Ayah 93:11 ۔” والضحیٰ “ چاشت کے وقت کی قسم کھائی ہے اور اس سے مراد تمام دن ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے مقابلہ ” واللیل اذا سجیٰ “ لائے ہیں۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا قول ہے ” ان یاتیھم باسنا ضحی “ یعنی دن میں اور قتادہ اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں یعنی چاشت کا وقت اور یہ وہ گھڑی ہے جس میں سورج بلند ہوتا ہے اور دن کا اعتدال سردی و گرمی میں ہوتا ہے۔
Ayah 93:22 ۔” واللیل اذا سجیٰ “ حسن (رح) فرماتے ہیں اپنی تاریکی کے ساتھ آئے اور یہی عوفی کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے اور والبی کی ان سے روایت ہے کہ جب چلی جائے۔ عطاء اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں ہر چیز کو تاریکی کے ساتھ ڈھانپ لے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں برابر ہوجائے اور قتادہ اور ابن زید رحمہما اللہ فرماتے ہیں ساکن ہوجائے اور اس کا اندھیرا ٹھہر جائے اس کے بعد نہ بڑھے۔ کہا جاتا ہے ” لیل ساج وبحر ساج “ جب وہ ساکن ہو۔
Ayah 93:33 ۔” ماودعک ربک وما قلیٰ “ یہ جواب قسم ہے یعنی جب سے آپ کو چنا ہے تب سے آپ کو نہیں چھوڑا اور جب سے آپ کو محبوب بنایا ہے آپ سے ناراض نہیں ہوئے۔
Ayah 93:44 ۔” وللآخرۃ خیر لک من الاولیٰ “ عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک ہم اہل بیت اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے آخرت کو دنیا پر اختیار کیا ہے۔
Ayah 93:55 ۔” ولسوف یعطیک ربک فترضیٰ “ عطاء نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ وہ شفاعت آپ (علیہ السلام) کی امت کے حق میں حتیٰ کہ آپ (علیہ السلام) راضی ہوجائیں گے اور یہ علی اور حسن کا قول ہے اور عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سیروایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! میری امت میری اور رو پڑے تو اللہ تعالیٰ نے جبرئیل (علیہ السلام) کو کہا آپ محمد ﷺ کے پاس جائو اور ان کو کہو ہم عنقریب آپ (علیہ السلام) کو آپ کی امت کے بارے میں راضی کردیں گے اور ان کے بارے میں آپ کو غمگین نہ کریں گے۔ ابوجعفر محمد بن علی ؓ فرماتے ہیں۔ بیشک تم اہل عراق کے گروہ تم کہتے ہو قرآن مجید میں امید کی آیت ” قل یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ “ ہے اور ہم اہل بیت کہتے ہیں کہ اللہ کی کتاب میں سب سے زیادہ امید والی آیت یہ ہے ” ولسوف یعطبک ربک فترضیٰ “ کہا گیا ہے۔ ” ولسوف یعطیک ربک “ ثواب میں سے اور کہا گیا ہے مدد اور شہروں پر قدرت دینے اور مومنین کی کثرت میں سے۔
” فترضیٰ “ پھر اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی اس حالت کی خبر دی جس پر آپ (علیہ السلام) وحی سے پہلے تھے اور آپ (علیہ السلام) کو اپنی نعمت یاددلائی۔
Ayah 93:66 ۔” الم یجدک یتیما فاویٰ “ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے ایک مسئلہ پوچھا ہے، میرا دل چاہتا ہے کہ میں نے وہ نہ پوچھا ہوتا۔ میں نے کہا اے میرے رب ! بیشک تونے سلیمان بن دائود (علیہم السلام) کو عظیم ملک دیا اور فلاں کو اتنا دیا اور فلاں کو اتنا دیا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے محمد ! ( ﷺ ) کیا میں نے تجھے یتیم نہیں پایا تھا، پھر میں نے تجھے ٹھکانہ دیا ؟ میں نے کہا کیوں نہیں اے میرے رب ! فرمایا کیا میں نے آپ کو راہ حق کا متلاشی نہیں پایا تھا، پھر میں نے آپ کو ہدایت دی ؟ میں نے کہا کیوں نہیں اے میرے رب ! فرمایا کیا میں نے آپ کو تنگدست نہیں پایا تھا، پھر میں نے آپ کو غنی کردیا ؟ میں نے کہا کیوں نہیں اے میرے رب ! اور ان کے علاوہ نے زیادہ کیا ہے۔ فرمایا کیا ہم نے آپ کے لئے آپ کے سینے کو نہیں کھولایا اور آپ سے آپ کا بوجھ نہیں رکھا ؟ میں نے کہا کیوں نہیں اے میرے رب ! اور آیت کا معنی کیا آپ کو یتیم چھوٹا بچہ تنگدست نہیں پایا جب آپ کے والدین فوت ہوگئے اور پیچھے آپ (علیہ السلام) کے لئے کوئی مال چھوڑا اور نہ کوئی ٹھکانہ۔ پھر آپ کے لئے ٹھکانہ بنایا جس کی طرح آپ ﷺ قرار حاصل کرتے ہیں اور آپ (علیہ السلام) کو آپ کے چچا ابوطالب کے ساتھ ملادیا حتیٰ کہ انہوں نے آپ کی اچھی تربیت کی اور آپ کا خرچ اٹھایا۔
Ayah 93:77 ۔” ووجدک ضالافھدی “ یعنی راہ کا متلاشی جس پر آپ تھے۔ پس آپ (علیہ السلام) و توحید اور نبوت کے لئے ہدایت دی ۔ حسن اور ضحاک اور ابن کیسان رحمہم اللہ فرماتے ہیں ” ووجدک ضالا “ نبوت کی علامات سے اور شریعت کے احکام سے غافل۔ پس آپ (علیہ السلام) کو ان کی طرف ہدایت دی۔ جیسا کہ فرمایا ” وان کنت من قبلہ لمن الغافلین “ اور فرمایا ” ماکنت تدری ماالکتاب ولاالایمان “ اور کہا گیا ہے مکہ کی وادیوں میں بھٹکتا ہوا تو آپ (علیہ السلام) کی آپ کے دادا عبدالمطلب کی طرف رہنمائی کی۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بچپن میں مکہ کی وادیوں میں گم ہوگئے تو آپ (علیہ السلام) کو ابوجہل نے دیکھاوہ اپنی بکریوں کے ساتھ واپس آرہا تھا تو آپ ﷺ کو عبدالمطلب تک پہنچا دیا اور سعید بن مسیب فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ ایک قافلہ میں نکلے۔ حضرت خدیجہ ؓ کا غلام میسرہ بھی ساتھ تھا۔ پس آپ (علیہ السلام) ایک تاریک رات میں اونٹنی پر سوار تھے کہ ابلیس آیا اور اونٹنی کی لگام پکڑ کر اس کو راستے سے ہٹا دیا تو جبرئیل (علیہ السلام) آئے تو ابلیس کو ایک پھونک ماری جس سے وہ حبشہ کی زمین میں جاپڑا اور آپ (علیہ السلام) کو واپس قافلہ میں پہنچا دیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) پر کا احسان جتایا ہے اور کہا گیا ہے آپ (علیہ السلام) کو پایا کہ آپ اپنے نفس کو نہ پہچانتے تھے کہ آپ کون ہیں تو آپ (علیہ السلام) کو اپنے نفس اور حال کی معرفت دی۔
Ayah 93:88 ۔” ووجدک عائلا فاغنی “ یعنی فقیر۔ پس آپ (علیہ السلام) کو خدیجہ ؓ کے مال کے ذریعے غنی کردیا۔ پھر غنیمتوں کے ذریعے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کو راضی کیا اس کے ساتھ جو آپ (علیہ السلام) کو رزق دیا اور اس کو فراء نے اختیار کیا ہے اور فرمایا کہ آپ (علیہ السلام) مال کی کثرت کی وجہ سے غنی نہ تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے جو آپ کو دیا تھا اس پر آپ (علیہ السلام) کو راضی کردیا تھا اور یہ تمنا کی حقیقت ہے۔ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا غنی سامان کی کثرت سے نہیں ہے لیکن غنا نفس کا غنا ہے۔ عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تحقیق کامیا ب ہوگیا وہ شخص جو اسلام لایا اور بقدر کفایت رزق دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو اس پر قناعت دے دی جو اس کو دیا۔ پھر آپ (علیہ السلام) کو یتیموں اور فقراء کے بارے میں وصیت کی ہے۔
Ayah 93:99 ۔” فاما الیتیم فلا تقھر “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں آپ یتیم کو حقیر نہ سمجھیں کیونکہ آپ (علیہ السلام) خود یتیم تھے اور فراء اور زجاج رحمہما اللہ نے فرمایا ہے آپ اس کے مال پر قبضہ نہ کریں کہ اس کے حق کو لے لیں اس کے کمزور ہونے کی وجہ سے۔ اسی طرح عرب یتیموں کے معاملہ میں کہا کرتے تھے ان کے اموال لے لیتے تھے اور ان کے حقوق غصب کرلیتے تھے۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمانوں کے گھروں میں بہترین گھروہ ہے جس میں یتیم ہو اور اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے اور مسلمانوں کے گھروں میں برا گھر وہ ہے جس میں یتیم ہو اس کے ساتھ برا سلوک کیا جائے۔ پھر اپنی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا، میں اور یتیم کی کفالت کرنے والے جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپ (علیہ السلام) اپنی شہادت والی انگلی اور درمیان والی انگلی سے اشارہ کررہے تھے۔
