90. Surah Al-Balad

البلدThe City · 20 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayah 90:1

لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:1 in the Quran reader

ہمیں اس شہر کی قسم

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، میں قسم کھاتا ہوں اس شہر مکہ کی (لا اقسم) میں، لازائدہ ہے اور اے محمد ﷺ ! آپ ﷺ کے لئے اس شہر میں قتال حلال ہونے والا ہے، بایں طور کہ آپ ﷺ کے لئے قتال حلال کردیا جائے گا، سو آپ ﷺ اس میں قتال کریں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس وعدہ کو فتح مکہ کے دن پورا فرما دیا (انت حل الخ) مقسم بہ اور اس کے درمیان جس کا مقسم بہ پر عطف کیا گیا ہے، جملہ معترضہ ہے، اور قسم ہے والد آدم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اور ان کی اولاد کی یعنی ان کی ذریت کی اور مابمعنی من ہے، یقیناہم نے انسان کو یعنی جنس انسان کو مشقت اور شدت میں پیدا کیا ہے کہ وہ دنیا کے مصائب اور آخرت کی مشقت برداشت کرتا ہے کیا انسان یعنی قریش کا طاقتور شخص اور وہ ابولاشد بن کلدہ ہے اپنی قوت کی وجہ سے یہ سمجھتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہ پا سکے گا ؟ حالانکہ اللہ اس پر قابو پانے والا ہے، ان مخففہ عن الثقلیہ ہے اور اس کا اسم محذوف ہے، ای انہ وہ کہتا ہے کہ محمد ﷺ کی عداوت میں، میں نے ڈھیروں جمع شدہ مال خرچ کردیا کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کو کسی نے دیکھا نہیں ہے کہ اس نے وہ مال کس میں خرچ کیا ہے ؟ (اور کتنا خرچ کیا ہے ؟ ) کہ وہ اس کی مقدار لوگوں کو بتارہا ہے اور حال یہ کہ اللہ اس کی مقدار کو خوب جانتا ہے اور وہ مال اس قدر نہیں کہ اس پر فخر کیا جائے اور وہ اس کی بدکرداری پر سزا دینے والا ہے کیا ہم نے اس کو دو آنکھیں اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیئے ؟ یہ استفہام تقریری ہے یعنی ہم نے اس کو (یہ چیزیں) دی ہیں اور ہم نے اس کو خیر و شر کے دونوں راستے بتا دیئے تو پھر کس لئے گھاٹی میں داخل نہیں ہوا ؟ اور تم کو کیا معلوم کہ کیا ہے وہ (دشوار گزار) گھاٹی ؟ جس میں وہ داخل ہوگا ، (یہ استفہام) عقبہ کی عظمت شان کو بیان کرنے کے لئے ہے اور جملہ معترضہ ہے اور گھاٹی میں دخول کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قول فک رقبۃ سے بیان فرما دیا، یعنی غلامی سے گردن کو چھڑانا بایں طور کہ اس کو آزاد کر دے یا فاقہ کے دن کسی قریبی یتیم یا کسی خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا، یعنی وہ فقیر کہ جو اپنے فقر کی وجہ سے خاک نشین ہوگیا ہو اول فقیر کو جو اپنے فقر کی وجہ سے خاک نشین ہوگیا ہو اور ایک قرأت میں دونوں فعلوں کے بجائے دونوں مرفوع مصدر ہیں اول مصدر رقبہ کا مضاف ہے اور دوسرا مصدر منون ہے، لہٰذا العقبہ سے پہلے اقتحام مقدر مانا جایء گا اور مذکورہ قرأت اقتحام کا بیان ہوگی اور پھر وہ اقتحام (یعنی گھاٹی میں داخل ہوتے وقت) مومنین میں سے ہو اور جنہوں نے آپس میں ایک دوسرے کو طاعت پر اور معصیت سے باز رہنے پر صبر کی اور خلق خدا پر رحم کی تلقین کی ہو یہ لوگ جو ان صفات سے متصف ہوں گے دائیں ہاتھ والے ہیں اور جنہوں نے ہماری آیات کے ماننے سے انکار کیا یہ ہیں بائیں ہاتھ والے، ان پر آگ چھائی ہوئی ہوگی (موصدۃ) ہمزہ کے ساتھ ہے اور ہمزہ کے بجائے وائو کے ساتھ بھی چھائی ہوئی۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : لازائدۃ یہ ایک قول ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ منکرین بعث کے قول کی نفی ہے، مطلب یہ ہے کہ اے مشرکین مکہ ! ، جو تم کہتے ہو بات ایسی نہیں۔ قولہ : وانت حل بھذا البلد آپ ﷺ کو تسلی ہے اور آئندہ فتح مکہ کی خوشخبری ہے، یقینی الوقوع ہونے کی وجہ سے حال کے صیغہ سے تعبیر کیا ہے جیسا کہ انک میت وانھم میتون میں (وانت حل) جملہ معترضہ ہے، نہ ماقبل سے اس کا کوئی تعلق نہ ہے اور نہ مابعد سے، بلکہ اس جملہ سے آئندہ ہونے والے واقعہ کی خبر دی گئی ہے اور بہتر یہ ہے کہ اس جملہ کو حالیہ قرار دیا جائے۔ قولہ : بان یحل لک یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مصدر بمعنی مستقبل ہے۔ (صاوی) قولہ : لقد خلقنا الانسان یہ مقسم علیہ (جواب قسم) ہے۔ قولہ : وما ولد، ما بمعنی من ہے۔ قولہ : فھلاً اس میں اشارہ ہے کہ ’ دلا “ بمعنی ھلا ہے اور اپنی اصل پر بھی ہوسکتا ہے۔ سوال : لا جب ماضی پر داخل ہوتا ہے تو لا کی تکرار ضروری ہوتی ہے، جیسا کہ فلا صدق ولا صلی ؟ جواب :۔ معنی تکرار ہے اگرچہ لفظاً تکرار نہیں، اس لئے کہ اصل میں فلافک رقبۃ ولا اطعم مسکیناً ہے۔ قولہ : العقبۃ، عقبہ پہاڑوں کے درمیان دشوار گزار راستہ کو کہتے ہیں اقتحام کے معنی گھاٹی میں داخل ہونے کے ہیں بعد میں مطلقاً ترک محرمات اور فعل الطاعات میں مجاہدہ پر اطلاق ہونے لگا ہے۔ قولہ : جاوزھا یہ اقتحام العقبۃ کی تفسیر ہے۔ قولہ : بین سبب جوازھا، ای بین طریق دخولھا، وفی قراء ۃ بدل الفعلین مصدر ان مرفوعان، یہ فک رقبۃ او اطعام میں دوسری قرأت کا بیان ہے، مفسر عالم فرماتے ہیں کہ بعض قرأتوں میں مذکورہ دونوں فعلوں کے بجائے یعنی فک کے بجائے فک اور اطعم کے بجائے اطعام ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ مفسر عالم کے پیش نظر قرآن کا جو نسخہ ہے اس میں مصدر کے بجائے فعل ہیں اور ہمارے سامنے جو نسخہ ہے اس میں دونوں جگہ مصدر ہی ہیں، اگر مصدروں کے بجائے افعال مانے جائیں تو پھر دونوں فعل فلا اقتحم سے بدل ہوں گے یعنی وہ عقبہ میں داخل نہیں ہوئے یعنی گردنوں کو آزاد نہیں کرایا اور فاقہ کے دن کھانا نہیں کھلایا اور اگر دونوں فعلوں کے بجائے مصدر ہی مانا جائے جیسا کہ ہمارے پیش نظر نسخہ میں ہے تو یہ دونوں مصدر ما العقبۃ کی تفسیر ہوں گے مگر اس صورت میں ذات کی تفسیر مصدر سے ہونا لازم آئے گی، اس لئے کہ عقبہ ذات ہے اور فک اور اطعام مصدر ہیں اور یہ جائز نہیں ہے ؟ لہٰذا عقبہ سے پہلے اقتحام مصدر ماننا ضروری ہوگا، تقدیر عبارت ہوگی ما افتحام العقبۃ ؟ ھو فک رقبۃ اور اطعام یوم ذی مسغبۃ اس تقدیر کے بعد مصدر کا حمل ذات پر ہونا لازم نہیں آتا۔ قولہ : ثم للترتیب الذکری اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال :۔ اوپر کی آیت میں طاعات بدنیہ اور مالیہ کے ذریعہ مجاہدہ کا حکم دیا گیا ہے اور ثم کان من الذین امنوا میں ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے حالانکہ ایمان طاعت سے مقدم ہے ؟ جواب :۔ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ ثم ترتیب ذکری کے لئے ہے ترتیب زمانی کے لئے نہیں اور مطلبب یہ ہے کہ مجاہدہ نفس بالا طاعت کے وقت مومن ہو۔ تفسیر و تشریح لا اقسم بھذا البلد، بلد سے مراد مکہ مکرم ہے جس میں اس وقت جب کہ اس سورت کا نزول ہوا نبی کریم ﷺ کا قیام تھا آپ ﷺ کا مولدو مسکن بھی یہی شہر مکہ تھا یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے مولد و مسکن کی قسم کھائی ہے اس سے مکتہ المکرمہ کی دوسرے شہروں کی بہ نسبت شرافت اور فضیلت ثابت ہوتی ہے، حضرت عبداللہ بن عدی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے وقت شہر مکہ کو خطاب کر کے فرمایا کہ، خدا تعالیٰ کی قسم، تو تمام روئے زمین پر اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ بہتر اور محبوب ہے اگر مجھے یہاں سے نکلنے پر مجبور نہ کردیا گیا ہوتا تو میں تیری زمین سے نہ نکلتا۔ (ترمذی و ابن ماجہ)
Ayahs 90:2–3

وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:2 in the Quran reader

اور تم اسی شہر میں تو رہتے ہو

وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَۙ Open ayah 90:3 in the Quran reader

اور باپ (یعنی آدم) اور اس کی اولاد کی قسم

وانت حل بھذا البلد اس فقرہ کے تین معنی مفسرین نے بیان کئے ہیں، ایک یہ کہ آپ ﷺ اس شہر میں مقیم ہیں، اس وقت یہ حلول سے مشتق ہوگا جس کے معنی حلول کرنے، اترنے اور فروکش ہونے کے ہیں یوں تو شہر مکہ خود بھی محترم اور مکرم ہے مگر آپ ﷺ کے اس میں مقیم ہونے کی وجہ سے اس کی عظمت میں اور اضافہ ہوگیا ہے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ لفظ حل مصدر ہے جو حلت سے مشتق ہے جس کے منی کسی چیز کے حلال ہونے کے ہیں اس اعتبار سے لفل حل کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ کفار مکہ نے آپ ﷺ کو حلال سمجھ رکھا ہے کہ آپ ﷺ کے قتل کے درپے ہیں حالانکہ وہ خود بھی شہر مکہ میں کسی شکار تک کو بھی حلال نہیں سمجھتے مگر ان کا ظلم اور سرکشی اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ جس مقدس مقام پر کسی جانور کا قتل بھی جائز نہیں اور خود ان لوگوں کا بھی یہی عقیدہ ہے وہاں انہوں نے اللہ کے رسول کا قتل اور خون حلال مسجھ لیا ہے۔ تیسرے معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ کی یہ خصوصیت ہے کہ آپ ﷺ کے لئے حرم مکہ میں کفار کے ساتھ قتال حلال ہونے والا ہے جیسا کہ فتح مکہ میں ایک روز کے لئے آپ ﷺ سے احکام حرم اٹھا لئے گئے تھے اور کفار کا قتل حلال کردیا گیا تھا، چناچہ عبد اللہ بن خطل کو فتح مکہ کے دن اس وقت قتل کردیا گیا جب کہ وہ بیت اللہ کے پردوں سے چمٹا ہوا تھا، یہ شخص قریش تھا لوگ اس کو ذو قلبین کہا کرتے تھے، آنحضرت ﷺ کے حکم سے اس کو ابوبرزہ بن سعید بن حرب اسلمی نے قتل کردیا، اس نے اپنے مسلمان ہونے کا اظہار کیا تھا اور چند روز وحی کی کتاب بھی کی تھی مگر بعد میں مرتدہو گیا اور رسول اللہ ﷺ کی شان میں ستاخی کرنے لگا تھا اور کہتا تھا کہ محمد ﷺ جو وحی لکھاتے ہیں وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتی بلکہ خود ان کی طرف سے ہوتی ہے۔ (روح المعانی) ووالدوما ولد بعض مفسرین نے اس سے حضرت آدم اور ان کی صلبی اولاد مراد لی ہے اور بعض کے نزدیک عام ہے ہر باپ اور اس کی اولاد میں شامل ہے۔
Ayahs 90:4–20

