Ayahs 94:1–21 شرح صدر کے دو مفہوم :۔ شرح صدر کا لفظ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ کسی بات، نظریہ، عقیدہ یا معاملہ کی انسان کو پوری طرح سمجھ آجائے۔ اس میں کوئی شک و شبہ یا ابہام باقی نہ رہے اور انسان کو جو کچھ سمجھ میں آئے اس پر اسے یقین اور اطمینان حاصل ہوجائے جیسے فرمایا : (فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهدِيَهٗ يَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ ۚ وَمَنْ يُّرِدْ اَنْ يُّضِلَّهٗ يَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَيِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاۗءِ ۭ كَذٰلِكَ يَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَي الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 125۔ ) 6 ۔ الانعام :125) یعنی جس شخص کو اللہ ہدایت دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے یعنی اسے یہ یقین واطمینان حاصل ہوجاتا ہے کہ اسلام کے پیش کردہ عقائد ہی درست ہیں۔ اور اس لفظ کا دوسرا معنی یہ ہے کہ جس کام کو انسان ایک بہت بڑا مشکل کام سمجھ رہا ہو اور اس کام کو سرانجام دینا اسے گرانبار محسوس ہو رہا ہو اس کام کے کر گزرنے اور اس بوجھ کو اٹھانے کے لیے اس کی طبیعت آمادہ ہوجائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت دے کر حکم دیا کہ اب فرعون کے ہاں جاکر اسے میرا پیغام دو ۔ تو اس وقت آپ نے دعا فرمائی۔ ( قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِيْ صَدْرِيْ 25ۙ ) 20 ۔ طه :25) یعنی اے میرے پروردگار میرا سینہ کھول دے اور میرے لیے میرا یہ (مشکل) کام آسان بنا دے
اس آیت میں سوالیہ انداز بیان اختیار کیا گیا ہے کہ جس سے اس کے پس منظر پر روشنی پڑتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جب آپ ﷺ نے اسلام کی دعوت کا کام شروع کیا تو وہی قوم جو آپ کے گن گاتے تھکتی نہ تھی اور آپ ساری قوم کے محبوب فرد تھے، آپ کی دشمن بن گئی۔ یہ بات آپ ﷺ کے لیے تکلیف دہ بھی تھی اور حیران کن بھی لیکن ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام اور اسلام لانے والے مسلمانوں کو اتنا عظیم حوصلہ عطا فرما دیا کہ وہ کفار مکہ کے مظالم سہنے کے باوجود ان کے آگے نہ جھکتے تھے اور نہ دبتے تھے۔ اور سب سے بڑھ کر حوصلہ آپ ﷺ کو عطا کیا گیا کیونکہ کفار کا اصل ہدف آپ ہی کی ذات مبارکہ تھی۔ آپ ﷺ کا، آپ کی رسالت کا، اللہ کی آیات کا اور آپ کے کلام کا مذاق و استہزاء کفار کا دلچسپ مشغلہ تھا اور آپ ﷺ کو جسمانی ایذاؤں کی انتہا اس سے زیادہ کیا ہوسکتی ہے کہ مکی دور میں کافروں نے آپ پر سات مرتبہ قاتلانہ حملے کیے۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے سورة مائدہ آیت 67 کا حاشیہ) علاوہ ازیں جب بھی کسی مسلمان پر ظلم و ستم ہوتا تو اس دکھ میں بھی آپ برابر کے شریک ہوتے تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ احسان یاد دلایا ہے کہ کیا تمہیں ہم نے ان مصائب کو برداشت کرنے کے لیے چٹان جیسا حوصلہ نہیں عطا فرما دیا ؟ مزید تفصیل کے لیے میری کتاب محمد۔۔ پیکر صبرو ثبات ملاحظہ کیجیے۔
