Ayah 91:11 ۔” والشمس وضحاھا “ مجاہد اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں اس کی روشنی اور ضحی جب سورج طلوع ہوتا ہے تو پھر اس کی روشنی صاف ہوجاتی ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ سارا دن ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں اس کی گرمی جیسے اللہ تعالیٰ کا قول سورة طہ میں ” ولا تضحیٰ “ یعنی آپ ﷺ کو اس کی گرمی تکلیف نہ دے گی۔
Ayah 91:22 ۔” والقمر اذا تلاھا “ اس کے پیچھے آئے اور یہ مہینہ کے پہلے نصف میں سورج کے غروب ہونے کے بعد ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے چاند چمک میں آتا ہے اور روشنی میں اس کا خلیفہ ہوتا ہے اور زجاج (رح) فرماتے ہیں یہ اس وقت جب وہ گھومے یعنی اس کی روشنی مکمل ہوجائے تو وہ روشنی میں سورج کے تابع ہوتا ہے اور یہ بیض کی راتوں میں ہوتا ہے۔
Ayah 91:33 ۔” والنھار اذا جلھا “ یعنی جب تاریکی چھٹ جائے۔ ضمیر غیر مذکور کی طرف لوٹ رہی ہے اس کے معروف ہونے کی وجہ سے۔
Ayah 91:44 ۔” واللیل اذا یغشاھا “ یعنی سورج کو ڈھانپتی ہے جب وہ غائب ہوجاتا ہے تو آفاق کو تاریک کردیتی ہے۔
Ayah 91:55 ۔” والسمآء وما بناھا “ کلبی (رح) فرماتے ہیں ” من بناھا وخلقھا “ جیسے اللہ تعالیٰ کے قول ” فانکحوا ماطاب لکم من النسائ “ میں من طاب کا معنی ہے۔ عطاء فرماتے ہیں ” والذی بناھا “ مراد ہے یعنی اس کی قسم جس نے اس کو بنایا اور فراء اور زجاج رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” ما “ مصدر کے معنی میں ہے یعنی اور اس کی تعمیر کی جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” بما غفرلی ربی “ ہے۔
Ayah 91:66 ۔” والارض وما طحاھا “ اس کو بچھایا۔
Ayah 91:77 ۔” ونفس وما سواھا “ اس کی تخلیق کو ٹھیک کیا اور اس کے اعضاء کو برابر بنایا۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں مراد وہ تمام جن وانس ہیں جن کو پیدا کیا ہے۔
Ayah 91:8فجور اور تقوی کے متعلق احادیث کا تذکرہ
8 ۔” فالھمھا فجورھا توقواھا “ علی بن ابی طلحہ کی روایت میں ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ اس کے لئے خیر وشر کو واضح کیا اور عطیہ کی روایت میں فرمایا کہ اس کو طاعت و معصیت کا علم دیا اور ابوصالح نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اس کو معرفت دی کہ وہ کیا کرے اور کس سے بچے اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں اس کو اس کا فجور اور تقویٰ لازم کردیا۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں اس میں یہ بنادیا یعنی اللہ تعالیٰ کے اس کو تقویٰ کی توفیق دینے کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کے اس کو فجور (گناہوں) کے ساتھ ذلیل کرنے کے ساتھ اور زجاج (رح) نے اس کو اختیار کیا ہے اور الہام کو توفیق اور خذلان پر محمول کیا ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومن میں تقویٰ اور کافر میں فجور کو پیدا کیا ہے۔
