Ayah 92:11 ۔” واللیل اذا یغشیٰ “ یعنی دن کو تاریکی کے ساتھ ڈھانپ لے۔ پس اس کی روشنی چلی جائے۔
Ayah 92:22 ۔” والنھار اذا تجلی “ ظاہر ہوجائے تاریکی کے درمیان سے۔
Ayah 92:33 ۔” وما خلق الذکر والا نثیٰ ” یعنی ومن خلق جس نے مذکر ومونث کو پیدا کیا اور کہا گیا ہے کہ یہ (ما) مصدر یہ ہے یعنی مذکر ومونث کو پیدا کرنا۔ مقاتل اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں یعنی آدم وحوا (علیہما السلام) کو اور ابن مسعود اور ابوالدرداء ؓ تعالیٰ عنہما کی قرات میں ” والذکر والا نثیٰ “ جواب قسم ہے۔
Ayah 92:44 ۔” ان سعیکم لشتی “ بیشک تمہارا اعمال مختلف ہیں۔ پس اپنے نفس کو چھڑانے کے لئے کوشش کرنے والے بھی ہیں اور اپنے نفس کو ہلاک کرنے میں کوشش کرنے والے بھی۔ ابو مالک اشعری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمام لوگ صبح کرتے ہیں۔ پس اپنے آپ کو بیچنے والے ہیں یا تو اس کو آزاد کرنے والے یا اس کو ہلاک کرنے والے۔
Ayah 92:55 ۔” فاما من اعطیٰ “ اپنا مال اللہ کے راستہ میں۔ ” واتقی “ اپنے رب سے۔
Ayah 92:66 ۔” وصدق بالحسنیٰ “ ابو عبدالرحمن سلمی اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں اور تصدیق لا الہ الاالہ کے ساتھ اور یہی عطیہ کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں جنت کی۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا قول ” للذین احسنوا الحسنیٰ “ یعنی جنت ہے اور کہا گیا ہے ” صدق بالحسنیٰ “ یعنی ” بالخلف “ یعنی یقین کیا کہ اللہ تعالیٰ عنقریب اس کو خلیفہ بنائیں گے اور یہ عکرمہ کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور قتادہ ، مقاتل اور کلبی رحمہم اللہ فرماتے ہیں اللہ کے وعدہ کی جو اس نے وعدہ کیا ہے وہ وعدہ کیا ہے وہ پورا کرے گا۔
Ayah 92:77 ۔” فسنیسرہ “ پس ہم عنقریب اس کو تیار کریں گے دنیا میں۔ ” للیسریٰ “ یعنی عادت یسریٰ کے لئے اور وہ عمل کرنا اس کے مطابق جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہو۔
Ayah 92:88 ۔” وامامن بخل “ خیر میں خرچ کرنے سے۔ ” واستغنیٰ “ اللہ کے ثواب سے۔ پس اس میں رغبت نہ کی۔
Ayahs 92:9–1010-9 ۔…” وکذب بالحسنیٰ ۔ فسنیسرہ للعسری “ ہم عنقریب ان کو شر کے لئے تیار کریں گے۔ بایں طور کہ شرکو اس کے ہاتھ پر جاری کریں گے حتیٰ کہ وہ عمل کرے گا جو اللہ کو پسند نہیں ہیں۔ پس ان کی وجہ سے آگ کا مستحق ہوگا۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں ہم اس پر تنگ کردیں گے کہ وہ خیر کا کام کرے۔ حضرت علی ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں ہے کوئی نفس سانس لینے والا مگر تحقیق اس کا مکان جنت، جہنم میں لکھ دیا گیا ہے تو ایک شخص نے کہا، کیا ہم اپنے لکھے ہوئے پر بھروسہ نہ کرلیں اور عمل چھوڑ دیں ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا نہیں لیکن تم عمل کرو، پس ہر شخص اس کے عمل کی توفیق دیا جاتا ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے۔ بہرحال شقاوت والے تو وہ اہل شقاوت کے عمل کی توفیق دیئے جائیں گے اور بہرحال اہل سعادت، پس وہ اہل سعادت کے عمل کی توفیق دیئے جائیں گے۔ پھر تلاوت کی ” فاما من اعطی واتقی۔ وصدق بالحسنیٰ ، فسنیسرہ للیسریٰ ، واما من بخل واستغنی۔ وکذب بالحسنیٰ ۔ فسنیسرہ للعسریٰ “ کہا گیا ہے یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ انہوں نے بلال ؓ کو امیہ بن خلف سے ایک کالے کمبل اور دس اوقیہ کے بدلے خرید کر آزاد کردیا تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” واللیل اذا یغشیٰ “ سے اللہ تعالیٰ کے قول ” ان سعیکم لشتی “ تک۔ یعنی ابوبکر اور امیہ کی کوشش۔ عطائؒ سے روایت کیا گیا ہے کہ انصار میں سے ایک شخص کا بغ تھا اور اس کا ایک پڑوسی تھا اس باغ کی کچی کھجوریں اس کے گھر گرتی تھیں اور اس کے بچے وہ لے لیتے تھے تو اس نے اس بات کی شکایت نبی کریم ﷺ کو کی تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تو وہ باغ مجھے جن کے باغ کے بدلے بیچ دے، اس نے انکار کردیا، پھر وہ آپ (علیہ السلام) کے پاس سے نکلا تو اس کو ابودحداح ؓ ملے تو انہوں نے اس کو کہا گیا تجھے یہ پسند ہے کہ تو اس کو حش کے بدلے بیچ دے، حش حضرت ابودحداح ؓ کا باغ تھا حش باغ میں درختوں کے جھنڈ کو بھی کہتے ہیں تو اس نے کہا وہ باغ آپ کا ہوا تو ابودحد ؓ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا یارسول اللہ ! کیا آپ اس باغ کو مجھ سے جنت کے باغ کے بدلہ میں خریدتے ہیں ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں تو انہوں نے کہا یہ آپ کا ہوا تو نبی کریم ﷺ نے انصاری کے پڑوسی کو بلایا اور فرمایا تو اس باغ کو لے۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” واللیل اذا یغشیٰ “ اللہ تعالیٰ کے قول ” ان سعیکم لشتی “ ابودحدح ؓ اور وہ انصاری باغ والا۔ ” فاما من اعطیٰ واتقیٰ “ ابودحداح ؓ ۔ ” وصدق بالحسنیٰ ۔ فسنیسرہ للیسریٰ “ یعنی جنت۔ ” واما من بخل واستغنیٰ “ یعنی انصاری۔” وکذب بالحسنیٰ “ یعنی ثواب۔ ” فسنیسرہ للعسریٰ “ یعنی جہنم۔
Ayah 92:1111 ۔” وما یغنی عنہ مالہ “ جس کا اس نے بخل کیا۔ ” اذاتردی “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں جب وہ مرجائے گا اور قتادہ اور ابوصالح فرماتے ہیں جہنم میں گرے گا۔
Ayah 92:1212 ۔” ان علینا للھدیٰ “ یعنی بیان کرنا۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں ہم پر لازم ہے کہ ہم ہدایت کے راستہ کو گمراہی کے راستہ سے جدا کرکے بیان کردیں اور یہی قتادہ (رح) کا قول ہے۔
فرمایا اللہ پر اس کے حلال و حرام کا بیان ہے۔ فراء (رح) فرماتے ہیں یعنی جو ہدایت کا راستہ چلا پس اللہ پر اس کا راستہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” وعلی اللہ قصد السبیل “ فرماتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا ارادہ کرتا ہے پس وہ درمیانہ راستہ پر ہے اور کہا گیا ہے اس کا معنیٰ بیشک ہم پر البتہ ہدایت دینا اور گمراہ کرنا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ” بیدک الخیر “ ہے۔
Ayah 92:1313 ۔” وان لنا للآخرۃ والاولیٰ “ پس جو ان دونوں کو ان کے مالک کے علاوہ کے پاس، تلاش کرے گا تو اس نے غلط راستہ اختیار کیا۔
Ayah 92:1414 ۔” فانذرتکم “ اے اہل مکہ ! ” نارا تلظیٰ “ یعنی شعلے مارتی ہوئی۔
Ayah 92:1515 ۔” لا یصلاھا الا الا شقیٰ ۔
Ayah 92:1616 ۔ الذی کذب “ رسول اللہ ﷺ کو ” وتولی “ ایمان سے۔
Ayah 92:1717 ۔” وسیجنھا الاتقیٰ “ اشقی سے بدبخت اور اتقی سے متقی مراد ہے۔
Ayah 92:1818 ۔” الذی یوتی مالہ “ اپنا مال دے۔ ” یتزکی “ وہ طلب کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں پاک صاف ہوجائے نہ ریاکاری کرتا ہے اور نہ شہرت مقصود ہے۔ یعنی ابوبکر صدیق ؓ تمام کے قول میں۔ ابن زبیر ؓ فرماتے ہیں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کمزور لوگوں کو خرید کر آزاد کردیتے تھے تو ان کے والد نے کہا اے میرے بیٹے ! اگر تو ایسا غلام خریدتا جو تیری پیٹھ کو روکتا (یعنی کاموں میں تیری مدد کرتا) تو آپ ؓ نے فرمایا اپنی پیٹھ کے روکنے کا میں ارادہ رکھتا ہوں تو آیت نازل ہوئی ” وسیجنبھا الا تقیٰ “ سورة کے آخر تک اور محمد بن اسحاق (رح) نے ذکر کیا ہے کہ حضرت بلال ؓ بنو جمع میں سے بعض کے غلام تھے اور وہ بلال بن رباح ہیں اور ان کی والدہ کا نام حمامہ ہے، یہ اسلام میں سچے، پاکیزہ دل والے تھے اور امیہ بن خلق جب دوپہر گرم ہوجاتی تو ان کو نکالتا، پھر ان کو پیٹھ کے بل مکہ کی پتھریلی زمین پر ڈال دیتا۔ پھر بڑے پتھر کو ان کے سینے پر رکھنے کا حکم دیتا وہ رکھ دیا جاتا، پھر ان کو کہتا تو اسی طرح رہے گا حتیٰ کہ تو مرجائے یا محمد ( ﷺ ) کا انکار کردے اور وہ اس تکلیف میں کہتے احد احد۔
