Ayahs 89:1–30ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے اور علمیت وتانیث کی وجہ سے غیر منصرف ہے جن کے قدر و قامت درازی میں ستونوں جیسے تھے ان میں کار دراز ترین چار سو گز کا تھا، زور و قوت میں دنیا بھر میں ان کے جیسا کوئی نہیں پیدا کیا یا اور قوم ثمود کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ جو وادی قریٰ میں پتھر تراشا کرتے تھے اور ان سے گھر بنایا کرتے تھے، صخر صخرۃ کی جمع ہے اور میخوں والے فرعون کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ اور وہ چار میخیں گاڑ دیتا تھا اور جس شخص کو سزا دینی ہوتی تھی اس کے چاروں ہاتھوں پیروں کو ان سے بادنھ دیا کرتا تھا، جنہوں نے شہروں میں بڑی سرکشی کی تھی اور ان میں قتل وغیرہ کے ذریعے بہت فساد برپا کر رکھا تھا سو آپ ﷺ کے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا، بیشک آپ ﷺ کا رب گھات میں ہے، بندوں کے اعمال کی نگرانی کر رہا ہے لہٰذا کوئی عمل اس سے مخفی نہیں رہ سکتا کہ اس کی جزا نہ دے، سو اس کافر انسان کو جب اس کا رب آزماتا ہے بایں طور کہ مال وغیرہ کے ذریعہ اس کا اکرام کرتا ہے اور اس کو انعام دیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رب نے میری قدر بڑھا دی (یعنی عزت بخشی) اور جب اس کو (دوسری طرح) آزماتا ہے یعنی اس کی روزی اس پر تنگ کردیتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے رب نے میری قدر گھٹا دی (یعنی ذلیل کردیا) ہرگز ایسا نہیں ہے یعنی غنا کی وجہ سے اکرام ہو اور فقر کی وجہ سے توہین ہو، ان دونوں باتوں کا تعلق اطاعت اور معصیت سے ہے، لیکن کفار مکہ اس بات سے واقف نہیں ہیں، بلکہ تم یتیم کے ساتھ عزت کا سلوک نہیں کرتے یعنی وہ لوگ فارغ البالی کے باوجود اس کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ نہیں کرتے یا میراث سے اس کا حق نہیں دیتے اور آپس میں ایک دوسرے کو مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتے نہ خود کو اور نہ دوسروں کو، طعام بمعنی اطعام ہے اور میراث کے مال کو سمیٹ کر کھا جاتے ہو عورتوں اور بچوں کے مال میراث پر ان کے شدید حریض ہونے کی وجہ سے، اپنے حصے کے ساتھ یا اپنے مال کے ساتھ، اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار ہو جس کی وجہ سے اسے خرچ نہیں کرتے ہو اور ایک قرأت میں چاروں فعلوں میں تاء فوقانیہ کے ساتھ ہے، ہرگز نہیں ! (خبردار ! ) ان کی اس خصلت پر تنبیہ ہے، جب زمین کوٹ کوٹ کر برابر کردی جائے گی (یعنی) زمین کو ہلا دیا جائے گا حتی کہ اس زمین پر کی ہر عمارت معدوم اور منہدم ہوجائے گی اور تمہارا رب جلو افروز ہوگا یعنی اس کا حکم حال یہ کہ فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے (صفا صفا) حال ہے معنی میں مصطفین کے، یا ملائکہ کی بہت سی صفیں ہوں گی، اور جہنم اس روز ستر ہزار لگاموں کے ذریعہ کھینچ کر سامنے لائی جائے گی اور یہ لگا میں ستر ہزار فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوں گی اور سخت آواز ہوگی اور جوش ہوگا اس دن انسان یعنی کافر انسان سا چیز کو سمجھ جائے گا، یومئذ، اذا سے بدل ہے اور اس کا جواب یتذکر الانسان ہے، جس میں اس نے حد سے تجاوز کیا ہوگا اور اس وقت اس کے سمجھنے سے کیا