Ayah 91:1ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربانی نہایت رحم والا ہے، سورج اور اس کی روشنی کی قسم اور چاند کی قسم جب وہ سورج کے پیچھے آتا ہے، یعنی اس کے غروب ہونے کے بعد طلوع ہوتا ہے اور دن کی قسم جب وہ اپنے ارتفاع کے ساتھ سورج کو نمایاں کردیتا ہے اور قسم ہے رات کی جب وہ سورج کو اپنی تاریکی کے ذریعہ چھپا لیتی ہے اور ان تینوں جگہ محض ظرفیت کے لئے ہے اور عامل (اذا) میں فعل قسم ہے اور آسمان اور اس ذات کی قسم جس نے اسے قائم کیا اور زمین کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے بچھایا اور قسم ہے نفس کی اور اس ذات کی جس نے اس کی تخلیق کو درست کیا اور نفس بمعنی نفوس ہے اور ماتینوں جگہ مصدر یہ ہے یا بمعنی من ہے، پھر اس کی بدکاری اور اس کی پرہیز گاری کا الہام فرمایا یعنی خیر و شر کے دونوں طریقے واضح فرمائی اور تقویٰ کو فواصل کی رعایت کی وجہ سے، مئوخر کیا ہے اور جواب قسم قد افلح ہے جواب قسم سے لام طول کلام کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے، یقیناً وہ مراد کو پہنچا جس نے اس نفس کو گناہوں سے پاک کرلیا اور یقیناً نامراد ہوا وہ جس نے نفس کو معصیت میں دبا دیا ” دسھا “ اصل میں دسسھا تھا دوسرے سین کو تخفیفاً الف سے بدل دیا، اور قوم ثمود نے اپنے رسول صالح (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اپنی سرکشی کے سبب تکذیب کی جب کہ اس قوم کے شقی ترین شخص نے جس کا نام قدار تھا اپنی قوم کی رضا مندی سے اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کی طرف سبقت کی، تو ان سے اللہ کے رسول صالح (علیہ الصلوۃ والسلام) نے کہا کہ اللہ کی اونٹنی سے بچو (یعنی اس کو بدنیتی سے ہاتھ نہ لگانا) اور اسکی باری کے دن میں پانی پینے سے خبردار رہنا اور ایک دن اس کی باری کا تھا اور قوم کے لئے ایک دن تھا سو انہوں نے اس صالح (علیہ الصلوۃ والسلام) کی تکذیب کی اس بات میں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے اگر وہ اس کا خلاف کریں گے تو اس پر نزول عذاب مرتب ہوگا تو پھر انہوں نے اس اونٹنی کو ہلاک کردیا یعنی اس کو قتل کردیا تاکہ اس (اونٹنی) کی پانی پینے کی باری خالص ان کے لئے ہوجائے تو ان کے پروردگار نے ان کے گناہوں کے سبب ان پر ہلاکت نازل فرمائی پھر اس ہلاکت کو ان کے اوپر عام کردیا کہ ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا اور اللہ تعالیٰ کو اس کے (برے) انجام کا خوف نہیں (ولا) میں واو اور فادونوں ہیں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : وضحھا، الضحوۃ، ارتفاع النہار اور الضحی بالضم والقصر ارتفاع النہار سے بڑھ کر اور الضحاء فتحہ اور مد کے ساتھ وہ وقت جب کہ دن نصف النہار کے قریب پہنچ جائے۔
قولہ : والنھار اذا جلھا اذا جلھا کی ضمیر مرفوع مستتریا تو نہار کی طرف یا اللہ کی طرف راجع ہے اور ضمیر بارز منصوب یا تو شمس کی طرف راجع ہے یا ظلمت کی طرف۔
قولہ : لمجرد الظرفیۃ یہ اضافت الصفت الی الموصوف کے قبیل سے ہے ای الظرفیۃ المجردۃ عن الشرط
قولہ : قد افلح یہ جواب قسم ہے، حذقت منہ الام یعنی قد پر سے طول کلام کی وجہ سے لام حذف کردیا گیا ہے، مضای ثبت جب جواب قسم واقع ہو تو اس پر لام اور قد لانا ضروری ہوتا ہے، البتہ صرف قد پر بھی اکتفا جائز ہے۔
