89. Surah Al-Fajr

الفجرThe Dawn · 30 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 89:1

وَ الْفَجْرِۙ Open ayah 89:1 in the Quran reader

فجر کی قسم

1 ۔” والفجر “ اللہ عزو جل نے فجر کی قسم کھائی ہے۔ ابوصالح نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ ہر دن صبح کا روشن ہونا ہے اور یہی عکرمہ (رح) کا قول ہے اور عطیہ نے ان سے روایت کیا ہے کہ صبح کی نماز اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ وہ محرم کے پہلے دن کی صبح ہے کہ اس سے سال شروع ہوتا ہے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں ذوالحجہ کی فجر ہے اس لئے کہ اس کے ساتھ دس راتوں کو ملایا گیا ہے۔
Ayah 89:2

وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ Open ayah 89:2 in the Quran reader

اور دس راتوں کی

2 ۔” ولیال عشر “ ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ یہ ذوالحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں اور یہی مجاہد، قتادہ، ضحاک، سدی اور کلبی رحمہم اللہ کا قول ہے اور ابو وراق نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ رمضان کی پہلی دس راتیں ہیں اور ابوظیبان نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ رمضان کے مہینہ کی آخری دس راتیں ہیں اور عین بن رباب فرماتے ہیں یہ محرم کی پہلی دس راتیں ہیں جن میں سے دسویں یوم عاشوراء ہے۔
Ayah 89:3

وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ Open ayah 89:3 in the Quran reader

اور جفت اور طاق کی

والشفع والوتر کی تفسیر 3 ۔” والشفع والوتر “ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے الوتر کو وائو کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے اس کی زبر کے ساتھ اور ” الشفع والوتر “ میں ان کا اختلاف ہوا ہے ۔ کہا گیا ہے ” الشفع “ مخلوق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” وخلقنا کم ازواجا “ اور وتر اللہ ہیں۔ یہ ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا گیا ہے اور یہ عطیہ عوفی کا قول ہے اور مجاہد اور مسروق رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” الشفع “ تمام مخلوق جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ومن کل شیء خلقنا زوجین “ کفر وایمان، ہدایت و ضلالت، سعادت و شقاوت، رات ودن، آسمان و زمین، خشکی و سمندر ، سورج و چاند، جن وانس اور وتر اللہ تعالیٰ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” قل ھواللہ احد “ حسن اور ابن زید رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” الشفع والوتر “ تمام مخلوق ہے اس میں سے جفت اور اس میں سے طاق ہیں۔ یہ عمران بن حصین ؓ سے مرفوعا روایت کیا گیا ہے اور عطیہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ” الشفع “ صبح کی نماز اور الوتر مغرب کی نماز۔ عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں ” الشفع “ نفر اول کا دن اور الوتر نفراخیر کا دن۔ روایت کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے ان سے ” شفع “ اور وتر اور ” لیالی عشر “ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا بہرحال شفع اور وتر تو اللہ تعالیٰ کا قول ہے ” فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ ومن تاخر فلا اثم علیہ “ پس یہ دونوں شفع اور وتر ہیں اور بہرحال ” لیالی عشر “ تو آٹھ اور عرفہ اور نحر۔ اور مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں الشفع راتیں اور دن اور وتر وہ دن جس کے بعد کوئی رات نہ ہوگی اور وہ قیامت کا دن ہے اور حسین بن فضل (رح) فرماتے ہیں الشفع جنت کے درجات اس لئے کہ یہ آٹھ ہیں اور وتر جہنم کے طبقات اس لئے کہ وہ سات ہیں۔ گویا کہ جنت اور جہنم کی قسم کھائی۔ اور ابوبکر وراق سے شفع اور وتر کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا شفع مخلوقات کے اوصاف کا تضاد عزت وذلت، قدرت وعجز، قوت وضعف، علم و جہالت، بینائی ونابینائی، زندگی وموت اور وتر اللہ تعالیٰ کی صفات کا متفرد ہونا کہ عزت ہے بغیر ذلت کے اور قدرت بغیر عاجز ہونے کے اور قوت بغیر ضعف کے اور علم بغیر جہالت کے اور حیات بغیر موت کے۔
Ayah 89:4

وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِۚ Open ayah 89:4 in the Quran reader

اور رات کی جب جانے لگے

4 ۔” واللیل اذا یسر “ یعنی جب چلی جائے۔ جیسا کہ فرمایا ” واللیل اذا دبر “ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں جب آئے اور جائے اور مراد تمام رات ہے اور مجاہد، عکرمہ اور کلبی رحمہم اللہ فرماتے ہیں وہ مزدلفہ کی رات ہے۔ اہل حجاز اور اہل بصرہ نے ” یسری “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے وصل کی صورت میں اور ابن کثیر اور یعقوب یاء کے ساتھ وقف بھی کرتے ہیں اور باقی حضرات اس کو دونوں حالتوں میں عذف کرتے ہیں۔ پس جس نے حذف کیا تو آیتوں کے اختتام کے ساتھ موافقت کے لئے اور جس نے ثابت رکھا تو اس لئے کہ یہ فعل کالام کلمہ ہے اور فعل سے حالت وقف میں حذف نہیں کیا جاتا جیسے اس کا قول ” ھو یقضی “ اور ” اقضی “ اور اخفش (رح) سے یاء کے ساقط کرنے کی وجہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا ” اللیل لا یسریٰ “ (رات آسان نہیں ہے)…” لکن یسریٰ فیہ “ (لیکن اس میں آسانی ہے) پس اس میں تعریف کی گئی ہے تو جب اس میں تعریف کی تو اس کا اعراب کا حق کم کردیا جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” وما کانت امک بغیا “ ہے اور بغیۃ نہیں کہا اس لئے کہ وہ باغیۃ سے تعریف شدہ ہے۔
Ayah 89:5

