Ayah 91:11 ضُحٰی کے معنی چاشت کا وقت بھی ہے جب سورج خاصا بلند ہوجاتا ہے اور اس وقت کی دھوپ بھی جبکہ روشنی کے علاوہ سورج کی گرمی بھی اہل زمین کو متاثر کرنا شروع کردیتی ہے۔
Ayah 91:22 تلیٰ بمعنی کسی چیز کا کسی دوسری چیز کے پیچھے آنا اور بار بار آتے رہنا۔ یعنی مہینہ کے اکثر ایام ایسے ہوتے ہیں کہ سورج ڈوبنے کے بعد چاند نکل آتا ہے۔
Ayah 91:33 یعنی جب دن کے وقت سورج پوری روشنی کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے اور تمام اشیاء کو نمایاں کردیتا ہے۔
Ayah 91:44 یعنی جب رات کی تاریکی چھا جائے اور سورج کی روشنی کا نشان تک باقی نہ رہ جائے۔
Ayah 91:55 اس کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ مَا کو مَن کے معنی میں لیا جائے اور اس کی مثالیں بھی قرآن میں موجود ہیں۔ اس لحاظ سے اس کا ترجمہ وہی ہوگا جو اوپر مذکور ہے۔ اور دوسرا یہ کہ ما کو ما کے معنی میں ہی سمجھا جائے اس صورت میں معنی یہ ہوگا۔ اور آسمان کی قسم جیسا کہ اسے شان و عظمت والا بنایا ہے۔
Ayah 91:66 یعنی زمین کو اس طرح پھیلا دیا کہ وہ مخلوق کی بودو باش کے قابل بن جائے۔ انہیں کھانے کو رزق بھی فراہم ہوتا رہے اور رہائش بھی۔ آیت نمبر 5 کی طرح اس کے بھی دونوں مطلب ہوسکتے ہیں۔
Ayah 91:77 انسان فطرتاً نیک اور موحد پیدا کیا گیا :۔ یعنی نفس کو پیدا کرنے کے بعد اس میں وہ تمام ظاہری اور باطنی قوتیں رکھ دیں جن سے کام لے کر وہ ایسے سب کام سرانجام دے سکے جن کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ سَوّٰھَا کے مفہوم میں یہ بات شامل ہے کہ انسان پیدائشی طور پر نہ گنہگار پیدا ہوا ہے جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے اور اسی غرض سے انہوں نے کفارہ مسیح کا عقیدہ اختراع کیا اور نہ ہی انسان شرپسند پیدا ہوا ہے جیسا کہ بعض گمراہ فرقوں کا خیال ہے۔ بلکہ انسان کی فطرت میں راستی اور سچائی ودیعت کی گئی ہے۔ جھوٹ بولنا وہ بعد میں سیکھتا ہے۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ خیر خواہی کے جذبہ سے مل جل کر رہنا چاہتا ہے، دوسروں کی بدخواہی اور ایذا پہنچانا وہ بعد میں سیکھتا ہے۔ اس کی فطرت میں توحید ہے، شرک کرنا وہ بعد میں سیکھتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہر بچہ اسلام کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) (مزید تفصیل کے لیے سورة بقرہ آیت نمبر 213 پر حاشیہ نمبر 281 ملاحظہ فرمائیے)
Ayahs 91:8–98 الہام اور وحی کا فرق :۔ فَاَلْھَمَھَا : الہام کے معنی وہ بات ہے جو اللہ تعالیٰ یا ملاء اعلیٰ کی جانب سے بغیر کسی واسطہ کے دل میں ڈال دی جائے اور بمعنی سمجھ اور بصیرت عطا فرمانا۔ توفیق دینا، الہام شیطان کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے جبکہ وہ نصوص شرعیہ کے خلاف ہو۔ وحی اور الہام میں بنیادی فرق یہ ہے کہ الہام کا اطلاق صرف ذوی العقول پر ہوتا ہے جبکہ وحی عام ہے۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ الہام کا تعلق کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے سے ہوتا ہے۔ جبکہ وحی میں بہت زیادہ وسعت ہوتی ہے۔
