Ayah 88:1قیامت اور احوال قیامت کی تصویر:
اس انداز میں جو سوال ہوتا ہے وہ طلب جواب کے لیے نہیں بلکہ کسی چیز کے ہول و ہیبت یا اس کی عظمت و شان کے اظہار کے لیے ہوتا ہے۔ یہاں جو خطاب ہے اگرچہ عام بھی ہو سکتا ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ مخاطب نبی ﷺ ہی ہیں چنانچہ اسی پر عطف کر کے آگے فرمایا ہے:
’فَذَکِّرْ إِنَّمَا أَنۡتَ مُذَکِّرٌ‘ (۲۱)
(تم یاددہانی کر دو، تم تو صرف ایک یاددہانی کر دینے والے ہو)۔
’غَاشِیَۃٌ‘ کے معنی ڈھانک لینے والی اور چھا جانے والی کے ہیں۔ یہاں یہ لفظ قیامت کی صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی آفت ایک ہمہ گیر آفت ہو گی جو سب پر چھا جائے گی، کسی کو بھی اس سے مفر نہیں ہو گا۔ اس کا احوال (حدیث) یہاں سنایا تو نبی ﷺ کو گیا ہے لیکن مقصود، جیسا کہ آگے کی آیات سے واضح ہو گا، ان کفار کو آگاہ کرنا ہے جو اول تو آخرت کو مانتے ہی نہیں تھے اور اگر کسی درجہ میں مانتے بھی تھے تو اپنے اس گمان کی بنا پر اس سے بالکل نچنت تھے کہ ان کو جو کچھ یہاں حاصل ہے اس سے بڑھ کر وہاں حاصل ہو گا۔
Ayah 88:2ان لوگوں کا حال جو قیامت سے نچنت رہے:
اوپر کا سوال، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، طلب جواب کے لیے نہیں بلکہ صرف تنبیہ کے لیے تھا کہ سننے والے اس کو اچھی طرح سن لیں۔ اس کے بعد قرآن نے خود ہی اس کا جواب دیا کہ اس دن کتنے چہرے بالکل اترے اور تھکے ہارے ہوں گے۔
’خَاشِعَۃٌ‘ کے معنی جھکے ہوئے، پست اور اداس کے ہیں۔ ’عَامِلَۃٌ‘ کے معنی محنت سے نڈھال اور ’نَاصِبَۃٌ‘ کے معنی تھکے ہارے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن جب ان کی توقع کے برعکس یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ ان کو اپنے اعمال کی پاداش میں جہنم میں پڑنا ہے تو ان کے چہرے فق ہو جائیں گے، ان پر ہوائیاں اڑنے لگیں گی۔
’وُجُوْہٌ‘ سے مراد اگرچہ اشخاص ہیں لیکن ان کو تعبیر ’وُجُوْہٌ‘ سے اس لیے کیا ہے کہ مقصود ان کی اندرونی کیفیات کو ظاہر کرنا ہے اور کیفیات کا اظہار سب سے زیادہ نمایاں طریقہ پر چہروں ہی سے ہوتا ہے۔
Ayah 88:3’عَامِلَۃٌ‘ کے معنی محنت سے نڈھال اور ’نَاصِبَۃٌ‘ کے معنی تھکے ہارے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن جب ان کی توقع کے برعکس یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ ان کو اپنے اعمال کی پاداش میں جہنم میں پڑنا ہے تو ان کے چہرے فق ہو جائیں گے، ان پر ہوائیاں اڑنے لگیں گی۔
Ayahs 88:4–5یہ اس چیز کا بیان ہے جو اس بدحواسی کا سبب بنے گی جو اوپر مذکور ہوئی یعنی وہ دوزخ کی بھڑکتی آگ میں پڑیں گے اور کھولتے چشمے کا پانی پئیں گے۔ ’اٰنِیَۃٌ‘ کے معنی ہیں جس کی گرمی اپنے آخری نقطہ پر پہنچی ہوئی ہو۔
قرآن مجید کے دوسرے مقامات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہاں مجرموں کی جس بدحواسی و پریشان حالی کا ذکر ہے اس کا تعلق اس وقت سے ہے جب ان پر یہ حقیقت واضح ہو گی کہ وہ دوزخ میں ڈالے جانے والے ہیں۔ سورۂ قیامہ میں تصریح ہے کہ