هَلْ فِیْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍؕ Open ayah 89:5 in the Quran reader

(اور) بیشک یہ چیزیں عقلمندوں کے نزدیک قسم کھانے کے لائق ہیں

5 ۔” ھل فی ذلک “ یعنی اس میں جو میں نے ذکر کیا۔ ” قسم “ یعنی قناعت اور کفایت ہے قسم میں ” لذی حجر “ عقل والے کے لئے اس کے ساتھ نام رکھا گیا ہے اس لئے کہ وہ اپنے صاحب کو اس سے روکتی ہے جو حلال نہیں ہے اور نامناسب ہے۔ جیسا کہ اس کا نام عقل رکھا جاتا ہے اس لئے کہ وہ اس کو قبائح سے باندھ دیتی ہے اور ” نھی “ نام رکھا جاتا ہے اس لئے کہ وہ نامناسب کاموں سے روکتی ہے اور حجر کی اصل روکنا ہے اور جواب قسم اللہ تعالیٰ کا قول ” ان ربک لبالمرصاد “ ہے اور قسم اور جواب قسم کے درمیان اللہ تعالیٰ کا قول عارضی ہے۔
Ayah 89:6

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ۙ Open ayah 89:6 in the Quran reader

(کافروں کو ضرور عذاب ہوگا) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے عاد کے ساتھ کیا کیا

6 ۔” الم تر “ فرائؒ فرماتے ہیں کیا آپ کو خبر نہیں اور زجاج (رح) فرماتے ہیں کیا آپ نہیں جانتے اور اس کا معنی تعجب ہے۔” کیف فعل ربک بعاد “…
Ayah 89:7

اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۪ۙ Open ayah 89:7 in the Quran reader

(جو) ارم (کہلاتے تھے اتنے) دراز قد

7 ۔” ارم “ اہل مکہ کو درا رہے ہیں۔ یعنی کیسے ان کو ہلا کیا حالانکہ وہ لمبی عمروں والے اور ان سے قوت میں بہت زیادہ تھے اور ارم میں اختلاف ہوا ہے۔ عاد کی تفسیر سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں ارم ” ذات العماد “ دمشق ہے اور اسی کے عکرمہ (رح) قائل ہیں اور قرظی (رح) فرماتے ہیں وہ اسکندریہ ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں وہ امت ہے اور کہا گیا ہے اس کا معنی پرانی اور قتادہ اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ عاد کا ایک قبیلہ ہیں۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں ان میں بادشاہ تھا اور وہ مہرۃ میں تھے اور عاد ان کا باپ تھا تو ان کی اس کی طرف نسبت کی گئی اور وہ رام بن عاد بن شیم بن سام بن نوح ہے اور محمد بن اسحاق (رح) فرماتے ہیں وہ عاد کا دادا ہے اور وہ عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح ہے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں ارم وہ شخص جس پر عاد اور ثمود اوراہل جزیرۃ کا نسب جمع ہوجاتا ہے۔ کہاجاتا تھا عاد ارم اور ثمود ارم۔ تو اللہ تعالیٰ نے عاد کو اور پھر ثمود کو ہلاک کردیا اور اہل سواد اور اہل جزیرہ باقی رہ گئے اور یہ خیموں اور بڑی بلند عمارتوں والے اور جانوروں والے موسم بہار میں سیر کرتے تھے۔ پس جب سفر ختم ہوتا تو اپنے گھروں میں واپس آجاتے اور یہ باغات اور کھیتیوں اور گھروں والے تھے وادی فریٰ میں اور وہ ایسی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
Ayah 89:8

الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:8 in the Quran reader

کہ تمام ملک میں ایسے پیدا نہیں ہوئے تھے

8 ۔” التی لم یخلق مثلھا فی البلاد “ اور ان کا نام ذات ابلاد اس لئے رکھا گیا ہے کہ وہ بڑی بلند عمارتوں والے تھے، چلنے والے تھے اور یہ قتادہ ، مجاہدہ اور کلبی رحمہم اللہ کا قول ہے اور عطاء کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ ان کا نام ذات العماد رکھا گیا ان کے لمبے قد کی وجہ سے ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یعنی ان کی لمبائی ستون کی طرح تھی اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ان میں سے ایک کی لمبائی بارہ گز تھی۔ ” لم یخلق مثلھا فی البلاد “ یعنی اس قبیلہ کی مثل لمبائی اور قوت میں نہیں پیدا کیا گیا اور یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کہا تھا ” من اشد منا قوۃ “ مثلھا فی البلاد کہنے کی کیا وجہ ہے عماد کی وجہ تسمیہ بعض حضرات نے یوں بیان کی کہ وہ اونچی عمارتیں اور مضبوط ستون بناتے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شداد بن عاد نے ایک ایسی عمارت بنائی تھی کہ ویسی عمارت دنیا میں کسی نے نہیں بنائی اور قوم کو ساتھ لے کر اس عمارت کو دیکھنے گیا۔ ابھی ایک شبانہ روز کی مسافت پر ہی تھیا کہ بحکم خدا آسمان کی طرف سے ایک چیخ پیدا ہوئی جس سے شد اد اور سب قوم والے ہلاک ہوگئے۔ سعید بن مسیب (رح) نے کہا : ” ارم ذات العماد “ ایک شہر کا نام ہے جس کو دمشق کہا جاتا ہے۔ قرطبی نے اسکندریہ کو ارم ذات العماد کہا ہے۔ اس صورت میں یہ معنی ہوگا کہ اللہ نے عاد کو ہلاک کیا جو ارم ذات العماد کی رہنے والی تھی۔ (گویا ارم ایک شہر کا نام ہوا اور ذات العماد اس شہر کی صفت ہوئی) مراد یہ ہے کہ اس شہر میں بلند عمارتیں اور ستون تھے۔ ” التی لم یخلق مثلھا فی البلاد “ یہ ارم کی صفت ہے ، خواہ ارم کو قبیلہ کا نام کہا جائے یا شہر کا۔ اگر قوم (یا قبیلہ) مراد ہو تو ” مثلھا “ کا معنی یہ ہوگا کہ اس قوم طرح قدوقامت اور قوت میں کوئی دوسری قوم نہیں پیدا کی گئی اور اگر بستی مراد ہو تو یہ مطلب ہوگا کہ عمارات کی بلندی، پائیداری اور حسن میں اس جیسی کوئی کوئی بستی پیدا نہیں ہوئی۔
Ayah 89:9

وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ۪ۙ Open ayah 89:9 in the Quran reader

اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادی (قری) میں پتھر تراشتے (اور گھر بناتے) تھے

9 ۔” وثمود الذین جابوا الصخر بالواد “ ثمود کا عطف عاد پر ہے۔ ” جابوا “ کا معنی ہے انہوں نے تراشا۔ ” صخر “ جمع ہے ” صخرۃ “ کی۔ ” الواد “ سے مراد وادی قریٰ ہے۔ ثمود وادی قریٰ میں پتھر تراش کر (پہاڑوں میں) رہنے کے لئے مکان بناتے تھے۔
Ayah 89:10

وَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ۪ۙ Open ayah 89:10 in the Quran reader

