Al-Fajr 89:3

Al-Fajr · from ayah 3

89:3

وَّالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ ۟ۙوَّالشَّفۡعِ وَالۡوَتۡرِۙ‏

اور جفت اور طاق کی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [by] the even [number] and the odd

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fajr

All translations of 89:3

اور جفت اور طاق کی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جفت اور طاق کی!

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جفت کی قَسم اور طاق کی قَسم٭، ٭ جفت (جوڑا) سے مراد کل مخلوق ہے جو جوڑوں کی صورت میں پیدا کی گئی ہے، اور طاق (فرد و تنہا) سے مراد خالق ہے جو وحدہ لا شریک ہے۔ یا شَفع یومِ نحر (قربانی) اور وَتر یومِ عرفہ (حج) ہے، یا شَفع سے مراد دنیا کے شب و روز ہیں اور وَتر سے مراد یومِ قیامت ہے جس کی کوئی شب نہ ہوگی۔ یا شَفع سے مراد سال بھر کی عام جفت راتیں ہیں اور وَتر سے مراد سال بھر کی برکت والی طاق راتیں ہیں، مثلاً شبِ معراج، شبِ برات اور شبِ قدر وغیرہ جو پے در پے رجب، شعبان اور رمضان میں آتی ہیں۔ یا شَفع سے مراد حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حواء علیہا السلام کا پہلا جوڑا ہے اور وَتر سے مراد تنہا حضرت آدم علیہ السلام، جن سے تخلیقِ انسانیت کی ابتداء ہوئی۔

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جفت اور طاق کی !

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جفت اور طاق کی

— مولانا اسحاق مدنی

اور قسم ہے ُ جفت کی اور طاق کی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جفت اور تاق کی

— محترمہ رفعت اعجاز

And by the even and the odd.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And [by] the even [number] and the odd

— Saheeh International

by the odd and even (8th and 9th Dhil-hajj)

— Muhammad Sarwar

And the even and the odd,

— Muhammad Habib Shakir

And by the even and the odd,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 89:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–14

شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ فجر تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چناچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں لوگوں نے پوچھا اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں ؟ فرمایا یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–6

والشفع والوتر، شفع کے لغوی معنے جوڑ کے ہیں جس کو اردو میں جفت کہتے ہیں اور وتر کے معنے طاق اور فرد کے ہیں۔ قرآن کریم کے الفاظ میں یہ متعین نہیں کہ اس جفت اور طاق سے کیا مراد ہے اسلئے ائمہ تفسیر کے اقوال اس میں بیشمار ہیں مگر خود حدیث مرفوع جو ابوالزبیر نے حضرت جابر سے روایت کی ہے اسکے الفاظ یہ ہیں۔ (والفجر ولیال عشر) ھو الصبح وعشر النحر والو تریوم عرفہ والشفع یوم النحر رسول اللہ ﷺ نے والفجر ولیال عشر کے متعلق فرمایا کہ فجر سے مراد صبح اور عشر سے مراد عشرہ نحر ہے (اور یہ عشرہ ذی الحجہ کا پہلا ہی عشرہ ہوسکتا ہے جس میں یوم نحر شامل ہے) اور فرمایا کہ وتر سے مراد روز عرفہ اور شفع سے مراد یوم النحر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’جفت‘ اور ’طاق‘ سے مراد: ’وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ‘۔ ’شَفْعٌ‘ کے معنی جفت اور ’وَتْرٌ‘ کے معنی طاق کے ہیں۔ جفت اور طاق سے کیا مراد ہے؟ اس کے جواب میں مفسرین سے اتنے اقوال منقول ہیں کہ ان کا استقصاء مشکل ہے۔ اقوال کی اس کثرت کی وجہ ہمارے نزدیک وہی ہے کہ لوگوں نے نظم کلام اور سیاق و سباق کو پیش نظر رکھنے کے بجائے ساری توجہ صرف اس امر پر مرکوز رکھی کہ کسی مقدس چیز کو ان الفاظ کا مصداق بنائیں۔ حالانکہ اگر نظر شہادت کے پہلو پر ہوتی تو غور کرنے اور صحیح نتیجہ تک پہنچنے کی آسان راہ یہ تھی کہ ان مقامات پر نظر ڈالی جاتی جہاں قرآن نے ہر شے کے جوڑے جوڑے پیدا کیے جانے کا ذکر کیا ہے اور اس سے حکمت کے نہایت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

