89. Surah Al-Fajr

الفجرThe Dawn · 30 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

یہاں سے قرآن کریم کے آخر تک زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ تقریباً ان سب سورتوں کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، جنت و دوزخ کے حالات اور اسلام کی تبلیغ کے لیے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایات اور تسلی دینا ہے۔ چونکہ یہ پچھلی سورتوں کے مقابلے میں مختصر سورتیں ہیں، اس لیے ان سب کے الگ الگ تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جس سورت میں ضرورت محسوس ہوگی، انشاء اللہ وہاں تعارف عرض کردیا جائے گا۔

Ayah 89:1

وَ الْفَجْرِۙ Open ayah 89:1 in the Quran reader

قسم ہے فجر کے وقت کی۔

Ayah 89:2

وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ Open ayah 89:2 in the Quran reader

اور دس راتوں کی (1)

1: وَالْفَجْرِ : فجر کا وقت دنیا کی ہر چیز میں ایک نیا انقلاب لے کر نمودار ہوتا ہے، اس لئے اس کی قسم کھائی گئی ہے، بعض مفسرین نے اس آیت سے خاص ذوالحجہ کی صبح مراد لی ہے، اور دس راتوں سے مراد ذوالحجہ کے مہینے کی پہلی دس راتیں ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی تقدس عطا فرمایا ہے، اور اس میں عبادت کا بہت ثواب ہے۔
Ayah 89:3

وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ Open ayah 89:3 in the Quran reader

اور جفت کی اور طاق کی۔ (2)

2: جفت سے مراد دس ذوالحجہ کا دن اور طاق سے مراد عرفہ کا دن ہے، جو نو ذوالحجہ کو آتا ہے ان ایام کی قسم کھانے سے ان کی اہمیت اور فضیلت کی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 89:4–6

وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِۚ Open ayah 89:4 in the Quran reader

اور رات کی جب وہ چل کھڑی ہو۔ (3) (کہ آخرت میں جزاء و سزا ضرور ہوگی)

هَلْ فِیْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍؕ Open ayah 89:5 in the Quran reader

ایک عقل والے (کو یقین دلانے) کے لیے یہ قسمیں کافی ہیں کہ نہیں ؟

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ۙ Open ayah 89:6 in the Quran reader

کیا تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے پروردگار نے عاد کے ساتھ کیا سلوک کیا۔

3: یعنی جب رات رخصت ہونے لگے، ان تمام دنوں اور راتوں کا حوالہ شاید اس لئے دیا گیا ہے کہ عرب کے کافر لوگ بھی ان کو مقدس سمجھتے تھے، ظاہر ہے کہ یہ تقدس ان دنوں اور راتوں میں خود سے نہیں آگیا ؛ بلکہ اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے اس لئے یہ سارے دن رات اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت پر دلالت کرتے ہیں، اور اس قدرت اور حکمت کا ایک مظاہرہ یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک اور بد کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہ فرمائے، بلکہ نیک لوگوں کو انعام دے اور برے لوگوں کو سزا ؛ چنانچہ اس سورت میں انہی دونوں باتوں کو نہایت بلیغ انداز میں بیان فرمایا گیا ہے۔
Ayahs 89:7–8

اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۪ۙ Open ayah 89:7 in the Quran reader

اس اونچے ستونوں والی قوم ارم کے ساتھ (4)

الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:8 in the Quran reader

جس کے برابر دنیا کے ملکوں میں کوئی اور قوم پیدا نہیں کی گئی ؟

4:”ارم“ قوم عاد کے جد اعلیٰ کا نام ہے، اس لیے قوم عاد کی جس شاخ کا یہاں ذکر ہے، اس کو عاد ارم کہا جاتا ہے۔ اور ان کو ستونوں والا کہنے کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ان کے قد و قامت اور ڈیل ڈول بہت زیادہ تھے اسی لیے آگے فرمایا گیا ہے کہ ان جیسے لوگ کہیں اور پیدا نہیں کیے گئے۔ اور بعض حضرات نے اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ انہوں نے اپنی تعمیرات میں بڑے بڑے ستون بنائے ہوئے تھے۔ ان کے پاس حضرت ہود ؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا جن کا مفصل واقعہ سورة اعراف : 65 اور سورة ہود : 50 میں گذر چکا ہے۔
Ayah 89:9

وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ۪ۙ Open ayah 89:9 in the Quran reader

اور ثمود کی اس قوم کے ساتھ کیا کیا جس نے و ادی میں پتھر کی چٹانوں کو تراش رکھا تھا ؟ (5)

5: قوم ثمود کے پاس حضرت صالح ؑ کو پیغمبر بناکر بھیجا گیا تھا۔ ان کے تعارف کے لیے دیکھئے سورة اعراف : 73
Ayahs 89:10–16

وَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ۪ۙ Open ayah 89:10 in the Quran reader

اور میخوں والے فرعون کے ساتھ کیا کیا ؟ (6)

الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:11 in the Quran reader

یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دنیا کے ملکوں میں سرکشی اختیار کرلی تھی۔

فَاَكْثَرُوْا فِیْهَا الْفَسَادَ۪ۙ Open ayah 89:12 in the Quran reader

اور ان میں بہت فساد مچایا تھا۔

فَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍۚۙ Open ayah 89:13 in the Quran reader

چنانچہ تمہارے پروردگار نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا۔

اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ Open ayah 89:14 in the Quran reader

یقین رکھو تمہارا پروردگار سب کو نظر میں رکھے ہوئے ہے۔

فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِؕ Open ayah 89:15 in the Quran reader

لیکن انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا پروردگار اسے آزماتا ہے اور انعام و اکرام سے نوازتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ : میرے پروردگار نے میری عزت کی ہے۔

وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِۚ Open ayah 89:16 in the Quran reader

اور دوسری طرف جب اسے آزماتا ہے اور اس کے رزق میں تنگی کردیتا ہے تو کہتا ہے کہ : میرے پروردگار نے میری توہین کی ہے۔

6: فرعون کو میخوں والا اس لئے کہا گیا کہ وہ لوگوں کو سزا دینے کے لئے ان کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گاڑ دیا کرتا تھا۔
Ayahs 89:17–22

كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 89:17 in the Quran reader

ہرگز ایسا نہیں چاہیے۔ (7) صرف یہی نہیں بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔

وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِۙ Open ayah 89:18 in the Quran reader

اور مسکینوں کو کھانا کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے۔

وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ Open ayah 89:19 in the Quran reader

اور میراث کا مال سمیٹ سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔

وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ Open ayah 89:20 in the Quran reader

اور مال سے بےحد محبت کرتے ہو۔

كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ Open ayah 89:21 in the Quran reader

ہرگز ایسا نہیں چاہیے۔ جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔

وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ Open ayah 89:22 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار اور قطاریں باندھے ہوئے فرشتے (میدان حشر میں) آئیں گے۔

7: اللہ تعالیٰ نے رزق کی تقسیم اپنی حکمت کے مطابق فرمائی ہے، لہٰذا رزق میں تنگی ہو تو اسے اپنی توہین سمجھنا بھی غلط ہے، اور رزق میں زیادتی ہو تو اسے اپنی عزت سے تعبیر کرنا بھی غلط ہے، کیونکہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے ایسے لوگوں کو مال و دولت سے نوازا ہے جو نیک نہیں ہیں۔
Ayahs 89:23–26

وَ جِایْٓءَ یَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ یَوْمَئِذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 89:23 in the Quran reader

اور اس دن جہنم کو سامنے لایا جائے گا، تو اس دن انسان کو سمجھ آئے گی اور اس وقت سمجھ آنے کا موقع کہاں ہوگا ؟ (8)

یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ Open ayah 89:24 in the Quran reader

وہ کہے گا کہ : کاش ! میں نے اپنی اس زندگی کے لیے کچھ آگے بھیج دیا ہوتا۔

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ Open ayah 89:25 in the Quran reader

پھر اس دن اللہ کے برابر کوئی عذاب دینے والا نہیں ہوگا۔

وَّ لَا یُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 89:26 in the Quran reader

اور نہ اس کے جکڑنے کی طرح کوئی جکڑنے والا ہوگا۔

8: اس وقت اگر کوئی شخص ایمان لانا بھی چاہے تو ایمان اس کے لئے فائدہ مند نہیں ہوگا، ایمان تو وہی معتبر ہے جو قیامت اور موت کے آنے سے پہلے پہلے ہو۔
Ayahs 89:27–30

یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُۗۖ Open ayah 89:27 in the Quran reader

(البتہ نیک لوگوں سے کہا جائے گا کہ) اے وہ جان جو (اللہ کی اطاعت میں) چین پاچکی ہے۔ (9)

ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ Open ayah 89:28 in the Quran reader

اپنے پروردگار کی طرف اس طرح لوٹ کر آجا کہ تو اس سے راضی ہو، اور وہ تجھ سے راضی۔

فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ Open ayah 89:29 in the Quran reader

اور شامل ہوجا میرے (نیک) بندوں میں۔

وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠ Open ayah 89:30 in the Quran reader

اور داخل ہوجا میری جنت میں۔

9: یہ قرآن کریم کے اصل لفظ ”نفس مطمئنہ“ کا ترجمہ ہے۔ اس سے مراد انسان کا وہ دل ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے کرتے بالکل سکون پا گیا ہو، اور نافرمانی سے محفوط ہوگیا ہو۔