وَوُجُوۡہٌ یَوْمَئِذٍ بَاسِرَۃٌ ۵ تَظُنُّ أَنۡ یُفْعَلَ بِہَا فَاقِرَۃٌ (القیامہ ۷۵: ۲۴-۲۵)
’’ اور اس دن بہت سے چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ گمان کرتے ہوں گے کہ ان پر کمر توڑ دینے والی مصیبت ٹوٹنے والی ہے۔‘‘
عام طور پر لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ یہ ان کے دوزخ میں پڑنے کے بعد کے حالات بیان ہو رہے ہیں لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے۔ دوزخ میں پڑنے کے بعد چہرے اداس ہی نہیں ہوں گے بلکہ وہ آگ پر گھسیٹے جائیں گے اور مزید وہ سب کچھ ہو گا جو دوزخ کے احوال سے متعلق قرآن میں بیان ہوا ہے۔
Ayah 88:6دوزخیوں کی غذا:
پانی کے بعد یہ اس کھانے کا ذکر ہے جو دوزخ میں ان کو ملے گا۔ فرمایا کہ ان کو کھانے کی کوئی چیز وہاں میسر نہیں آئے گی۔ صرف ضریع چابیں گے اور اس پر کھولتا ہوا پانی پئیں گے۔ ’ضَرِیْعٌ‘ ایک خاردار زہریلی جھاڑی ہے جس کو کوئی جانور نہیں چھوتا۔
مقصود کلام یہاں حصر نہیں ہے کہ ان کا کھانا صرف ’ضَرِیْعٌ‘ ہو گا۔ بلکہ یہ استثنائے منقطع ہے۔ حصر کا مضمون اس صورت میں پیدا ہوتا جب ’ضَرِیْعٌ‘ کسی درجے میں بھی کوئی کھانے کی چیز ہوتی۔ جب وہ سرے سے طعام میں داخل ہی نہیں ہے تو استثناء سے صرف یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ کھانے کی کوئی چیز جب انھیں میسر نہیں آئے گی تو بھوک سے بے بس ہو کر وہ ’ضَرِیْعٌ‘ زہر مار کریں گے جو دوزخیوں کے لیے وہاں موجود ہو گی۔ اس سے اسی نوع کی بعض دوسری چیزوں کی نفی نہیں ہوتی جو وہاں موجود ہوں گی اور دوزخی ان کو کھانے پر مجبور ہوں گے۔ چنانچہ دوسرے مقام میں مذکور ہے کہ ان گنہ گاروں کا کھانا ’زقّوم‘ بھی ہو گا:
إِنَّ شَجَرَۃَ الزَّقُّوۡمِ ۵ طَعَامُ الْأَثِیْمِ (الدخان ۴۴: ۴۳-۴۴)
’’بے شک زقّوم کی جھاڑی گنہ گاروں کی غذا ہو گی۔‘‘
اسی طرح ایک مقام میں ’غِسْلِیْن‘ کا بھی ذکر آیا ہے:
وَلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍ ۵ لَا یَأْکُلُہٗٓ إِلَّا الْخَاطُِوۡنَ (الحاقہ ۶۹: ۳۶-۳۷)
’’اور ان کی غذا زخموں کا دھون ہو گی۔ جس کوصرف گنہ گار ہی کھا سکیں گے۔‘‘
اس سے واضح ہوا کہ دوزخیوں کو کوئی چیز کھانے کی نہیں ملے گی، صرف وہ چیزیں ملیں گی جو نہ صرف یہ کہ کھانے کی ہیں نہیں بلکہ وہ ایسی ہیں کہ دوزخیوں کے سوا کوئی ان کو نگل بھی نہیں سکتا۔
Ayah 88:7’لَا یُسْمِنُ وَلَا یُغْنِیْ مِنۡ جُوۡعٍ‘۔ غذا کے اصل فائدے دو ہیں۔ جسم کی توانائی کو قائم رکھنا اور بھوک کی اذیت کو رفع کرنا۔ اس سے نہ جسم میں توانائی آئے گی اور نہ بھوک ہی رفع ہو گی۔ گویا صرف اس کے چبانے اور نگلنے کی اذیت ان کے حصے میں آئے گی۔
Ayah 88:8اہل ایمان کا بیان:
اب یہ دوسرے گروہ، یعنی اہل ایمان کا بیان ہے۔ فرمایا کہ بہت سے چہرے اس دن شگفتہ و شاداب ہوں گے۔
