90. Surah Al-Balad

البلدThe City · 20 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 90:1

لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:1 in the Quran reader

ہمیں اس شہر کی قسم

1 ۔” لا اقسم “ میں قسم کھاتا ہوں۔ ” بھذا البلد “ یعنی مکہ۔
Ayah 90:2

وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:2 in the Quran reader

اور تم اسی شہر میں تو رہتے ہو

2 ۔” وانت حل “ حلال ہے۔ ” بھذا البلد “ آپ اس میں جو چاہیں کریں قتل اور قید میں سے۔ آپ پر کوئی گناہ نہیں اس میں جو لوگوں پر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے لئے مکہ کو فتح کے دن حلال کردیا تھا حتیٰ کہ آپ (علیہ السلام) نے لڑائی کی اور قتل کیا اور ابن اخطل کے قتل کا حکم دیا حالانکہ وہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا تھا اور مقیس بن صبابہ اور ان دونوں کے علاوہ کا۔ پس ایک قوم کے خون کو حلال قرار دیا اور ایک قوم کے خون کو حرام قرار دیا۔ پس فرمایا جو شخص ابوسفیان کے گھرداخل ہوگیا وہ امن میں ہے، پھر فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرام قرار دیا، جس آسمانوں وزمینوں کو پیدا کیا اور یہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں ہوا اور میرے بعد بھی کسی کے لئے حلال نہ ہوگا اور میرے لئے دن کی ایک گھڑی حلال کیا گیا ہے۔ پس وہ حرام ہے اللہ تعالیٰ کی حرمت کی وجہ سے قیامت کے دن تک اور معنی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مکہ کی قسم کھائی تو اس نے اس کے عظیم مرتبہ پر اس کے احترام کے ساتھ دلالت کی۔ پھر اپنے نبی کریم ﷺ سے وعدہ کیا کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے اس کو حلال کردیں گے حتیٰ کہ وہ اس میں قتال کریں گے اور اس کو آپ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر فتح کریں گے۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مکہ کو آپ (علیہ السلام) کے لئے حلال کریں گے۔ شرجیل بن سعد (رح) فرماتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قول ” وانت حل بھذا البلد “ کا معنی یہ ہے کہ وہ اس کو تو حرام سمجھتے ہیں کہ اس مکہ میں کس شکار کو قتل کریں اور آپ (علیہ السلام) کے نکالنے اور آپ (علیہ السلام) کے قتل کو حلال سمجھتے ہیں۔
Ayah 90:3

وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَۙ Open ayah 90:3 in the Quran reader

اور باپ (یعنی آدم) اور اس کی اولاد کی قسم

3 ۔” ووالدوما ولد “ یعنی آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد۔
Ayah 90:4

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍؕ Open ayah 90:4 in the Quran reader

کہ ہم نے انسان کو تکلیف (کی حالت) میں (رہنے والا) بنایا ہے

4 ۔” لقد خلقنا الانسان فی کبد “ والبی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ” فی نصب “ (مشقت میں) لقد خلقنا الانسان فی کبد کی تفسیر حسن (رح) فرماتے ہیں دنیا کے مصائب اور آخرت کے شدائد برداشت کرتا ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں مشقت میں۔ پس اس کو نہیں حاصل کرتا مگر دنیا کے امر کی مشقتیں برداشت کرتا ہے اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں سختی میں اور عطاء نے ابن عباس ؓ سے فرمایا ہے سختی میں اس کے حمل اور ولادت اور دودھ پلانے اور دودھ چھڑانے اور معاش اور زندگی وموت کو پیدا کیا اور عمرو بن دینا (رح) فرماتے ہیں اس کے دانتوں کے اگنے کے وقت، یمان (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے کوئی مخلوق ایسی پیدا نہیں کی جو ابن آدم کی طرح مشقتیں برداشت کرتی ہو۔ حالانکہ وہ تمام مخلوقات میں کمزور تر ہے اور کبد کی اصل سختی ہے۔ مجاہد، عکرمہ، عطیہ اور ضحاک فرماتے ہیں یعنی کھڑا معتدل قامت والا اور ہر مخلوق جھک کر چلتی ہے اور یہ مقسم کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور کبدبرابر ہونا اور سیدھا کھڑا ہونا اور ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں اپنی ماں کے پیٹ میں اپنے سر کو کھڑا کیا ہوا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ اس کو نکلنے کی اجازت دیتے ہیں تو اس کا سر ماں کے پائوں کی طرف پلٹ جاتا ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں فی کبد یعنی قوت میں یہ ابوالا شد کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس کا نام اسید بن کلدۃ جمحی تھا اور یہ بہت طاقتور تھا۔ دباغت دیا ہوا چمڑا اپنے دونوں پائوں کے نیچے رکھ دیتا۔ پھر کہتا جو مجھے اس سے ہٹا دے تو اس کے لئے اتنا اور اتنا ہے۔ پس اس کے پائوں کے نیچے سے چمڑا کھینچنے کی کسی کو طاقت نہ تھی، وہ چمڑا ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا اور اس کے قدموں کی جگہ باقی رہ جاتی۔
Ayah 90:5