اسود دبلی کہتے ہیں مجھے عمران بن حصین ؓ نے کہا کیا تو دیکھتا ہے جو لوگ عمل کرتے ہیں اور اس میں مشقت اٹھاتے ہیں، کیا یہ وہ چیز ہے جس کا ان پر فیصلہ کیا گیا ہے اور ان میں پہلے سے تقدیر جاری ہوچکی ہے ؟ یا یہ ان میں سے ہے جس کا وہ سامنا کرتے ہیں ان میں سے جوان کو ان کے نبی (علیہ السلام) نے دیا اور ان پر دلیل پختہ کی ؟ میں نے کہا کیوں نہیں یہ ایسی چیز ہے جس کا ان پر فیصلہ کردیا گیا تھا تو انہوں نے فرمایا تو کیا یہ ظلم ہوگا ؟ کہتے ہیں میں اس سے سخت گھبرا گیا اور میں نے عرض کیا کہ ہر چیز کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور اس کا مالک ہے جو وہ کرے اس سے سوال نہیں کیا جاسکتا اور مخلوق سے سوال کیے جائیں گے تو عمران ؓ نے مجھے کہا تجھے اللہ تعالیٰ نے سیدھے راستہ کی توفیق دی، میں نے تجھ سے سوال کیا تاکہ تیری عقل کا امتحان لوں۔
بے شک ایک شخص جہینہ یا مزینہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو کہا یارسول اللہ ! آپ کیا دیکھتے ہیں جو لوگ عمل کرتے ہیں اور مشقت اٹھاتے ہیں، کیا یہ ایسی چیز ہے جس کا ان پر فیصلہ کیا گیا ہے اور ان پر پہلے سے تقدیر جاری ہوگئی ہے ؟ یا یہ ان کاموں میں سے ہیں جن کا وہ اب سامنا کررہے ہیں کہ ان کے پاس ان کے نبی آئے اور ان پر دلیل کو پختہ کیا ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا نہیں بلکہ یہ ایسی چیز ہے جس کا ان پر فیصلہ کردیا گیا ہے اور تقدیر جاری ہوچکی ہے۔ عمران کہتے ہیں میں نے کہا تو عمل کیوں ہوتا ہے۔ تب ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا جس کو اللہ تعالیٰ نے دو مرتبوں میں سے ایک کے لئے پیدا کیا ہے اس کو اس کے لئے تیاری کی بھی توفیق دیتا ہے اور اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے۔” ونفس وماسواھا فالھمھا فجورھا وتقواھا “
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ سراقہ بن مالک بن جعشم آیا اور کہا یارسول اللہ ! ہمارے لئے ہمارا دین بیان کردیں ؟ گویا کہ ہم اب پیدا کیے گئے ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ ہمارا یہ عمرہ اس سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہمیشہ کے لئے۔ کہا یارسول اللہ ! ہمارے لئے ہمارا دین بیان کردیں گویا کہ ہم ابھی پیدا کیے گئے ہیں۔ پس کس چیز میں عمل ہے آج کے دن اس میں جس پر قلم خشک ہوگئے اور تقدیر جاری ہوگئی ؟ یا اس میں جو ہم نیا عمل کرتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ اس میں جس پر قلم خشک ہوگئے اور تقدیر جاری ہوگئی۔ اس نے کہا پھر عمل کی کیا ضرورت ہے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تم عمل کرتے رہو، پس ہر اس عمل کی توفیق دی جاتی ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے۔
Ayah 91:99 ۔” قدافلح من رکاھا “ اور یہ موضع قسم ہے یعنی کامیاب ہوا اور نیک بخت ہوا وہ نفس جس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا۔ یعنی اس کی اصلاح کی اور گناہوں سے اس کو پاک کیا اور طاعت کی توفیق دی۔
Ayah 91:1010 ۔” وقد خاب من دسھا “ یعنی خسارے میں پڑا وہ نفس جس کو اللہ تعالیٰ نے گمراہ کیا، پھر اس کو خراب کیا اور حسن (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ تحقیق کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، پھر اس کی اصلاح کی اور اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ابھارا۔ ” وقد خاب من دساھا “ اس کو ہلا ک کردیا اور گمراہ کردیا اور معصیت پر ابھارا۔ پس فعل کو نفس کے لئے بنایا ہے اور ” دساھا “ اس کی اصل ” دسسھا “ ہے تدسیس سے اور وہ کسی شے کو چھپانا ، پھر دوسری سین کو یاء سے تبدیل کردیا گیا ہے اور معنی یہاں یہ ہے اس کو پوشیدہ رکھا اور اس کے محل کو چھپایا کفرو معصیت کے ساتھ۔ زید بن ارقم ؓ فرماتے ہیں میں تمہیں وہی بات کہتا ہوں جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کہی ” اللھم انی اعوذبک من العجز والکسل والبخل والجبن والھرم و عذاب القبر اللھم آت نفسی تقواھا وزکھا وانت خیر من زکاھا انت ولیھا ومولاھا اللھم انی اعوذبک من علم لا ینفع ومن نفس لا تشبع ومن قلب لا تشبع ومن قلب لا یخشع ومن دعوۃ لا یستجاب لھا “
Ayah 91:1111 ۔” کذبت ثمود بطغواھا “ اس کی سرکشی کی وجہ سے جس نے ان کو تکذیب پر ابھارا۔
Ayah 91:1212 ۔” اذا نبعث اشقاھا “ یعنی کھڑا ہوا اور ” انبعاث “ طاعت میں جلدی کرنا کسی وجہ سے۔ یعنی انہوں نے عذاب کو جھٹلایا اور صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ اس وجہ سے کہ ان میں سے بدبخت کھڑا ہوا اور وہ قدار بن سالف ہے وہ سرخ وزرد رنگ والا نیلی آنکھوں والا، چھوٹے قد کا تھا، کھڑا ہوا، اونٹنی کی کونچیں کاٹنے، عبداللہ بن زمعہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا اور آپ (علیہ السلام) نے اونٹنی اور اس کی کونچیں کاٹنے والے کا ذکر کیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اذا نبعث اشقاھا “ اس کے لئے ایک قوی شخص بدخلق اپنے اہل میں غالب، ابوزمعہ کی مثل کھڑا ہوا۔
Ayah 91:1313 ۔” فقال لھم رسول اللہ “ صالح (علیہ السلام) نے ” ناقۃ اللہ “ یعنی تم اللہ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے ڈرو اور زجاج (رح) فرماتے ہیں منصوب ہے اس معنی کی بناء کہ تم چھوڑ دو اللہ کی اونٹنی کو ” ذرواناقۃ اللہ “…” وسقیاھا “ اس کے پانی کی باری کو۔ یعنی تم اللہ کی اونٹنی کو چھوڑ دو اور اس کے پانی پینے کی باری کو۔ پس تم اس کے پانی پینے کے دن میں چھیڑ چھاڑ نہ کرو۔
Ayah 91:1414 ۔” فکذبوہ “ یعنی صالح (علیہ السلام) کو ” فعقروھا “ یعنی اونٹنی کے۔
Ayah 91:1515 ۔” قدمدم علیھم ربھم “ عطاء اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں، پس ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ان کے رب نے پھر ان کو ہلاک کردیا۔ مدرج فرماتے ہیں ” الدمدمۃ “ جڑ سے اکھاڑنے کے ساتھ ہلاک کرنا۔ ” بذنبھم “ ان کے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے اور اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کی وجہ سے۔ ” فسواھا “ پس ہلاکت کو ان سب پر برابر کردیا اور عام ہلاکت بھیجی کہ ان میں سے کوئی بھی نہ چھوٹ سکا اور فرائؒ فرماتے ہیں ” سوی الدمۃ “ اور ان کے چھوٹوں بڑوں پر عذاب نازل کیا یعنی ان کے درمیان برابری کردی۔ ” ولا یخاف عقباھا “
اہل مدینہ اور اہل شام نے فلافاء کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی طرح ان کے مصاحف میں ہے اور باقی حضرات نے وائو کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی طرح ان کے مصاحف میں ہے۔ ” عقباھا “ اس کے انجام سے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ہلاک کرنے میں کسی ایک سے بھی نہیں ڈرتے اور یہی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور ضحاک، سدی اور کلبی رحمہم اللہ فرماتے ہیں یہ ضمیر عاقر کی طرف لوٹ رہی ہے اور کلام میں تقدیم و تاخیر ہے ” اذانبعث اشقاھا ولا یخاف عقباھا “