89. Surah Al-Fajr

الفجرThe Dawn · 30 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 89:1

وَ الْفَجْرِۙ Open ayah 89:1 in the Quran reader

” قسم ہے فجر کی ،

والفجر ............................................ لذی حجر اس سور تکے آغاز میں قسم اٹھانے کے لئے ایسے مناظر اور مخلوقات کا انتخاب کیا گیا ہے جو انسانوں کے مانوس مناظر ہیں اور ایک لطیف روح رکھتے ہیں اور صاف و شفاف ہیں۔ ” الفجر “ ایک ایسا وقت ہے جس میں زندگی نہایت خوشگوار موڈ میں سانس لیتی ہے۔ نہایت خوشی ، تبسم ، محبت اور تروتازہ لگاﺅ کے جذبات میں یہ پوری کائنات انگڑائی لیتی ہے۔ فجر کے یہ سانس گویا مناجات الٰہیہ کے انفاس ہیں۔ اور فجر کے وقت ہر چیز کھلی کھلی ہوتی ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ کلیاں خوشی کی وجہ سے کھل رہی ہیں۔
Ayah 89:2

وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ Open ayah 89:2 in the Quran reader

اور دس راتوں کی ،

ولیال عشر (2:89) ” دس راتوں کی قسم “۔ ان دس راتوں کو قرآن نے مطلق چھوڑا ہے ، ان کی تفسیر میں اقوال وروایات وارد ہیں ، بعض میں ذوالحجہ کی دس راتیں ، بعض میں محرم کی دس راتیں ، اور بعض میں رمضان کی دس راتوں کا ذکر آیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں ان کو اسی طرح مطلق اور عام ہی رہنے دینا چاہئے اور یہی زیادہ خوشگوار ہے۔ یہ دس راتیں جن کو اللہ ہی جانتا ہے اور اللہ کے ہاں جن کی ایک منزلت واہمیت ہے ، سیاق کلام میں ان دس راتوں پر یوں روشنی پڑتی ہے کہ شاید یہ ایک شخصیت اور ایک ذی روح راتیں ہیں ، جس طرح زندہ ذی روح مخلوق ہوتی ہے ۔ یہ راتیں ہم سے محبت کرتی ہیں ، اور ہم ان سے محبت کرتے ہیں ، اس قرآنی تعبیر کے آئینے میں۔
Ayah 89:3

وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ Open ayah 89:3 in the Quran reader

اور جفت اور طاق کی ،

والشفع والوتر (3:89) ” اور جفت اور طاق کی قسم “۔ اس مانوس اور محبوب فضائے صبح گا ہی میں اور قابل قدر دس راتوں میں شفع ووتر روح صلوٰة ہیں۔ حدیث شریف کے الفاظ ہیں : ” نماز میں شفع بھی ہے اور وتر (ترمذی) ۔ ان آیات میں جو فضا پائی جاتی ہے اس میں یہی مفہوم زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس چھاجانے والی کائنات کی روح کے ساتھ عبادت گزار روح کا اتصال ہی موزوں مفہوم ہے ، جس طرح ایک عبادت گزار روح اللہ کی پسندیدہ دس راتوں میں روح کے ساتھ وصال پاتی ہے اور پھر یہ راتیں اور یہ روشن نمود صبح سب باہم ملتے ہیں۔
Ayah 89:4

وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِۚ Open ayah 89:4 in the Quran reader

اور رات کی جب رخصت ہورہی ہو “۔

والیل اذا یسر (4:89) ” اور رات کی قسم جب رخصت ہورہی ہو “۔ یہ رات ہے یا کوئی زندہ مخلوق ہے جو اس کائنات میں چلتی پھرتی ہے ، گویا وہ عاشق زار ہے جو راتوں کو سرگرداں ہے ، یا مسافر ہے جو دور دراز منزل کی طرف رات کو رواں دواں ہے۔ کیا ہی خوبصورت انداز بیان ہے ! منظر کس قدر مانوس ہے ؟ الفاظ کا ترنم کس قدر خوشگوار ہے۔ فجر ، لیالی عشر اور الشفع والوتر میں الفاظ ، ترنم اور معانی کی ہم آہنگی قابل دید ہے۔ الفاظ وعبارات نہیں بلکہ نمود صبح کے خوشگوار اور گرم سانس ہیں ، خوشبودار آوازیں ، قلب حزیں پر محبت مکالمات ہیں یا روح کی لطیف سرگوشیاں ہیں یا انسانی ضمیر کی بیداری کے اشارات ولمحات ہیں۔ ذرا خوبصورتی کو دیکھیں ، پر محبت سرگوشیوں سے بھر پور حسن ، آزاد شاعرانہ حسن اس کا پاسنگ بھی نہیں۔ یہ تو معجزانہ تخلیق حسن ہے اور حسن و جمال کے ساتھ حقائق پر مشتمل بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان قسموں کے بعد متصلایہ کہا جاتا ہے۔
Ayah 89:5

هَلْ فِیْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍؕ Open ayah 89:5 in the Quran reader