یہی بات سورۂ قیامہ میں ’وُجُوۡہٌ یَوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ ۵ إِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ‘ (۲۲-۲۳) کے الفاظ میں گزر چکی ہے۔ اوپر منکرین قیامت کے چہروں کی مایوسی، افسردگی اور تھکاوٹ کا ذکر ہوا، یہ ان کے مقابل میں ان لوگوں کا بیان ہے جنھوں نے دنیا کو آخرت کے لیے برتا اور اس امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ ان کے چہروں پر ابدی فتح مندی کی بشاشت اور شگفتگی جھلک رہی ہو گی۔
Ayah 88:9’لِسَعْیِہَا رَاضِیَۃٌ‘۔ یہ بشاشت ان کے چہروں پر اس وجہ سے نمایاں ہو گی کہ انھوں نے دنیا میں آخرت کے لیے جو کمائی کی اس کا حاصل ان کے سامنے ہو گا اور وہ اس سے پوری طرح مطمئن ہوں گے کہ ان کے ہر عمل کا صلہ ان کو بھرپور ملا اور ان کے رب نے جو وعدے ان سے کیے وہ سب پورے کیے۔ اس کی تفصیل آگے کی آیات میں بھی موجود ہے اور اس کے بعد والی سورہ میں بھی اس کا ایک خاص پہلو بیان ہوا ہے۔ وہاں ان شاء اللہ ہم اس کے بعض دقیق مضمرات پر روشنی ڈالیں گے۔
Ayah 88:10’فِیْ جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ‘۔ یہ آخرت میں ان کے مستقر و مقام کا پتا دیا ہے کہ وہ اونچے باغ میں ہوں گے۔ اونچے باغ، یعنی وہ باغ بلندی پر ہوں گے۔ ایک اچھے باغ کا تصور اہل عرب کے ہاں یہ ہے کہ باغ بلندی پر ہو، اس کے حاشیہ پر کھجوروں کے اونچے درخت ہوں تاکہ وہ دور ہی سے دلکش بھی معلوم ہو اور سموم و سیلاب وغیرہ سے محفوظ بھی رہے۔
Ayah 88:11اہل جنت کی مجلس ہر شر سے محفوظ ہو گی:
اہل دوزخ سے متعلق قرآن میں یہ بات جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ دوزخ کے باڑے میں پہنچتے ہی وہ ایک دوسرے پر لعنت کریں گے کہ فلاں نے ہم کو گمراہ کیا، وہ گمراہ نہ کرتا تو ہم ہدایت پر ہوتے۔ لیڈروں اور ان کے پیروؤں میں توتکار ہو گی۔ پیرو لیڈروں کے لیے دونے عذاب کا مطالبہ کریں گے۔ کہ انھوں نے ان کی راہ ماری اس وجہ سے یہ دوگنے عذاب کے سزاوار ہیں۔ لیڈر جواب دیں گے کہ ہم نے تم کو وہی بنایا جو ہم خود تھے، تم نے خود اپنی شامت بلائی کہ جان بوجھ کر ہماری پیروی کی۔ اس کے برعکس اہل جنت کا یہ حال بیان ہوا ہے کہ وہ جنت میں داخل ہونے کے بعد ایک فتح مند ٹیم کی طرح ایک دوسرے کا خیر مقدم تحیت و سلام سے کریں گے، آپس میں مبارک سلامت کے تبادلے ہوں گے، نہایت خوش گوار موڈ میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ ان کی مجلس محبت و اخلاص کی عطر بیزیوں سے معمور ہو گی۔ سورۂ واقعہ میں اس کا ذکر یوں آیا ہے:
لَا یَسْمَعُونَ فِیْہَا لَغْواً وَلَا تَأْثِیْماً ۵ إِلَّا قِیْلاً سَلَاماً سَلَاماً (الواقعہ ۵۶: ۲۵-۲۶)
’’وہ اس میں کوئی لغو یا گناہ کی بات نہیں سنیں گے۔ بس ہر طرف مبارک سلامت ہی کا چرچا ہو گا۔‘‘
یہ امر بھی یہاں ملحوظ رہے کہ اہل جنت کی شراب بھی فتور عقل اور ہذیان پیدا کرنے والی نہیں ہو گی کہ اس کے نشہ میں وہ اتنے ازخود رفتہ ہو جائیں کہ زبان سے کوئی ناشائستہ کلمہ نکل جائے۔
