Ayah 88:11 ۔” ھل اتاک حدیث الغاشیۃ “ تحقیق آپ (علیہ السلام) کے پاس قیامت کی خبر آئی ہے جو اپنی ہولناکیوں سے ہر چیز کو ڈھانپ لے گی۔
Ayah 88:22 ۔” وجوہ یومئذ “ یعنی قیامت کے دن۔ ” خاشعۃ “ ذلیل ہونگے۔
Ayah 88:33 ۔” عاملۃ ناصبۃ “ عطائؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے یعنی جب لوگوں نے عمل کیا اور دنیا میں دین اسلام کے علاوہ بتوں کی عبادت کرنے والوں میں سے اور اہل کتاب کے کفار جیسے راہبین وغیرہم نے اپنے آپ کو تھکایا اللہ تعالیٰ ان سے گمراہی میں ان کی کوششوں کو قبول نہ کریں گے۔ وہ جہنم میں داخل ہوں گے قیامت کے دن اور یہ سعید بن جبیر اور زید بن اسلم رحمہما اللہ کا قول ہے اور نصب کا معنی عمل میں مشقت کا طریقہ اپنانا اور عکرمہ اور سدی رحمہما اللہ نے فرمایا ہے کہ ” عاملۃ “ دنیا میں معاصی کے کام کرنے والے ” ناصبۃ “ آخرت میں جہنم میں اور ان میں سے بعض نے کہا ہے ” عاملۃ “ جہنم میں ” ناصبۃ “ اسی جہنم میں۔
حسن (رح) فرماتے ہیں دنیا میں اللہ کی رضا کے لئے کوئی کام نہیں کیا تو ان سے کام کرایا اور ان کو آگ میں بیڑیوں اور طوقوں کے ساتھ باندھ دیا اور سای کے قتادہ (رح) قائل ہیں اور یہ عوفی کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے۔ ابن مسعود ؓ ہیں جہنم میں ایسے گھسے گا جیسے اونٹ کیچڑ میں گھستا ہے۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں اپنے چہروں کے بل جہنم میں گھسیٹے جائیں گے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ ان کو تکلیف دی جائے گی کہ وہ جہنم میں لوہے کہ پہاڑ پر چڑھیں اور کلام کئی وجوہ پر نکلی ہے اور اس سے مراد کے اصحاب ہیں۔
Ayah 88:44 ۔” تصلیٰ نارا “ اہل بصرہ اور ابوب کرنے ” تصلیٰ “ تاء کی پیش کے ساتھ پڑھا ہے اللہ تعالیٰ کے قول ” تسقی من عین انیۃ “ کا اعتبار کرتے ہوئے اور دیگر حضرات نے تاء کی زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” حامیۃ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں تحقیق وہ گرم کی گئی ہوگی۔ پس وہ اللہ کے دشمنوں پر شعلے مارے گی۔
Ayah 88:55 ۔” تسقی من عین انیۃ “ حرارت میں انتہا کو پہنچا ہوا۔ تحقیق اس پر جہنم جلائی گئی ہے جب سے پیدا کی گئی ہے۔ پس وہ اس کی طرف دھکیلے جائیں گے پیاسے۔ مفسرین رحمہما اللہ فرماتے ہیں اگر اس کا ایک قطرہ دنیا کے پہاڑوں پر گرجائے تو وہ پگھل جائیں یہ تو ان کا مشروب ہے، پھر ان کے کھانے کا ذکر کیا۔
Ayah 88:66 ۔ تو فرمایا ” لیس لھم طعام الا من ضریع “۔
ضریع کی تفسیر
مجاہد، عکرمہ اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ کانٹوں والے پودے زمین سے چمٹے ہوئے ۔ اس کا نام قریش شبرق رکھتے تھے۔ پھر جب خشک ہوجاتا تو اس کا نام ضریع رکھتے اور یہ خبیث ترین کھانا اور بدمزہ ہوتا ہے اور یہ عوفی کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں جب وہ خشک ہوجاتا ہے تو جانور اس کے قریب نہیں جاتے۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں بہرحال دنیا میں تو ضریع خشک کانٹے ہوگئے ہوں اس کے پتے ہوں اور وہ آخرت میں آگ کے کانٹے ہوں گے۔