کیا اس میں صاحب عقل کے لئے کوئی قسم ہے ؟ “

ھل فی .................... حجر (5:89) ” کیا اس میں صاحب عقل کے لئے کوئی قسم ہے ؟ “ یہ ایک تقریری سوال ہے جس کا جواب ہے “۔ بیشک اس میں قسم ہے ایک عقلمند آدمی کے لئے ” ہاں “ اس میں ہر صاحب عقل وخرد کے لئے تسلی وتشفی ہے “۔ اس اثبات کے لئے استفہام کا انداز اس لئے اختیار کیا گیا ہے کہ یہ انداز نرم اور سرگوشی کے انداز کے ساتھ زیادہ مناسب ہے ، جو ان قسموں میں پایا جاتا ہے۔ یہاں اس بات کو سیاق کلام میں لپیٹ کر رکھ دیا گیا ہے جس پر قسم اٹھائی گئی تاکہ تجسس قائم رہے اور بعد کا مضمون اس کی تشریح کردے۔ بعد کا موضوع ہے سرکشی ، فساد اور ظلم اور حد سے تجاوز کا۔ اور ایسے لگوں کے ساتھ دست قدرت کے رویے کا۔ یہ کہ ایسے لوگوں سے لازماً اللہ انتقام لیتا ہے اور اسی پر اللہ قسم اٹھاتا ہے اور قسم بھی نہایت ہی نرم ، اشاراتی اور اجمالی انداز میں اٹھائی گئی۔
Ayahs 89:6–8

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ۙ Open ayah 89:6 in the Quran reader

تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے کیا برتاﺅ کیا۔

اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۪ۙ Open ayah 89:7 in the Quran reader

اونچے ستونوں والے عادارم کے ساتھ

الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:8 in the Quran reader

جن کے مانند کوئی قوم دنیا کے ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی تھی ؟

الم ترکیف .................................... المرصاد اس قسم کے مطابق سیاق کلام میں استفہام کا صیغہ پرکشش ہوتا ہے اور وہ سامعین کو زیادہ متوجہ کرنے کا باعث ہوتا ہے۔ ابتداً یہ خطاب تو نبی ﷺ کو ہے لیکن بعدہ ہر اس شخص کو خطاب ہے جو ان اقوام کے عبرت آموز واقعات سے سبق لینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جس زمانے میں یہ آیات اتریں ، مخاطبین کے درمیان ان اقوام کے قصے معروف ومشہور تھے۔ اس علاقے میں جو آثار قدیمہ ابھی تک باقی ہیں اور جو قصے ابھی تک زبان زدعام ہیں ، ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان اقوام کے بارے میں عرب اچھی طرح جانتے تھے۔ یہاں فعل کا فاعل ” ربک “ کو لایا گیا ہے۔ اس میں حضور اکرم ﷺ اور اس وقت کے مٹھی بھر مسلمانوں کے لئے سامان اطمینان ہے۔ اس وقت مکہ کے مسلمان قریش کے سرکشوں کے ہاتھوں مظالم جھیل رہے تھے اور ان کے خلاف یہ لوگ ہر محاذ پر راہ روکے کھڑے تھے۔ اس پیرا یہ اظہار سے ان کے دلوں میں راحت اور محبت پیدا ہوتی ہے۔ ان مختصر آیات میں اللہ نے تاریخ انسانی کے سرکردہ جباروں کی داستانوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ان میں سے ایک مشہور قوم عادارم ہے جسے عاد اولیٰ بھی کہا گیا ہے۔ یہ ان عربوں میں سے تھے جو ابتدائی ادوار میں خالص عرب تھے (عاربہ) یا ان عربوں میں سے تھے جن کی نسل ختم ہوگئی ہے (بائدہ) یہ لوگ احقاف میں رہتے تھے ، احقاف ریت کے ٹیلوں کو کہتے ہیں۔ جنوب عرب میں یمن اور حضرت موت کے درمیان ان کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ یہ بدوی لوگ تھے اور ایسے خیموں میں رہے تھے جو ستوتوں پر قائم ہوتے تھے۔ قرآن کریم میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ بڑے قوی تھے اور سخت گرفت کی طاقت رکھتے تھے۔ اپنے وقت پر یہ قوی تر قوم تھی اور اقوام میں زیادہ ممتاز تھی۔ التی لم ........................ فی البلاد (8:89) ” جن کے مانند کوئی قوم دنیا کے ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی تھی “۔ یعنی اس وقت تک۔
Ayahs 89:9–10

وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ۪ۙ Open ayah 89:9 in the Quran reader

” اور ثمود کے ساتھ جنہوں نے وادی میں چٹانیں تراشی تھیں ؟

وَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ۪ۙ Open ayah 89:10 in the Quran reader

اور میخوں والے فرعون کے ساتھ ؟

وثمود ............................ بالواد (9:89) ” اور ثمود کے ساتھ جنہوں نے وادی میں چٹانیں تراشی تھیں “۔ ثمود حجر میں رہتے تھے۔ یہ جزیرة العرب کے شمال میں ہے۔ مدینہ اور شام کے درمیان وادی حجر ہے۔ انہوں نے چٹانیں کاٹ کر بڑے بڑے محلات بنارکھے تھے اور پہاڑوں کے اندر قلعے اور غار بنا رکھے تھے۔ وفرعون ................ الاوتاذ (10:89) ” اور میخوں والے فرعون کے ساتھ “۔ راجح بات یہ ہے کہ اوتاد سے مراد اہرام ہیں جو میخوں کی طرح زمین میں نصب ہیں۔ اور نہایت پختہ بنیادوں پر ہیں۔ جس فرعون کی طرف یہاں اشارہ ہے وہ فرعون موسیٰ ہے جو بہت سرکش تھا اور جبار تھا۔
Ayahs 89:11–12

الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:11 in the Quran reader

یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دنیا کے ملکوں میں بڑی سرکشی کی تھی

فَاَكْثَرُوْا فِیْهَا الْفَسَادَ۪ۙ Open ayah 89:12 in the Quran reader

اور ان میں فساد پھیلایا تھا۔

الذین ............................................ الفساد (12:89) ” یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دنیا کے ملکوں میں بڑی سرکشی کی تھی اور ان میں فساد پھیلایا تھا “۔ سرکشی کے بعد فساد ہی ہوتا ہے کیونکہ سرکشی ، سرکش شخص کو خراب کردیتی ہے۔ اسی طرح جو لوگ سرکشی اور ظلم کا شکار ہوتے ہیں وہ بھی فساد میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ان کے اندر اخلاقی بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد اجتماعی زندگی کا ہر پہلو فساد کی زد میں آجاتا ہے اور زندگی اپنی صحت مند تعمیری اور پاکیزہ راستے سے ہٹ جاتی ہے اور ایسے راستوں پر پڑجاتی ہے جو انسان کی خلیفہ اللہ فی الارض ہونے کی ذمہ داری کے خلاف ہوتی ہے۔ طغیانی اور سرکشی کی وجہ سے عوام الناس غلام اور ذلیل ہوجاتے ہیں ، ان کے اندر ایک خفیہ بغض اور حسد پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ غصہ اور حسد کو ہر وقت سینوں میں دبائے رکھتے ہیں۔ اس طرح کے لوگوں کی شخصیت سے عزت نفس اور اعلیٰ انسانی شعور مٹ جاتا ہے ، اور ان میں سے تخلیقی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ تخلیقی عمل کے لئے آزادفضا کا ہونا ضروری ہے۔ اور جس سوسائٹی کو کوئی ڈکٹیٹر ذلیل کرکے رکھتا ہے وہ متعفن ہوجاتی ہے۔ اور ایک سڑی ہوئی سوسائٹی ہوتی ہے۔ اس میں لوگ اس طرح گری ہوئی زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح کیڑے مکوڑے ۔ زیادہ سے زیادہ وہ گری ہوئی عادتوں اور عیاشیوں کے رسیا ہوجاتے ہیں۔ ان کی قوائے عقل وخرد ماند پڑجاتی ہیں اور زندگی کے ہر شعبے میں ایسے لوگوں کے اندرجرائم پیدا ہوجاتے ہیں۔ ان کو قوائے عقل وخردماند پڑجاتی ہیں اور زندگی کے ہر شعبے میں ایسے لوگوں کے اندر جرائم پیدا ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے اندرخودداری ہمت ، بلندعزائم ، بلند نگاہی جیسی اعلیٰ صفات ختم ہوجاتی ہیں اور یہ ہے بہت عظیم بگاڑ۔ ڈکٹیٹر اور جبار ہمیشہ اعلیٰ قدروں اور سیدھی سوچ کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دیتے ہیں۔ اس لئے اعلیٰ اقدار اور سیدھی سوچ کے نتیجے میں ان کے باطل اقتدار کو خطرہ ہوتا ہے۔ اس لئے جبار ہمیشہ لوگوں کے لئے کھوٹی قدریں وضع کرتے اور معاشروں میں فاسد پیمانے رائج کرتے ہیں اور غلط افکار و تصورات کو رائج کرکے خوشنما بناتے ہیں تاکہ لوگ ان کے عدوان اور قہاری وجباری کو قبول کریں۔ اور اسے ایک پاپولر اور مقبول اور مروج نظریہ سمجھیں۔ اور یہ ہے وہ بڑا فساد جس سے اور کوئی بڑا فساد نہیں ہے۔ اور جب یہ لوگ زمین کے اندر ہمہ جہت فساد پھیلادیتے ہیں ، اس لئے زمین کی تطہیر ضروری ہوجاتی ہے۔
Ayah 89:13

فَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍۚۙ Open ayah 89:13 in the Quran reader

آخر کار تمہارے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا۔

فصب ................................ صاد (14:89) ” آخر کار تمہارے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب گھات لگائے ہوئے ہے “۔ تمہارے گھاس میں ہے اور وہ ان کے اعمال کو ریکارڈ کررہا ہے اور جب ان کا فساد حد سے زیادہ ہوگیا تو اللہ کا کوڑا بجنے لگتا ہے اور ان پر اس دنیا ہی میں عذاب الٰہی نازل ہونے کا عمل جاری ہوجاتا ہے۔ عذاب کے کوڑے سے مراد یہاں عذاب کی شدت اور چبھن ہے۔ مراد یہ ہے کہ اللہ کا عذاب بہت عام اور ہمہ گیر ہوتا ہے اور وہ ہر طرف سے ان سرکشوں پر انڈیل دیا جاتا ہے جس کے اندر درد چبھن اور گہرائی ہوتی ہے ، اور یہ ان سرکشوں کو لے ڈوبتا ہے۔ جنہوں نے اپنی سرکشیوں کی وجہ سے زمین کو فساد سے بھر دیا تھا۔ جباروں اور ڈکٹیٹروں کے اس انجام کو دیکھ کر ایسے اہل ایمان اور داعیان حق کے دلوں پر اطمینان کے فیوض نازل ہوجاتے ہیں ، جن کو اس قسم کے ظالموں اور سرکشوں سے واسطہ ہوتا ہے ، چاہے وہ جس زمان ومکان میں ہوں اور پھر قرآن کریم نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں۔
Ayah 89:14

اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ Open ayah 89:14 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب گھات لگائے ہوئے ہے “۔

ان ربک ........................ صاد (14:89) ” حقیقت ہے کہ تمہارا رب گھات لگائے ہوئے ہے “۔ یعنی تمہارا رب حاضر وناصر ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے اور اس کی نظروں سے کوئی چیز اوجھل نہیں ہوتی۔ وہ نگرانی کررہا ہے اور اس کی نظر سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ لہٰذا ایمان والوں کو چاہئے کہ وہ مطمئن ہوں ، ان کی مصیبتیں دور ہوں گی اس لئے کہ رب دیکھ رہا ہے اور وہ شر و فساد کا دفعیہ خود کرے گا اور قیامت میں سزا بھی دے گا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس دنیا میں دعوت اسلامی کو نہایت ہی عجیب طریقوں سے مدد دی جاتی ہے ہر جگہ اصحاب اخدود والا طریقہ پیش نہیں آتا۔ اسی طریقے کے مطابق قرآن دین کے لئے کام کرنے والوں کی اسی انداز سے تربیت کرتا ہے اور مختلف حالات اور مختلف ماحول میں مختلف انداز سے ان کی تربیت اور نصرت ہوتی رہتی ہے اور داعیان حق کے لئے اطمینان کا سامان ہوتا رہتا ہے۔ اہل ایمان دو باتوں کی توقع رکھتے ہیں اور اپنی جدوجہد کے بعد فیصلہ اور انجام اللہ کی مشیت کے حوالے کردیتے ہیں کہ وہ دیکھ رہا ہے۔ تمہارا رب گھات لگائے بیٹھا ہے۔ حاضروناظر ہے ، دیکھ رہا ہے ، حساب و کتاب تیار ہورہا ہے اور نہایت ہی صحیح اعمال نامے کی اساس پر وہ جزاء وسزادے گا۔ جس میں نہ غلطی ہوگی ، نہ ظلم ہوگا اور نہ وہ دنیا کے حساب کی طرح محض ظاہری حالات پر مبنی ہوگا بلکہ وہاں تو تمام امور کا فیصلہ حقائق کے مطابق ہوگا۔ رہا انسان تو دنیا میں اس کے موازنے بھی غلط ہوجاتے ہیں۔ اندازے بھی غلط ہوجاتے ہیں اور شہادتوں میں بھی وہ ظاہر پر فیصلہ کرتا ہے ، الایہ کہ وہ کوئی فیصلہ اللہ کی شریعت کے مطابق کرے اور اسلامی تصور حیات کے مطابق سوچے۔
Ayahs 89:15–16

فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِؕ Open ayah 89:15 in the Quran reader

مگر انسان کا حال یہ ہے کہ اس کا رب جب اس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اسے عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنادیا۔

وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِۚ Open ayah 89:16 in the Quran reader

اور جب وہ اس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اس کا رزق اس پر تنگ کردیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا “۔

