90. Surah Al-Balad

البلدThe City · 20 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 90:1

لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:1 in the Quran reader

میں اس شہر (مکہ) کی قسم کھاتا 1 ہوں

1 مسلمانوں کے علاوہ کفار مکہ کے ہاں بھی مکہ کی اہمیت و عظمت مسلّم تھی۔ بلکہ کفار مکہ تو اس شہر کی برکت کی وجہ سے کئی طرح کے دنیوی، تجارتی اور سیاسی مفادات بھی حاصل کر رہے تھے۔ عرب بھر میں ان کی عزت و وقار اور دولت و شہرت کا سبب یہی شہر اور اس میں کعبہ کی موجودگی تھی۔
Ayah 90:2

وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:2 in the Quran reader

اور آپ اس شہر کو حلال 2 بنانے والے ہیں

2 حل کا لغوی مفہوم :۔ حِلَّ : حَلَّ کا بنیادی معنی گرہ کھولنا اور اس کی ضد عَقَدَ یعنی گرہ لگانا ہے۔ ارباب حل و عقد، ارباب بست و کشاد مشہور الفاظ ہیں۔ اور سامان باندھنے اور کھولنے کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ مسافر سامان باندھ کر سفر پر جاتا ہے اور جہاں فروکش ہوتا ہے تو سامان کھول دیتا ہے۔ لہذا حل کا لفظ کسی جگہ اترنے، فروکش ہونے اور قیام پذیر ہونے کے لیے بھی استعمال ہونے لگا۔ علاوہ ازیں حلال کا لفظ حرام کے مقابلہ میں بھی آجاتا ہے۔ حرام ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے سختی سے منع کیا جائے یعنی اس پر گرہ لگا دی جائے اور حلال اس گرہ کے کھولنے کو کہتے ہیں۔ اور حِلٌّ، حَلَّ سے اسم فاعل ہے۔ اسی وجہ سے حل کے یہاں کئی معنی کیے جاتے ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ مکہ وہ شہر ہے جہاں آپ کسی وقت فاتحانہ حیثیت سے فروکش ہوں گے۔ دوسرا یہ کہ اس شہر میں مسلمانوں پر اور آپ پر ہر طرح کے ظلم و ستم کو حلال سمجھ لیا گیا ہے۔ اور تیسرا یہ کہ ایک وقت آنے والا ہے جبکہ آپ اس شہر میں فاتحانہ حیثیت میں داخل ہو کر اس کی سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) سے لے کر آج تک قائم شدہ حرمت کو توڑ دیں گے اور حلال بنادیں گے گو یہ کام صرف ایک ساعت کے لیے ہی ہوگا۔ ہمارے خیال میں یہی تیسرا مفہوم راجح ہے کیونکہ درج ذیل احادیث اسی مفہوم کی تائید کرتی ہیں : مکہ کی حرمت :۔ 1۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال قبیلہ خزاعہ نے قبیلہ بنو لیث کا ایک آدمی مار ڈالا۔ کیونکہ بنولیث نے خزاعہ کا ایک آدمی پہلے مارا تھا۔ جب آپ ﷺ کو اس واقعہ کی خبر ہوئی تو آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور خطبہ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اصحاب الفیل کو روک کر مکہ سے قتل کو روک دیا۔ اور اب اللہ، اس کا رسول اور مسلمان (مکہ کے کافروں پر) غالب ہیں۔ سن رکھو ! مکہ نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال ہوا ہے نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہوگا اور میرے لیے بھی دن کی ایک ساعت کے لیے حلال ہوا۔ سن رکھو ! مکہ اس وقت بھی حرام ہے یہاں کے نہ کانٹے توڑے جائیں، نہ درخت کاٹے جائیں نہ یہاں سے کوئی گری پڑی چیز اٹھائی جائے۔ الا یہ کہ اٹھانے والا اسے مالک تک پہنچا دینے کا ارادہ رکھتا ہو۔ اگر یہاں کوئی مارا جائے تو اس کے وارث کو دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے۔ یا تو دیت لے لے اور یا قصاص (قاتل اس کے حوالہ کردیا جائے) اتنے میں اہل یمن کے ایک شخص (ابوشاہ) نے آکر عرض کی یارسول اللہ ﷺ ! آپ ﷺ نے جو باتیں فرمائی ہیں۔ مجھے لکھ دیجیے آپ ﷺ نے (صحابہ سے) کہا : اسے لکھ دو پھر ایک قریشی (سیدنا عباسص) نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ ! اذخر (گھاس کاٹنے) کی اجازت دے دیجیے۔ ہم اسے اپنے گھروں اور اپنی قبروں میں بچھاتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا : اچھا اذخر (کاٹنے) کی اجازت ہے۔ (بخاری، کتاب العلم۔ باب کتابۃ العلم) 2۔ ابو شریح نے عمرو بن سعید (جو یزید کی طرف سے حاکم مدینہ تھا) سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ سے دوسرے دن خطبہ ارشاد فرمایا۔ پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا : اللہ نے مکہ کو حرام کیا ہے لوگوں نے نہیں کیا تو جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے یہاں نہ خون بہانا درست ہے اور نہ کوئی درخت کاٹنا اور اگر کوئی شخص یہ دلیل لے کہ اللہ کے رسول یہاں لڑے تو تم اسے کہو : اللہ تعالیٰ نے تو اپنے رسول کو (فتح مکہ کے دن) خاص اجازت دی تھی جو تمہیں نہیں دی۔ اور مجھے بھی صرف دن کی ایک گھڑی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد اس کی وہی حرمت ہے جو کل تھی۔ اور جو شخص یہاں موجود ہے وہ اس کو یہ باتیں بتادے جو یہاں موجود نہیں لوگوں نے ابو شریح سے پوچھا : تو پھر عمرو بن سعید نے اس کا کیا جواب دیا ؟ ابو شریح کہنے لگے : عمرو نے یہ جواب دیا کہ : میں تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ مکہ گنہگار کو پناہ نہیں دیتا اور نہ اس کو جو خون یا چوری کرکے بھاگے۔ (بخاری، کتاب العلم۔ باب لیبلغ العلم الشاہد الغائب) اس آیت میں آپ ﷺ کو تسلی بھی دی گئی ہے اور ایک بہت بڑی پیشین گوئی بھی ہے جو اس وقت کی گئی جب مسلمان کافروں کے ظلم و جور کی چکی میں پس رہے تھے اور اس وقت کسی کے حاشیہ خیال میں بھی یہ بات نہ آسکتی تھی۔ مگر اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یہ پیشین گوئی 8 ھ میں سو فیصد پوری ہوئی۔
Ayahs 90:3–4

وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَۙ Open ayah 90:3 in the Quran reader

اور والد 3 (آدم) اور اس کی اولاد کی قسم

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍؕ Open ayah 90:4 in the Quran reader

کہ ہم نے انسان کو سختی جھیلتے رہنے والا پیدا کیا ہے

3 فی کبد کا مفہوم :۔ تیسری قسم آدم اور تمام اولاد آدم یعنی تمام نوع انسان کی زندگی کو شاہد بنا کر اٹھائی گئی ہے۔ اور تینوں قسمیں اس بات پر اٹھائی گئیں کہ انسان کی تخلیق ہی اس انداز پر ہوئی ہے کہ وہ ساری عمر سختیاں جھیلتا رہے۔ دکھ اور رنج سہتا رہے۔ یہ رنج اور مصیبتیں خواہ قدرتی ہوں یا دوسروں نے اسے پہنچائی ہوں یا اپنی ہی وجہ سے اسے پہنچ رہی ہوں۔ کبد کا معنی جگر ہے جو مشہور عضو انسانی ہے۔ اور اس لفظ میں سختی اور قوت کا مفہوم پایا جاتا ہے اور فی کبد محاورۃً استعمال ہوتا ہے اور یہ انسانی فطرت کا اظہار کرتا ہے۔ انسان کے دل میں ایک خواہش پیدا ہوتی ہے۔ جسے پورا کرنے کے لیے کئی طرح کے رنج و الم سہتا ہے اور وہ ابھی پوری نہیں ہو پاتی کہ اتنے میں چند اور خواہشیں پیدا ہوجاتی ہیں۔ اب وہ انہیں پورا کرنے اور رنج و محن سہنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اس کی تمام عمر بیت جاتی ہے۔ پھر قدرتی تکلیفیں اور دوسروں کے ہاتھوں پہنچنے والی تکلیفیں اور ان کی مدافعت کا سلسلہ مستزاد ہوتا ہے۔
Ayah 90:5

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌۘ Open ayah 90:5 in the Quran reader

کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ کوئی اس پر 4 قطعاً قابو نہ پاسکے گا ؟