Ayah 93:1010 ۔” واما السائل فلا تنھر “ مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں دروازے پر سوال کرنے والا مرد ہے۔ فرماتے ہیں اس کو نہ ڈانٹیں جب وہ آپ (علیہ السلام) سے سوال کرے۔ پس آپ (علیہ السلام) خود تنگدست تھے۔ پس آپ (علیہ السلام) یا تو ان کو کھانا کھلا دیں یا اس کو نرمی سے جواب دے دیں۔ کہا جاتا ہے ” نھرہ وانتھرہ “ جب اس کا استقبال ایسی کلام سے کرے جو اس کو ڈانٹے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں سائل کو نرمی اور رحمت سے واپس کریں۔ ابراہیم بن ادھم (رح) فرماتے ہیں سوال کرنے والی قوم بہت اچھی ہے، تم میں سے کسی ایک کے دروازہ پر آتا ہے ، پھر کہتا ہے کیا تم اپنے اہل (مردوں) کی طرف کسی چیز کے ذریعے توجہ کرتے ہو ؟ اور حسن (رح) سے اللہ تعالیٰ کے قول ” واما السائل فلا تنھر “ کے بارے میں مروی ہے کہ طالب علم مراد ہے۔
Ayah 93:11واما بنعمۃ ربک فحدث کی تفسیر
11 ۔” واما بنعمۃ ربک فحدث “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں یعنی نبوت۔ ان سے ابوبشر نے روایت کیا ہے اور اس کو زجاج (رح) نے اختیار کیا ہے اور فرمایا یعنی آپ تبلیغ کریں اس کی جس کے ساتھ آپ (علیہ السلام) بھیجے گئے ہیں اور اس نبوت کو بیان کریں جو آپ (علیہ السلام) کو دی ہے اور لیث نے مجاہد سے نقل کیا ہے یعنی قرآن اور یہی کلبی (رح) کا قول ہے۔ آپ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ قرآن کو پڑھیں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ان نعمتوں کا شکر کریں جو اس سورت میں آپ (علیہ السلام) کو یاد دلائی گئی ہیں ضلالت کے بعدہدایت فقر کے بعد غنی کرنا اور اللہ کی نعمتوں کو شکرانہ کے طور پر بیان کریں۔ جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کی طرف بھلائی کی جائے تو اس کی جزا دے ، اگر پائے۔ پس اگر نہ پائے وہ چیز جس کو بطور جزادے تو اس کی تعریف کرے کیونکہ جب اس کی تعریف کردی تو اس کا شکریہ ادا کردیا اور اگر اس کو چھپالیا تو اس کی ناشکری کی اور جس نے زیب وزینت اختیار کی اس چیز کے ساتھ جو وہ نہیں دیا گیا تو وہ جھوٹ کے کپڑے پہننے والے کی طرح ہے۔ نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے سنا جو شخص تھوڑی چیز کا شکر ادا نہیں کرتا وہ کثیر کا بھی شکر ادا نہیں کرتا اور جو شخص لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکرادا نہیں کرتا، اللہ کی نعمت کو بیان کرنا شکر ہے اور اس کو چھوڑنا ناشکری ہے اور جماعت رحمت ہے اور جدا ہونا عذاب ہے۔
اوراہل مکہ کی قرات کا طریقہ یہ ہے کہ تکبیر کہے اول سورة سے اور والضحیٰ ہر سورت کے آخر میں حتیٰ کہ قرآن کو ختم کرلے پھر کہے اللہ اکبر۔ اسی طرح میں نے امام مقری ابونصر محمد بن احمد بن علی حامدی سے مروشہر میں پڑھا۔ انہوں نے سند کے ساتھ اپنے اساتذہ سے جو اصل کتاب میں موجود ہے اور تکبیر کا سبب یہ ہے کہ وحی جب رک گئی تو مشرکین نے کہا اس کو اس کے شیطان نے چھوڑ دیا ہے تو نبی کریم ﷺ اس کی وجہ سے غمزدہ ہوئے تو جب نازل ہوئی ” والضحیٰ “ تو رسول اللہ ﷺ نے تکبیر کہی نزول وحی پر خوش ہوتے ہوئے۔ پس تم اس کو سنت بنالو۔