فاما الاانسان ............................ اھانن یہ تو ہے ، انسان کی سوچ ، ان حالات کے بارے میں جن سے وہ گزرتا ہے۔ کبھی وہ امیر ہوتا ہے ، کبھی غریب ہوتا ہے ، کبھی فراخی نصیب ہوتی ہے اور کبھی تنگی۔ کبھی اللہ اسے نعمتوں اور عزتوں سے آزماتا ہے کبھی جاہ مال سے اس کی آزمائش ہوتی ہے لیکن وہ سمجھ نہیں پاتا کہ یہ تو آزمائش ہورہی ہے کہ اگر وہ کامیاب ہوا تو اسے جزاء ملے۔ لیکن اس کی سوچ یہ ہے کہ وہ مال ومتال کی فراخی اور عزت وجاہ سے یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ وہ اللہ کے نزدیک اس مقام و مرتبہ کا مستحق ہے اور یہ دولت اور یہ عزت اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اللہ کے نزدیک مقبول ہے۔ اس غلط فہمی کی وجہ سے وہ آزمائش کو انعام سمجھتا ہے اور امتحان کو نتیجہ سمجھتا ہے۔ اور اللہ کے نزدیک عزت ومقام کو وہ اس دنیا کی عزت اور مقام پر قیاس کرتا ہے۔ اسی طرح ایسا شخص اگر غریب ہوجائے تو یہ سمجھتا ہے شاید اسے سزا دے دی گئی ہے۔ اور وہ آزمائش کو سزا سمجھتا ہے۔ اور اگر اللہ نے اس کے رزق میں کمی کردی ہے تو یہ اسے سزا اور توہین سمجھتا ہے۔ اس کی سوچ یوں ہے کہ اگر یہ توہین آمیز سلوک نہ ہوتا تو اللہ اسے غریب نہ بناتا۔ دونوں حالتوں میں ایسا سوچنے والا شخص غلطی پر ہوتا ہے۔ جس طرح اس کی سوچ غلط ہے اسی طرح اس کا اندازہ بھی غلط ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ رزق کی تنگی بھی آزمائش ہے اور کشادگی بھی آزمائش ہے۔ کشادگی یوں آزمائش ہے کہ آیا اس پر وہ شکر ادا کرتا ہے یا دولت کو ظلم وسرکشی کا سبب بناتا ہے اور تنگی کی صورت میں آیا وہ صبر کرتا ہے یا ترش مزاجی کا اظہار کرتا ہے ۔ دونوں حالات میں اس کا جو رد عمل ہوگا اسی کے مطابق جزاء وسزا ہوگی۔ دنیا کا مال اور دنیا کی غربت بذات خود نہ جزاء ہیں اور نہ سزا ہیں۔ اللہ کے بندوں کو ان کی دولت کی بنا پر نہیں تولا جاتا۔ نہ اس دنیا میں اللہ کی طرف نعمت کا عطا ہونا یا منع کیا جانا علامت ہے اللہ کی رضامندی کی یا اللہ کی طرف سے ناراضگی کی۔ اللہ تو نیکوکاروں کو بھی دیتا ہے اور بدکاروں کو بھی دیتا ہے ، اور نیکوکاروں سے منع بھی کرتا ہے اور عطا بھی کرتا ہے۔ انسان کا قلب ایمان سے خالی ہوتا ہے ، تو وہ اللہ کی جانب سے دین یا محروم کرنے کی حکمت کو نہیں سمجھ پاتا۔ اور نہوہ اللہ کے ہاں مقرر کردہ حسن وقبح کے پیمانوں کو سمجھتا ہے اور جب کسی کا دل ایمان سے بھر جاتا ہے تو وہ خدا رسیدہ ہوتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے میزان میں کیا چیزوزن دار ہے۔ اس لئے ایسے شخص کے نزدیک دنیا کی کم قیمت منافع ہلکے ہوجاتے ہیں اور وہ جانتا ہے کہ آزمائش کے نتیجے میں جزاء ملیت ہے تو وہ رزق کی کشادگی اور تنگی دونوں حالتوں میں قیامت کے لئے کام کرتا ہے اور دونوں حالتوں میں تقدیر الٰہی پر مطمئن ہوتا ہے اور دنیا کی ظاہری ٹھاٹھ باٹھ کے بغیر بھی اللہ کے ہاں جو اقدار وزن دار ہیں ان کو سمجھتا ہے اور دنیا کی بےوزن قدریں اسے ہیچ نظر آتی ہیں۔ قرآن کریم کے براہ راست مخاطب مکہ کے لوگو تھے۔ ایسے لوگ ہر سوسائٹی میں پائے جاتے ہیں۔ ان کا قصور یہ ہوتا ہے کہ وہ اس دنیا سے وسیع تر دنیا اور بڑی دنیا کا تصور نہیں کرپاتے۔ یہ ایسے لوگ تھے جو تنگی رزق اور کشادگی رزق کے بارے میں اور اللہ کے بارے میں یہ تصور رکھتے تھے جس کا اوپر ذکر ہوا۔ وہ اپنی اس سوچ کے مطابق اس زمین پر لوگوں کی قدروقمیت متعین کرتے تھے۔ خلاصہ یہ کہ ان کے نزدیک مال وجاہ ہی سب کچھ تھا۔ اس سے آگے ان کے نزدیک کوئی پیمانہ نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دولت کے پیچھے مرتے تھے اور مال کی محبت میں حد سے گزر جاتے تھے۔ جس کی وجہ سے وہ بےحد لالچی اور ہر کسی سے فائدے کی امید اپنے دل میں لئے ہوئے تھے ، اور اس جذبہ کی وجہ سے یہ لوگ سخت لالچی ہوگئے تھے۔ چناچہ اللہ یہاں ان لوگوں کی دلی حالت کو ذرا کھولتا ہے اور بتاتا ہے کہ مال و دولت کی یہ لالچ جو ان کے دلوں میں رچی بسی ہے ، وہ اس وجہ سے کہ مال و دولت کے بارے میں ان کی سوچ غلط ہے۔ یہ نہیں سمجھتے کہ مال و دولت نعمت ہی نہیں بلکہ آزمائش بھی ہے۔ اسی طرح غربت بھی مصیبت ہی نہیں بلکہ آزمائش ہے۔
Ayahs 89:17–18

كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 89:17 in the Quran reader

ہر گز نہیں بلکہ تم یتیم سے عزت کا سلوک نہیں کرتے ،

وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِۙ Open ayah 89:18 in the Quran reader