حدیث میں ابن عباس ؓ سے آیا ہے کہ ضریع جہنم میں ایک چیز ہے جو کانٹوں کے مشابہ ہے۔ ایلوہ (کوڑتما) سے زیادہ کڑوا ہے اور مردار سے زیادہ بدبودار اور آگ سے زیادہ گرم ہے۔ ابوالدرداء اور حسن رحمہما اللہ فرماتے ہیں بیشک اللہ تعالیٰ اہل نار پر بھوک بھیجیں گے حتیٰ کہ اس کو ان کے نزدیک اس عذاب کے برابر کردیں گے جس میں وہ ہیں تو وہ فریاد کریں گے تو ضریع کے ذریعے ان کی فریاد رسی کی جائے گی۔ پھر فریاد کریں طعام ذی غصہ کے ذریعے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، پھر وہ یاد کریں گے کہ وہ دنیا میں کھانے سے پھندا لگنے پر پانی کے ذریعے کھانا نیچے اتار لیتے تھے تو وہ پانی مانگیں گے تو ان کو ہزار سال پیاسا رکھیں گے، پھر وہ عین آنیہ سے ایسا پانی پلائے جائیں گے جو بغیر مشقت کے نہ ہوگا۔ جب بھی اس کو اپنے چہروں کے قریب کریں گے تو وہ ان کے چہروں کی کھال کو کھینچ دے گا اور بھون دے گا۔ پس جب وہ ان کے پیٹوں تک پہنچے گا تو ان کو کاٹ دے گا۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کا قول ” وسقرا ماء حمیما فقطع امعاء ھم “ ہے۔ مفسرین رحمہما اللہ فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی تو مشرکین نے کہا کہ ہمارے اونٹ تو ضریع کھا کر موٹے ہوجاتے ہیں اور اس میں انہوں نے جھوٹ بولا کیونکہ اونٹ اس کو چرتے ہیں جب تک وہ تر ہو جس کا نام شبرق رکھا جاتا ہے پھر جب وہ خشک ہوجاتا تو اس کو کوئی چیز نہیں کھاتی۔
Ayah 88:77 ۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا۔ ” لا یسمن ولا یغنی من جوع “
Ayah 88:88 ۔ پھر اہل جنت کا وصف بیان کرتے ہوئے کہا ” وجوہ یومئذ ناعمۃ “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں نعمتوں اور اعزاز میں۔
Ayah 88:99 ۔” لسعیھا “ دنیا میں۔ ” راضیۃ “ آخرت میں جب ان کے اعمال کی وجہ سے جنت دیئے جائیں گے۔
Ayahs 88:10–1111-10…” فی جنۃ عالیۃ لا تسمع فیھا لا غیۃ “ لغو اور باطل اہل مکہ اور اہل بصرہ نے۔ ” لا یسمع “ یاء کے ساتھ اور اس کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” لاغیۃ “ مرفوع اور نافع (رح) نے تاء اور اس کے پیش کے ساتھ ” لاغیۃ “ مرفوع اور دیگر حضرات نے تاء اور اس کے زبر کے ساتھ ” لاغیۃ “ نصب کے ساتھ نبی کریم ﷺ کو خطاب ہونے کی بناء پر۔
Ayah 88:1212 ۔” فیھا عین جاریۃ۔
Ayah 88:1313 ۔ فیھا سرر مرفوعۃ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس کے تختے سونے کے ہوں گے زمرد، موتیوں اور یاقوت سے مزین کیے گئے ہوں گے، بلندہوں گے جب تک اس کے اہل نہ آئیں گے۔ پس جب وہ ان پر بیٹھنے کا ارادہ کریں گے تو وہ نیچے آجائیں گے حتیٰ کہ وہ اس پر بیٹھ جائیں گے تو وہ اپنی جگہوں پر بلند ہوجائیں گے۔
Ayah 88:1414 ۔” واکواب موضوعۃ “ ان کے پاس۔
Ayah 88:1515 ۔” ونمارق “ تکیے اور تکیے لگانے کی جگہیں۔ ” مصفوفۃ “ ایک دوسرے کے پہلو میں اس کا واحد ” نمرقۃ “ ہے نون کے ساتھ پیش کے ساتھ۔
Ayah 88:1616 ۔” وزرابی “ یعنی چوڑے بچھونے ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وہ چٹائیاں جن کا اٹھانا ہو اس کا واحد زربیۃ ” مبثوثۃ “ بچھائے ہوئے اور کہا گیا ہے مجالس میں متفرق۔
Ayah 88:1717 ۔” افلا ینظرون الی الابل کیف خلقت “ اہل تفسیر فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں وہ چیزیں بیان کیں جو جنت میں ہوں گی تو اہل کفر نے اس کو بڑا عجیب سمجھا اور اس کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اپنی کاریگری بیان کی اور فرمایا ” افلا ینظرون الی الا بل کیف خلقت “ اور اونٹ عرب کے لئے زندگی گزارنے کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ ان کے لئے اس میں بہت سارے منافع تھے۔ پس جیسا کہ ان کے لئے دنیا میں یہ بنایا تو ایسے ہی اہل جنت کے لئے جنت میں یہ تمام چیزیں بنائیں۔
