92. Surah Al-Lail

الليلThe Night · 21 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

یہاں سے قرآن کریم کے آخر تک زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ تقریباً ان سب سورتوں کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، جنت و دوزخ کے حالات اور اسلام کی تبلیغ کے لیے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایات اور تسلی دینا ہے۔ چونکہ یہ پچھلی سورتوں کے مقابلے میں مختصر سورتیں ہیں، اس لیے ان سب کے الگ الگ تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جس سورت میں ضرورت محسوس ہوگی، انشاء اللہ وہاں تعارف عرض کردیا جائے گا۔

Ayahs 92:1–4

وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىۙ Open ayah 92:1 in the Quran reader

قسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے۔

وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰىۙ Open ayah 92:2 in the Quran reader

اور دن کی جب اس کا اجالا پھیل جائے۔

وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰۤىۙ Open ayah 92:3 in the Quran reader

اور اس ذات کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا۔

اِنَّ سَعْیَكُمْ لَشَتّٰىؕ Open ayah 92:4 in the Quran reader

کہ حقیقت میں تم لوگوں کی کوششیں الگ الگ قسم کی ہیں۔ (1)

1: کوششوں سے مراد اعمال ہیں اور مطلب یہ ہے کہ انسانوں کے اعمال مختلف قسم کے ہیں، اچھے بھی اور برے بھی، اور ان اعمال کے نتائج بھی مختلف ہیں، جیسا کے آگے آرہا ہے، یہ بات کہنے کے لئے رات اور دن کی قسم کھانے کا شاید یہ مقصد ہے کہ جس طرح رات اور دن کے نتائج مختلف ہیں، اسی طرح نیکی اور بدی کے نتائج بھی مختلف ہیں، اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے نر اور مادہ کی خاصیتیں الگ الگ رکھی ہیں، اسی طری اعمال کی خاصیتیں بھی جدا جدا ہیں۔
Ayahs 92:5–6

فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ Open ayah 92:5 in the Quran reader

اب جس کسی نے (اللہ کے راستے میں مال) دیا، اور تقوی اختیار کیا۔

وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰىۙ Open ayah 92:6 in the Quran reader

اور سب سے اچھی بات کو دل سے مانا۔ (2)

2: سب سے اچھی بات سے مراد دین اسلام اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی جنت ہے۔
Ayah 92:7

فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْیُسْرٰىؕ Open ayah 92:7 in the Quran reader

تو ہم اس کو آرام کی منزل تک پہنچنے کی تیاری کرا دیں گے۔ (3)

3: آرام کی منزل سے مراد جنت ہے، کیونکہ حقیقی آرام کی جگہ وہی ہے، دنیا میں تو ہر آرام کے ساتھ کوئی نہ کوئی تکلیف لگی رہتی ہے۔ اور تیار کرانے سے مراد یہ ہے کہ ان اعمال کی توفیق دیں گے جو جنت تک پہنچانے والے ہوں۔ واضح رہے کہ قرآن کریم میں جو لفظ ”نیسرہ“ آیا ہے۔ اس کا ترجمہ جو ”تیاری کرا دینے“ سے کیا گیا ہے، وہ اس لفظ کی تشریح میں علامہ آلوسی کی پیروی میں کیا گیا ہے (دیکھئے روح المعانی : 512)
Ayahs 92:8–10

وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 92:8 in the Quran reader

رہا وہ شخص جس نے بخل سے کام لیا، اور (اللہ سے) بےنیازی اختیار کی۔

وَ كَذَّبَ بِالْحُسْنٰىۙ Open ayah 92:9 in the Quran reader

اور سب سے اچھی بات کو جھٹلایا۔

فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰىؕ Open ayah 92:10 in the Quran reader

تو ہم اس کو تکلیف کی منزل تک پہنچنے کی تیاری کرا دیں گے۔ (4)

4: تکلیف کی منزل سے مراد دوزخ ہے، کیونکہ حقیقی تکلیف وہیں کی ہے، اور تیاری کرانے سے مراد یہ ہے کہ وہ جس جس گناہ میں مبتلا ہونا چاہے گا، اسے مبتلا ہونے دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے نیکی کی توفیق نہیں ہوگی، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس ہولناک وعید سے محفوظ رکھیں۔ آمین۔
Ayahs 92:11–13

وَ مَا یُغْنِیْ عَنْهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰىؕ Open ayah 92:11 in the Quran reader

اور جب ایسا شخص تباہی کے گڑھے میں گرے گا تو اس کا مال اس کے کچھ کام نہیں آئے گا۔

اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰى٘ۖ Open ayah 92:12 in the Quran reader

یہ سچ ہے کہ راستہ بتلا دینا ہمارے ذمے ہے۔

وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى Open ayah 92:13 in the Quran reader

اور یہ بھی سچ ہے کہ آخرت اور دنیا دونوں ہمارے قبضے میں ہیں۔ (5)

5: لہذا یہ حق ہم کو ہی حاصل ہے کہ دنیا میں رہنے کے لیے انسان کو احکام اور ہدایات عطا فرمائیں اور آخر میں ان احکام و ہدایات کی تعمیل یا خلاف ورزی پر ثواب اور عذاب کا فیصلہ کریں۔
Ayahs 92:14–18

فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰىۚ Open ayah 92:14 in the Quran reader

لہذا میں نے تمہیں ایک بھڑکتی ہوئی آگ سے خبردار کردیا ہے۔

لَا یَصْلٰىهَاۤ اِلَّا الْاَشْقَىۙ Open ayah 92:15 in the Quran reader

اس آگ میں کوئی اور نہیں، وہی بدبخت داخل ہوگا۔

الَّذِیْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ Open ayah 92:16 in the Quran reader

جس نے حق کو جھٹلایا، اور منہ موڑا۔

وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ Open ayah 92:17 in the Quran reader

اور اس سے ایسے پرہیزگار شخص کو دور رکھا جائے گا۔

الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَكّٰىۚ Open ayah 92:18 in the Quran reader

جو اپنا مال پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے (اللہ کے راستے میں) دیتا ہے۔ (6)

6: یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جو کچھ خرچ کرتا ہے اس میں دکھاوا مقصود نہیں ہوتا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود ہوتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایسے خرچ کرنے سے انسان کو اخلاقی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیتیں حضرت ابوبکر صدیق کی تعریف میں نازل ہوئی ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں بہت خرچ کرتے تھے، تاہم الفاظ عام ہیں، اور ہر اس شخص کے لئے خوشخبری پر مشتمل ہیں جو ان صفات کا حامل ہے۔
Ayahs 92:19–21

وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤىۙ Open ayah 92:19 in the Quran reader

حالانکہ اس پر کسی کا کوئی احسان نہیں تھا جس کا بدلہ دیا جاتا۔

اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰىۚ Open ayah 92:20 in the Quran reader

البتہ وہ صرف اپنے اس پروردگار کی خوشنودی چاہتا ہے جس کی شان سب سے اونچی ہے۔

وَ لَسَوْفَ یَرْضٰى۠ Open ayah 92:21 in the Quran reader

یقین رکھو ایسا شخص عنقریب خوش ہوجائے گا۔ (7)

7: اس مختصر جملے میں نعمتوں کی ایک کائنات پوشیدہ ہے۔ یعنی جنت میں اس کو اپنے اعمال کا ایسا صلہ ملے گا کہ وہ صحیح معنوں میں خوش ہوجائے گا۔