اور مسکین کو کھانا کھلانے پر ایک دوسرے کو نہیں اکساتے ،

کلا بل ........................................ حباجما بات یوں نہیں جس طرح ایمان سے خالی انسان سوچتا ہے۔ محض یہ کہ کسی کو کشادہ رزق دیا گیا ہے۔ یہ اللہ کے نزدیک کرامت والی بات نہیں ہے ، اور نہ تنگی رزق اس بات کی دلیل ہے کہ ایسے شخص کی اللہ کے ہاں کوئی قدر نہیں ہے اور اسے اللہ نے چھوڑ دیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تم دولت کا حق ادا نہیں کرتے اور مال سے حقوق نہیں نکالتے۔ تم لوگ یتیم کی کفالت بھی نہیں کرتے ، جو اپنے والدین اور اولیاء اور سرپرستوں سے محروم ہوگیا ہے۔ اسی طرح معاشرے کے اندر موجود ناداروں کی معاشی کفالت کے لئے کوئی بندوبست نہیں کرتے۔ مسکین کے معنی ہیں وہ شخص جو ساکن ہے ، سکون سے بیٹھا ہے اور اور لوگوں سے مانگتا نہیں پھرتا۔ یہاں یہ کہا گیا کہ یتیموں اور مسکینوں کے کھانے یعنی معاشی ضروریات فراہم کرنے کے لئے دوسروں کو نہیں ابھارتا۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اسلامی نظام میں ناداروں کی کفالت کے لئے ایک عام تحریک ہوتی ہے ، عام لوگوں کی بھلائی کے لئے لوگ ایک دوسرے سے آگے بڑھتے اور ایک دوسرے کو آمادہ کرتے ہیں۔ ناداروں کی کفالت اسلام کی خصوصیت ہے۔ تم لوگ ابتلا کا مفہوم سمجھتے ہو۔ نہ اس آزمائش میں کامیاب ہونا چاہتے ہو ، حالانکہ اس آزمائش میں کامیابی کی راہ یہ ہے کہ یتیم کی عزت کرو ، ایک دوسرے کو یہ وصیت اور تلقین کرو کہ یتیموں کو کھانا کھلایا جائے بلکہ تم اس کے برعکس صورت اختیار کرتے رہو۔ تم لوگ نہایت لالچ کے ساتھ پوری کی پوری میراث ہڑپ کر جاتے ہو ، اور تم مال کی بھرپور محبت کرتے ہو ، جو کسی حد تک محدود نہیں ہے۔ مال کے معاملے میں تمہارے اندر کوئی خودداری ، کوئی وضع داری نہیں ہے۔ اور تم محتاجوں کی نہ عزت کرتے ہو اور نہ ان کی حاجت براری کرتے ہو۔ جیسا کہ ہم نے اس سے قبل تفصیلات دی ہیں ، مکہ میں ایسی صورت حال تھی کہ لوگ بےحد لالچی اور مفادات کے پیچھے کتوں کی طرح بھاگنے والے تھے ، اور ہر طریقے سے دولت سمیٹتے تھے ، جس کی وجہ سے ان کے دلوں میں بخل اور سنگدلی پیدا ہوگئی تھی۔ یتیم چونکہ بےسہارا ہوتے تھے اس لئے ان کے مال ہڑپ کرلیے جاتے تھے۔ خصوصاً یتیم عورت کے۔ پھر ان کو میراث سے محروم کردیتے تھے جیسا کہ متعدد مقامات پر ہم نے تفصیلات دی ہیں۔ ان ہتھکنڈوں کے علاوہ سودی کاروبار کے ذریعہ بھی اہل مکہ رات دن دولت جمع کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ یہ بات یہاں نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ دولت کی پرستش ہر جاہلیت کی خصوصیت ہوتی ہے جہاں بھی ہو اور جب بھی ہو۔ ان آیات میں نہ صرف یہ کہ ان کے موقف کو اچھی طرح بیان کیا گیا ہے بلکہ ان کی مذمت بھی کی گئی ہے اور اس صورت حال کو بڑی سختی سے ناقابل برداشت بنایا گیا ہے اور اس کے لئے لفظ ” کلا “ استعمال کیا گیا ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا ، ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔ آیات کے انداز بیان اور زودار تعبیر اور الفاظ کے زبردست لہجے سے بھی اس صورت حالات کی مذمت نکلتی ہے۔ ذرا دوبارہ غور کریں۔
Ayahs 89:19–20

وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ Open ayah 89:19 in the Quran reader

اور میراث کا سرا مال سمیٹ کر کھاجاتے ہو ،

وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ Open ayah 89:20 in the Quran reader

اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار ہو “۔

وتاکلون ............................ حبا جما (20:89) ” اور میراث کا سرا مال سمیٹ کر کھاجاتے ہو ، اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار ہو “۔ یہاں تک کہ ان کی ناپسندیدہ حالات کی تصویر کشی کردی گئی اور امارت اور غربت کے بارے میں ان کے غلط تصور کی تردید کردی گئی۔ اب ان کو قیامت کی حقیقت اور اس کے مرعوب کن حالات اور آزمائش کے نتائج اور جزاء وسزا اور حساب و کتاب کے مناظر کو نہایت ہی زور دار الفاظ میں لایا جاتا ہے۔
Ayahs 89:21–23

كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ Open ayah 89:21 in the Quran reader

ہرگز نہیں ، جب زمین پے درپے کوٹ کوٹ کر ریگ زار بنادی جائے گی ،

وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ Open ayah 89:22 in the Quran reader

اور تمہارا رب جلوہ فرما ہوگا اس حال میں کہ فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے ،

وَ جِایْٓءَ یَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ یَوْمَئِذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 89:23 in the Quran reader

اور جہنم اس روز سامنے لے آئی جائے گی ، اس دن انسان کو سمجھ آئے گی اس وقت اس کے سمجھنے کا کیا حاصل ؟