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍؕ Open ayah 90:4 in the Quran reader

کہ ہم نے انسان کو تکلیف (کی حالت) میں (رہنے والا) بنایا ہے

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌۘ Open ayah 90:5 in the Quran reader

کیا وہ خیال رکھتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہ پائے گا ؟

یَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًاؕ Open ayah 90:6 in the Quran reader

کہتا ہے کہ میں نے بہت سا مال برباد کیا

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 90:7 in the Quran reader

کیا اسے یہ گمان ہے کہ اسے کسی نے دیکھا نہیں

اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَیْنَیْنِۙ Open ayah 90:8 in the Quran reader

بھلا ہم نے اس کو دو آنکھیں نہیں دیں ؟

وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیْنِۙ Open ayah 90:9 in the Quran reader

اور زبان اور دو ہونٹ (نہیں دئیے)

وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ Open ayah 90:10 in the Quran reader

(یہ چیزیں بھی دیں) اور اس کو (خیر اور شر کے) دو نور بھی دکھا دئیے

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ٘ۖ Open ayah 90:11 in the Quran reader

مگر وہ گھاٹی پر سے ہو کر نہ گزرا

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُؕ Open ayah 90:12 in the Quran reader

اور تم کیا سمجھے کہ گھاٹی کیا ہے

فَكُّ رَقَبَةٍۙ Open ayah 90:13 in the Quran reader

کسی کی گردن کا چھڑانا

اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍۙ Open ayah 90:14 in the Quran reader

یا بھوک کے دن کھانا کھلانا

یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍۙ Open ayah 90:15 in the Quran reader

یتیم رشتہ دار کو

اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍؕ Open ayah 90:16 in the Quran reader

یا فقیر خاکسار کو

ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِؕ Open ayah 90:17 in the Quran reader

پھر ان لوگوں میں بھی (داخل) ہوا جو ایمان لائے اور صبر کی نصحیت اور (لوگوں پر) شفقت کرنے کی وصیت کرتے رہے

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 90:18 in the Quran reader

یہی لوگ صاحب سعادت ہیں

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 90:19 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو نہ مانا وہ بدبخت ہیں

عَلَیْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ۠ Open ayah 90:20 in the Quran reader

یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے

لقد خلقنا الانسان فی کبد یعنی انسان کی زندگی محنت و مشقت اور شوائد سے معمور ہے، یہ جواب قسم ہے۔ او اطعام فی یوم ذی مسغبۃ مسغبۃ بھوک اور ذی مسغبۃ بھوک والے دن اور دامتربۃ (مٹی والا) یعنی وہ شخص جو فقر و غربت کی وجہ سے زمین پر پڑا رہتا ہو، اس کا گھر بار کچھ نہ ہو، مطلب یہ ہے کہ کسی غلام کو آزاد کرنا کسی بھوکے کو رشتہ دار یتیم کو کھانا کھلانا یہ دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہونا ہے جس کے ذریعہ انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جا پہنچے گا یتیم کی کفالت ویسے بھی بڑے اجر کا کام ہے اور اگر وہ رشتہ دار بھی ہو تو اس کی کفالت کا اجر بھی دگنا ہے ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا اسی طرح غلام آزاد کرنے کی بھی حدیث شریف میں بڑی فضیلت آئی ہے آج کل اس کی ایک صورت کسی مقروض کو قرض کے بوجھ سے نجات دلا دیناھی ہوسکتی ہے، یہ بھی ایک قسم کا فلک رقبہ ہے۔