آیت میں اونٹوں کی خصوصیت کی وجوہ
حکماء رحمہم اللہ نے تمام حیوانوں میں اونٹ کی تخصیص کی وجہ میں کلام کی ہے۔ پس مقاتل (رح) فرماتے ہیں اس لئے کہ انہوں نے کبھی اونٹ سے بڑا کوئی جانور نہ دیکھا تھا اور ہاتھی کا ان میں سے گنتی کے چند افراد نے مشاہدہ کیا تھا اور کلبی (رح) فرماتے ہیں اس لئے وہ اپنے بوجھ کے ساتھ گھٹنوں کے بل اٹھتا اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جنت کے تختوں اور بچھونوں کے بلند ہونے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا ہم ان پر کیسے چڑھیں گے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی اور حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا اور کہا گیا کہ ہاتھی اس سے بڑا عجوبہ ہے ؟ تو انہوں نے کہا ہاتھی عرب سے بہت دور تھا پھر وہ خنزیر کی طرح ہے نہ اس کی پیٹھ پر سواری کی جاتی ہے اور نہ اس کا گوشت کھایا جاتا ہے اور نہ اس کا دودھ نکالا جاتا ہے اور اونٹ عرب کے ہاں عمدہ ترین مال ہے، گٹھلیاں اور پتے وغیرہ کھاتا ہے اور دودھ نکالتا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ اپنے بڑے ہونے کے باوجود بوجھل وزن کے لئے نرم ہے اور کمزور قائد کے سامنے تابعدار ہے حتیٰ کہ چھوٹا سا بچہ اس کی لگام کو پکڑ کر جہاں چاہے لے جائے اور شریح قاضی (رح) فرماتے تھے ہمیں کوڑا کرکٹ کی جگہ لے جائو تاکہ ہم اونٹ کو دیکھیں کہ وہ کیسے پیدا کیا گیا ہے۔
Ayah 88:1818 ۔” والی السماء کیف رفعت “ زمین سے حتیٰ کہ اس کوئی چیز نہیں پہنچ سکتی جو اس کو تبدیل کردے۔
Ayah 88:1919 ۔” والی الجبال کیف نصبت “ زمین کے اوپر گاڑھے ہوئے کہ ہٹتے ہی نہیں ہیں۔
Ayah 88:2020 ۔” والی الارض کیف سطحت “ بچھائی گئی ہے۔ عطاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کیا کوئی شخص قادر ہے کہ اونٹ کی مثل پیدا کرے یا آسمان کی مثل بلند کرے یا پہاڑوں کی مثل گاڑھے یا زمین کی مثل بچھائے میرے علاوہ ؟
Ayahs 88:21–2221 ۔” فذکر انما انت مذکر۔ 22 ۔ لست علیھم بمصیطر “ مسلط کہ ان کو قتل کریں اور ان کو ایمان پر مجبور کریں۔ اس کو جہاد کی آیات نے منسوخ کردیا ہے۔
Ayah 88:2323 ۔” الا من تولیٰ “ یہ استثناء ماقبل سے منقطع ہے۔ اس کا معنی لیکن جس نے پیٹھ پھیری ” وکفر “ نصیحت کے بعد۔
Ayah 88:2424 ۔” فیعذبہ اللہ العذابالاکبر “ وہ یہ کہ اس کو جہنم میں داخل کردے گا اور الاکبر کہا ہے اس لئے کہ وہ دنیا میں بھوک، قحط، قتل اور قید کے عذاب دیئے گئے ہیں۔
Ayah 88:2525 ۔” ان الینا ایابھم “ ان کا لوٹنا موت کے بعد۔ کہا جاتا ہے ” آب، یوب اوباوایابا “ اور ابوجعفر (رح) نے ” ایابھم “ یاء کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور وہ شاذ ہے۔ اس کو زجاج (رح) کے علاوہ کسی نے جائز قرار نہیں دیا کیونکہ انہوں نے کہا۔ کہا جاتا ہے ” ایب ایابا فعل فیعالا “ کے وزن پر۔
Ayah 88:2626 ۔” ثم ان علینا حسابھم “ یعنی ان کی جزاء اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے کے بعد۔