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌۘ Open ayah 90:5 in the Quran reader

کیا وہ خیال رکھتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہ پائے گا ؟

5 ۔” ایحسب “ یعنی ابوالاشد اپنی قوت کی وجہ سے۔ ” ان لن یقدر علیہ احد “ یعنی وہ اپنی طاقت کی وجہ سے گمان کرتا ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ ہرگز قادر نہ ہوسکیں گے اور کہا گیا ہے ولید بن مغیرہ۔
Ayah 90:6

یَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًاؕ Open ayah 90:6 in the Quran reader

کہتا ہے کہ میں نے بہت سا مال برباد کیا

6 ۔” یقول اھلکت “ جیسی میں نے خرچ کیا۔ ” مالا لبدا “ یعنی بہت زیادہ ایک دوسرے پر تلبید سے ہے محمد (ﷺ ) کی دشمنی میں۔ ابوجعفر (رح) نے لبداباء کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ” لا بد “ کی جمع ہے۔ جیسے راکع اور رکع اور دیگر حضرات نے تخفیف کے ساتھ جمع پر پڑھا ہے۔ ” لبدۃ “ اور کہا گیا ہے واحد پر ہے جیسے قثم اور حطم۔
Ayah 90:7

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 90:7 in the Quran reader

کیا اسے یہ گمان ہے کہ اسے کسی نے دیکھا نہیں

7 ۔” ایحسب ان لم یرہ احد “ سعید بن جبیر اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کیا وہ گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو نہیں دیکھ رہا اور اس سے اس کے مال کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا کو اس نے کہاں سے کمایا ؟ اور کہاں خرچ کیا ؟ اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ اپنے اس قول میں جھوٹا ہے کہ میں نے اتنا اور اتنا خرچ کیا حالانکہ اس نے وہ تمام مال خرچ نہیں کیا جو اس نے کہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس کا گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے یہ نہیں دیکھا کہ وہ اس کے خرچ کی مقدار کو جانے۔ پھر اپنی نعمتیں اس کو یاد دلائیں تاکہ وہ عبرت حاصل کرے۔
Ayah 90:8

اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَیْنَیْنِۙ Open ayah 90:8 in the Quran reader

بھلا ہم نے اس کو دو آنکھیں نہیں دیں ؟

8 ۔ فرمایا ” الم نجعل لہ عینین۔
Ayah 90:9

وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیْنِۙ Open ayah 90:9 in the Quran reader

اور زبان اور دو ہونٹ (نہیں دئیے)

9 ۔” ولسانا وشفتین “ قتادہ (رح) فرماتے ہیں اللہ کی نعمتیں ظاہر ہیں وہ تجھے ان پر قرار دے گا جتنا تو شکر ادا کرے گا اور حدیث میں آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے ابن آدمی اگر تجھ سے تیری زبان جھگڑا کرے، اس میں جو میں نے تجھ پر حرام کیا تو میں نے تیری اس پر دوجبڑوں کے ساتھ مدد کی ہے ، پس تو ان کو بند کردے اور تجھ سے تیری آنکھ جھگڑا کرے، اس چیز کی طرف جو میں نے تجھ پر حرام کی ہے تو میں نے تیری اس پر دوپلکوں کے ساتھ مدد کی ہے۔ پس تو ان کو بند کردے اور اگر تجھ سے تیری شرمگاہ جھگڑا کرے اس چیز کی طرف جو میں نے تجھ پر حرام کی ہے تو میں نے تیری اس پر دورانوں کے ساتھ مدد کی ہے۔ پس تو اس کو روک لے۔
Ayah 90:10

وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ Open ayah 90:10 in the Quran reader

(یہ چیزیں بھی دیں) اور اس کو (خیر اور شر کے) دو نور بھی دکھا دئیے

10 ۔” وھدیناہ النجدین “ اکثر مفسرین رحمہما اللہ فرماتے ہیں خیر اور شر کا راستہ اور حق و باطل اور ہدایت و گمراہی کا راستہ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” انا ھدیناہ السبیل اما شاکرا واما کفورا “ ہے اور محمد بن کعب نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” وھدیناہ النجدین “ فرمایا دوپستان اور یہی سعید بن مسیب اور ضحاک رحمہما اللہ کا قول ہے اور نجد بلند راستہ۔
Ayah 90:11

