91. Surah Ash-Shams

الشمسThe Sun · 15 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

یہاں سے قرآن کریم کے آخر تک زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ تقریباً ان سب سورتوں کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، جنت و دوزخ کے حالات اور اسلام کی تبلیغ کے لیے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایات اور تسلی دینا ہے۔ چونکہ یہ پچھلی سورتوں کے مقابلے میں مختصر سورتیں ہیں، اس لیے ان سب کے الگ الگ تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جس سورت میں ضرورت محسوس ہوگی، انشاء اللہ وہاں تعارف عرض کردیا جائے گا۔

Ayahs 91:1–8

وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:1 in the Quran reader

قسم ہے سورج کی اور اس کی پھیلی ہوئی دھوپ کی۔ (1)

وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:2 in the Quran reader

اور چاند کی جب وہ سورج کے پیچھے پیچھے آئے۔

وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:3 in the Quran reader

اور دن کی جب وہ سورج کا جلوہ دکھا دے۔

وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:4 in the Quran reader

اور رات کی جب وہ اس پر چھا کر اسے چھپالے۔

وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:5 in the Quran reader

اور قسم ہے آسمان کی، اور اس کی جس نے اسے بنایا۔

وَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:6 in the Quran reader

اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے بچھایا۔

وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:7 in the Quran reader

اور انسانی جان کی، اور اس کی جس نے اسے سنوارا۔

فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:8 in the Quran reader

پھر اس کے دل میں وہ بات بھی ڈال دی جو اس کے لیے بدکاری کی ہے، اور وہ بھی جو اس کے لیے پرہیزگاری کی ہے۔

1: سورج کو عربی میں ”شمس“ کہتے ہیں، اور اسی کے نام پر اس سورت کا نام سورة الشمس ہے۔ سورت میں اصل مضمون یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے دل میں نیکی اور بدی دونوں قسم کے تقاضے پیدا فرمائے ہیں، اب انسان کا کام یہ ہے کہ وہ نیکی کے تقاضوں پر عمل کرے، اور برائی سے اپنے آپ کو روکے۔ یہ بات کہنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے سورج، چاند اور دن اور رات کی قسمیں کھائی ہیں۔ اس میں شائد اشارہ یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی روشنی بھی پیدا کی ہے اور رات کا اندھیرا بھی، اسی طرح انسان کو نیکی کے کاموں کی بھی صلاحیت دی ہے اور بدی کے کاموں کی بھی۔
Ayahs 91:9–13

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:9 in the Quran reader

فلاح اسے ملے گی جو اس نفس کو پاکیزہ بنائے۔ (2)

وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ Open ayah 91:10 in the Quran reader

اور نامراد وہ ہوگا جو اس کو (گناہ میں) دھنسا دے۔

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَا۪ۤۙ Open ayah 91:11 in the Quran reader

قوم ثمود نے اپنی سرکشی سے (پیغمبر کو) جھٹلایا۔

اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:12 in the Quran reader

جب ان کا سب سے سنگدل شخص اٹھ کھڑا ہوا۔

فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ نَاقَةَ اللّٰهِ وَ سُقْیٰهَاؕ Open ayah 91:13 in the Quran reader

تو اللہ کے پیغمبر نے ان سے کہا کہ : خبردار ! اللہ کی اونٹنی کا اور اس کے پانی پینے کا پورا خیال رکھنا۔

2: نفس کو پاکیزہ بنانے کا مطلب یہی ہے کہ انسان کے دل میں جو اچھی خواہشات اور اچھے جذبات پیدا ہوتے ہیں، انہیں ابھار کر اس پر عمل کرے اور جو بری خواہشات اور جذبات پیدا ہوتے ہیں انہیں دبائے اسی طرح مسلسل مشق کرتے رہنے سے نفس پاکیزہ ہو کر وہ نفس مطمئنہ بن جاتا ہے۔ جس کا ذکر سورة الفجر کی آخری آیتوں میں گذرا ہے۔
Ayah 91:14

فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا١۪ۙ۬ فَدَمْدَمَ عَلَیْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:14 in the Quran reader

پھر بھی انہوں نے پیغبر کو جھٹلایا، اور اس اونٹنی کو مار ڈالا (3) نتیجہ یہ کہ ان کے پروردگار نے ان کے گناہ کی وجہ سے ان کی اینٹ سے اینٹ بجا کر سب کو برابر کردیا۔ (4)

3: قوم ثمود کے مطالبے پر اللہ تعالیٰ نے ایک اونٹنی پیدا فرمائی تھی، اور لوگوں سے کہا تھا کہ ایک دن کنویں سے یہ پانی پئے گی اور دوسرے دن تم پانی بھر لیا کرنا، لیکن اس قوم کا ایک سنگدل شحص نے جس کا نام ”قدار“ بتایا جاتا ہے، اونٹنی کو قتل کردیا، اس کے بعد اس قوم پر ایسا عذاب آیا تفصیل کے لیے دیکھئے سورة اعراف : 73 اور اس کا حاشیہ 4: یعنی سب فنا ہوگئے اور کوئی باقی نہیں بچا۔
Ayah 91:15

وَ لَا یَخَافُ عُقْبٰهَا۠ Open ayah 91:15 in the Quran reader

اور اللہ کو اس کے کسی برے انجام کا کوئی خوف نہیں ہے۔ (5)

5: جب انسانوں کا کوئی لشکر کسی بستی میں تباہی مچائے تو اسے خوف بھی ہوتا ہے کہ کوئی اس سے انتقام نہ لے، ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو ہلاک کرتا ہے تو اسے کسی کے انتقام کا کوئی خوف نہیں ہوتا۔