4 انسان جن تکلیفوں میں زندگی گزارتا ہے ان میں بیشتر ایسی ہوتی ہیں جو اس کے اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی، اپنے نفس کی خواہشات کی تکمیل کی وجہ سے ہوتی ہیں جن میں سے اکثر غلط اور ناجائز قسم کی ہوتی ہیں جنہیں وہ پورا کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیتا ہے۔ وہ دوسروں پر کئی طرح کی زیادتیاں بھی کرجاتا ہے اور اس بات سے غافل اور بےنیاز ہوتا ہے کہ کوئی ہستی اسے دیکھ بھی رہی ہے اور اس پر گرفت بھی کرسکتی ہے۔
Ayah 90:6

یَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًاؕ Open ayah 90:6 in the Quran reader

کہتا ہے : میں نے ڈھیروں 5 مال اڑا دیا

5 ایسی ہی ناجائز خواہشات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ محض نمود و نمائش اور تعلی کی خاطر اپنا مال خرچ کرتا ہے اور جتنا خرچ کرتا ہے اس سے کئی گنا بڑھا چڑھ کر بتاتا ہے کہ میں نے اتنا اور اتنا مال اپنے بیٹے کی شادی پر خرچ کیا تھا یا فلاں رسم کو پورا کرنے پر خرچ کیا تھا۔
Ayahs 90:7–8

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 90:7 in the Quran reader

کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اسے کسی نے نہیں 6 دیکھا ؟

اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَیْنَیْنِۙ Open ayah 90:8 in the Quran reader

کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہیں بنائیں ؟

6 یعنی اس نے یہ مال کن ذرائع سے کما یا تھا اور کیسے ناجائز ذرائع میں خرچ کر رہا ہے اور کیسی فاسدنیت سے خرچ کر رہا ہے۔
Ayah 90:9

وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیْنِۙ Open ayah 90:9 in the Quran reader

اور ایک زبان اور دو ہونٹ 7 بھی ؟

7 قرآن میں اکثر مقامات پر انسان کو متنبہ کرنے کے لیے اس کی آنکھوں اور اس کے کانوں یا بصارت اور سماعت کا ذکر آیا ہے۔ جبکہ یہاں آنکھوں کے ساتھ کانوں کے بجائے انسان کے اعضائے قوت گویائی کا ذکر کیا گیا ہے جن سے وہ اپنے مافی الضمیر کا اظہار کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو جو آنکھیں، کان، کان یا زبان دی گئی ہے تو یہ گائے بھینسوں کی آنکھ، کان یا زبان جیسی نہیں ہے کہ وہ انہیں صرف اپنے دنیوی مفادات کے لیے استعمال میں لائے۔ بلکہ اسے جانوروں سے زائد قوت تمیز، عقل وشعور بھی دی گئی ہے تاکہ وہ انہیں اعضاء کو کام میں لاکر اپنے مالک حقیقی کو پہچانے۔
Ayah 90:10

وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ Open ayah 90:10 in the Quran reader

اور اسے دونوں راہیں نہیں دکھا 8 دیں ؟

8 اس آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ ہم نے انسان کے پیدا ہوتے ہی اس کی ماں کی چھاتیوں کی طرف رہنمائی کردی تاکہ وہ نشوونما پاسکے۔ اعضائے انسانی کے ذکر کے لحاظ سے یہ مطلب بھی درست ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اسے بھلائی اور برائی کے دونوں راستے بتا دیے۔ اسی کا نام قوت تمیز اور عقل ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انبیاء بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر ان راہوں کی پوری وضاحت بھی کردی۔
Ayah 90:11

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ٘ۖ Open ayah 90:11 in the Quran reader

مگر اس نے دشوار گزار گھاٹی 9 سے گزرنے کی ہمت نہ کی

9 اس آیت میں دو الفاظ قابل وضاحت ہیں ایک اقتحام دوسرا عقبہ۔ قحم (فی الامر) بمعنی بلا سوچے کسی معاملہ میں داخل ہوجانا اور اِقْتَحَمَ (الامر) بمعنی اپنے آپ کو مشقت کے ساتھ کسی معاملہ میں پھنسا دینا یا کسی مشکل کام میں جاگھسنا۔ اور عقبہ بمعنی کسی پہاڑ یا گھاٹی پر چڑھنے کا دشوار گزار راستہ جو پہاڑوں کے درمیان سے گزرتا ہو اور اس لفظ سے صرف اوپر چڑھنے کا راستہ ہی مراد لیا جاتا ہے، نیچے اترنے کا نہیں۔
Ayahs 90:12–15