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ٘ۖ Open ayah 90:11 in the Quran reader

مگر وہ گھاٹی پر سے ہو کر نہ گزرا

11 ۔” فلا اقتحم العقبۃ “ فرماتے ہیں۔ پس کیوں نہیں اس نے اپنا مال ان کاموں میں خرچ کیا جو اس کے لئے جائز تھے ۔ گردنیں چھڑانے اور مسکینوں کو کھانا کھلانے سے۔ پس یہ اس کے لئے محمد ﷺ کی دشمنی پر خرچ کرنے سے بہتر ہوتا ہے۔ یہ ابن زید اور ایک جماعت کا قول ہے اور کہا گیا ہے ” فلا اقتحم العقبۃ “ یعنی نہ اس میں داخل ہوا اور نہ اس کو پار کیا۔ اقتحام سخت امر میں داخل ہونا اور عقبہ کا ذکر یہاں مثال ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے نفس کے مجاہدہ اور خواہش نفس اور شیطان سے مجاہدہ کرنے کے لئے نیکی کے اعمال میں بیان کیا ہے۔ پس اس کو بنایا اس شخص کی طرح جو گھاٹی پر چڑھنے میں مشقت برداشت کرتا ہے۔ فرماتے ہیں اس نے اپنے نفس پر غلام کو آزاد کرنے اور کھانا کھلانے کی مشقت کو برداشت نہیں کی اور یہ قتادہ (رح) کے قول کا معنی ہے اور کہا گیا ہے کہ گناہوں کے بوجھ کو اس کے مرتکب پر تشبیہ دی ہے عقبہ کے ساتھ۔ پس جب گردن آزاد کی اور کھانا کھلایا تو یہ اس شخص کی طرح ہوگا جو گھاٹی میں داخل ہوا اور اس کو پار کرگیا اور ابن عمر ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ یہ عقبہ جہنم میں پہاڑ ہے اور حسن اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں سخت گھاٹی ہے جہنم میں پل سے پہلے۔ پس اس کو انہوں نے اللہ کی طاعت کے ساتھ پار کیا اور مجاہد ، ضحاک اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ صراط ہے جو جہنم پر بنایا جائے گا تلوار کی طرح تیز تین ہزار سال کی مسافت چڑھنے ، چلنے اور اترنے کی۔ اور بیشک اس کے دونوں طرف لوہے کے کنڈے ہیں۔ گویا کہ وہ سعدان کے کانٹے ہیں۔ پس صحیح سلامت نجات پانے والا اور زخمی ہوکر نجات پانے والا اور بیڑی ڈالا ہوا جہنم میں اوندھے منہ گرے گا۔ پس لوگوں میں سے وہ جوا چکنے والی بجلی کی طرح گزریں گے اور ان میں سے بعض تیز و تند ہوا کی طرح گزریں گے اور ان میں سے بعض شہسوار کی طرح گزریں گے اور ان میں سے بعض گھسٹتے جائیں گے اور ان میں سے بعض پھسلنے والے ہوں گے اور ان میں سے بعض جہنم میں جاپڑیں گے۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں پس کیوں نہیں ایسا راستہ چلتا جس میں نجات ہے پھر بیان کیا وہ کیا ہے ؟
Ayah 90:12

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُؕ Open ayah 90:12 in the Quran reader

اور تم کیا سمجھے کہ گھاٹی کیا ہے

12 ۔” وما ادراک ماالعقبۃ “ …” مااقتحم العقبۃ “ سفیان بن عینیہ (رح) فرماتے ہیں ہر چیز جس کے بارے میں ” وما ادراک “ فرمایا ہے تو اس کی خبر دی ہے اور جس کے بارے میں ” ومایدریک “ کہا ہے تو اس کی خبر نہیں دی۔
Ayah 90:13

فَكُّ رَقَبَةٍۙ Open ayah 90:13 in the Quran reader

کسی کی گردن کا چھڑانا

13 ۔” فک رقبۃ،
Ayah 90:14

اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍۙ Open ayah 90:14 in the Quran reader