اور محمد بن اسحاق کی سند سے عروہ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا ان پر گزر ہوا اور وہ حضرت بلال ؓ کے ساتھ یہ سلوک کررہے تھے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا گھر بھی بنو جمع میں تھا تو آپ ؓ نے امیہ کو کہا کیا تو اس مسکین کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا ؟ اس نے کہا تونے اس کو خراب کیا ہے اب تو اس کو بچا اس تکلیف سے جو تو دیکھ رہا ہے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا میں ایسا ہی کرتا ہوں۔ میرے پاس ایک سیاہ غلام ہے جو اس سے زیادہ طاقتور اور مضبوط ہے تیرے دین پر ہے میں اس کو تجھے دے دیتا ہوں۔ اس نے کہا ٹھیک ہے میں نے ایسا کیا تو حضرت ابوبکر ؓ نے اس کو اپنا غلام دے دیا اور حضرت بلال ؓ کو لے کر آزاد کردیا۔ پھر ان کے ساتھ اسلام کی بناء ہجرت سے پہلے چھ گردنیں آزاد کیں۔ بلال ؓ ان میں سے ساتویں ہیں۔
عامر بن فہیرہ بدر اور احد میں حاضر ہوئے اور بئر معونہ میں شہید ہوئے اور ام عمیس اور زہرہ ان کی نگاہ چلی گئی تھی ان کو آزاد کیا تو قریش نے کہا اس کی نگاہ لات اور عزیٰ نے چھین لی ہے تو انہوں نے کہا انہوں نے جھوٹ کہا اور اللہ کے گھر کی قسم ! لات وعزیٰ نہ کسی کو نقصان دے سکتے ہیں اور نہ نفع تو اللہ تعالیٰ نے ان کی نگاہ لوٹا دی اور نہدیہ اور ان کی بیٹی کو آزاد کیا۔ یہ دونوں بنو عبدالدار کی ایک عورت کی غلام تھیں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ان دونوں پر گزرے تو ان کی سیدہ نے ان کو بھیجا تھا، اس کے لئے گندم پیسنے اور اس نے کہا اللہ کی قسم ! میں تمہیں کبھی آزاد نہ کروں گی۔
تو حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے فرمایا ہرگز نہیں اے فلاں کی ماں ! اس نے کہا ہرگز نہیں، تونے ان دونوں کو خراب کیا ہے تو ان دونوں کو آزاد کر۔ آپ ؓ نے فرمایا کتنے میں ؟ اس نے کہا اتنے اور اتنے میں۔ آپ ؓ نے فرمایا تو نے ان دونوں کو پکڑا تھا حالانکہ یہ دونوں آزاد تھیں اور بنو مومل کی ایک لونڈی پر گزرے اس کو تکلیفیں دی جارہی تھیں تو اس کو خرید کر آزاد کردیا۔
اور سعید بن مسیب فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ امیہ بن خلف نے ابوبکر صدیق ؓ کو بلال کے بارے میں کہا جب آپ ؓ نے کہا کیا تو اس کو بیچتا ہے ؟ کہاں ہاں میں اس نسطاس کے بدلے میں بیچتا ہوں اور نسطاس حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا غلام تھا دس ہزار دینا والا اور دو لڑکوں اور لونڈیوں اور مویشیوں کے بدلہ میں، اور یہ مشرک تھا۔ ابوبکر صدیق ؓ نے اس کو اسلام کی ترغیب دی کہ اس کے مال ہوگا اس نے انکار کردیا تو ابوبکر صدیق ؓ کو غصہ آیا۔ پس جب آپ ؓ کو امیہ نے کہا میں اس کو تیرے غلام نسطاس کے بدلے میں بیچتا ہوں تو ابوبکر صدیق ؓ نے غنیمت جانا اور اس کو بیچ دیا بلال ؓ کے بدلہ میں تو مشرکین نے کہا ابوبکر ؓ نے یہ نہیں کیا مگر ایک احسان کی وجہ سے جو بلال کا ان پر تھا۔
Ayah 92:1919 ۔” تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” وما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی “ احسان جس کا وہ بدلہ دے رہا ہو۔
Ayah 92:2020 ۔” الا “ لیکن ” ابتغاء وجہ ربہ الا علیٰ “ یعنی یہ نہیں کیا ان پر کسی کے احسان کا بدلہ دینے کے لئے لیکن یہ کیا ہے اپنے رب اعلیٰ کی رضامندی کو تلاش کرنے کے لئے۔
Ayah 92:2121 ۔” ولسوف یرضیٰ “ اس کے ساتھ جو اس کو اللہ تعالیٰ آخرت میں دیں گے جنت اور اعزاز اس پر جوا س نے کیا۔