Ayahs 92:4–51 سورة الشمس کی طرح اس سورت کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے چند متضاد اشیاء مثلاً رات اور دن کی نر اور مادہ کی قسم کھا کر فرمایا کہ جس طرح دن اور رات کی اور نر اور مادہ کی خصوصیات آپس میں متضاد اور مختلف ہیں۔ اسی طرح اے بنی نوع انسان ! تم جو کچھ اس دنیا میں اعمال بجا لا رہے ہو وہ بھی ایک دوسرے سے متضاد اور مختلف ہیں۔ لہذا تمہاری اس سعی عمل کے نتائج مختلف ہیں اور ہونے چاہئیں۔ وہ یکساں کبھی نہیں ہوسکتے۔
Ayahs 92:6–92 یعنی لوگوں کے اعمال اور ان کے نتائج جو ایک دوسرے سے متضاد اور مختلف ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ کے اعمال یہ ہیں کہ :
1۔ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہا۔
2۔ اس نے اپنی ساری زندگی اللہ سے ڈرتے ہوئے اور اس کی فرمانبرداری میں گزار دی اور
3۔ ہر بھلی بات کی تصدیق کی۔ بھلی بات سے مراد ایمان بالغیب بھی ہے۔ اللہ کی آیات بھی ہیں۔ اللہ کی توحید بھی، رسول کی تصدیق بھی اور اخلاق فاضلہ کی بجا آوری بھی۔
گویا ان تین مختصر سے الفاظ میں پوری شریعت کا خلاصہ پیش فرما دیا کہ جو شخص یہ اور یہ کام کرے گا اللہ اس کے لیے احکام شریعت پر چلنا اور جنت میں داخلہ کا مستحق ہونا آسان بنا دیتا ہے۔ اسے نیکی کے کاموں کی توفیق دیتا ہے حتیٰ کہ بدی کی راہ پر چلنا اس کے لیے دشوار ہوجاتا ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسی راہ کو اللہ تعالیٰ نے سورة البلد کی آیت نمبر 11 میں گھاٹی کی دشوار گزار راہ قرار دیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ راہ چونکہ خواہشات نفسانی کے مخالف ہے۔ اس لیے ابتدائ ً یہ فی الواقع انسان کی طبیعت پر بوجھ اور دشوار گزار راستہ معلوم ہوتا ہے لیکن جب عزم صمیم کے ساتھ اس راستہ پر گامزن ہوجاتا ہے تو یہی راستہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسان بنا دیتا ہے بلکہ اسے یہی راہ آسان معلوم ہونے لگتی ہے جس کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس کے لیے رزق حلال اور کسب حلال کے دروازے کھلتے جاتے ہیں اور حرام کی کمائی کا حصول اسے سخت ناگوار محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہ ایک فریق کا حال ہے۔
Ayah 92:103 ایک نیک بخت اور ایک بدبخت کے اعمال اور نتائج کا تقابل :۔ دوسرے فریق کی صفات اور عادات پہلے فریق سے بالکل مختلف اور متضاد ہیں یعنی وہ اللہ کی راہ میں ہرگز مال خرچ کرنے کو تیار نہیں ہوتا اور اگر خرچ کرتا ہے تو اپنی ہی ذات پر خرچ کرتا ہے یا ایسے کاموں میں خرچ کرتا ہے جن سے اس کی شہرت یا اس کی فیاضی کا چرچا ہو۔ اپنی زندگی ایسے بسر کرتا ہے جیسے اس کا خالق ومالک اس کے سر پر ہے ہی نہیں اور اگر زبانی اقرار کرتا بھی ہے تو اپنی عملی زندگی میں اس کے احکام سے بالکل بےنیاز رہتا ہے اور ہر بھلائی کی بات کو جھٹلا دیتا ہے (بھلائی کی وضاحت سابقہ حاشیہ میں کی جاچکی ہے) ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ جہنم کا راستہ آسان اور نیکی اور بھلائی کی راہیں بہت مشکل بنا دیتا ہے۔ ان کی زندگی گناہ اور حرام کاموں میں گزرتی ہے۔ وہ کسب حرام اور رزق حرام سے ایسے مانوس ہوتے ہیں کہ رزق حلال کی انہیں کوئی راہ نہ پسند آتی ہے اور نہ ان کے لیے آسان ہوتی ہے۔ اب اس سلسلہ میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے۔
1۔ سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ( وَكَذَّبَ بالْحُسْنٰى ۙ ) 92 ۔ اللیل :9) کا معنی یہ ہے کہ اس کو یہ یقین نہیں کہ اللہ کی راہ میں جو خرچ کرے گا، اللہ اسے اس کا بدلہ دے گا۔
2۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ہر صبح دو فرشتے نازل ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہتا ہے : اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو اس کے عوض اور مال دے اور دوسرا کہتا ہے : اے اللہ ! بخل کرنے والے کے مال کو تلف کردے (بخاری۔ کتاب الزکوۃ۔ باب ( فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَاتَّقٰى ۙ ) 92 ۔ اللیل :5)