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُؕ Open ayah 90:12 in the Quran reader

اور آپ کیا جانیں کہ وہ دشوارگزار گھاٹی 10 کیا ہے ؟

فَكُّ رَقَبَةٍۙ Open ayah 90:13 in the Quran reader

وہ ہے کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا

اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍۙ Open ayah 90:14 in the Quran reader

یا فاقہ کے دنوں میں کھانا کھلانا

یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍۙ Open ayah 90:15 in the Quran reader

کسی قرابت دار یتیم کو

10 یہ گھاٹی دراصل اخلاقی بلندیاں ہیں اور ان پر چڑھنے کا راستہ دشوار گزار اس لحاظ سے ہے کہ ایسے راستے عموماً انسان کی خواہش کے خلاف اور طبیعت کے لئے ناگوار اور گرانبار ہوتے ہیں۔
Ayah 90:16

اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍؕ Open ayah 90:16 in the Quran reader

یا کسی خاکسار 11 مسکین کو

11 دشوار گزار گھاٹی پر چڑھنے کے اوصاف :۔ اس گھاٹی پر چڑھنے کے چار کام یہاں بیان کیے گئے ہیں اور ان چاروں کا تعلق اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے ہے۔ جو انسان کو طبعاً ناگوار ہے۔ اوپر ایسے شخص کا ذکر آیا ہے جو اپنے نام و نمود اور شہرت اور شیخی بگھارنے کے لیے مال خرچ کرتا پھر لوگوں میں بڑ ہانکتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اتنا اور اتنا مال فلاں فلاں کاموں میں خرچ کردیا ہے۔ اب یہ بتایا جارہا ہے کہ اگر مال خرچ کرنا ہے تو اس کے بہترین مصرف یہ ہیں کہ مال خرچ کرکے کسی غلام کو آزادی دلادی جائے۔ اس کی مکاتبت میں اس کی مدد کی جائے۔ قحط کے دنوں میں لوگوں کو غلہ مہیا کیا جائے یا انہیں کھانا کھلایا جائے۔ یتیموں کی پرورش کی جائے۔ اور اگر وہ یتیم قرابتدار بھی ہو تو وہ اور بھی زیادہ پرورش اور امداد کا مستحق ہے۔ یتیموں کے علاوہ دوسرے ضرورت مندوں کی ضروریات کو پورا کیا جائے جن کو رہنے کو کٹیا اور سونے کو بستر، پہننے کو لباس اور کھانے کو غذا بھی میسر نہیں۔ یہی وہ کام ہیں جو ایک انسان کو بلند مرتبہ تک پہنچانے والے ہیں۔ اور یہ سب کام ایسے ہیں جن کی کتاب و سنت میں جا بجا ترغیب دی گئی ہے اور ان کا بڑا ثواب بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 90:17

ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِؕ Open ayah 90:17 in the Quran reader

پھر (اس کے ساتھ یہ کہ) وہ ان لوگوں سے ہوا جو ایمان لائے اور ایک دوسرے کو صبر کرنے کی اور ایک دوسرے پر رحم کرنے کی وصیت 12 کی۔

