90. Surah Al-Balad

البلدThe City · 20 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

یہاں سے قرآن کریم کے آخر تک زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ تقریباً ان سب سورتوں کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، جنت و دوزخ کے حالات اور اسلام کی تبلیغ کے لیے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایات اور تسلی دینا ہے۔ چونکہ یہ پچھلی سورتوں کے مقابلے میں مختصر سورتیں ہیں، اس لیے ان سب کے الگ الگ تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جس سورت میں ضرورت محسوس ہوگی، انشاء اللہ وہاں تعارف عرض کردیا جائے گا۔

Ayahs 90:1–2

لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:1 in the Quran reader

میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی۔

وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:2 in the Quran reader

جبکہ (اے پیغمبر) تم اس شہر میں مقیم ہو (1)

1: اس شہر سے مراد مکہ مکرمہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے خصوصی تقدس عطا فرمایا ہے اور اس میں حضور اقدس ﷺ مقیم ہونے کی بنا پر اس کے تقدس میں اور اضافہ ہوا ہے۔ کیونکہ آپ کی تشریف آوری کے لیے اس شہر کا انتخاب فرما کر اللہ تعالیٰ نے اس کی شان اور بڑھا دی ہے۔ اس جملے کی دو تفسیریں اور بھی ہیں جن کی تفصیل ”معارف القرآن“ میں ملاحظہ فرمائیں
Ayah 90:3

وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَۙ Open ayah 90:3 in the Quran reader

اور (قسم کھاتا ہوں) باپ کی اور اس کی اولاد کی۔ (2)

2: وَوَالِدٍ وَّمَا وَلَدَ : والد سے مراد حضرت آدم ہیں اور چونکہ تمام انسان انہیں کی اولاد ہیں، اس لئے اس آیت میں تمام نوع انسانی کی قسم کھائی گئی ہے۔
Ayah 90:4

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍؕ Open ayah 90:4 in the Quran reader

کہ ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔ (3)

3: یہ ہے وہ بات جو قسم کھاکر فرمائی گئی ہے، مطلب یہ ہے کہ دنیا میں انسان کو اس طرح پیدا کیا گیا ہے کہ وہ کسی نہ کسی مشقت میں لگارہتا ہے، چاہے کتنا بڑا حاکم ہو یا دولت مند شخص ہو اسے زندہ رہنے کے لئے مشقت اٹھانی ہی پڑتی ہے، لہذا اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ اسے دنیا میں کبھی کوئی محنت کرنی نہ پڑے تو یہ اس کی خام خیالی ہے، ایسا کبھی ممکن ہی نہیں ہے، ہاں مکمل راحت کی زندگی جنت کی زندگی ہے جو دنیا میں کی ہوئی محنت کے نتیجے میں ملتی ہے، ہدایت یہ دی گئی ہے کہ انسان کو دنیا میں جب کسی مشقت کا سامنا ہو تو اسے یہ حقیقت یاد کرنی چاہیے، خاص طور پر آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کو مکہ مکرمہ میں جو تکلیفیں پیش آرہی تھیں اس آیت نے ان کو بھی تسلی دی ہے، اور یہ بات کہنے کے لئے اول تو شہر مکہ کی قسم کھائی ہے، شاید اس لئے کہ مکہ مکرمہ کو اگرچہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا سب سے مقدس شہر بنایا ہے، لیکن وہ شہر بذات خود مشقتوں سے بنا، اور اس کے تقدس سے فائدہ اٹھانے کے لئے آج بھی مشقت کرنی پڑتی ہے، پھر خاص طور پر اس میں آنحضرت ﷺ کے مقیم ہونے کا حوالہ دینے میں شاید یہ اشارہ ہے کہ افضل ترین پیغمبر ﷺ ، افضل ترین شہر میں مقیم ہیں، لیکن مشقتیں ان کو بھی اٹھانی پڑرہی ہیں، پھر حضرت آدم ؑ اور ان کی ساری اولاد کی قسم کھانے سے اشارہ ہے کہ انسان کی پوری تاریخ پر غور کرجاؤیہ حقیقت ہر جگہ نظر آئے گی کہ انسان کی زندگی مشقتوں سے پُر رہی ہے۔
Ayahs 90:5–6

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌۘ Open ayah 90:5 in the Quran reader

کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس پر کسی کا بس نہیں چلے گا ؟

یَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًاؕ Open ayah 90:6 in the Quran reader