تفسیر و تشریح
اس سورت کے شروع میں سات چیزوں کی قسم کھا گئی ہے جن کا جواب قسم قد افلح من زکھا وقد خاسب من دسھا ہے، والشمس وضحھا یہاں اگر ضحا کا واو عطف کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے مگر بعد کے قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ضحیٰ کا ذکر بطور وصف شمس کے ہے یعنی قسم ہے آفتاب کی جب کہ وہ وقت ضحی میں ہو، ضحی اس وقت کو کہا جاتا ہے جب آفتاب طلوع ہو کر کچھ بلند ہوجائے اور اس کی روشنی زمین پر پھیل جائے۔
Ayahs 91:2–4والقمر اذا تلھا یعنی سورج غروب ہونے کے بعد وہ طلوع ہو جیسا کہ مہینے کے نصف اول میں ہوتا ہے۔
Ayahs 91:5–7والسماء وما بنھا یعنی اس ذات کی قسم جس نے اس کو بنایا، اس معنی کے اعتبار سے مابمعنی من ہے اور اگر ترجمہ یہ کیا جائے کہ قسم ہے آسمان کی اور اس کے بنانے کی، اس صورت میں ما مصدر یہ ہوگا۔
Ayahs 91:8–12فالھمھا فجور ھا وتقوھا الہام کا مطلب یا تو یہ ہے کہ انہیں انبیاء (علیہم السلام) اور آسمانی کتابوں کے ذریعہ سے خیر و شر کی پہچان کرا دی، یا مطلب یہ ہے کہ ان کی عقل و فطرت میں خیر و شر، نیکی اور بدی کا شعور ودیعت فرما دیا، تاکہ وہ نیکی کو اختیار کریں اور بدی سے اجتناب کریں۔
Ayahs 91:13–15فقال لھم رسول اللہ ناقۃ اللہ وسقیھا صالح (علیہ الصلوۃ والسلام) کی قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ الصلوۃ والسلام) سے ایک معجزہ کی فرمائش کی، حضرت صالح (علیہ الصلوۃ والسلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جس کی برکت سے پہاڑ سے ایک دس مہینہ کی گابھن اونٹنی نکلی اور اس نے بچہ دیا، حضرت صالح (علیہ الصلوۃ والسلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اس اونٹنی کا خیال رکھنا اس کو نقصان نہ پہنچانا ورنہ عذاب الٰہی نازل ہوجائے گا ایک دن پانی پینے کی اس کی باری ہوگی اور ایک دن تمہارے سب جانوروں کی، لیکن ان ظالموں نے اس کی پروانہ کی اور قد اربن سالف نامی ایک شخص کو اس اونٹنی کو ہلاک کرنے کے لئے آمادہ کرلیا اور اس سخص نے یہ کام انجام دے دیا جس کی وجہ سے وہ شخص رئیس الاشقیاء ہوگیا، یہ حرکت اگرچہ قدر اربن سالف نے انجام دی مگر پوری قوم بھی چونکہ اس فعل سے راضی تھی اس لئے پوری قوم کو برابر کا مجرم قرار دے دیا گیا، اس سے یہ اصول مستنبط ہوتا ہے کہ اگرچہ برائی کا ارتکاب کرنے والے چند افراد یا ایک فرد ہو مگر پوری قوم کی اس کو پشت پناہی حاصل ہو اور ان کے اس فعل پر پوری قوم راضی ہو اور اس فعل پر نکیر کرنے کے بجائے اسے پسند کرتی ہو تو اللہ کے یہاں پوری قوم اس جرم کی مرتکب قرار پائے گی۔
ولا یخاف عقبھا یعنی اللہ تعالیٰ دنیا کے بادشاہوں اور حکمرانوں کی طرح نہیں ہے کہ جو کسی قوم کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کے وقت یہ سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ اس اقدام کے نتائج کیا ہوں گے ؟ اس کا اقتدار سب سے بالاتر ہے، اس امر کا کوئی اندیشہ نہیں تھا کہ ثمود کی حامی کوئی ایسی طاقت ہے جو اس سے بدلہ لینے کے لئے آئے گی۔