3۔ 1 اس سے مراد جفت اور طاق عدد ہیں یا وہ معدودات جو جفت اور طاق ہوتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ یہ دراصل مخلوق کی قسم ہے اس لیے کہ مخلوق جفت یا طاق ہے اس کے علاوہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

2: جفت سے مراد دس ذوالحجہ کا دن اور طاق سے مراد عرفہ کا دن ہے، جو نو ذوالحجہ کو آتا ہے ان ایام کی قسم کھانے سے ان کی اہمیت اور فضیلت کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

والشفع والوتر (3:89) ” اور جفت اور طاق کی قسم “۔ اس مانوس اور محبوب فضائے صبح گا ہی میں اور قابل قدر دس راتوں میں شفع ووتر روح صلوٰة ہیں۔ حدیث شریف کے الفاظ ہیں : ” نماز میں شفع بھی ہے اور وتر (ترمذی) ۔ ان آیات میں جو فضا پائی جاتی ہے اس میں یہی مفہوم زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس چھاجانے والی کائنات کی روح کے ساتھ عبادت گزار روح کا اتصال ہی موزوں مفہوم ہے ، جس طرح ایک عبادت گزار روح اللہ کی پسندیدہ دس راتوں میں روح کے ساتھ وصال پاتی ہے اور پھر یہ راتیں اور یہ روشن نمود صبح سب باہم ملتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–4

14 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " عید قربان کی فجر بڑا حج ادا ہوتا ہے اور دس رات اس سے پہلے۔ اور جفت اور طاق رمضان کی آخری (عشرہ) دہائی میں ہے۔ اور جب رات کو چلے یعنی پیغمبر معراج کو "۔ یہ سب اوقات متبرک تھے اس لئے ان کی قسم کھائی (تنبیہ) " والیـــــل اذا یـــسر " کے معنی عموماً مفسرین نے رات کے گزرنے یا اس کی تاریکی پھیلنے کے لئے ہیں۔ گویا صبح کی قسم کے مقابلہ میں رات کے جانے یا آنے کی قسم کھائی۔ جیسا کہ جفت کے مقابل طاق کی قسم کھائی گئی۔ اور " ولیال عشر " سے بھی ممکن ہے مطلق دس راتیں مراد ہوں کیونکہ اس کے افراد و مصادیق میں بھی تقابل پایا جاتا ہے مہینہ کے شروع کی دس راتیں اول روشن ہوتی ہیں پھر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 3–4

آیت 3{ وَّالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ۔ } ”اور قسم ہے ُ جفت کی اور طاق کی۔“ اس سے عموماً رمضان کے آخری عشرہ کی جفت اور طاق راتیں مرادلی جاتی ہیں اور طاق راتوں میں لیلۃ القدر ہے۔ البتہ دنیا کے تمام علاقوں میں چاند چونکہ ایک ساتھ نظر نہیں آتا اس لیے مختلف علاقوں کی طاق اور جفت راتوں میں فرق ہوگا۔ مثلاً ہوسکتا ہے ہمارے ہاں پاکستان میں جو رات طاق ہو سعودی عرب میں وہ جفت ہو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

3 شفع اور وتر کا لغوی مفہوم :۔ شَفْعَ : لفظ شَفْعِ کا اطلاق ان اشیاء پر ہوتا ہے جن میں نر و مادہ کی تمیز نہیں اور شفع کے معنی ایک چیز کو اسی جیسی دوسری چیز سے ملا دینا اور اس طرح کرکے دو دو ملی ہوئی چیزوں کو شفع کہتے ہیں۔ اور جس کے ساتھ اس جیسی چیز نہ ہو اسے وتر کہتے ہیں۔ وتر کی بہترین مثال خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اور نمازوں میں اس کی مثال نماز مغرب کے فرض ہیں اور عشاء کے آخر میں وتر کی نماز اور وتر کی نماز کو وتر اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ جتنے بھی پڑھے جائیں۔ مثلاً ایک، تین، پانچ، سات، نو، گیارہ وہ وتر ہی رہیں گے۔ اور وتر حقیقتاً ایک ہی رکعت ہے اب اس کے ساتھ جتنے بھی جفت نفل پڑھے جائیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–4