کہتا ہے کہ : میں نے ڈھیروں مال اڑا ڈالا ہے۔ (4)

4: مکہ مکرمہ میں کئی کافر ایسے تھے جنہیں اپنی جسمانی طاقت پر ناز تھا، جب انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا جاتا تو کہتے تھے کہ ہمیں کوئی قابو میں نہیں کرسکتا، نیز وہ آپس میں دکھاوے کے طور پر کہتے تھے کہ ہم نے ڈھیر ساری دولت خرچ کی ہے، خاص طور پر یہ بات اس دولت کے بارے میں کہتے تھے جو انہوں نے آنحضرت ﷺ کی مخالفت اور دشمنی میں خرچ کی ہے۔
Ayah 90:7

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 90:7 in the Quran reader

کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کو کسی نے دیکھا نہیں ؟ (5)

5: یعنی جو کچھ خرچ کیا، دکھاوے کے لیے کیا، پھر اس پر ناز کرنا کیسا ؟ کیا اللہ تعالیٰ دیکھ نہیں رہے تھے کہ وہ کس کام میں اور کس مقصد سے خرچ کر رہا ہے۔
Ayahs 90:8–10

اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَیْنَیْنِۙ Open ayah 90:8 in the Quran reader

کیا ہم نے اسے دو آنکھیں نہیں دیں ؟

وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیْنِۙ Open ayah 90:9 in the Quran reader

اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے ؟

وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ Open ayah 90:10 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو دونوں راستے بتا دیئے ہیں۔ (6)

6: وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ : انسان کو اللہ تعالیٰ نے نیکی اور بدی کے دونوں راستے دکھادئے ہیں اور اختیار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے جو راستہ چاہو اختیار کرسکتے ہو، لیکن بدی کا راستہ اختیار کروگے تو سزا ہوگی۔
Ayah 90:11

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ٘ۖ Open ayah 90:11 in the Quran reader

پھر وہ اس گھاٹی میں داخل نہیں ہوسکا۔ (7)

7: گھاٹی دو پہاڑوں کے درمیانی راستے کو کہتے ہیں، عام طور پر جنگ کے دوران ایسے راستے کو دشمن سے بچنے کے لئے اختیار کیا جاتا ہے، اور یہاں گھاٹی میں داخل ہونے سے مراد ثواب کے کام کرنا ہے، ان کو گھاٹی میں داخل ہونا اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔
Ayahs 90:12–18

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُؕ Open ayah 90:12 in the Quran reader

اور تمہیں کیا پتہ کہ وہ گھاٹی کیا ہے ؟

فَكُّ رَقَبَةٍۙ Open ayah 90:13 in the Quran reader

کسی کی گردن (غلامی سے) چھڑا دینا ہے۔

اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍۙ Open ayah 90:14 in the Quran reader

یا پھر کسی بھوک والے دن میں کھانا کھلا دینا

یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍۙ Open ayah 90:15 in the Quran reader

کسی رشتہ دار یتیم کو۔

اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍؕ Open ayah 90:16 in the Quran reader

یا کسی مسکین کو جو مٹی میں رل رہا ہو۔

ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِؕ Open ayah 90:17 in the Quran reader

پھر وہ ان لوگوں میں بھی شامل ہوا جو ایمان لائے ہیں، اور جنہوں نے ایک دوسرے کو ثابت قدمی کی تاکید کی ہے، اور ایک دوسرے کو رحم کھانے کی تاکید کی ہے۔

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 90:18 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جو بڑے نصیب والے ہیں۔ (8)

8: یہ ”اصحب المیمنہ“ کا ترجمہ ہے، اور اس کا ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”وہ دائیں ہاتھ والے ہیں“ اور ان سے مراد وہ نیک لوگ ہیں جن کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔
Ayah 90:19

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 90:19 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا ہے، وہ نحوست والے لوگ ہیں۔ (9)

9: یہ ”اصحب المشئمہ“ کا ترجمہ ہے اور اس کا ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”وہ بائیں ہاتھ والے ہیں“ اور ان سے مراد وہ بدکار ہیں جن کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔
Ayah 90:20

عَلَیْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ۠ Open ayah 90:20 in the Quran reader

ان پر ایسی آگ مسلط ہوگی جو ان پر بند کردی جائے گی۔ (10)

10: یعنی اس کے دروازے بند کردئیے جائیں گے، تاکہ دوزخیوں کے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہ رہے، والعیاذ باللہ العظیم۔