اور فرعون کے ساتھ (کیا کیا) جو خیمے اور میخیں رکھتا تھا

و فرعون ذی الاوتاد کی تفسیر اور واقعہ 10 ۔” و فرعون ذی الاوتاد “ الاوتاد : مضبوط عمارتیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور محمد بن کعب قرظی کا یہی قول ہے۔ بعض لوگوں نے کہا اوتاد سے مراد ہے مضبوط، طاقتور، پائیدار حکومت۔ عرت کہتے ہیں : ” ھم فی العزثابت الاوتاد “ انہوں نے عزت کی میخیں گاڑ دیں۔ یعنی مستحکم اور دوامی عزت کے مالک ہیں۔ عطیہ کا قول ہے کہ ” الاوتاد “ سے فوجیں مراد ہیں۔ فوج اپنے ساتھ بکثرت ڈیرے، خیمے رکھتی تھی اور سفر میں جہاں جاتی تھی میخوں کے ذریعے ڈیرے قائم کرتی تھی۔ بروایت عطیہ حضرت ابن عباس ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ مقاتل اور کلبی نے کہا ” اوتاد “ وتد کی جمع ہے۔ فرعون لوگوں کو چومیخا کرتا تھا، سزا دینے کے لئے کسی ستون میں چومیخا کرادیتا تھا یا ہوا میں لٹکا دیتا تھا۔ مجاہد اور مقاتل بن حبات نے کہا آدمی کو زمین پرچٹ لٹا کر ہاتھ، پائوں سیدھے کرکے ان میں میخیں ٹھونک دیتا تھا۔ سدی نے کہا : آدمی کو لمبا، لمبا لٹا کر میخیں ٹھونکتا، پھر سانپ ، بچھو اس پر چھوڑ دیتا تھا۔ قتادہ اور عطاء نے کہا فرعون نے اپنے سامنے اپنے خزانچی حز قیل کی بیوی کو چومیخا کرایا تھا۔ بغوی نے اپنی سند سے حضرت ابن عباس ؓ کی طرف اس بیان کی نسبت کی ہے کہ فرعون کو ذولاوتاد کہنے کی وجہ یہ ہوئی کہ اس کا خزانچی حزقیل مومن ہوگیا تھا اور سو برس تک اپنے ایمان کو چھپاتا رہا تھا۔ حزقیل کی بیوی فرعون کی بیٹی کی مشاطہ تھی۔ ایک روز مشاطہ فرعون کے سر میں کنگھی کررہی تھی کہ کنگھی اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گرگئی۔ اس کے منہ سے فوراً یہ الفاظ نکلے کہ اللہ کو نہ ماننے والے ہلاک ہوں۔ فرعون کی لڑکی نے کہا، کیا میرے باپ کے علاوہ تیرا کوئی اور معبود ہے ؟ مشاتہ نے کہا : میرے اور تیرے باپ کا اور زمین و آسمان کا الٰہ ایک ہے، اس کا کوئی شر کی نہیں۔ لڑکی فوراً کھڑے ہوگئی اور باپ کے پاس جاکر رونے لگی۔ فرعون نے رونے کی وجہ پوچھی تو لڑکی نے کہا : آپ کے خزانچی کی بیوی میری مشاطہ ہے ۔ اس کا خیال ہے کہ آپ کا اور اس کا اور زمین و آسمان کا الٰہ ایک ہے جس کا کوئی ساجھی نہیں۔ فرعون نے مشاطہ کو بلوا کر جواب طلب کیا۔ اس نے کہا اگر تو ستر مہینے تک مجھے عذاب دیتا رہے گا، تب بھی میں اللہ کا انکار نہیں کروں گی۔ مشاطہ کی دو لڑکیاں تھیں۔ بڑی لڑکی کو پکڑوا کر مشاطہ کے روبروفرعون نے ذبح کروادیا اور اس سے کا اب بھی انکار کردے، ورنہ تیرے سامنے ہی تیری چھوٹی لڑکی کو بھی ذبح کردوں گا، چھوٹی لڑکی شیر خوار تھی۔ مشاطہ بولی اگر تو تمام روئے زمین والوں کو بھی میرے روبرو ذبح کردے گا تب بھی اللہ کا انکار نہیں کروں گی۔ غرض بچی کو لے کر جب اوندھا لٹایا گیا اور قاتلوں نے اس کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو ماں بےصبر ہوگئی لیکن فوراً بچی کی زبان کو اللہ نے کھول دیا۔ دنیا میں چار بچے بچپن میں بولے ہیں، ا میں سے یہ بھی ایک بچی تھی۔ بچی نے کہا : ماں بےصبر نہ ہو، اللہ نے تیرے لئے جنت میں ٹھکانہ کردیا ہے، صبر کر۔ تو بلاشبہ اللہ کی رحمت اور عزت افزائی تک پہنچے گی۔ غرض بچی کو ذبح کردیا گیا، وہ مرگئی اور اللہ نے اس کو جنت میں جگہ عطا فرمادی۔ اس کے بعد اس عورت کے شوہر حزقیل کی طلب میں آدمی بھیجے گئے لیکن وہ لوگ گرفتار نہ کرسکے۔ کسی نے فرعون کو اطلاع دی کہ حزقیل فلاں پہاڑ میں فلاں مقام پر ہے۔ فرعون نے دو آدمی تلاش کے لئے بھیجے۔ یہ دونوں پہنچتے تو حزقیل نماز پڑھ رہا تھا اور وحشی جانوروں کی تین صفیں نماز میں شریک تھیں۔ دونوں آدمیوں کو حزقیل نے دیکھ کر کہا، واپس چلے جائو۔ پھر اللہ سے دعا کی کہ بارالٰہا میں نے اپنا ایمان سو برس چھپایا، کسی کو میرے ایمان کا علم نہ ہوا، ان دونوں میں سے جو بھی میرے ایمان کو ظاہر کردے تو فوراً دنیا میں اس کو سزا دے دے اور آخرت میں اس کو دوزخ میں بھیج دے، دونوں آدمی واپس چلے گئے۔ ایک مومن ہوگیا اور اس کو بڑی عبرت ہوئی، دوسرے نے سٹاف کے سامنے فرعون کو اطلاع دے دی۔ فرعون نے کہا، کیا کوئی دوسرا بھی تیرے ساتھ تھا ؟ مخبر نے کہا ہاں ! فلاں شخص تھا۔ فرعون نے اس شخص کو بلوایا اور پوچھا، کیا یہ سچ کہہ رہا ہے ۔ اس شخص نے کہا نہیں ! اس نے جو بات کہی میں نے تو نہیں دیکھی۔ فرعون نے اس کو کثیر انعام دیا اور مخبر کو مرواڈالا اور صلیب پر چڑھا دیا۔ خاندان میں ایک بڑی حسین عورت تھی۔ وہ فرعون کی بیوی تھی، اس کا نام تھا آسیہ بنت مزاحم۔ مشاطہ کے ساتھ فرعون نے جو حرکت کی تھی اس نے اس حرکت پر غور کیا اور کہنے لگی : میں مومن ہوں۔ فرعون کافر ہے ، فرعون کی حرکتوں پر صبر کرنا اب میرے لئے ممکن نہیں، دل میں یہ کہہ رہی رہی تھی کہ فرعون آگیا، بیوی کے پاس بیٹھ گیا، بیوی نے کہا : تو ساری مخلوق سے برا اور سب سے زیادہ خبیث ہے ، تو نے مشاطہ کو قصداً مار ڈالا۔ فرعون نے کہا : کیا تجھے بھی اسی کی طرح جنون ہوگیا۔ آسیہ نے کہا : مجھے جنون نہیں بلکہ میرا، تیرا، اس کا اور آسمان و زمین کا خدا ایک ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ فرعون نے اس کو مارا اور اس کے کپڑے پھاڑ ڈالے اور اس کے ماں، باپ کے پاس آدمی بھیج کر ان کو بلوایا، وہ آگئے تو بولا : مشاطہ کو جو جنون تھا وہی اس کو بھی ہوگیا ۔ آسیہ کہنے لگی : اللہ کی پناہ مجھے جنون نہیں، میں شہادت دیتی ہوں کہ میرا مالک اور تیرا مالک اور زمین و آسمان کا مالک ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ باپ نے کہا : آسیہ کیا (آج) تو خاندان عمالقہ کی سب سے اعلیٰ عورت نہیں اور تیرا شوہر عمالقہ کا خدا ہے ؟ آسیہ نے کہا : اعوذ باللہ من ذلک “ تم جو کچھ کہہ رہے ہو اگر سچ ہے تو اس سے کہو مجھے ایسا تاج پہنا دے جس کے سامنے سورج، پیچھے چاند اور گرداگرد ستارے ہوں۔ آخر فرعون نے آسیہ کے ماں، باپ سے کہا : تم دونوں یہاں سے نکل جائو۔ پھر آسیہ کو لٹا کر چومیخا کردیا اور اللہ نے اس عذاب (کی برداشت) کو اس سر پہل بنانے کے لئے اس کے سامنے جنت کا دروازہ کھول دیا۔ اس وقت آسیہ نے دعا کی : یا الٰہی ! جنت کے اندر اپنے قرب میں میرے لئے مکان بنادے اور فرعون اور فرعون کی بداعمالیوں سے مجھے نجات عطا فرمادے (دعا قبول ہوئی) اللہ نے اس کی روح قبض کرلی اور جنت میں اس کو سکونت عطا فرمادی۔ انتہیٰ فرعون کی یہ بیوی وہی تھی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں نے فرعون کے حکم سے بحکم خدا جب موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا میں پھینک دیا اور فرعون کے آدمیوں نے ان کو پاکر نکال لیا تو اسی بیوی نے فرعون کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل سے روکا تھا اور کہا تھا یہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ امید ہے کہ ہم کو اس سے فائدہ پہنچے۔ چناچہ آسیہ کو اس بچہ سے فائدہ پہنچا، وہ مومنہ ہوگئی۔ پورا قصہ سورة قصص میں گزرچکا ہے۔
Ayah 89:11

الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:11 in the Quran reader

یہ لوگ ملکوں میں سرکش ہو رہے تھے

11 ۔” الذین طغوا فی البلاد “ جنہوں نے بستیوں میں حد سے زیادہ نافرمانیاں کی تھیں۔
Ayah 89:12

فَاَكْثَرُوْا فِیْهَا الْفَسَادَ۪ۙ Open ayah 89:12 in the Quran reader

اور ان میں بہت سی خرابیاں کرتے تھے

12 ۔” فاکثروا فیھا الفساد “ اور کفر وظلم کی بہت تباہ کاریاں مچائی تھیں۔
Ayah 89:13

فَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍۚۙ Open ayah 89:13 in the Quran reader

تو تمہارے پروردگار نے ان پر عذاب کا کوڑا نازل کیا

13 ۔” فصب علیھم ربک سوط عذاب “ نتیجہ میں اللہ نے ان پر عذاب کے کوڑے برسائے یعنی ہر قسم کا ملا جلا عذاب ان پر نازل کیا۔ ” سوط عذاب “ میں صفت کی اضافت موصوف کی جانب ہے۔ اصل میں ” عذاب سوط “ تھا۔ یعنی مخلوط عذاب جیسے ” اخلاق ثیاب “ پرانے کپڑے۔ سوط کا اصل لغوی معنی ہے مخلوط کردینا۔ کوڑے میں مختلف بل مخلوط ہوتے ہیں، اسی لئے اس کو سوط کہتے ہیں۔
Ayah 89:14

اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ Open ayah 89:14 in the Quran reader

بیشک تمہارا پروردگار تاک میں ہے

14 ۔” ان ربک لبالمر صاد “ اللہ کے مرصاد ہونے کا معنی یہ ہے کہ اللہ بندوں سے اطاعت اور فرمانبرداری چاہتا ہے اور ان کے اعمال کو نگاہ میں رکھتا ہے اس کو تمام اعمال کا علم ہے۔ کلبی (رح) کا بیان ہے یہ بندوں کا طریقہ ہے۔ مقاتل نے کہا کہ لوگوں کے گزرنے کی جگہ اور مرصد راستے کو کہتے ہیں۔ حسن اور عکرمہ رحمہما اللہ کا بیان ہے کہ بنی آدم کے اعمال کا مقام ہے۔
Ayah 89:15

فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِؕ Open ayah 89:15 in the Quran reader

مگر انسان (عجیب مخلوق ہے کہ) جب اس کا پروردگار اس کو آزماتا ہے کہ اسے عزت دیتا اور نعمت بخشتا ہے تو کہتا ہے کہ (آہا) میرے پروردگار نے مجھے عزت بخشی

15 ۔” فاما الانسان اذا ماابتلاہ “ ان کو آزمایا ” ربہ “ نعمت کے ذریعے۔ ” فاکرمہ “ اس کا اکرام کیا مال کے ذریعے۔ ” ونعمہ “ جس پر اللہ نے وسعت کی ” فیقول ربی اکرمن “ جو اللہ نے عطاء فرمایا۔
Ayah 89:16

وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِۚ Open ayah 89:16 in the Quran reader

اور جب (دوسری طر ح) آزماتا ہے کہ اس پر روزی تنگ کردیتا ہے تو کہتا ہے کہ (ہائے) میرے پروردگار نے مجھے ذلیل کیا

