94. Surah Ash-Sharh

الشرحThe Consolation · 8 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 94:1

اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَۙ Open ayah 94:1 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ کیا ہم نے تمہارا سینہ کھول نہیں دیا

1 ۔” الم نشرح لک صدرک “ کیا ہم نے نہیں کھولا اور وسیع کیا اور نرم کیا آپ کے لئے آپ (علیہ السلام) کے دل کو ایمان اور نبوت اور علم اور حکمت کے ساتھ۔
Ayah 94:2

وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَۙ Open ayah 94:2 in the Quran reader

بیشک کھول دیا اور تم سے بوجھ بھی اتار دیا

2 ۔” ووضعنا عنک وزرک “ حسن، مجاہد، قتادہ اور ضحاک رحمہم اللہ فرماتے ہیں ہم نے آپ (علیہ السلام) سے کرادیا جو آپ (علیہ السلام) سے جاہلیت میں گزرچکا اور یہ اللہ تعالیٰ کے قول ” لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وماتاخر “ کی طرح ہے اور حسین بن فضل (رح) فرماتے ہیں یعنی خطاء اور بھول۔ اورکہا گیا آپ (علیہ السلام) کی امت کے گناہ ۔ پس ان کی نسبت آپ ﷺ کی طرف کردی ہے۔ آپ (علیہ السلام) کے دل کو امت کی وجہ سے مشغول ہونے کی وجہ سے۔
Ayah 94:3

الَّذِیْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَۙ Open ayah 94:3 in the Quran reader

جس نے تمہاری پیٹھ توڑ رکھی تھی

3 ۔” الذی انقض ظھرک “ آپ (علیہ السلام) کی پیٹھ پر بوجھ لاددیا جس نے اس کو کمزور کردیا حتیٰ کہ اس کی آواز سنی جاتی تھی اور عبدالعزیز بن یحییٰ اور ابو عبیدہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں یعنی ہم نے ہلکا کردیا۔ آپ (علیہ السلام) سے نبوت کی ذمہ داریوں اور بوجھ کو اور اس کے امر کے ساتھ قیام کو۔
Ayah 94:4

وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ Open ayah 94:4 in the Quran reader

اور تمہارا ذکر بلند کیا

ورفعنا لک ذکرک کی تفسیر 4 ۔” ورفعنا لک ذکرک “ ابوسعید خدری ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے جبرئیل (علیہ السلام) سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا ” ورفعنا لک ذکرک “ تو جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا اللہ تعالیٰ نے کہا ہے جب میرا تذکر کیا جائے گا آپ (علیہ السلام) کا میرے ساتھ تذکرہ کیا جائے گا اور حسن (رح) سے روایت ہے فرمایا ” ورفعنا لک ذکرک “ جب میرا تذکرہ ہوگا آپ (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوگا۔ عطاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اذان، اقامت، تشہد اور منبروں پر خطبہ دینا مراد ہے اور اگر کوئی بندہ اللہ کی عبادت کرے اور اسکی ہر چیز میں تصدیق کرے اور یہ گواہی نہ دے کہ محمد ﷺ کے رسول ہیں تو یہ اس کو کچھ نفع نہ دے گا اور یہ کافر ہوگا اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کے ذکر کو دنیا وآخرت میں بلند کردیا۔ پس نہیں ہے کوئی خطیب اور نہ ہی کوئی تشہد پڑھنے والا اور نہ کوئی نماز والا مگر پکاررہا ہے۔ ” اشھدان لاالہ الا اللہ واشھد ان محمدا رسول اللہ “ اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ کوئی نماز اس کے بغیر قبول نہیں اور کوئی خطبہ اس کے بغیر جائز نہیں اور مجاہد (رح) فرماتی ہیں یعنی اذان دینے کے ساتھ اور اسی بارے میں حسان بن ثابت فرماتے ہیں : ” کیا تو نہیں دیکھتا کہ اللہ نے اپنے بندہ کو بھیجا اپنی دلیل کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ بلند اور بزرگ تر ہے۔ روشن کی آپ ﷺ پر نبوت کی مہر۔ اللہ کی طرف سے گواہی دی ہوئی چمکتی ہے اور گواہی دیتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے نام کو اپنے تام کے ساتھ ملادیا ہے۔ جب مئوذن پانچ نمازوں میں ” اشھد “ کہتا ہے۔ اور آپ ﷺ کے لئے اپنے نام میں سے نام نکالا تاکہ ان کی تعظیم کریں۔ پس عرش والا محمود اور یہ محمد ( ﷺ ) ہیں۔ “ اور کہا گیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) کا بلند ہونا آپ (علیہ السلام) کے میثاق کا انبیاء (علیہم السلام) سے لینا ہے اور ان پر لازم کرنا ہے کہ آپ (علیہ السلام) پر ایمان لائیں اور آپ (علیہ السلام) کے فضل کا اقرار کریں۔ پھر آپ (علیہ السلام) سے آسانی اور سختی کے بعد نرمی کا وعدہ کیا ہے کیونکہ اس وقت آپ (علیہ السلام) مکہ میں تھے۔
Ayah 94:5

فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاۙ Open ayah 94:5 in the Quran reader

(اور) بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے

فان مع العسر یسرا کے تکرار کی وجہ 5 ۔” فان مع العسریسرا،
Ayah 94:6

اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاؕ Open ayah 94:6 in the Quran reader

(اور) بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے

6 ۔ ان مع العسر یسرا “ یعنی اس سختی کے ساتھ جس میں آپ (علیہ السلام) ہیں، مشرکین کے جہاد سے نرمی اور آسانی ہے بایں طور کہ آپ (علیہ السلام) کو ان پر غلبہ دیں گے حتیٰ کہ وہ اس حق کے آگے سر جھکالیں گے جو آپ (علیہ السلام) ان کے پاس لائے ہیں۔ ” ان مع العسر یسرا “ اس کا تکرار کیا ہے وعدہ کی تاکید کے لئے اور امید کی تعظیم کے لئے اور حسن (رح) فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم خوش ہوجائو تمہارے پاس آسانی آگئی، ایک تنگی ہرگز دو آسانیوں پر غالب نہ آسکے گی۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اگر تنگی کسی سوراخ میں ہو تو اس کو آسانی تلاشی کرلے گی حتیٰ کہ اس میں داخل ہوجائے گی کیونکہ ایک تنگی دو آسانیوں پر ہرگز غالب نہیں آسکتی۔ مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں اور ان کے قول کا ” لن یغلب عسر یسرین “ (کہ ایک تنگی دوآسانیوں پر ہرگز غالب نہیں آسکتی) کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لفظ العسر کا تکرار معرفہ کے ساتھ کیا ہے اور یسر کا تکرار نکرہ لفظ کے ساتھ اور عرب کی عادت ہے جس اسم معرفہ ذکر کرتے ہیں پھر اس کو دوبارہ ذکر کریں تو دوسرے سے وہی پہلا مراد ہوتا ہے۔ اور جب اسم کو نکرہ پر کریں پھر اس کا اعادہ کریں نکرہ تو وہ دوہوجاتے ہیں اور جب اس کا معرفہ لفظ کے ساتھ اعادہ کریں تو دوسرا وہی پہلا ہوتا ہے جیسے تیرا قول ” کسبت درھما انفقت الدرھم “ تو دوسرا درہم وہی پہلا ہے اور جب تو کہے ” اذا کسبت درھما فانفق درھما “ تو دوسرا پہلے کا غیر ہے۔ پس عسر آیت میں مکر رہے لفظ معرفہ کے ساتھ تو عسر ایک ہو اور یسر مکرر ہے لفظ نکرہ کے ساتھ تو دویسر ہوئے ۔ گویا کہ فرمایا ہے کہ ” ان مع العسریسران “ کہ ایک تنگی کے ساتھ دو آسانیاں ہیں اور ابو علی حسین بن یحییٰ بن نصر (رح) فرماتے ہیں لوگوں نے ان کے قول ” لن یغلب عسر یسرین “ میں کلام کیا ہے۔ پس اس سے ان کے اس قول کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا کہ عسر معرفہ ہے اور یسر نکرہ ہے۔ پس ثابت ہوا کہ ایک عسر ہو اور دویسر۔ اور یہ قول قابل اعتراض ہے جب آدمی کہتا ہے ” ان مع الفارس سیفا ان مع الفارس سیفا “ تو یہ ثابت نہیں کرتا کہ ایک گھڑ سوار کے پاس دو تلواریں ہیں۔ پس آپ ؓ کے قول ” لن یغلب عسر یسرین “ کا مجازیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو بھیجا اس حال میں کہ آپ (علیہ السلام) کے پاس مال و اسباب کم تھا تو قریش آپ (علیہ السلام) کو اس کی وجہ سے عار دلاتے تھے حتیٰ کہ انہوں نے کہا اگر آپ کو مال داری کی طب ہے تو ہم آپ (علیہ السلام) کے لئے مال جمع کردیتے ہیں حتیٰ کہ آپ (علیہ السلام) اہل مکہ میں سب سے مال دار شخص کی طرح ہوجائیں گے تو اس کی وجہ سے نبی کریم ﷺ غمزہ ہوئے تو آپ (علیہ السلام) نے گمان کیا کہ آپ ﷺ کی قوم آپ کی تکذیب آپ کے فقر کی وجہ سے کررہی ہے تو اس سورة میں اللہ تعالیٰ آپ (علیہ السلام) پر اپنی نعمتیں شمار کرائیں اور آپ (علیہ السلام) سے غنا کا وعدہ کیا اس کے ذریعے آپ ﷺ کو تسلی دی اس غم پر جو آپ (علیہ السلام) پر چھایا ہوا تھا تو فرمایا ” فان مع العسر یسرا “ اس کا مجاز جو وہ کہتے ہیں یہ آپ (علیہ السلام) کو غمزدہ نہ کردے۔ ” فان مع العسر یسرا “ دنیا میں جلدی۔ پھر اپناوعدہ پورا کیا اور آپ (علیہ السلام) کو عرب کے شہروں پر فتح دی اور آپ (علیہ السلام) کے ہاتھ میں وسعت دی۔ یہاں تک کہ آپ (علیہ السلام) سینکڑوں اونٹ دے دیتے اور سال کا غلبہ ہبہ کردیتے۔ پھر دوسرے فضل کی ابتداء کی جو آخرت کے امر میں سے ہے۔ تو فرمایا ” ان مع العسر یسرا “ اور اس نیا جملہ ہونے کی دلیل اس کا وائو اور فاء سے خالی ہونا ہے اور یہ تمام مومنوں کے لئے وعدہ ہے اور اس کا مجاز ” ان مع العسر یسرا “ یعنی دنیا میں تنگی کے ساتھ مومن کے لئے آخرت میں آسانی ہے۔ پس بسا اوقات اس کے لئے دوآسانیاں جمع ہوجاتی ہیں۔ دنیا کی آسانی بھی جو دوسری آیت میں ذکر کی ہے تو آپ (علیہ السلام) کا قول ” لن یغلب عسر یسرین “ یعنی دنیا کی تنگی ہرگز اس آسانی پر غالب نہیں ہوسکتی جس کا اللہ تعالیٰ نے مومنین سے دنیا میں وعدہ گیا ہے اور اس آسانی پر جس کا ان سے آخرت میں وعدہ کیا اور عسر تو صرف ان دونوں یسر میں سے ایک پر غالب ہوتا ہے اور وہ دنیا کا یسر ہے اور بہرحال آخرت کا یسر تو وہ دائمی کبھی زائل نہ ہونے والا ہے یعنی ان دونوں کو غلبہ میں جمع نہیں کرسکتا جیسے نبی کریم ﷺ کا قول عید کے دو مہینے کم نہیں ہوتے یعنی کمی میں جمع نہیں ہوسکتے۔
Ayah 94:7

فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ Open ayah 94:7 in the Quran reader

تو جب فارغ ہوا کرو تو (عبادت میں) محنت کیا کرو

7 ۔” فاذا فرغت فانصب “ یعنی پس آپ مشقت اٹھائیں اور نصب مشقت اٹھانا ہے۔ ابن عباس ؓ قتادہ ضحاک، مقاتل اور کلبی رحمہم اللہ فرماتے ہیں پس جب آپ (علیہ السلام) فرض نماز سے فارغ ہوں تو اپنے رب کی طرف دعا میں مشقت اٹھائیں اور اس کی طرف سوال کرنے میں رغبت کریں وہ آپ (علیہ السلام) کو عطا کرے گا۔ عبدالوہاب بن مجاہد نے اپنے والد سے روایت کیا ہے جب آپ نماز پڑھ لیں تو دعا اور سوال کرنے میں خوب کوشش کریں اور بن مسعود ؓ فرماتے ہیں جب آپ فرائض سے فارغ ہوں تو رات میں قیام میں مشقت اٹھائیں اور شعبی (رح) فرماتے ہیں جب آپ (علیہ السلام) تشہد سے فارغ ہوں تو اپنی دنیا وآخرت کے لئے دعا کریں اور حسن اور زید بن اسلم فرماتے ہیں جب آپ اپنے دشمنوں سے جہاد سے فارغ ہوں تو اپنے رب کی عبادت میں مشقت اٹھائیں اور منصور نے مجاہد سے نقل کیا ہے جب آپ دنیا کے معاملات سے فارغ ہوں تو اپنے رب کی عبادت میں مشقت اٹھائیں اور نماز پڑھیں اور حیان نے کلبی (رح) سے روایت کیا ہے جب آپ ﷺ رسالت کی تبلیغ سے فارغ ہوں تو ” فانصب “ یعنی اپنے اور مومنین کے ذنوب کے لئے استغفار کریں۔
Ayah 94:8

وَ اِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ۠ Open ayah 94:8 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہوجایا کرو

8 ۔” والی ربک فارغب “ عطائؒ فرماتے ہیں اس کی عرف آہ وزاری کریں آگ سے ڈرتے ہوئے اور جنت میں رغبت کرتے ہوئے اور کہا گیا ہے اس کی طرف اپنے احوال میں رغبت کریں۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں یعنی آپ اپنی رغبت صرف ایک اللہ کی طرف کریں۔