کلااذا ................................ وثاقہ احد دکت الارض (21:89) زمین کو کاٹا جائے گا “۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے نشانات مٹا کر اسے برابر کردیاجائے گا۔ یہ ان انقلابات میں سے ایک ہے جو قیامت کے وقوع کے وقت اس کائنات میں برپا ہوں گے رہی یہ بات کہ رب تعالیٰ نزول اجلال فرمائے گا اور فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے تو یہ ایک غیبی معاملہ ہے۔ اس کی حقیقت کو اس وقت تک ہم سمجھ نہیں سکتے ، کیونکہ ابھی ہم اس دنیا میں ہیں اور ہماری قوت ادراک محدود ہے۔ البتہ اس انداز تعبیر سے یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ بہت ہی ہیبت ناک اور خوفناک صورت حال ہوگی۔ اسی طرح جہنم کو لایا جانا پوری طرح ہماری فہم سے دور ہے۔ البتہ یہ بات واضح ہے کہ مجرم اس کے قریب ہوجائیں گے اور وہ اہل جہنم سے قریب ہوجائے گی۔ رہی اصل کیفیت اور صورت حالات تو وہ ایک غیبی امر ہے اور یہ اسی دن اچھی طرح معلوم ہوگی جب برپا ہوگی۔ ان آیات کے ذریعہ ایک ایسی منظر کی تصویر کشی کی گئی ہے جس سے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ آنکھیں سہم کر جھک جاتی ہیں۔ الفاظ کا تلفظ اور ترنم بھی خوفناک ہے اور مناظر کی شدید گرفت ہے۔ زمین کا ریزہ ریزہ کردیا جانا۔ رب تعالیٰ کا نزول و جلال اور فیصلے کرنا فرشتوں کا صف بستہ کھڑے ہونا اور جہنم کا تیار کرکے حاضر کردیاجانا ، ایسے مناظر ہیں جن کی وجہ سے انسان پر خوف طاری ہوجاتا ہے۔ یومئذ ................ الانسان (23:89) ” اس دن بات انسان کی سمجھ میں آجائے گی “۔ وہ انسان اصل حقیقت کو سمجھ جائے گا جو اس جہاں میں امیری اور غریبی کی حقیقت کو بھی سمجھ نہ پارہا تھا۔ جو میراث کا تمام مال سمیٹ کر کھا جاتا تھا۔ اور یتیموں اور عورتوں کا حق بھی مار لیتا تھا۔ اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار تھا۔ نہ یتیم کا اکرام کرتا تھا اور نہ مساکین کی معیشت کے لئے کوئی دوڑ دھوپ کرتا تھا۔ جو سرکش تھا اور جس نے اپنی دولت اور اقتدار کے بل بوتے پر زمین کو فساد سے بھردیتا تھا۔ ایسا شخص آج سب کچھ سمجھ لے گا اور وہ نصیحت کو اچھی طرح قبول کرلے گا لیکن اب تو وقت جاچکا ہے۔ وانی لہ الذکری (23:89) ” لیکن اس وقت اس کے سمجھنے کا کیا حاصل ؟ “ نصیحت لینے اور عمل کرنے کا وقت تو جاچکا ہے۔ آج نصیحت کیا فائدہ دے گی۔ یہ تو دارالجزاء ہے ۔ اب تو حسرت ہی حسرت ہے۔ تمہارے لئے دارالعمل تو دنیا کی زندگی تھی جہاں تم نہ سمجھے اور نہ عمل کیا۔
Ayah 89:24

یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ Open ayah 89:24 in the Quran reader

وہ کہے گا کہ کاش میں نے اپنی اس زندگی کے لئے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا !

یقول .................... لحیاتی (24:89) ” وہ کہے گا کہ کاش میں نے اپنی اس زندگی کے لئے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا “۔ کچھ کمائی کرکے اس جہاں کے لئے جمع کی ہوتی ، حقیقی زندگی تو یہ ہے جسے زندگی کہا جاسکتا ہے۔ تیاریاں اور کمائی اور ذخیرہ تو اس زندگی کے لئے ضروری تھا ، اے کاش کہ میں نے کچھ کیا ہوتا ! یہ ہوگی حسرت ناک تمنا۔ اور وہاں انسان ان حسرتناک تمناﺅں کے سوا اور کر کیا سکے گا۔ ان دل دوز حسرتوں اور بےکار تمناﺅں کے بعد اب اس کا انجام مختصراً یہ ہوگا۔
Ayahs 89:25–26

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ Open ayah 89:25 in the Quran reader

پھر اس دن اللہ جو عذاب دے گا ویسا عذاب دینے والا کوئی نہیں ،

وَّ لَا یُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 89:26 in the Quran reader

اور اللہ جیسا باندھے گا ویسا باندھنے والا کوئی نہیں “۔

فیومئذ ............................ احد (26:89) پھر اس دن اللہ جو عذاب دے گا ویسا عذاب دینے والا کوئی نہیں ، اور اللہ جیسا باندھے گا ویسا باندھنے والا کوئی نہیں “۔ اللہ قہار وجبار ہے۔ وہ اس دن ایسا عذاب دے گا جس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ اور اس دن اس کے باندھنے کا انداز بھی ایسا ہوگا جیسا انداز یہاں متصور نہیں ہے۔ اور اللہ کی پکڑ اور اس کے عذاب کے مناظر قرآن کریم نے بڑی کثرت ، نہایت دلنشیں انداز میں بیان کیے ہیں۔ یہاں صرف یہ کہہ دیا گیا ہے کہ وہ عذاب بھی منفرد ہوگا اور وہ گرفتاری بھی منفرد ہوگی اور ایسی ہوگی کہ اس جہاں میں ان کی کوئی مثال نہیں ہے۔ اور یہ صورت حال ان صورتوں کے بالمقابل ہے جو اس سورت میں عاد ، ثمود اور فرعون کی پکڑ ، ان کے مظالم ، ان کی جباری اور ان کے شروفساد کی بتائی گئی ہیں کہ وہ لوگوں کو پکڑتے تھے اور ظلم کرتے تھے تو اے نبی اور اے اہل ایمان جو لوگ یہاں مسلمانوں مظالم کرتے رہے ہیں یا کر رہرے ہیں اور ان پر تشدد کرتے رہے ہیں ۔ ان کا حال قیامت میں ایسا ہوگا اور اللہ کے ذاب اور پکڑ اور مخلوق کے عذاب اور پکڑ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ دنیا کے لوگ جو عذاب دیتے ہیں اور تشدد کرتے ہیں وہ کچھ بھی نہیں۔ بمقابلہ اس کے جس سے یہ لوگ دوچار ہونے والے ہیں۔ لہٰذا یہ لوگ جو چاہیں ، کریں۔ لیکن یادرکھیں کہ ان کا حشر بہت برا ہونے والا ہے جو ہماری تصور سے بھی بہت بڑا ہے۔ ایسے ہولناک مناظر میں ، شدید پکڑ اور شدید عذاب کے مناظر میں ، جس کا تصور بھی ہم نہیں کرسکتے ، ایک پکار آتی ہے۔ یہ نفس مطمتنہ کے نام ہے اور ملاء اعلیٰ سے ہے۔
Ayahs 89:27–30

یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُۗۖ Open ayah 89:27 in the Quran reader

”(دوسری طرف اشارہ ہوگا) اے نفس مطمئن

ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ Open ayah 89:28 in the Quran reader

چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو خوش اور پسندیدہ ہے ،

فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ Open ayah 89:29 in the Quran reader

شامل ہوجا میرے بندوں میں

وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠ Open ayah 89:30 in the Quran reader

اور داخل ہوجا میری جنت میں “۔

یایتھا ........................................ جنتی کس قدر پر محبت ، مکمل یگانگت اور قرب کا ماحول ہے ! اے نفس مطمنتہ کس قدر روحانیت اور کس قدر تکریم اور عزت افزائی ہے۔ اس پکار میں۔ یایھا ................ المطمئنة (27:89) ” اے نفس مطمئن “۔ جبکہ دوسری طرف بےمثال پکڑ دھکڑ شروع ہے ، بےمثال اور ناقابل تصور عذاب دیا جارہا ہے ، شدید ماحول ہے ، اس شدید ماحول میں ، یہ نرم اور پر محبت پکار ! ارجعی الی ربک (28:89) ” چل اپنے رب کی طرف “۔ چل اپنے اصل سرچشمے کی طرف ، اپنے اصل گہوارے کی طرف ، جو زمین کے اندر دوڑ رہا ہے ، لوٹ اب اپنے رب کی طرف ، تمہارے اور رب کے درمیان ایک خاص تعلق ہے ، ایک خاص نسبت ہے ، ایک خاص شناسائی ہے۔ راضیة مرضیة (28:89) ” تو بھی خوش ہے اور اللہ بھی تجھ سے خوش ہے “۔ ماحول پر اس خوشگوار اعلان سے محبت ورضا کے فیوض طاری ہوجاتے ہیں۔ “ فادخلی فی عبادی (29:89) ” میرے بندوں میں داخل ہوجا “۔ جو میرے قریب ومختار بندے ہیں اور تو بھی یہ قرب پالے۔ وادخلی جنتی (30:89) ” اور میری جنت میں داخل ہوجا ! “۔ میری حمایت میں اور میری رحمت میں۔ ان آیات میں جو محبت و شفقت ہے ، آغاز ہی سے ان میں جنت کی بادنیم محسوس ہوتی ہے۔ یایھا النفس المطمئنة (27:89) ” اے نفس مطمئن “۔ کے الفاظ ہی سے یہ ہوا چلنا شروع ہوتی ہے۔ یہ کون سانفس ہے جو مطمئن ہے ؟ جو رب مطمئن ہے ، جو راہ حق پر مطمئن ہے اور گامزن ہے ، اس راہ پر اسے جو کچھ پیش آئے اس پر مطمئن ہے ، جو امیری میں بھی مطمئن ہے اور غریبی میں بھی۔ وہ دولت یقین سے مطمئن ہے ، اس لئے اپنی راہ نہیں چھوڑتا۔ نہ راستے پر تھک ہار کر رکتا ہے ، جو اس دنیا میں بھی مطمئن ہے اور قیامت کی ہولناکیوں میں بھی مطمئن ہے۔ ان آیات میں جو پکار ہے ان کی فضا خوشنودی ، رضا اور طمانیت پر اللہ کی برکات وفیوض سے بھر پور ہے۔ الفاظ کا ترنم ، معانی کا قرب وسکینت سے بھر پور ہونا اس پکار کی فضا ہے۔ یہ جنت کی فضا ہے۔ اور یہ فضا ان آیات کے الفاظ ومعانی سے چھلکتی اور ٹپکتی ہے۔ اور اس پر خدائے رحمن ورحیم کی تجلیات کا پرتو ہے۔