یا بھوک کے دن کھانا کھلانا

14 ۔ اواطعام “ ابن کثیر، ابوعمرو اور کسائی رحمہما اللہ نے ” فک “ کاف کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔” رقبۃ “ نصب کے ساتھ۔ ” اواطعم “ ہمزہ اور میم کے زبر کے ساتھ ماضی کا صیغہ اور دیگر حضرات نے ” فک “ کاف کے پیش کے ساتھ۔ ” رقبۃ “ جر کے ساتھ ” اواطعام “ مصدر اور ” فک “ رقبہ سے گردن کو آزاد کرنا اور اس کا چھڑوانا مراد ہے جو کسی گردن (غلام) کو آزاد کرے گا تو وہ گردن اس کا آگ سے فدیہ ہوگی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ جو شخص کسی مومن گردن کو آزاد کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلہ میں اس کے عضو کو جہنم سے آزاد کریں گے حتیٰ کہ اس کی شرمگاہ کو اس کی شرمگاہ کے بدلہ میں آزاد کریں گے۔ براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ ایک بدو رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا یارسول اللہ ﷺ مجھے ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کردے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تو نے بات مختصر کی اور مسئلہ پیش کردیا تونسمہ کو آزاد کر اور گردن کو چھڑا۔ اس نے کہا کیا یہ دونوں ایک نہیں ہیں ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا نسمہ کا آزاد کرنا یہ ہے کہ تو اس کو تنہا آزاد کرے اور گردن چھڑانا یہ ہے کہ تو اس کے ثمن (قیمت) میں مدد کر۔ ” والمنحۃ الوکوف والقی علی ذی الرحم المظلوم “ پس اگر تو طاقت نہ رکھے تو بھوکے کو کھانا کھلا اور پیاسوں کو پانی پلا اور امر بالمعروف کر اور نہی عن المنکر کر۔ پس اگر تو اس کی طاقت نہ رکھے تو اپنی زبان کو روک لے مگر خیر سے اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا قول ” فک رقبۃ “ یعنی گناہوں سے توبہ کرکے گردن کو چھڑوائو۔ ” اواطعام فی یوم ذی مسغبۃ “ بھوک ۔ کہا گیا ہے ” سغب یسغب سغبا “ جب وہ بھوکا ہو۔
Ayah 90:15

یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍۙ Open ayah 90:15 in the Quran reader

یتیم رشتہ دار کو

15 ۔” یتیما ذا مقربۃ “ یعنی قرابت والا۔ مرادیہ ہے کہ ایسا یتیم کہ تیرے اور اس کے درمیان قریبی رشتہ ہو۔
Ayah 90:16

اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍؕ Open ayah 90:16 in the Quran reader

یا فقیر خاکسار کو

16 ۔” اومسکینا ذا متربۃ “ تحقیق وہ اپنے اور تنگ دستی کی وجہ سے مٹی میں مل گیا ہو۔ مجاہد نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ مٹی میں پھینکا ہوا جس کو کوئی چیز نہ بچائے اور ” المتربۃ “ مصدر ہے ” ترب، یترب، تربا ومتربۃ “ جب وہ محتاج ہوجائے۔
Ayah 90:17

ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِؕ Open ayah 90:17 in the Quran reader

پھر ان لوگوں میں بھی (داخل) ہوا جو ایمان لائے اور صبر کی نصحیت اور (لوگوں پر) شفقت کرنے کی وصیت کرتے رہے

17 ۔” ثم کان من الذین امنوا “ پھر بیان کیا یہ عبادتیں ایمان کے ساتھ نفع دیں گی اور کہا گیا ہے ” ثم “ وائو کے معنی میں ہے۔ ” وتواصوا “ ایک دوسرے کی طرف وصیت کریں۔ ” بالصبر “ اللہ کے فرائص اور اس کے احکامات پر۔” وتواصوا بالمرحمۃ “ لوگوں کی رحمت کے ساتھ۔
Ayah 90:18

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 90:18 in the Quran reader

یہی لوگ صاحب سعادت ہیں

18 ۔” اولئک اصحاب المیمنۃ۔
Ayah 90:19

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 90:19 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو نہ مانا وہ بدبخت ہیں

19 ۔” والذین کفروا بآیاتنا ھم اصحاب المشئمۃ۔
Ayah 90:20

عَلَیْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ۠ Open ayah 90:20 in the Quran reader

یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے

20 ۔” علیھم نار موصدۃ “ ان پر اس کے دروازے بندہوں گے اس میں نہ خوشی داخل ہوگی اور نہ اس سے غم نکلے گا۔ ابوعمر و، حمزہ اور حفص نے یہاں اور ” الھمزۃ “ میں ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے اور یہ دونوں لغتیں ہیں۔ کہا جاتا ہے ” آصدت الباب واصدتہ “ جب تونے اس کو بند کردیا اور کہا گیا ہے ” الھمزۃ “ کا معنی بند اور ” غیرالھمزۃ “ کا معنی تالے لگے ہوئے۔