ہے ایک عاقل کے لیے عظیم شہادت)

انسان کے ذی عقل ہونے کا فطری تقاضا: ’حِجْرٌ‘ کے معنی عقل کے ہیں۔ لفظ ’حجر‘ اور ’عقل‘ دونوں کا لغوی مفہوم قریب قریب ایک ہی ہے۔ ان دونوں ہی کے اندر روکنے اور باندھنے کے معنی پائے جاتے ہیں۔ عقل انسان کو ان چیزوں سے باز رکھنے کے لیے ایک باطنی لگام ہے جو اس کے شایان شان نہیں ہیں اس وجہ سے اس کو ’حجر‘ سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ اس آیت کا استفہامیہ اسلوب اپنے اندر زجر و ملامت کا مفہوم بھی رکھتا ہے اور اتمام حجت کا بھی۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو جب اللہ تعالیٰ نے عقل جیسی نعمت عطا فرمائی ہے تو اس کے شایان شان بات یہ ہے کہ وہ ان نشانیوں سے سبق حاصل کرے جو اس کے گرد و پیش پھیلی ہوئی زبان حال سے اصلی راہ اور منزل کی نشان دہی کر رہی ہیں نہ کہ اس بات پر ضد کرے کہ جب وہ منزل سامنے آ جائے گی تب وہ مانے گا کہ بے شک جن لوگوں نے اس سے خبردار کیا تھا انھوں نے سچ کہا تھا۔ اس وقت مانا بھی تو حسرت کے سوا اس کو اس سے کیا فائدہ پہنچے گا! یہ مضمون اسی سورہ کی آیات ۲۳-۲۴ میں آگے آ رہا ہے، وہاں، ان شاء اللہ، اس کی وضاحت ہو گی۔ اتمام حجت کا پہلو یہ ہے کہ نشانیاں تو بے شمار ہیں جن کی طرف ان کو توجہ دلائی جا چکی ہے لیکن ان میں سے کوئی نشانی بھی ان کو قائل کرنے والی نہ بنی۔ اب یہ وہ نشانیاں ان کے سامنے رکھی گئی ہیں جو سب سے زیادہ واضح اور قریب ہیں اور اہل عقل کے لیے ان کے اندر بہت بڑی شہادت موجود ہے۔ لیکن یہ ہٹ دھرم ان سے بھی فائدہ اٹھانے والے نہیں ہیں۔
Ayah 89:6

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ۙ Open ayah 89:6 in the Quran reader

دیکھا نہیں، کیا کیا تیرے خداوند نے عاد کے ساتھ !

تاریخ کی شہادت: اوپر کی آفاقی نشانیوں کی شہادت کے بعد یہ قوموں کی تاریخ کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس کی شہادت بھی یہی ہے کہ اس دنیا کا خالق اس میں ابھرنے والی قوموں کے رویہ سے بے تعلق نہیں رہتا بلکہ وہ برابر گھات لگائے ان کی نگرانی کرتا رہتا ہے۔ جب وہ بے راہ ہوتی ہیں تو وہ اپنی حکمت کے تحت ایک خاص مدت تک ان کو مہلت تو ضرور دیتا ہے تاکہ وہ اپنی اصلاح کر لیں، اگر اصلاح کرنی چاہیں ورنہ اپنا پیمانہ بھر لیں۔ پھر وہ ان کو پکڑتا ہے اور اس طرح پکڑتا ہے کہ ان کی ہستی ہی مٹا کر رکھ دیتا ہے۔ قوموں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ اس بات کی صاف شہادت ہے کہ اس مجموعی دنیا کے لیے بھی ایک روز حساب آئے گا جس میں ایک ایک فرد اپنی انفرادی حیثیت میں اپنے اعمال کے لیے جواب دہ ہو گا۔ پھر جو انعام کے مستحق ہوں گے وہ بھرپور انعام پائیں گے اور جو سزا کے مستحق ٹھہریں گے وہ اپنے کیے کی سزا بھگتیں گے۔ ’عاد‘ کا ذکر پچھلی سورتوں میں، بار بار مختلف پہلوؤں سے گزر چکا ہے، یہاں ان کا ذکر ’اِرَم‘ کی نسبت کے ساتھ ہوا ہے۔ ’اِرَم‘ ان کے ان اجداد میں سے ہیں جن سے ان کی عسکری اور تعمیری ترقیوں کا آغاز ہوا۔ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ سامی نسل کی اس شاخ سے تعلق رکھتے ہیں جو اِرَم بن سام بن نوحؑ سے چلی۔
Ayah 89:7

اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۪ۙ Open ayah 89:7 in the Quran reader

ستونوں والے ارم کے ساتھ

’عِمَادٌ‘ اونچنے ستونوں کو کہتے ہیں۔ یہ ان کی تعمیری ترقیوں کی تعبیر کے لیے اسی طرح کا کنایہ ہے جس طرح سورۂ سبا میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے جود و کرم کی تعبیر ’جِفَانٍ کَالْجَوَابِ وَقُدُوۡرٍ رَّاسِیَاتٍ‘؂۱ (سبا ۳۴: ۱۳) کے الفاظ سے کی گئی ہے۔ قوم عاد نے سنگ تراشی کے آرٹ میں بہت ترقی کی۔ پہاڑوں کو ترشوا کر ان کے اندر انھوں نے نہایت خوبصورت ایوان و محل بنوائے۔ ان کے امراء کا خاص ذوق یہ تھا کہ ہر اونچی جگہ پر ان کی کوئی یادگار تعمیر ہو جائے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پیغمبر، حضرت ہود علیہ السلام نے ان کے اس مسرفانہ اور نمائش پسندانہ شوق تعمیر پر ان کو ملامت بھی فرمائی۔ _____ ؂۱ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس حوضوں کے مانند لگن اور لنگر انداز رہنے والی دیگوں کا ذکر ان کی فیاضی اور غرباء پروری کی شہادت کے طور پر ہوا ہے۔
Ayah 89:8

الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:8 in the Quran reader

جن کا ثانی نہ ہوا ملکوں میں

’اَلَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُہَا فِی الْبِلَادِ‘۔ تعمیری ترقیوں کے ساتھ ساتھ یہ لوگ اپنے قد و قامت اور زور و قوت کے لحاظ سے بھی نہایت نمایاں تھے۔ ان سے پہلے یا ان کی معاصر قوموں میں سے کوئی قوم ان کی برابری نہ کر سکی۔
Ayah 89:9

وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ۪ۙ Open ayah 89:9 in the Quran reader

اور ثمود کے ساتھ جنہوں نے وادی میں پتھر تراشے

عاد کے بعد یہ بالاجمال ثمود کی طرف بھی اشارہ فرما دیا۔ یہ لوگ عاد ہی کے بقایا میں سے تھے اور تعمیر و تمدن کے شوق میں ان کے وارث ہوئے۔ چنانچہ ان کو عاد ثانیہ بھی کہا گیا ہے۔ ’واد القرٰی‘ ان کا مسکن تھی۔ اس کے پہاڑوں میں انھوں نے اپنے اسلاف کے طریقہ پر پہاڑوں کو تراش تراش کر اپنے لیے گھر بنائے جس کی طرف ’جَابُوا الصَّخْرَ‘ کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں۔
Ayah 89:10

وَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ۪ۙ Open ayah 89:10 in the Quran reader

اور فرعون میخوں والے کے ساتھ !

اقوام بائدہ کی تباہی کے بعد یہ فرعون اور اس کی فوجوں کی تباہی کی طرف توجہ دلائی۔ ’ذِی الْأَوْتَادِ‘ کے لفظی معنی تو میخوں والے کے ہیں لیکن یہاں ’اوتاد‘ بطریق کنایہ فرعون کی فوجوں کی تعبیر کے لیے آیا ہے۔ فوجیں بالعموم خیموں میں رہتی ہیں اور خیمے میخوں سے نصب کیے جاتے ہیں اس وجہ سے عربی میں یہ تعبیر معروف ہے۔ فرعون کی فوجوں کی کثرت کا ذکر تورات میں بھی ہے اور قرآن میں بھی جگہ جگہ مثلاً۔۔۔ یونس، طٰہٰ، القصص اور الذاریات۔۔۔ میں آیا ہے۔ قدیم زمانے میں مستقل فوجیں رکھنے کا رواج نہیں تھا۔ حملہ یا دفاع کی ضرورت کے لیے قبیلوں اور خاندانوں کے نوجوان بالکل وقت کے وقت اپنی خدمات پیش کرتے اور ضرورت پوری ہو جانے کے بعد منتشر ہو جاتے لیکن فرعون نے، تورات سے معلوم ہوتا ہے، ملک کی حفاظت کے لیے مستقل فوج قائم کی جو مملکت کے مختلف حصوں میں برابر، اپنے ڈیروں خیموں کے ساتھ گشت کرتی رہتی۔ اس نے اپنے نوابوں اور امراء پر بھی یہ پابندی عائد کر رکھی تھی کہ ایک خاص تعداد میں اسلحہ، گھوڑے اور رتھ تیار رکھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر حکومت کی مؤثر خدمت کر سکیں۔ اسی خصوصی امتیاز کی بنا پر فرعون کو ’ذُو الْأَوْتَادِ‘ کہا گیا۔
Ayah 89:11

الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:11 in the Quran reader

انہوں نے ملکوں میں سر اٹھائے

قوموں کا طغیان: یہ ان قوموں کے اس رویہ کی طرف اشارہ ہے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی حکومت اور اس کے عطا کیے ہوئے وسائل و ذرائع کو پا کر اپنے اپنے ملکوں میں اختیار کیا۔ فرمایا کہ انھوں نے طغیان کی روش اختیار کر لی۔ یعنی وہ خدا سے بالکل بے نیاز و بے خوف ہو کر اس گھمنڈ میں مبتلا ہو گئیں کہ انھیں جو کچھ حاصل ہے یہ ان کی اپنی ذاتی قابلیت و کارکردگی کا کرشمہ ہے جس میں وہ ہر قسم کے تصرف کی مجاز ہیں۔ مال و جاہ نہ ان کو کسی کا بخشا ہوا ملا ہے، نہ اس کو کوئی ان سے چھین سکتا اور نہ اس کے باب میں وہ کسی کے آگے مسؤل ہیں۔
Ayah 89:12

فَاَكْثَرُوْا فِیْهَا الْفَسَادَ۪ۙ Open ayah 89:12 in the Quran reader

اور ان میں بڑی اودھم مچائی

’فَأَکْثَرُوۡا فِیْہَا الْفَسَادَ‘۔ یہ مذکورہ بالا طغیان کا نتیجہ بیان ہوا ہے کہ اس گھمنڈ میں مبتلا ہو جانے کے بعد ان کے قدم زندگی کی صراط مستقیم سے ہٹ گئے۔ انھوں نے اپنی باگ نفس اور شیطان کے ہاتھ میں پکڑا دی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کے ہر شعبہ میں فساد پھیل گیا۔
Ayah 89:13

فَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍۚۙ Open ayah 89:13 in the Quran reader

تو تیرے خداوند نے ان پر عذاب کے کوڑے برسائے۔

قوموں کے باب میں سنت الٰہی: ’فَصَبَّ عَلَیْْہِمْ رَبُّکَ سَوْطَ عَذَابٍ‘۔ یہ اس فساد کے غلبہ کا انجام بیان ہوا ہے کہ جب ان کے ہر شعبۂ زندگی میں فساد سرایت کر گیا تو اس کا قدرتی انجام ان کے سامنے اس شکل میں آیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب کے کوڑے برسا دیے۔ یہ عذاب جن جن شکلوں میں آیا اس کی تفصیل پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ جب کسی قوم کو اپنی زمین میں اقتدار و اختیار بخشتا ہے تو اس کو شتر بے مہار کی طرح چھوڑ نہیں دیا کرتا بلکہ وہ اس کی نگرانی کرتا رہتا ہے کہ وہ اس اقتدار کو کس طرح استعمال کرتی ہے۔ اگر وہ اس کو خدا کے مقرر کیے ہوئے حدود کے اندر استعمال کرتی ہے تو اس کو اس سے بہرہ مند ہونے کی سعادت حاصل ہوتی ہے اور اگر وہ طغیان میں مبتلا ہو کر خدا کے حدود سے باہر نکل جاتی ہے تو اس کو اصلاح یا اتمام حجت کے لیے ایک خاص حد تک مہلت ملتی ہے۔ اگر اس مہلت سے وہ فائدہ نہیں اٹھاتی بلکہ اس کا طغیان و فساد بڑھتا ہی جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو فنا کر دیتا ہے۔ اس لیے کہ اس کا وجود نہ خود اس کے لیے نافع رہ جاتا نہ دوسروں کے لیے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ بالکل اٹل ہوتا ہے۔ جب یہ صادر ہو جاتا ہے تو کوئی قوم، خواہ وہ کتنے ہی وسائل و ذرائع کی مالک ہو، نہ اس کی راہ روک سکتی نہ اس کا رخ ہی بدل سکتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کتنی ہی قوموں کو ان کے دور عروج میں پکڑا اور پکڑ کر اس طرح مسل دیا کہ ان کا نام و نشان ہی صفحۂ دہر سے مٹ گیا۔
Ayah 89:14

اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ Open ayah 89:14 in the Quran reader

بیشک تیرا خداوند گھات میں رہتا ہے۔

خلاصۂ بحث: یہ ان تمام قَسموں کا جو سورہ کی تمہید میں آئی ہیں اور ان تاریخی سرگزشتوں کا جن کی طرف اوپر اشارہ فرمایا ہے، خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے۔ گویا موقع و محل اور مدعا کے اعتبار سے اس آیت کو سورہ میں مقسم علیہ کی حیثیت حاصل ہے جس کی تائید آفاق کے آثار بھی کر رہے ہیں اور تاریخ کے واقعات بھی۔ ’مِرْصَادٌ‘ گھات لگانے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آفاق اور تاریخ دونوں کے شواہد اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ کائنات کا خالق اس کو پیدا کر کے اس سے الگ تھلگ نہیں جا بیٹھا ہے بلکہ اس کی نگاہ ایک ایک چیز کی نگرانی کر رہی ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی چیز اس سے اوجھل ہو سکے۔ ہر چیز کی باگ اس کے ہاتھ میں ہے۔ اگر کوئی قوم طغیان کی روش اختیار کرتی ہے تو وہ اس کو مہلت تو ضرور دیتا ہے لیکن اس کی ایک خاص حد تک مقرر ہوتی ہے جس کو لانگنے کی اجازت وہ نہیں دیتا۔ کوئی قوم اگر اس کو لانگنے کی جسارت کرتی ہے تو وہ فوراً اس کو دھر لیتا ہے اور پھر کسی کی طاقت نہیں ہے کہ اس کی گرفت سے چھوٹ سکے۔ یہ صورت حال اس امر کی نہایت واضح دلیل ہے کہ یہ دنیا کسی کھلنڈرے کا کھیل نہیں ہے بلکہ ایک حکیم و قدیر کا بنایا ہوا، ایک بامقصد و باغایت کارخانہ ہے۔ اس کی ایک ایک چیز کے ساتھ اس کے خالق کو جو تعلق ہے اور اس کے اندر قوموں کے عزل و نصب کا جو ضابطہ اس نے جاری کر رکھا ہے وہ اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ اس کے ساتھ ایک روز جزا و سزا ہے جو لازماً ظہور میں آئے گا اور اس دن ہر شخص جس نے اپنی زندگی اپنے رب کے احکام کے تحت گزاری اپنے رب کی خوشنودی سے نوازا جائے گا اور جس نے اس کو ایک بازیچۂ اطفال سمجھ کر اس میں فساد مچایا وہ اپنے کیے کی سزا بھگتے گا۔
Ayahs 89:15–16

فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِؕ Open ayah 89:15 in the Quran reader

لیکن انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا خداوند اس کا امتحان کرتا اور اس کو عزت و نعمت بخشتا ہے تو وہ خیال کرتا ہے کہ میرے رب نے میری شان بڑھائی ہے

وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِۚ Open ayah 89:16 in the Quran reader

اور جب اس کو جانچتا اور رزق میں کمی کرتا ہے تو کہتا ہے کہ میر خداوند نے مجھے ذلیل کر ڈالا۔

انسان کا ایک مغالطہ: یہ اس مغالطہ سے پردہ اٹھایا جس میں مبتلا ہونے والے نعمت پا کر طغیان و فساد کی راہ اختیار کر لیتے ہیں اور جو نعمت سے محروم رہتے ہیں وہ یاس و نا امیدی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ مغالطہ یہ ہے کہ اس دنیا میں جس کو نعمت کی فراخی حاصل ہوتی ہے وہ یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں بڑی قدر و قیمت والا ہے اس وجہ سے اس نے اس کی شان بڑھا رکھی ہے۔ اس کے برعکس جو تنگئ رزق میں مبتلا ہوتا ہے وہ گمان کرتا ہے کہ خدا کی نظروں میں اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے اس وجہ سے اس نے اس کو ذلتیں جھیلنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ اس مغالطہ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پہلا فخر و غرور میں مبتلا ہو کر طغیان و فساد کی راہ پر چل پڑتا ہے اور دوسرا مایوسی و نامرادی کا شکار ہو کر یا تو صحیح زندگی بسر کرنے کا حوصلہ ہی کھو بیٹھتا ہے یا قسمت آزمائی کی ایسی راہیں اختیار کر لیتا ہے جو اس کو خدا سے نہایت ہی دور لے جا پھینکتی ہیں اور وہ بالکل شیطان کے ہتھے چڑھ جاتا ہے۔ حالانکہ اس دنیا میں انسان کی تنگی کی حالت پیش آئے یا فراخی کی، جو حالت بھی پیش آتی ہے، نہ اس کی سرفرازی کی خاطر پیش آئی نہ اس کی تذلیل و توہین کے لیے، بلکہ یہ دونوں ہی بطور امتحان پیش آتی ہیں۔ کسی کو اللہ فراخی بخشتا ہے تو اس سے مقصود اس کے شکر کو جانچنا ہوتا ہے کہ دیکھے وہ نعمتیں پا کر مغرور و متکبر اور دوسروں کو حقیر خیال کرنے والا بن جاتا ہے یا اپنے رب کا شکرگزار، فرماں بردار اور اس کے بندوں کا خدمت گزار بن کے زندگی بسر کرتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی کا رزق تنگ کر دیتا ہے تو اس سے مقصود اس کے صبر کا امتحان ہوتا ہے کہ دیکھے وہ اپنے رب کے فیصلہ پر قانع و مطمئن، حالات کے مقابلہ کے لیے مضبوط و استوار اور اپنے کردار میں پختہ و پائدار ثابت ہوتا ہے یا حوصلہ ہار کر بیٹھ جاتا ہے۔ انسان کے صبر و شکر کی پختگی ہی پر اس کے تمام دین کی پختگی کا انحصار ہے۔ اس وجہ سے ان دونوں چیزوں کا امتحان برابر ہوتا رہتا ہے جس نے اپنے اندر یہ دونوں صفتیں پیدا کر لیں تو اس کو نفس مطمئنہ کی دولت گراں مایہ حاصل ہو گئی اور آگے آپ دیکھیں گے کہ اسی کو اللہ تعالیٰ کے ہاں ’رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً‘ کی بادشاہی حاصل ہو گی۔
Ayah 89:17

كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 89:17 in the Quran reader

ہر گز نہیں، بلکہ تم یتیموں کی قدر نہیں کرتے

مغالطہ کا ازالہ: اوپر بات اصولی رنگ میں فرمائی ہے لیکن ان آیات میں مکہ اور طائف کے مال داروں کو براہ راست خطاب کر کے تنبیہ کی گئی ہے کہ تمہارا یہ گمان بالکل بے بنیاد ہے کہ جس کو مال کی فراوانی حاصل ہوتی ہے یہ اس کی عزت افزائی کی دلیل ہے۔ یہ عزت افزائی کے لیے نہیں بلکہ امتحان کے لیے ہوتی ہے کہ وہ خدا کی بخشی ہوئی نعمت پا کر اپنی عزت کے پندار میں مبتلا ہو جاتا ہے یا اس کو یتیموں، مسکینوں کی خدمت اور ان کے اکرام و تواضع کا ذریعہ بناتا ہے۔ یہ محض تمہاری سفاہت ہے کہ تم خدا کے فضل و احسان کا بالکل الٹا مفہوم لیتے ہو۔ ہونا تو یہ تھا کہ تم اپنے رب کے شکر گزار بنتے، یتیموں اور مسکینوں کی خدمت خود بھی کرتے اور دوسروں کو بھی اس پر ابھارتے لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ تم اپنی عزت کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر یتیموں کو حقیر سمجھتے اور مسکینوں کی مدد سے جی چراتے ہو۔ سوسائٹی میں یتیموں کا مقام: یتیموں کے لیے یہاں لفظ ’اکرام‘ استعمال ہوا ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مطلوب صرف یہ نہیں ہے کہ کسی نہ کسی شکل میں مال دار لوگ ان کی کچھ مدد کر دیا کریں بلکہ اصل مطلوب یہ ہے کہ سوسائٹی میں ان کو عزت کا مقام حاصل ہو۔ وہ دھکے کھاتے نہ پھریں بلکہ جہاں بھی جائیں لوگ ان کو احترام سے دیکھیں اور یہ عقیدہ رکھیں کہ خدا نے ان کو جو مال عطا فرمایا ہے اس کی کوئی وقعت خدا کے ہاں ہے تو اسی شکل میں ہے جب یتیموں کی خدمت کر کے ان کا مال اپنے لیے شرف کا مقام پیدا کرے۔ ورنہ وہ شرف کا ذریعہ نہیں بلکہ وبال اور رسوائی ہے۔
Ayah 89:18

وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِۙ Open ayah 89:18 in the Quran reader

اور نہ مسکینوں کو کھلانے پر ایک دوسرے کو ابھارتے

’تَحٰٓضُّوْنَ‘ کے معنی ایک دوسرے کو کسی کام پر ابھارنے اور اکسانے کے ہیں۔ یعنی مسکینوں کے معاملے میں عنداللہ مطلوب صرف یہ نہیں ہے کہ لوگ ان کے آگے کچھ نوالے پھینک دیں بلکہ سوسائٹی کے اندر ان کی خدمت کے لیے یہ سرگرمی ہونی چاہیے کہ ہر صاحب مقتدر خود بھی ان کی خدمت کرے اور دوسروں کو بھی ابھارے۔ یہ نہ ہو کہ خود دے اور نہ دوسروں کو کچھ دینے دے تاکہ اس کی بخیلی پر پردہ پڑا رہے۔ لفظ ’طعام‘ یہاں محدود معنوں میں نہیں بلکہ وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے اور اس معنی میں اس کا استعمال معروف ہے۔ مقصود ان کی ضروریات کا اہتمام ہے۔
Ayah 89:19

وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ Open ayah 89:19 in the Quran reader

اور وراثت کو سمیٹ کر ہڑپ کرتے ہو۔

عرب جاہلیت میں زور آور عصبات کا کردار: ’وَتَأْکُلُوۡنَ التُّرَاثَ أَکْلاً لَّمًّا‘۔ ’لَمٌّ‘ کے معنی جمع کرنے اور سمیٹنے کے ہیں اور ’تَأْکُلُوۡنَ‘ یہاں ہڑپ کر جانے کے معنی میں ہے۔ یعنی مال کی محبت میں تم اس قدر اندھے ہو گئے ہو کہ تمہارے اندر جو زور آور عصبات ہیں ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مورث کی چھوڑی ہوئی املاک و جائداد سب سمیٹ کر وہ تنہا ہڑپ کر جائیں، دوسرے کمزور وارثوں، یہاں تک کہ مورث کے یتیم بیٹوں بیٹیوں کو بھی اس میں سے حصہ نہ ملے۔ عرب جاہلیت میں بھی اگرچہ تقسیم وراثت کا ایک ضابطہ تھا لیکن جس طرح اس زمانے میں اسلام کے نہایت واضح ضابطہ کے باوجود زور و اثر رکھنے والے افراد دھاندلی سے باز نہیں آتے بلکہ کھلم کھلا کمزور وارثوں کی حق تلفی کرتے ہیں اسی طرح اس زمانے میں بھی زور آور لوگوں نے ایک من مانا ضابطہ بنا لیا تھا جس میں سارا حق اس کا تھا جو قوی ہو، کمزوروں کے لیے اس میں کوئی گنجائش نہیں تھی۔
Ayah 89:20

وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ Open ayah 89:20 in the Quran reader

اور مال کے عشق میں متوالے ہو۔

’وَتُحِبُّوۡنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا‘۔ اس گھنونے کردار کی تہہ میں جو چیز چھپی ہوئی ہے یہ اس کا سراغ دیا ہے۔ فرمایا کہ تمہارے اندر ساری قدر و قیمت بس مال کی رہ گئی ہے۔ اس کے علاوہ انسانیت، شرافت، عدل اور رحم کے جتنے اقدار بھی ہیں وہ سب اس کے نیچے دب کر دم توڑ چکے ہیں۔ مال کی محبت تمہارے دلوں پر اس طرح چھا گئی ہے کہ اب کسی اور اعلیٰ قدر کی اس کے اندر راہ پانے کی کوئی گنجائش باقی ہی نہیں رہ گئی ہے۔
Ayah 89:21

كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ Open ayah 89:21 in the Quran reader

ہر گز نہیں، اس وقت کو یاد رکھیں جب زمین کوٹ کوٹ کر برابر کردی جائے گی

مال کے پرستاروں کو تنبیہ: یہ مال کے پرستاروں کو اس دن کی یاددہانی کی گئی ہے جب وہ چیتیں گے اور حسرت کریں گے کہ کاش، انھوں نے اپنے مال کو اس دن کی تیاریوں میں صرف کیا ہوتا لیکن اس وقت کا چیتنا بالکل بے سود ہو گا۔ وہ وقت چیتنے کا نہیں بلکہ نتائج اعمال کے بھگتنے کا ہو گا۔ ’کَلَّا إِذَا دُکَّتِ الْأَرْضُ دَکًّا دَکًّا‘۔ ’کَلَّا‘ یہاں ان کے اس زعم کی تردید کے لیے ہے جو اوپر مذکور ہوا کہ جس کو مال ملتا ہے وہ اس خبط میں پڑ جاتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی سرفرازی اور عزت افزائی ہوئی ہے حالانکہ اس دنیا کی کوئی چیز بھی کسی کو ملتی ہے تو سرفرازی کے لیے نہیں بلکہ صرف امتحان کے لیے ملتی ہے۔ ایک دن آئے گا کہ ہر چیز نیست و نابود کر دی جائے گی اور انسان کو صرف اپنے نتائج اعمال سے سابقہ پیش آئے گا۔ ’دَکَ الْأَرْضَ‘ کے معنی ہیں ’سَوّٰی صَعُوْدَھَا وَھَبُوْطَھَا‘ زمین کی ہر چیز کو توڑ پھوڑ کر اس کے تمام نشیب و فراز اور اونچ نیچ برابر کر دیے۔ قیامت کے دن زمین کا جو حال ہو گا اس کی تصویر سورۂ کہف میں یوں کھینچی گئی ہے: إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْأَرْضِ زِیْنَۃً لَّہَا لِنَبْلُوَہُمْ أَیُّہُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً ۵ وَإِنَّا لَجَاعِلُوۡنَ مَا عَلَیْہَا صَعِیْدًا جُرُزًا (الکہف ۱۸: ۷-۸) ’’زمین کے اوپر جو کچھ بھی ہے ہم نے اس کے لیے اس کو سنگھار بنایا ہے تاکہ ہم امتحان کریں کہ لوگوں میں سے کون اچھا عمل کرتا ہے اور ایک دن ہم اس سب کو جو اس کے اوپر ہے صفا چٹ میدان کر دینے والے ہیں۔‘‘ مطلب یہ ہے کہ اس زمین کے اوپر جو کچھ بھی ہے محض وقتی سنگھار کے طور پر ہے۔ مقصود اس سے لوگوں کا امتحان ہے کہ لوگ اسی پر ریجھ کر رہ جاتے ہیں یا اس کے ساتھ جو آخرت لگی ہوئی ہے اس کی فکر بھی کچھ کرتے ہیں۔ بالآخر ایک دن ایسا آنے والا ہے جب اس کا یہ سارا سنگھار چھن جائے گا۔ نہ اس کے دریا اور پہاڑ باقی رہیں گے، نہ وادی و کہسار، نہ باغ و چمن رہیں گے اور نہ ایوان و محل۔ صرف صفا چٹ میدان رہ جائے گا۔
Ayah 89:22

وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ Open ayah 89:22 in the Quran reader

اور تیرا خداوند صف در صف فرشتوں کے جلو میں نمودار ہو گا

’وَجَآءَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا‘۔ یعنی آج تو اللہ تعالیٰ پس پردہ بیٹھا ہوا لوگوں کا امتحان کر رہا ہے لیکن اس دن یہ پردہ اٹھا دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے کروبیوں کے جلو میں نمودار ہو گا۔ اس وقت اصل حقیقت بالکل بے نقاب ہو کر اس طرح لوگوں کے سامنے آ جائے گی کہ کسی کے لیے بھی اس میں کسی شک کی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ رہا یہ سوال کہ اللہ تعالیٰ کا نمودار ہونا کس طرح ہو گا تو اس کا تعلق احوال آخرت سے ہے جس کی تفصیلات متشابہات میں داخل ہیں، ان پر اجمالی ایمان ہی کافی ہے۔ ان کی زیادہ کھوج کرید کی جائے تو اندیشہ فتنہ میں پڑ جانے کا ہوتا ہے۔
Ayah 89:23

وَ جِایْٓءَ یَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ یَوْمَئِذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 89:23 in the Quran reader

اور جہنم حاضر کی جائے گی۔ اس دن انسان سوچے گا مگر کیا حاصل اس سوچنے کا !

’وَجِایْٓءَ یَوْمَئِذٍ بِجَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍ یَتَذَکَّرُ الْإِنۡسَانُ وَأَنّٰی لَہُ الذِّکْرٰی‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ظہور کے ساتھ وہ جنت اور دوزخ بھی بے نقاب کر دی جائیں گی جو جزا اور سزا کے لیے پہلے سے تیار ہیں۔ سورہ میں اصل خطاب چونکہ معاندین سے ہے اس وجہ سے پہلے جہنم کا ذکر فرمایا کہ وہ لائی جائے گی۔ اس کو دیکھتے ہی وہ سارے لوگ، جو آخرت سے بے پروا رہے اپنی محرومی پر سر پیٹ لیں گے اور حسرت سے کہیں گے کہ کاش ہم نے اپنی اس زندگی کے لیے کچھ کر لیا ہوتا۔ فرمایا کہ یہ چیز پہلے ہی سونچنے اور کرنے کی تھی۔ جب وہ یہاں اس کو نہ چیت سکیں گے تو اتنی دور جا کر وہ اس کو چیتیں گے تو اس سے حسرت کے سوا اور کیا حاصل ہو گا!
Ayah 89:24

یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ Open ayah 89:24 in the Quran reader

کہے گا، کاش میں نے اپنی زندگی کے لیے کچھ رکھا ہوتا ،

’یَوْمَئِذٍ یَتَذَکَّرُ الْإِنۡسَانُ وَأَنّٰی لَہُ الذِّکْرٰی‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ظہور کے ساتھ وہ جنت اور دوزخ بھی بے نقاب کر دی جائیں گی جو جزا اور سزا کے لیے پہلے سے تیار ہیں۔ سورہ میں اصل خطاب چونکہ معاندین سے ہے اس وجہ سے پہلے جہنم کا ذکر فرمایا کہ وہ لائی جائے گی۔ اس کو دیکھتے ہی وہ سارے لوگ، جو آخرت سے بے پروا رہے اپنی محرومی پر سر پیٹ لیں گے اور حسرت سے کہیں گے کہ کاش ہم نے اپنی اس زندگی کے لیے کچھ کر لیا ہوتا۔ فرمایا کہ یہ چیز پہلے ہی سونچنے اور کرنے کی تھی۔ جب وہ یہاں اس کو نہ چیت سکیں گے تو اتنی دور جا کر وہ اس کو چیتیں گے تو اس سے حسرت کے سوا اور کیا حاصل ہو گا! ’یَقُوْلُ یَا لَیْْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْ‘۔ یہ وضاحت ہے اس چیتنے کی جس کی طرف اوپر والی آیت میں ’یَتَذَکَّرُ الْإِنۡسَانُ‘ کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے کہ اس دن وہی لوگ جو آج قیامت سے آگاہ کرنے والوں کو بے وقوف ٹھہرا رہے ہیں نہایت حسرت و اندوہ کے ساتھ کہیں گے کہ کاش، اپنی اس زندگی کے لیے ہم نے دنیا کی زندگی میں کچھ کر لیا ہوتا! مطلب یہ ہے کہ وہ اس دن حسرت تو کریں گے لیکن ان کی یہ حسرت بے سود رہے گی۔ اس کی تلافی کا وقت گزر چکا ہو گا۔
Ayahs 89:25–26

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ Open ayah 89:25 in the Quran reader

پس اس دن نہ اس کا سا عذاب کوئی دے سکتا

وَّ لَا یُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 89:26 in the Quran reader

اور نہ اس کا سا باندھنا کوئی باندھ سکتا۔

یہ اس دن کے عذاب کی شدت اور بے پناہی کا بیان ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ جو عذاب دے گا اس طرح کا عذاب کوئی نہیں دے سکتا اور جس طرح کا باندھنا وہ باندھے گا اس طرح کا باندھنا کوئی نہیں باندھ سکتا۔۔۔ یہ حقیقت نفس الامری کا بیان ہے۔ اس لیے کہ اس دنیا کی نعمتوں اور لذتوں کی طرح اس کی تکلیفیں اور اذیتیں بھی فانی اور وقتی ہیں۔ بڑی سے بڑی تکلیف بھی کوئی دے گا تو موت بہرحال اس کو ختم کر سکتی ہے اسی طرح طویل سے طویل قید میں بھی کوئی ڈالے گا تو موت کا فرشتہ اس سے بھی رہائی دلوا سکتا ہے لیکن آخرت کے عذاب اور اس کی قید سے رہائی دلانے کے لیے وہاں موت بھی نہیں ہو گی۔
Ayah 89:27

یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُۗۖ Open ayah 89:27 in the Quran reader

اے وہ جس کا دل اپنے رب پر جما رہا ،

مستحقین جنت کو براہ راست بشارت: اس دن مستحقین جنت کو جو بشارت براہ راست رب کریم کی طرف سے ملے گی یہ اس کی طرف اشارہ ہے۔ یہاں خاص توجہ کی چیز ’یٰٓاَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃ‘ کا خطاب ہے جس سے جنت کے مستحقین کو نوازا جائے گا۔ اس خطاب سے ان کے نفس کی اس خاص صفت پر روشنی پڑ رہی ہے جس کی بنا پر وہ جنت کے حق دار قرار پائیں گے۔ اوپر آیات ۱۵-۱۶ میں ان تنک ظرفوں اور تھڑ دلوں کا حال بیان ہوا تھا جن کو نعمت ملتی ہے تو وہ بہک کر اترانے اور فخر کرنے والے بن جاتے ہیں اور جب ذرا تنگئ رزق کی آزمائش پیش آ جائے تو بالکل دل شکستہ ہو کر خدا سے مایوس اور شاکی بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد ان کا انجام بیان ہوا۔ اب اس کے مقابل میں ان لوگوں کا حال اور انجام بیان ہو رہا ہے جن کے قدم تنگی اور فراخی دونوں طرح کے حالات میں جادۂ حق پر استوار رہتے ہیں۔ نعمت ملتی ہے تو وہ اس کو اپنے شکر کا امتحان سمجھتے ہیں اور طغیان و فساد میں مبتلا ہونے کے بجائے کوشش کرتے ہیں کہ اپنے رب کے امتحان میں پورے اتریں اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان پر احسان فرمایا ہے وہ بھی اللہ کے بندوں پر احسان کریں۔ اسی طرح اگر ان کو تنگئ رزق سے سابقہ پیش آتا ہے تو بے حوصلہ اور اپنے رب سے مایوس ہونے کے بجائے اس کو وہ اپنے صبر کا امتحان سمجھتے ہیں اور جان کی بازی لگا کر کوشش کرتے ہیں کہ اس امتحان سے سرخرو نکلیں، نہ دنیا میں ان کو اپنے ضمیر کے آگے شرمندہ ہونا پڑے نہ آخرت میں اپنے رب کے آگے۔ ان لوگوں کا دل چونکہ عُسر و یُسر اور نرمی و سختی دونوں طرح کے حالات میں اپنے رب سے راضی و مطمئن اور ڈانواں ڈول ہونے سے محفوظ رہتا ہے اس وجہ سے اس کو نفس مطمئنہ سے تعبیر فرمایا ہے اور یہی لوگ ہیں جو جنت کے وارث ہوں گے۔
Ayah 89:28

ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ Open ayah 89:28 in the Quran reader

چل اپنے رب کی طرف، تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی۔

’اِرْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً‘۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحسین و آفرین کا کلمہ ہے۔ ان لوگوں کو خطاب کر کے ارشاد ہو گا کہ شاباش! تمہارے رب نے جس میدان امتحان میں تمہیں اتارا اس میں تمہاری بازی نہایت کامیاب رہی۔ اب تم اپنے رب کی طرف اس سرخروئی کے ساتھ لوٹو کہ تم نے ثابت کر دیا کہ تم ہر طرح کے نرم و گرم حالات میں اپنے رب سے راضی و مطمئن رہے اور ساتھ ہی تمہیں یہ سرفرازی بھی حاصل ہوئی کہ تم اپنے رب کی نظروں میں بھی پسندیدہ ٹھہرے۔ جس طرح تم اپنے رب سے کسی مرحلے میں گلہ مند نہیں ہوئے اسی طرح تمہارے رب نے تم کو بھی کسی مرحلے میں اپنے معیار سے فروتر نہیں پایا۔ تم اس سے راضی وہ تم سے راضی۔
Ayahs 89:29–30

فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ Open ayah 89:29 in the Quran reader

مل جا میرے بندوں میں

وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠ Open ayah 89:30 in the Quran reader

اور داخل ہوجا میری بہشت میں

’فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ ہ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ‘۔ یعنی تم امتحان پاس کر کے جنت کے مستحق ٹھہرے تو اب میرے خاص بندوں کے زمرے میں اور میری جنت میں داخل ہو جاؤ۔