Ayahs 93:1–21 سَجٰی کا لغوی مفہوم :۔ (سَجٰی) یعنی رات کا سنسان اور خاموش ہونا، نیز اس لفظ میں دوسری چیزوں کو چھپا لینے کا تصور بھی پایا جاتا ہے۔ خواہ یہ تصور ظاہری طور پر ہو جیسے سَجَی الْمَیّت بمعنی میت پر چادر ڈال کر اسے چھپا دینا یا معنوی طور پر ہو جیسے سَج معائب اخیک بمعنی اپنے بھائی کے عیبوں کو چھپاؤ۔ گویا اس لفظ میں پرسکون ہونے اور چھپانے کے دونوں معنی پائے جاتے ہیں۔ یعنی رات کا اتنا حصہ گزر چکا ہو کہ سب لوگ سو چکے ہوں اور تاریکی بھی پوری طرح چھا چکی ہو۔ پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے چاشت کے وقت کی قسم کھائی ہے۔ جب سورج بلند ہوچکا ہوتا ہے اور لوگ اپنے اپنے کام کاج میں مشعول ہوجاتے ہیں۔ اور یہ وقت اس کے بالکل برعکس اور متضاد ہے۔ اور ان دونوں متضاد حالتوں کی قسم کھا کر فرمایا کہ آپ ﷺ کے پروردگار نے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ آپ ﷺ سے ناراض ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ چاشت کا وقت تو اللہ کی رحمت کا وقت ہے اور گئی رات کا وقت اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا وقت ہے۔ اس لیے کہ دونوں اوقات کے اپنے اپنے فوائد ہیں۔ اگر ہمیشہ دن ہی رہتا تو یہ بھی لوگوں اور جانداروں کے لیے سخت اذیت کا باعث بن جاتا اور اگر ہمیشہ رات رہتی تو بھی یہی بات تھی۔ اسی طرح وحی کے آنے کے وقت کو اللہ کی رحمت کا وقت اور نہ آنے کے وقت کو اللہ کی ناراضگی کا وقت نہیں قرار دیا جاسکتا۔ وحی کی حالت میں اگرچہ آپ ﷺ کو لذت و سرور حاصل ہوتا تھا لیکن یہ وقت آپ ﷺ کے لیے اتنا اعصاب شکن اور تکلیف دہ ہوتا تھا کہ سردیوں میں بھی آپ کو پسینہ چھوٹ جاتا تھا لہذا ضروری تھا کہ وحی کے بعد آپ کو آرام کا وقفہ دیا جائے اور یہ وقفہ ابتداًء زیادہ تھا۔ پھر جب آپ ﷺ کی طبیعت آہستہ آہستہ اس بار وحی کو برداشت کرنے کے قابل ہوتی گئی تو یہ وقفہ بھی کم ہوتا گیا۔
Ayah 93:32 اس سورت کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ پہلی وحی آپ ﷺ پر غار حرا میں نازل ہوئی جو سورة العلق کی ابتدائی پانچ آیات تھیں۔ اس بار وحی کی کوفت کا تو یہ حال تھا کہ آپ ﷺ نے گھر آکرسیدہ خدیجہ ؓ کو یہ واقعہ سنایا تو بتایا کہ انی خشیت علٰی نفسی کہ مجھے تو اپنی جان کے لالے پڑگئے تھے اور لذت و سرور کا یہ حال تھا کہ آپ اس واقعہ کے بعد ہر وقت جبرائیل کی آمد کے منتظر رہتے تھے لیکن وحی کچھ عرصہ کے لیے بند ہوگئی یہ عرصہ کتنا تھا ؟ اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ کم سے کم تین دن اور زیادہ سے زیادہ چھ ماہ۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اسی وقفہ کو فترۃ الوحی کہتے ہیں۔ اس دوران آپ کو خود بھی بعض دفعہ یہ خیال آنے لگتا کہ کہیں میرا پروردگار مجھ سے ناراض تو نہیں ہوگیا ؟ اور کافر تو بہرحال ایسے موقع کی تلاش میں رہتے تھے جس سے وہ اپنے اندر کا ابال نکال سکیں جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ظاہر ہے :
جندب بن سفیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کا مزاج ناساز ہوا اور دو تین راتیں (نماز تہجد کے لیے) اٹھ نہ سکے۔ ایک عورت (عوراء بنت حرب، ابو سفیان کی بہن اور ابو لہب کی بیوی) آپ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی : محمد ﷺ میں سمجھتی ہوں کہ تیرے شیطان نے تجھے چھوڑ دیا ہے میں نے دو تین راتوں سے اسے تیرے پاس نہیں دیکھا اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
Ayah 93:43 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ایک عظیم الشان خوشخبری دی اور اس وقت دی جبکہ اس کے پورا ہونے کے آثار دور دور تک کہیں نظر نہ آتے تھے۔ نیز اس میں آپ ﷺ کو تسلی بھی دی گئی ہے کہ آپ ﷺ کفار مکہ کی ایذا دہی اور ظلم و جور سے نہ گھبرائیں۔ کیونکہ آپ کی زندگی کا ہر آنے والا دور اپنے پہلے دور سے بہتر ہوگا۔ بالفاظ دیگر رفتہ رفتہ آپ کے عز و شرف میں لگاتار ترقی ہوتی رہے گی۔ پھر یہ وعدہ صرف دنیا کی زندگی تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ آخرت میں آپ کو جو بلند مقام عطا ہوگا وہ کائنات میں کسی دوسرے کو عطا نہیں ہوگا۔
Ayah 93:54 آپ پر اللہ کے انعامات :۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے کیا کچھ دیا تھا ؟ اس بات کا احاطہ ہم نہیں کرسکتے بلکہ ہم تو یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ وہ کونسی عزوشرف کی بات تھی جو آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے عطا نہ کی ہو۔ آپ ﷺ کو صحابہ کرام ؓ کی ایسی جماعت عطا کی جن میں سے ایک ایک فرد آپ ﷺ پر اپنی جان تک فدا کرنے پر فخر محسوس کرتا تھا۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا غیر مشروط مطاع بنایا۔ ان کا معلم اور مزکی بنایا۔ اپنی کتاب کا مفسر بنایا۔ پورے عرب سے آپ ﷺ کی کوششوں سے کفر و شرک کا مکمل طور پر استیصال ہوگیا۔ پورے جزیرہ عرب میں اسلام کا غلبہ ہوگیا۔ آپ 23 سال کے قلیل عرصہ میں ایک وحشی اجڈ اور ایک دوسرے کے خون کی پیاسی قوم کو دنیا بھر کی تہذیب و تمدن کی علمبردار قوم بنادیا۔ پھر آپ ﷺ کی زندگی کے بعد آپ کی یہ تحریک پوری دنیا پر چھا گئی۔ آپ ﷺ نے ایک قلیل عرصہ میں ایسا تمدنی، اخلاقی، معاشی، معاشرتی اور سیاسی انقلاب بپا کیا جس کی نظیر پوری دنیا کی تاریخ ڈھونڈھنے سے کہیں نہیں ملتی۔ یہ سب کچھ کیا تھا ؟ یہ اللہ کی رحمت اور عطا تھی جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہم آپ ﷺ کو اتنا کچھ عطا کریں گے کہ آپ ﷺ خوش ہوجائیں گے۔
Ayah 93:65 یتیم ہونے پر آپ کو بہترین سرپرست ملتے رہے :۔ آپ کی پیدائش سے دو ماہ پیشتر ہی آپ ﷺ کے والد ماجد کا انتقال ہوگیا تھا۔ آپ ﷺ پیدا ہوئے تو آپ کی سرپرستی کا ذمہ آپ کے دادا عبدالمطلب نے لیا جو اپنی صلبی اولاد سے بڑھ کر آپ پر شفقت اور پیار کرتے تھے۔ ابھی چھ ہی سال کے تھے کہ والدہ ماجدہ بھی انتقال کرگئیں اور آپ دونوں طرف سے یتیم ہوگئے۔ آٹھ سال کے ہوئے تو آپ ﷺ کے مہربان دادا عبدالمطلب کی بھی وفات ہوگئی۔ اب آپ ﷺ کی سرپرستی کی ذمہ داری آپ ﷺ کے ایک چھوٹے چچا ابو طالب نے سنبھالی۔ جس نے آپ ﷺ کو اپنی اولاد سے بڑھ کر پیار دیا۔ پھر جب آپ ﷺ کو نبوت ملی اور آپ ﷺ کی برادری کے لوگ بھی آپ ﷺ کے دشمن ہوگئے تو ابو طالب نے اسلام نہ لانے کے باوجود ہر تنگی ترشی میں آپ ﷺ کا ساتھ دیا۔ برادری کی دشمنی اور عداوت کا سارا بار اپنے سر مول لیا اور ہر طرح کے خطرات سے بےنیاز ہو کر نبوت کے آغاز سے دس سال بعد تک آپ کی سرپرستی اور حفاظت کی ذمہ داری کو بڑے احسن طریقے سے نباہا۔ حتیٰ کہ شعب ابی طالب کے تین سال بھی آپ ﷺ کے ساتھ محصور رہے۔ 10 نبوی میں یہ سہارا بھی ختم ہوگیا یعنی ابو طالب کی وفات ہوگئی۔ اس کے تھوڑی ہی مدت بعد اللہ تعالیٰ نے انصار مدینہ (اوس اور خزرج) کو اسلام کی نعمت عطا فرمائی چناچہ آپ ﷺ بیعت عقبہ کے بعد مدینہ تشریف لے گئے۔ انصار مدینہ نے آپ ﷺ کی حفاظت کا جو ذمہ لیا تھا اسے جس جراتمندانہ طریق سے انہوں نے پورا کیا وہ تاریخ کے اوراق پر ثبت ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ احسان بتایا ہے کہ آپ ﷺ کے یتیم ہونے کے باوجود آپ ﷺ کو سرپرست ایسے عطا کیے جاتے رہے جو اپنی جان سے بڑھ کر آپ ﷺ کو عزیز رکھتے تھے۔
Ayah 93:76 آپ ﷺ بچپن ہی سے کفر و شرک سے بیزار تھے۔ جھوٹ، بددیانتی اور اخلاق رذیلہ سے آپ کو طبعاً نفرت تھی۔ آپ ﷺ اپنے مالک و خالق حقیقی کو ٹھیک طرح پہنچانتے تھے۔ لیکن آپ ﷺ کو یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ گمراہی میں پڑے ہوئے معاشرہ کی اصلاح کیسے ممکن ہے ؟ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ جاہلیت کے اس تاریک دور میں پانچ چھ آدمی آپ ﷺ کے ہم خیال اور ہمنوا تھے جن میں سرفہرست سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کا نام آتا ہے۔ یہ لوگ بھی شرک اور دوسری معاشرتی برائیوں سے سخت متنفر تھے۔ اور آپ ﷺ اس معاملہ میں سب سے زیادہ متفکر رہتے تھے۔ آپ ﷺ تن تنہا پہاڑوں کی غاروں میں چلے جاتے۔ وہاں جاکر مالک حقیقی سے لو لگاتے اور سوچتے رہتے کہ وہ کون سا طریق کار اختیار کیا جاسکتا ہے جس سے مخلوق خدا کو کفر و شرک کی گمراہیوں سے بچایا جاسکتا ہے ؟ چناچہ آپ اسی غرض سے غار حرا میں مقیم تھے کہ آپ ﷺ پر پہلی بار جبریل امین کا نزول ہوا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی اس دیرینہ تڑپ کو پورا کرنے کی راہ ہموار کردی جو ایک عرصہ سے آپ ﷺ کے سینہ میں موجزن تھی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس احسان اور نعمت کا ذکر فرمایا ہے۔ واضح رہے کہ اس آیت میں ضالاً کا لفظ استعمال ہوا اور ضَلَّ کا لفظ عربی زبان میں مندرجہ ذیل چھ معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
خ ضلّ کا مفہوم :۔ 1۔ ضَلَ ّکا بنیادی معنی راستہ کھو دینا یا گم کردینا ہے۔ مثلاً ایک شخص کسی ایسے مقام تک جا پہنچا ہے جہاں آگے یا تو کئی راستے ہوجاتے ہیں یا کسی ایک راستہ کا بھی نشان گم ہوجاتا ہے اور وہ وہاں یہ سوچنے لگتا ہے کہ اب کیا کرے ؟ وہیں کھڑے کا کھڑا رہ جائے ؟ یا اگر کوئی راستہ اختیار کرے تو کون سی راہ اختیار کرے ؟ کسی شخص کے اس طرح راہ گم کردینے کو لفظ ضَلَّ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس آیت میں ضالا
خ آپ ضالّ کن معنوں میں تھے ؟۔ 2۔ پھر کبھی انسان اسی حیرانگی کے عالم میں کسی غلط راستے پر بھی جا پڑتا ہے۔ اب اگر یہ غلط راستے پر پڑنا غیر ارادی طور پر اور سہواً ہو تو ضَلَّ کے معنی بھولنا ہوں گے۔ جیسے فرمایا : (اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىھُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى 282۔ ) 2 ۔ البقرة :282) یعنی اگر ان دونوں عورتوں میں سے ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلا دے۔
3۔ اور اگر غلط راستے پر پڑنا اور راہ راست سے ہٹ جانا ارادہ کے ساتھ یعنی عمداً ہو تو یہ گناہ ہے جیسے فرمایا : (غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّالِیْنَ ) (1: 7) یعنی نہ تو ان لوگوں کی راہ دکھانا جن پر تیرا غضب نازل ہوا اور نہ گمراہوں گی۔ اور احادیث میں یہ صراحت ملتی ہے کہ آپ ﷺ نے عدی بن حاتم کو فرمایا تھا کہ (مَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ ) الفاتحه سے مراد یہود اور (ضَالِّیْنَ ) سے مراد نصاریٰ ہیں جو عقیدہ تثلیث کے موجد اور قائل تھے۔
4۔ اور کبھی یہ لفظ کسی چیز کے اپنے وجود کو کھو کر دوسری چیز کے مل جانے کے معنوں میں آتا ہے جیسے کافر کہتے ہیں کہ ( وَقَالُوْٓا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِي الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ ڛ بَلْ هُمْ بِلِقَاۗئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ 10 ) 32 ۔ السجدة :10) یعنی جب ہم زمین میں مل کر زمین ہی بن جائیں گے تو کیا از سر نو پیدا ہوں گے ؟
5۔ اور کبھی یہ لفظ ایسے کام کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو رہا ہو یعنی جس غرض کے لیے کوئی کام کیا جائے وہ پوری نہ ہو۔ جیسے فرمایا : (اَلَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ يُحْسِنُوْنَ صُنْعًا 10 4 ۔ ) 18 ۔ الكهف :104) یعنی وہ لوگ جن کی سعی دنیا میں برباد ہوگئی اور وہ یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں۔
6۔ اور کبھی یہ لفظ کسی کی محبت میں فریفتہ ہونے پر بھی استعمال ہوتا ہے جیسے یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے اپنے باپ سے کہا : ( قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِيْ ضَلٰلِكَ الْقَدِيْمِ 95) 12 ۔ یوسف :95) یعنی اللہ کی قسم ! تم تو یوسف کی اسی پرانی محبت میں (ابھی تک) مبتلا ہو۔
اس آیت میں پہلا اور چھٹا دونوں معنی استعمال ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں معنی آپ کی نبوت سے پہلی زندگی سے مطابقت رکھتے ہیں اور ترجمہ میں پہلا معنی اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ اس لفظ کا بنیادی معنی وہی ہے۔
Ayah 93:87 آپ کا بچپن :۔ آپ ﷺ کے والد ماجد نے میراث میں صرف ایک اونٹنی اور ایک لونڈی چھوڑی تھی۔ آپ کی رضاعت کا مسئلہ سامنے آیا تو سب دائیوں نے آپ کی رضاعت سے اس بنا پر انکار کردیا کہ آپ یتیم ہیں۔ والد موجود نہیں گھرانہ بھی اتنا مالدار نہیں تو یہاں سے کیا ملے گا۔ آخر یہ سعادت حلیمہ سعدیہ کے ہاتھ آئی اور انہوں نے آپ ﷺ کی رضاعت کو اس لیے قبول کرلیا کہ کسی امیر گھرانے کا بچہ انہیں ملا ہی نہیں تھا اور انہوں نے یہ سمجھ کر رضاعت قبول کی کہ کچھ ہونا بہرحال نہ ہونے سے بہتر ہے۔ آٹھ سال کی عمر کو پہنچے تو آپ ﷺ کے دادا عبدالمطلب فوت ہوگئے اور آپ ﷺ اپنے چچا ابو طالب کی کفالت میں آگئے۔ ابو طالب خود عیالدار اور مفلس تھے۔ اس دوران آپ ﷺ نے چند قیراط کی مزدوری پر مکہ والوں کی بکریاں بھی چرائی تھیں اور جو معاوضہ ملتا وہ ابو طالب کے حوالہ کردیتے۔ ذرا بڑے ہوئے تو آپ ﷺ شام کے تجارتی سفروں میں حصہ لینے لگے۔ حسن معاملت کی بنا پر انہی ایام میں آپ ﷺ کی صداقت، امانت اور دیانت کا چرچا ہوگیا۔ اس پر مکہ کی ایک بیوہ اور مالدار خاتون نے آپ ﷺ کو مضاربت کی بنا پر اچھی خاصی رقم دے دی۔ واپس آئے تو سیدہ خدیجہ ؓ کے غلام زید بن حارثہ نے، جو شریک سفر تھے آپ کی امانت، دیانت کی انتہائی تعریف کی۔ جس سے متاثر ہو کر سیدہ خدیجہ ؓ نے خود نکاح کی پیش کش کی۔ یہ خاتون مالدار بھی تھیں، حسین بھی تھیں۔ لہذا معززین مکہ کی طرف سے ان کو کئی بار نکاح کے پیغام آئے لیکن آپ سب کو رد کرتی رہیں مگر آپ ﷺ کو انہوں نے خود نکاح کا پیغام بھیج دیا جسے آپ ﷺ نے قبول کرلیا اور 25 سال کی عمر میں آپ ﷺ کی ایک چالیس سالہ بیوہ خاتون سیدہ خدیجہ ؓ کے ساتھ شادی ہوگئی۔ نکاح کے بعد سیدہ خدیجہ ؓ نے اپنا سارا مال و دولت اور غلام آپ ﷺ کی تحویل میں دے دیا۔ آپ ﷺ نے چند دنوں تو تجارت کی مگر جلدی ہی یہ سارا مال اللہ کی راہ میں محتاجوں، بیواؤں، بےروزگاروں اور ضرورتمندوں کو دے دیا کیونکہ آپ طبعاً امیری کی بجائے فقر کو پسند کرتے تھے اور یہی غنا کی سب سے بہترین قسم ہے کہ مالدار ہونے کے باوجود انسان فقر کو ترجیح دے۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے اموال غنائم میں پانچواں حصہ مقرر کردیا اور اموال فے سارے کے سارے آپ ﷺ کی تحویل میں دے دیے۔ مگر اتنے مال و دولت اور حکومت کے باوجود آپ سارا مال و دولت تقسیم کردیتے تھے۔ بقدر کفاف اپنی گھریلو ضرورتوں کے لیے رکھ لیتے تھے اور ساری زندگی دولت پر فقر کو ترجیح دی۔ اس آیت میں آپ کی ابتدائی مفلسی اور اس کے بعد آپ کے اسی قسم کے غنا کا ذکر ہے۔
Ayah 93:98 یتیم کی کفالت :۔ یعنی جس طرح ہم نے تمہاری یتیمی کے دوران ہر مرحلہ پر تمہارا خیال رکھا اسی طرح تم بھی یتیموں سے بہترین سلوک کرو۔ نہ انہیں دباؤ نہ ان پر سختی کرو، نہ انہیں بےیارو مددگار چھوڑ دو بلکہ ان کی ضرورتوں کا پورا پورا خیال رکھا کرو۔ چناچہ آپ ﷺ نے دوسرے مسلمانوں کو بھی یتیموں کی کفالت اور ان سے حسن سلوک کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا کہ : میں اور یتیم کا کفیل جنت میں اس طرح (اکٹھے) ہوں گے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنی شہادت کی اور وسطی انگلی کی طرف اشارہ کیا اور انہیں تھوڑا سا کھول دیا (بخاری، کتاب الادب۔ باب فضل من یعول یتیما)
Ayah 93:109 سائل سے نرم برتاؤ :۔ سائل کا معنی کوئی چیز مانگنے والا بھی ہے اور کوئی بات پوچھنے والا بھی۔ پہلے معنی کے لحاظ سے یہ مطلب ہے کہ اگر تم سے کوئی چیز مانگنے والا آئے تو اسے کچھ نہ کچھ ضرور دے دو اور دینے کو کچھ نہ ہو تو نرمی سے معذرت کردو۔ یعنی سائل کو جھڑک دینا جائز نہیں۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔
1۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کے پاس جب کوئی سائل آتا یا کوئی شخص اپنی حاجت بیان کرتا تو آپ ﷺ صحابہ سے فرماتے کہ تم بھی سفارش کرو۔ تمہیں اجر ملے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کی زبان سے جو چاہے گا حکم دے گا۔ (بخاری۔ کتاب الزکوۃ۔ باب التحریض علی الصدقۃ والشفاعۃ فیھا)
2۔ عبدالرحمن بن بجید اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ بعض دفعہ کوئی سائل میرے دروازے پر آن کھڑا ہوتا ہے جسے میرے پاس دینے کو کچھ نہیں ہوتا تو میں کیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اگر تم فقیر کو دینے کے لیے بکری کے ایک جلے ہوئے کھر کے سوا کچھ نہ پاؤ تو وہی اس کے ہاتھ میں رکھ دو (ترمذی۔ ابو اب الزکوٰۃ، باب ماجاء فی حق السائل)
3۔ ایک دفعہ آپ ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسے آدمی کی خبر نہ دوں جو سب سے بدتر ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا : ہاں بتائیے فرمایا : وہ شخص جس سے اللہ کے نام پر مانگا جائے اور وہ کچھ نہ دے (نسائی۔ کتاب الزکٰوۃ، عمن یسئل باللٰہ عزوجل ولایعطی بہ)
خ عادی سائل کو جھڑکنے میں مضائقہ نہیں :۔ البتہ اگر مانگنے والا عادی سائل ہو اور چمٹ کر سوال کرنے والا ہو تو اسے جھڑکنے میں کوئی حرج نہیں۔ رسول اللہ ﷺ ایسے سائلوں کو بھی اس آیت کی رو سے کچھ نہ کچھ دے ہی دیتے تھے۔ مگر یہ دینا آپ کو سخت ناگوار ہوتا تھا۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے :
1۔ سیدنا معاویہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : مجھ سے چمٹ کر سوال نہ کیا کرو۔ جو شخص بھی تم میں سے مجھ سے کوئی سوال کرتا ہے تو میں اسے کچھ نہ کچھ دے دیتا ہوں۔ حالانکہ میں اس کو مکروہ سمجھتا ہوں۔ اس طرح اس چیز میں برکت نہیں رہتی جو میں اسے دیتا ہوں۔ (مسلم، کتاب الزکوٰۃ باب النہی عن المسئلۃ)
2۔ سیدنا عمر فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ کا کچھ مال تقسیم فرمایا تو میں نے عرض کی۔ یارسول اللہ ﷺ ! اللہ کی قسم اس کے مستحق تو اور لوگ تھے۔ اس کے جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا : ان لوگوں نے دو باتوں میں سے مجھے کسی ایک بات پر مجبور کردیا یا تو بےحیائی اور ڈھٹائی سے مجھ سے مانگیں یا میں ان کے آگے بخیل ٹھہروں اور میں بخل کرنے والا نہیں ہوں (مسلم، کتاب الزکوۃ۔ باب اعطاء المؤلفۃ۔۔ )
ایسی ہی احادیث سے علماء نے استنباط کیا ہے کہ غیر مستحق عادی قسم کے اور چمٹ کر سوال کرنے والوں کو جھڑکنے میں کچھ حرج نہیں۔
اور اگر سائل کے معنی کوئی بات یا مسئلہ پوچھنے والا لیا جائے تو اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ سوال کرنے والا غیر مہذب، اجڈ قسم کا انسان ہو۔ ایسے شخص کو جھڑکنا نہیں چاہیے بلکہ لاعلمی کو جہالت پر محمول کرتے ہوئے مسئلہ بتادینا اور پوری طرح سمجھا دینا چاہیے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ علم رکھنے والا خود اپنے علم کا زعم اور غرور رکھتا ہو اور اپنے آپ کو کوئی بڑی چیز سمجھتا ہو اور اپنی اسی بدمزاجی پر عام لوگوں کو کوئی سوال کرنے یا مسئلہ پوچھنے پر جواب دینا پسند ہی نہ کرے اور انہیں جھڑک دے۔ یہ بڑے گناہ کی بات ہے اور اس آیت میں اسی چیز سے منع کیا گیا ہے۔
Ayah 93:1110 تحدیثنعمت کا مطلب :۔ کچھ نعمتوں کا ذکر تو اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں کردیا۔ ان کے علاوہ آپ ﷺ پر اللہ کے بیشمار احسانات تھے۔ اللہ کی نعمتوں کے ذکر اور اظہار کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ تہ دل سے اللہ کا شکر ادا کیا جائے۔ اور قطعاً یہ نہ سمجھا جائے کہ مجھ میں کوئی خاص اہلیت اور قابلیت تھی جس کی وجہ سے مجھ پر اللہ نے یہ احسان کیے۔ بلکہ انہیں محض اللہ کے فضل و کرم پر محمول کیا جائے اور ان نعمتوں کا اسی جذبہ کے تحت دوسرے لوگوں کے سامنے بھی اقرار و اعتراف کیا جائے مگر اس احتیاط کے ساتھ کہ اس اقرار و اعتراف میں فخر و مباہات کا شائبہ تک نہ ہو۔