16 ۔” واما اذاما ابتلاہ “ فقر کے ساتھ۔ ” فقدر علیہ رزقہ “ ابو جعفر اور ابن عامر (رح) نے ” فقدر “ دال کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے تخفیف کے ساتھ اور یہ دو لغتیں ہیں۔ یعنی اس پر اس کے رزق کو تنگ کردیا اور کہا گیا ہے ” قدر “ بمعنی کم کردیا اور اتنا دیا جو اس کا کافی ہو۔ ” فیقول ربی اھانن “ مجھے فقر کی وجہ سے ذلیل کردیا اور اس سے کافر مراد لیا گیا ہے کہ اس کے نزدیک عزت اور ذلت مال کی کثرت اور دنیا میں حصہ اور اس کے کم ہونے سے ہوتی ہے۔ کلبی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ امیہ بن خلف جمحی کافر کے بارے میں نازل ہوئی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید کی جس نے گمان کیا کہ رزق کی وسعت اکرام ہے اور فقر ذلت ہے۔
Ayah 89:17

كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 89:17 in the Quran reader

نہیں بلکہ تم لوگ یتیم کی خاطر نہیں کرتے

17 ۔ پس فرمایا ” کلا “ میں نے اس کو مال داری کے ساتھ اس کے اعزاز کی وجہ سے نہیں آزمایا اور میں نے اس کو فقر کے ساتھ اس کے ذلیل ہونے کی وجہ سے آزمایا۔ پھر خبر دی کہ اکرام اور اہانت کا مدار مال اور وسعت رزق پر نہیں ہے لیکن فقر وغنی تو اس کی تقدیر کی وجہ سے ہے۔ پس وہ کافر پر وسعت کردیتا ہے اس کی کرامت کی وجہ سے نہیں اور مومن پر تنگی کردیتا ہے اس کے ذلیل ہونے کی وجہ سے نہیں۔ آدمی کا اکرام و اعزاز تو اس کی طاعت کی وجہ سے کرتے ہیں اور اس کو ذلیل اس کی معصیت کی وجہ سے کرتے ہیں۔ اہل حجاز اور اہل بصرہ نے ” اکرمن اور اھانن “ کو وصل کی صورت میں یاء کو ثابت رکھنے کے ساتھ پڑھا ہے اور ابن کثیر اور یعقوب رحمہما اللہ یاء کے ساتھ وقف کرتے ہیں اور دیگر حضرات اس کو وصل و وقف دونوں میں حذف کرتے ہیں۔ ” بل لاتکرمون الیتیم “ اہل بصرہ نے ” یکرمون ویحضون، یاکلون، یحبون “ ان میں یاء کے ساتھ پڑھتے ہیں اور دیگر حضرات نے تاء کے ساتھ ” لاتکرمون الیتیم “ تم اس کی طرف احسان نہیں کرتے اور کہا گیا ہے کہ تم اس کو اس کا حق نہیں دیتے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں قدامہ بن مظعون یتیم تھا، امیہ بن خلف کی پرورش میں وہ اس کو اس کے حق سے روکتا تھا۔
Ayah 89:18

وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِۙ Open ayah 89:18 in the Quran reader

اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو

18 ۔” ولا تحاضون علی طعام المسکین “ یعنی تم اس کے کھلانے کا حکم نہیں کرتے اور ابوجعفر اور اہل کوفہ نے ” تحاضون “ حاء کے زبر کے ساتھ اور اس کے بعد الف کے ساتھ پڑھا ہے یعنی تم ایک دوسرے کو اس پر نہیں ابھارتے۔
Ayah 89:19

وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ Open ayah 89:19 in the Quran reader

اور میراث کے مال کو سمیٹ کر کھا جاتے ہو

19 ۔” وتاکلون التراث “ یعنی میراث۔ ” اکلالما “ سخت اپنا اور اپنے غیر کا حصہ کھاجاتے ہو کیونکہ وہ لوگ عورتوں اور بچوں کو وراثت نہ دیتے تھے اور ان کا حصہ کھا جاتے تھے۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں ” الا کل اللم “ ایسا جو ہر چیز کھاجائے جو پائے اس کے بارے میں پوچھے نہ کہ کیا حلال ہے یا حرام ؟ اور جو اس کے لئے اور اس کے غیر کے لئے ہے وہ کھاجائے۔ کہا جاتا ہے ” لممت علی الخوان “ جب تو آے جو اس پر ہے پھر اس کو کھاجائے۔
Ayah 89:20

وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ Open ayah 89:20 in the Quran reader

اور مال کو بہت ہی عزیز رکھتے ہو

20 ۔” وتحبون المال حبا جما “ یعنی بہت زیادہ یعنی وہ مال کے جمع کرنے کو پسند کرتے ہیں اور اس پر حریص ہیں۔ کہا جاتا ہے ” جم الماء فی الحوض “ جب پانی حوض میں بہت زیادہ جمع ہوجائے۔
Ayah 89:21

كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ Open ayah 89:21 in the Quran reader