12 اصحاب الیمین کے لئے کونسی صفات ضروری ہیں :۔ اس آیت سے بہت سی باتیں معلوم ہوتی ہیں ایک یہ کہ انسان کتنے ہی اچھے اعمال بجا لائے جب تک ایماندار نہ ہو، اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہ رکھتا ہو، اس کے اعمال آخرت میں کسی کام نہیں آئیں گے بلکہ برباد ہوجائیں گے۔ دوسری یہ کہ صرف ایمان لانا ہی کافی نہیں بلکہ باقی ایمانداروں کا ساتھ دینا بھی ضروری ہے تاکہ اسلام کو غالب کرنے اور غالب رکھنے کے راستہ میں جو مشکلات پیش آتی ہیں۔ ان کی اجتماعی طور پر مدافعت کی جائے۔ تیسری یہ کہ اسلام کی نظر میں اجتماعی زندگی ہی پسندیدہ ہے۔ تاکہ اسلامی معاشرے کے سب افراد ایک دوسرے کے دکھ درد اور رنج و راحت میں شریک ہو سکیں۔ اس سلسلے میں چند احادیث ملاحظہ فرمائیے۔ 1۔ ابو موسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے ایک عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط بنائے رکھتا ہے۔ پھر آپ نے اپنی انگلیوں کو قینچی کرلیا۔ (بخاری کتاب الادب باب تعاون المومنین بعضھم بعضاً ) 2۔ انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : آپس میں بغض حسد نہ کرو۔ ترک ملاقات نہ کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو اور کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک ملاقات کرے۔ بخاری کتاب الادب باب ما ینتہی عن التحاسد) چوتھی یہ کہ مسلمان صرف خود ہی صبر نہیں کرتے بلکہ سب ایک دوسرے کو بھی صبر کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔ اور صبر کا مفہوم بڑا وسیع ہے۔ ایک مسلمان کی پوری زندگی صبر ہی صبر ہے۔ اسلام کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا بھی صبر ہے اور احکام شریعت پر ثابت قدم اور ان کا پابند رہنا بھی صبر ہے۔ پانچویں یہ کہ وہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو ایک دوسرے پر رحم کرنے کی تاکید بھی کرتے رہتے ہیں چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : 1۔ جو شخص دوسروں پر رحم نہیں کرتا اس پر (اللہ کی طرف سے) بھی رحم نہیں کیا جائے گا۔ (بخاری کتاب الادب باب رحمۃ الناس والبہائم) اور ایک دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیں۔ تم اس مخلوق پر رحم کرو جو زمین میں ہے تم پر وہ ذات رحم کرے گی جو آسمانوں میں ہے۔ 2۔ مسلمان ایک دوسرے پر رحم کرنے دوستی رکھنے اور مہربانی برتنے میں ایک جسم کی طرح ہیں جب ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سب اعضاء بےچین ہوجاتے ہیں نیند نہیں آتی اور بخار چڑھ جاتا ہے۔ (حوالہ ایضاً ) 3۔ ایک دفعہ ایک آدمی سفر کر رہا تھا اسے سخت پیاس لگی۔ پھر ایک کنواں ملاتو اس میں اترا اور پانی پیا۔ باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک کتا پیاس کے مارے کیچڑ چاٹ رہا ہے۔ اس نے سوچا کہ کتے کو پیاس کی وجہ سے ایسی ہی تکلیف ہوگی جیسے مجھے ہوتی ہے۔ وہ پھر کنویں میں اترا اور اپنے موزے میں پانی بھر کر اور اسے منہ میں تھام کر اوپر چڑھا پھر کتے کو پانی پلایا۔ اللہ نے اس کے کام کی قدر کی اور اس کو بخش دیا لوگوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا ہمیں جانوروں پر رحم کرنے میں بھی ثواب ملے گا ؟ فرمایا ہر تازہ کلیجے والے پر ثواب ملے گا۔ (حوالہ ایضاً ) 4۔ آپ ایک دفعہ اپنے صحابہ کرام ؓ کو نماز پڑھا رہے تھے کہ ایک اعرابی (گنوار) نماز میں ہی کہنے لگا : اے اللہ مجھ پر اور محمد ﷺ پر رحم کر اور ہمارے علاوہ اور کسی پر نہ کر آپ نے جب نماز سے سلام پھیرا تو اس بدو سے فرمایا ارے تم نے تو کشادہ کے آگے بند لگادیا اور کشادہ سے آپ کی مراد اللہ کی رحمت تھی۔ (حوالہ ایضاً )
Ayahs 90:18–19

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 90:18 in the Quran reader

یہی لوگ 13 صاحب سعادت ہیں

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 90:19 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا وہی بدبخت ہیں

13 یعنی جن ایمان داروں میں مندرجہ بالا صفات پائی جائیں تو ایسے ہی لوگ وہ خوش نصیب ہیں جنہیں عرش عظیم کے دائیں طرف جگہ ملے گی۔ اور اعمال نامہ ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔
Ayah 90:20

عَلَیْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ۠ Open ayah 90:20 in the Quran reader

ان کے لیے آگ ہے جو ہر طرف 14 سے بند کردی گئی ہوگی۔

14 اور جو لوگ اللہ کے، آخرت کے اور اللہ کی آیات کے منکر ہیں یہی لوگ اپنی شامت اعمال کے نتیجہ میں ماخوذ ہوں گے۔ انہیں اعمال نامہ بھی پیٹھ کے پیچھے سے بائیں ہاتھ میں تھمایا جائے گا اور انہیں پابند زنجیر و سلاسل جہنم میں پھینک کر جہنم کے سب دروازے بند کردیئے جائیں گے۔