Ayah 94:32 وزر کے دو مفہوم :۔ وِزْرَ کا لفظ بھاری بوجھ کے لیے آتا ہے اور اس کی جمع اوزار ہے لیکن اس کا اکثر استعمال معنوی بوجھ کے لیے ہوتا ہے بالخصوص بار گناہ اور کسی طرح کے بھی ذہنی بوجھ کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ یہاں وزر سے مراد وہ ذہنی بوجھ ہے جو نبوت سے پہلے ہی آپ کو لاحق تھا۔ جب آپ اپنی قوم کو کفر و شرک کی گمراہیوں اور طرح طرح کی معاشرتی برائیوں میں مبتلا دیکھتے تھے تو آپ ﷺ پورے معاشرے کی اس حالت پر سخت دل گرفتہ رہتے تھے کہ کس طرح اس بگڑے ہوئے معاشرے کی اصلاح ممکن ہے۔ مگر اس کی کوئی صورت، کوئی طریقہ اور کوئی راہ نظر نہیں آتی تھی۔ بالآخر آپ پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی اور آپ ﷺ کو ٹھیک طرح سے معلوم ہوگیا کہ اس سارے بگاڑ کا علاج توحید، عقیدہ آخرت اور رسالت پر ایمان میں مضمر ہے۔ چناچہ آپ کا سارا ذہنی بار ہلکا ہوگیا اور آپ ﷺ کو یقین حاصل ہوگیا کہ اس طرح نہ صرف اپنی قوم بلکہ ساری دنیا کو ان خرابیوں اور برائیوں سے نکالا جاسکتا ہے جن میں اس وقت عرب کے علاوہ باقی ساری دنیا بھی مبتلا تھی۔ علاوہ ازیں وزر کا دوسرا مفہوم رسالت کی ذمہ داریاں بھی ہوسکتا ہے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا ( اِنَّا سَنُلْقِيْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَـقِيْلًا ) 73 ۔ المزمل :5) یہ بوجھ بھی ابتدائ ً نہایت گرانبار تھا جبکہ آغاز دعوت پر مخالفتوں کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو پہاڑ جیسا حوصلہ عطا کرکے اس کمر توڑ بوجھ کو آپ ﷺ کے ذہن سے اتار دیا اور آپ ﷺ ذمہ داریاں نباہنے کے لیے دل و جان سے مستعد ہوگئے۔
Ayah 94:43 آپ کا ذکر بلند ہونے کے مختلف ذرائع پہلا ذریعہ خود کفار مکہ تھے :۔ آپ ﷺ کے ذکر خیر کی بلندی کا آغاز ابتدائے نبوت ہی سے شروع ہوگیا تھا اور لطف کی بات یہ ہے کہ یہ کام اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ ہی سے لیا۔ مثل مشہور ہے۔ عدو شرے برانگیزد کہ خیر مادراں باشد (یعنی بعض دفعہ دشمن بھی ایس شرارتیں کرنے لگتا ہے جس میں ہماری بھلائی ہوتی ہے) کفار مکہ نے اسلام کو زک پہنچانے اور آپ ﷺ کی دعوت کے سدباب کے طور پر جو ذریعے اختیار کیے تھے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ حج کے موقعہ پر تمام عرب قبائل حج کی غرض سے مکہ آتے تھے تو کفار نے آپس میں یہ طے کیا کہ ان وفود کو مل کر انہیں محمد ﷺ کی دعوت سے متنفر کیا جائے اور کہا جائے کہ کہیں فلاں شخص کے دام فریب میں نہ آجانا۔ اس کے پاس ایسا جادو ہے جو بھائی کو بھائی سے، باپ کو بیٹے سے اور بیوی کو شوہر سے جدا کردیتا ہے۔ چناچہ اس سلسلہ میں کافروں کے وفود حاجیوں کے ایک ایک ڈیرے پر جاتے اور آپ ﷺ کے خلاف مہم چلاتے اور آپ ﷺ کو بدنام کرتے تھے لیکن باہر سے آنے والے لوگ بھی آخر اتنے بدھو تو نہیں ہوتے تھے جو فوراً کافروں کی بات کا یقین کرلیتے۔ لہذا ان کی اس مخالفانہ مہم کو آپ ﷺ کے دو فائدے پہنچے۔ ایک یہ کہ آپ ﷺ کا ذکر خیر عرب کے کونے کونے میں ہونے لگا۔ دوسرے لوگوں کے ذہنوں میں یہ جستجو پیدا ہوئی کہ جس شخص کے خلاف یہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے اس کی اصل حقیقت تو معلوم کرنی چاہیے۔ چناچہ آپ ﷺ کی ہجرت سے پیشتر عرب کا کوئی قبیلہ ایسا نہیں رہا تھا جس میں کوئی نہ کوئی مسلمان موجود نہ ہو اور وہاں آپ کا ذکر خیر نہ کیا جاتا ہو۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ اسلام میں داخل ہونے کے لیے جس طرح لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا اقرار ضروری تھا۔ اسی طرح مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کا اقرار بھی ضروری تھا۔ علاوہ ازیں مکہ میں تو آپ کے دشمن صرف قریش مکہ تھے مگر مدینہ پہنچنے کے بعد آپ ﷺ کے مخالف گروہ ایک کے بجائے چار بن گئے۔ ایک قریش مکہ، دوسرے یہود مدینہ، تیسرے مدینہ اور عرب بھر کے مشرک قبائل اور چوتھے منافقین جو مدینہ کے علاوہ دوسری بستیوں میں بھی موجود تھے۔ اور ان کی ہمدردیاں ہر دشمن اسلام گروہ سے وابستہ ہوتی تھیں۔ انہوں نے اسلام کی راہ روکنے کے لیے قریش مکہ کی روش اور اس سے ملتے جلتے طریقے اختیار کیے اور یہ سب لوگ آپ کو بدنام کرنے میں سرگرم تھے۔ لیکن ان کے نتائج بھی ان کی توقعات کے برعکس برآمد ہوئے اور دس سال کے قلیل عرصہ میں سارا عرب مسلمان ہو کر دن میں کئی کئی بار لا الٰہ الا اللہ کے ساتھ محمد رسول اللّٰہ کی صدائیں بلند کرنے لگا۔ اذان میں، اقامت (تکبیر تحریمہ) میں، درود میں آپ ﷺ کا ذکر خیر لازمی تھا۔ پھر آپ ﷺ کی وفات کے بعد اسلامی تحریک عرب سے باہر نکل کر ساری دنیا میں پھیل گئی۔ پھر یہ حالت ہوگئی کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں مختلف اوقات اذان و نماز کی وجہ سے غالباً دن میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرتا جس میں آپ ﷺ کے ذکر کا آوازہ بلند نہ کیا جارہا ہو اور یہ سلسلہ تاقیامت بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہ پیشینگوئی اللہ تعالیٰ نے اس وقت کی تھی جب مکہ کے لوگوں کے علاوہ آپ کو کوئی جانتا تک نہ تھا۔ اور وہ بھی آپ کے دشمن اور آپ کی ہستی کو دنیا سے ختم کردینے پر تلے ہوئے تھے۔ قرآن کی یہ پیشینگوئی خود قرآن کی صداقت پر کھلا ہوا ثبوت ہے۔ اس وقت کون یہ اندازہ کرسکتا تھا کہ آپ ﷺ کا ذکر خیر اس شان کے ساتھ اور اتنے وسیع پیمانے پر ہوگا۔
Ayahs 94:5–74 ان دو آیات میں بہ تکرار آپ ﷺ کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اگر اس وقت آپ مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں تو عنقریب مصائب کے یہ بادل چھٹ جائیں گے اور اتنی ہی آپ کو سہولتیں اور آسانیاں میسر آئیں گی۔ اس آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ تنگی کے بعد آسانی ہے بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ بہت جلد یہ صورت حال بدل جانے والی ہے۔ اس طرح آپ ﷺ کو اور مسلمانوں کو تسلی بھی دے دی گئی کہ وہ یہ مشکل وقت حوصلہ اور صبر کے ساتھ برداشت کریں بس تھوڑی ہی دیر بعد کایا پلٹ جانے والی ہے۔
Ayah 94:85 یعنی جب آپ کو تبلیغ کے کاموں سے گھریلو مشاغل سے اور اسلام لانے والوں کی تعلیم و تربیت سے فراغت حاصل ہو تو اپنے پروردگار سے لو لگایئے۔ اور یکسو ہو کر اس سلسلہ میں ریاضت کیجئے۔ کیونکہ مشکلات کے دوران اللہ کی عبادت اس کا ذکر اور اس پر توکل ہی انسان کو ایسا حوصلہ عطا کرتا ہے جس سے مصائب کو برداشت کرنے کے قابل بن جاتا ہے۔