تو آج زمین کی بلندی کوٹ کوٹ کر پشت کردی جائے گی

21 ۔” کلا “ اس طرح مناسب نہیں ہے کہ معاملہ ہو اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں یعنی وہ نہیں کرتے جس کا ان کو حکم دیا گیا ہے یتیم کا اکرام کرنے اور مسکین کو کھانا کھلانے کا۔ پھر خبر دی کہ جو ان سے ہوچکا جب یہ ان کو نفع نہ دے تو وہ افسوس کریں گے تو فرمایا ” اذادکت الارض دکا دکا “ ایک مرتبہ کے بعد مرتبہ اور ہر چیز جو اس کے اوپر ہے ٹوٹ جائے گی، پہاڑوں ، عمارتوں اور درختوں میں سے۔ پس اس کے اوپر کوئی چیز باقی نہ رہے گی۔
Ayah 89:22

وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ Open ayah 89:22 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار (جلو فرما ہوگا) اور فرشتے قطار باندھ کر آموجود ہوں گے

22 ۔” وجاء ربک “ حسن (رح) فرماتے ہیں آگیا اس کا امر اور فیصلہ اور کلبی (رح) فرماتے ہیں اترے گا اس کا حکم۔” والملک صفا صفا “ عطاء (رح) فرماتے ہیں فرشتوں کی صفیں مراد ہیں اور ہر آسمان والوں کی علیحدہ صف ہوگی۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں ہر آسمان والے جب قیامت کے دن اتریں گے تو صف باندھے ہوں گے، زمین اور جوان میں ہیں ان سے ملے ہوں گے تو سات صفیں ہوں گی۔
Ayah 89:23

وَ جِایْٓءَ یَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ یَوْمَئِذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 89:23 in the Quran reader

اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی تو انسان اس دن متنبہ ہوگا مگر تنبہ (سے) اسے فائدہ کہاں (مل سکے گا)

23 ۔” وجئی یومئذ بجھنم “ عبداللہ بن مسعود ؓ اور مقاتل (رح) اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جہنم ستر لگاموں کے ذریعے کھینچی جائے گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے ، اس کے لئے سخت غیظ وغضب اور گدھے کی سی آوازیں ہوں گی حتیٰ کہ عرش کے بائیں جانب ٹھہرائی جائے گی۔ ” یومئذ “ یعنی جس دن جہنم کو لایا جائے گا۔ ” یتذکر الانسان “ نصیحت حاصل کرے گا اور کافر توبہ کرے گا۔ ” وانی لہ الذکری “ زجاج (رح) فرماتے ہیں توبہ ظاہر کرے گا اور اس کے لئے توبہ کہاں ہوگی۔
Ayah 89:24

یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ Open ayah 89:24 in the Quran reader

کہے گا کاش میں نے اپنی (جادوانی کے لیے) کچھ بھیجا ہوتا

24 ۔” یقول یالیتنی قدمت لحیاتی “ یعنی میں نے خیر اور نیک عمل کو آگے بھیجا، میری آخرت کی زندگی کے لئے ۔ یعنی اپنی آخرت کے لئے جس میں کوئی موت نہ ہوگی۔
Ayah 89:25

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ Open ayah 89:25 in the Quran reader

تو اس دن نہ کوئی خدا کے عذاب کی طرح کا (کسی کو) عذاب دے گا

25 ۔” فیومئذ لا یعذب عذابہ احد۔
Ayah 89:26

وَّ لَا یُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 89:26 in the Quran reader

اور نہ کوئی ویسا جکڑے گا

26 ۔” ولا یوثق وثاقہ احد “ کسائی اور یعقوب رحمہما اللہ نے ” لایعذب، ولا یوثق “ ذال اور ثاء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اس معنی پر کہ کوئی ایک دنیا میں عذاب نہ دیا گیا ہوگا اس دن اللہ کے عذاب کی طرح اور نہ کوئی باندھا گیا ہوگا اللہ تعالیٰ کے باندھنے کی طرح یعنی مخلوق میں سے کوئی شخص عذاب میں اللہ تعالیٰ کے انتہا تک پہنچنے کو نہیں پہنچ سکتا اور ” وثاق “ بیڑیوں اور طوقوں میں قید کرنا۔
Ayah 89:27

یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُۗۖ Open ayah 89:27 in the Quran reader

اے اطمینان پانے والی روح !

27 ۔” یایتھا النفس المطمئنۃ “ اس کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے اس حال میں کہ تصدیق کرنے والا ہے اس کی جو اللہ نے کہا ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” المطمئنہ “ جس نے یقین کرلیا کہ اللہ تعالیٰ اس کا رب ہے اور اس کے امر اور طاعت کی ادائیگی پر صبر کیا اور حسن (رح) فرماتے ہیں ” المئومنۃ “ یقین کرنے والے اور عطیہ (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ قضاء پر راضی اور کلبی (رح) فرماتے ہیں اللہ کے عذاب سے امن میں آنے والا اور کہا گیا ہے اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرنے والا۔ اس کا بیان اللہ تعالیٰ کے قول ” وتطمئن قلوبھم بذکر اللہ “ میں ہے اور ان کا اس مقالہ کے وقت میں اختلاف ہوا تو ایک قوم نے کہا ہے یہ اس کو موت کے وقت کہا جائے گا، پھر اس کو کہا جائے گا۔
Ayah 89:28

ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ Open ayah 89:28 in the Quran reader

اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی

28 ۔” ارجعی الی ربک “ اللہ کی طرف۔ ” راضیۃ “ ثواب کے ساتھ۔ ” مرضیۃ “ تجھ سے اور حسن (رح) فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ اس کو قبض کرنے کا ارادہ کریں گے تو وہ اللہ کی طرف مطمئن ہوجائے گا اور سے راضی ہوگا اور اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوں گے۔ راضیۃ مرضیۃ کی تفسیر عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں جب مومن بندہ وفات پاتا ہے تو اللہ تعالیٰ دو فرشتوں کو بھیج دیتے ہیں اور اس کے پاس جنت سے ایک تحفہ بھیج دیتے ہیں۔ پھر اس کو کہا جاتا ہے تو نکل اے مطمئن نفس ! تو نکل روح اور ریحان کی طرف اور تیرا رب تجھ سے راضی ہے۔ پس کستوری کی خوشبو سے عمدہ خوشبو نکلتی ہے جس کو کوئی ایک اپنے ناک سے سونگھتا ہے اور فرشتے آسمان کے اوپر کہتے ہیں تحقیق زمین سے پاکیزہ روح اور پاکیزہ انسان آرہا ہے ۔ پس وہ جس دروازہ سے گزرتی ہے وہ کھول دیا جاتا ہے اور جس فرشتہ پر گزرتی ہے وہ اس کے لئے استغفار کرتا ہے۔ حتیٰ کہ اس کو رحمن کے پاس لایاجاتا ہے تو وہ سجدہ کرتی ہے۔ پھر میکائیل کو کہا جاتا ہے اس کو لے جائو اس کو مومنین کی روحوں میں ٹھہرائو، پھر حکم دیا جاتا ہے تو اس کی قبر ستر گز لمبائی اور ستر گز چوڑائی میں وسیع کردی جاتی ہے اور اس کے لئے ریحان لایا جاتا ہے اور اگر اس کے پاس قرآن میں سے کچھ ہو تو اس کو اس ک انور کافی ہے اور اگر نہ ہو تو اس کے لئے اس کا نور قبر میں سورج کی مثل کردیا جاتا ہے اور اس کی مثال دلہنوں کی سی مثال ہے کہ وہ سوجائے گا۔ پس اس کو نہیں بیدار کرے گا مگر اس کے گھر والوں میں سے اس کی طرف زیادہ پسندیدہ شخص اور جب کافر کی موت کا وقت آتا ہے تو اللہ تعالیٰ دو فرشتوں کو بھیجتے ہیں اور اس کے پاس ایک دھاری دار کپڑے کا ٹکڑا بھیجتے ہیں جو انتہائی بدبودار اور ہر کھردری چیز سے زیادہ کھردرا ہوتا ہے۔ پھر اس کو کہا جاتا ہے اے خبیث نفس ! تو جہنم کی طرف نکل اور دردناک عذاب کی طرف اور رب تجھ پر ناراض ہے۔ اور ابوصالح اللہ تعالیٰ کے قول ” ارجعی الیٰ ربک راضیۃ مرضیۃ “ کے بارے میں فرماتے ہیں یہ اس کے دنیا سے نکلنے کے وقت ہوگا۔ پھر جب قیامت کا دن ہوگا کہا جائے گا ” فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی “ اور دیگر حضرات نے کہا ہے یہ اس کو بعث کے وقت کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف لوٹ یعنی اپنے صاحب اور جسم کی طرف۔ پس اللہ تعالیٰ روحوں کو حکم دیں گے کہ وہ جسموں کی طرف لوٹ جائیں۔ یہ عکرمہ ، عطاء اور ضحاک رحمہما اللہ کا قول ہے اور عوفی کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی تو اپنے ثواب کی طرف، اس کے اعزاز کی طرف لوٹ۔ اس حال میں کہ اللہ تجھ سے راضی ہے اس کی وجہ سے جو اس کے لئے تیار کیا ہے مرضیہ یعنی اس سے اس کا رب راضی ہے۔
Ayah 89:29

فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ Open ayah 89:29 in the Quran reader

تو میرے (ممتاز) بندوں میں داخل ہوجا

29 ۔” فادخلی فی عبادی “ یعنی میرے بندوں کے ساتھ جنت میں اور کہا گیا ہے میرے تمام نیک بندوں میں جو فرمانبردار چنے ہوئے ہیں۔ اس کی نظیر ” وادخلنی برحمتک فی عبادک الصالحین “ ہے۔
Ayah 89:30

وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠ Open ayah 89:30 in the Quran reader

اور میری بہشت میں داخل ہوجا

30 ۔” وادخلی جنتی “ اور بعض اہل اشارہ نے کہا ہے کہ ” یایتھا النفس المطمئنہ “ دنیا کی طرف ۔ ” ارجعی الی اللہ “ اس دنیا کو چھوڑنے کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ آخرت کے راستے پر چلنا ہے اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں۔ ابن عباس ؓ طائف میں وفات پاگئے تو ان کا جنازہ حاضر ہوا تو ایک پرندہ آیا، اس کی صورت کا کبھی دیکھا نہیں گیا تھا ان کی لاش میں داخل ہوگیا، پھر اس سے نکلتا ہوا نہیں دیکھا گیا، پھر جب ان کو دفن کیا گیا تو قبر کے کنارے پر یہ آیت تلاوت کی گئی اور ہم نہیں جانتے کہ اس کو کس نے پڑھا ” یایتھا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی “