Ayah 89:11 فجر یا سپیدہ ئسحر کے نمودار ہونے کے وقت کی اہمیت یہ ہے کہ اس وقت غفلت سے سوئی ہوئی ساری دنیا کو بیداری کا پیغام ملتا ہے۔ رات کو انسان تھکن سے چور ہو کر سوتا ہے اور صبح جب بیدار ہوتا ہے تو یہ بالکل تازہ دم ہوتا ہے۔
Ayah 89:22 دس راتوں سے مراد بعض مفسرین نے رمضان کا آخری عشرہ لیا ہے۔ جن میں لیلۃ القدر ہوتی ہے اور بعض مفسرین نے فجر سے عام فجر نہیں بلکہ یوم النحر یا عید الاضحیٰ کی فجر مراد لی ہے اور دس راتوں سے مراد یکم ذی الحجہ سے دس ذی الحجہ تک کی راتیں ہیں اور یہ دونوں قسم کی دس دس راتیں بڑی فضیلت والی اور اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔
Ayah 89:33 شفع اور وتر کا لغوی مفہوم :۔ شَفْعَ : لفظ شَفْعِ کا اطلاق ان اشیاء پر ہوتا ہے جن میں نر و مادہ کی تمیز نہیں اور شفع کے معنی ایک چیز کو اسی جیسی دوسری چیز سے ملا دینا اور اس طرح کرکے دو دو ملی ہوئی چیزوں کو شفع کہتے ہیں۔ اور جس کے ساتھ اس جیسی چیز نہ ہو اسے وتر کہتے ہیں۔ وتر کی بہترین مثال خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اور نمازوں میں اس کی مثال نماز مغرب کے فرض ہیں اور عشاء کے آخر میں وتر کی نماز اور وتر کی نماز کو وتر اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ جتنے بھی پڑھے جائیں۔ مثلاً ایک، تین، پانچ، سات، نو، گیارہ وہ وتر ہی رہیں گے۔ اور وتر حقیقتاً ایک ہی رکعت ہے اب اس کے ساتھ جتنے بھی جفت نفل پڑھے جائیں۔ ایک وتر سب کو وتر بنا دے گا۔ اور اعداد میں ہر وہ ہندسہ جو دو پر تقسیم ہوجائے وہ شفع یا جفت ہے۔ جیسے دو ، چار، چھ، آٹھ وغیرہ اور جو دو پر پورا تقسیم نہ ہو وہ وتر یا طاق ہے۔ جیسے ایک، تین، پانچ، سات وغیرہ۔ مثلاً سات کے وتر ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ چھ کے تو تین جوڑے جوڑے بن گئے اور ساتویں وتر نے مل کر سب کو وتر بنادیا۔ کائنات میں اکثر اشیاء میں تو نر و مادہ کی تقسیم پائی جاتی ہے اور جن میں نہیں پائی جاتی ان میں بھی زوج ہوتا ہے۔ جیسے جوتی کا ایک پاؤں دوسرے پاؤں کا زوج ہے اور جب یہ دونوں اکٹھے ہوگئے تو یہ شفع یا جفت ہوگیا۔ اور بعض ایسی چیزیں ہیں جن کی مثل کوئی اور چیز نہیں ہوتی۔ یہی اشیاء وتر ہیں اور ایسی اشیاء کی موجودگی اور استقلال اپنی جگہ ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔
Ayah 89:44 یَسَرْ : سرٰی۔ یسری کا لفظ رات کو چلنے کے لیے مخصوص ہے، رات کو سفر کرنا اور ساریہ رات کو سفر کرنے والی چھوٹی سی جماعت کو کہتے ہیں۔ اور اسری کے معنی کسی دوسرے کو رات کے وقت سیر کرانا، لے چلنا، سفر کرانا (17: 1) اس لحاظ سے اس کا ایک معنی تو یہ ہوگا کہ اس رات کی قسم جب رسول اللہ ﷺ نے معراج کا سفر کیا اور دوسرا معنی یہ ہے کہ رات کی قسم جب وہ خود جانے لگے یا رخصت ہونے لگے۔ اس لحاظ سے ان آیات میں ایک ہی وقت دو طرح کے انداز بیان سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی رات کے رخصت ہونے کا وہی وقت ہوتا ہے جب پو پھوٹتی یا سپیدہ سحر نمودار ہوتا ہے۔
Ayahs 89:5–65 حِجر بمعنی پتھر اور ہر ٹھوس اور سخت چیز جو آڑ کا کام دے سکے۔ اور عقل کو بھی حجر کہتے ہیں وہ اس لحاظ سے کہ وہ بھی ہر اس چیز کو جو نقصان دہ ہو روک دیتی ہے۔ اور ذی حجر یعنی صاحب عقل یا عقلمند۔ اور اس آیت کا دوسرا ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے : کیا یہ (مذکور چار چیزیں) عقلمندوں کے نزدیک قسم کھانے کے لائق نہیں ؟ مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی نکلتا ہے یعنی مذکورہ اشیاء اس نظام کائنات کے نہایت اہم اجزا اور اپنے اپنے مقام پر بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ پھر کیا وہ ہستی جو ایسا نظام کائنات چلا رہی ہے عالم آخرت کو وجود میں نہ لاسکے گی۔
Ayah 89:76 ذکر قوم عاد :۔ ان شہادتوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قوم عاد کا ذکر کیا۔ قوم عاد کو عاد اولیٰ بھی کہا جاتا ہے اور عاد ارم بھی۔ عاد ارم وہ اس لحاظ سے ہیں کہ ارم بن سام بن نوح کی اولاد تھے اور ذات العماد کی کئی توجیہیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ خود بہت بلند وبالا قد و قامت رکھتے تھے۔ دوسری یہ کہ بلند وبالا عمارتیں بنانے کا آغاز انہوں نے ہی کیا تھا۔ تیسری یہ کہ جب وہ سفر کرتے تھے تو اپنے خیمے نصب کرنے کے لیے بہت اونچی اور مضبوط لکڑیاں استعمال کرتے تھے جیسے وہ ستون ہیں۔
Ayah 89:87 یعنی اتنی بلند قامت، زور آور اور مضبوط قوم روئے زمین پر اور کہیں موجود نہ تھی۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس دور میں ساری دنیا میں انہیں کا ڈنکا بجتا تھا، کوئی دوسری قوم ان کی ٹکر کی موجود نہ تھی۔ یہ لوگ بھی آخرت کے منکر فلہٰذا بدکردار اور اللہ کے باغی تھے۔ ان پر سخت ٹھنڈی اور تیز آندھی کا عذاب آیا جس نے انہیں تہس نہس کرکے رکھ دیا۔
Ayah 89:98 ذکر قوم ثمود :۔ دوسری قوم ثمود تھی جسے عاد ثانی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ماہر سنگ تراش تھی۔ پہاڑوں کے اندر اپنے مکان تو کجا شہروں کے شہر پتھروں کو تراش تراش کر بنا رکھے تھے ان لوگوں کا مسکن وادی القریٰ تھا جو مدینہ اور تبوک کے راستہ پر پڑتا ہے۔ یہ بھی آخرت کے منکر فلہٰذا اللہ کے باغی تھے۔ اللہ نے انہیں زلزلے اور چیخ کے عذاب سے تباہ کردیا۔ زلزلہ اتنا شدید تھا کہ ان کے پتھروں کے مکانوں میں دراڑیں اور شگاف پڑگئے۔ پھر ان میں سے بہت سے مکان پہاڑ کے بوجھ کی وجہ سے کھنڈر بن گئے اور وہ خود زلزلہ اور چیخ کی تاب نہ لاکر مرگئے۔
Ayahs 89:10–129 فرعون اور قوم فرعون :۔ تیسری سرکش قوم فرعون اور اس کی قوم تھی۔ اور فرعون کو میخوں والا کہنے کی بھی کئی توجیہات بیان کی گئی ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ میخوں والے سے مراد اس کی سلطنت کی مضبوطی ہے جیسے اس سلطنت کی جڑیں میخوں کی طرح زمین میں ٹھونک دی گئی ہوں۔ دوسری یہ کہ میخوں سے مراد اس کی افواج اور لاؤ لشکر ہیں جن کے بل بوتے پر وہ اللہ کا باغی اور مدمقابل بن بیٹھا تھا۔ تیسری یہ کہ جب اس کے لشکر نقل و حرکت کرتے تو خیموں کو نصب کرنے کے لیے بڑی بڑی میخیں استعمال کرتے تھے۔ اور چوتھی یہ کہ جب اس نے کسی کو سولی چڑھانا ہوتا تو اسے تختہ دار پر رسیوں سے کسنے کے بجائے اس کے ہاتھوں اور پاؤں میں میخیں ٹھونک دیا کرتا تھا اور یہ سب باتیں اس کی قوت، اس کی نخوت، غرور اور سنگدلی پر دلالت کرتی ہیں۔ فرعون اور اس کی قوم بھی آخرت کی منکر اور اللہ کی نافرمان تھی۔ ان لوگوں کو اللہ نے بحر قلزم میں غرق کرکے دنیا کو ان کے وجود سے پاک کردیا۔
Ayah 89:1310 ان تینوں تاریخی واقعات میں قدر مشترک یہ ہے کہ یہ سب اقوام آخرت کی منکر تھیں۔ اور جو فرد یا قوم آخرت پر ایمان نہ رکھتی ہو۔ وہ اپنی زندگی بےباکانہ اور شتر بےمہار کی طرح گزارتی اور فسق و فجور میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ اور جب وہ ایک مخصوص حد سے آگے بڑھ جاتی ہے تو اس کے گناہوں کا ڈول بھر جاتا ہے اور عذاب الٰہی کی گرفت میں آجاتی ہے۔ ان واقعات سے استدلال یہ پیش کیا گیا ہے کہ آخرت کا عقیدہ محض تصوراتی نظر یہ نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ اور جس طرح انسان کسی ٹھوس حقیقت کے مقابلہ پر اتر آنے اور ٹکرانے سے پاش پاش ہوجاتا ہے۔ آخرت کے منکروں کا بھی یہی حال ہوتا رہا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔
Ayahs 89:14–1511 تاک یا گھات ایسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی شخص کسی کی انتظار میں اس لیے چھپا بیٹھا ہوتا ہے کہ جب وہ چیز اس کی زد میں آئے تو اس کے جال میں پھنس جائے۔ گزرنے والا اپنے انجام سے غافل اور بےفکری سے جارہا ہوتا ہے کہ اچانک شکار ہوجاتا ہے۔ یہی صورت حال اللہ کے مقابلہ میں ان ظالموں کی ہے جنہیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ کوئی ہستی انہیں دیکھ رہی ہے۔ وہ بڑی دیدہ دلیری سے گناہوں میں آگے ہی بڑھتے چلے جاتے ہیں تاآنکہ وہ حد آجاتی ہے جس سے آگے اللہ انہیں بڑھنے نہیں دینا چاہتا، اس وقت اچانک ان پر اللہ کے عذاب کا کوڑا برس جاتا ہے۔ اور اگر کسی فرد یا قوم پر دنیا میں ایسا وقت نہ بھی آئے تو ہر شخص کی موت اس کا یقینی وقت ہے۔ جیسا کہ مجاہد (رح) کہتے ہیں کہ لبالمرصاد کا معنی الیہ المصیر یعنی سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
Ayahs 89:16–1912 رزق کی کمی بیشی دونوں میں انسان کی آزمائش :۔ اللہ تعالیٰ انسان کی دونوں طرح سے آزمائش کرتا ہے۔ نعمتوں اور مال و دولت کی فراوانی سے بھی کہ آیا انسان اللہ کی نعمتوں کا شکر بجا لاتا ہے ؟ اور رزق کی تنگی سے بھی کہ آیا انسان ایسے اوقات میں صبر سے کام لیتا ہے اور اللہ کی رضا پر راضی و مطمئن رہتا ہے ؟ مگر مال و دولت کے معاملہ میں انسان کی قدریں ہی عجیب اور غلط قسم کی ہیں۔ جب اس پر انعامات کی بارش ہو رہی ہوتی ہے تو وہ یہ نہیں سمجھتا کہ میں آزمائش میں پڑا ہوا ہوں بلکہ یہ سمجھتا ہے کہ اللہ آج کل مجھ پر بڑا مہربان ہے اور جب تنگی کا دور آتا ہے۔ اس وقت بھی وہ یہ نہیں سمجھتا کہ میری آزمائش کی جارہی ہے بلکہ یہ سمجھتا ہے کہ اللہ نے تو میری توہین کر ڈالی ہے۔ گویا اس کی نظروں میں عزت اور ذلت کا معیار صرف مال و دولت کی کمی بیشی ہے۔ مال و دولت زیادہ ہو تو ایسا آدمی معزز ہے اور اگر تنگ دست ہو تو وہ ذلیل ہے۔
Ayah 89:2013 یعنی کسی کی عزت و ذلت کو ماپنے والی تمہاری قدر ہی سراسرا غلط ہے۔ عزت و ذلت کا اصل معیار پیسہ اور مال و دولت نہیں بلکہ اس کا اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار ہوتا ہے۔ مگر تمہارا یہ حال ہے کہ مال و دولت کو ہی اپنا معبود سمجھے بیٹھے ہو اور اسی پر مر مٹتے ہو۔ یتیموں اور بیواؤں کی عزت کرنا تو درکنار ان کے پاس اگر کوئی چیز موجود ہو تو اسے بھی اڑا لینے کی کوشش کرتے ہو۔ تمہاری پیسہ سے محبت اور بخل کا یہ حال ہے کہ کسی مسکین کی احتیاج دور کرنے کے لیے اسے کچھ دینا یا کھانا کھلانا تو درکنار دوسروں کو ترغیب بھی نہیں دیتے۔ میت کی وراثت سے بیوہ کو لڑکیوں کو اور بچوں سب کو محروم کردیتے ہو۔ اور جس کا زور چلتا ہے وہ ہی ساری میراث ہڑپ کرجاتا ہے تمہیں تو بس پیسہ ہی چاہیے اور اس کے حصول کے لیے ہر جائز اور ناجائز ذریعہ اختیار کرنے پر پہلے سے ہی تیار بیٹھے ہوتے ہو۔ تمہارے لچھن یہ ہوں تو اللہ کے نزدیک تمہاری عزت کیوں ہو ؟۔
Ayah 89:2114 یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ تمہاری ایسی کرتوتوں کی تم سے باز پرس نہ کی جائے اور ایسا وقت یقیناً آنے والا ہے۔
15 یعنی زمین پر متواتر زلزلوں اور ضربوں سے اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور سب نشیب و فراز برابر کردیے جائیں گے اور زمین ایک چٹیل میدان بنادی جائے گی۔
Ayah 89:2216 یہ آیت بھی عقل پرستوں کے لیے آزمائش ہے اور وہ طرح طرح سے اس کی تاویل کرتے ہیں۔ انہیں مشکل یہ پیش آتی ہے کہ اللہ تو ہر جگہ موجود ہے وہ آئے گا کہاں سے ؟ حالانکہ آیت کے الفاظ اتنے واضح ہیں کہ ان میں تاویل کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔ ہمارا کام صرف یہ ہونا چاہیے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ فرمائے اسے من و عن تسلیم کرلینا چاہیے۔ یہ بھی ہمیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات سات آسمانوں کے اوپر عرش پر ہے۔ وہاں سے وہ کیسے آئے گا یہ جاننے کے ہم مکلف نہیں جیسے اس کی شان ہے ویسے ہی آئے گا۔ اور اس حال میں آئے گا کہ فرشتے صفیں باندھے قطار در قطار اس کے ساتھ ہوں گے۔ یہی وہ دن ہوگا جب تم لوگوں سے تمارے اعمال کی باز پرس ہوگی۔
Ayahs 89:23–2517 یعنی جب آخرت اور جنت و دوزخ کے منکرین جہنم کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیں گے تو کہیں گے کہ آج ہمیں جو بھی نصیحت کی جائے اور حکم دیا جائے ہم اسے ماننے کو تیار ہیں۔ مگر اس وقت چونکہ ان کی فرمانبرداری اختیاری نہیں اضطراری ہوگی۔ ان کا ایمان لانا بالغیب نہیں بلکہ بالشہادت ہوگا لہذا اس کی کچھ قدر و قیمت نہ ہوگی۔ کسی چیز کو دیکھ کر تو ہر کوئی یقین کر ہی لیتا ہے۔ اس دن ایسے لوگ بڑی حسرت سے کہیں گے کہ کاش ہم نے دنیا میں یہ نصیحت قبول کرلی ہوتی۔ اور آج کے دن کے لیے ہم نے بھی کچھ اچھے کام کیے ہوتے۔
Ayah 89:2618 ایسے لوگوں کو اس اس دن ایسی سخت مار پڑے گی اور سزا ملے گی جیسی کوئی دوسرا دے ہی نہیں سکتا۔ فرشتے ان کے گلوں میں طوق اور پاؤں میں زنجیریں ڈال کر جہنم میں پھینک دیں گے پھر اوپر سے جہنم کو بند کردیا جائے گا۔ اس میں سانپ اور بچھوؤں کے ڈسنے کا عذاب الگ ہوگا اور فرشتوں کے مارنے اور ڈانٹنے کا الگ۔ پھر ذہنی عذاب یہ ہوگا کہ اس عذاب سے نجات کی انہیں کوئی صورت نظر نہ آئے گی۔ علاوہ ازیں یہ عذاب وقتی اور عارضی نہیں بلکہ مستقل اور دائمی ہوگا۔ یہ فکر ان کے جسمانی عذاب کو کئی گنا زیادہ بنا دے گی۔
Ayahs 89:27–2819 نفس مطمئنہ کیا ہے ؟ اس کی وضاحت کے لیے سورة القیامۃ کی آیت نمبر 2 کا حاشیہ نمبر 2 ملاحظہ فرمائیے۔
Ayahs 89:29–3020 یہ بات اسے موت کے وقت بھی کہی جائے گی۔ میدان محشر میں قبروں سے اٹھنے اور میدان محشر کی طرف چلتے وقت بھی کہی جائے گی۔ اور عدالت الٰہی میں فیصلہ کے بعد بھی کہی جائے گی۔ گویا ہر مرحلے پر اسے یہ اطمینان دلایا جائے گا کہ وہ اللہ کے فرمانبردار بندوں میں شامل ہے اور جنت کا مستحق ہے۔