حاصل ہوگا، استفہام بمعنی نفی ہے، یعنی اس وقت سمجھ میں آنا اس کے لئے کچھ نافع نہ ہوگا، سمجھ میں آنے کے ساتھ ہی وہ کہے گا ہائے افسوس ! میں آخرت میں اپنی عمدہ زندگی کے لئے خیر اور ایمان آگے بھیج دیتا، یاد نیوی زندگی کے زمانہ میں (نیک اعمال کرلیتا) پھر اس دن اللہ (خود) عذاب دے گا کوئی (دوسرا) نہ دے گا، یعذب کسرہ کے ساتھ ہے یعنی وہ تعذیب غیر کے سپرد نہ کرے گا اور نہ اس کے جکڑنے والے کے مانند کوئی جکڑنے والا ہوگا یوثق میں ثاء کے کسرہ کے ساتھ اور ایک قرأت میں ذال اور ثاء کے فتحہ کے ساتھ ہے لہٰذا عذابہ اور وثقافہ کی ضمیریں کافر کی طرف راجع ہوں گی اور معنی یہ ہوں گے کہ نہ اس کے جیسا کوئی عذاب دے گا اور نہ اس کے جیسا کوئی جکڑے گا (دوسری طرف ارشاد ہوگا) اے نفس مطمئن ! (یعنی) مامون حال یہ کہ وہ مومنہ ہوگا اپنے رب کی طرف اس حال میں چل کہ تو ثواب سے خوش ہے اور اپنے عمل کی وجہ سے اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہے یعنی دونوں وصفوں کو جامع ہوگا اور وہ دونوں حال ہیں، یہ بات اس سے موت کے وقت کہی جائے گی یعنی تو اس کے امر اور ارادہ کی طرف لوٹ اور قیامت کے دن اس سے کہا جائے گا تو میرے نیک بندوں میں شامل ہوجا اور میری جنت میں ان کے ساتھ داخل ہوجا۔
قولہ : والفجر، الفجر اسم فعل، مصدر بمعنی پو پھٹنا صبح کی روشنی نمودار ہونا، پھاڑ کر بہانا، وقت فجر، ان کے علاوہ اور بہنا سے معانی کے لئے مستعمل ہے قرآن مجید میں صرف وقت فجر اور طلوع سحر کے لئے اس کا استعمال ہوا ہے (لغات القرآن فجر سے یا تو ہر روز کی طلوع فجر مراد ہے یا خاص طور پر دسویں ذی الحجہ کی یا محرم کی پہلی تاریخ کی فجر مراد ہے اس لئے کہ اسی دن سے عربی کا نیا سال شروع ہوتا ہے، اور لیال عشر سے ذی الحجہ کی ابتدائی دس راتیں مع ان کے دنوں کے مراد ہیں، اس لئے کہ ان کی بہت فضیلت وارد ہوئی ہے۔
قولہ : والشفع والوتر کے معنی جفت اور طاق کے ہیں، شفع اور وتر کے معنی میں مفسرین کا بہت اختلاف ہے حتی کہ جفت و طاق کے معنی کی تعیین میں 36 اقوال ملتے ہیں۔
قولہ : اذا یسر، یسر دراصل یسری تھا تخفیفاً یاء کو فواصل کی رعایت کی وجہ سے حذف کردیا گیا۔
قولہ : ھل فی ذلک قسم لذی حجر یہ استفہام تقریری ہے یعنی ان قسموں میں عقلمند کے لئے کاف قسم ہے، قوم عاد کی جانب حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تھا اس قوم کے دو نام ہیں (1) عاد (2) ارم، اس لئے کہ عاد بیٹا ہے عوص کا اور عوص بیٹا ہے ارم کا، اور ارم بیٹا ہے سام بن نوح کا، لہٰذا کبھی تو اس قوم کے باپ عاد کی طرف نسبت کر کے قوم عاد کہتے ہیں اور کبھی ان کے دادا کے نام کی طرف نسبت کر کے قوم ارم کہتے ہیں، پس عاد اور ثمود دونوں ارم میں جا کر مل جاتے ہیں، عاد بواسطہ عوص کے اور ثمود بواسطہ عابر کے اور یہاں ارم اس لئے بڑھا دیا ہے کہ اس قوم عاد میں دو طبقے ہیں ایک متقدمین کا جس کو عاد اولیٰ کہتے ہیں اور دوسرا متاخیرن کا جن کو عاد اخریٰ کہتے ہیں اس سے معلوم ہوگیا کہ یہاں عاد اولیٰ مراد ہے، عاد نے بارہ سو سال عمر پائی جس کی صلبی اولاد کی تعداد چار ہزار تھی اس نے ایک ہزار عورتوں سے شادی کی اور اس کا انتقال حالت کفر میں ہوا۔ (جمل) ماقبل میں چار چیزوں کی قسمیں مذکور ہیں ان کا جواب قسم محذوف ہے اور وہ لعذبن یا کفار مکۃ ! ہے اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ جواب قسم مذکور ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ” ان ربک لبالمرصاد “ ہے، مفسر عالم نے اول قول کو اختیار کیا ہے۔
