93. Surah Ad-Dhuhaa

الضحىThe Morning Hours · 11 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

یہاں سے قرآن کریم کے آخر تک زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ تقریباً ان سب سورتوں کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، جنت و دوزخ کے حالات اور اسلام کی تبلیغ کے لیے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایات اور تسلی دینا ہے۔ چونکہ یہ پچھلی سورتوں کے مقابلے میں مختصر سورتیں ہیں، اس لیے ان سب کے الگ الگ تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جس سورت میں ضرورت محسوس ہوگی، انشاء اللہ وہاں تعارف عرض کردیا جائے گا۔

Ayah 93:1

وَ الضُّحٰىۙ Open ayah 93:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر) قسم ہے چڑھتے دن کی روشنی کی۔

Ayah 93:2

وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰىۙ Open ayah 93:2 in the Quran reader

اور رات کی جب اس کا اندھیرا بیٹھ جائے۔

Ayah 93:3

مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ Open ayah 93:3 in the Quran reader

کہ تمہارے پروردگار نے نہ تمہیں چھوڑا ہے اور نہ ناراض ہوا ہے۔ (1)

1: نبوت کے بعد شروع شروع میں کچھ دن ایسے گزرے جس میں حضور اقدس ﷺ کے پاس کوئی وحی نہیں آئی اس پر ابولہب کی بیوی نے طعنہ دیا کہ تمہارے پروردگار نے ناراض ہو کر تمہیں چھوڑدیا ہے، اس پر یہ سورت نازل ہوئی تھی، ضحی عربی میں دن چڑھنے کے وقت جو روشنی ہوتی ہے اس کو کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت میں اس کی قسم کھائی ہے اس لئے اس سورت کا نام سورة الضحی ہے۔ اور چڑھتے دن اور اندھیری رات کی قسم کھانے سے غالباً اس طرف اشارہ ہے کہ رات کو جب اندھیرا ہوجاتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اب دن کی روشنی نہیں آئے گی، اسی طرح اگر کسی مصلحت کی وجہ سے وحی کچھ دن نہیں آئی تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا کسی طرح درست نہیں ہے کہ (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ آپ ﷺ سے ناراض ہوگیا ہے۔
Ayahs 93:4–5

وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 93:4 in the Quran reader

اور یقینا آگے آنے والے حالات تمہارے لیے پہلے حالات سے بہتر ہیں۔ (2)

وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ Open ayah 93:5 in the Quran reader

اور یقین جانو کہ عنقریب تمہارا پروردگار تمہیں اتنا اتنا دے گا کہ تم خوش ہوجاؤ گے۔

2: آگے آنے والے حالات سے مراد آخرت کی نعمتیں بھی ہوسکتی ہیں، اور پہلے حالات سے دنیا، اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی مبارک زندگی میں ہر آن آپ کے درجات میں ترقی ہوتی رہے گی، اور دشمنوں کی طرف سے آپ کو تکلیفیں پہنچ رہی ہیں، آخر کار وہ دور ہو کر آپ ہی کا بول بالا ہوگا۔
Ayah 93:6

اَلَمْ یَجِدْكَ یَتِیْمًا فَاٰوٰى۪ Open ayah 93:6 in the Quran reader

کیا اس نے تمہیں یتیم نہیں پایا تھا، پھر (تمہیں) ٹھکانا دیا ؟ (3)

3: حضور اقدس ﷺ کے والد آپ کی پیدائش سے پہلے ہی وفات پا گئے تھے اور والدہ کا بھی بہت کم عمری میں انتقال ہوگیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے دادا عبدالمطلب اور آپ کے چچا ابو طالب کے دل میں آپ کی ایسی محبت ڈال دی کہ انہوں نے آپ کو اپنی اولاد سے بھی زیادہ عزیز رکھ کر پالا تھا۔
Ayah 93:7

وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪ Open ayah 93:7 in the Quran reader

اور تمہیں راستے سے ناواقف پایا تو راستہ دکھایا (4)

4: یعنی آپ وحی نازل ہونے سے پہلے شریعت کے احکام سے ناواقف تھے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آپ کو شریعت عطا فرمائی۔ نیز بعض روایتوں میں کچھ ایسے واقعات بھی بیان ہوئے ہیں جن میں آپ کسی سفر کے دوران راستہ بھول گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی طریقے پر آپ کو راستے پر لگا دیا۔ ہوسکتا ہے کہ اس آیت میں اس قسم کے کسی واقعے کی طرف بھی اشارہ ہو۔
Ayahs 93:8–9

وَ وَجَدَكَ عَآئِلًا فَاَغْنٰىؕ Open ayah 93:8 in the Quran reader

اور تمہیں نادار پایا تو غنی کردیا۔ (5)

فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْهَرْؕ Open ayah 93:9 in the Quran reader

اب جو یتیم ہے تم اس پر سختی مت کرنا۔

5: حضرت خدیجہ ؓ کے ساتھ آپ نے تجارت میں جو شرکت فرمائی، اس سے آپ کو اچھا خاصا نفع حاصل ہوا تھا۔
Ayahs 93:10–11

وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْؕ Open ayah 93:10 in the Quran reader

اور جو سوال کرنے والا ہو، اسے جھڑکنا نہیں۔ (6)

وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠ Open ayah 93:11 in the Quran reader

اور جو تمہارے پروردگار کی نعمت ہے اس کا تذکرہ کرتے رہنا۔

6: سوال کرنے والے سے مراد وہ شخص بھی ہوسکتا ہے جو مالی مدد چاہتا ہو، اور وہ بھی جو حق طلبی کے ساتھ دین کے بارے میں کوئی سوال کرنا چاہتا ہو۔ دونوں کو جھڑکنے سے منع کیا گیا ہے۔ اگر کوئی عذر ہو تو نرمی سے معذرت کرلینی چاہیے۔