Ayah 88:12جنت کے خوش نما مناظر:
جنت کے خوش گوار ماحول کے بعد یہ اس کے خوش نما مناظر کی طرف اشارہ ہے کہ اس میں چشمہ جاری ہو گا۔ یہ صرف اس چشمہ کا ذکر ہے جو باغ کی شادابی کے لیے ہو گا۔ اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ چشمہ ایک ہی ہو گا۔ چنانچہ سورۂ دہر میں ایک سے زیادہ چشموں اور ان سے نکلی ہوئی متعدد شاخوں کا ذکر ہے لیکن ان رحمتوں کی نوعیت، جیسا کہ ان کی وضاحت ہو چکی ہے، بالکل مختلف ہو گی۔ ان دونوں بیانوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
Ayah 88:13جنت کا سامان آرائش:
یہ اس سامان آرائش و زیبائش کا ذکر ہے جو اہل جنت کی آسائش کے لیے موجود ہو گا۔ اس کی تفصیلات بھی مختلف سورتوں میں مختلف الفاظ میں بیان ہوئی ہیں۔ یہ اختلاف زیادہ تر تو اجمال و تفصیل کی نوعیت کا ہے لیکن بعض مقامات میں وہ تفاوت بھی ملحوظ ہے جو اہل جنت کے درجات و مراتب میں ہو گا۔ نیز ان کو پڑھتے ہوئے یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھیے کہ یہ چیزیں تمثیل کی صورت میں بیان ہوئی ہیں۔ عالم غیب کی نادیدہ حقیقتیں تمثیل ہی کے پیرائے میں بیان ہو سکتی ہیں اور ان کے لیے الفاظ اسی زبان اور اسی تہذیب و تمدن سے مستعار لینے پڑتے ہیں جس سے مخاطب فی الجملہ آشنا ہوں۔
’سُرُرٌ مَّرْفُوعَۃٌ‘۔ ان کے بیٹھنے کے لیے اونچے تخت ہوں گے۔ اس زمانے کے امراء و سلاطین کی نشست اونچے تختوں ہی پر ہوتی تھی اس وجہ سے تمثیل میں اسی کا ذکر ہوا ہے لیکن جنت ہر جنتی کی خواہش کے مطابق ہو گی۔ وہ جس شکل میں جنت کی آرائش چاہے گا اس کی جنت اسی شکل میں آراستہ ملے گی۔
Ayah 88:14’وَاَکْوَابٌ مَّوْضُوْعَۃٌ‘۔ ’اَکْوَابٌ‘ جمع ہے ’کَوْبٌ‘ کی۔ ’کَوْبٌ‘ اور ’کپ‘ (cup) ایک ہی چیز ہے۔ یہ پیالے، آب خورے، جام سب کے لیے آتا ہے۔ ’مَّوْضُوْعَۃٌ‘ کے معنی ہیں قرینہ سے رکھے ہوئے۔
Ayah 88:15’نَمَارِقُ مَصْفُوْفَۃٌ‘۔ ’نَمَارِقُ‘ قالینوں اور غالیچوں کے معنی میں آتا ہے۔ یعنی ان کی ہر نشست گاہ میں قالین اور غالیچے ترتیب سے باہمدگر پیوستہ بچھے ہوں گے۔ کوئی جگہ خالی نہیں ہو گی۔
Ayah 88:16’وَزَرَابِیُّ مَبْثُوْثَۃٌ‘۔ ’زَرَابِیُّ‘ جمع ہے ’زُرْبِیَّۃٌ‘ کی، یہ تکیوں اور نہالچوں کے معنی میں آتا ہے یعنی قالینوں پر تکیے اور نہالچے ہر طرف بکھرے پڑے ہوں گے۔ بیٹھنے والا جہاں بیٹھے وہ اس کے لیے آسائش کا باعث ہوں گے۔ آج صوفوں کا دور ہے لیکن ان پر بھی گدیاں اور تکیے رکھنے کا رواج ہے۔
Ayah 88:17قیامت کی بعض آفاقی نشانیوں کی یاددہانی:
یہ ان لوگوں کو جو مذکورہ جزا و سزا سے بالکل نچنت زندگی گزار رہے تھے۔ آفاق کی بعض نہایت نمایاں نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ آخر وہ ان چیزوں پر کیوں غور نہیں کرتے جو خالق کی صفات ربوبیت و قدرت اور اس کی حکمت و عظمت کی اس طرح شہادت دے رہی ہیں کہ جس کے اندر ذرا بھی حق پسندی ہو وہ قیامت اور جزاء و سزا کا انکار نہیں کر سکتا۔ مطلب یہ ہے کہ ان نشانیوں کے ہوتے وہ اس بات پر کیوں اڑے ہوئے ہیں کہ کوئی نشانئ عذاب ظاہر ہو یا قیامت آ جائے تب ہی وہ پیغمبر کی بات مانیں گے۔
اونٹ کی طرف اشارہ: ’اَفَلَا یَنۡظُرُوۡنَ إِلَی الْإِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ‘۔ سب سے پہلے اونٹ کی طرف توجہ دلائی کہ آخر وہ اپنے سفر و حضر کے سب سے زیادہ خدمت گزار، وفا شعار اور جاں نثار ساتھی اونٹ ہی پر کیوں نہیں غور کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کن صفات و خصوصیات کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ کس طرح اس کو ان کا مطیع بنایا ہے کہ ایک عظیم الجثہ اور طویل القامت جانور ہونے کے باوجود اس کی ناک میں نکیل ڈال کر وہ جدھر چاہیں لیے پھرتے ہیں اور وہ بے چون و چرا ان کی اطاعت کرتا ہے۔ وہ حضر میں ان کا رات دن کا ساتھی ہے؛ سفر میں ان کا باربردار رفیق؛ صحرا میں ان کا سفینہ ہے۔ ہفتہ ہفتہ بھر وہ بھوک سے اور پیاس کا مقابلہ کرتا ہے۔ خاردار جھاڑیوں سے اپنا پیٹ بھر لیتا ہے اور کسی بڑی سے بڑی مشقت سے بھی انکار نہیں کرتا۔ اس کا گوشت، پوست، دودھ، ہر چیز مالک کے کام آتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کا بول و براز بھی رائگاں جانے والی چیز نہیں۔۔۔ اب غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اتنے گوناگوں فوائد و مصالح کے ساتھ یہ جانور آپ سے آپ پیدا ہو گیا اور انسان نے اس کو اتفاق سے پکڑ کر اپنے لیے سازگار بنا لیا ہے یا رب کریم نے اپنی قدرت و حکمت سے اس کو پیدا کیا اور اس کو انسان کی خدمت میں لگایا ہے۔ ظاہر ہے کہ عقل اس دوسری بات ہی کی گواہی دیتی ہے۔ اگر یہ دوسری ہی بات قابل قبول ہے تو کیا انسان پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ اپنے رب کا شکرگزار بندہ بن کر زندگی گزارے جس نے اس کے لیے بغیر کسی استحقاق کے زندگی کی یہ آسائشیں فراہم کی ہیں ورنہ ایک اپنے رب کے آگے جواب دہی اور اپنے کفران نعمت کی سزا بھگتنے کے لیے تیار رہے۔
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اونٹ کا ذکر بطور مثال محض ان خصوصیات کی بنا پر ہوا ہے جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔ مقصود ان تمام جانوروں کی طرف توجہ دلانا ہے جو قدرت نے انسان کے لیے مسخر کیے ہیں اور جن پر اس کی معاش و معیشت کا انحصار ہے۔ دوسرے مقامات میں قرآن نے ان کا حوالہ بھی دیا ہے اور مدعا اس حوالہ سے اس حقیقت کو انسان پر واضح کرنا ہے کہ ہر نعمت منعم کا شکر واجب کرتی ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ بھی ہے کہ ایک ایسا روز آئے جس میں شکرگزار اپنی شکرگزاری کا انعام پائیں اور ناشکرے اپنے کفران نعمت کی سزا بھگتیں۔ ان شاء اللہ سورۂ عادیات کی تفسیر میں اس پر مفصل بحث آئے گی۔
Ayah 88:18آسمان کی طرف اشارہ:
’وَإِلَی السَّمَآءِ کَیْفَ رُفِعَتْ‘۔ چونکہ مقصود یہاں، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، نمایاں چیزوں کی طرف متوجہ کرنا ہے اس وجہ سے اونٹ جیسے طویل القامت جانور کا ذکر آیا تو وہیں سے آسمان کی طرف توجہ دلا دی ہے کہ وہ آسمان پر کیوں نہیں غور کرتے کہ کس طرح یہ چھت بلند کی گئی! یعنی ایسی ناپیداکنار چھت بلند تو ہو گئی لیکن کسی کو وہ ستون نظر نہیں آتے جن پر یہ قائم ہے۔ پھر اس سے بھی عجیب یہ ماجرا ہے کہ نہیں معلوم کہ کب سے یہ قائم ہے، لیکن کوئی ماہر سے ماہر انجینئر بھی کسی بڑی سے بڑی دوربین کی مدد سے بھی، اس میں کسی معمولی سے معمولی رخنہ یا خلا کی نشان دہی نہیں کر سکتا۔ پھر اس سے بھی عجیب تر ماجرا یہ ہے کہ ہے تو یہ زمین سے اتنی دور کہ اس کی مسافت کا علم کسی کو نہیں لیکن اسی کے سورج، چاند، ستارے اور سیارے زمین کی رونق اور اس کے لیے روشنی، حرارت اور زندگی کا ذریعہ ہیں۔ اسی سے بارش نازل ہوتی ہے جس سے زمین کی تمام مخلوقات کو روزی حاصل ہوتی ہے۔
انسان سوچے کہ جس خالق کی قدرت و حکمت کا یہ حال ہے کہ وہ آسمان کو بنا سکتا ہے، کیا اس کے مرکھپ جانے کے بعد دوبارہ اس کو اٹھا کھڑا کرنا اس کے لیے مشکل ہو جائے گا! چنانچہ قرآن میں جگہ جگہ یہ سوال اللہ تعالیٰ نے کیا ہے کہ بتاؤ، تمہارا پیدا کیا جانا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کا؟
Ayah 88:19زمین کے عجائبات کی طرف اشارہ:
’وَإِلَی الْجِبَالِ کَیْفَ نُصِبَتْ‘۔ آسمان اور اس کے عجائبات کی سیر کرانے کے بعد نگاہ کو پھر زمین کی طرف توجہ دلائی اور اس کی اس نشانی کی طرف اشارہ فرمایا جو زمین و آسمان کے مابین خالق کائنات کی قدرت و حکمت کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ فرمایا کہ پہاڑوں کو دیکھو کہ وہ کس طرح نصب کیے گئے ہیں۔ وہ زمین کے توازن کو قائم رکھے ہوئے ہیں کہ مبادا وہ سب کے سمیت کسی سمت کو لڑھک جائے۔ وہ ہواؤں اور بادلوں کو بھی کنٹرول کرتے ہیں تاکہ بارش کی تقسیم قدرت کی حکمت اور اس کے منشا کے مطابق ہو۔ ہیں تو یہ پتھر کے لیکن قدرت نے ان کے اندر سے خلق کی سیرابی کے لیے شیریں پانی کے سوتے جاری کر رکھے ہیں۔ وہ قدرت کے بے شمار قیمتی خزانوں کے امین ہیں جن کو انسان برابر دریافت کرنے اور ان کو اپنے تمدن کی تعمیر و ترقی میں صرف کرنے میں رات دن سرگرم ہے۔ ان میں ایسے پہاڑ بھی ہیں جو ناقابل عبور ہیں لیکن قدرت نے ان کے اندر درے اور راستے نکال دیے ہیں تاکہ وہ قوموں اور قوموں کے درمیان حجاب بن کے نہ رہ جائیں۔ انسان غور کرے کہ کیا یہ خالق کی عظیم قدرت، عظیم حکمت، اور اس کی عالم گیر ربوبیت پر شاہد نہیں ہیں! اور پھر غور کرے کہ کیا جو خالق ان صفات سے متصف ہے وہ انسان کو اس دنیا میں شتر بے مہار بنا کے چھوڑے رکھے گا، کوئی ایسا دن نہیں لائے گا جس میں وہ سب کا حساب کرے اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا یا سزا دے؟ کیا یہ اس کی ربوبیت اور اس کی حکمت کا بدیہی تقاضا نہیں ہے؟ کیا کوئی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ یہ اس کی قدرت کے دائرہ سے خارج اور بعید از امکان ہے!!
Ayah 88:20پہاڑوں کے بعد ہموار زمین پر:
’وَإِلَی الْأَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ‘۔ اب یہ نگاہ کو پہاڑوں سے زمین پر اتارا اور دعوت دی کہ زمین کو دیکھیں کہ کس طرح یہ ان کے قدموں کے نیچے بچھائی گئی ہے۔ کس طرح اس کے گوشے گوشے میں ان کی پرورش کے لیے ضرورت کی چیزیں پیدا کی گئی ہیں۔ اس کی مسطح زمینوں پر یہ اپنے گھر بنا لیتے ہیں۔ اس کے میدانوں میں ان کے کھیت اور ان کے باغ و چمن ہیں۔ اس کی نہریں، اس کے کنوئیں اور اس کے چشمے ان کے کھیتوں اور باغوں کو شاداب رکھتے ہیں، اس کے جنگلوں اور اس کی وادیوں میں ان کے چوپایوں اور گلوں کے لیے پیٹ بھرنے کے غیرمحدود وسائل موجود ہیں۔ ان ساری چیزوں کو دیکھیں اور سوچیں کہ جس نے ان کو اس بنے بنائے گھر میں اتارا اور اس کی ساری چیزیں وہ برت رہے ہیں کیا اس کو اس امر سے کوئی بحث نہیں ہے کہ کون گھر کے مالک کی پسند کے مطابق زندگی گزارتا ہے اور کون اس کو اپنے اب و جد کی میراث سمجھ کر اس میں اکڑتا ہے اور اودھم مچاتا ہے؟ ظاہر ہے کہ عقل یہی کہتی ہے کہ اس کو اس سے بحث ہے اور ہونی چاہیے۔ اگر یہ نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ العیاذ باللہ یا تو وہ بے حس و بلید اور خیر و شر کے شعور سے عاری ہے یا بالکل بے بس و مجبور ہے۔ لیکن جس ذات کی قدرت، حکمت، ربوبیت اور عظمت کی وہ نشانیاں آپ نے دیکھی ہیں، جن کا ذکر اوپر ہوا، اس کو نہ بے حمیت و بے شعور فرض کیا جا سکتا نہ عاجز و بے بس تو لازماً یہ ماننا پڑے گا کہ وہ اس گھر میں انسان کو اتار کر دیکھ رہا ہے کہ وہ کیا بناتا ہے۔ بالآخر ایک دن اس امتحان کی مدت پوری ہو گی اور وہ سب کو اپنے حضور میں جمع کر کے ان کی نیکی اور بدی ان کے سامنے رکھے گا۔ جس کی روش اس کی پسند کے مطابق رہی ہو گی اس کو وہ اپنی رحمت سے نوازے گا اور جس نے اس گھر میں فساد مچایا ہو گا وہ اپنے کیے کی سزا بھگتے گا۔
’کَیْفَ خُلِقَتْ‘ اور ’کَیْفَ رُفِعَتْ‘ وغیرہ کے لفظوں میں جو سوالات کیے گئے ہیں ان کے اندر اجمال ہے، اس کی تفصیل قرآن کی دوسری سورتوں میں بیان ہوئی ہے۔ ہم نے اوپر جو وضاحت کی ہے انہی سورتوں کی روشنی میں کی ہے اور صرف اسی حد تک کی ہے جس حد تک اس سورہ میں ضروری تھی۔ مذکورہ چیزوں سے قرآن نے اپنے جن جن دعاوی پر دلیل قائم کی ہے اگر کوئی ان سب کو سمجھنا چاہیے تو وہ قرآن کے ان تمام مقامات کا جائزہ لے جہاں زمین، آسمان، پہاڑ اور اونٹ کسی پہلو سے زیربحث آئے ہیں۔
ترتیب بیان کی ندرت: یہاں ترتیب بیان میں بھی ایک خاص ندرت ہے کہ اس کے اندر صعودی اور ہبوطی دونوں ترتیبیں جمع ہو گئی ہیں۔ مقصود تو، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، چند نمایاں نشانیوں کی طرف توجہ دلانا ہے تاکہ ضدیوں کو فرار کی کوئی راہ نہ ملے۔ چنانچہ سب سے قریب کی نمایاں چیز اونٹ کی طرف پہلے اشارہ فرمایا جس کی نفع بخشی سے مخاطبوں میں سے کسی کے لیے مجال انکار نہیں تھی۔ اونٹ کی طرف اشارہ کرنے کے بعد وہیں سے آسمان کی طرف توجہ دلا دی کہ ایک نظر اس کو بھی دیکھیں۔ پھر زمین کی طرف بازگشت ہوئی تو بیچ میں پہاڑ آ گئے، ان کی طرف توجہ دلا دی۔ پہاڑوں کے بعد مسطح زمین توجہ کے لیے اپنے اندر قدرتی کشش رکھتی ہے۔