قولہ : ذات العماد بعض حضرات نے اس کا ترجمہ ” دراز قد “ بیان کیا ہے اور دراز ترین قد والا پانچ سو ہاتھ کا خود اپنے ہاتھ سے اور قصیر ترین تین سو ہاتھ کا، اور بعض حضرات نے ذات العماد کا ترجمہ ستونوں والی بلند عمارتوں والے، مراد لیا ہے (جمل) مفسر علام نے اول معنی مراد لئے ہیں۔
تفسیر و تشریح
اس سورت میں پانچ چیزوں کی قسم کھا کر اس مضمون کی تاکید کی گئی ہے جو آگے (ان ربک لبا لمرصاد) میں بیان ہوا ہے یعنی اس دنیا میں تم جو کچھ کر رہے ہو اس پر جزاء و سزا ہونا لازمی ہے تمہارے سب اعمال تمہارے رب کی نگرانی میں ہیں۔
وہ پانچ چیزیں جن کی قسم کھائی ہے ان میں سے۔
پہلی چیز فجر یعنی صبح صاق کا وقت ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر روزگ کی صبح صادق مردا ہو، اس لئے کہ یہ صبح صادق عالم میں ایک عظیم انقلاب لاتی ہے اور حق تعالیٰ شانہ کی قدرت کاملہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الفجر میں الف لام کو عہد کا قرار دے کر کسی خاص دن کی فجر مراد ہو، حضرت علی، حضرت ابن عباس، اور حضرت ابن زبیر ؓ سے پہلے معنی یعنی عام وقت فجر مراد ہونا مقنلو ہے اور ابن عباس ؓ کی ایک روایت میں ماہ محرم کی پہلی تاریخ کی فجر مراد ہونا بھی منقول ہے حضرت قتادہ ؓ نے بھی یہی تفسیر کی ہے اور بعض حضرات سے دسویں ذی الحجہ یعنی یوم النحر کی فجر مراد ہونا منقول ہے، یوم نحر کی تخصیص کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر دن کے لئے ایک رات ساتھ لگائی ہے جو اسلامی اصول کے مطابق دن سے پہلے ہوتی ہے، صرف یوم نحر ایک ایسا دن ہے کہ اس کے ساتھ کوئی رات نہیں ہے، کیونکہ یوم النحر سے پہلے جو رات ہے وہ یوم النحر کی نہیں بلکہ شرعاً عرفہ ہی کی رات قرار دی گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی حج کرنے والا عرفہ کے دن میدان عرفات میں نہ پہنچ سکا اور رات کو صبح صادق سے پہلے کسی وقت بھی عرفات میں پہنچ گیا تو اس کا وقوف معتبر اور حج صحیح ہوجاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یوم عرفہ کی دوراتیں ہیں ایک اس سے پہلے اور دوسری اس کے بعد اور یوم النحر کی کوئی رات نہیں اس لحاظ سے یوم النحر کی فجر تمام ایام میں ایک خاص شان رکتھی ہے۔ (قرطبی، معارف)
دوسری چیز جس کی قسم کھائی گئی ہے وہ دس راتیں ہیں کیونکہ حدیث شریف میں ان کی بڑی فضیلت آئی ہے۔
شفع اور وتر کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں مثلاً بعض نے نماز وتر اور غیر وتر مرالی ہے، بعض ائمہ تفسیر مثلاً ابن سیرین ؓ ، مسروق ؓ ابو صالح ؓ قتادہ ؓ نے فرمایا کہ شفع سے مراد تمام مخلوق ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تمام مخلوقات کو جفت پیدا کیا ہے ” ومن کل شیء خلقنا زوجین “ یعنی ہم نے ہر شئی کو جوڑے سے پیدا کیا اور ان کے بالمقابل وتر صرف اللہ ہے، مطلب یہ کہ ہر شئی بلکہ ہر ذرہ باجوڑ ہے، ہر شئی اور ہر ذرہ میں سوائے اللہ کے دو پہلو، مثبت اور منفی ضرور پائے جاتے ہیں۔