1۔ یعنی گزرتی ہوئی رات کی، گویا یہ لفظ ٹھیک فجر کے مقابلہ میں ہے۔ (آیت) ” ولیال عشر “۔ ذی الحجہ کی پہلی دس تاریخیں مراد ہیں، جن کی بڑی فضلیتیں احادیث میں وارد ہوئی ہیں، (آیت) ” والشفع والوتر۔ اپنے عموم اطلاق کے لحاظ سے یہ (2) دو لفظ حاوی ہیں دنیا کے ہر زوج اور ہر فرد پر۔ اور اس طرح کائنات کی ساری ہی اشیاء ان کے تحت میں آجاتی ہیں۔ (آیت) ” الشفع “۔ ذی الحجہ کی متبرک دسویں تاریخ مراد لی گئی ہے۔ جسے یوم منی بھی کہتے ہیں، معا بعد حج منی میں قیام اور باقی شعائر حج کی ادائی کی تاریخ ہوتی ہے۔ (آیت) ” الوتر “۔ ذی الحجہ کی متبرک ترین نویں تاریخ مراد لی گئی ہے۔ جو عین یوم الحج اور عرفات میں حاضری کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–30

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والشع والوتر . شفع سے مراد ہے مخلوق۔ اللہ نے فرمایا ہے : و خلقنٰکم ازواجًا : ہم نے تم کو جوڑے جوڑے پیدا کی اور وتر سے مراد ہے خالق ‘ یکتا۔ یہ قول حضرت ابوسعید خدری اور عطیہ اور عوفی کا ہے۔ مجاہد اور مسروق نے اسی طرح تفسیر کی اور فرمایا : تمام مخلوق شفع ہے یعنی ہر مخلوق کا مقابل موجود ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : ومن کل شی ءٍ خلقنا زوجین۔ کفر و ایمان ‘ ہدایت اور گمراہی۔ نیک بختی اور بدبختی ‘ رات اور دن ‘ آسمان اور زمین ‘ بر و بحر ‘ سورج اور چاند ‘ جن و انس ‘ نر اور مادہ لیکن وتر اکیلا اللہ ہے۔ ابوبکر ؓ سے شفع اور وتر کی تشریح پوچھی گئی تو فرمایا : مخلوق کے احوال کا باہمی تضاد شفع ہے زندگی اور موت ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 2–4

(41) قسم ہے فجر کی، یا دن کی روشنی کی، یا پورے دن کی اور ذی الحجہ کی پہلی دس تاریخوں کی، اور یوم عرفہ اور یوم النحر کی، اور یوم النحر کے بعد والے تین دن کی، یا یہ کہ قسم ہے شفع نمازوں کیا جیسا کہ صبح، ظہر، عصر، عشاء اور وتر سے اللہ تعالیٰ کی ذات مراد ہے۔ ان مزدلفہ کی رات کی جب وہ چلنے لگے کہا گیا ہے کہ اس رات میں آدمی آتے جاتے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(والشفع والوتر : جفت وہ عدد ہے جو دو برابر حصوں میں تقسیم ہوجائے، جیسے دو ، چار، چھ وغیرہ اور طاق وہ عدد ہے جو اس طرح تقسیم نہیں ہوتا، مثلاً ایک ، تین، پانچ وغیرہ۔ کائنات کی کوئی بھی چیز گنتی کے وقت ان دو حالتوں سے خالی نہیں۔ تمام چیزیں بڑھتے وقت بھی طاق سے جفت اور جفت سے طاق ہوتی چلی جاتی ہیں اور گھٹتے وقت بھی۔ مثلاً ایک سے دو ، پھر تین، پھر چار و علیٰ ہذا القیاس اور دس سے نو، پھر آٹھ سے سات و علی ہذا لاقیاس۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

والشفع والوتر۔ شفع سے مراد دو اور وتر سے مراد فرد ہے اسمیں اختلاف کیا گیا ہے، حضرت عمران بن حصین سے مرفوع حدیث مروی ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا کہ شفع اور وتر سے مراد نماز ہے نمازوں میں سے کچھ جفت ہیں اور کچھ طاق ہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے یوم عرفہ اور شفع سے مراد یوم نحر ہے، یہ حضرت ابن عباس اور عکرمہ کا قول ہے۔ نحاس نے اسے پسند کیا ہے کہا، ابوزبیر کی حضرت جابر سے مروی ہے جو حدیث ہے یہی نبی کریم سے ثابت ہے یہ اسناد کے اعتبار سے عمران بن حصین کی حدیث سے سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے۔ یوم عرفہ وتر ہے کیونکہ وہ نواں ہے اور یوم نحر شفع ہے کیونکہ وہ دسواں ہے حضرت ابوایوب سے مروی ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 2–3

دسویں محرم کا روزہ 17۔ البخاری ومسلم والبیہقی نے ربیع بنت معوذ بن عفراء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے عاشوراء کی صبح کو انصار کی ان بستیوں کی طرف پیغام بھیجا۔ جو مدینہ کے ارد گرد تھیں۔ جس نے روزہ کی حالت میں صبح کی تو اس کو چاہیے کہ روزہ کو پورا کرے۔ اور جس نے بغیرہ روزہ کے صبح کو تو اس کو چاہیے کہ وہ باقی دن کا روزہ رکھ لے۔ ربیع ؓ نے فرمایا کہ اس کے بعد ہم اس دن کا روزہ رکھتے تھے اور ہم اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھاتے تھے اور ہم ان کو مسجد کی طرف لے جاتے تھے۔ اور ہم ان کے لیے اون میں سے ایک کھیل بناتے تھے پس جب ان میں سے کوئی رونے لگتا کھانے کی خواہش پر تو ہم اسے وہ دے دیتے تھے۔ یہاں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ثالثاً : ﴿وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ003﴾ جفت اور طاق کی قسم کھائی، جفت جوڑے کو اور طاق بےجوڑے کو کہتے ہیں سنن ترمذی (ابواب التفسیر) میں حضرت عمران بن حصین ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ﴿وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِ﴾كے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس سے نماز مراد ہے (کیونکہ) بعض نمازیں ایسی ہیں جو شفع ہیں یعنی دو یا چار رکعت کر کے پڑھی جاتی ہیں اور وتر سے وہ نمازیں مراد ہیں جن کی طاق رکعتیں ہوں یعنی مغرب اور وتر کی نماز۔ وفیہ راو مجھول۔ تفسیر در منثور میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ وتر اللہ کی ذات ہے اور تم سب لوگ شفع ہو پھر حضرت مجاہد تابعی (رح) سے نقل کیا ہے کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت : قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

3:۔ ” والشفع والوتر “ جفت اور طاق سے مراد نماز ہے کیونکہ بعض نمازوں کی رکعتیں جفت ہیں۔ اور بعض کی طاق یہ تفسیر خود رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے۔ روی مرفوعا عن عمران بن الحصین عن النبی ﷺ انہ قال الشفع والوتر الصلاۃ منہا شفع و منہا وتر (قرطبی ج 20 ص 39) ۔ یہ قسم ما قبل سے بطور ترقی ہے اچھا لیلۃ القدر تو سال میں ایک دفعہ آتی ہے اور بالتعیین معلوم بھی نہیں، پانچوں نمازیں تو رات دن میں ضرور آتی ہیں ان کی پابندی کر کے آخرت کے لیے کچھ زاد راہ بنا لو اور دنیا کے پیچھے نہ بھاگو پانچوں نمازوں کی پابندی سے انسان گناہوں سے اس طرح پاک ہوجاتا ہے جس طرح ایک کپڑے کو روزانہ پانچ دفعہ دھو کر صاف کرلیا جائے یا جس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–14

(فجر اور دس راتیں ) ارشاد ہوتا ہے والفجر قسم ہے فجر کی ولیال عشر اور قسم ہے دس 10 راتوں کی ۔ فجر اور دس راتوں سے کون سی فجر اور کون سی دس راتیں مراد ہیں اس میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض فرماتے ہیں کہ فجر سے مطلق مراد ہے ۔ جو ہر روز طلوع ہوتی ہے۔ اور دس راتوں سے مراد رمضان المبارک کی آخری دس راتیں ہیں ۔ جن میں لیلۃ القدر جسیی عظیم اور بابرکت رات آتی ہے۔ اور جس میں عبادت کا اجر ثواب ایک ہزار مہینے سے زیادہ ہوتا ہے ۔ ان راتوں میں اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی شامل حال ہوتی ہے۔ دنیا میں عظیم انقلاب برپا کرنے والی کتاب قرآن پاک کے نزول کی ابتداء بھی اسی رات میں ہوئی ۔ بعض فرماتے ہیں کہ فجر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ۝ 3 ۙ شفع ( جفت) الشَّفْعُ : ضمّ الشیء إلى مثله، ويقال لِلْمَشْفُوعِ : شَفْعٌ ، وقوله تعالی: وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ [ الفجر/ 3] ، قيل : الشَّفْعُ المخلوقات من حيث إنها مركّبات، كما قال : وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنا زَوْجَيْنِ [ الذاریات/ 49] ، والوتر : هو اللہ من حيث إنّ له الوحدة من کلّ وجه . وقیل : الشَّفْعُ : يوم النّحر من حيث إنّ له نظیرا يليه، والوتر يوم عرفة «7» ، وقیل : الشَّفْعُ : ولد آدم، والوتر : آدم لأنه لا عن والد «8» ، ( شع ) الشفع کے معنی کسی چیز کو اس جیسی دوسری چیز کے ساتھ ملا دینے کے ہیں اور جفت چیز کو شفع کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَالشَّفْعِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ والفجر الواواو للقسم والباقی معطوف علی الفجر و جواب القسم محذوف ای لتبعثن اونحوہ وقیل جو ابہ ان ربک لبا لمرصاد۔ و الشفع والوتر بفتح الواو وکسرھاھما لغتاں ومعناھما الزوج والفرد اذا یسر اذا ظرف والعامل فیہ محذوف ای اقسم بہ یسرقرء الجمہوری بحذف الیاء وصلاً ووقفًا اتباعًا لرسم المصحف وقرء نافع و ابو عمر وبحذفھا فی الوقف واثبا تھا فی الوصل وقرء ابن کثیر ویعقوب وابن محیص باثبا تھا فیھما قال الخلیل تسقط الیاء منھا موافقۃً لرئوس الآی وھو ماخوذ من السری وھو السیر لیلاً یقال سریت اللیل وسریت بہ واسناد السری الی اللیل قیل حقیقی ان معناہ جاء او ادبر وقیل مجازی ھل فی ذلک القسم قسم لذی حجر ای عقل و…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–5

وَالْفَجْرِ ۔ وَلَیَالٍ عَشْرٍ ۔ وَّالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ ۔ وَالَّیْلِ اِذَا یَسْرِ ۔ ھَلْ فِیْ ذٰلِکَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍ ۔ (الفجر : 1 تا 5) (قسم ہے فجر کی۔ اور دس راتوں کی۔ اور جفت اور طاق کی۔ اور رات کی جب وہ چل کھڑی ہو۔ کیا اس میں کوئی قسم ہے کسی عقل والے کے لیے۔ ) ان پانچ قسموں کا مفہوم اور جوابِ قسم کا تعین اور مفہوم ہم اس سے پہلے پڑھ چکے ہیں کہ قسم عموماً قرآن کریم میں کسی دعویٰ کی گواہی یا دلیل کے طور پر آتی ہے جس سے اس دعویٰ کو ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اور دعویٰ جسے مقسم علیہ کہا جاتا ہے قسم کے بعد آتا ہے تاکہ قسم کے ذریعے پہلے دل و دماغ کی زمین ہموار کی جائے اور اس کے بعد دعویٰ کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : سورة الغاشیہ کے آخر میں ارشاد ہوا کہ سب کو ہمارے پاس آنا ہے اور ہمارے ذمہ ان کا حساب لینا ہے۔ الفجر کے آغاز میں چار قسمیں اٹھا کر بتلایا ہے کہ جس رب نے عاد، ثمود اور فرعون جیسے ظالموں کو دنیا میں عبرت ناک سزا دی۔ کیا وہ آخرت میں ظالموں کی پکڑ نہیں کرے گا ؟ کیوں نہیں وہ ظالموں کی ضرور پکڑ کرے گا کیونکہ وہ بڑا طاقتور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدا بھی پانچ قسموں سے فرمائی ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ قسم ہے صبح صادق کی ! قسم ہے دس راتوں کی ! قسم ہے جفت اور طاق کی اور قسم ہے رات کی جب وہ ختم ہونے پر آتی ہے۔ بلاشبہ عقل مندوں کے نزدیک ان چیزوں کی قسم اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ اللہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جفت و طاق : 3 : وَّ الشَّفْعِ وَالْوَتْرِ (اور جفت اور طاق کی) تمام اشیاء کا جفت و طاق مرادہو یا ان راتوں میں جفت و طاق۔ یا جفت و طاق نمازیں یا یوم نحر کیونکہ وہ دسواں دن ہے جو کہ جفت ہے اور یوم عرفہ نواں دن ہے جو کہ طاق ہے۔ یا مخلوق جفت ہے اور خالق طاق (ان اللہ وتر یحب الوتر ) قراءت : الوِتر۔ حمزہ و علی نے پڑھا۔ باقی قراء نے وائو کا فتحہ پڑھا۔ دراصل یہ دو لغات ہیں الو َتر حجازی لغت ہے الو ِتر یہ تمیمی لغت میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

والشفع والوتر کی تفسیر 3 ۔” والشفع والوتر “ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے الوتر کو وائو کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے اس کی زبر کے ساتھ اور ” الشفع والوتر “ میں ان کا اختلاف ہوا ہے ۔ کہا گیا ہے ” الشفع “ مخلوق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” وخلقنا کم ازواجا “ اور وتر اللہ ہیں۔ یہ ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا گیا ہے اور یہ عطیہ عوفی کا قول ہے اور مجاہد اور مسروق رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” الشفع “ تمام مخلوق جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ومن کل شیء خلقنا زوجین “ کفر وایمان، ہدایت و ضلالت، سعادت و شقاوت، رات ودن، آسمان و زمین، خشکی و سمندر ، سورج و چاند، جن وانس اور وتر اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–14

1۔ 14۔ دس راتوں اور طاق اور جفت کی تفسیر اگرچہ سلف نے طرح طرح سے کی ہے لیکن امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور ابن زبیر ؓ اور مجاہد اور اکثر سلف کا قول یہی ہے کہ دس راتوں سے مراد ماہ ذی الحجہ کی اول کی دس راتیں ہیں یہی قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ مسند 3 ؎ امام احمد نسائی و مستدرک حاکم بیہقی وغیرہ میں حضرت جابر ؓ کی مرفوع روایت میں یہی تفسیر آچکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ان دس راتوں سے مراد شروع ذی الحجہ کی دس راتیں ہیں۔ حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اور طاق اور جفت کی تفسیر میں یہ قول صحیح معلوم ہوتا ہے کہ طاق اور جفت سے مراد طاق اور جفت نمازیں ہیں جیسے مغرب اور عشاء ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–3

ظاہر ہے کہ مقسم بہ ہی مقسم علیہ ہے جب معاملہ ظاہر اور اہم ہو تو یہ جائز اور مستعمل ہے اس مقام پر بھی اسی طرح ہے اللہ نے فجر کی قسم کھائی ہے جو رات کا آخر اور دن کا مقدمہ ہے کیونکہ رات کے لوٹنے اور دن کے آنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں نیز یہ کہ تمام امور کی تدبیر کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ فجر کے و قت ایک نہایت فضیلت ور عظمت والی نماز واقع ہوتی ہے اور وہ اس کے اہل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے اس لیے کہ اس کے بعد اللہ نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے اور صحیح قول کے مطابق یہ رمضان المبارک یا ذوالحج کی دس راتیں ہیں کیونکہ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(3) جفت اور طاق کی قسم اور اس سے مقصود و مراد ؟ سو ارشاد فرمایا گیا " اور قسم ہے جفت اور طاق کی "۔ اس میں سب مخلوق کی قسم آگئی، کیونکہ مخلوقات میں سے ہر چیز یا طاق ہوگی یا جفت، چناچہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، الذاریات 19 پ 27) یعنی " ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم لوگ سبق لو "۔ یا اس سے مراد مخلوق اور خالق کی قسم ہے، کیونکہ " شفع " سے مراد مخلوق ہے " اور " وتر " سے مراد حضرت خالق جل مجدہ کہ وہ واحد، واحد الفرد الصمد۔ اور تنہا و یکتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور " وتر " اس کے اسمائے حسنی میں سے ایک جوڑا دو طاقوں سے مل کر بنتا ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر چیز ایک پہلو سے طاق ہے،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–30

نیک و بد کی تمیز اور میدان حشر تشریح : اس سورت میں ان لوگوں کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو شیطان کے بہلاوے میں آ کر سرکشی ' نفرت ' نافرمانی ' تکبر اور ناشکر گزاری کی عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ بیشک یہ مال و دولت ' عزت شہرت اور آل و اولاد کی کثرت میں زیادہ سے زیادہ لالچی اور انسانیت کی حدود سے دور ہوتے ہوئے بس اپنے میں ہی مست ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں مال کی محبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مال دینے والے (اللہ) سے ہی دور ہوجاتے ہیں اور حرام و حلال کا فرق بھول جاتے ہیں۔ نہ ان کو یہ خیال رہتا ہے کہ یتیم کا مال ہے یا غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ بس وہ تو صرف مال کی محبت ہی میں کھو جاتے ہیں۔ اور جب کبھی ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة الفجر۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 اگرچہ جفت اور طاق کے الفاظ عام ہیں اس لئے ان سے مراد وہ تمام چیزیں ہوسکتی ہیں جو جفت اور طاق ہوں لیکن ان سے خاص طور پر یوم النحر (ذی الحجہ) اور یوم عرفہ مراد ہے جیسا کہ اوپر حضرت جابر کی روایت میں بیان ہوا ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جفت سے مراد مخلوق اور طاق سے مراد اللہ تعالیٰ ہے جیسا کہ صحیحین میں ہے کہ اللہ تعالیٰ طاق ہے، طاق کو پسند کرتا ہے واللہ اعلم (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(89:3) والشفع والوتر : واؤ عاطفہ جس کا عطف حسب جملہ سابقہ الفجر پر ہے۔ واؤ قسم مقدرہ۔ الشفع۔ الوتر مقسم بہٖ اور قسم ہے الشفع کی۔ اور الوتر کی۔ الشفع والوتر کی تشریح میں صاحب تفسیر ضیاء القرآن لکھتے ہیں :۔ اس کے بعد فرمایا : قسم ہے الشفع کی (یعنی جفت کی) اور الوتر (طاق) کی اس کے مصداق کے بارے میں متعدد اقوال ہیں : ان میں سے مجھے یہ قول پسند ہے کہ شفع سے مراد مخلوق اور وتر سے مراد خالق۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ عطیہ، مجاہد، اور دیگر جلیل القدر علماء تفسیر نے اسی کو ترجیح دی ہے اور اس کی تشریح یوں کی ہے کہ ساری مخلوق دو ، دو ہے۔ کفر و ایمان، خلالت و ہدایت، سعادت و شقاوت، لیل و نہار، زمین و آسمان،…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–30

لغات القرآن۔ لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔ تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 3) طاق اور جفت نمازیں ہیں جیسے مغرب اور عشائ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جفت سے مراد خلق اور طاق سے مراد اللہ تعالیٰ ہے ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 3–4

[2] جو عدد دو پر تقسیم ہو سکے وہ جفت اور جو نہ ہو سکے وہ طاق کہلاتا ہے۔ یہاں سلسلہ کلام کی مناسبت سے جفت اور طاق کا مطلب تغیر ایام ہے۔ یعنی مہینے کی تاریخیں ایک سے دو ، دو سے تین اور تین سے چار ہوتی جاتی ہیں اور ہر تبدیلی ایک نئی کیفیت لے کر آتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–14

سورة الفجر 1: اس سورت میں قسموں کے انداز میں شواہد کو پیش فرمایا ہے اور دلائل کا ذکر کیا ہے ۔ اسی واسطے فرمایا ہے ۔ ھل فی ذلک قسم لذی حجر ۔ کہ اس میں عقلمندوں اور غوروفکر کرنے والوں کے لئے ایک بین دلیل ہے ۔ اس لئے مقام اور موقع کے لحاظ سے زیادہ موزوں یہ ہے کہ یہاں الفجر سے مراد فجر قیامت ہو اور دس راتوں سے مراد وہ دس راتیں ہوں جن میں نافرمان قوموں پر عذاب بھیجا گیا اور الشفع والوتر حسوما اور الیل اذیسر ۔ غرض ہر وہ رات ہے جو معذب قوموں پر آتی ہے ۔ اس نہج سے یہ دعوی ان ربک لبا لمرصاد بالکل درست اور صحیح ثابت ہوگا ۔ یعنی ان معذب قوموں کی تاریخ پڑھو اور ان کے حالات کا مطالعہ کرو ۔ تمہیں معلوم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–4

ف 4۔ جفت سے مراد ذی الحجہ کی دسویں تاریخ اور طاق سے نویں تاریخ کذا فی الحدیث اور ایک حدیث میں ہے کہ اس سے نماز مراد ہے کہ کسی کی طاق رکعتیں ہیں، کسی کی جفت اور پہلی حدیث کو روایة بھی اصح کہا گیا ہے اور درایة بھی وہ ارجح ہے کیونکہ بقیہ منقسم بہ ازمنہ میں سے ہیں اور یہ تطبیق بھی ہوسکتی ہے کہ شفع و بر سے مراد شفع و وتر معظم ہو اور دونوں اس کے مصداق ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جفت اور طاقت دونوں کے رب کی قسم 3 ؎ گزشتہ دنوں بیانات کی طرح جفت اور طاقت میں بڑے بڑے رموز اور بہت اقوال بیان کیے گئے ہیں حالانکہ اس میں بھی نہ تو کوئی رمز ہے اور نہ ہی کوئی خاص پیچیدگی پائی جاتی ہے ہر وہ وعدہ جو پورا پورا تقسیم ہوجاتا ہے وہ جفت ہے اور وہ عدد جو پورا پوراتقسیم نہیں ہوتا وہ طاق ہے اور یہ دونوں طرح کے اعداد بھی عام بول چال میں آتے ہیں ۔ ایک ، تین ، پانچ ، سات ، نو ، گیارہ اور تیرہ اسی طرح دو ، چار ، چھ ، آٹھ ، دس ، بارہ ، چودہ اور سولہ وہ عدد ہیں جو عام طور پر محاورات ، ضرب المثال اور عام گفتگو میں بولے جاتے ہیں اور ان میں کئی طرح کی نسبتیں قائم کی گئی ہیں کچھ کو لوگ نحس اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–6

وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ (and by the even and the odd,...89:3). The Qur'an has not specified what the words 'the even' and 'the odd' refer to. Therefore, the commentators have assigned different interpretations to them. Nevertheless, it has been mentioned in a Prophetic Hadith narrated by Abu-z-Zubair from Sayyidna Jabir ؓ thus: (وَالْفَجْرِ ۔ وَلَيَالٍ عَشْرٍ ) ھو الصّبح وعشر النحر والوتر یوم عرفہ والشفع یوم النّحر 'Fajr' refers to the dawn, and 'the ten nights' refer to the first ten nights of Dhul Hijjah [ which include the Day of Sacrifice ], and that al-watr [ the odd ] refers to the day…

Read the full tafseer →