ان میں سے دو نشانیاں۔۔۔ اونٹ اور زمین۔۔۔ ربوبیت کے پہلو سے زیادہ نمایاں ہیں اور دو۔۔۔ آسمان اور پہاڑ۔۔۔ خالق کی قدرت و حکمت کے پہلو سے۔ خالق کی انہی صفتوں پر قیامت، معاد اور جزا و سزا کے پورے فلسفہ کی بنیاد ہے جس کی وضاحت اس کتاب میں ہم برابر کرتے آ رہے ہیں۔ اب دیکھیے اس ترتیب بیان نے نگاہ کی ایک بڑی گردش میں کس طرح ان تمام نمایاں آثار کو سامنے کر دیا ہے جو اس فلسفہ کے حق ہونے کی گواہی دے رہے ہیں۔
Ayah 88:21نبی صلعم کی طرف التفات:
انذار کے حق میں دلائل بیان کرنے کے بعد یہ نبی ﷺ کی طرف آپ کو تسلی دینے کے لیے التفات ہے کہ جو لوگ تمہارے انذار کو جھٹلا رہے ہیں وہ اس وجہ سے نہیں جھٹلا رہے ہیں کہ تمہارے انذار کے حق میں دلائل نہیں ہیں۔ دلائل تو زمین سے لے کر آسمان اور آسمان سے لے کر زمین تک چپہ چپہ پر ہیں لیکن ان سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جن کے اندر خشیت ہوتی ہے۔ انہی لوگوں کی طرف سابق سورہ میں ’سَیَذَّکَّرُ مَنْ یَّخْشٰی‘ (الاعلیٰ ۸۷: ۱۰) کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے۔ رہے وہ لوگ جن کے دلوں پر قساوت چھا چکی ہے وہ ان نشانیوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے چنانچہ سابق سورہ میں فرمایا ہے: ’وَیَتَجَنَّبُھَا الْاَشْقٰی‘ (الاعلیٰ ۸۷: ۱۱) مطلب یہ ہے کہ آپ ان کے رد و قبول سے بے نیاز ہو کر اپنی تذکیر و تبلیغ جاری رکھیں اور مطمئن رہیں کہ آپ کا فرض صرف تبلیغ و تذکیر ہی ہے۔
Ayah 88:22یہ ذمہ داری آپ پر نہیں ہے کہ لازماً آپ ان کے دلوں میں ایمان اتار ہی دیں۔ اللہ نے آپ کو یاددہانی کر دینے والا بنا کر بھیجا ہے۔ ان کے ایمان کا ٹھیکہ دار بنا کر نہیں بھیجا ہے کہ ایمان نہ لانے کی پرسش آپ سے ہو۔
Ayah 88:23یہاں حرف استثناء سے پہلے کلام میں کچھ حذف ہے جو قرینہ سے سمجھا جاتا ہے۔ اس حذف کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہو گی کہ ’جو صاحب توفیق ہوں گے وہ آپ کی دعوت سے فیض پائیں گے‘ رہے وہ جو منہ موڑیں اور کفر کریں گے تو اللہ ان کو سب سے بڑے عذاب کا مزا چکھائیں گے۔
Ayah 88:24’اَلْعَذَابَ الْأَکْبَرَ‘ سے مراد جہنم کا عذاب ہے جو دنیا کے تمام عذابوں سے بڑا ہو گا۔ اس دنیا کا کوئی عذاب نہ شدت میں اس کا مقابلہ کر سکتا نہ پائیداری میں۔ سابق سورہ میں اس کو ’اَلنَّارَ الْکُبْرٰی‘ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے لیکن مدعا ایک ہی ہے۔
Ayahs 88:25–26یعنی کوئی اس مغالطہ میں نہ رہے کہ یہ محض ایک دھمکی ہے۔ بلکہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ ہر جان کی واپسی ہماری ہی طرف ہونی ہے کسی اور کی طرف نہیں ہونی ہے اور یہ بھی ہم پر واجب ہے کہ ہم لوگوں کا حساب کریں اور ان کے اعمال کے مطابق ان کو جزا و سزا دیں۔ اگر ہم ایسا نہ کریں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ دنیا ایک بازیچۂ اطفال اور یک بالکل بے مقصد و بے حکمت کارخانہ ہے حالانکہ خالق کا کوئی کام بھی نہ حکمت سے خالی ہے نہ ہو سکتا ہے۔