خ الہام کی تین صورتیں :۔ الہام کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک صورت تو وہ ہے جسے ہم فطری وحی کہہ سکتے ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے ایک پرندے کے چوزے کو پیدا ہوتے ہی ہوا میں اڑنا سکھا دیا ہے یا مچھلی کو پانی میں تیرنا یا شہد کی مکھی کو چھتہ جیسا حیرت انگیز گھر بنانا سکھا دیا یا انسان کے بچہ کو ماں کی چھاتیوں کی طرف لپکنا اور دودھ چوسنا سکھا دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ فطرت میں یہ باتیں نہ رکھتا تو پیدا ہونے والے نادان بچے کو ایسی باتیں سکھانے کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ الہام کی دوسری صورت کسی ایسی بات کا یکدم سوجھ جانا ہے جو انسان کی ذہنی کاوش کا نتیجہ نہیں ہوسکتا۔ چناچہ سائنس کے جتنے اکتشافات اور ایجادات ہوئی ہیں۔ وہ انسانوں کی ذہنی کاوش کے نتیجہ میں نہیں بلکہ ایسے ہی الہام کے نتیجہ میں وجود میں آئی ہیں۔ الہام کی تیسری صورت کا تعلق صرف اخلاقیات سے ہے اور یہی اس آیت میں مذکور ہے یعنی ہر انسان کی فطرت میں خیر و شر کی تمیز رکھ دی گئی ہے۔ پھر انسان کا ضمیر انسان کو ہر وقت متنبہ بھی کرتا رہتا ہے جس کی وجہ سے بسا اوقات اسے برا کام کرنے پر سخت ندامت محسوس ہوتی ہے اور کسی سے بھلائی کرکے انسان خوش ہوتا ہے۔ یہ احساس و امتیاز ایک عالمگیر حقیقت ہے جس کی بنا پر دنیا میں کبھی کوئی انسانی معاشرہ خیر و شر کے تصور سے خالی نہیں رہا ہے۔
Ayah 91:109 آیت نمبر 9 اور نمبر 10 جواب قسم ہے۔ یعنی ابتدا سورة سے آیت نمبر 8 تک جتنی باہم متضاد اشیاء کی قسمیں کھائی گئی ہیں وہ اس حقیقت پر کھائی گئی ہیں کہ جس نے اپنے نفس کو کفر و شرک سے، فاسد عقائد سے اور اخلاق رذیلہ سے پاک کرلیا۔ وہ کامیاب ہوگیا اور جس شخص نے اپنے ضمیر کی آواز کو جو اسے خیر و شر پر متنبہ کرتی رہتی ہے، خاک میں دبا دیا وہ نامراد ہوگیا۔ یعنی جس طرح سورج اور چاند ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ دن اور رات مختلف اور متضاد ہیں۔ زمین اور آسمان ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ فجور اور تقویٰ یا خیر اور شر ایک دوسرے کی ضد ہے۔ اسی طرح خیر و شر کی بنیاد پر اٹھنے والے اعمال کے نتائج بھی یقیناً ایک دوسرے سے متضاد اور مختلف ہونے چاہییں۔ وہ ایک جیسے کبھی نہیں ہوسکتے۔ تقویٰ کی بنیاد پر کیے ہوئے اعمال کا نتیجہ اخروی فلاح و کامیابی ہے جبکہ فجور کی بنیاد پر کیے ہوئے اعمال کا نتیجہ اخروی ناکامی اور نامرادی ہے۔
Ayah 91:1110 اسی حقیقت کو ایک تاریخی نظیر سے سمجھایا گیا ہے اور اس نظیر کے لیے قوم ثمود کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کہ ان کا مسکن مکہ کے قریب تھا اور اہل مکہ میں ان کی داستانیں زبان زد عام تھیں۔ یعنی قوم ثمود نے بھی سرکشی کی راہ اختیار کرتے ہوئے اس حقیقت کی پروا نہ کی اور اللہ کی آیات اور اس کے رسول کی تکذیب کی تھی۔
Ayah 91:1211 یہ قوم کا سب سے زیادہ بدبخت شخص کون تھا ؟ اس کی وضاحت کے لیے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیں۔
عبداللہ بن زمعہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبہ میں صالح پیغمبر کی اونٹنی اور اس شخص کا ذکر کیا جس نے اس اونٹنی کو زخمی کیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا جو بدبخت اس کام کے لیے تیار ہوا وہ ایک جری، شریر اور مضبوط شخص (قدار بن سالف) تھا جو اپنی قوم میں ابو زمعہ کی طرح تھا (بخاری۔ کتاب التفسیر)
Ayah 91:1312 ذکر قوم ثمود :۔ انہیں اللہ کے رسول یعنی صالح (علیہ السلام) نے پہلے ہی تاکید کردی تھی کہ اللہ کی اس اونٹنی کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچانا۔ اور اسے اللہ کی اونٹنی اس لیے کہا کہ یہ ان کا منہ مانگا معجزہ تھا اور قدآور اور عظیم الجثہ اونٹنی ایک پہاڑ کے اندر سے ان کے مطالبہ پر نمودار ہوئی تھی۔ چونکہ یہ اونٹنی ان لوگوں کے مویشیوں جتنا پانی اکیلی ہی پی جاتی تھی اور پانی کی وہاں قلت بھی تھی۔ لہذا صالح (علیہ السلام) نے باری مقرر کردی تھی۔ اور ساتھ ہی یہ بھی تاکید کردی تھی کہ اس کے پانی پینے اور اور باری کے معاملہ میں کسی طرح کی گڑ بڑ نہ کرنا ورنہ تم پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا اور یہ قصہ پہلے متعدد مقامات پر تفصیل سے گزر چکا ہے۔
Ayah 91:1413 یعنی ان لوگوں نے سیدنا صالح (علیہ السلام) کی تنبیہ کو چنداں اہمیت نہ دی اور اس تنبیہ کو جھوٹ ہی سمجھا۔14 اونٹنی کو ہلاک کرنے والا صرف ایک شخص قدار بن سالف تھا جو خود بھی زانی اور ایک زانیہ عورت کا عاشق تھا۔ اسی زانیہ عورت کی انگیخت پر اس نے اس کام کا بیڑا اٹھایا تھا۔ پھر ساری قوم کے لوگوں سے خفیہ مشورے کرکے ان کو ہمنوا بنا لیا تھا۔ اسی لیے اونٹنی کو ہلاک کرنے کی نسبت پوری قوم کی طرف کی گئی ہے اور عذاب بھی صرف اونٹنی کو ہلاک کرنے والے پر نہیں بلکہ ساری قوم پر آیا تھا۔
Ayah 91:1515 یعنی دنیا دار بادشاہ جب کسی دوسری قوم یا ملک پر حملہ کرتے یا ان سے اپنا بدلہ لینا چاہتے ہیں تو اپنی اس کارروائی کے نتائج و عواقب پر نظر رکھتے ہیں کہ مثلاً اس حملہ کا رد عمل کیا ہوگا ؟ کہیں ہماری اپنی ہی رعیت تو اس کے خلاف نہ اٹھ کھڑی ہوگی ؟ یا مخالف قوت ہمارے حملہ کے رد عمل کے طور پر کیا کچھ کارروائی کرنے کی اہلیت رکھتی ہے غرض بیسیوں قسم کے خیالات ان کے ذہن میں آتے ہیں جن کا توڑ وہ پہلے سوچ لیتے ہیں لیکن اللہ جب کسی قوم کو تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے تو اسے کسی بات کو سوچنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