3۔ سیدنا علی ؓ سے روایت ہے کہ ہم بقیع میں ایک جنازے میں شریک تھے۔ اتنے میں آپ ﷺ تشریف لائے۔ آپ ﷺ بیٹھ گئے تو ہم سب آپ ﷺ کے ارد گرد بیٹھ گئے۔ آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی آپ ﷺ سر جھکا کر چھڑی سے زمین کرید رہے تھے۔ (جیسے کسی گہری سوچ میں ہیں) پھر فرمایا : تم میں سے جو شخص بھی پیدا ہوا ہے اس کا ٹھکانا لکھ دیا گیا ہے جنت میں یا دوزخ میں اور یہ بھی لکھا جاچکا ہے کہ وہ نیک بخت ہے یا بدبخت اس پر ایک شخص بولا : یارسول اللہ ﷺ پھر ہم اپنی قسمت کے لکھے پر بھروسا کرتے ہوئے عمل کرنا چھوڑ نہ دیں ؟ کیونکہ جو نیک بختوں میں لکھا گیا ہے وہ بالآخر نیک بختوں میں شامل ہوگا اور جو بدبخت لکھا گیا ہے وہ بالاخر بدبختوں میں شامل ہوگا آپ ﷺ نے فرمایا : (نہیں، بلکہ عمل کیے جاؤ) کیونکہ نیک بخت لکھے گئے ہیں انہیں نیک اعمال کی توفیق دی جاتی ہے اور جو بدبخت لکھے گئے ہیں انہیں ویسی ہی توفیق دی جاتی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیات پڑھیں (بخاری۔ کتاب التفسیر)
رہا کسی شخص کے انجام سے متعلق اللہ تعالیٰ کے پیشگی علم کا مسئلہ تو یہ بات پہلے بھی واضح کی جاچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ علم کسی شخص کو اس بات پر مجبور نہیں کرتا کہ وہ وہی کام کرے جو اللہ نے اس کے متعلق فیصلہ کر رکھا ہے۔ اس کی تفصیل کے لیے سورة اعراف کی آیت نمبر 24 کا حاشیہ دیکھیے۔
Ayah 92:114 تردّی۔ ردی بمعنی کسی چیز کو بلندی سے زمین پردے مارنا یا زمین سے کسی گڑھے میں پھینک دینا تاکہ وہ ہلاک ہوجائے اور تردی کے معنی خود کنوئیں یا گڑھے میں گرنا اور ہلاکت کو پہنچنا ہے اور یہاں گڑھے سے مراد جہنم کا گڑھا ہے۔ یعنی یہ دوسری قسم کا آدمی جہنم کے گڑھے میں گرپڑے گا تو اس وقت اس کا مال جسے وہ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا تھا کسی کام نہ آسکے گا کیونکہ وہ مال تو دنیا میں ہی رہ گیا ہوگا۔ وہاں کیسے کام آسکتا ہے ؟
Ayah 92:125 یعنی ہم نے خیرو شر کی تمیز کو انسان کی فطرت میں داخل کردینے پر ہی اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ اس کی پوری رہنمائی کرنا بھی ہمارے ذمے ہے اور یہ ذمہ داری ہم نے رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کرکے پوری کردی ہے۔
Ayahs 92:13–156 یعنی آخرت کے مالک بھی ہم ہیں اور دنیا کے بھی۔ اب جو شخص ہم سے دنیا ہی طلب کرتا ہے اسے ہم دنیا ہی دیتے ہیں وہ بھی اتنی جتنی ہم چاہتے ہیں اور جو ہم سے آخرت کا طلبگار ہوتا ہے اسے آخرت تو ضرور دیتے ہیں اور دنیا بھی اتنی ضرور دے دیتے ہیں جتنی اس کے مقدر ہے۔
Ayah 92:167 جہنم میں گناہگار مسلمانوں کا داخلہ اور فرقہ مرجیہ کا رد :۔ اس آیت سے فرقہ مرجیہ نے استدلال کیا ہے کہ جہنم میں صرف کافر ہی داخل کیے جائیں گے گناہگار مومن داخل نہیں کیے جائیں گے۔ ان کا یہ نظریہ اس لیے غلط ہے کہ انہوں نے قرآن کی بیشمار دوسری آیات اور اسی طرح احادیث کو نظر انداز کردیا ہے جن میں بصراحت مذکور ہے کہ مومن گنہگاروں کو بھی دوزخ میں داخل کیا جائے گا اور جب ان کے گناہوں کی سزا پوری ہوچکے گی تو انہیں دوزخ سے نکال لیا جائے گا اور شفاعت کی نہایت ثقہ اور متواتر حدیثوں میں مذکور ہے کہ گنہگار مسلمانوں کا ایک گروہ دوزخ میں چلا جائے گا پھر رسول اللہ ﷺ کی سفارش سے دوزخ سے نکالا جائے گا۔ لہٰذا اس آیت کا مطلب صرف یہ ہے کہ دوزخ کے اس خاص مقام میں جو اللہ نے تیار ہی کافروں اور مشرکوں کے لیے کیا ہے۔ اس میں اسی بدبخت کو داخل کیا جائے گا جس نے حق بات کو ٹھکرا دیا اور اس سے اعراض ہی کرتا رہا۔
Ayah 92:178 یعنی جو لوگ اپنی ساری زندگی اللہ سے ڈرتے ہوئے گزارتے ہیں ان کو جہنم کی ہوا تک نہیں لگے گی۔ اس لیے کہ انہیں جہنم سے دور رکھ کر صاف بچا لیا جائے گا۔
Ayahs 92:18–219 یعنی جو مال اس نے خرچ کیا اس سے شہرت یا نمود و نمائش مقصود نہیں تھی بلکہ مقصود یہ تھا کہ اس کا دل بخل کے مرض سے پاک ہوجائے۔